ابودرداء ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ سے دریافت کیا گیا کہ علم کی وہ کیا حد ہے جہاں پہنچ کر انسان فقیہ بن جاتا ہے ؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ جس شخص نے امور دین کے متعلق چالیس احادیث یاد کیں اور انہیں آگے امت تک پہنچایا تو اللہ اسے فقیہ کی حیثیت سے اٹھائے گا اور روز قیامت میں اس کے حق میں شفاعت کروں گا اور گواہی دوں گا ۔‘‘ ضعیف ، رواہ البیھقی فی شعب الایمان (۱۷۲۶) ۔
انس بن مالک ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ کیا تم جانتے ہو سب سے بڑا سخی کون ہے ؟‘‘ صحابہ نے عرض کیا ، اللہ اور اس کے رسول بہتر جانتے ہیں ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ اللہ تعالیٰ سب سے بڑا سخی ہے ، پھر اولاد آدم میں سب سے بڑا سخی میں ہوں ، اور میرے بعد وہ شخص سخی ہے جس نے علم حاصل کیا اور اسے فروغ دیا ، روز قیامت وہ اس حیثیت سے آئے گا کہ وہ اکیلا ہی امیر ہو گا ۔‘‘ یا فرمایا :’’ اکیلا ہی ایک امت ہو گا ۔‘‘ اسنادہ ضعیف جذا ، رواہ البیھقی فی شعب الایمان (۱۷۶۷) ۔
انس بن مالک ؓ بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ دو قسم کے بھوکے حریص لوگ کبھی سیر نہیں ہوتے ، علم کا حریص شخص کبھی علم سے سیر نہیں ہوتا اور دنیا کا حریص کبھی دنیا سے سیر نہیں ہوتا ۔‘‘ بیہقی نے یہ تینوں احادیث شعب الایمان میں بیان کی ہیں ۔ اور امام احمد نے ابودرداء ؓ سے مروی حدیث کے بارے میں فرمایا : اس حدیث کا متن تو لوگوں میں مشہور ہے ، لیکن اس کی اسناد صحیح نہیں ۔ سندہ ضعیف ، رواہ البیھقی فی شعب الایمان (۱۰۲۷۹ ، ۹۷۹۸ ، ۵۰) و ابن عدی فی الکامل (۶/ ۲۲۹۸) و ابن جوزی فی العلل المتناھیۃ (۱۱۳) و الحاکم (۱/ ۹۲) و ابی خیشمۃ فی العلم (۱۴۱) ۔
عون ؒ بیان کرتے ہیں ، عبداللہ بن مسعود ؓ نے فرمایا :’’ دو بھوکے حریص لوگ سیر نہیں ہوتے صاحب علم اور صاحب دنیا ، اور یہ دونوں برابر بھی نہیں ہو سکتے ، رہا صاحب علم تو وہ رحمان کی رضا مندی میں بڑھتا چلا جاتا ہے ،اور رہا صاحب دنیا تو وہ سرکشی میں بڑھتا چلا جاتا ہے ۔ پھر عبداللہ ؓ نے یہ آیت تلاوت فرمائی :’’ ہاں بلاشبہ انسان سرکش ہو جاتا ہے ، جب وہ اپنے آپ کو بے نیاز سمجھتا ہے ۔‘‘ راوی بیان کرتے ہیں ، انہوں نے دوسرے کے لیے یہ آیت تلاوت فرمائی :’’ بات صرف یہ ہے کہ اللہ کے بندوں میں سے علما ہی اس سے ڈرتے ہیں ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ الدارمی (۱/ ۹۶ ح ۳۳۹) ۔
ابن عباس ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ میری امت میں سے کچھ لوگ دین میں تفقہ حاصل کرنے کا دعویٰ کریں گے ، وہ قرآن پڑھیں گے ، وہ کہیں گے : ہم امرا کے پاس جا کر ان سے ان کی دنیا سے کچھ حاصل کرتے ہیں ، اور ہم اپنے دین کو ان سے بچا کر رکھتے ہیں حالانکہ ایسے نہیں ہو سکتا ۔ جیسے قتاد (سخت کانٹے دار جنگلی درخت) سے صرف کانٹے ہی چنے جا سکتے ہیں ، اسی طرح ان (امرا) کے قرب سے سوائے ۔‘‘ محمد بن صباح نے کہا : گویا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یہ کہنا چاہتے ہیں کہ ’’ ان کے پاس جانے سے گناہ حاصل ہو گا ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ ابن ماجہ (۲۵۵) ۔
عبداللہ بن مسعود ؓ بیان کرتے ہیں : اگر اہل علم ، علم کی حفاظت کرتے اور اسے اس کے اہل لوگوں تک پہنچاتے تو وہ اس کے ذریعے اپنے زمانے کے لوگوں پر سیادت و حکمرانی کرتے ، لیکن انہوں نے دنیا داروں کے لیے مخصوص کر دیا تاکہ وہ اس کے ذریعے ان کی دنیا سے کچھ حاصل کر لیں ، تو اس طرح وہ ان کے سامنے بے آبرو ہوگئے ، میں نے تمہارے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے :’’ جو شخص اپنے غموں کو سمیٹ کر فقط اپنی (آخرت کو) ایک غم بنا لیتا ہے تو اللہ اس کے دنیا کے غموں سے اس کے لیے کافی ہو جاتا ہے ، اور جس شخص کو دنیا کے غم و فکر منتشر رکھیں تو پھر اللہ کو اس کی کوئی پرواہ نہیں کہ وہ کس وادی میں ہلاک ہوتا ہے ۔‘‘ ضعیف ، رواہ ابن ماجہ (۲۵۷) ۔
بیہقی نے شعب الایمان میں ابن عمر ؓ سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے قول :((من جعل الھموم ،،،،)) سے آخر تک روایت کیا ہے ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ البیھقی فی شعب الایمان (۱۸۸۸) و الحاکم فی المستدرک (۴/ ۳۲۸ ، ۳۲۹) ۔
اعمش ؒ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ بھول جانا علم کے لیے آفت ہے ، اور جو علم کی اہلیت نہیں رکھتے ان سے اسے بیان کرنا اسے ضائع کرنا ہے ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ الدارمی (۱/ ۱۵۰ ح ۶۳۰) ۔
سفیان الثوری ؒ سے روایت ہے کہ عمر بن خطاب ؓ نے کعب ؓ سے پوچھا : اہل علم کون ہیں ؟ انہوں نے کہا : جو اپنے علم کے مطابق عمل کرتے ہیں ، پھر پوچھا : کون سی چیز علما کے دلوں سے علم نکال دیتی ہے ؟ انہوں نے کہا : (دنیا کا) طمع ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ الدارمی (۱/ ۱۴۴ ح ۵۹۰) ۔
احوص بن حکیم اپنے والد سے روایت کرتے ہیں ، انہوں نے کہا : کسی آدمی نے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے شر کے بارے میں پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ مجھ سے شر کے بارے میں مت پوچھو ۔ مجھ سے خیر کے بارے میں پوچھو ۔‘‘ آپ نے تین مرتبہ ایسے فرمایا : پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ سن لو ! سب سے بڑا شر علمائے سوء ہیں ، اور سب سے بڑی خیر علمائے خیر ہیں ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ الدارمی (۱ /۱۰۴ ح ۳۷۶) ۔
ابودرداء ؓ بیان کرتے ہیں :’’ روز قیامت اللہ کے ہاں سب سے بُرا مقام اس عالم کا ہو گا جو اپنے علم سے فائدہ حاصل نہیں کرتا ۔‘‘ اسنادہ ضعیف جذا موضوع ، رواہ الدارمی (۱ /۸۲ ح ۲۶۸) ۔
زیاد بن حُدیر ؒ بیان کرتے ہیں ، عمر ؓ نے مجھ سے پوچھا : کہ تم جانتے ہو کون سی چیز اسلام کی عزت میں کمی کرتی ہے ؟ میں نے کہا : نہیں ، انہوں نے فرمایا : عالم کی لغزش ، منافق کا قرآن کے ساتھ جدال کرنا اور گمراہ حکمرانوں کا فیصلے کرنا ۔‘‘ اسنادہ صحیح ، رواہ الدارمی (۱ /۷۱ ح ۲۲۰) ۔
حسن بصری ؒ بیان کرتے ہیں : علم کی دو اقسام ہیں ، ایک علم دل میں ہے ، وہ علم نفع مند ہے ، اور ایک علم زبان پر ہے ، وہ اللہ عزوجل کی ابن آدم کے خلاف حجت ہو گی ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ الدارمی (۱ /۱۰۲ ح ۳۷۰) ۔
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے (علم کے) دو ظروف یاد کیے ، ان میں سے ایک میں نے تمہارے درمیان نشر کر دیا ، رہی دوسری قسم تو اگر میں اسے نشر کردوں تو میرا گلا کاٹ دیا جائے ۔ رواہ البخاری (۱۲۰) ۔
عبداللہ بن مسعود ؓ نے فرمایا : لوگو ! جس شخص کو کسی چیز کا علم ہو تو وہ اس کے متعلق بات کرے ، اور جسے علم نہ ہو تو وہ کہے : (اللہ اعلم) اللہ بہتر جانتا ہے ۔ کیونکہ جس چیز کا تجھے علم نہ ہو اس کے متعلق تمہارا یہ کہنا کہ اللہ بہتر جانتا ہے ، یہ بھی علم کی بات ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی سے فرمایا :’’ کہہ دیجیے ، میں اس پر تم سے کوئی اجر نہیں مانگتا اور میں تکلف کرنے والوں میں سے بھی نہیں ہوں ۔‘‘ متفق علیہ ، رواہ البخاری (۴۸۰۹) و مسلم ۔
ابن سرین ؒ نے فرمایا : بے شک یہ علم دین ہے ، پس تم دیکھو کہ تم اپنا دین کس سے حاصل کرتے ہو ۔ رواہ مسلم ۔
حذیفہ ؓ نے فرمایا : اے قراء کی جماعت ! سیدھی راہ پر ثابت قدم رہو ، اس لیے کہ تم سب سے آگے ہو ، اور اگر تم دائیں بائیں چلے گئے تو تم بہت دور گمراہی میں چلے جاؤ گے ۔ رواہ البخاری (۷۲۸۲) ۔
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ (غمناک گڑھے) سے اللہ کی پناہ طلب کرو ۔‘‘ صحابہ نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! غمناک گڑھے سے کیا مراد ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ وہ جہنم میں ایک وادی ہے ، جس سے جہنم (کی دیگر وادیاں) ہر روز چار سو مرتبہ پناہ مانگتی ہیں ۔‘‘ عرض کیا گیا ، اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! اس میں کون داخل ہو گا ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ اپنے اعمال کے ذریعے ریاکاری کرنے والے قراء ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ الترمذی (۲۳۸۳) و ابن ماجہ (۲۵۶) ۔ اسی طرح ابن ماجہ نے روایت کیا ہے ، اور انہوں نے اس میں یہ اضافہ کیا ہے :’’ اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے ناپسندیدہ قراء وہ ہیں جو امرا کے پاس جاتے ہیں ۔‘‘ محاربی نے کہا : اس سے ظالم امرا مراد ہیں ۔
علی ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ قریب ہے کہ لوگوں پر ایک ایسا دور آئے جب اسلام کا صرف نام اور قرآن کا صرف رسم الخط باقی رہ جائے گا ، ان کی مساجد آباد ہوں گی لیکن وہ ہدایت سے خالی ہوں گی ، ان کے علما آسمان تلے بدترین لوگ ہوں گے ، ان کے پاس سے فتنہ ظاہر ہو گا اور انہی میں لوٹ جائے گا ۔‘‘ ضعیف ، رواہ البیھقی فی شعب الایمان (۱۹۰۸) ۔
زیاد بن لبید ؓ بیان کرتے ہیں ، نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کسی (خوفناک) چیز کا ذکر کیا تو فرمایا :’’ یہ علم کے رخصت ہو جانے کے وقت ہو گی ۔‘‘ میں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! علم کیسے رخصت ہو جائے گا ، جبکہ ہم قرآن پڑھتے ہیں ، اور ہم اسے اپنی اولاد کو پڑھا رہے ہیں ، اور ہماری اولاد اپنی اولاد کو پڑھائے گی اور یہ سلسلہ قیامت تک جاری رہے گا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ زیاد ! تیری ماں تمہیں گم پائے ، میں تو تمہیں مدینہ کا بڑا فقیہ شخص سمجھتا تھا ، کیا یہ یہود و نصاری تورات و انجیل نہیں پڑھتے ، لیکن وہ ان کے مطابق عمل نہیں کرتے ۔‘‘ احمد ، ابن ماجہ ، اور ترمذی نے بھی انہی سے اسی طرح روایت کیا ہے ۔ ضعیف ، رواہ احمد (۴ /۱۶۰ ح ۱۷۶۱۲) و ابن ماجہ (۴۰۴۸) و الترمذی (۲۶۵۳) ۔