Back to Mishkat Al-Masabih

Tribulations

کتاب الفتن

Chapter 26

Hadith 5479
sahih
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَأْتِي الدَّجَّالُ وَهُوَ مُحَرَّمٌ عَلَيْهِ أَنْ يَدْخُلَ نِقَابَ الْمَدِينَةِ فَيَنْزِلُ بَعْضَ السِّبَاخِ الَّتِي تَلِي الْمَدِينَةَ فَيَخْرُجُ إِلَيْهِ رَجُلٌ وَهُوَ خَيْرُ النَّاسِ أَوْ مِنْ خِيَارِ النَّاسِ فَيَقُولُ: أَشْهَدُ أَنَّكَ الدَّجَّالُ الَّذِي حَدَّثَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدِيثَهُ فَيَقُولُ الدَّجَّالُ: أَرَأَيْتُمْ إِنْ قَتَلْتُ هَذَا ثُمَّ أَحْيَيْتُهُ هَلْ تَشُكُّونَ فِي الْأَمْرِ؟ فَيَقُولُونَ: لَا فَيَقْتُلُهُ ثُمَّ يُحْيِيهِ فَيَقُولُ: وَاللَّهِ مَا كُنْتُ فِيكَ أَشَدَّ بَصِيرَةً مِنِّي الْيَوْمَ فَيُرِيدُ الدَّجَّالُ أَنْ يَقْتُلَهُ فَلَا يُسَلَّطُ عَلَيْهِ . مُتَّفق عَلَيْهِ
Urdu

ابوسعید خدری ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ دجال آئے گا اور اس کے لیے مدینہ کی گھاٹیوں میں داخل ہونا حرام ہے ، چنانچہ وہ مدینہ کے قریب شور والی زمین پر پڑاؤ ڈالے گا ، پھر ایک آدمی اس کے پاس جائے گا جو کہ (اس وقت) سب سے بہترین شخص ہو گا ، وہ کہے گا : میں گواہی دیتا ہوں کہ تو وہی دجال ہے جس کے متعلق رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہمیں بیان فرمایا تھا ۔ دجال کہے گا : مجھے بتاؤ اگر میں اس کو قتل کر دوں ، پھر اسے زندہ کر دوں تو کیا تم میرے معاملے میں شک کرو گے ؟ وہ کہیں گے نہیں ، وہ اس کو قتل کرے گا ، پھر اسے زندہ کر دے گا تو وہ کہے گا : اللہ کی قسم ! تیرے متعلق مجھے آج پہلے سے زیادہ بصیرت حاصل ہو گئی ہے ، پھر دجال اسے قتل کرنا چاہے گا ، لیکن وہ اس (کے قتل کرنے) پر قادر نہیں ہو سکے گا ۔‘‘ متفق علیہ ۔

Hadith 5480
sahih
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «يَأْتِي الْمَسِيحُ مِنْ قِبَلِ الْمَشْرِقِ هِمَّتُهُ الْمَدِينَةُ حَتَّى يَنْزِلَ دُبُرَ أُحُدٍ ثُمَّ تَصْرِفُ الْمَلَائِكَةُ وَجْهَهُ قِبَلَ الشامِ وهنالك يهلِكُ» . مُتَّفق عَلَيْهِ
Urdu

ابوہریرہ ؓ ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے روایت کرتے ہیں ، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ دجال مدینے کے ارادے سے مشرق کی طرف سے آئے گا حتی کہ وہ احد پہاڑ کے پیچھے قیام کرے گا ، پھر فرشتے اس کا چہرہ شام کی طرف پھیر دیں گے ، اور وہ وہیں ہلاک ہو گا ۔‘‘ متفق علیہ ۔

Hadith 5481
sahih
وَعَنْ أَبِي بَكْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَا يَدْخُلُ الْمَدِينَةَ رُعْبُ الْمَسِيحِ الدَّجَّالِ لَهَا يَوْمَئِذٍ سَبْعَةُ أَبْوَابٍ عَلَى كُلِّ بَابٍ مَلَكَانِ» رَوَاهُ البُخَارِيّ
Urdu

ابوبکرہ ؓ ، نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے روایت کرتے ہیں ، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ مدینہ (اس کے لوگوں کے دلوں) میں دجال کا رعب داخل نہیں ہو گا ، اس دن اس (مدینے) کے سات دروازے ہوں گے اور ہر دروازے پر دو فرشتے مقرر ہوں گے ۔‘‘ رواہ البخاری ۔

Hadith 5482
sahih
وَعَن فَاطِمَة بنت قيس قَالَتْ: سَمِعْتُ مُنَادِي رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمَّا قَضَى صَلَاتَهُ جَلَسَ عَلَى الْمِنْبَرِ وَهُوَ يَضْحَكُ فَقَالَ: «لِيَلْزَمْ كُلُّ إِنْسَانٍ مُصَلَّاهُ» . ثُمَّ قَالَ: «هَلْ تَدْرُونَ لِمَ جَمَعْتُكُمْ؟» . قَالُوا: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ. قَالَ: إِنِّي وَاللَّهِ مَا جَمَعْتُكُمْ لِرَغْبَةٍ وَلَا لِرَهْبَةٍ وَلَكِنْ جَمَعْتُكُمْ لِأَنَّ تَمِيمًا الدَّارِيَّ كَانَ رَجُلًا نَصْرَانِيًّا فَجَاءَ فَبَايَعَ وَأَسْلَمَ وَحَدَّثَنِي حَدِيثًا وَافَقَ الَّذِي كُنْتُ أُحَدِّثُكُمْ بِهِ عَنِ الْمَسِيحِ الدَّجَّالِ حَدَّثَنِي أَنَّهُ رَكِبَ فِي سَفِينَةٍ بَحْرِيَّةٍ مَعَ ثَلَاثِينَ رَجُلًا مِنْ لَخْمٍ وَجُذَامَ فَلَعِبَ بِهِمُ الْمَوْجُ شَهْرًا فِي الْبَحْر فأرفؤُوا إِلَى جَزِيرَةٍ حِينَ تَغْرُبُ الشَّمْسُ فَجَلَسُوا فِي أقرب سفينة فَدَخَلُوا الْجَزِيرَةَ فَلَقِيَتْهُمْ دَابَّةٌ أَهْلَبُ كَثِيرُ الشَّعَرِ لَا يَدْرُونَ مَا قُبُلُهُ مِنْ دُبُرِهِ مِنْ كَثْرَةِ الشَّعَرِ قَالُوا: وَيْلَكِ مَا أَنْتِ؟ قَالَتْ: أَنَا الْجَسَّاسَةُ قَالُوا: وَمَا الْجَسَّاسَةُ؟ قَالَتْ: أَيُّهَا الْقَوْمُ انْطَلِقُوا إِلَى هَذَا الرَّجُلِ فِي الدَّيْرِ فَإِنَّهُ إِلَى خَبَرِكُمْ بِالْأَشْوَاقِ قَالَ: لَمَّا سَمَّتْ لَنَا رَجُلًا فَرِقْنَا مِنْهَا أَنْ تَكُونَ شَيْطَانَةً قَالَ: فَانْطَلَقْنَا سِرَاعًا حَتَّى دَخَلْنَا الدَّيْرَ فَإِذَا فِيهِ أعظمُ إِنسان مَا رَأَيْنَاهُ قطُّ خَلْقاً وأشَدُّهُ وَثَاقاً مجموعةٌ يَده إِلَى عُنُقِهِ مَا بَيْنَ رُكْبَتَيْهِ إِلَى كَعْبَيْهِ بِالْحَدِيدِ. قُلْنَا: وَيْلَكَ مَا أَنْتَ؟ قَالَ: قَدْ قَدَرْتُمْ عَلَى خَبَرِي فَأَخْبِرُونِي مَا أَنْتُمْ؟ قَالُوا: نَحن أُناس من العربِ ركبنَا فِي سفينةٍ بحريّة فلعِبَ بِنَا الْبَحْر شهرا فَدَخَلْنَا الجزيرة فَلَقِيَتْنَا دَابَّةٌ أَهْلَبُ فَقَالَتْ: أَنَا الْجَسَّاسَةُ اعْمِدُوا إِلَى هَذَا فِي الدَّيْرِ فَأَقْبَلْنَا إِلَيْكَ سِرَاعًا وَفَزِعْنَا مِنْهَا وَلَمْ نَأْمَنْ أَنْ تَكُونَ شَيْطَانَةً فَقَالَ: أَخْبِرُونِي عَنْ نَخْلِ بَيْسَانَ قُلْنَا: عَنْ أَيِّ شَأْنِهَا تَسْتَخْبِرُ؟ قَالَ: أَسْأَلُكُمْ عَنْ نَخْلِهَا هَلْ تُثْمِرُ؟ قُلْنَا: نَعَمْ. قَالَ: أَمَا إِنَّهَا تُوشِكُ أَنْ لَا تُثْمِرَ. قَالَ: أَخْبِرُونِي عَنْ بُحَيْرَةِ الطَّبَرِيَّةِ قُلْنَا: عَنْ أَيِّ شَأْنِهَا تَسْتَخْبِرُ؟ قَالَ: هَلْ فِيهَا مَاءٌ؟ قُلْنَا هِيَ كَثِيرَةُ الْمَاءِ. قَالَ: أَمَا إِنَّ مَاءَهَا يُوشِكُ أَنْ يَذْهَبَ. قَالَ: أَخْبِرُونِي عَنْ عَيْنِ زُغَرَ. قَالُوا: وَعَنْ أَيِّ شَأْنِهَا تَسْتَخْبِرُ؟ قَالَ: هَلْ فِي الْعَيْنِ مَاءٌ؟ وَهَلْ يَزْرَعُ أَهْلُهَا بِمَاءِ الْعَيْنِ؟ قُلْنَا لَهُ: نعم هِيَ كَثِيرَة المَاء وَأَهله يَزْرَعُونَ مِنْ مَائِهَا. قَالَ: أَخْبِرُونِي عَنْ نَبِيِّ الْأُمِّيِّينَ مَا فَعَلَ؟ قُلْنَا: قَدْ خَرَجَ مِنْ مَكَّةَ وَنَزَلَ يَثْرِبَ. قَالَ: أَقَاتَلَهُ الْعَرَبُ؟ قُلْنَا: نَعَمْ. قَالَ: كَيْفَ صَنَعَ بِهِمْ؟ فَأَخْبَرْنَاهُ أَنَّهُ قَدْ ظَهَرَ عَلَى مَنْ يَلِيهِ مِنَ الْعَرَبِ وأطاعوهُ. قَالَ لَهُم: قد كانَ ذلكَ؟ قُلْنَا: نعم. قَالَ: أَمَا إِنَّ ذَلِكَ خَيْرٌ لَهُمْ أَنْ يُطِيعُوهُ وَإِنِّي مُخْبِرُكُمْ عَنِّي: إِنِّي أَنَا الْمَسِيحُ الدَّجَّالُ وَإِنِّي يُوشِكُ أَنْ يُؤْذَنَ لِي فِي الْخُرُوجِ فَأَخْرُجَ فَأَسِيرَ فِي الْأَرْضِ فَلَا أَدَعُ قَرْيَةً إِلَّا هَبَطْتُهَا فِي أَرْبَعِينَ لَيْلَةً غَيْرَ مَكَّةَ وَطَيْبَةَ هُمَا مُحَرَّمَتَانِ عَلَيَّ كِلْتَاهُمَا كُلَّمَا أَرَدْتُ أَنْ أَدْخُلَ وَاحِدَةً أَوْ وَاحِدًا مِنْهُمَا استقبلَني ملَكٌ بيدهِ السيفُ صَلْتًا يَصُدُّنِي عَنْهَا وَإِنَّ عَلَى كُلِّ نَقْبٍ مِنْهَا مَلَائِكَةً يَحْرُسُونَهَا. قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَطَعَنَ بِمِخْصَرَتِهِ فِي الْمِنْبَرِ -: «هَذِه طَيْبَةُ هَذِهِ طَيْبَةُ هَذِهِ طَيْبَةُ» يَعْنِي الْمَدِينَةَ «أَلَا هَلْ كُنْتُ حَدَّثْتُكُمْ؟» فَقَالَ النَّاسُ: نَعَمْ فَإِنَّهُ أَعْجَبَنِي حَدِيثُ تَمِيمٍ أَنَّهُ وَافَقَ الَّذِي كُنْتُ أُحَدِّثُكُمْ عَنْهُ وَعَنِ الْمَدِينَةِ وَمَكَّةَ. أَلَا إِنه فِي بَحر الشَّأمِ أَو بحرِ اليمنِ لَا بل من قبل الْمشرق ماهو من قبل الْمشرق ماهو من قبل الْمشرق ماهو وَأَوْمَأَ بِيَدِهِ إِلَى الْمشرق. رَوَاهُ مُسلم
Urdu

فاطمہ بنت قیس ؓ بیان کرتی ہیں ، میں نے رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے منادی کو یہ اعلان کرتے ہوئے سنا : نماز جمع کرنے والی ہے ، میں مسجد کی طرف گئی اور رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ نماز پڑھی ، جب آپ نماز پڑھ چکے تو منبر پر بیٹھ گئے اور آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ہنس رہے تھے ، فرمایا :’’ تمام لوگ اپنی اپنی جگہوں پر بیٹھے رہیں ۔‘‘ پھر فرمایا :’’ کیا تمہیں معلوم ہے کہ میں نے تمہیں کس لیے جمع کیا ہے ؟‘‘ انہوں نے عرض کیا ، اللہ اور اس کے رسول بہتر جانتے ہیں ، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ اللہ کی قسم ! میں نے تمہیں کسی رغبت (مال غنیمت وغیرہ دینے) کے لیے جمع نہیں کیا ہے نہ کسی خوف کی وجہ سے ، بلکہ میں نے تمہیں اس لیے جمع کیا ہے کہ تمیم داری نصرانی شخص تھا ، وہ آیا اس نے بیعت کی اور مسلمان ہو گیا اس نے مجھے وہ بات بیان کی اور وہ اسی بات کے موافق تھی جو میں تمہیں مسیح دجال کے متعلق بیان کرتا ہوں ، اس نے مجھے بتایا کہ وہ لخم و جذام قبیلے کے تیس افراد کے ساتھ کشتی میں سوار ہوا ، موجیں ایک ماہ تک انہیں سمندر میں لیے پھریں (باہر کنارے پر پہنچنے کا موقع نہ ملا) وہ غروب آفتاب کے وقت ایک جزیرے کے قریب پہنچ گئے ، وہ چھوٹی کشتی میں بیٹھ کر جزیرہ میں داخل ہوئے تو کثیر بالوں والا ایک حیوان انہیں ملا ، بالوں کی کثرت کی وجہ سے وہ نہیں جانتے تھے کہ اس کا اگلا حصہ کون سا ہے اور پچھلا حصہ کون سا ہے ؟ انہوں نے کہا تیری تباہی ہو ، تو کیا چیز ہے ؟ اس نے عرض کیا : میں (دجال کا) جاسوس ہوں ، ہم نے کہا جاسوس سے کیا مراد ہے ؟ اس نے کہا ، تم گرجا میں اس آدمی کی طرف چلو ، کیونکہ وہ تمہیں ملنے کا مشتاق ہے ، انہوں نے (تمیم داری) نے فرمایا : جب اس نے اس آدمی کے متعلق ہمیں بتایا تو ہم اس (حیوان) سے ڈر گئے کہ یہ کہیں شیطان نہ ہو ، ہم جلدی جلدی چلے حتی کہ ہم گرجے میں داخل ہو گئے ، تو وہاں ایک عظیم جثے والا انسان تھا ، ہم نے تخلیق و مضبوطی کے لحاظ سے اس جیسا انسان پہلے کبھی نہیں دیکھا تھا ، وہ زنجیروں میں جکڑا ہوا تھا ، اس کے ہاتھ اس کی گردن کے ساتھ بندھے ہوئے تھے ، اور اس کے گھٹنوں اور ٹخنوں کے مابین لوہے کی زنجیریں تھیں ، ہم نے کہا : تیری تباہی ہو ، تو کون ہے ؟ اس نے کہا : تم میری خبر (معلوم کرنے) پر تو قدرت پا چکے ہو ، مجھے بتاؤ کہ تم کون ہو ؟ انہوں نے کہا : ہم عرب لوگ ہیں ، ہم ایک کشتی میں سوار ہوئے تو سمندر کی موجیں ایک ماہ تک ہمیں ادھر ادھر پھیراتی رہیں ، ہم جزیرے میں داخل ہوئے تو کثیر بالوں والا ایک جانور ہمیں ملا تو اس نے کہا : میں جاسوس ہوں ، تم گرجے میں موجود اس شخص کے پاس جاؤ ، لہذا ہم جلدی جلدی تیرے پاس پہنچ گئے ہیں ، لیکن اس جاسوس سے ہم خوفزدہ ہوئے کہ کہیں وہ شیطان نہ ہو ، اس نے کہا : تم مجھے بیسان کے نخلستان کے بارے میں بتاؤ ، کیا وہ پھل دیتا ہے ؟ ہم نے کہا ، ہاں ، اس نے کہا ، سنو ! قریب ہے کہ وہ پھل نہیں دے گا ، اس نے کہا : بحیرہ طبریہ کے متعلق مجھے بتاؤ ؟ کیا اس میں پانی ہے ؟ ہم نے کہا : اس میں بہت زیادہ پانی ہے ، اس نے کہا : قریب ہے کہ اس کا پانی ختم ہو جائے گا ، اس نے کہا : مجھے چشمہ زغر کے متعلق بتاؤ کیا چشمے میں پانی ہے ، اور کیا وہاں رہنے والے چشمے کے پانی سے زراعت کرتے ہیں ؟ ہم نے کہا : ہاں اس میں پانی بھی بہت ہے ، اور وہاں کے رہنے والے اس پانی سے زراعت بھی کرتے ہیں ، اس نے کہا : مجھے ان پڑھوں (عربوں) کے نبی کے متعلق بتاؤ اس نے کیا کیا ؟ ہم نے اسے بتایا کہ وہ مکہ چھوڑ کر مدینہ تشریف لے آئے ہیں ؟ اس نے کہا : کیا عربوں نے اس سے لڑائی کی ہے ؟ ہم نے کہا : ہاں ، اس نے کہا : ان کے ساتھ کیا کیا ؟ ہم نے اسے بتایا کہ وہ اپنے قریب کے عربوں پر غالب آ چکے ہیں ، اور انہوں (عربوں) نے آپ (صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم) کی اطاعت اختیار کر لی ہے ۔ اس نے کہا : سنو ! اگر وہ ان کی اطاعت کریں تو ان کے حق میں یہی بہتر ہے اور میں اب تمہیں اپنے متعلق بتاتا ہوں کہ میں مسیح دجال ہوں ، بے شک قریب ہے کہ مجھے نکلنے کی اجازت دی جائے تو میں نکل آؤں گا ، میں زمین پر چلوں گا ، اور میں چالیس روز میں زمین پر مکہ اور طیبہ (مدینہ) کے علاوہ ہر بستی میں اتروں گا ، وہ دونوں مجھ پر حرام ہیں ۔ میں جب بھی ان دونوں میں سے کسی ایک میں داخل ہونے کا ارادہ کروں گا تو ایک فرشتہ ہاتھ میں تلوار سونتے ہوئے میرے سامنے آ جائے گا ، اور وہ اس میں داخل ہونے سے مجھے روکے گا ، اور اس کے ہر راستے اور دروازے پر فرشتے ہیں جو اس کی حفاظت کرتے ہیں ۔‘‘ رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا اور آپ نے منبر پر چھڑی ماری : یہ (یعنی مدینہ) طیبہ ہے ، یہ طیبہ ہے ، یہ طیبہ ہے ۔ سنو ! کیا میں نے تمہیں حدیث سنا دی تھی ؟‘‘ لوگوں نے عرض کیا : جی ہاں (فرمایا) ’’ سنو ! وہ شام کے سمندر میں ہے یا وہ یمن کے سمندر میں ہے ، نہیں بلکہ وہ مشرق کی طرف سے نکلے گا ۔‘‘ اور آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے جو اشارہ فرمایا تھا وہ مشرق کی طرف تھا ۔ رواہ مسلم ۔

Hadith 5483
sahih
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: رَأَيْتُنِي اللَّيْلَةَ عِنْدَ الْكَعْبَةِ فَرَأَيْتُ رَجُلًا آدَمَ كَأَحْسَنِ مَا أَنْتَ رَاءٍ مِنْ أُدْمِ الرِّجَالِ لَهُ لِمَّةٌ كَأَحْسَنِ مَا أَنْتَ رَاءٍ مِنَ اللِّمَمِ قد رجَّلَها فَهِيَ تقطر مَاء متكأ عَلَى عَوَاتِقِ رَجُلَيْنِ يَطُوفُ بِالْبَيْتِ فَسَأَلْتُ: مَنْ هَذَا؟ فَقَالُوا: هَذَا الْمَسِيح بن مَرْيَمَ قَالَ: ثُمَّ إِذَا أَنَا بَرْجُلٍ جَعْدٍ قَطَطٍ أَعْوَرِ الْعَيْنِ الْيُمْنَى كَأَنَّ عَيْنَهُ عِنَبَةٌ طَافِيَةٌ كَأَشْبَهِ مَنْ رَأَيْتُ مِنَ النَّاسِ بِابْنِ قَطَنٍ وَاضِعًا يَدَيْهِ عَلَى مَنْكِبَيْ رَجُلَيْنِ يَطُوفُ بِالْبَيْتِ فَسَأَلْتُ مَنْ هَذَا؟ فَقَالُوا: هَذَا الْمَسِيحُ الدَّجَّالُ . مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ. وَفِي رِوَايَةٍ: قَالَ فِي الدَّجَّالِ: «رَجُلٌ أَحْمَرُ جَسِيمٌ جَعْدُ الرَّأْسِ أَعْوَرُ عَيْنِ الْيُمْنَى أَقْرَبُ النَّاسِ بِهِ شَبَهًا ابْنُ قَطَنٍ» وَذَكَرَ حَدِيثَ أَبِي هُرَيْرَةَ: «لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ مِنْ مَغْرِبِهَا» فِي «بَابِ الْمَلَاحِمِ» وَسَنَذْكُرُ حَدِيثَ ابْنِ عُمَرَ: قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي النَّاس فِي «بَاب قصَّة ابْن الصياد» إِن شَاءَ الله تَعَالَى
Urdu

عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ آج کی رات میں نے اپنے آپ کو (خواب میں) کعبہ کے پاس دیکھا ، میں نے وہاں گندمی رنگ کے ایک آدمی کو دیکھا کہ میں نے گندمی رنگ میں اس سے زیادہ خوبصورت شخص کوئی نہیں دیکھا ، اس کے سر کے بال کانوں کی لو تک تھے ، میں نے کانوں کی لو تک اس سے زیادہ خوبصورت بال نہیں دیکھے ، اس شخص نے ان میں کنگھی بھی کی ہوئی تھی ، اور سر سے پانی کے قطرے گر رہے تھے ، وہ دو آدمیوں کے کندھوں کا سہارا لیے بیت اللہ کا طواف کر رہا تھا ، میں نے پوچھا ، یہ کون ہے ؟ انہوں نے بتایا : یہ مسیح بن مریم ؑ ہیں ۔‘‘ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ پھر میں نے بہت ہی گھونگریالے بالوں والے شخص کو دیکھا ، اس کی دائیں آنکھ کانی تھی ، گویا اس کی آنکھ ابھرے ہوئے انگور کی طرح ہے ، اور وہ ابن قطن کے ساتھ رہنے والے لوگوں کے جنہیں میں نے دیکھا تھا زیادہ مشابہ ہے ، وہ بھی دو آدمیوں کے کندھوں پر ہاتھ رکھ کر بیت اللہ کا طواف کر رہا تھا ، میں نے دریافت کیا : یہ کون ہے ؟ انہوں نے کہا یہ مسیح دجال ہے ۔‘‘ ایک دوسری روایت میں ہے ، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے دجال کے متعلق فرمایا :’’ وہ سرخ رنگ کا آدمی ہے ، اس کے بال گھونگریالے ہیں ، دائیں آنکھ سے کانا ہے ، اور وہ سب سے زیادہ ابن قطن سے مشابہت رکھتا ہے ۔‘‘ اور ابوہریرہ ؓ سے مروی حدیث :’’ قیامت قائم نہیں ہو گی حتی کہ سورج مغرب سے طلوع ہو جائے ۔‘‘ باب الملاحم میں بیان ہو چکی ہے اور ہم عنقریب ابن عمر ؓ سے مروی حدیث :’’ رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لوگوں کو خطاب کرنے کے لیے کھڑے ہوئے ۔‘‘ ان شاء اللہ تعالیٰ باب قصۃ ابن الصیاد میں ذکر کریں گے ۔ متفق علیہ ۔

Hadith 5484
sahih
عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ فِي حَدِيثِ تَمِيمٍ الدَّارِيِّ: قَالَتْ: قَالَ: فَإِذَا أَنَا بِامْرَأَةٍ تَجُرُّ شَعَرَهَا قَالَ: مَا أَنْتِ؟ قَالَتْ: أَنَا الْجَسَّاسَةُ اذْهَبْ إِلَى ذَلِكَ الْقَصْرِ فَأَتَيْتُهُ فَإِذَا رَجُلٌ يَجُرُّ شَعَرَهُ مُسَلْسَلٌ فِي الْأَغْلَالِ يَنْزُو فِيمَا بَيْنُ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ. فَقُلْتُ: مَنْ أَنْتَ؟ قَالَ: أَنا الدَّجَّال . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد
Urdu

فاطمہ بنت قیس ؓ نے ، تمیم داری ؓ سے مروی حدیث کے متعلق بیان کیا کہ انہوں (تمیم داری ؓ) نے فرمایا :’’ میں اچانک ایک ایسی عورت کے پاس سے گزرا جو اپنے بال کھینچ رہی تھی ، انہوں نے پوچھا : تو کون ہے ؟ اس نے کہا : میں جاسوس ہوں ، اس محل کی طرف جاؤ ، میں وہاں گیا تو وہاں ایک آدمی اپنے بال کھینچ رہا ہے ، وہ زنجیروں میں جکڑا ہوا ہے اس کے ساتھ طوق بھی ہیں ، اور وہ زمین و آسمان کے درمیان کود رہا ہے ، میں نے کہا : تو کون ہے ؟ اس نے کہا : میں دجال ہوں ۔‘‘ حسن ، رواہ ابوداؤد ۔

Hadith 5485
sahih
وَعَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِنِّي حَدَّثْتُكُمْ عَنِ الدَّجَّالِ حَتَّى خَشِيتُ أَنْ لَا تَعْقِلُوا. إِنَّ الْمَسِيحَ الدَّجَّالَ قَصِيرٌ أَفْحَجُ جَعْدٌ أَعْوَرُ مَطْمُوسُ الْعَيْنِ لَيْسَتْ بِنَاتِئَةٍ وَلَا حَجْرَاءَ فَإِنْ أُلْبِسَ عَلَيْكُمْ فَاعْلَمُوا أَنَّ رَبَّكُمْ لَيْسَ بِأَعْوَرَ» رَوَاهُ أَبُو دَاوُد
Urdu

عبادہ بن صامت ؓ ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے روایت کرتے ہیں ، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ میں نے تمہیں دجال کے متعلق حدیث بیان کی حتی کہ مجھے اندیشہ ہوا کہ تم نہیں سمجھ سکے ہو ، بے شک مسیح دجال چھوٹے قد کا ہے ، اس کے دونوں پاؤں میں اس کے معمول سے زیادہ کشادگی ہو گی ، بال گھونگریالے ، کانا ہو گا ، آنکھ غائب ہو گی ، اس کی (دوسری) آنکھ بلند ہو گی نہ دھنسی ہو گی ، اگر پھر بھی تمہیں مغالطہ ہو جائے تو جان لو کہ تمہارا رب کانا نہیں ۔‘‘ حسن ، رواہ ابوداؤد ۔

Hadith 5486
sahih
وَعَن أَي عُبَيْدَةَ بْنِ الْجَرَّاحِ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «إِنَّهُ لَمْ يَكُنْ نَبِيٌّ بَعْدَ نُوحٍ إِلَّا قَدْ أَنْذَرَ الدجالَ قومَه وإِني أُنذركموه» فرصفه لَنَا قَالَ: «لَعَلَّهُ سَيُدْرِكُهُ بَعْضُ مَنْ رَآنِي أَوْ سَمِعَ كَلَامِي» . قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ فَكَيْفَ قُلُوبُنَا يَوْمَئِذٍ؟ قَالَ: «مِثْلُهَا» يَعْنِي الْيَوْمَ «أوخير» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ وَأَبُو دَاوُد
Urdu

ابو عبیدہ بن جراح ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو فرماتے ہوئے سنا :’’ نوح ؑ کے بعد ہر نبی ؑ نے اپنی قوم کو دجال سے ڈرایا ہے ، اور میں تمہیں اس سے ڈراتا ہوں ۔‘‘ اور آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہمیں اس کا تعارف کرایا ، فرمایا :’’ عنقریب کوئی جس نے مجھے دیکھا ہے یا میرا کلام سنا ہے ، اسے پا لے گا ۔‘‘ انہوں نے عرض کیا ، اللہ کے رسول ! اس وقت ہمارے دل کیسے ہوں گے ؟ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ جیسے آج ہیں یا (اس سے) بہتر ۔‘‘ حسن ، رواہ الترمذی و ابوداؤد ۔

Hadith 5487
sahih
وَعَنْ عَمْرِو بْنِ حُرَيْثٍ عَنْ أَبِي بَكْرٍ الصّديق قَالَ: حَدَّثَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: الدَّجَّالُ يَخْرُجُ مِنْ أَرْضٍ بِالْمَشْرِقِ يُقَالُ لَهَا: خُرَاسَانُ يَتْبَعُهُ أَقْوَامٌ كَأَنَّ وُجُوهَهُمُ المجانّ المطرقة . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ
Urdu

عمرو بن حریث نے ابوبکر صدیق ؓ سے روایت کی ہے ، انہوں نے کہا ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہمیں حدیث بیان کرتے ہوئے فرمایا :’’ دجال مشرقی سرزمین سے نکلے گا ، جسے خراسان کہا جاتا ہے ، جو لوگ اس کی اتباع کریں گے ان کے چہرے تہ بہ تہ ڈھال جیسے ہوں گے ۔‘‘ حسن ، رواہ الترمذی ۔

Hadith 5488
sahih
وَعَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ سَمِعَ بالدجال فلينأ مِنْهُ فو الله إِنَّ الرَّجُلَ لَيَأْتِيهِ وَهُوَ يَحْسِبُ أَنَّهُ مُؤْمِنٌ فَيَتَّبِعُهُ مِمَّا يَبْعَثُ بِهِ مِنَ الشُّبُهَاتِ» رَوَاهُ أَبُو دَاوُد
Urdu

عمران بن حصین ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ جو شخص دجال کے متعلق سنے تو وہ اس سے دور رہے ، اللہ کی قسم ! آدمی اس کے پاس آئے گا جو خود کو مومن سمجھتا ہو گا ، لیکن جن شبہات کے ساتھ دجال بھیجا جائے گا وہ ان کی وجہ سے اس کی اتباع کرے گا ۔‘‘ اسنادہ صحیح ، رواہ ابوداؤد ۔

Hadith 5489
sahih
وَعَن أَسمَاء بنت يزِيد بن السَّكن قَالَتْ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَمْكُثُ الدَّجَّالُ فِي الْأَرْضِ أَرْبَعِينَ سَنَةً السَّنَةُ كَالشَّهْرِ وَالشَّهْرُ كَالْجُمُعَةِ وَالْجُمُعَةُ كَالْيَوْمِ وَالْيَوْمُ كَاضْطِرَامِ السَّعَفَةِ فِي النَّارِ» . رَوَاهُ فِي «شَرْحِ السُّنَّةِ»
Urdu

اسماؑ بنت یزید بن سکن ؓ بیان کرتی ہیں ، نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ دجال زمین پر چالیس سال رہے گا ، سال مہینے کی طرح ، مہینہ جمعے (ہفتے یعنی سات دن) کی طرح ، جمعہ (یعنی ہفتہ) دن کی طرح اور دن آگ میں تنکے کے جل جانے کی مانند ہو گا ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ فی شرح السنہ ۔

Hadith 5490
sahih
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَتْبَعُ الدَّجَّالَ مِنْ أُمَّتِي سَبْعُونَ أَلْفًا عَلَيْهِمُ السِّيجَانُ» . رَوَاهُ فِي شرح السّنة
Urdu

ابوسعید خدری ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ میری امت کے ستر ہزار افراد دجال کی اتباع کریں گے ، ان کے سروں پر سبز سیاہ رنگ کے کپڑے ہوں گے ۔‘‘ اسنادہ ضعیف جذا ، رواہ فی شرح السنہ ۔

Hadith 5491
sahih
وَعَن أسماءَ بنتِ يزيدَ قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَيْتِي فَذَكَرَ الدَّجَّالَ فَقَالَ: إِنَّ بَيْنَ يَدَيْهِ ثَلَاث سِنِين سنة تمسلك السَّمَاءُ فِيهَا ثُلُثَ قَطْرِهَا وَالْأَرْضُ ثُلُثَ نَبَاتِهَا. وَالثَّانِيَةُ تُمْسِكُ السَّمَاءُ ثُلُثَيْ قَطْرِهَا وَالْأَرْضُ ثُلُثَيْ نَبَاتِهَا. وَالثَّالِثَةُ تُمْسِكُ السَّمَاءُ قَطْرَهَا كُلَّهُ وَالْأَرْضُ نَبَاتَهَا كُلَّهُ. فَلَا يَبْقَى ذَاتُ ظِلْفٍ وَلَا ذَاتُ ضِرْسٍ مِنَ الْبَهَائِمِ إِلَّا هَلَكَ وَإِنَّ مِنْ أَشَدِّ فِتْنَتِهِ أَنَّهُ يَأْتِي الْأَعْرَابِيَّ فَيَقُولُ: أَرَأَيْتَ إِنْ أَحْيَيْتُ لَكَ إِبِلَكَ أَلَسْتَ تَعْلَمُ أَنِّي رَبُّكَ؟ فَيَقُولُ بَلَى فَيُمَثِّلُ لَهُ الشَّيْطَانَ نَحْوَ إِبِلِهِ كَأَحْسَنِ مَا يَكُونُ ضُرُوعًا وَأَعْظَمِهِ أَسْنِمَةً . قَالَ: وَيَأْتِي الرَّجُلَ قَدْ مَاتَ أَخُوهُ وَمَاتَ أَبُوهُ فَيَقُولُ: أَرَأَيْتَ إِنْ أَحْيَيْتُ لَكَ أَبَاكَ وَأَخَاكَ أَلَسْتَ تَعْلَمُ أَنِّي رَبُّكَ؟ فَيَقُولُ: بَلَى فَيُمَثِّلُ لَهُ الشَّيَاطِينَ نَحْوَ أَبِيهِ وَنَحْوَ أَخِيهِ . قَالَتْ: ثُمَّ خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِحَاجَتِهِ ثُمَّ رَجَعَ وَالْقَوْمُ فِي اهْتِمَامٍ وَغَمٍّ مِمَّا حَدَّثَهُمْ. قَالَتْ: فَأَخَذَ بِلَحْمَتَيِ الْبَابِ فَقَالَ: «مَهْيَمْ أَسْمَاءُ؟» قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ لَقَدْ خَلَعْتَ أَفْئِدَتَنَا بِذِكْرِ الدَّجَّالِ. قَالَ: «إِنْ يَخْرُجْ وَأَنَا حَيٌّ فَأَنَا حَجِيجُهُ وَإِلَّا فإِنَّ رَبِّي خليفتي علىكل مُؤْمِنٍ» فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ وَاللَّهِ إِنَّا لَنَعْجِنُ عَجِينَنَا فَمَا نَخْبِزُهُ حَتَّى نَجُوعَ فَكَيْفَ بِالْمُؤْمِنِينَ يَوْمَئِذٍ؟ قَالَ: «يُجْزِئُهُمْ مَا يُجْزِئُ أَهْلَ السماءِ من التسبيحِ والتقديسِ» . رَوَاهُ أَحْمد
Urdu

اسماء بنت یزید ؓ بیان کرتی ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم میرے گھر میں تھے ، آپ نے دجال کا ذکر کیا تو فرمایا :’’ اس سے پہلے تین قسم کے قحط ہوں گے ، ایک قحط یہ ہو گا کہ اس میں آسمان تہائی بارش روک لے گا ، زمین اپنی تہائی نباتات روک لے گی ، دوسرے میں یہ ہو گا کہ آسمان اپنی دو تہائی بارش روک لے گا ، زمین اپنی دو تہائی نباتات روک لے گی ، اور تیسرے میں آسمان اپنی ساری بارش روک لے گا ، اور زمین اپنی تمام نباتات روک لے گی چوپاؤں میں سے کوئی کھر والا باقی بچے گا نہ کوئی کچلی والا ، سب ہلاک ہو جائیں گے ، اس کا سب سے شدید فتنہ یہ ہو گا کہ وہ اعرابی کے پاس آئے گا تو کہے گا ، مجھے بتاؤ اگر میں تمہارے اونٹ کو زندہ کر دوں تو کیا تجھے یقین نہیں آئے گا کہ میں تمہارا رب ہوں ؟ وہ کہے گا : کیوں نہیں ، شیطان اس کے لیے اس کے اونٹ کی صورت اختیار کر لے گا ، تو اس کے تھن بہترین ہو جائیں گے اور اس کی کوہان بہت بڑی ہو جائے گی ۔‘‘ فرمایا :’’ وہ (دجال) دوسرے آدمی کے پاس آئے گا جس کا بھائی اور والد وفات پا چکے ہوں گے ، تو وہ (اسے) کہے گا ، مجھے بتاؤ اگر میں تمہارے لیے تمہارے والد اور تمہارے بھائی کو زندہ کر دوں تو کیا تجھے یقین نہیں ہو گا کہ میں تمہارا رب ہوں ؟ وہ کہے گا ، کیوں نہیں ، شیطان اس کے لیے اس کے والد اور اس کے بھائی کی صورت اختیار کر لے گا ۔‘‘ اسماء ؓ بیان کرتی ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اپنی کسی ضرورت کی خاطر تشریف لے گئے ، پھر واپس آ گئے ، اور لوگ آپ کے بیان کردہ فرمان میں فکر و غم کی کیفیت میں تھے ، بیان کرتی ہیں ، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے دروازے کی دہلیز پکڑ کر فرمایا :’’ اسماء کیا حال ہے ؟‘‘ میں نے عرض کیا ، اللہ کے رسول ! آپ نے دجال کے ذکر سے ہمارے دل نکال کر رکھ دیے ، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ اگر وہ میری زندگی میں نکل آیا تو میں اس کا مقابلہ کروں گا ، ورنہ میرا رب ہر مومن پر میرا خلیفہ ہے ۔‘‘ میں نے عرض کیا ، اللہ کے رسول ! ہم اپنا آٹا گوندھتی ہیں اور روٹی پکا کر ابھی فارغ بھی نہیں ہوتیں کہ پھر بھوک لگ جاتی ہے ، تو اس روز مومنوں کی کیا حالت ہو گی ؟ فرمایا :’’ تسبیح و تقدیس جو آسمان والوں کے لیے کافی ہوتی ہے وہی ان کے لیے کافی ہو گی ۔‘‘ حسن ، رواہ احمد ۔

Hadith 5492
sahih
عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ قَالَ: مَا سَأَلَ أَحَدٌ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَن الدجالِ أكثرَ مِمَّا سَأَلْتُهُ وَإِنَّهُ قَالَ لِي: «مَا يَضُرُّكَ؟» قُلْتُ: إِنَّهُمْ يَقُولُونَ: إِنَّ مَعَهُ جَبَلَ خُبْزٍ وَنَهَرَ مَاءٍ. قَالَ: هُوَ أَهْوَنُ عَلَى اللَّهِ من ذَلِك . مُتَّفق عَلَيْهِ
Urdu

مغیرہ بن شعبہ ؓ بیان کرتے ہیں ، دجال کے متعلق ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے ، مجھ سے زیادہ کسی نے دریافت نہیں کیا ، کیونکہ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے فرمایا :’’ وہ تمہیں نقصان نہیں پہنچائے گا ۔‘‘ میں نے عرض کیا : وہ (لوگ یا یہود و نصاریٰ) کہتے ہیں کہ اس کے ساتھ روٹیوں کا پہاڑ اور پانی کی نہر ہو گی ؟ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ وہ (دجال) اللہ کے نزدیک ان اشیاء کی وجہ سے مزید ذلیل ہو گا ۔‘‘ متفق علیہ ۔

Hadith 5493
sahih
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «يَخْرُجُ الدَّجَّالُ عَلَى حِمَارٍ أَقْمَرَ مَا بَيْنَ أُذُنَيْهِ سَبْعُونَ بَاعًا» . رَوَاهُ الْبَيْهَقِيُّ فِي «كِتَابِ الْبَعْثِ وَالنُّشُورِ»
Urdu

ابوہریرہ ؓ ، نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے روایت کرتے ہیں ، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ دجال ایک نہایت سفید گدھے پر سوار ہو کر نکلے گا ، اس کے دونوں کانوں کے مابین ستر باع (ایک باع دو ہاتھوں کی لمبائی کے برابر ہوتا ہے) فاصلہ ہو گا ۔‘‘ لم اجدہ ، رواہ البیھقی فی البعث و النشور ۔

Hadith 5494
sahih
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ أَنَّ عُمَرَ بن الْخطاب انْطَلَقَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي رَهْطٍ مِنْ أَصْحَابِهِ قِبَلَ ابْنِ الصياد حَتَّى وجدوهُ يلعبُ مَعَ الصّبيانِ فِي أُطُمِ بَنِي مَغَالَةَ وَقَدْ قَارَبَ ابْنُ صَيَّادٍ يَوْمَئِذٍ الْحُلُمَ فَلَمْ يَشْعُرْ حَتَّى ضَرَبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ظَهْرَهُ بِيَدِهِ ثمَّ قَالَ: «أتشهدُ أَنِّي رسولُ الله؟» فَقَالَ: أَشْهَدُ أَنَّكَ رَسُولُ الْأُمِّيِّينَ. ثُمَّ قَالَ ابْنُ صَيَّادٍ: أَتَشْهَدُ أَنِّي رَسُولُ اللَّهِ؟ فَرَصَّهُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ قَالَ: «آمَنت بِاللَّه وبرسلِه» ثمَّ قَالَ لِابْنِ صيَّاد: «مَاذَا تَرَى؟» قَالَ: يَأْتِينِي صَادِقٌ وَكَاذِبٌ. قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «خُلِّطَ عَلَيْكَ الْأَمْرُ» . قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنِّي خَبَّأْتُ لَكَ خَبِيئًا» وَخَبَّأَ لَه: (يومَ تَأتي السَّماءُ بدُخانٍ مُبينٍ) فَقَالَ: هُوَ الدُّخُّ. فَقَالَ: «اخْسَأْ فَلَنْ تَعْدُوَ قَدْرَكَ» . قَالَ عُمَرُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَتَأْذَنُ لي فِي أَنْ أَضْرِبَ عُنُقَهُ؟ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنْ يَكُنْ هُوَ لَا تُسَلَّطْ عَلَيْهِ وَإِنْ لَمْ يَكُنْ هُوَ فَلَا خير لَك فِي قَتْلِهِ» . قَالَ ابْنُ عُمَرَ: انْطَلَقَ بَعْدَ ذَلِكَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبِي بْنُ كَعْبٍ الْأَنْصَارِيُّ يَؤُمَّانِ النَّخْلَ الَّتِي فِيهَا ابْنُ صَيَّادٍ فَطَفِقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَّقِي بِجُذُوعِ النَّخْلِ وَهُوَ يَخْتِلُ أنْ يسمعَ مِنِ ابْنِ صَيَّادٍ شَيْئًا قَبْلَ أَنْ يَرَاهُ وَابْنُ صَيَّادٍ مُضْطَجِعٌ عَلَى فِرَاشِهِ فِي قَطِيفَةٍ لَهُ فِيهَا زَمْزَمَةٌ فَرَأَتْ أُمُّ ابْنِ صَيَّادٍ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَتَّقِي بِجُذُوعِ النَّخْلِ. فَقَالَتْ: أَيْ صَافُ - وَهُوَ اسْمُهُ - هَذَا مُحَمَّدٌ. فَتَنَاهَى ابْنُ صَيَّادٍ. قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَوْ تَرَكَتْهُ بَيَّنَ» . قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ: قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي النَّاسَ فَأَثْنَى عَلَى اللَّهِ بِمَا هُوَ أَهْلُهُ ثُمَّ ذَكَرَ الدَّجَّالَ فَقَالَ: «إِنِّي أُنْذِرُكُمُوهُ وَمَا مِنْ نَبِيٍّ إِلَّا وَقَدْ أَنْذَرَ قَوْمَهُ لَقَدْ أَنْذَرَ نُوحٌ قَوْمَهُ وَلَكِنِّي سَأَقُولُ لَكُمْ فِيهِ قَوْلًا لَمْ يَقُلْهُ نَبِيٌّ لِقَوْمِهِ تَعْلَمُونَ أَنَّهُ أَعْوَرُ وَأَنَّ اللَّهَ لَيْسَ بِأَعْوَرَ» . مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ
Urdu

عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ عمر بن خطاب ؓ ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی معیت میں صحابہ کی ایک جماعت کے ساتھ ابن صیاد کی طرف روانہ ہوئے اور انہوں نے اسے بنو مغالہ کے قلعے میں بچوں کے ساتھ کھیلتے ہوئے پایا ، ابن صیاد ان دنوں بلوغت کے قریب تھا ، اسے (آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی آمد کا) پتہ اس وقت چلا جب رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کی پشت پر ہاتھ مارا ، پھر فرمایا :’’ کیا تم گواہی دیتے ہو کہ میں اللہ کا رسول ہوں ؟ اس نے رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی طرف (غصہ سے) دیکھا اور کہا : میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ ان پڑھوں (عربوں) کے رسول ہیں ، پھر ابن صیاد نے کہا : کیا آپ گواہی دیتے ہیں کہ میں اللہ کا رسول ہوں ؟ نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اسے زور سے دبایا اور فرمایا :’’ میں اللہ اور اس کے رسولوں پر ایمان لایا ۔‘‘ پھر آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ابن صیاد سے فرمایا :’’ تم کیا دیکھتے ہو ؟‘‘ اس نے کہا : میرے پاس سچا اور جھوٹا دونوں آتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ تیرے لیے معاملہ مشتبہ کر دیا گیا ہے ۔‘‘ رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ میں نے تمہارے لیے اپنے دل میں ایک چیز چھپائی ہے (بتاؤ وہ کیا ہے ؟) آپ نے یہ بات چھپائی تھی :’’ جس دن آسمان ظاہر دھوئیں کے ساتھ آئے گا ۔‘‘ اس نے کہا : وہ دخ (دھواں) ہے ، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ دور ہو جا ، تو اپنی حیثیت سے تجاوز نہیں کر سکتا ۔‘‘ عمر ؓ نے عرض کیا ، اللہ کے رسول ! کیا آپ اس کے متعلق مجھے اجازت دیتے ہیں کہ میں اسے قتل کر دوں ؟ رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ اگر تو یہ وہی (دجال) ہے تو پھر اس پر غلبہ حاصل نہیں کیا جا سکتا ، اور اگر یہ وہ نہیں تو پھر اس کے قتل کرنے میں تیرے لیے کوئی بھلائی نہیں ۔‘‘ ابن عمر ؓ بیان کرتے ہیں ، اس کے بعد رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ابی بن کعب انصاری ؓ کو ساتھ لے کر کھجور کے اس باغ کی طرف روانہ ہوئے جس میں ابن صیاد تھا ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کھجور کے تنوں میں چھپنے لگے آپ چاہتے تھے کہ اس سے پہلے کہ ابن صیاد آپ کو دیکھ لے ، آپ اس سے کچھ سن لیں ، ابن صیاد مخملی چادر میں اپنے بستر پر لیٹا ہوا تھا ، اور کچھ گنگنا رہا تھا ، اتنے میں ابن صیاد کی ماں نے نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو دیکھ لیا جبکہ آپ کھجور کے تنوں میں چھپ رہے تھے ، اس نے کہا : صاف یہ ابن صیاد کا نام ہے (دیکھو !) محمد صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم آ گئے ، چنانچہ ابن صیاد متنبہ ہو گیا ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ اگر وہ اس کو (اس حالت پر) چھوڑ دیتی تو وہ (اپنے دل کی بات) ظاہر کر دیتا ۔‘‘ عبداللہ بن عمر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لوگوں کو خطاب کرنے کے لیے کھڑے ہوئے اور آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اللہ کی حمد و ثنا بیان کی جو اس کی شان کے لائق ہے ۔ پھر دجال کا ذکر کیا تو فرمایا :’’ میں تمہیں اس سے ڈراتا ہوں ، اور ہر نبی ؑ نے اس سے اپنی قوم کو ڈرایا ہے ، نوح ؑ نے بھی اپنی قوم کو ڈرایا لیکن میں اس کے متعلق تمہیں ایسی بات بتاؤں گا جو کسی نبی نے اپنی قوم کو نہیں بتائی ، تم خوب جان لو کہ وہ کانا ہے جبکہ اللہ تعالیٰ کانا نہیں ہے ۔‘‘ متفق علیہ ۔

Hadith 5495
sahih
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ: لَقِيَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ - يَعْنِي ابْنَ صَيَّادٍ - فِي بَعْضِ طُرُقِ الْمَدِينَةِ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَتَشْهَدُ أَنِّي رَسُولُ اللَّهِ؟» فَقَالَ هُوَ: أَتَشْهَدُ أَنِّي رَسُولَ اللَّهِ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «آمَنْتُ بِاللَّهِ وَمَلَائِكَتِهِ وَكُتُبِهِ وَرُسُلِهِ مَاذَا تَرَى؟» قَالَ: أَرَى عَرْشًا عَلَى الْمَاءُ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «تَرَى عَرْشَ إِبْلِيسَ عَلَى الْبَحْرِ وَمَا تَرَى؟» قَالَ: أَرَى صَادِقَيْنِ وَكَاذِبًا أَوْ كَاذِبَيْنِ وَصَادِقًا. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لُبِسَ عَلَيْهِ فَدَعُوهُ» . رَوَاهُ مُسْلِمٌ
Urdu

ابوسعید خدری ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، ابوبکر اور عمر ؓ مدینے کے کسی راستے میں اس (ابن صیاد) سے ملے تو رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اسے فرمایا :’’ کیا تم گواہی دیتے ہو کہ میں اللہ کا رسول ہوں ؟‘‘ جواب میں اس نے کہا کہ کیا آپ گواہی دیتے ہو کہ میں اللہ کا رسول ہوں ؟ رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ میں اللہ پر ، اس کے فرشتوں پر ، اس کی کتابوں پر اور اس کے رسولوں پر ایمان لایا ۔‘‘ تو کیا دیکھتا ہے ؟‘‘ اس نے کہا : میں تخت کو پانی پر دیکھتا ہوں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ تو شیطان کا تخت سمندر پر دیکھتا ہے ۔‘‘ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ تو (اس کے علاوہ اور) کیا دیکھتا ہے ؟‘‘ اس نے کہا : دو سچے اور ایک جھوٹا دیکھتا ہوں یا دو جھوٹے اور ایک سچا دیکھتا ہوں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ اس پر معاملہ مشتبہ کر دیا گیا ہے ، تم اسے چھوڑ دو ۔‘‘ رواہ مسلم ۔

Hadith 5496
sahih
وَعَنْهُ أَنَّ ابْنَ صَيَّادٍ سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ تُرْبَةِ الْجَنَّةِ. فَقَالَ: «در مَكَّة يبضاء ومسك خَالص» . رَوَاهُ مُسلم
Urdu

ابوسعید خدری ؓ سے روایت ہے کہ ابن صیاد نے نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے جنت کی مٹی کے بارے میں دریافت کیا تو آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ نرم و ملائم سفید خالص کستوری ہے ۔‘‘ رواہ مسلم ۔

Hadith 5497
sahih
وَعَنْ نَافِعٍ قَالَ: لَقِيَ ابْنُ عُمَرَ ابْنَ صَيَّادٍ فِي بَعْضِ طُرُقِ الْمَدِينَةِ فَقَالَ لَهُ قَوْلًا أَغْضَبَهُ فَانْتَفَخَ حَتَّى مَلَأَ السِّكَّةَ. فَدَخَلَ ابْنُ عُمَرَ عَلَى حَفْصَةَ وَقَدْ بَلَغَهَا فَقَالَتْ لَهُ: رَحِمَكَ اللَّهُ مَا أَرَدْتَ مِنِ ابْنِ صياد؟ أما علمت أَن رَسُول اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِنَّمَا يَخْرُجُ مِنْ غضبةٍ يغضبها» . رَوَاهُ مُسلم
Urdu

نافع بیان کرتے ہیں ، ابن عمر ؓ مدینے کے کسی راستے میں ابن صیاد سے ملے تو انہوں نے اس سے کوئی بات کہی جس نے اسے ناراض کر دیا اور غصہ کی وجہ سے اس کی سانس پھول گئی حتی کہ راستہ بھر گیا (اس کے بعد) ابن عمر ؓ ، حفصہ ؓ کے پاس گئے تو انہیں اس واقعہ کی اطلاع ہو چکی تھی ، تو انہوں نے انہیں فرمایا : اللہ تم پر رحم فرمائے ، تم نے ابن صیاد سے کس چیز کا قصد کیا ؟ کیا تمہیں علم نہیں کہ رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ وہ (دجال) ایک غصے کی وجہ سے نکلے گا جو اسے غصہ دلایا جائے گا ۔‘‘ رواہ مسلم ۔

Hadith 5498
sahih
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ: صَحِبْتُ ابْنَ صياد إِلَى مَكَّة فَقَالَ: مَا لَقِيتُ مِنَ النَّاسِ؟ يَزْعُمُونَ أَنِّي الدَّجَّالُ أَلَسْتَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «إِنَّهُ لَا يُولَدُ لَهُ» . وَقَدْ وُلِدَ لِي أَلَيْسَ قَدْ قَالَ: «هُوَ كَافِرٌ» . وَأَنا مُسلم أَو لَيْسَ قَدْ قَالَ: «لَا يَدْخُلُ الْمَدِينَةَ وَلَا مَكَّةَ» ؟ وَقَدْ أَقْبَلْتُ مِنَ الْمَدِينَةِ وَأَنَا أُرِيدُ مَكَّةَ. ثُمَّ قَالَ لِي فِي آخِرِ قَوْلِهِ: أَمَا وَاللَّهِ إِنِّي لَأَعْلَمُ مَوْلِدَهُ وَمَكَانَهُ وَأَيْنَ هُوَ وَأَعْرِفُ أَبَاهُ وَأُمَّهُ قَالَ: فَلَبَسَنِي قَالَ: قُلْتُ لَهُ: تَبًّا لَكَ سَائِرَ الْيَوْمِ. قَالَ: وَقِيلَ لَهُ: أَيَسُرُّكَ أَنَّكَ ذَاكَ الرَّجُلُ؟ قَالَ: فَقَالَ: لَوْ عُرِضَ عَلَيَّ مَا كَرِهْتُ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ
Urdu

ابوسعید خدری ؓ بیان کرتے ہیں ، میں مکہ کی طرف جاتے ہوئے ابن صیاد کے ساتھ تھا ، اس نے مجھے کہا : مجھے لوگوں (کے کلام) سے کس قدر تکلیف پہنچی ہے ؟ وہ سمجھتے ہیں کہ میں دجال ہوں ، کیا تم نے رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو فرماتے ہوئے نہیں سنا کہ اس کی اولاد نہیں ہو گی ۔‘‘ جبکہ میری اولاد ہے ، کیا آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے یہ نہیں فرمایا کہ ’’ وہ کافر ہے ؟‘‘ جبکہ میں مسلمان ہوں ، کیا آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے یہ نہیں فرمایا :’’ وہ مدینہ میں داخل ہو گا نہ مکہ میں ۔‘‘ جبکہ میں مدینہ سے آ رہا ہوں اور مکے جا رہا ہوں ، پھر اس نے مجھ سے اپنی آخری بات یہ کی : سن لو ، اللہ کی قسم ! میں اس (دجال) کی جائے پیدائش اور وقت پیدائش کو جانتا ہوں اور وہ کہاں ہے ؟ یہ بھی جانتا ہوں ، میں اس کے والدین کو جانتا ہوں ، ابوسعید ؓ نے بیان کیا ، اس (ابن صیاد) نے مجھے اشتباہ میں ڈال دیا ، وہ بیان کرتے ہیں ، میں نے اسے کہا : تیرے لیے باقی ایام میں تباہی ہو ، ابوسعید بیان کرتے ہیں ، اسے کہا گیا : کیا تو یہ پسند کرتا ہے کہ وہ (دجال) تم ہی ہو ؟ ابوسعید خدری ؓ بیان کرتے ہیں ، اس نے کہا : اگر وہ چیز (دجال کی خصلت و جبلت وغیرہ) مجھ پر پیش کی جائے تو میں ناپسند نہیں کروں گا ۔ رواہ مسلم ۔