Narrated Hadrat Aisha رضی اللہ عنہا :
The Prophet (ﷺ) was never more regular and particular in offering any Nawafil than the two rak`at (Sunna) of the Fajr prayer.
ہم سے بیان بن عمرو نے بیان کیا ، انہوں نے کہا کہ ہم سے یحییٰ بن سعید قطان نے بیان کیا ، انہوں نے کہا کہ ہم سے ابن جریج نے بیان کیا ، ان سے عطاء نے بیان کیا ، ان سے عبید بن عمیر نے ، ان سے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کسی نفل نماز کی فجر کی دو رکعتوں سے زیادہ پابندی نہیں کرتے تھے ۔
Narrated `Aisha رضی اللہ عنہا :
Allah's Messenger (ﷺ) used to offer thirteen rak`at in the night prayer and on hearing the Adhan for the morning prayer, he used to offer two light rak`at.
ہم سے عبداللہ بن یوسف تنیسی نے بیان کیا ، انہوں نے کہا کہ ہمیں امام مالک رحمہ اللہ نے خبر دی ، انہیں ہشام بن عروہ نے ، انہیں ان کے باپ ( عروہ بن زبیر ) نے اور انہیں حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رات میں تیرہ رکعتیں پڑھتے تھے ۔ پھر جب صبح کی اذان سنتے تو دو ہلکی رکعتیں ( سنت فجر ) پڑھ لیتے ۔
Narrated `Aisha رضی اللہ عنہا :
The Prophet (ﷺ) used to make the two rak`at before the Fajr prayer so light that I would wonder whether he recited Al-Fatiha (or not).
مجھ سے محمد بن بشار نے بیان کیا ، انہوں نے کہا کہ ہم سے محمد بن جعفر نے بیان کیا ، ان سے شعبہ نے بیان کیا ، ان سے محمد بن عبدالرحمٰن نے ، ان سے ان کی پھوپھی عمرہ بنت عبدالرحمٰن نے اور ان سے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ( دوسری سند ) اور ہم سے احمد بن یونس نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے زہیر نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے یحی بن سعید انصاری نے بیان کیا ، ان سے محمد بن عبدالرحمٰن نے ، ان سے عمرہ بنت عبدالرحمٰن نے اور ان سے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم صبح کی ( فرض ) نماز سے پہلے کی دو ( سنت ) رکعتوں کو بہت مختصر رکھتے تھے ۔ آپ نے ان میں سورۃ الفاتحہ بھی پڑھی یا نہیں میں یہ بھی نہیں کہہ سکتی ۔
Narrated Jabir bin `Abdullah رضی اللہ عنہما :
The Prophet (ﷺ) used to teach us the way of doing Istikhara (Istikhara means to ask Allah to guide one to the right sort of action concerning any job or a deed), in all matters as he taught us the Suras of the Qur'an. He said, "If anyone of you thinks of doing any job he should offer a two rak`at prayer other than the compulsory ones and say (after the prayer): -- 'Allahumma inni astakhiruka bi'ilmika, Wa astaqdiruka bi-qudratika, Wa as'alaka min fadlika Al-`azlm Fa-innaka taqdiru Wala aqdiru, Wa ta'lamu Wala a'lamu, Wa anta 'allamu l-ghuyub. Allahumma, in kunta ta'lam anna hadha-lamra Khairun li fi dini wa ma'ashi wa'aqibati `Amri (or 'ajili `Amri wa'ajilihi) Faqdirhu wa yas-sirhu li thumma barik li Fihi, Wa in kunta ta'lamu anna hadha-lamra shar-run li fi dini wa ma'ashi wa'aqibati `Amri (or fi'ajili `Amri wa ajilihi) Fasrifhu anni was-rifni anhu. Waqdir li al-khaira haithu kana Thumma ardini bihi.' (O Allah! I ask guidance from Your knowledge, And Power from Your Might and I ask for Your great blessings. You are capable and I am not. You know and I do not and You know the unseen. O Allah! If You know that this job is good for my religion and my subsistence and in my Hereafter--(or said: If it is better for my present and later needs)--Then You ordain it for me and make it easy for me to get, And then bless me in it, and if You know that this job is harmful to me In my religion and subsistence and in the Hereafter--(or said: If it is worse for my present and later needs)--Then keep it away from me and let me be away from it. And ordain for me whatever is good for me, And make me satisfied with it). The Prophet (ﷺ) added that then the person should name (mention) his need.
ہم سے قتیبہ نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے عبدالرحمٰن بن ابی الموال نے بیان کیا ، ان سے محمد بن منکدر نے اور ان سے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں اپنے تمام معاملات میں استخارہ کرنے کی اسی طرح تعلیم دیتے تھے جس طرح قرآن کی کوئی سورت سکھلاتے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے کہ جب کوئی اہم معاملہ تمہارے سامنے ہو تو فرض کے علاوہ دو رکعت نفل پڑھنے کے بعد یہ دعا پڑھے «اللهم إني أستخيرك بعلمك وأستقدرك بقدرتك ، وأسألك من فضلك العظيم ، فإنك تقدر ولا أقدر وتعلم ولا أعلم وأنت علام الغيوب ، اللهم إن كنت تعلم أن هذا الأمر خير لي في ديني ومعاشي وعاقبة أمري («أو قال») عاجل أمري وآجله فاقدره لي ويسره لي ثم بارك لي فيه ، وإن كنت تعلم أن هذا الأمر شر لي في ديني ومعاشي وعاقبة أمري أو قال في عاجل أمري وآجله فاصرفه عني واصرفني عنه ، واقدر لي الخير» ( ترجمہ ) ” اے میرے اللہ ! میں تجھ سے تیرے علم کی بدولت خیر طلب کرتا ہوں اور تیری قدرت کی بدولت تجھ سے طاقت مانگتا ہوں اور تیرے فضل عظیم کا طلبگار ہوں کہ قدرت تو ہی رکھتا ہے اور مجھے کوئی قدرت نہیں ۔ علم تجھ ہی کو ہے اور میں کچھ نہیں جانتا اور تو تمام پوشیدہ باتوں کو جاننے والا ہے ۔ اے میرے اللہ ! اگر تو جانتا ہے کہ یہ کام جس کے لیے استخارہ کیا جا رہا ہے میرے دین دنیا اور میرے کام کے انجام کے اعتبار سے میرے لیے بہتر ہے یا ( آپ نے یہ فرمایا کہ ) میرے لیے وقتی طور پر اور انجام کے اعتبار سے یہ ( خیر ہے ) تو اسے میرے لیے نصیب کر اور اس کا حصول میرے لیے آسان کر اور پھر اس میں مجھے برکت عطا کر اور اگر تو جانتا ہے کہ یہ کام میرے دین ، دنیا اور میرے کام کے انجام کے اعتبار سے برا ہے ۔ یا ( آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ کہا کہ ) میرے معاملہ میں وقتی طور پر اور انجام کے اعتبار سے ( برا ہے ) تو اسے مجھ سے ہٹا دے اور مجھے بھی اس سے ہٹا دے ۔ پھر میرے لیے خیر مقدر فرما دے ، جہاں بھی وہ ہو اور اس سے میرے دل کو مطمئن بھی کر دے “ ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس کام کی جگہ اس کام کا نام لے ۔
Narrated Abu Qatada bin Rabi Al-Ansari رضی اللہ عنہ :
The Prophet (ﷺ) said, "If anyone of you enters a Mosque, he should not sit until he has offered a tworak` at prayer."
ہم سے مکی بن ابراہیم نے بیان کیا ، ان سے عبداللہ بن سعید نے ، ان سے عامر بن عبداللہ بن زبیر نے بیان کیا ، انہوں نے عمرو بن سلیم زرقی سے ، انہوں نے ابوقتادہ بن ربعی انصاری صحابی رضی اللہ عنہ سے ، انہوں نے کہا کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب کوئی تم میں سے مسجد میں آئے تو نہ بیٹھے جب تک دو رکعت ( تحیۃ المسجد کی ) نہ پڑھ لے ۔
Narrated Anas bin Malik رضی اللہ عنہ :
Allah's Messenger (ﷺ) led us and offered a two rak`at prayer and then went away.
ہم سے عبداللہ بن یوسف تنیسی نے بیان کیا ، کہا کہ ہمیں امام مالک نے خبر دی ، انہیں اسحاق بن عبداللہ بن ابی طلحہ نے اور انہیں انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے کہ
ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( ہمارے گھر میں جب دعوت میں آئے تھے ) دو رکعت نماز پڑھائی اور پھر واپس تشریف لے گئے ۔
Narrated `Abdullah bin `Umar رضی اللہ عنہما:
I offered with Allah's Messenger (ﷺ) a two rak`at prayer before the Zuhr prayer and two rak`at after the Zuhr prayer, two rak`at after Jumua, Maghrib and `Isha' prayers.
ہم سے یحی بن بکیر نے بیان کیا ، انہوں نے کہا کہ ہم سے لیث نے عقیل سے بیان کیا ، عقیل سے ابن شہاب نے ، انہوں نے کہا کہ مجھے سالم نے خبر دی اور انہیں حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے ، آپ نے بتلایا کہ
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ظہر سے پہلے دو رکعت سنت پڑھی اور ظہر کے بعد دو رکعت اور جمعہ کے بعد دو رکعت اور مغرب کے بعد دو رکعت اور عشاء کے بعد بھی دو رکعت ( نماز سنت ) پڑھی ہے ۔
Narrated Jabir bin `Abdullah رضی اللہ عنہما :
While delivering a sermon, Allah's Messenger (ﷺ) said, "If anyone of you comes while the Imam is delivering the sermon or has come out for it, he should offer a two rak`at prayer."
ہم سے آدم بن ابی ایاس نے بیان کیا ، کہا کہ ہمیں شعبہ نے خبر دی ، انہیں عمرو بن دینار نے خبر دی ، کہا کہ میں نے جابر بن عبداللہ انصاری رضی اللہ عنہما سے سنا کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جمعہ کا خطبہ دیتے ہوئے فرمایا کہ جو شخص بھی ( مسجد میں ) آئے اور امام خطبہ دے رہا ہو یا خطبہ کے لیے نکل چکا ہو تو وہ دو رکعت نماز ( تحیۃ المسجد کی ) پڑھ لے ۔
Narrated Mujahid:
Somebody came to the house of Ibn `Umar رضی اللہ عنہما and told him that Allah's Messenger (ﷺ)s had entered the Ka`ba. Ibn `Umar said, "I went in front of the Ka`ba and found that Allah's Messenger (ﷺ) had come out of the Ka`ba and I saw Bilal standing by the side of the gate of the Ka`ba. I said, 'O Bilal! Has Allah's Apostle prayed inside the Ka`ba?' Bilal replied in the affirmative. I said, 'Where (did he pray)?' He replied, '(He prayed) Between these two pillars and then he came out and offered a two rak`at prayer in front of the Ka`ba.' " Abu `Abdullah said: Abu Huraira رضی اللہ عنہ said, "The Prophet (ﷺ) advised me to offer two rak`at of Duha prayer (prayer to be offered after sunrise and before midday). " Itban (bin Malik) said, "Allah's Messenger (ﷺ) and Abu Bakr, came to me after sunrise and we aligned behind the Prophet (ﷺ) and offered two rak`at."
ہم سے ابونعیم نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے سیف بن سلیمان نے بیان کیا کہ میں نے مجاہد سے سنا ، انہوں نے فرمایا کہ
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما ( مکہ شریف میں ) اپنے گھر آئے ۔ کسی نے کہا بیٹھے کیا ہو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم یہ آ گئے بلکہ کعبہ کے اندر بھی تشریف لے جا چکے ہیں ۔ عبداللہ نے کہا یہ سن کر میں آیا ۔ دیکھا تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کعبہ سے باہر نکل چکے ہیں اور بلال رضی اللہ عنہ دروازے پر کھڑے ہیں ۔ میں نے ان سے پوچھا کہ اے بلال ! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کعبہ میں نماز پڑھی ؟ انہوں نے کہا کہ ہاں پڑھی تھی ۔ میں نے پوچھا کہ کہاں پڑھی تھی ؟ انہوں نے بتایا کہ یہاں ان دو ستونوں کے درمیان ۔ پھر آپ باہر تشریف لائے اور دو رکعتیں کعبہ کے دروازے کے سامنے پڑھیں اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ مجھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے چاشت کی دو رکعتوں کی وصیت کی تھی اور عتبان نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہما صبح دن چڑھے میرے گھر تشریف لائے ۔ ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے صف بنا لی اور آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے دو رکعت نماز پڑھائی ۔
Narrated Ibn `Umar رضی اللہ عنہما :
I performed prayer along with the prophet (ﷺ), so he (ﷺ) performed two units before the Zuhr and two units after the Maghrib, two units after the Isha, two units after the Friday prayer, and would perform Sunnah units of the Maghrib and the Isha at home. Ibn-e-Abu Zinad, Musa bin Uqbah ,Nafi'i have reported "بَعْدَ الْعِشَاءِ فِي أَهْلِهِ" . Katheer bin Ferqad and Ayyub corroborated him from Nafi'i. He said that his sister, Hadrat Hafsah, narrated the Hadith to him: The prophet (ﷺ) would perform two short units after the sunrise and at that hour I did not use to enter the prophet's house. Katheer bin Ferqad and Ayyub corroborated him from Nafi'i and Ibn-e-Abu Zinad from Musa bin Uqbah and he reported "بَعْدَ الْعِشَاءِ فِي أَهْلِهِ" from Nafi'i.
ہم سے مسدد بن مسرہد نے بیان کیا ، انہوں نے کہا کہ ہم سے یحییٰ بن سعید قطان نے بیان کیا ، ان سے عبیداللہ عمری نے بیان کیا ، انہوں نے کہا کہ مجھے نافع نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہماسے خبر دی ، انہوں نے کہا کہ
میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ظہر سے پہلے دو رکعت سنت ، ظہر کے بعد دو رکعت سنت ، مغرب کے بعد دو رکعت سنت ، عشاء کے بعد دو رکعت سنت اور جمعہ کے بعد دو رکعت سنت پڑھی ہیں اور مغرب اور عشاء کی سنتیں آپ گھر میں پڑھتے تھے ۔ ابوالزناد نے موسیٰ بن عقبہ کے واسطہ سے بیان کیا اور ان سے نافع نے کہ عشاء کے بعد اپنے گھر میں ( سنت پڑھتے تھے ) ان کی روایت کی متابعت کثیر بن فرقد اور ایوب نے نافع کے واسطہ سے کی ہے ۔ ان سے ( ابن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ ) میری بہن حفصہ رضی اللہ عنہا نے مجھ سے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فجر ہونے کے بعد دو ہلکی رکعتیں ( سنت فجر ) پڑھتے اور یہ ایسا وقت ہوتا کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس نہیں جاتی تھی ۔ عبیداللہ کے ساتھ اس حدیث کو کثیر بن فرقد اور ایوب نے بھی نافع سے روایت کیا اور ابن ابی الزناد نے اس حدیث کو موسیٰ بن عقبہ سے ، انہوں نے نافع سے روایت کیا ۔ اس میں «في بيته» کے بدل «في أهله» ہے ۔
Narrated Ibn `Abbas رضی اللہ عنہما :
I offered with Allah's Messenger (ﷺ) eight rak`at (of Zuhr and `Asr prayers) together and seven rak`at (the Maghrib and the `Isha' prayers) together.' " I said, "O Abu Ash-shatha! I think he must have prayed the Zuhr late and the `Asr early; the `Isha early and the Maghrib late." Abu Ash-sha'tha' said, "I also think so." (See Hadith No. 518 Vol. 1).
ہم سے علی بن عبداللہ مدینی نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے سفیان بن عیینہ نے عمرو بن دینار سے بیان کیا ، انہوں نے کہا کہ میں نے ابوالشعثاء جابر بن عبداللہ سے سنا ، انہوں نے بیان کیا کہ میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے سنا ، انہوں نے کہا کہ
میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ آٹھ رکعت ایک ساتھ ( ظہر اور عصر ) اور سات رکعت ایک ساتھ ( مغرب اور عشاء ملا کر ) پڑھیں ۔ ( بیچ میں سنت وغیرہ کچھ نہیں ) ابوالشعثاء سے میں نے کہا میرا خیال ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر آخر وقت میں اور عصر اول وقت میں پڑھی ہو گی ۔ اسی طرح مغرب آخر وقت میں پڑھی ہو گی اور عشاء اول وقت میں ۔ ابوالشعثاء نے کہا کہ میرا بھی یہی خیال ہے ۔
Narrated Ibn `Umar:
"Do you offer the Duha prayer?" He replied in the negative. I further asked, "Did `Umar use to pray it?" He (Ibn `Umar) replied in the negative. I again asked, "Did Abu Bakr رضی اللہ عنہ use to pray it?" He replied in the negative. I again asked, "Did the Prophet (ﷺ) use to pray it?" Ibn `Umar replied, "I don't think he did."
ہم سے مسدد بن مسرہد نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے یحی بن سعید قطان نے بیان کیا ، ان سے شعبہ بن حجاج نے ، ان سے توبہ بن کیسان نے ، ان سے مورق بن مشمرج نے ، انہوں نے بیان کیا کہ میں نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے پوچھا کہ
کیا آپ چاشت کی نماز پڑھتے ہیں ؟ انہوں نے فرمایا کہ نہیں ۔ میں نے پوچھا اور عمر پڑھتے تھے ؟ آپ نے فرمایا کہ نہیں ۔ میں نے پوچھا اور ابوبکر رضی اللہ عنہ ؟ فرمایا نہیں ۔ میں نے پوچھا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ؟ فرمایا نہیں ۔ میرا خیال یہی ہے ۔
Narrated `Abdur Rahman bin Abi Laila:
Only Um Hani رضی اللہ عنہا narrated to me that she had seen the Prophet (ﷺ) offering the Duha prayer. She said, "On the day of the conquest of Mecca, the Prophet (ﷺ) entered my house, took a bath and offered eight rak`at (of Duha prayers. I had never seen the Prophet (ﷺ) offering such a light prayer but he performed bowing and prostrations perfectly .
ہم سے آدم بن ابی ایاس نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے شعبہ نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے عمرو بن مرہ نے بیان کیا ، انہوں نے کہا کہ میں نے عبدالرحمٰن بن ابی لیلی سے سنا ، وہ کہتے تھے کہ
مجھ سے ام ہانی رضی اللہ عنہا کے سوا کسی ( صحابی ) نے یہ نہیں بیان کیا کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو چاشت کی نماز پڑھتے دیکھا ہے ۔ صرف ام ہانی رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ فتح مکہ کے دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے گھر تشریف لائے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے غسل کیا اور پھر آٹھ رکعت ( چاشت کی ) نماز پڑھی ۔ تو میں نے ایسی ہلکی پھلکی نماز کبھی نہیں دیکھی ۔ البتہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم رکوع اور سجدہ پوری طرح ادا کرتے تھے ۔
Narrated `Aisha رضی اللہ عنہا :
I never saw the Prophet (ﷺ) offering the Duha prayer but I always offer it.
ہم سے آدم بن ابی ایاس نے بیان کیا ، انہوں نے کہا کہ ہم سے ابن ابی ذئب نے بیان کیا ، ان سے زہری نے بیان کیا ، ان سے عروہ بن زبیر نے ، ان سے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے کہ
میں نے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو چاشت کی نماز پڑھتے نہیں دیکھا مگر میں خود پڑھتی ہوں ۔
Narrated Abu Huraira رضی اللہ عنہ :
My friend (the Prophet) advised me to do three things and I shall not leave them till I die, these are: To fast three days every month, to offer the Duha prayer, and to offer witr before sleeping.
ہم سے مسلم بن ابرہیم نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہمیں شعبہ نے خبر دی ، انہوں نے کہا ہم سے عباس جریری نے جو فروخ کے بیٹے تھے بیان کیا ، ان سے ابوعثمان نہدی نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ
مجھے میرے جانی دوست ( نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ) نے تین چیزوں کی وصیت کی ہے کہ موت سے پہلے ان کو نہ چھوڑوں ۔ ہر مہینہ میں تین دن روزے ۔ چاشت کی نماز اور وتر پڑھ کر سونا ۔
Narrated Anas bin Malik al-Ansari رضی اللہ عنہ :
"An Ansari man, who was very fat, said to the Prophet, 'I am unable to present myself for the prayer with you.' He prepared a meal for the Prophet (ﷺ) and invited him to his house. He washed one side of a mat with water and the Prophet (ﷺ) offered two Rakat on it." So and so, the son of so and so, the son of Al-Jarud asked Anas, "Did the Prophet (ﷺ) use to offer the Duha prayer?" Anas replied, "I never saw him praying (the Duha prayer) except on that day."
ہم سے علی بن جعد نے بیان کیا کہ ہم کوشعبہ نے خبر دی ، ان سے انس بن سیرین نے بیان کیا کہ میں نے انس بن مالک انصاری رضی اللہ عنہ سے سنا کہ
انصار میں سے ایک شخص ( عتبان بن مالک ) نے جو بہت موٹے آدمی تھے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھنے کی طاقت نہیں رکھتا ( مجھ کو گھر پر نماز پڑھنے کی اجازت دیجئیے تو ) انہوں نے اپنے گھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے کھانا پکوایا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے گھر بلایا اور ایک چٹائی کے کنارے کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے پانی سے صاف کیا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر دو رکعت نماز پڑھی ۔ اور فلاں بن فلاں بن جارود نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم چاشت کی نماز پڑھا کرتے تھے ؟ تو آپ نے فرمایا کہ میں نے اس روز کے سوا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کبھی یہ نماز پڑھتے نہیں دیکھا ۔
Narrated Ibn 'Umar رضی اللہ عنہما :
I remember ten Rakat of Nawafil from the Prophet, two Rakat before the Zuhr prayer and two after it; two Rakat after Maghrib prayer in his house, and two Rakat after 'Isha' prayer in his house, and two Rakat before the Fajr prayer and at that time nobody would enter the house of the Prophet. Hafsa رضی اللہ عنہا told me that When the Moadhdhin would pronounce call to prayer at dawn, he ﷺ would perform two units
ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا ، انہوں نے کہا کہ ہم سے حماد بن زید نے بیان کیا ، ان سے ایوب سختیانی نے بیان کیا ، ان سے نافع نے ، ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا کہ
مجھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے دس رکعت سنتیں یاد ہیں ۔ دو رکعت سنت ظہر سے پہلے ، دو رکعت سنت ظہر کے بعد ، دو رکعت سنت مغرب کے بعد اپنے گھر میں ، دو رکعت سنت عشاء کے بعد اپنے گھر میں اور دو رکعت سنت صبح کی نماز سے پہلے اور یہ وہ وقت ہوتا تھا جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کوئی نہیں جاتا تھا ۔ مجھ کو ام المؤمنین حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا نے بتلایا کہ مؤذن جب اذان دیتا اور فجر ہو جاتی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم دو رکعتیں پڑھتے ۔
Narrated Aisha:
The Prophet (ﷺ) never missed four rak`at before the Zuhr prayer and two rak`at before the Fajr prayer. Ibn-u-Abi Adiyy and Amr corroborated him from shobah.
ہم سے مسدد بن مسرہد نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے یحییٰ بن سعید قطان نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے شعبہ نے ، ان سے ابرہیم بن محمد بن منتشر نے ، ان سے ان کے باپ محمد بن منتشر نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ظہر سے پہلے چار رکعت سنت اور صبح کی نماز سے پہلے دو رکعت سنت نماز پڑھنی نہیں چھوڑتے تھے ۔ یحییٰ کے ساتھ اس حدیث کو ابن ابی عدی اور عمرو بن مرزوق نے بھی شعبہ سے روایت کیا ۔
Narrated `Abdullah Al-Muzni رضی اللہ عنہ :
The Prophet (ﷺ) said, "Pray before the Maghrib (compulsory) prayer." He (said it thrice) and in the third time, he said, "Whoever wants to offer it can do so." He said so because he did not like the people to take it as a tradition.
ہم سے ابو معمر نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے عبدالوارث نے بیان کیا ، ان سے حسین معلم نے ، ان سے عبداللہ بن بریدہ نے ، انہوں نے کہا کہ مجھ سے عبداللہ بن مغفل مزنی رضی اللہ عنہ نے بیان کیا
ان سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ مغرب کے فرض سے پہلے ( سنت کی دو رکعتیں ) پڑھا کرو ۔ تیسری مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یوں فرمایا کہ جس کا جی چاہے کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات پسند نہ تھی کہ لوگ اسے لازمی سمجھ بیٹھیں ۔
Narrated Marthad bin `Abdullah Al-Yazani:
I went to `Uqba bin 'Amir Al-Juhani رضی اللہ عنہ and said, "Is it not surprising that Abi Tamim offers two rak`at before the Maghrib prayer?" `Uqba said, "We used to do so in the lifetime of Allah's Messenger (ﷺ)." I asked him, "What prevents you from offering it now?" He replied, "Business."
ہم سے عبداللہ بن یزید نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے سعید بن ابی ایوب نے بیان کیا ، کہا کہ مجھ سے یزید بن ابی حبیب نے بیان کیا ، انہوں نے کہا کہ میں نے مرثد بن عبداللہ یزنی سے سنا کہ
میں عقبہ بن عامر جہنی صحابی رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور عرض کیا آپ کو ابوتمیم عبداللہ بن مالک پر تعجب نہیں آیا کہ وہ مغرب کی نماز فرض سے پہلے دو رکعت نفل پڑھتے ہیں ۔ اس پر عقبہ نے فرمایا کہ ہم بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں اسے پڑھتے تھے ۔ میں نے کہا پھر اب اس کے چھوڑنے کی کیا وجہ ہے ؟ انہوں نے فرمایا کہ دنیا کے کاروبار مانع ہیں ۔