Back to Sahih Bukhari

Friday Prayer

كتاب الجمعة

Chapter 12

Hadith 917
Sahih
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدٍ الْقَارِيُّ الْقُرَشِيُّ الإِسْكَنْدَرَانِيُّ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو حَازِمِ بْنُ دِينَارٍ، أَنَّ رِجَالاً، أَتَوْا سَهْلَ بْنَ سَعْدٍ السَّاعِدِيَّ، وَقَدِ امْتَرَوْا فِي الْمِنْبَرِ مِمَّ عُودُهُ فَسَأَلُوهُ عَنْ ذَلِكَ فَقَالَ وَاللَّهِ إِنِّي لأَعْرِفُ مِمَّا هُوَ، وَلَقَدْ رَأَيْتُهُ أَوَّلَ يَوْمٍ وُضِعَ، وَأَوَّلَ يَوْمٍ جَلَسَ عَلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَرْسَلَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِلَى فُلاَنَةَ ـ امْرَأَةٍ قَدْ سَمَّاهَا سَهْلٌ ـ ‏"‏ مُرِي غُلاَمَكِ النَّجَّارَ أَنْ يَعْمَلَ لِي أَعْوَادًا أَجْلِسُ عَلَيْهِنَّ إِذَا كَلَّمْتُ النَّاسَ ‏"‏‏.‏ فَأَمَرَتْهُ فَعَمِلَهَا مِنْ طَرْفَاءِ الْغَابَةِ ثُمَّ جَاءَ بِهَا، فَأَرْسَلَتْ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَأَمَرَ بِهَا فَوُضِعَتْ هَا هُنَا، ثُمَّ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم صَلَّى عَلَيْهَا، وَكَبَّرَ وَهْوَ عَلَيْهَا، ثُمَّ رَكَعَ وَهْوَ عَلَيْهَا، ثُمَّ نَزَلَ الْقَهْقَرَى فَسَجَدَ فِي أَصْلِ الْمِنْبَرِ ثُمَّ عَادَ، فَلَمَّا فَرَغَ أَقْبَلَ عَلَى النَّاسِ فَقَالَ ‏"‏ أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّمَا صَنَعْتُ هَذَا لِتَأْتَمُّوا وَلِتَعَلَّمُوا صَلاَتِي ‏"‏‏.‏
English

Narrated Abu Hazim bin Dinar:

Some people went to Sahl bin Sa`d As-Sa`idi رضی اللہ عنہ and told him that they had different opinions regarding the wood of the pulpit. They asked him about it and he said, "By Allah, I know of what wood the pulpit was made, and no doubt I saw it on the very first day when Allah's Messenger (ﷺ) took his seat on it. Allah's Messenger (ﷺ) sent for such and such an Ansari woman (and Sahl mentioned her name) and said to her, 'Order your slave-carpenter to prepare for me some pieces of wood (i.e. pulpit) on which I may sit at the time of addressing the people.' So she ordered her slave-carpenter and he made it from the tamarisk of the forest and brought it (to the woman). The woman sent that (pulpit) to Allah's Messenger (ﷺ) who ordered it to be placed here. Then I saw Allah's Messenger (ﷺ) praying on it and then bowed on it. Then he stepped back, got down and prostrated on the ground near the foot of the pulpit and again ascended the pulpit. After finishing the prayer he faced the people and said, 'I have done this so that you may follow me and learn the way I pray.' "

Urdu

ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا ، انہوں نے کہا کہ ہم سے یعقوب بن عبدالرحمٰن بن محمد بن عبداللہ بن عبد القاری قرشی اسکندرانی نے بیان کیا ، انہوں نے کہا کہ ہم سے ابوحازم بن دینار نے بیان کیا کہ

کچھ لوگ حضرت سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ کے پاس آئے ۔ ان کا آپس میں اس پر اختلاف تھا کہ منبرنبوی علی صاحبہا الصلوۃ والسلام کی لکڑی کس درخت کی تھی ۔ اس لیے سعد رضی اللہ عنہ سے اس کے متعلق دریافت کیا گیا آپ نے فرمایا خدا گواہ ہے میں جانتا ہوں کہ منبرنبوی کس لکڑی کا تھا ۔ پہلے دن جب وہ رکھا گیا اور سب سے پہلے جب اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھے تو میں اس کو بھی جانتا ہوں ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انصار کی فلاں عورت کے پاس جن کا حضرت سعد رضی اللہ عنہ نے نام بھی بتایا تھا ۔ آدمی بھیجا کہ وہ اپنے بڑھئی غلام سے میرے لیے لکڑی جوڑ دینے کے لیے کہیں ۔ تاکہ جب مجھے لوگوں سے کچھ کہنا ہو تو اس پر بیٹھا کروں چنانچہ انہوں نے اپنے غلام سے کہا اور وہ غابہ کے جھاؤ کی لکڑی سے اسے بنا کر لایا ۔ انصاری خاتون نے اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بھیج دیا ۔ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے یہاں رکھوایا میں نے دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی پر ( کھڑے ہو کر ) نماز پڑھائی ۔ اسی پر کھڑے کھڑے تکبیر کہی ۔ اسی پر رکوع کیا ۔ پھر الٹے پاؤں لوٹے اور منبر کی جڑ میں سجدہ کیا اور پھر دوبارہ اسی طرح کیا جب آپ نماز سے فارغ ہوئے تو لوگوں کو خطاب فرمایا ۔ لوگو ! میں نے یہ اس لیے کیا کہ تم میری پیروی کرو اور میری طرح نماز پڑھنی سیکھ لو ۔

Hadith 918
Sahih
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ، قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي ابْنُ أَنَسٍ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ كَانَ جِذْعٌ يَقُومُ إِلَيْهِ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فَلَمَّا وُضِعَ لَهُ الْمِنْبَرُ سَمِعْنَا لِلْجِذْعِ مِثْلَ أَصْوَاتِ الْعِشَارِ حَتَّى نَزَلَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فَوَضَعَ يَدَهُ عَلَيْهِ‏.‏ قَالَ سُلَيْمَانُ عَنْ يَحْيَى أَخْبَرَنِي حَفْصُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَنَسٍ أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرًا‏.‏
English

Narrated Jabir bin `Abdullah رضی اللہ عنہ :

The Prophet (ﷺ) used to stand by a stem of a date-palm tree (while delivering a sermon). When the pulpit was placed for him we heard that stem crying like a pregnant she-camel till the Prophet (ﷺ) got down from the pulpit and placed his hand over it. Sulaiman, Yahya, Hafs bin Obaidullah bin Anas heard it from Hadrat Jaabir.

Urdu

ہم سے سعید بن ابی مریم نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے محمد بن جعفر بن ابی کثیر نے بیان کیا ، کہا کہ مجھے یحییٰ بن سعید نے خبر دی ، کہا کہ مجھے حفص بن عبداللہ بن انس نے خبر دی ، انہوں نے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے سنا کہ

ایک کھجور کا تنا تھا جس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ٹیک لگا کر کھڑے ہوا کرتے تھے ۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے منبر بن گیا ( آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس تنے پر ٹیک نہیں لگایا ) تو ہم نے اس سے رونے کی آواز سنی جیسے دس مہینے کی گابھن اونٹنی آواز کرتی ہے ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے منبر سے اتر کر اپنا ہاتھ اس پر رکھا ( تب وہ آواز موقوف ہوئی ) اور سلیمان نے یحییٰ سے یوں حدیث بیان کی کہ مجھے حفص بن عبیداللہ بن انس نے خبر دی اور انہوں نے جابر سے سنا ۔

Hadith 919
Sahih
حَدَّثَنَا آدَمُ، قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم يَخْطُبُ عَلَى الْمِنْبَرِ فَقَالَ ‏ "‏ مَنْ جَاءَ إِلَى الْجُمُعَةِ فَلْيَغْتَسِلْ ‏"‏‏.‏
English

Narrated Salim that his father said:

"I heard the Prophet (ﷺ) delivering the Khutba on the pulpit and he said, 'Whoever comes for the Jumua prayer should take a bath (before coming).' "

Urdu

ہم سے آدم بن ابی ایاس نے بیان کیا ، انہوں نے کہا کہ ہم سے ابن ابی ذئب نے بیان کیا ، ان سے زہری نے ، ان سے سالم نے ، ان سے ان کے باپ ( ابن عمر رضی اللہ عنہما ) نے فرمایا کہ

میں نے نبی کریم صلی الہ علیہ وسلم سے سنا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے منبر پر خطبہ دیتے ہوئے فرمایا کہ جو جمعہ کے لیے آئے وہ پہلے غسل کر لیا کرے ۔

Hadith 920
Sahih
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ، قَالَ حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ، قَالَ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَ كَانَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يَخْطُبُ قَائِمًا ثُمَّ يَقْعُدُ ثُمَّ يَقُومُ، كَمَا تَفْعَلُونَ الآنَ‏.‏
English

Narrated Ibn `Umar رضی اللہ عنہما :

The Prophet (ﷺ) used to deliver the Khutba while standing and then he would sit, then stand again as you do now-a-days.

Urdu

ہم سے عبیداللہ بن عمر قواریری نے بیان کیا ، انہوں نے کہا کہ ہم سے خالد بن حارث نے بیان کیا ، انہوں نے کہا کہ ہم سے عبیداللہ بن عمر نے نافع سے بیان کیا ، ان سے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہو کر خطبہ دیتے تھے ۔ پھر بیٹھ جاتے اور پھر کھڑے ہوتے جیسے تم لوگ بھی آج کل کرتے ہو ۔

Hadith 921
Sahih
حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ فَضَالَةَ، قَالَ حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ يَحْيَى، عَنْ هِلاَلِ بْنِ أَبِي مَيْمُونَةَ، حَدَّثَنَا عَطَاءُ بْنُ يَسَارٍ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ، قَالَ إِنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم جَلَسَ ذَاتَ يَوْمٍ عَلَى الْمِنْبَرِ وَجَلَسْنَا حَوْلَهُ‏.‏
English

Narrated Abu Sa`id Al-Khudri رضی اللہ عنہ :

One day the Prophet (ﷺ) sat on the pulpit and we sat around him.

Urdu

ہم سے معاذ بن فضالہ نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے ہشام دستوائی نے یحی بن ابی کثیر سے بیان کیا ، ان سے ہلال بن ابی میمونہ نے ، انہوں نے کہا ہم سے عطاء بن یسار نے بیان کیا ، انہوں نے ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے سنا کہ

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک دن منبر پر تشریف فرما ہوئے اور ہم سب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ارد گرد بیٹھ گئے ۔

Hadith 922
Sahih
وَقَالَ مَحْمُودٌ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، قَالَ حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، قَالَ أَخْبَرَتْنِي فَاطِمَةُ بِنْتُ الْمُنْذِرِ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ، قَالَتْ دَخَلْتُ عَلَى عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ وَالنَّاسُ يُصَلُّونَ قُلْتُ مَا شَأْنُ النَّاسِ فَأَشَارَتْ بِرَأْسِهَا إِلَى السَّمَاءِ‏.‏ فَقُلْتُ آيَةٌ فَأَشَارَتْ بِرَأْسِهَا أَىْ نَعَمْ‏.‏ قَالَتْ فَأَطَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم جِدًّا حَتَّى تَجَلاَّنِي الْغَشْىُ وَإِلَى جَنْبِي قِرْبَةٌ فِيهَا مَاءٌ فَفَتَحْتُهَا فَجَعَلْتُ أَصُبُّ مِنْهَا عَلَى رَأْسِي، فَانْصَرَفَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَقَدْ تَجَلَّتِ الشَّمْسُ، فَخَطَبَ النَّاسَ، وَحَمِدَ اللَّهَ بِمَا هُوَ أَهْلُهُ ثُمَّ قَالَ ‏"‏ أَمَّا بَعْدُ ‏"‏‏.‏ قَالَتْ وَلَغِطَ نِسْوَةٌ مِنَ الأَنْصَارِ، فَانْكَفَأْتُ إِلَيْهِنَّ لأُسَكِّتَهُنَّ فَقُلْتُ لِعَائِشَةَ مَا قَالَ قَالَتْ قَالَ ‏"‏ مَا مِنْ شَىْءٍ لَمْ أَكُنْ أُرِيتُهُ إِلاَّ قَدْ رَأَيْتُهُ فِي مَقَامِي هَذَا حَتَّى الْجَنَّةَ وَالنَّارَ، وَإِنَّهُ قَدْ أُوحِيَ إِلَىَّ أَنَّكُمْ تُفْتَنُونَ فِي الْقُبُورِ مِثْلَ ـ أَوْ قَرِيبَ مِنْ ـ فِتْنَةِ الْمَسِيحِ الدَّجَّالِ، يُؤْتَى أَحَدُكُمْ، فَيُقَالُ لَهُ مَا عِلْمُكَ بِهَذَا الرَّجُلِ فَأَمَّا الْمُؤْمِنُ ـ أَوْ قَالَ الْمُوقِنُ شَكَّ هِشَامٌ ـ فَيَقُولُ هُوَ رَسُولُ اللَّهِ، هُوَ مُحَمَّدٌ صلى الله عليه وسلم جَاءَنَا بِالْبَيِّنَاتِ وَالْهُدَى فَآمَنَّا وَأَجَبْنَا وَاتَّبَعْنَا وَصَدَّقْنَا‏.‏ فَيُقَالُ لَهُ نَمْ صَالِحًا، قَدْ كُنَّا نَعْلَمُ إِنْ كُنْتَ لَتُؤْمِنُ بِهِ‏.‏ وَأَمَّا الْمُنَافِقُ ـ أَوْ قَالَ الْمُرْتَابُ شَكَّ هِشَامٌ ـ فَيُقَالُ لَهُ مَا عِلْمُكَ بِهَذَا الرَّجُلِ فَيَقُولُ لاَ أَدْرِي، سَمِعْتُ النَّاسَ يَقُولُونَ شَيْئًا فَقُلْتُهُ ‏"‏‏.‏ قَالَ هِشَامٌ فَلَقَدْ قَالَتْ لِي فَاطِمَةُ فَأَوْعَيْتُهُ، غَيْرَ أَنَّهَا ذَكَرَتْ مَا يُغَلِّظُ عَلَيْهِ‏.‏
English

Narrated Asma' bint Abi Bakr رضی اللہ عنہما :

"I went to 'Aishah رضی اللہ عنہما and the people were offering Salat. I asked her, 'What is wrong with the people ?' She pointed towards the sky with her head. I asked her, 'Is there a sign ?' 'Aishah nodded with her head meaning 'Yes'." Asma' رضی اللہ عنہما added, "Allah's Messenger (ﷺ) prolonged the Salat to such an extent that I fainted. There was a waterskin by my side and I opened it and poured some water on my head. When Allah's Messenger (ﷺ) finished Salat, and the solar eclipse had cleared, the Prophet (ﷺ) addressed the people and praised Allah as He deserves and said, 'Amma ba'du'." Asma' further said, "Some Ansari women started talking, so I turned to them in order to make them quiet. I asked 'Aishah what the Prophet (ﷺ) had said. 'Aishah said: 'He said, 'I have seen things at this place of mine which were never shown to me before; (I have seen) even Paradise and Hell. And, no doubt it has been revealed to me that you (people) will be put in trial in your graves like or nearly like the trial of Masih Ad-Dajjal. (The angels) will come to everyone of you and ask him, 'What do you know about this man (Prophet Muhammad (ﷺ)) ?" The faithful believer or firm believer (Hisham was in doubt which word the Prophet (ﷺ) used), will say, 'He is Allah's Messenger (ﷺ) and he is Muhammad (ﷺ) who came to us with clear evidences and guidance. So we believed him, accepted his teachings and followed and trusted his teaching.' Then the angels will tell him to sleep (in peace) as they have come to know that he was a believer. But the hypocrite or a doubtful person (Hisham is not sure as to which word the Prophet (ﷺ) used), will be asked what he knew about this man (Prophet Muhammed (ﷺ)). He will say, 'I do not know but I heard the people saying something (about him) so I said the same' " Hisham added, "Fatima told me that she remembered that narration completely by heart except that she said about the hypocrite or a doubtful person that he will be punished severely."

Urdu

اور محمود بن غیلان ( امام بخاری رحمہ اللہ کے استاذ ) نے کہا کہ ہم سے ابواسامہ نے بیان کیا کہ ہم سے ہشام بن عروہ نے بیان کیا ، کہ مجھے فاطمہ بنت منذر نے خبر دی ، ان سے اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہما نے ، انہوں نے کہا کہ

میں عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس گئی ۔ لوگ نماز پڑھ رہے تھے ۔ میں نے ( اس بے وقت نماز پر تعجب سے پوچھا کہ ) یہ کیا ہے ؟ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے سر سے آسمان کی طرف اشارہ کیا ۔ میں نے پوچھا کیا کوئی نشانی ہے ؟ انہوں نے سر کے اشارہ سے ہاں کہا ( کیونکہ سورج گہن ہو گیا تھا ) اسماء رضی اللہ عنہا نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم دیر تک نماز پڑھتے رہے ۔ یہاں تک کہ مجھ کو غشی آنے لگی ۔ قریب ہی ایک مشک میں پانی بھرا رکھا تھا ۔ میں اسے کھول کر اپنے سر پر پانی ڈالنے لگی ۔ پھر جب سورج صاف ہو گیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز ختم کر دی ۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خطبہ دیا ۔ پہلے اللہ تعالیٰ کی اس کی شان کے مناسب تعریف بیان کی ۔ اس کے بعد فرمایا «امابعد» ! اتنا فرمانا تھا کہ کچھ انصاری عورتیں شور کرنے لگیں ۔ اس لیے میں ان کی طرف بڑھی کہ انہیں چپ کراؤں ( تاکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بات اچھی طرح سن سکوں مگر میں آپ کا کلام نہ سن سکی ) تو پوچھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا فرمایا ؟ انہوں نے بتایا کہ آپ نے فرمایا کہ بہت سی چیزیں جو میں نے اس سے پہلے نہیں دیکھی تھیں ، آج اپنی اس جگہ سے میں نے انہیں دیکھ لیا ۔ یہاں تک کہ جنت اور دوزخ تک میں نے آج دیکھی ۔ مجھے وحی کے ذریعہ یہ بھی بتایا گیا کہ قبروں میں تمہاری ایسی آزمائش ہو گی جیسے کانے دجال کے سامنے یا اس کے قریب قریب ۔ تم میں سے ہر ایک کے پاس فرشتہ آئے گا اور پوچھے گا کہ تو اس شخص کے بارے میں کیا اعتقاد رکھتا تھا ؟ مومن یا یہ کہا کہ یقین والا ( ہشام کو شک تھا ) کہے گا کہ وہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں ، ہمارے پاس ہدایت اور واضح دلائل لے کر آئے ، اس لیے ہم ان پر ایمان لائے ، ان کی دعوت قبول کی ، ان کی اتباع کی اور ان کی تصدیق کی ۔ اب اس سے کہا جائے گا کہ تو تو صالح ہے ، آرام سے سو جا ۔ ہم پہلے ہی جانتے تھے کہ تیرا ان پر ایمان ہے ۔ ہشام نے شک کے اظہار کے ساتھ کہا کہ رہا منافق یا شک کرنے والا تو جب اس سے پوچھا جائے گا کہ تو اس شخص کے بارے میں کیا کہتا ہے تو وہ جواب دے گا کہ مجھے نہیں معلوم میں نے لوگوں کو ایک بات کہتے سنا اسی کے مطابق میں نے بھی کہا ۔ ہشام نے بیان کیا کہ فاطمہ بنت منذر نے جو کچھ کہا تھا ۔ میں نے وہ سب یاد رکھا ۔ لیکن انہوں نے قبر میں منافقوں پر سخت عذاب کے بارے میں جو کچھ کہا وہ مجھے یاد نہیں رہا ۔

Hadith 923
Sahih
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَعْمَرٍ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، عَنْ جَرِيرِ بْنِ حَازِمٍ، قَالَ سَمِعْتُ الْحَسَنَ، يَقُولُ حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ تَغْلِبَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أُتِيَ بِمَالٍ أَوْ سَبْىٍ فَقَسَمَهُ، فَأَعْطَى رِجَالاً وَتَرَكَ رِجَالاً فَبَلَغَهُ أَنَّ الَّذِينَ تَرَكَ عَتَبُوا، فَحَمِدَ اللَّهَ ثُمَّ أَثْنَى عَلَيْهِ، ثُمَّ قَالَ ‏ "‏ أَمَّا بَعْدُ، فَوَاللَّهِ إِنِّي لأُعْطِي الرَّجُلَ، وَأَدَعُ الرَّجُلَ، وَالَّذِي أَدَعُ أَحَبُّ إِلَىَّ مِنَ الَّذِي أُعْطِي وَلَكِنْ أُعْطِي أَقْوَامًا لِمَا أَرَى فِي قُلُوبِهِمْ مِنَ الْجَزَعِ وَالْهَلَعِ، وَأَكِلُ أَقْوَامًا إِلَى مَا جَعَلَ اللَّهُ فِي قُلُوبِهِمْ مِنَ الْغِنَى وَالْخَيْرِ، فِيهِمْ عَمْرُو بْنُ تَغْلِبَ ‏"‏‏.‏ فَوَاللَّهِ مَا أُحِبُّ أَنَّ لِي بِكَلِمَةِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم حُمْرَ النَّعَمِ‏.‏ تَابَعَهُ يُونُسُ‏.‏
English

Narrated `Amr bin Taghlib رضی اللہ عنہ :

Some property or something was brought to Allah's Messenger (ﷺ) and he distributed it. He gave to some men and ignored the others. Later he got the news of his being admonished by those whom he had ignored. So he glorified and praised Allah and said, "Amma ba'du. By Allah, I may give to a man and ignore another, although the one whom I ignore is more beloved to me than the one whom I give. But I give to some people as I feel that they have no patience and no contentment in their hearts and I leave those who are patient and self-content with the goodness and wealth which Allah has put into their hearts and `Amr bin Taghlib is one of them." `Amr added, By Allah! Those words of Allah's Apostle are more beloved to me than the best red camels.

Urdu

ہم سے محمد بن معمر نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے ابو عاصم نے جریر بن حازم سے بیان کیا ، انہوں نے کہا کہ میں نے امام حسن بصری سے سنا ، انہوں نے بیان کیا کہ ہم نے عمرو بن تغلب رضی اللہ عنہ سے سنا کہ

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کچھ مال آیا یا کوئی چیز آئی ۔ آپ نے بعض صحابہ کو اس میں سے عطا کیا اور بعض کو کچھ نہیں دیا ۔ پھر آپ کو معلوم ہوا کہ جن لوگوں کو آپ نے نہیں دیا تھا انہیں اس کا رنج ہوا ، اس لیے آپ نے اللہ کی حمد و تعریف کی پھر فرمایا «امابعد» ! خدا کی قسم میں بعض لوگوں کو دیتا ہوں اور بعض کو نہیں دیتا لیکن میں جس کو نہیں دیتا وہ میرے نزدیک ان سے زیادہ محبوب ہیں جن کو میں دیتا ہوں ۔ میں تو ان لوگوں کو دیتا ہوں جن کے دلوں میں بےصبری اور لالچ پاتا ہوں لیکن جن کے دل اللہ تعالیٰ نے خیر اور بےنیاز بنائے ہیں ، میں ان پر بھروسہ کرتا ہوں ۔ عمرو بن تغلب بھی ان ہی لوگوں میں سے ہیں ۔ خدا کی قسم میرے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ایک کلمہ سرخ اونٹوں سے زیادہ محبوب ہے ۔

Hadith 924
Sahih
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، قَالَ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ، أَنَّ عَائِشَةَ، أَخْبَرَتْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم خَرَجَ ذَاتَ لَيْلَةٍ مِنْ جَوْفِ اللَّيْلِ، فَصَلَّى فِي الْمَسْجِدِ، فَصَلَّى رِجَالٌ بِصَلاَتِهِ فَأَصْبَحَ النَّاسُ فَتَحَدَّثُوا، فَاجْتَمَعَ أَكْثَرُ مِنْهُمْ فَصَلَّوْا مَعَهُ، فَأَصْبَحَ النَّاسُ فَتَحَدَّثُوا فَكَثُرَ أَهْلُ الْمَسْجِدِ مِنَ اللَّيْلَةِ الثَّالِثَةِ، فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَصَلَّوْا بِصَلاَتِهِ، فَلَمَّا كَانَتِ اللَّيْلَةُ الرَّابِعَةُ عَجَزَ الْمَسْجِدُ عَنْ أَهْلِهِ حَتَّى خَرَجَ لِصَلاَةِ الصُّبْحِ، فَلَمَّا قَضَى الْفَجْرَ أَقْبَلَ عَلَى النَّاسِ، فَتَشَهَّدَ ثُمَّ قَالَ ‏ "‏ أَمَّا بَعْدُ فَإِنَّهُ لَمْ يَخْفَ عَلَىَّ مَكَانُكُمْ، لَكِنِّي خَشِيتُ أَنْ تُفْرَضَ عَلَيْكُمْ فَتَعْجِزُوا عَنْهَا ‏"‏‏.‏ تَابَعَهُ يُونُسُ‏.‏
English

Narrated Aisha رضی اللہ عنہا :

Once in the middle of the night Allah's Messenger (ﷺ) went out and prayed in the mosque and some men prayed with him. The next morning the people spoke about it and so more people gathered and prayed with him (in the second night). They circulated the news in the morning, and so, on the third night the number of people increased greatly. Allah's Messenger (ﷺ) came out and they prayed behind him. On the fourth night the mosque was overwhelmed by the people till it could not accommodate them. Allah's Messenger (ﷺ) came out only for the Fajr prayer and when he finished the prayer, he faced the people and recited "Tashah-hud" (I testify that none has the right to be worshipped but Allah and that Muhammad is His Apostle), and then said, "Amma ba'du. Verily your presence (in the mosque at night) was not hidden from me, but I was afraid that this prayer (Prayer of Tahajjud) might be made compulsory and you might not be able to carry it out." Younus corroborated him.

Urdu

ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے لیث نے عقیل سے بیان کیا ، ان سے ابن شہاب نے ، انہوں نے کہا کہ مجھے عروہ نے خبر دی کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے انہیں خبر دی کہ

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رات کے وقت اٹھ کر مسجد میں نماز پڑھی اور چند صحابہ بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتداء میں نماز پڑھنے کھڑے ہو گئے ۔ صبح کو ان صحابہ ( رضوان اللہ علیہم اجمعین ) نے دوسرے لوگوں سے اس کا ذکر کیا چنانچہ ( دوسرے دن ) اس سے بھی زیادہ جمع ہو گئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے نماز پڑھی ۔ دوسری صبح کو اس کا چرچا اور زیادہ ہوا پھر کیا تھا تیسری رات بڑی تعداد میں لوگ جمع ہو گئے اور جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اٹھے تو صحابہ رضی اللہ عنہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے نماز شروع کر دی ۔ چوتھی رات جو آئی تو مسجد میں نمازیوں کی کثرت سے تل رکھنے کی بھی جگہ نہیں تھی ۔ لیکن آج رات نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ نماز نہ پڑھائی اور فجر کی نماز کے بعد لوگوں سے فرمایا ، پہلے آپ نے کلمہ شہادت پڑھا پھر فرمایا ۔ «امابعد» ! مجھے تمہاری اس حاضری سے کوئی ڈر نہیں لیکن میں اس بات سے ڈرا کہ کہیں یہ نماز تم پر فرض نہ کر دی جائے ، پھر تم سے یہ ادا نہ ہو سکے ۔ اس روایت کی متابعت یونس نے کی ہے ۔

Hadith 925
Sahih
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، قَالَ أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ، عَنْ أَبِي حُمَيْدٍ السَّاعِدِيِّ، أَنَّهُ أَخْبَرَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَامَ عَشِيَّةً بَعْدَ الصَّلاَةِ، فَتَشَهَّدَ وَأَثْنَى عَلَى اللَّهِ بِمَا هُوَ أَهْلُهُ ثُمَّ قَالَ ‏"‏ أَمَّا بَعْدُ ‏"‏‏.‏ تَابَعَهُ أَبُو مُعَاوِيَةَ وَأَبُو أُسَامَةَ عَنْ هِشَامٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي حُمَيْدٍ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ أَمَّا بَعْدُ ‏"‏‏.‏ تَابَعَهُ الْعَدَنِيُّ عَنْ سُفْيَانَ فِي أَمَّا بَعْدُ‏.‏
English

Narrated Abu Hummaid As-Sa`idi:

One night Allah's Messenger (ﷺ) stood up after the prayer and recited "Tashah-hud" and then praised Allah as He deserved and said, To proceed! Abu Muaviyah and Abu Usamah corroborated him from Hisham, he from his father and he from Abu Humaid that the prophet ﷺ said: To proceed! And Adani corroborated him about 'To proceed!' from Sufyan,

Urdu

ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا ، کہا کہ ہمیں شعیب نے زہری سے خبر دی ، انہوں نے کہا کہ مجھے عروہ نے ابو حمید ساعدی رضی اللہ عنہ سے خبر دی کہ

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نماز عشاء کے بعد کھڑے ہوئے ۔ پہلے آپ نے کلمہ شہادت پڑھا ، پھر اللہ تعالیٰ کے لائق اس کی تعریف کی ، پھر فرمایا «امابعد» ! زہری کے ساتھ اس روایت کی متابعت ابومعاویہ اور ابواسامہ نے ہشام سے کی ، انہوں نے اپنے والد عروہ سے اس کی روایت کی ، انہوں نے ابوحمید سے اور انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا «امابعد» ! اور ابوالیمان کے ساتھ اس حدیث کو عدنی نے بھی سفیان سے روایت کیا ۔ اس میں صرف «امابعد» ہے ۔

Hadith 926
Sahih
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، قَالَ أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ حُسَيْنٍ، عَنِ الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ، قَالَ قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَسَمِعْتُهُ حِينَ تَشَهَّدَ يَقُولُ ‏ "‏ أَمَّا بَعْدُ ‏"‏‏.‏ تَابَعَهُ الزُّبَيْدِيُّ عَنِ الزُّهْرِيِّ‏.‏
English

Narrated Al-Miswar bin Makhrama رضی اللہ عنہما :

Once Allah's Messenger (ﷺ) got up for delivering the Khutba and I heard him after "Tashah-hud" saying "Amma ba'du." I heard him saying: 'To proceed!' Zubaidi corroborated him from Zuhri.

Urdu

ہم سے ابو الیمان نے بیان کیا ، انہوں نے کہا کہ ہمیں شعیب نے زہری سے خبر دی ، کہا کہ مجھ سے علی بن حسین نے مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہما سے حدیث بیان کی کہ

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے ۔ میں نے سنا کہ کلمہ شہادت کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا «امابعد» ! شعیب کے ساتھ اس روایت کی متابعت محمد بن ولید زبیدی نے زہری سے کی ہے ۔

Hadith 927
Sahih
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبَانَ، قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ الْغَسِيلِ، قَالَ حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَ صَعِدَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم الْمِنْبَرَ وَكَانَ آخِرَ مَجْلِسٍ جَلَسَهُ مُتَعَطِّفًا مِلْحَفَةً عَلَى مَنْكِبَيْهِ، قَدْ عَصَبَ رَأْسَهُ بِعِصَابَةٍ دَسِمَةٍ، فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ ثُمَّ قَالَ ‏"‏ أَيُّهَا النَّاسُ إِلَىَّ ‏"‏‏.‏ فَثَابُوا إِلَيْهِ ثُمَّ قَالَ ‏"‏ أَمَّا بَعْدُ، فَإِنَّ هَذَا الْحَىَّ مِنَ الأَنْصَارِ يَقِلُّونَ، وَيَكْثُرُ النَّاسُ، فَمَنْ وَلِيَ شَيْئًا مِنْ أُمَّةِ مُحَمَّدٍ صلى الله عليه وسلم فَاسْتَطَاعَ أَنْ يَضُرَّ فِيهِ أَحَدًا أَوْ يَنْفَعَ فِيهِ أَحَدًا، فَلْيَقْبَلْ مِنْ مُحْسِنِهِمْ، وَيَتَجَاوَزْ عَنْ مُسِيِّهِمْ ‏"‏‏.‏
English

Narrated Ibn `Abbas رضی اللہ عنہما :

Once the Prophet (ﷺ) ascended the pulpit and it was the last gathering in which he took part. He was covering his shoulder with a big cloak and binding his head with an oily bandage. He glorified and praised Allah and said, "O people! Come to me." So the people came and gathered around him and he then said, "Amma ba'du." "From now onward the Ansar will decrease and other people will increase. So anybody who becomes a ruler of the followers of Muhammad and has the power to harm or benefit people then he should accept the good from the benevolent amongst them (Ansar) and overlook the faults of their wrong-doers."

Urdu

ہم سے اسماعیل بن ابان نے بیان کیا ، انہوں نے کہا کہ ہم سے ابن غسیل عبدالرحمٰن بن سلیمان نے بیان کیا ، انہوں نے کہا کہ ہم سے عکرمہ نے ابن عباس رضی اللہ عنہما کے واسطے سے بیان کیا ، انہوں نے کہا کہ

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر تشریف لائے ۔ منبر پر یہ آپ کی آخری بیٹھک تھی ۔ آپ دونوں شانوں سے چادر لپیٹے ہوئے تھے اور سرمبارک پر ایک پٹی باندھ رکھی تھی ۔ آپ نے حمد و ثنا کے بعد فرمایا لوگو ! میری بات سنو ۔ چنانچہ لوگ آپ کی طرف کلام مبارک سننے کے لیے متوجہ ہو گئے ۔ پھر آپ نے فرمایا «امابعد» ! یہ قبیلہ انصار کے لوگ ( آنے والے دور میں ) تعداد میں بہت کم ہو جائیں گے پس محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی امت کا جو شخص بھی حاکم ہو اور اسے نفع و نقصان پہنچانے کی طاقت ہو تو انصار کے نیک لوگوں کی نیکی قبول کرے اور ان کے برے کی برائی سے درگزر کرے ۔

Hadith 928
Sahih
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، قَالَ حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ، قَالَ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ كَانَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يَخْطُبُ خُطْبَتَيْنِ يَقْعُدُ بَيْنَهُمَا‏.‏
English

Narrated `Abdullah Ibn `Umar رضی اللہ عنہما :

The Prophet (ﷺ) used to deliver two Khutbas and sit in between them.

Urdu

ہم سے مسدد بن مسرہد نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے بشر بن مفضل نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے عبیداللہ عمری نے نافع سے بیان کیا ، ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ( جمعہ میں ) دو خطبے دیتے اور دونوں کے بیچ میں بیٹھتے تھے ۔ ( خطبہ جمعہ کے بیچ میں یہ بیٹھنا بھی مسنون طریقہ ہے ) ۔

Hadith 929
Sahih
حَدَّثَنَا آدَمُ، قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ الأَغَرِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ إِذَا كَانَ يَوْمُ الْجُمُعَةِ، وَقَفَتِ الْمَلاَئِكَةُ عَلَى باب الْمَسْجِدِ يَكْتُبُونَ الأَوَّلَ فَالأَوَّلَ، وَمَثَلُ الْمُهَجِّرِ كَمَثَلِ الَّذِي يُهْدِي بَدَنَةً، ثُمَّ كَالَّذِي يُهْدِي بَقَرَةً، ثُمَّ كَبْشًا، ثُمَّ دَجَاجَةً، ثُمَّ بَيْضَةً، فَإِذَا خَرَجَ الإِمَامُ طَوَوْا صُحُفَهُمْ، وَيَسْتَمِعُونَ الذِّكْرَ ‏"‏‏.‏
English

Narrated Abu Huraira رضی اللہ عنہ :

The Prophet (ﷺ) said, "When it is a Friday, the angels stand at the gate of the mosque and keep on writing the names of the persons coming to the mosque in succession according to their arrivals. The example of the one who enters the mosque in the earliest hour is that of one offering a camel (in sacrifice). The one coming next is like one offering a cow and then a ram and then a chicken and then an egg respectively. When the Imam comes out (for Jumua prayer) they (i.e. angels) fold their papers and listen to the Khutba."

Urdu

ہم سے آدم بن ابی ایاس نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے محمد بن عبدالرحمٰن بن ابی ذئب نے بیان کیا ، ان سے زہری نے ، ان سے ابوعبداللہ سلیمان اغر نے ، ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب جمعہ کا دن آتا ہے تو فرشتے جامع مسجد کے دروازے پر آنے والوں کے نام لکھتے ہیں ، سب سے پہلے آنے والا اونٹ کی قربانی دینے والے کی طرح لکھا جاتا ہے ۔ اس کے بعد آنے والا گائے کی قربانی دینے والے کی طرح پھر مینڈھے کی قربانی کا ثواب رہتا ہے ۔ اس کے بعد مرغی کا ، اس کے بعد انڈے کا ۔ لیکن جب امام ( خطبہ دینے کے لیے ) باہر آ جاتا ہے تو یہ فرشتے اپنے دفاتر بند کر دیتے ہیں اور خطبہ سننے میں مشغول ہو جاتے ہیں ۔

Hadith 930
Sahih
حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ، قَالَ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ جَاءَ رَجُلٌ وَالنَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يَخْطُبُ النَّاسَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ فَقَالَ ‏"‏ أَصَلَّيْتَ يَا فُلاَنُ ‏"‏‏.‏ قَالَ لاَ‏.‏ قَالَ ‏"‏ قُمْ فَارْكَعْ ‏"‏‏.‏
English

Narrated Jabir bin `Abdullah رضی اللہ عنہ :

A person entered the mosque while the Prophet (ﷺ) was delivering the Khutba on a Friday. The Prophet (ﷺ) said to him, "Have you prayed?" The man replied in the negative. The Prophet (ﷺ) said, "Get up and pray two rak`at."

Urdu

ہم سے ابو النعمان نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے حماد بن زید نے بیان کیا ، ان سے عمرو بن دینار نے ، ان سے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ

ایک شخص آیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ کا خطبہ دے رہے تھے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کہ اے فلاں ! کیا تم نے ( تحیۃ المسجد کی ) نماز پڑھ لی ۔ اس نے کہا کہ نہیں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اچھا اٹھ اور دو رکعت نماز پڑھ لے ۔

Hadith 931
Sahih
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرٍو، سَمِعَ جَابِرًا، قَالَ دَخَلَ رَجُلٌ يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَالنَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يَخْطُبُ فَقَالَ ‏"‏ أَصَلَّيْتَ ‏"‏‏.‏ قَالَ لاَ‏.‏ قَالَ ‏"‏ فَصَلِّ رَكْعَتَيْنِ ‏"‏‏.‏
English

Narrated Jabi رضی اللہ عنہ :

A man entered the Mosque while the Prophet (ﷺ) was delivering the Khutba. The Prophet (ﷺ) said to him, "Have you prayed?" The man replied in the negative. The Prophet (ﷺ) said, "Pray two rak`at."

Urdu

ہم سے علی بن عبداللہ نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے سفیان بن عیینہ نے عمرو سے بیان کیا ، انہوں نے جابر رضی اللہ عنہ سے سنا کہ

ایک شخص جمعہ کے دن مسجد میں آیا ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ پڑھ رہے تھے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا کہ کیا تم نے ( تحیۃ المسجد کی ) نماز پڑھ لی ہے ؟ آنے والے نے جواب دیا کہ نہیں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اٹھو اور دو رکعت نماز ( تحیۃ المسجد ) پڑھ لو ۔

Hadith 932
Sahih
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، قَالَ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنْ أَنَسٍ،‏.‏ وَعَنْ يُونُسَ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ بَيْنَمَا النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يَخْطُبُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ إِذْ قَامَ رَجُلٌ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، هَلَكَ الْكُرَاعُ، وَهَلَكَ الشَّاءُ، فَادْعُ اللَّهَ أَنْ يَسْقِيَنَا‏.‏ فَمَدَّ يَدَيْهِ وَدَعَا‏.‏
English

Narrated Anas رضی اللہ عنہ :

While the Prophet (ﷺ) was delivering the Khutba on a Friday, a man stood up and said, "O, Allah's Apostle! The livestock and the sheep are dying, so pray to Allah for rain." So he (the Prophet) raised both his hands and invoked Allah (for it).

Urdu

ہم سے مسدد بن مسرہد نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے حماد بن زید نے بیان کیا ، ان سے عبد العزیز بن انس نے بیان کیا ، ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے ( دوسری سند ) اور حماد بن یونس سے بھی روایت کی عبد العزیز اور یونس دونوں نے ثابت سے ، انہوں نے انس رضی اللہ عنہ سے کہ

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ کا خطبہ دے رہے تھے کہ ایک شخص کھڑا ہو گیا اور عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مویشی اور بکریاں ہلاک ہو گئیں ( بارش نہ ہونے کی وجہ سے ) آپ دعا فرمائیں کہ اللہ تعالیٰ بارش برسائے ۔ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں ہاتھ پھیلائے اور دعا کی ۔

Hadith 933
Sahih
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ، قَالَ حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو عَمْرٍو، قَالَ حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ أَصَابَتِ النَّاسَ سَنَةٌ عَلَى عَهْدِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَبَيْنَا النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يَخْطُبُ فِي يَوْمِ جُمُعَةٍ قَامَ أَعْرَابِيٌّ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ هَلَكَ الْمَالُ وَجَاعَ الْعِيَالُ، فَادْعُ اللَّهَ لَنَا‏.‏ فَرَفَعَ يَدَيْهِ، وَمَا نَرَى فِي السَّمَاءِ قَزَعَةً، فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ مَا وَضَعَهَا حَتَّى ثَارَ السَّحَابُ أَمْثَالَ الْجِبَالِ، ثُمَّ لَمْ يَنْزِلْ عَنْ مِنْبَرِهِ حَتَّى رَأَيْتُ الْمَطَرَ يَتَحَادَرُ عَلَى لِحْيَتِهِ صلى الله عليه وسلم فَمُطِرْنَا يَوْمَنَا ذَلِكَ، وَمِنَ الْغَدِ، وَبَعْدَ الْغَدِ وَالَّذِي يَلِيهِ، حَتَّى الْجُمُعَةِ الأُخْرَى، وَقَامَ ذَلِكَ الأَعْرَابِيُّ ـ أَوْ قَالَ غَيْرُهُ ـ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، تَهَدَّمَ الْبِنَاءُ وَغَرِقَ الْمَالُ، فَادْعُ اللَّهَ لَنَا‏.‏ فَرَفَعَ يَدَيْهِ، فَقَالَ ‏ "‏ اللَّهُمَّ حَوَالَيْنَا، وَلاَ عَلَيْنَا ‏"‏‏.‏ فَمَا يُشِيرُ بِيَدِهِ إِلَى نَاحِيَةٍ مِنَ السَّحَابِ إِلاَّ انْفَرَجَتْ، وَصَارَتِ الْمَدِينَةُ مِثْلَ الْجَوْبَةِ، وَسَالَ الْوَادِي قَنَاةُ شَهْرًا، وَلَمْ يَجِئْ أَحَدٌ مِنْ نَاحِيَةٍ إِلاَّ حَدَّثَ بِالْجَوْدِ‏.‏
English

Narrated Anas bin Malik رضی اللہ عنہ :

Once in the lifetime of the Prophet (p.b.u.h) the people were afflicted with drought (famine). While the Prophet (ﷺ) was delivering the Khutba on a Friday, a Bedouin stood up and said, "O, Allah's Messenger (ﷺ)! Our possessions are being destroyed and the children are hungry; Please invoke Allah (for rain)". So the Prophet (ﷺ) raised his hands. At that time there was not a trace of cloud in the sky. By Him in Whose Hands my soul is as soon as he lowered his hands, clouds gathered like mountains, and before he got down from the pulpit, I saw the rain falling on the beard of the Prophet. It rained that day, the next day, the third day, the fourth day till the next Friday. The same Bedouin or another man stood up and said, "O Allah's Messenger (ﷺ)! The houses have collapsed, our possessions and livestock have been drowned; Please invoke Allah (to protect us)". So the Prophet (ﷺ) raised both his hands and said, "O Allah! Round about us and not on us". So, in whatever direction he pointed with his hands, the clouds dispersed and cleared away, and Medina's (sky) became clear as a hole in between the clouds. The valley of Qanat remained flooded, for one month, none came from outside but talked about the abundant rain.

Urdu

ہم سے ابراہیم بن المنذر نے بیان کیا ، انہوں نے کہا کہ ہم سے ولید بن مسلم نے بیان کیا ، انہوں نے کہا کہ ہم سے امام ابوعمرو اوزاعی نے بیان کیا ، انہوں نے کہا کہ مجھ سے اسحاق بن عبداللہ بن ابی طلحہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا ، ان سے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے کہ

ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں قحط پڑا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ دے رہے تھے کہ ایک دیہاتی نے کہا یا رسول اللہ ! جانور مر گئے اور اہل و عیال دانوں کو ترس گئے ۔ آپ ہمارے لیے اللہ تعالیٰ سے دعا فرمائیں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں ہاتھ اٹھائے ، اس وقت بادل کا ایک ٹکڑا بھی آسمان پر نظر نہیں آ رہا تھا ۔ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میری جان ہے ابھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہاتھوں کو نیچے بھی نہیں کیا تھا کہ پہاڑوں کی طرح گھٹا امڈ آئی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم ابھی منبر سے اترے بھی نہیں تھے کہ میں نے دیکھا کہ بارش کا پانی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ریش مبارک سے ٹپک رہا تھا ۔ اس دن اس کے بعد اور متواتر اگلے جمعہ تک بارش ہوتی رہی ۔ ( دوسرے جمعہ کو ) یہی دیہاتی پھر کھڑا ہوا یا کہا کہ کوئی دوسرا شخص کھڑا ہوا اور عرض کی کہ یا رسول اللہ ! عمارتیں منہدم ہو گئیں اور جانور ڈوب گئے ۔ آپ ہمارے لیے اللہ سے دعا کیجئے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں ہاتھ اٹھائے اور دعا کی کہ اے اللہ ! اب دوسری طرف بارش برسا اور ہم سے روک دے ۔ آپ ہاتھ سے بادل کے لیے جس طرف بھی اشارہ کرتے ، ادھر مطلع صاف ہو جاتا ۔ سارا مدینہ تالاب کی طرح بن گیا تھا اور قناۃ کا نالا مہینہ بھر بہتا رہا اور اردگرد سے آنے والے بھی اپنے یہاں بھرپور بارش کی خبر دیتے رہے ۔

Hadith 934
Sahih
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، قَالَ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ، أَخْبَرَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ إِذَا قُلْتَ لِصَاحِبِكَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ أَنْصِتْ‏.‏ وَالإِمَامُ يَخْطُبُ فَقَدْ لَغَوْتَ ‏"‏‏.‏
English

Narrated Abu Huraira رضی اللہ عنہ :

Allah's Messenger (ﷺ) said, "When the Imam is delivering the Khutba, and you ask your companion to keep quiet and listen, then no doubt you have done an evil act."

Urdu

ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے لیث بن سعد نے عقیل سے بیان کیا ، ان سے ابن شہاب نے ، انہوں نے کہا کہ مجھے سعید بن مسیب نے خبر دی اور انہیں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے خبر دی کہ

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب امام جمعہ کا خطبہ دے رہا ہو اور تو اپنے پاس بیٹھے ہوئے آدمی سے کہے کہ ” چپ رہ “ تو تو نے خود ایک لغو حرکت کی ۔

Hadith 935
Sahih
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ذَكَرَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ فَقَالَ ‏ "‏ فِيهِ سَاعَةٌ لاَ يُوَافِقُهَا عَبْدٌ مُسْلِمٌ، وَهْوَ قَائِمٌ يُصَلِّي، يَسْأَلُ اللَّهَ تَعَالَى شَيْئًا إِلاَّ أَعْطَاهُ إِيَّاهُ ‏"‏‏.‏ وَأَشَارَ بِيَدِهِ يُقَلِّلُهَا‏.‏
English

Narrated Abu Huraira رضی اللہ عنہ :

Allah's Messenger (ﷺ) talked about Friday and said, "There is an hour (opportune time) on Friday and if a Muslim gets it while praying and asks something from Allah, then Allah will definitely meet his demand." And he (the Prophet) pointed out the shortness of that time with his hands.

Urdu

ہم سے عبداللہ بن مسلمہ قعنبی نے امام مالک رحمہ اللہ سے بیان کیا ، ان سے ابوالزناد نے ، ان سے عبدالرحمٰن اعرج نے ، ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جمعہ کے ذکر میں ایک دفعہ فرمایا کہ اس دن ایک ایسی گھڑی آتی ہے جس میں اگر کوئی مسلمان بندہ کھڑا نماز پڑھ رہا ہو اور کوئی چیز اللہ پاک سے مانگے تو اللہ پاک اسے وہ چیز ضرور دیتا ہے ۔ ہاتھ کے اشارے سے آپ نے بتلایا کہ وہ ساعت بہت تھوڑی سی ہے ۔

Hadith 936
Sahih
حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو، قَالَ حَدَّثَنَا زَائِدَةُ، عَنْ حُصَيْنٍ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، قَالَ حَدَّثَنَا جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ بَيْنَمَا نَحْنُ نُصَلِّي مَعَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم إِذْ أَقْبَلَتْ عِيرٌ تَحْمِلُ طَعَامًا، فَالْتَفَتُوا إِلَيْهَا حَتَّى مَا بَقِيَ مَعَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم إِلاَّ اثْنَا عَشَرَ رَجُلاً، فَنَزَلَتْ هَذِهِ الآيَةُ ‏{‏وَإِذَا رَأَوْا تِجَارَةً أَوْ لَهْوًا انْفَضُّوا إِلَيْهَا وَتَرَكُوكَ قَائِمًا‏}‏
English

Narrated Jabir bin `Abdullah رضی اللہ عنہ :

While we were praying (Jumua Khutba & prayer) with the Prophet (ﷺ), some camels loaded with food, arrived (from Sham). The people diverted their attention towards the camels (and left the mosque), and only twelve persons remained with the Prophet. So this verse was revealed: "But when they see Some bargain or some amusement, They disperse headlong to it, And leave you standing." (62.11)

Urdu

ہم سے معاویہ بن عمرو نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے زائدہ نے حصین سے بیان کیا ، ان سے سالم بن ابی جعد نے ، انہوں نے کہا کہ ہم سے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ

ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھ رہے تھے ، اتنے میں غلہ لادے ہوئے ایک تجارتی قافلہ ادھر سے گزرا ۔ لوگ خطبہ چھوڑ کر ادھر چل دیئے ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کل بارہ آدمی رہ گئے ۔ اس وقت سورۃ الجمعہ کی یہ آیت اتری «وإذا رأوا تجارة أو لهوا انفضوا إليها وتركوك قائما‏» ” اور جب یہ لوگ تجارت اور کھیل دیکھتے ہیں تو اس کی طرف دوڑ پڑتے ہیں اور آپ کو کھڑا چھوڑ دیتے ہیں ۔ “