انس ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ طلب علم ہر مسلمان پر فرض ہے ، کسی ایسے شخص کو ، جو اس کی اہلیت نہ رکھتا ہو ، پڑھانے والا ، خنزیروں کے گلے میں ہیرے جواہرات اور سونے کے ہار ڈالنے والے کی طرح ہے ۔‘‘ ابن ماجہ ، جبکہ بیہقی نے ((مسلم)) تک شعب الایمان میں روایت کیا ہے ، اور انہوں نے فرمایا : اس حدیث کا متن مشہور ہے جبکہ سند ضعیف ہے ، اور یہ روایت متعدد طریق سے مروی ہے ، لیکن وہ سب ضعیف ہیں ۔ اسنادہ ضعیف جداً و الحدیث ضعیف ، رواہ ابن ماجہ (۲۲۴) و البیھقی فی شعب الایمان (۱۵۴۳) ۔
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ دو خصلتیں کسی منافق میں اکٹھی نہیں ہو سکتی ، اچھے اخلاق اور دین میں سمجھ بوجھ ۔‘‘ سندہ ضعیف ، رواہ الترمذی (۲۶۸۴) ۔
انس ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ جو شخص طلب علم کے لیے سفر کرتا ہے تو وہ واپس آنے تک اللہ کی راہ میں رہتا ہے ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ الترمذی (۲۶۴۷) و الدارمی (لم اجدہ) ۔
سخرہ ازدی ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ جو شخص علم حاصل کرتا ہے تو یہ اس کے سابقہ گناہوں کا کفارہ بن جاتا ہے ۔‘‘ امام ترمذی نے اس حدیث کی سند کو ضعیف قرار دیا ہے اور اس روایت میں ابوداود راوی ضعیف ہے ۔ اسنادہ ضعیف جذا موضوع ، رواہ الترمذی (۲۶۴۸) و الدارمی (۱/ ۱۳۹ ح ۵۶۷) ۔
ابوسعید خدری ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ مومن خیر (کی باتیں) سن سن کر سیر نہیں ہوتا حتیٰ کہ اس کی غایت و انتہا جنت ہو جاتی ہے ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ الترمذی (۲۶۸۶) ابن حبان (۲۳۸۵) و الحاکم (۴/ ۱۳۰) ۔
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ جس شخص سے علم کی کوئی بات پوچھی جائے ، جسے وہ جانتا ہو ، پھر وہ اسے چھپائے تو روز قیامت اسے آگ کی لگام ڈالی جائے گی ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ احمد (۲/ ۲۶۳ ح ۷۵۶۱ ، ۲/ ۳۰۵ ح ۸۰۳۵) و ابوداود (۳۶۵۸) و الترمذی (۲۶۴۹) و ابن ماجہ ۲۶۱) ۔
ابن ماجہ نے اسے انس ؓ سے روایت کیا ہے ۔ حسن ، رواہ ابن ماجہ (۲۶۴) ۔
کعب بن مالک ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ جو شخص علما سے مناظرہ کرنے ، نادانوں کو شبہات میں مبتلا کرنے اور لوگوں کی توجہ حاصل کرنے کے لیے علم حاصل کرتا ہے تو اللہ اسے جہنم میں داخل فرمائے گا ۔‘‘ سندہ ضعیف ، رواہ الترمذی (۲۶۵۴) ۔
ابن ماجہ نے اسے ابن عمر ؓ سے روایت کیا ہے ۔ سندہ ضعیف ، رواہ ابن ماجہ (۲۵۳) ۔
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ جو شخص ایسا علم ، جس کے ذریعے اللہ کی رضا مندی حاصل کی جاتی ہے ، محض دنیا کا مال و متاع حاصل کرنے کے لیے سیکھتا ہے تو وہ روز قیامت جنت کی خوشبو بھی نہیں پائے گا ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ احمد (۲/ ۳۳۸ ح ۸۴۳۹) و ابوداود (۳۶۶۴) و ابن ماجہ (۲۵۲) و ابن حبان (۸۹) و الحاکم (۱/ ۸۵) ۔
ابن مسعود ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ اللہ اس شخص کے چہرے کو تروتازہ رکھے جس نے میری حدیث کو سنا ، اسے یاد کیا ، اس کی حفاظت کی اور پھر اسے آگے بیان کیا ، بسا اوقات اہل علم فقیہ نہیں ہوتے ، اور بسا اوقات فقیہ اپنے سے زیادہ فقیہ تک بات پہنچا دیتا ہے ، تین خصلتیں ایسی ہیں جن کے بارے میں مسلمان کا دل خیانت نہیں کرتا : عمل خالص اللہ کی رضا کے لیے ہو ، مسلمانوں کے لیے خیر خواہی ہو ، اور ان کی جماعت کے ساتھ لگے رہنا ، کیونکہ ان کی دعوت انہیں سب طرف سے گھیر لے گی (حفاظت کرے گی) ۔‘‘ صحیح ، رواہ الشافعی (فی الرسالۃ ص ۴۰۱ فقرہ : ۱۱۰۲ ص ۴۲۳) و البیھقی فی شعب الایمان (۱۷۳۸) و الترمذی (۲۶۵۸) و احمد (۱/ ۴۳۶) ۔
احمد ، ترمذی ، ابوداؤد ، ابن ماجہ اور دارمی نے زید بن ثابت ؓ سے روایت کیا ہے ، البتہ ترمذی اور ابوداؤد نے ((ثلاث لا یغل علیھن ،،،،،)) سے آخر تک ذکر نہیں کیا ۔ صحیح ، رواہ احمد (۵/ ۱۸۳ ح ۲۱۹۲۴) و الترمذی (۲۶۵۶) و ابوداود (۳۶۶۰) و ابن ماجہ (۲۳۰) و الدارمی (۱/ ۷۵ ح ۲۳۵) و ابن حبان ۷۲ ، ۷۳) ۔
ابن مسعود ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا :’’ اللہ اس شخص کے چہرے کو تروتازہ رکھے جس نے ہم سے کوئی ایسی چیز سنی ، تو اس نے جیسے اسے سنا تھا ویسے ہی اسے آگے پہنچا دیا ، کیونکہ بسا اوقات جسے بات پہنچائی جاتی ہے وہ اس کی ، اس سننے والے کی نسبت زیادہ حفاظت کرنے والا ہوتا ہے ۔‘‘ صحیح ، رواہ الترمذی (۲۶۵۷) و ابن ماجہ (۲۳۲) و ابن حبان (۷۴ ۔ ۷۶) ۔
دارمی نے اسے ابودرداء ؓ سے روایت کیا ہے ۔ صحیح ، رواہ الدارمی (۱/ ۷۵ ح ۲۳۶) ۔
ابن عباس ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ مجھ سے حدیث بیان کرتے وقت احتیاط کیا کرو اور صرف وہی حدیث بیان کرو جس کے بارے میں تمہیں علم ہو (کہ یہ میری حدیث ہے) ، پس جس نے عمداً مجھ پر جھوٹ باندھا تو وہ اپنا ٹھکانہ جہنم میں بنا لے ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ الترمذی (۲۹۵۱) ۔
ابن ماجہ نے ابن مسعود ؓ سے روایت کیا ہے لیکن ابن ماجہ نے یہ الفاظ :’’ مجھ سے حدیث بیان کرتے وقت احتیاط کرو اور وہی حدیث بیان کرو جس کے بارے میں تمہیں علم ہو ۔‘‘ ذکر نہیں کئے ۔ صحیح ، رواہ ابن ماجہ (۳۰ ، ۳۳) و الترمذی (۲۲۵۷) ۔
ابن عباس ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ جو شخص قرآن کے بارے میں اپنی رائے سے کچھ کہے تو وہ اپنا ٹھکانہ جہنم میں بنا لے ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ (۲۹۵۰ ، ۲۹۵۱) ۔ اور ایک دوسری روایت میں ہے :’’ جو شخص قرآن کے بارے میں علم کے بغیر کوئی بات کہے تو وہ اپنا ٹھکانہ جہنم میں بنا لے ۔‘‘
جندب ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ جو شخص قرآن کے بارے میں اپنی رائے سے کچھ کہے اور اگر وہ درست بھی ہو تب بھی اس نے غلطی کی ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ الترمذی (۲۹۵۲) و ابوداؤد (۳۶۵۲) ۔
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ قرآن کے بارے میں اختلاف و جھگڑا کرنا کفر ہے ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ احمد (۲/ ۲۸۶ ح ۷۸۳۵ ، ۲/ ۵۰۳ ح ۱۰۵۴۶) و ابوداود (۴۶۰۳) و ابن حبان (۷۳) و الحاکم (۲/ ۲۲۳) ۔
عمرو بن شعیب اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں ، انہوں نے کہا ، نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کچھ لوگوں کو قرآن کے بارے میں جھگڑا کرتے ہوئے پایا تو فرمایا :’’ تم سے پہلے لوگ بھی اسی وجہ سے ہلاک ہوئے انہوں نے اللہ کی کتاب کے بعض حصوں کا بعض حصوں سے رد کیا ، حالانکہ اللہ کی کتاب تو اس لیے نازل ہوئی کہ وہ ایک دوسرے کی تصدیق کرتا ہے ، پس تم قرآن کے بعض حصے سے بعض کی تکذیب نہ کرو ، اس سے جو تم جان لو تو اسے بیان کرو ، اور جس کا تمہیں پتہ نہ چلے اسے اس کے جاننے والے کے سپرد کر دو ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ احمد (۲/ ۱۸۵ ح ۶۷۴۱۹) و ابن ماجہ (۸۵) ۔