Narrated 'Ubaidullah Ibn `Abdullah bin `Utba:
I went to `Aisha رضی اللہ عنہا and asked her to describe to me the illness of Allah's Messenger (ﷺ). `Aisha رضی اللہ عنہا said, "Yes. The Prophet became seriously ill and asked whether the people had prayed. We replied, 'No. O Allah's Apostle! They are waiting for you.' He added, 'Put water for me in a trough." `Aisha رضی اللہ عنہا added, "We did so. He took a bath and tried to get up but fainted. When he recovered, he again asked whether the people had prayed. We said, 'No, they are waiting for you. O Allah's Messenger (ﷺ),' He again said, 'Put water in a trough for me.' He sat down and took a bath and tried to get up but fainted again. Then he recovered and said, 'Have the people prayed?' We replied, 'No, they are waiting for you. O Allah's Apostle.' He said, 'Put water for me in the trough.' Then he sat down and washed himself and tried to get up but he fainted. When he recovered, he asked, 'Have the people prayed?' We said, 'No, they are waiting for you. O Allah's Messenger (ﷺ)! The people were in the mosque waiting for the Prophet (ﷺ) for the `Isha prayer. The Prophet (ﷺ) sent for Abu Bakr رضی اللہ عنہ to lead the people in the prayer. The messenger went to Abu Bakr رضی اللہ عنہ and said, 'Allah's Messenger (ﷺ) orders you to lead the people in the prayer.' Abu Bakr رضی اللہ عنہ was a softhearted man, so he asked `Umar to lead the prayer but `Umar replied, 'You are more rightful.' So Abu Bakr رضی اللہ عنہ led the prayer in those days. When the Prophet (ﷺ) felt a bit better, he came out for the Zuhr prayer with the help of two persons one of whom was Al-`Abbas. while Abu Bakr رضی اللہ عنہ was leading the people in the prayer. When Abu Bakr رضی اللہ عنہ saw him he wanted to retreat but the Prophet (ﷺ) beckoned him not to do so and asked them to make him sit beside Abu Bakr رضی اللہ عنہ and they did so. Abu Bakr رضی اللہ عنہ was following the Prophet (in the prayer) and the people were following Abu Bakr رضی اللہ عنہ . The Prophet (prayed) sitting." 'Ubaidullah added "I went to `Abdullah bin `Abbas and asked him, Shall I tell you what Aisha رضی اللہ عنہا has told me about the fatal illness of the Prophet?' Ibn `Abbas said, 'Go ahead. I told him her narration and he did not deny anything of it but asked whether `Aisha رضی اللہ عنہا told me the name of the second person (who helped the Prophet (ﷺ) ) along with Al-Abbas. I said. 'No.' He said, 'He was `Ali (Ibn Abi Talib).
ہم سے احمد بن یونس نے بیان کیا ، کہا کہ ہمیں زائدہ بن قدامہ نے موسیٰ بن ابی عائشہ سے خبر دی ، انہوں نے عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ سے ، انہوں نے کہا کہ
میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہا ، کاش ! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیماری کی حالت آپ ہم سے بیان کرتیں ، ( تو اچھا ہوتا ) انھوں نے فرمایا کہ ہاں ضرور سن لو ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا مرض بڑھ گیا ۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کہ کیا لوگوں نے نماز پڑھ لی ؟ ہم نے عرض کی جی نہیں یا رسول اللہ ! لوگ آپ کا انتظام کر رہے ہیں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میرے لیے ایک لگن میں پانی رکھ دو ۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا کہ ہم نے پانی رکھ دیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیٹھ کر غسل کیا ۔ پھر آپ اٹھنے لگے ، لیکن آپ بیہوش ہو گئے ۔ جب ہوش ہوا تو پھر آپ نے پوچھا کہ کیا لوگوں نے نماز پڑھ لی ہے ۔ ہم نے عرض کی نہیں حضور ! لوگ آپ کا انتظار کر رہے ہیں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( پھر ) فرمایا کہ لگن میں میرے لیے پانی رکھ دو ۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ ہم نے پھر پانی رکھ دیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیٹھ کر غسل فرمایا ۔ پھر اٹھنے کی کوشش کی لیکن ( دوبارہ ) پھر آپ بیہوش ہو گئے ۔ جب ہوش ہوا تو آپ نے پھر یہی فرمایا کہ کیا لوگوں نے نماز پڑھ لی ہے ۔ ہم نے عرض کی کہ نہیں یا رسول اللہ ! لوگ آپ کا انتظار کر رہے ہیں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر فرمایا کہ لگن میں پانی لاؤ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیٹھ کر غسل کیا ۔ پھر اٹھنے کی کوشش کی ، لیکن پھر آپ بیہوش ہو گئے ۔ پھر جب ہوش ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کہ کیا لوگوں نے نماز پڑھ لی ہم نے عرض کی کہ نہیں یا رسول اللہ ! وہ آپ کا انتظار کر رہے ہیں ۔ لوگ مسجد میں عشاء کی نماز کے لیے بیٹھے ہوئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا انتظار کر رہے تھے ۔ آخر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس آدمی بھیجا اور حکم فرمایا کہ وہ نماز پڑھا دیں ۔ بھیجے ہوئے شخص نے آ کر کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کو نماز پڑھانے کے لیے حکم فرمایا ہے ۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ بڑے نرم دل انسان تھے ۔ انھوں نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے کہا کہ تم نماز پڑھاؤ ، لیکن حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے جواب دیا کہ آپ اس کے زیادہ حقدار ہیں ۔ آخر ( بیماری ) کے دنوں میں حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نماز پڑھاتے رہے ۔ پھر جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو مزاج کچھ ہلکا معلوم ہوا تو دو مردوں کا سہارا لے کر جن میں ایک حضرت عباس رضی اللہ عنہ تھے ظہر کی نماز کے لیے گھر سے باہر تشریف لائے اور ابوبکر رضی اللہ عنہ نماز پڑھا رہے تھے ، جب انھوں نے آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا تو پیچھے ہٹنا چاہا ، لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اشارے سے انہیں روکا کہ پیچھے نہ ہٹو ! پھر آپ نے ان دونوں مردوں سے فرمایا کہ مجھے ابوبکر کے بازو میں بٹھا دو ۔ چنانچہ دونوں نے آپ کو ابوبکر رضی اللہ عنہ کے بازو میں بٹھا دیا ۔ راوی نے کہا کہ پھر ابوبکر رضی اللہ عنہ نماز میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی کر رہے تھے اور لوگ ابوبکر رضی اللہ عنہ کی نماز کی پیروی کر رہے تھے ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھے بیٹھے نماز پڑھ رہے تھے ۔ عبیداللہ نے کہا کہ پھر میں عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کی خدمت میں گیا اور ان سے عرض کی کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بیماری کے بارے میں جو حدیث بیان کی ہے کیا میں وہ آپ کو سناؤں ؟ انھوں نے فرمایا کہ ضرور سناؤ ۔ میں نے یہ حدیث سنا دی ۔ انھوں نے کسی بات کا انکار نہیں کیا ۔ صرف اتنا کہا کہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے ان صاحب کا نام بھی تم کو بتایا جو حضرت عباس رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھے ۔ میں نے کہا نہیں ۔ آپ نے فرمایا وہ حضرت علی رضی اللہ عنہ تھے ۔
Narrated Aisha رضی اللہ عنہا the mother of the believers:
Allah's Messenger (ﷺ) during his illness prayed at his house while sitting whereas some people prayed behind him standing. The Prophet (ﷺ) beckoned them to sit down. On completion of the prayer, he said, 'The Imam is to be followed: bow when he bows, raise up your heads (stand erect) when he raises his head and when he says, 'Sami`a l-lahu liman hamidah' (Allah heard those who sent praises to Him) say then 'Rabbana wa laka l-hamd' (O our Lord! All the praises are for You), and if he prays sitting then pray sitting."
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا کہا کہ ہم سے امام مالک رحمہ اللہ نے ہشام بن عروہ سے بیان کیا ۔ انہوں نے اپنے باپ عروہ سے انہوں نے ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہ آپ نے بتلایا کہ
رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ بیماری کی حالت میں میرے ہی گھر میں نماز پڑھی ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھ کر نماز پڑھ رہے تھے اور لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے کھڑے ہو کر پڑھ رہے تھے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو بیٹھنے کا اشارہ کیا اور نماز سے فارغ ہونے کے بعد فرمایا کہ امام اس لیے ہے کہ اس کی پیروی کی جائے ۔ اس لیے جب وہ رکوع میں جائے تو تم بھی رکوع میں جاؤ اور جب وہ سر اٹھائے تو تم بھی سر اٹھاؤ اور جب وہ «سمع الله لمن حمده» کہے تو تم «ربنا ولك الحمد» کہو اور جب وہ بیٹھ کر نماز پڑھے تو تم بھی بیٹھ کر نماز پڑھو ۔
Narrated Anas bin Malik رضی اللہ عنہ :
Once Allah's Messenger (ﷺ) rode a horse and fell down and the right side (of his body) was injured. He offered one of the prayers while sitting and we also prayed behind him sitting. When he completed the prayer, he said, "The Imam is to be followed. Pray standing if he prays standing and bow when he bows; rise when he rises; and if he says, 'Sami`a l-lahu-liman hamidah, say then, 'Rabbana wa laka lhamd' and pray standing if he prays standing and pray sitting (all of you) if he prays sitting." Humaid said: The saying of the Prophet (ﷺ) "Pray sitting, if he (Imam) prays sitting" was said in his former illness (during his early life) but the Prophet (ﷺ) prayed sitting afterwards (in the last illness) and the people were praying standing behind him and the Prophet (ﷺ) did not order them to sit. We should follow the latest actions of the Prophet.
ہم سے عبداللہ بن یوسف تنیسی نے بیان کیا ، کہا کہ ہمیں امام مالک رحمہ اللہ نے ابن شہاب سے خبر دی ، انہوں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک گھوڑے پر سوار ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس پر سے گر پڑے ۔ اس سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دائیں پہلو پر زخم آئے ۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کوئی نماز پڑھی ۔ جسے آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھ کر پڑھ رہے تھے ۔ اس لیے ہم نے بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے بیٹھ کر نماز پڑھی ۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم فارغ ہوئے تو فرمایا کہ امام اس لیے مقرر کیا گیا ہے کہ اس کی اقتداء کی جائے ۔ اس لیے جب وہ کھڑے ہو کر نماز پڑھے تو تم بھی کھڑے ہو کر پڑھو اور جب وہ رکوع کرے تو تم بھی رکوع کرو ۔ جب وہ رکوع سے سر اٹھائے تو تم بھی اٹھاؤ اور جب وہ «سمع الله لمن حمده» کہے تو تم «ربنا ولك الحمد» کہو اور جب وہ بیٹھ کر نماز پڑھے تو تم بھی بیٹھ کر پڑھو ۔ ابوعبداللہ ( امام بخاری رحمہ اللہ ) نے کہا کہ حمیدی نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس قول ’’ جب امام بیٹھ کر نماز پڑھے تو تم بھی بیٹھ کر پڑھو ۔ ‘‘ کے متعلق کہا ہے کہ یہ ابتداء میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی پرانی بیماری کا واقعہ ہے ۔ اس کے بعد آخری بیماری میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود بیٹھ کر نماز پڑھی تھی اور لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے کھڑے ہو کر اقتداء کر رہے تھے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس وقت لوگوں کو بیٹھنے کی ہدایت نہیں فرمائی اور اصل یہ ہے کہ جو فعل آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا آخری ہو اس کو لینا چاہئے اور پھر جو اس سے آخری ہو ۔
Narrated Al-Bara (and he was not a liar) :
When Allah's Messenger (ﷺ) said, "Sami`a l-lahu liman hamidah" none of us bent his back (for prostration) till the Prophet (ﷺ) prostrated and then we would prostrate after him. Narrated Abu 'Is-haq: As above.
ہم سے مسدد بن مسرہد نے بیان کیا ، انہوں نے کہا کہ ہم سے یحییٰ بن سعید نے سفیان سے بیان کیا ، انہوں نے کہا کہ مجھ سے ابواسحاق نے بیان کیا ، کہا کہ مجھ سے عبداللہ بن یزید نے بیان کیا ، کہا کہ مجھ سے براء بن عازب رضی اللہ عنہ نے بیان کیا ، وہ جھوٹے نہیں تھے ۔ ( بلکہ نہایت ہی سچے تھے ) انہوں نے بتلایا کہ
جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم «سمع الله لمن حمده» کہتے تو ہم میں سے کوئی بھی اس وقت تک نہ جھکتا جب تک آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم سجدہ میں نہ چلے جاتے پھر ہم لوگ سجدہ میں جاتے ۔ ہم سے ابونعیم نے بیان کیا ، کہا ہم سے سفیان ثوری نے ، انھوں نے ابواسحٰق سے جیسے اوپر گزرا ۔
Narrated Abu Huraira رضی اللہ عنہ :
The Prophet (ﷺ) said, "Isn't he who raises his head before the Imam afraid that Allah may transform his head into that of a donkey or his figure (face) into that of a donkey?"
ہم سے حجاج بن منہال نے بیان کیا ، انہوں نے کہا کہ ہم سے شعبہ نے بیان کیا ، انہوں نے محمد بن زیاد سے بیان کیا ، کہا کہ میں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا ، وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے تھے کہ
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا تم میں وہ شخص جو ( رکوع یا سجدہ میں ) امام سے پہلے اپنا سر اٹھا لیتا ہے اس بات سے نہیں ڈرتا کہ کہیں اللہ پاک اس کا سر گدھے کے سر کی طرح بنا دے یا اس کی صورت کو گدھے کی سی صورت بنا دے ۔
Narrated Ibn `Umar رضی اللہ عنہما :
When the earliest emigrants came to Al-`Usba [??] a place in Quba', before the arrival of the Prophet- Salim رضی اللہ عنہ , the slave of Abu Hudhaifa, who knew the Qur'an more than the others used to lead them in prayer.
ہم سے ابراہیم بن المنذر حزامی نے بیان کیا ، انہوں نے کہا کہ ہم سے انس بن عیاض نے بیان کیا انہوں نے عبیداللہ عمری سے ، انہوں نے حضرت نافع سے انہوں نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے کہ
جب پہلے مہاجرین رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجرت سے بھی پہلے قباء کے مقام عصبہ میں پہنچے تو ان کی امامت ابوحذیفہ کے غلام سالم رضی اللہ عنہ کیا کرتے تھے ۔ آپ کو قرآن مجید سب سے زیادہ یاد تھا ۔
Narrated Anas رضی اللہ عنہ :
The Prophet (ﷺ) said, "Listen and obey (your chief) even if an Ethiopian whose head is like a raisin were made your chief."
ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے یحییٰ بن سعید قطان نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے شعبہ نے بیان کیا ، کہا کہ مجھ سے ابوالتیاح یزید بن حمید ضبعی نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے بیان کیا ، انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہ
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ( اپنے حاکم کی ) سنو اور اطاعت کرو ، خواہ ایک ایسا حبشی ( غلام تم پر ) کیوں نہ حاکم بنا دیا جائے جس کا سر سوکھے ہوئے انگور کے برابر ہو ۔
Narrated Abu Huraira رضی اللہ عنہ :
Allah's Messenger (ﷺ) said, "If the Imam leads the prayer correctly then he and you will receive the rewards but if he makes a mistake (in the prayer) then you will receive the reward for the prayer and the sin will be his."
ہم سے فضل بن سہل نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے حسن بن موسیٰ اشیب نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے ابوعبدالرحمن بن عبداللہ بن دینار نے بیان کیا زید بن اسلم سے ، انہوں نے عطاء بن یسار سے ، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ امام لوگوں کو نماز پڑھاتے ہیں ۔ پس اگر امام نے ٹھیک نماز پڑھائی تو اس کا ثواب تمہیں ملے گا اور اگر غلطی کی تو بھی ( تمہاری نماز کا ) ثواب تم کو ملے گا اور غلطی کا وبال ان پر رہے گا ۔
Narrated 'Ubaid-Ullah bin Adi bin Khiyar:
I went to 'Uthman bin Affan while he was besieged, and said to him, "You are the chief of all Muslims in general and you see what has befallen you. We are led in the Salat (prayer) by a leader of Al-Fitan (trials and afflictions etc.) and we are afraid of being sinful in following him." 'Uthman said. "As-Salat (the prayers) is the best of all deeds so when the people do good deeds do the same with them and when they do bad deeds, avoid those bad deeds." Az-Zuhri said, "In our opinion one should not offer Salat behind an effeminate person unless there is no alternative."
امام بخاری رحمہ اللہ نے کہا کہ ہم سے محمد بن یوسف فریابی نے کہا کہ ہم سے امام اوزاعی نے بیان کیا ، کہا ہم سے امام زہری نے حمید بن عبدالرحمٰن سے نقل کیا ۔ انہوں نے عبیداللہ بن عدی بن خیار سے کہ
وہ خود حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے پاس گئے ۔ جب کہ باغیوں نے ان کو گھیر رکھا تھا ۔ انھوں نے کہا کہ آپ ہی عام مسلمانوں کے امام ہیں مگر آپ پر جو مصیبت ہے وہ آپ کو معلوم ہے ۔ ان حالات میں باغیوں کا مقررہ امام نماز پڑھا رہا ہے ۔ ہم ڈرتے ہیں کہ اس کے پیچھے نماز پڑھ کر گنہگار نہ ہو جائیں ۔ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے جواب دیا نماز تو جو لوگ کام کرتے ہیں ان کاموں میں سب سے بہترین کام ہے ۔ تو وہ جب اچھا کام کریں تم بھی اس کے ساتھ مل کر اچھا کام کرو اور جب وہ برا کام کریں تو تم ان کی برائی سے الگ رہو اور محمد بن یزید زبیدی نے کہا کہ امام زہری نے فرمایا کہ ہم تو یہ سمجھتے ہیں کہ ہیجڑے کے پیچھے نماز نہ پڑھیں ۔ مگر ایسی ہی لاچاری ہو تو اور بات ہے جس کے بغیر کوئی چارہ نہ ہو ۔
Narrated Anas bin Malik:
The Prophet (ﷺ) said to Abu-Dhar, "Listen and obey (your chief) even if he is an Ethiopian with a head like a raisin."
ہم سے محمد بن ابان نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے غندر محمد بن جعفر نے بیان کیا شعبہ سے ، انہوں نے ابوالتیاح سے ، انہوں نے انس بن مالک سے سنا کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوذر سے فرمایا ( حاکم کی ) سن اور اطاعت کر ۔ خواہ وہ ایک ایسا حبشی غلام ہی کیوں نہ ہو جس کا سر منقے کے برابر ہو ۔
Narrated Ibn `Abbas رضی اللہ عنہما :
Once I passed the night in the house of my aunt Maimuna. Allah's Messenger (ﷺ) offered the `Isha' prayer and then came to the house and offered four rak`at an slept. Later on, he woke up and stood for the prayer and I stood on his left side. He drew me to his right and prayed five rak`at and then two. He then slept till I heard him snoring (or heard his breath sounds). Afterwards he went out for the morning prayer.
ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے شعبہ نے حکم سے بیان کیا ، انہوں نے کہا کہ میں نے سعید بن جبیر سے سنا ، وہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے بیان کرتے تھے کہ انہوں نے بتلایا کہ
ایک رات میں اپنی خالہ ام المؤمنین میمونہ رضی اللہ عنہا کے گھر پر رہ گیا ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عشاء کی نماز کے بعد جب ان کے گھر تشریف لائے تو یہاں چار رکعت نماز پڑھی ۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سو گئے پھر نماز ( تہجد کے لیے ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم اٹھے ( اور نماز پڑھنے لگے ) تو میں بھی اٹھ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بائیں طرف کھڑا ہو گیا ، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اپنی داہنی طرف کر لیا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پانچ رکعت نماز پڑھی ۔ پھر دو رکعت ( سنت فجر ) پڑھ کر سو گئے اور میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے خراٹے کی آواز بھی سنی ۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم فجر کی نماز کے لیے برآمد ہوئے ۔
Narrated Ibn `Abbas رضی اللہ عنہما :
One night I slept at the house of (my aunt) Maimuna and the Prophet (ﷺ) was there on that night. He performed ablution and stood up for the prayer. I joined him and stood on his left side but he drew me to his right and prayed thirteen rak`at and then slept till I heard his breath sounds. And whenever he slept, he used to breathe with audible sounds. The Mu'adh-dhin came to the Prophet (ﷺ) and he went out and prayed the morning prayer) without repeating the ablution. Amr said: I narrated this Hadith to Bukair and Bukair said: It is similarly reported from Kuraib.
ہم سے احمد بن صالح نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے عبداللہ بن وہب نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے عمرو بن حارث مصری نے عبد ربہ بن سعید سے بیان کیا ، انہوں نے مخرمہ بن سلیمان سے ، انہوں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما کے غلام کریب سے انہوں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے ۔ آپ نے بتلایا کہ
میں ایک رات ام المؤمنین میمونہ کے ہاں سو گیا ۔ اس رات نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بھی وہیں سونے کی باری تھی ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا اور نماز پڑھنے کے لیے کھڑے ہو گئے ۔ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بائیں طرف کھڑا ہو گیا ۔ اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے پکڑ کر دائیں طرف کر دیا ۔ پھر تیرہ رکعت ( وتر سمیت ) نماز پڑھی اور سو گئے ۔ یہاں تک کہ خراٹے لینے لگے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب سوتے تو خراٹے لیتے تھے ۔ پھر مؤذن آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم باہر تشریف لے گئے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے بعد ( فجر کی ) نماز پڑھی اور وضو نہیں کیا ۔ عمرو نے بیان کیا میں نے یہ حدیث بکیر بن عبداللہ کے سامنے بیان کی تو انھوں نے فرمایا کہ یہ حدیث مجھ سے کریب نے بھی بیان کی تھی ۔
Narrated Ibn `Abbas رضی اللہ عنہما :
Once I passed the night in the house of my aunt Maimuna. The Prophet (ﷺ) stood for the night prayer and I joined him and stood on his left side but he drew me to his right by holding me by the head.
ہم سے مسدد بن مسرہد نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے اسماعیل بن ابراہیم نے ایوب سختیانی سے بیان کیا ، انہوں نے عبداللہ بن سعید بن جبیر سے ، انہوں نے اپنے باپ سے ، انہوں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے کہ آپ نے بتلایا کہ
میں نے ایک دفعہ اپنی خالہ میمونہ رضی اللہ عنہا کے گھر رات گذاری ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم رات میں نماز پڑھنے کے لیے کھڑے ہوئے تو میں بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز میں شریک ہو گیا ۔ میں ( غلطی سے ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بائیں طرف کھڑا ہو گیا تھا ۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرا سر پکڑ کے دائیں طرف کر دیا ۔ ( تاکہ صحیح طور پر کھڑا ہو جاؤں ) ۔
Narrated Hadrat Jaabir bin Abdullah رضی اللہ عنہ :
Mu`adh bin Jabal رضی اللہ عنہ used to perform the prayer along with the Prophet (ﷺ) then he went back and led his people in the prayer.
ہم سے مسلم بن ابراہیم نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے شعبہ نے عمرو بن دینار سے بیان کیا ، انہوں نے جابر بن عبداللہ سے کہ
معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھتے پھر واپس آ کر اپنی قوم کی امامت کیا کرتے تھے ۔
Narrated Jabir bin `Abdullah :
"Mu`adh bin Jabal used to pray with the Prophet (ﷺ) and then go to lead his people in prayer Once he led the `Isha' prayer and recited Surat "Al-Baqara." Somebody left the prayer and Mu`adh criticized him. The news reached the Prophet (ﷺ) and he said to Mu`adh, 'You are putting the people to trial,' and repeated it thrice (or said something similar) and ordered him to recite two medium Suras of Mufassal." (`Amr said that he had forgotten the names of those Suras).
( دوسری سند ) اور مجھ سے محمد بن بشار نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے غندر محمد بن جعفر نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے شعبہ نے عمرو سے بیان کیا ، کہا کہ میں نے جابر بن عبداللہ انصاری سے سنا ، آپ نے فرمایا کہ
معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ( فرض ) نماز پڑھتے پھر واپس جا کر اپنی قوم کے لوگوں کو ( وہی ) نماز پڑھایا کرتے تھے ۔ ایک بار عشاء میں انھوں نے سورۃ البقرہ شروع کی ۔ ( مقتدیوں میں سے ) ایک شخص نماز توڑ کر چل دیا ۔ معاذ رضی اللہ عنہ اس کو برا کہنے لگے ۔ یہ خبر آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کو پہنچی ( اس شخص نے جا کر معاذ کی شکایت کی ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے معاذ کو فرمایا تو بلا میں ڈالنے والا ہے ، بلا میں ڈالنے والا ، بلا میں ڈالنے والا تین بار فرمایا ۔ یا یوں فرمایا کہ تو فسادی ہے ، فسادی ، فسادی ۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے معاذ کو حکم فرمایا کہ مفصل کے بیچ کی دو سورتیں پڑھا کرے ۔ عمرو بن دینار نے کہا کہ مجھے یاد نہ رہیں ( کہ کون سی سورتوں کا آپ نے نام لیا ۔ )
Narrated Abu Mas`ud:
A man came and said, "O Allah's Messenger (ﷺ)! By Allah, I keep away from the morning prayer only because So and so prolongs the prayer when he leads us in it." The narrator said, "I never saw Allah's Apostle more furious in giving advice than he was at that time. He then said, "Some of you make people dislike good deeds (the prayer). So whoever among you leads the people in prayer should shorten it because among them are the weak, the old and the needy."
ہم سے احمد بن یونس نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے زہیر بن معاویہ نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے اسماعیل بن ابی خالد نے بیان کیا ، کہا کہ میں نے قیس بن ابی حازم سے سنا ، کہا کہ مجھے ابومسعود انصاری نے خبر دی کہ
ایک شخص نے کہا کہ یا رسول اللہ ! قسم اللہ کی میں صبح کی نماز میں فلاں کی وجہ سے دیر میں جاتا ہوں ، کیونکہ وہ نماز کو بہت لمبا کر دیتے ہیں ، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو نصیحت کے وقت اس دن سے زیادہ ( کبھی بھی ) غضب ناک نہیں دیکھا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم میں سے کچھ لوگ یہ چاہتے ہیں کہ ( عوام کو عبادت سے یا دین سے ) نفرت دلا دیں ، خبردار تم میں لوگوں کو جو شخص بھی نماز پڑھائے تو ہلکی پڑھائے ۔ کیونکہ نمازیوں میں کمزور ، بوڑھے اور ضرورت والے سب ہی قسم کے لوگ ہوتے ہیں ۔
Narrated Abu Huraira:
Allah's Messenger (ﷺ) said, "If anyone of you leads the people in the prayer, he should shorten it for amongst them are the weak, the sick and the old; and if anyone among your prays alone then he may prolong (the prayer) as much as he wishes. "
ہم سے عبداللہ بن یوسف تنیسی نے بیان کیا ، انہوں نے کہا کہ ہمیں امام مالک نے ابوالزناد سے خبر دی ، انہوں نے اعرج سے ، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے کہ
رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ۔ جب کوئی تم میں سے لوگوں کو نماز پڑھائے تو تخفیف کرے کیونکہ جماعت میں ضعیف بیمار اور بوڑھے ( سب ہی ) ہوتے ہیں ، لیکن اکیلا پڑھے تو جس قدر جی چاہے طول دے سکتا ہے ۔
Narrated Abu Mas`ud رضی اللہ عنہ :
A man came and said, "O Allah's Messenger (ﷺ)! I keep away from the morning prayer because so-and-so (Imam) prolongs it too much." Allah's Messenger (ﷺ) became furious and I had never seen him more furious than he was on that day. The Prophet (ﷺ) said, "O people! Some of you make others dislike the prayer, so whoever becomes an Imam he should shorten the prayer, as behind him are the weak, the old and the needy.''
ہم سے محمد بن یوسف فریابی نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے سفیان ثوری نے بیان کیا اسماعیل بن ابی خالد سے ، انہوں نے قیس بن ابی حازم سے ، انہوں نے ابومسعود انصاری رضی اللہ عنہ سے ، آپ نے فرمایا کہ
ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ یا رسول اللہ ! میں فجر کی نماز میں تاخیر کر کے اس لیے شریک ہوتا ہوں کہ فلاں صاحب فجر کی نماز بہت طویل کر دیتے ہیں ۔ اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس قدر غصہ ہوئے کہ میں نے نصیحت کے وقت اس دن سے زیادہ غضب ناک آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کبھی نہیں دیکھا ۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا لوگو ! تم میں بعض لوگ ( نماز سے لوگوں کو ) دور کرنے کا باعث ہیں ۔ پس جو شخص امام ہو اسے ہلکی نماز پڑھنی چاہئے اس لیے کہ اس کے پیچھے کمزور ، بوڑھے اور ضرورت والے سب ہی ہوتے ہیں ۔
Narrated Jabir bin `Abdullah Al-Ansari:
Once a man was driving two Nadihas (camels used for agricultural purposes) and night had fallen. He found Mu`adh praying so he made his camel kneel and joined Mu`adh in the prayer. The latter recited Surat 'Al-Baqara" or Surat "An-Nisa", (so) the man left the prayer and went away. When he came to know that Mu`adh had criticized him, he went to the Prophet, and complained against Mu`adh. The Prophet said thrice, "O Mu`adh ! Are you putting the people to trial?" It would have been better if you had recited "Sabbih Isma Rabbika-l-A`la (87)", Wash-shamsi wa duhaha (91)", or "Wal-laili idha yaghsha (92)", for the old, the weak and the needy pray behind you." (Shobah said: Irfan) I think this (the last sentence) is also included in this Hadith. Saeed bin Marooq, Misar and Shaibani corroborated it. Amr, Obaidullah bin Miqsam and Abu Zubair have reported from Jabir رضی اللہ عنہ said that Mu`adh رضی اللہ عنہ recited Sura Al-Baqara in the `Isha' prayer. And Aamash corroborated him from Muhairib.
ہم سے آدم بن ابی ایاس نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے شعبہ نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے محارب بن دثار نے بیان کیا ، کہا کہ میں نے جابر بن عبداللہ انصاری سے سنا ، آپ نے بتلایا کہ
ایک شخص پانی اٹھانے والا دو اونٹ لئے ہوئے آیا ، رات تاریک ہو چکی تھی ۔ اس نے معاذ رضی اللہ عنہ کو نماز پڑھاتے ہوئے پایا ۔ اس لیے اپنے اونٹوں کو بٹھا کر ( نماز میں شریک ہونے کے لیے ) معاذ رضی اللہ عنہ کی طرف بڑھا ۔ معاذ رضی اللہ عنہ نے نماز میں سورۃ البقرہ یا سورۃ نساء شروع کی ۔ چنانچہ وہ شخص نیت توڑ کر چل دیا ۔ پھر اسے معلوم ہوا کہ معاذ رضی اللہ عنہ نے مجھ کو برا بھلا کہا ہے ۔ اس لیے وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور معاذ کی شکایت کی ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا ، معاذ ! کیا تم لوگوں کو فتنہ میں ڈالتے ہو ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین مرتبہ ( «فتان» یا «فاتن» ) فرمایا : «سبح اسم ربك ، والشمس وضحاها ، والليل إذا يغشى» ( سورتیں ) تم نے کیوں نہ پڑھیں ، کیونکہ تمہارے پیچھے بوڑھے ، کمزور اور حاجت مند نماز پڑھتے ہیں ۔ شعبہ نے کہا کہ میرا خیال ہے کہ یہ آخری جملہ ( کیونکہ تمہارے پیچھے الخ ) حدیث میں داخل ہے ۔ شعبہ کے ساتھ اس کی متابعت سعید بن مسروق ، مسعر اور شیبانی نے کی ہے اور عمرو بن دینار ، عبیداللہ بن مقسم اور ابوالزبیر نے بھی اس حدیث کو جابر کے واسطہ سے بیان کیا ہے کہ معاذ نے عشاء میں سورۃ البقرہ پڑھی تھی اور شعبہ کے ساتھ اس روایت کی متابعت اعمش نے محارب کے واسطہ سے کی ہے ۔
Narrated Anas رضی اللہ عنہ :
The Prophet (ﷺ) used to pray a short prayer (in congregation) but used to offer it in a perfect manner.
ہم سے ابومعمر عبداللہ بن عمرو نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے عبدالوارث بن سعید نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے عبدالعزیز بن صہیب نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے بیان کیا کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نماز کو مختصر اور پوری پڑھتے تھے ۔