Narrated Anas bin Malik رضی اللہ عنہ :
Sometimes Allah's Messenger (ﷺ) would not fast (for so many days) that we thought that he would not fast that month and he sometimes used to fast (for so many days) that we thought he would not leave fasting throughout that month and (as regards his prayer and sleep at night), if you wanted to see him praying at night, you could see him praying and if you wanted to see him sleeping, you could see him sleeping. Sulaiman and Abu Khalid Ahmar corroborated him from Humaid.
ہم سے عبد العزیز بن عبداللہ نے بیان کیا ، کہا کہ مجھ سے محمد بن جعفر نے بیان کیا ، ان سے حمید طویل نے ، انہوں نے انس رضی اللہ عنہ سے سنا ، وہ کہتے تھے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کسی مہینہ میں روزہ نہ رکھتے تو ایسا معلوم ہوتا کہ اب آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس مہینہ میں روزہ ہی نہیں رکھیں گے اور اگر کسی مہینہ میں روزہ رکھنا شروع کرتے تو خیال ہوتا کہ اب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا اس مہینہ کا ایک دن بھی بغیر روزہ کے نہیں رہ جائے گا اور رات کو نماز تو ایسی پڑھتے تھے کہ تم جب چاہتے آپ کو نماز پڑھتے دیکھ لیتے اور جب چاہتے سوتا دیکھ لیتے ۔ محمد بن جعفر کے ساتھ اس حدیث کو سلیمان اور ابوخالد نے بھی حمید سے روایت کیا ہے ۔
Narrated Abu Huraira رضی اللہ عنہ :
Allah's Messenger (ﷺ) said, "Satan puts three knots at the back of the head of any of you if he is asleep. On every knot he reads and exhales the following words, 'The night is long, so stay asleep.' When one wakes up and remembers Allah, one knot is undone; and when one performs ablution, the second knot is undone, and when one prays the third knot is undone and one gets up energetic with a good heart in the morning; otherwise one gets up lazy and with a mischievous heart."
ہم سے عبداللہ بن یوسف تنیسی نے بیان کیا ، کہا کہ ہمیں امام مالک رحمہ اللہ نے خبر دی ، انہیں ابوالزناد نے ، انہیں اعرج نے اور انہیں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ
رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ شیطان آدمی کے سر کے پیچھے رات میں سوتے وقت تین گرہیں لگا دیتا ہے اور ہر گرہ پر یہ افسوں پھونک دیتا ہے کہ سو جا ابھی رات بہت باقی ہے پھر اگر کوئی بیدار ہو کر اللہ کی یاد کرنے لگا تو ایک گرہ کھل جاتی ہے پھر جب وضو کرتا ہے تو دوسری گرہ کھل جاتی ہے ۔ پھر اگر نماز ( فرض یا نفل ) پڑھے تو تیسری گرہ بھی کھل جاتی ہے ۔ اس طرح صبح کے وقت آدمی چاق و چوبند خوش مزاج رہتا ہے ۔ ورنہ سست اور بدباطن رہتا ہے ۔
Narrated Samura bin Jundab رضی اللہ عنہ :
The Prophet (ﷺ) said in his narration of a dream that he saw, "He whose head was being crushed with a stone was one who learnt the Qur'an but never acted on it, and slept ignoring the compulsory prayers."
ہم سے مؤمل بن ہشام نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے اسماعیل بن علیہ نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے عوف اعرابی نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے ابو رجاء نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ نے بیان کیا
ان سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خواب بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ جس کا سر پتھر سے کچلا جا رہا تھا وہ قرآن کا حافظ تھا مگر وہ قرآن سے غافل ہو گیا اور فرض نماز پڑھے بغیر سو جایا کرتا تھا ۔
Narrated `Abdullah رضی اللہ عنہما :
A person was mentioned before the Prophet (ﷺ) and he was told that he had kept on sleeping till morning and had not got up for the prayer. The Prophet (ﷺ) said, "Satan urinated in his ears."
ہم سے مسدد نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے ابوالاحوص سلام بن سلیم نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے منصور بن معتمر نے ابووائل سے بیان کیا اور ان سے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہما نے کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ایک شخص کا ذکر آیا کہ وہ صبح تک پڑا سوتا رہا اور فرض نماز کے لیے بھی نہیں اٹھا ۔ اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ شیطان نے اس کے کان میں پیشاب کر دیا ہے ۔
Narrated Abu Huraira رضی اللہ عنہ :
Allah's Messenger (ﷺ) said, "Our Lord, the Blessed, the Superior, comes every night down on the nearest Heaven to us when the last third of the night remains, saying: "Is there anyone to invoke Me, so that I may respond to invocation? Is there anyone to ask Me, so that I may grant him his request? Is there anyone seeking My forgiveness, so that I may forgive him?"
ہم سے عبداللہ بن مسلمہ قعنبی نے بیان کیا ، ان سے امام مالک رحمہ اللہ نے ، ان نے ابن شہاب نے ، ان سے ابوسلمہ عبدالرحمٰن اور ابوعبداللہ اغر نے اور ان دونوں حضرات سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہمارا پروردگار بلند برکت والا ہے ہر رات کو اس وقت آسمان دنیا پر آتا ہے جب رات کا آخری تہائی حصہ رہ جاتا ہے ۔ وہ کہتا ہے کوئی مجھ سے دعا کرنے والا ہے کہ میں اس کی دعا قبول کروں ، کوئی مجھ سے مانگنے والا ہے کہ میں اسے دوں کوئی مجھ سے بخشش طلب کرنے والا ہے کہ میں اس کو بخش دوں ۔
Narrated `Aisha رضی اللہ عنہا :
"How is the night prayer of the Prophet?" She replied, "He used to sleep early at night, and get up in its last part to pray, and then return to his bed. When the Mu'adh-dhin pronounced the Adhan, he would get up. If he was in need of a bath he would take it; otherwise he would perform ablution and then go out (for the prayer)."
ہم سے ابو الولید نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے شعبہ نے بیان کیا ، ( دوسری سند ) اور مجھ سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا ، انہوں نے کہا کہ ہم سے شعبہ نے بیان کیا ، ان سے ابواسحاق عمرو بن عبداللہ نے ، ان سے اسود بن یزید نے ، انہوں نے بتلایا کہ میں نے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم رات میں نماز کیونکر پڑھتے تھے ؟ آپ نے بتلایا کہ شروع رات میں سو رہتے اور آخر رات میں بیدار ہو کر تہجد کی نماز پڑھتے ۔ اس کے بعد بستر پر آ جاتے اور جب مؤذن اذان دیتا تو جلدی سے اٹھ بیٹھتے ۔ اگر غسل کی ضرورت ہوتی تو غسل کرتے ورنہ وضو کر کے باہر تشریف لے جاتے ۔
Narrated Abu Salma bin `Abdur Rahman:
I asked `Aisha رضی اللہ عنہا , "How is the prayer of Allah's Messenger (ﷺ) during the month of Ramadan." She said, "Allah's Messenger (ﷺ) never exceeded eleven rak`at in Ramadan or in other months; he used to offer four rak`at-- do not ask me about their beauty and length, then four rak`at, do not ask me about their beauty and length, and then three rak`at." Aisha رضی اللہ عنہا further said, "I said, 'O Allah's Messenger (ﷺ)! Do you sleep before offering the witr prayer?' He replied, 'O `Aisha! My eyes sleep but my heart remains awake'!"
ہم سے عبداللہ بن یوسف تنیسی نے بیان کیا ، انہوں نے کہا کہ ہمیں امام مالک رحمہ اللہ نے خبر دی ، انہیں سعید بن ابوسعید مقبری نے خبر دی ، انہیں ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن نے خبر دی کہ
ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے انہوں نے پوچھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم رمضان میں ( رات کو ) کتنی رکعتیں پڑھتے تھے ۔ آپ نے جواب دیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ( رات میں ) گیارہ رکعتوں سے زیادہ نہیں پڑھتے تھے ۔ خواہ رمضان کا مہینہ ہوتا یا کوئی اور ۔ پہلے آپ صلی اللہ علیہ وسلم چار رکعت پڑھتے ۔ ان کی خوبی اور لمبائی کا کیا پوچھنا ۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم چار رکعت اور پڑھتے ان کی خوبی اور لمبائی کا کیا پوچھنا ۔ پھر تین رکعتیں پڑھتے ۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! آپ وتر پڑھنے سے پہلے ہی سو جاتے ہیں ؟ اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ عائشہ ! میری آنکھیں سوتی ہیں لیکن میرا دل نہیں سوتا ۔
Narrated `Aish رضی اللہ عنہا :
I did not see the Prophet (ﷺ) reciting (the Qur'an) in the night prayer while sitting except when he became old; when he used to recite while sitting, and when thirty or forty verses remained from the Sura, he would get up and recite them and then bow.
ہم سے محمد بن مثنی نے بیان کیا ، انہوں نے کہا کہ ہم سے یحییٰ بن سعید قطان نے بیان کیا اور انہوں نے کہا کہ ہم سے ہشام بن عروہ نے بیان کیا کہ مجھے میرے باپ عروہ نے خبر دی کہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے بتلایا کہ
میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو رات کی کسی نماز میں بیٹھ کر قرآن پڑھتے نہیں دیکھا ۔ یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم بوڑھے ہو گئے تو بیٹھ کر قرآن پڑھتے تھے لیکن جب تیس چالیس آیتیں رہ جاتیں تو کھڑے ہو جاتے پھر اس کو پڑھ کر رکوع کرتے تھے ۔
Narrated Abu Huraira رضی اللہ عنہ :
At the time of the Fajr prayer the Prophet (ﷺ) asked Bilal رضی اللہ عنہ , "Tell me of the best deed you did after embracing Islam, for I heard your footsteps in front of me in Paradise." Bilal رضی اللہ عنہ replied, "I did not do anything worth mentioning except that whenever I performed ablution during the day or night, I prayed after that ablution as much as was written for me."
ہم سے اسحاق بن نصر نے بیان کیا ، انہوں نے کہا کہ ہم سے ابواسامہ حماد بن اسابہ نے بیان کیا ، ان سے ابو حیان یحییٰ بن سعید نے بیان کیا ، ان سے ابو زرعہ نے بیان کیا اور ان سے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت بلال رضی اللہ عنہ سے فجر کے وقت پوچھا کہ اے بلال ! مجھے اپنا سب سے زیادہ امید والا نیک کام بتاؤ جسے تم نے اسلام لانے کے بعد کیا ہے کیونکہ میں نے جنت میں اپنے آگے تمہارے جوتوں کی چاپ سنی ہے ۔ حضرت بلال رضی اللہ عنہ نے عرض کیا میں نے تو اپنے نزدیک اس سے زیادہ امید کا کوئی کام نہیں کیا کہ جب میں نے رات یا دن میں کسی وقت بھی وضو کیا تو میں اس وضو سے نفل نماز پڑھتا رہتا جتنی میری تقدیر لکھی گئی تھی ۔
Narrated Anas bin Malik رضی اللہ عنہ :
Once the Prophet (ﷺ) entered the Mosque and saw a rope hanging in between its two pillars. He said, "What is this rope?" The people said, "This rope is for Zainab رضی اللہ عنہا who, when she feels tired, holds it (to keep standing for the prayer.)" The Prophet (ﷺ) said, "Don't use it. Remove the rope. You should pray as long as you feel active, and when you get tired, sit down."
ہم سے ابو معمرعبداللہ بن عمرو نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے عبدالوارث بن سعد نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے عبد العزیز بن صہیب نے بیان کیا ، ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں تشریف لے گئے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نظر ایک رسی پر پڑی جو دو ستونوں کے درمیان تنی ہوئی تھی ۔ دریافت فرمایا کہ یہ رسی کیسی ہے ؟ لوگوں نے عرض کی کہ یہ حضرت زینب رضی اللہ عنہا نے باندھی ہے جب وہ ( نماز میں کھڑی کھڑی ) تھک جاتی ہیں تو اس سے لٹکی رہتی ہیں ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ نہیں یہ رسی نہیں ہونی چاہیے اسے کھول ڈالو ، تم میں ہر شخص کو چاہیے جب تک دل لگے نماز پڑھے ، تھک جائے تو بیٹھ جائے ۔
Narrated 'Aisha رضی اللہ عنہا :
A woman from the tribe of Bani Asad was sitting with me and Allah's Apostle (ﷺ) came to my house and said, "Who is this?" I said, "(She is) So and so. She does not sleep at night because she is engaged in prayer." The Prophet (ﷺ) said disapprovingly: Do (good) deeds which is within your capacity as Allah never gets tired of giving rewards till you get tired of doing good deeds."
اور امام بخاری رحمہ اللہ نے فرمایا کہ ہم سے عبداللہ بن مسلمہ قعنبی نے بیان کیا ، ان سے مالک رحمہ اللہ نے ، ان سے ہشام بن عروہ نے ، ان سے ان کے والد نے اور ان سے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ
میرے پاس بنو اسد کی ایک عورت بیٹھی تھی ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو ان کے متعلق پوچھا کہ یہ کون ہیں ؟ میں نے کہا کہ یہ فلاں خاتون ہیں جو رات بھر نہیں سوتیں ۔ ان کی نماز کا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ذکر کیا گیا ۔ لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بس تمہیں صرف اتنا ہی عمل کرنا چاہیے جتنے کی تم میں طاقت ہو ۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ تو ( ثواب دینے سے ) تھکتا ہی نہیں تم ہی عمل کرتے کرتے تھک جاؤ گے ۔
Narrated `Abdullah bin `Amr bin Al-`As رضی اللہ عنہما :
Allah's Messenger (ﷺ) said to me, "O `Abdullah! Do not be like so and so who used to pray at night and then stopped the night prayer." Hadrat Umer bin Hakam bin Thauban reports that Abu Salamah has similarly reported this Hadith to him. And Amr Bin Abu Salamah has corroborated him from Auzai.
ہم سے عباس بن حسین نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے مبشر بن اسماعیل حلبی نے ، اوزاعی سے بیان کیا ( دوسری سند ) اور مجھ سے محمد بن مقاتل ابوالحسن نے بیان کیا ، کہا کہ ہمیں عبداللہ بن مبارک نے خبر دی ، انہیں امام اوزاعی نے خبر دی کہا کہ مجھ سے یحییٰ بن ابی کثیر نے بیان کیا ، کہا کہ مجھ سے ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن نے بیان کیا ، کہا کہ مجھ سے عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما نے بیان کیا ، کہاکہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے عبداللہ ! فلاں کی طرح نہ ہو جانا وہ رات میں عبادت کیا کرتا تھا پھر چھوڑ دی ۔ اور ہشام بن عمار نے کہا کہ ہم سے عبدالحمید بن ابوالعشرین نے بیان کیا ، ان سے امام اوزاعی نے بیان کیا ، کہا کہ مجھ سے یحییٰ نے بیان کیا ، ان سے عمرو بن حکم بن ثوبان نے بیان کیا ، کہا کہ مجھ سے ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن نے ، اسی طرح پھر یہی حدیث بیان کی ، ابن ابی العشرین کی طرح عمرو بن ابی سلمہ نے بھی اس کو امام اوزاعی سے روایت کیا ۔
Narrated 'Abdullah bin 'Amr رضی اللہ عنہما :
Once Allah's Messenger (ﷺ) said to me, "I have been informed that you offer Salat (prayer) all the night and observe Saum (fast) during the day." I said, "(Yes) I do so." He said, "If you do so, your eye sight will become weak and you will become weak. No doubt, your body has right on you, and your family has right on you, so observe Saum (for some days) and do not observe it (for some days), offer Salat (for sometime) and then sleep."
ہم سے علی بن عبداللہ مدینی نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، ان سے عمرو بن دینار نے، ان سے ابو العباس سائب بن فروخ نے کہا میں نے عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما سے سنا، انہوں نے کہا کہ
مجھ سے نبی کریم ﷺ نے پوچھا کہ کیا یہ خبر صحیح ہے کہ تم رات بھر عبادت کرتے ہو اور پھر دن میں روزے رکھتے ہو؟ میں نے کہا کہ ہاں حضور میں ایسا ہی کرتا ہوں۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ لیکن اگر تم ایسا کرو گے تو تمہاری آنکھیں (بیداری کی وجہ سے) بیٹھ جائیں گی اور تیری جان ناتواں ہو جائے گی۔ یہ جان لو کہ تم پر تمہارے نفس کا بھی حق ہے اور بیوی بچوں کا بھی۔ اس لیے کبھی روزہ بھی رکھو اور کبھی بلا روزے کے بھی رہو، عبادت بھی کرو اور سوؤ بھی۔
Narrated 'Ubada bin As-Samit:
The Prophet (ﷺ) "Whoever gets up at night and says: -- 'La ilaha il-lallah Wahdahu la Sharika lahu Lahu-lmulk, waLahu-l-hamd wahuwa 'ala kullishai'in Qadir. Al hamdu lil-lahi wa subhanal-lahi wa la-ilaha il-lal-lah wa-l-lahu akbar wa la hawla Wala Quwata il-la-bil-lah.' (None has the right to be worshipped but Allah. He is the Only One and has no partners . For Him is the Kingdom and all the praises are due for Him. He is Omnipotent. All the praises are for Allah. All the glories are for Allah. And none has the right to be worshipped but Allah, And Allah is Great And there is neither Might nor Power Except with Allah). And then says: -- Allahumma, Ighfir li (O Allah! Forgive me). Or invokes (Allah), he will be responded to and if he performs ablution (and prays), his prayer will be accepted."
ہم سے صدقہ بن فضل نے بیان کیا ، کہا کہ ہم کو ولید بن مسلم نے امام اوزاعی سے خبر دی ، کہا کہ مجھ کو عمیر بن ہانی نے بیان کیا ، کہا کہ مجھ سے جنادہ بن ابی امیہ نے بیان کیا ، کہا کہ مجھ سے عبادہ بن صامت نے بیان کیا کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص رات کو بیدار ہو کر یہ دعا پڑھے «لا إله إلا الله وحده لا شريك له ، له الملك ، وله الحمد ، وهو على كل شىء قدير. الحمد لله ، وسبحان الله ، ولا إله إلا الله ، والله أكبر ، ولا حول ولا قوة إلا بالله» ( ترجمہ ) ” اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں وہ اکیلا ہے اس کا کوئی شریک نہیں ملک اسی کے لیے ہے اور تمام تعریفیں بھی اسی کے لیے ہیں ، اور وہ ہر چیز پر قادر ہے ۔ تمام تعریفیں اللہ ہی کے لیے ہیں ، اللہ کی ذات پاک ہے ، اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود نہیں اور اللہ سب سے بڑا ہے ، اللہ کی مدد کے بغیر نہ کسی کو گناہوں سے بچنے کی طاقت ہے نہ نیکی کرنے کی ہمت “ پھر یہ پڑھے «اللهم اغفر لي» ( ترجمہ ) اے اللہ ! میری مغفرت فرما “ ۔ یا ( یہ کہا کہ ) کوئی دعا کرے تو اس کی دعا قبول ہوتی ہے ۔ پھر اگر اس نے وضو کیا ( اور نماز پڑھی ) تو نماز بھی مقبول ہوتی ہے ۔
Narrated Abu Huraira رضی اللہ عنہ :
That once Allah's Messenger (ﷺ) said, "Your brother, i.e. `Abdullah bin Rawaha رضی اللہ عنہ does not say obscene (referring to his verses): Amongst us is Allah's Messenger (ﷺ), who recites His Book when it dawns. He showed us the guidance, after we were blind. We believe that whatever he says will come true. And he spends his nights in such a way as his sides do not touch his bed. While the pagans were deeply asleep." Oqail corroborated him and Zubaidi said: Zuhri informed me from Saeed and Aaraj and they did so from Hadrat Abu Hurairah رضی اللہ عنہ .
ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے لیث بن سعد نے بیان کیا ، ان سے یونس نے ، ان سے ابن شہاب نے ، انہوں نے کہا کہ مجھ کو ہیثم بن ابی سنان نے خبر دی کہ انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا ، آپ اپنے وعظ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر کر رہے تھے ۔ پھر
آپ نے فرمایا کہ تمہارے بھائی نے ( اپنے نعتیہ اشعار میں ) یہ کوئی غلط بات نہیں کہی ۔ آپ کی مراد عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ اور ان کے اشعار سے تھی جن کا ترجمہ یہ ہے : ” ہم میں اللہ کے رسول موجود ہیں ، جو اس کی کتاب اس وقت ہمیں سناتے ہیں جب فجر طلوع ہوتی ہے ۔ ہم تو اندھے تھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں گمراہی سے نکال کر صحیح راستہ دکھایا ۔ ان کی باتیں اسی قدر یقینی ہیں جو ہمارے دلوں کے اندر جا کر بیٹھ جاتی ہیں اور جو کچھ آپ نے فرمایا وہ ضرور واقع ہو گا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم رات بستر سے اپنے کو الگ کر کے گزارتے ہیں جبکہ مشرکوں سے ان کے بستر بوجھل ہو رہے ہوتے ہیں “ ۔ یونس کی طرح اس حدیث کو عقیل نے بھی زہری سے روایت کیا اور زبیدی نے یوں کہا سعید بن مسیب اور اعرج سے ، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے ۔
Narrated Ibn `Umar رضی اللہ عنہما :
"In the lifetime of the Prophet (ﷺ) I dreamt that a piece of silk cloth was in my hand and it flew with me to whichever part of Paradise I wanted. I also saw as if two persons (i.e. angels) came to me and wanted to take me to Hell. Then an angel met us and told me not to be afraid. He then told them to leave me. Hafsa رضی اللہ عنہا narrated one of my dreams to the Prophet (ﷺ) and the Prophet (ﷺ) said, "Abdullah is a good man. Would that he offer the night prayer (Tahajjud)!" So after that day `Abdullah (bin `Umar) started offering Tahajjud. The companions of the Prophet (ﷺ) used to tell him their dreams that (Laila-tul-Qadr) was on the 27th of the month of Ramadan. The Prophet (ﷺ) said, "I see that your dreams agree on the last ten nights of Ramadan and so whoever is in search of it should seek it in the last ten nights of Ramadan."
ہم سے ابو النعمان نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے حماد بن زید نے بیان کیا ، ان سے ایوب سختیانی نے ، ان سے نافع نے ، ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ
میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں یہ خواب دیکھا کہ گویا ایک گاڑھے ریشمی کپڑے کا ایک ٹکڑا میرے ہاتھ ہے ۔ جیسے میں جنت میں جس جگہ کا بھی ارادہ کرتا ہوں تو یہ ادھر اڑا کے مجھ کو لے جاتا ہے اور میں نے دیکھا کہ جیسے دو فرشتے میرے پاس آئے اور انہوں نے مجھے دوزخ کی طرف لے جانے کا ارادہ کیا ہی تھا کہ ایک فرشتہ ان سے آ کر ملا اور ( مجھ سے ) کہا کہ ڈرو نہیں ( اور ان سے کہا کہ ) اسے چھوڑ دو ۔میری بہن ( ام المؤمنین ) حفصہ رضی اللہ عنہا نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے میرا ایک خواب بیان کیاتو آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ عبداللہ بڑا ہی اچھا آدمی ہے کاش رات کو بھی نماز پڑھا کرتا ۔ عبداللہ رضی اللہ عنہ اس کے بعد ہمیشہ رات کو نماز پڑھا کرتے تھے ۔ بہت سے صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنے خواب بیان کئے کہ شب قدر ( رمضان کی ) ستائیسویں رات ہے ۔ اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں دیکھ رہا ہوں کہ تم سب کے خواب رمضان کے آخری عشرے میں ( شب قدر کے ہونے پر ) متفق ہو گئے ہیں ۔ اس لیے جسے شب قدر کی تلاش ہو وہ رمضان کے آخری عشرے میں ڈھونڈے ۔
Narrated `Aisha رضی اللہ عنہا :
Allah's Messenger (ﷺ) offered the `Isha' prayer (and then got up at the Tahajjud time) and offered eight rak`at and then offered two rak`at while sitting. He then offered two rak`at in between the Adhan and Iqama (of the Fajr prayer) and he never missed them.
ہم سے عبداللہ بن یزید نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے سعید بن ابی ایوب نے بیان کیا ، کہا کہ مجھ سے جعفر بن ربیعہ نے بیان کیا ، ان سے عراک بن مالک نے ، ان سے ابوسلمہ نے ، ان سے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عشاء کی نماز پڑھی پھر رات کو اٹھ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تہجد کی آٹھ رکعتیں پڑھیں اور دو رکعتیں صبح کی اذان و اقامت کے درمیان پڑھیں جن کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کبھی نہیں چھوڑ تے تھے ( فجر کی سنتوں پر مداومت ثابت ہوئی ) ۔
Narrated `Aisha رضی اللہ عنہا :
The Prophet (ﷺ) used to lie down on his right side, after offering two rak`at (Sunna) of the Fajr prayer.
ہم سے عبداللہ بن یزید نے بیان کیا ، انہوں نے کہا کہ ہم سے سعید بن ابی ایوب نے بیان کیا ، انہوں نے کہا کہ مجھ سے ابوالاسود محمد بن عبدالرحمٰن نے بیان کیا ، ان سے عروہ بن زبیر رضی اللہ عنہ نے اور ان سے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے ، انہوں نے فرمایا کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فجر کی دو سنت رکعتیں پڑھنے کے بعد دائیں کروٹ پر لیٹ جاتے ۔
Narrated `Aisha رضی اللہ عنہا :
After offering the Sunna of the Fajr prayer, the Prophet (ﷺ) used to talk to me, if I happen to be awake; otherwise he would lie down till the Iqama call was proclaimed (for the Fajr prayer).
ہم سے بشر بن حکم نے بیان کیا ، انہوں نے کہا کہ ہم سے سفیان نے بیان کیا ، انہوں نے کہا کہ مجھ سے سالم ابو النضرنے ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن سے بیان کیا اور ان سے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب فجر کی سنتیں پڑھ چکتے تو اگر میں جاگتی ہوتی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم مجھ سے باتیں کرتے ورنہ لیٹ جاتے جب تک نماز کی اذان ہوتی ۔
Narrated `Aisha رضی اللہ عنہا :
After offering the two rak`at (Sunna) the Prophet (ﷺ) used to talk to me, if I happen to be awake; otherwise he would lie down.
ہم سے علی بن عبداللہ مدینی نے بیان کیا ، ان سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا ، ان سے ابو النضر سالم نے بیان کیا کہ مجھ سے میرے باپ ابوامیہ نے بیان کیا ، ان سے ابوسلمہ نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب دو رکعت ( فجر کی سنت ) پڑھ چکتے تو اس وقت اگر میں جاگتی ہوتی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم مجھ سے باتیں کرتے ورنہ لیٹ جاتے ۔ میں نے سفیان سے کہا کہ بعض راوی فجر کی دو رکعتیں اسے بتاتے ہیں تو انہوں نے فرمایا کہ ہاں یہ وہی ہیں ۔