Narrated Ibn `Abbas رضی اللہ عنہما :
One night I stood to the left of the Prophet (ﷺ) in the prayer but he caught hold of me by the hand or by the shoulder (arm) till he made me stand on his right and beckoned with his hand (for me) to go from behind (him). (Al-Kashmaihani [??] , Fath-ul-Bari).
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے ثابت بن یزید نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے عاصم احول نے عامر شعبی سے بیان کیا ، انہوں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے ، آپ نے بتلایا کہ
میں ایک رات نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بائیں طرف ( آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر میں ) نماز ( تہجد ) پڑھنے کے لیے کھڑا ہو گیا ۔ اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرا سر یا بازو پکڑ کر مجھ کو اپنی دائیں طرف کھڑا کر دیا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ سے اشارہ کیا تھا کہ پیچھے سے گھوم آؤ ۔
Narrated `Aisha رضی اللہ عنہا :
Allah's Messenger (ﷺ) used to pray in his room at night. As the wall of the room was LOW, the people saw him and some of them stood up to follow him in the prayer. In the morning they spread the news. The following night the Prophet (ﷺ) stood for the prayer and the people followed him. This went on for two or three nights. Thereupon Allah's Messenger (ﷺ) did not stand for the prayer the following night, and did not come out. In the morning, the people asked him about it. He replied, that he way afraid that the night prayer might become compulsory.
ہم سے محمد بن سلام بیکندی نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے عبدہ بن سلیمان نے یحییٰ بن سعید انصاری کے واسطہ سے بیان کیا ، انہوں نے عمرہ بنت عبدالرحمٰن سے ، انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے ، آپ نے بتلایا کہ
رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم رات میں اپنے حجرہ کے اندر ( تہجد کی ) نماز پڑھتے تھے ۔ حجرے کی دیواریں پست تھیں اس لیے لوگوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھ لیا اور کچھ لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتداء میں نماز کے لیے کھڑے ہو گئے ۔ صبح کے وقت لوگوں نے اس کا ذکر دوسروں سے کیا ۔ پھر جب دوسری رات آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے تو کچھ لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتداء میں اس رات بھی کھڑے ہو گئے ۔ یہ صورت دو یا تین رات تک رہی ۔ اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھ رہے اور نماز کے مقام پر تشریف نہیں لائے ۔ پھر صبح کے وقت لوگوں نے اس کا ذکر کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں ڈرا کہ کہیں رات کی نماز ( تہجد ) تم پر فرض نہ ہو جائے ۔ ( اس خیال سے میں نے یہاں کا آنا ناغہ کر دیا ) ۔
Narrated `Aisha رضی اللہ عنہا :
The Prophet (ﷺ) had a mat which he used to spread during the day and use as a curtain at night. So a number of people gathered at night facing it and prayed behind him.
ہم سے ابراہیم بن المنذر نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے محمد بن اسماعیل بن ابی فدیک نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے محمد بن عبدالرحمٰن بن ابی ذئب نے بیان کیا ، مقبری کے واسطہ سے ، انہوں نے ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن سے ، انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک چٹائی تھی ۔ جسے آپ صلی اللہ علیہ وسلم دن میں بچھاتے تھے اور رات میں اس کا پردہ کر لیتے تھے ۔ پھر چند لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کھڑے ہوئے یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف جھکے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے نماز پڑھنے لگے ۔
Narrated Zaid bin Thabit رضی اللہ عنہ :
Allah's Messenger (ﷺ) made a small room in the month of Ramadan (Sa`id said, "I think that Zaid bin Thabit said that it was made of a mat") and he prayed there for a few nights, and so some of his companions prayed behind him. When he came to know about it, he kept on sitting. In the morning, he went out to them and said, "I have seen and understood what you did. You should pray in your houses, for the best prayer of a person is that which he prays in his house except the compulsory prayers." Affan, Wohaib, Musa, Abu Nasr, Busr , Hadrat Zaid bin Thabit has reported the same from the prophet (ﷺ).
ہم سے عبدالاعلیٰ بن حماد نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے وہیب بن خالد نے بیان کیا ، کہا ہم سے موسیٰ بن عقبہ نے بیان کیا ، ابوالنضر سالم سے ، انہوں نے بسر بن سعید سے ، انہوں نے زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رمضان میں ایک حجرہ بنا لیا یا اوٹ ( پردہ ) بسر بن سعید نے کہا میں سمجھتا ہوں وہ بورئیے کا تھا ۔ آپ نے کئی رات اس میں نماز پڑھی ۔ صحابہ میں سے بعض حضرات نے ان راتوں میں آپ کی اقتداء کی ۔ جب آپ کو اس کا علم ہوا تو آپ نے بیٹھ رہنا شروع کیا ( نماز موقوف رکھی ) پھر برآمد ہوئے اور فرمایا تم نے جو کیا وہ مجھ کو معلوم ہے ، لیکن لوگو ! تم اپنے گھروں میں نماز پڑھتے رہو کیونکہ بہتر نماز آدمی کی وہی ہے جو اس کے گھر میں ہو ۔ مگر فرض نماز ( مسجد میں پڑھنی ضروری ہے ) اور عفان بن مسلم نے کہا کہ ہم سے وہیب نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے موسیٰ بن عقبہ نے بیان کیا ، کہا کہ میں نے ابوالنضر ابن ابی امیہ سے سنا ، وہ بسر بن سعید سے روایت کرتے تھے ، وہ زید بن ثابت سے ، وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ۔
Narrated Anas bin Malik Al-Ansari رضی اللہ عنہ :
Allah's Messenger (ﷺ) rode a horse and fell down and the right side of his body was injured. On that day he prayed one of the prayers sitting and we also prayed behind him sitting. When the Prophet (ﷺ) finished the prayer with Taslim, he said, "The Imam is to be followed and if he prays standing then pray standing, and bow when he bows, and raise your heads when he raises his head; prostrate when he prostrates; and if he says "Sami`a l-lahu liman hamidah", you should say, "Rabbana wa laka l-hamd.:
ہم سے ابوالیمان حکم بن نافع نے یہ بیان کیا ، انہوں نے کہا کہ ہم سے شعیب نے زہری کے واسطہ سے بیان کیا ، انہوں نے کہا کہ مجھے انس بن مالک انصاری رضی اللہ عنہ نے خبر دی کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک گھوڑے پر سوار ہوئے اور ( گر جانے کی وجہ سے ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دائیں پہلو میں زخم آ گئے ۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ نے بتلایا کہ اس دن ہمیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک نماز پڑھائی ، چونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھے ہوئے تھے ، اس لیے ہم نے بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے بیٹھ کر نماز پڑھی ۔ پھر سلام کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ امام اس لیے ہے کہ اس کی پیروی کی جائے ۔ اس لیے جب وہ کھڑے ہو کر نماز پڑھے تو تم بھی کھڑے ہو کر پڑھو اور جب وہ رکوع کرے تو تم بھی رکوع کرو اور جب وہ سر اٹھائے تو تم بھی اٹھاؤ اور جب وہ سجدہ کرے تو تم بھی کرو اور جب وہ «سمع الله لمن حمده» کہے تو تم «ربنا ولك الحمد» کہو ۔
Narrated Anas bin Malik رضی اللہ عنہ :
Allah's Messenger (ﷺ) fell from a horse and got injured so he led the prayer sitting and we also prayed sitting. When he completed the prayer he said, "The Imam is to be followed; if he says Takbir then say Takbir, bow if he bows; raise your heads when he raises his head, when he says, 'Sami`a l-lahu liman hamidah say, 'Rabbana laka l-hamd', and prostrate when he prostrates."
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا ، انہوں نے کہا کہ ہم سے لیث بن سعد نے بیان کیا ، انہوں نے ابن شہاب زہری سے بیان کیا ، انہوں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے ، انہوں نے فرمایا کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم گھوڑے سے گر گئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم زخمی ہو گئے ، اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیٹھ کر نماز پڑھی اور ہم نے بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتداء میں بیٹھ کر نماز پڑھی ۔ پھر نماز پڑھ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ امام اس لیے ہے کہ اس کی پیروی کی جائے ۔ اس لیے جب وہ تکبیر کہے تو تم بھی تکبیر کہو ۔ جب وہ رکوع کرے تو تم بھی رکوع کرو ۔ جب وہ سر اٹھائے تو تم بھی اٹھاؤ اور جب وہ «سمع الله لمن حمده» کہے تو تم «ربنا لك الحمد» اور جب وہ سجدہ کرے تو تم بھی کرو ۔
Narrated Abu Huraira رضی اللہ عنہ :
The Prophet (ﷺ) said, "The Imam is to be followed. Say the Takbir when he says it; bow if he bows; if he says 'Sami`a l-lahu liman hamidah', say, ' Rabbana wa laka l-hamd', prostrate if he prostrates and pray sitting altogether if he prays sitting."
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا ، انہوں نے کہا کہ ہمیں شعیب نے خبر دی ، انہوں نے کہا کہ ابوالزناد نے مجھ سے بیان کیا اعرج کے واسطہ سے ، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے انہوں نے کہا کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ، امام اس لیے ہے کہ اس کی پیروی کی جائے ، اس لیے جب وہ تکبیر کہے تو تم بھی تکبیر کہو ۔ جب وہ رکوع کرے تو تم بھی رکوع کرو اور جب وہ «سمع الله لمن حمده» کہے تو تم «ربنا ولك الحمد» اور جب وہ سجدہ کرے تو تم بھی سجدہ کرو اور جب وہ بیٹھ کر نماز پڑھے تو تم سب بھی بیٹھ کر نماز پڑھو ۔
Mujahid said: "Regarding Allah's Statement: "We record that which they have sent before (them), and their traces" (36.12). 'Their traces' means 'their steps.' " And Anas said that the people of Bani Salima wanted to shift to a place near the Prophet (ﷺ) but Allah's Messenger (ﷺ) disliked the idea of leaving their houses uninhabited and said, "Don't you think that you will get the reward for your footprints." Mujahid said, "Their foot prints mean their foot steps and their going on foot."
اور ابن ابی مریم نے بیان میں یہ زیادہ کہا ہے کہ
مجھے یحییٰ بن ایوب نے خبر دی ، کہا کہ مجھ سے حمید طویل نے بیان کیا ، کہا کہ مجھ سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ بنوسلمہ والوں نے یہ ارادہ کیا کہ اپنے مکان ( جو مسجد سے دور تھے ) چھوڑ دیں اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب آ رہیں ۔ ( تاکہ باجماعت کے لیے مسجدنبوی کا ثواب حاصل ہو ) لیکن آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو مدینہ کا اجاڑ دینا برا معلوم ہوا ۔ آپ نے فرمایا کہ تم لوگ اپنے قدموں کا ثواب نہیں چاہتے ؟ مجاہد نے کہا ( سورۃ یٰسین میں ) «وآثارهم» سے قدم مراد ہیں ۔ یعنی زمین پر چلنے سے پاؤں کے نشانات ۔