Narrated Um 'Atiyya رضی اللہ عنہا :
They had entwined the hair of the daughter of Allah's Messenger (ﷺ) in three braids. They first undid her hair, washed and then entwined it in three braids."
ہم سے احمد بن صالح نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے عبداللہ بن وہب نے بیان کیاانہیں ابن جریج نے خبر دی ، ان سے ایوب نے بیان کیا کہ میں نے حفصہ بنت سیرین سے سنا ، انہوں نے کہا کہ حضرت ام عطیہ رضی اللہ عنہا نے ہم سے بیان کیا کہ
انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی کے بالوں کو تین لٹوں میں تقسیم کر دیا تھا ۔ پہلے بال کھولے گئے پھر انہیں دھو کر ان کی تین چٹیاں کر دی گئیں ۔
Narrated Ibn Seereen:
Um 'Atiyya (an Ansari woman who gave the pledge of allegiance to the Prophet (ﷺ) ) came to Basra to visit her son, but she could not find him. She narrated to us, "The Prophet (ﷺ) came to us while we were giving bath to his (dead) daughter, he said: 'Wash her three times, five times or more, if you think it necessary, with water and Sidr, and last of all put camphor, and when you finish, notify me.' " Um 'Atiyya added, "After finishing, we informed him and he gave us his waist sheet and told us to shroud her in it and did not say more than that."I do not know which daughter of the Prophet (ﷺ) she was (Ayub said this) and he said that "الإِشْعَارَ " means to wrap the corpse in it. Ibn Sirin, also used to say the same thing that it should be wrapped around a woman's body and not tied as a garment.
ہم سے احمد نے بیان کیا ، کہا کہ مجھ سے عبداللہ بن وہب نے بیان کیا ، انہیں ابن جریج نے خبر دی ، انہیں ایوب نے خبر دی ، کہا کہ میں نے ابن سیرین سے سنا ، انہوں نے کہا کہ
ام عطیہ رضی اللہ عنہا کے یہاں انصار کی ان خواتین میں سے جنہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کی تھی ، ایک عورت آئی ، بصرہ میں انہیں اپنے ایک بیٹے کی تلاش تھی ۔ لیکن وہ نہ ملا ۔ پھر اس نے ہم سے یہ حدیث بیان کی کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی کو غسل دے رہی تھیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور فرمایا کہ تین یا پانچ مرتبہ غسل دے دو اور اگر مناسب سمجھو تو اس سے بھی زیادہ دے سکتی ہو ۔ غسل پانی اور بیری کے پتوں سے ہونا چاہیے اور آخر میں کافور بھی استعمال کر لینا ۔ غسل سے فارغ ہو کر مجھے خبر کرا دینا ۔ انہوں نے بیان کیا کہ جب ہم غسل دے چکیں ( تو اطلاع دی ) اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ازار عنایت کیا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اسے اندر بدن سے لپیٹ دو ۔ اس سے زیادہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ نہیں فرمایا ۔ مجھے یہ نہیں معلوم کہ یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی کون سی بیٹی تھیں ( یہ ایوب نے کہا ) اور انہوں نے بتایا کہ «إشعار» کا مطلب یہ ہے کہ اس میں نعش لپیٹ دی جائے ۔ ابن سیرین رحمہ اللہ بھی یہی فرمایا کرتے تھے کہ عورت کے بدن پر اسے لپیٹا جائے ازار کے طور پر نہ باندھا جائے ۔
Narrated Um 'Atiyya رضى الله عنها :
We entwined the hair of the dead daughter of the Prophet (ﷺ) into three braids. Waki said that Sufyan said, "One braid was entwined in front and the other two were entwined on the sides of the head."
ہم سے قبیصہ نے حدیث بیان کی ، ان سے سفیان نے بیان کیا ، ان سے ہشام نے ، ان سے ام ہذیل نے اور ان سے ام عطیہ نے ، انہوں نے کہا کہ
ہم نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بیٹی کے سر کے بال گوندھ کر ان کی تین چٹیاں کر دیں اور وکیع نے سفیان سے یوں روایت کیا ، ایک پیشانی کی طرف کے بالوں کی چٹیا اور دو ادھر ادھر کے بالوں کی ۔
Narrated Um 'Atiyya رضی اللہ عنہا :
One of the daughters of the Prophet (ﷺ) expired and he came to us and said, "Wash her with Sidr (water) for odd number of times, i.e. three, five or more, if you think it necessary, and in the last, put camphor or (some camphor on her), and when you finish, notify me." So when we finished we informed him. He gave his waist-sheet to us (to shroud her). We entwined the hair (of the deceased girl) in three braids and made them fall at her back.
ہم سے مسدد نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے یحییٰ بن سعید نے بیان کیا ، ان سے ہشام بن حسان نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے حفصہ نے بیان کیا ، ان سے ام عطیہ رضی اللہ عنہا نے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک صاحبزادی کا انتقال ہو گیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور فرمایا کہ ان کو پانی اور بیری کے پتوں سے تین یا پانچ مرتبہ غسل دے دو ۔ اگر تم مناسب سمجھو تو اس سے زیادہ بھی دے سکتی ہو اور آخر میں کافور یا ( آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا کہ ) تھوڑی سی کافور استعمال کرو پھر جب غسل دے چکو تو مجھے خبر دو ۔ چنانچہ فارغ ہو کر ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر دی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( ان کے کفن کے لیے ) اپنا ازار عنایت کیا ۔ ہم نے اس کے سر کے بالوں کی تین چٹیاں کر کے انہیں پیچھے کی طرف ڈال دیا تھا ۔
Narrated `Aisha رضی اللہ عنہا :
Allah's Messenger (ﷺ) was shrouded in three Yemenite white Suhuliya (pieces of cloth) of cotton, and in them there was neither a shirt nor a turban."
ہم سے محمد بن مقاتل نے بیان کیا ، انہوں نے کہا کہ ہم کو عبداللہ نے خبر دی ، انہوں نے کہا کہ ہمیں ہشام بن عروہ نے خبر دی ، انہیں ان کے باپ عروہ بن زبیر نے اور انہیں ( ان کی خالہ ) ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یمن کے تین سفید سوتی دھلے ہوئے کپڑوں میں کفن دیا گیا ان میں نہ قمیص تھی نہ عمامہ ۔
Narrated Ibn `Abbas رضی اللہ عنہما :
While a man was riding (his Mount) in `Arafat, he fell down from it (his Mount) and broke his neck (and died). The Prophet (ﷺ) said, "Wash him with water and Sidr and shroud him in two pieces of cloth, and neither perfume him, nor cover his head, for he will be resurrected on the Day of Resurrection saying, 'Labbaik,' (i.e. like a pilgrim)."
ہم سے ابوالنعمان نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے حماد نے ، ان سے ایوب نے ، ان سے سعید بن جبیر نے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہمانے بیان کیا کہ
ایک شخص میدان عرفہ میں ( احرام باندھے ہوئے ) کھڑا ہوا تھا کہ اپنی سواری سے گر پڑا اور سواری نے انہیں کچل دیا ۔ یا ( «وقصته» کے بجائے یہ لفظ ) «أوقصته» کہا ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لیے فرمایا کہ پانی اور بیری کے پتوں سے غسل دے کر دو کپڑوں میں انہیں کفن دو اور یہ بھی ہدایت فرمائی کہ انہیں خوشبو نہ لگاؤ اور نہ ان کا سر چھپاؤ ۔ کیونکہ یہ قیامت کے دن لبیک کہتا ہوا اٹھے گا ۔
Narrated Ibn `Abbas رضی اللہ عنہما :
While a man was at `Arafat (for Hajj) with Allah's Messenger (ﷺ) the fell down from his Mount and broke his neck (and died). So Allah's Messenger (ﷺ) said, "Wash him with water and Sidr and shroud him in two pieces of cloth and neither perfume him nor cover his head, for Allah will resurrect him on the Day of Resurrection and he will be saying 'Labbaik."
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا ، انہوں نے کہا کہ ہم سے حماد بن زید نے بیان کیا ، انہوں نے کہا کہ ہم سے ایوب نے ، ان سے سعید بن جبیر نے اور ان سے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ
ایک شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ میدان عرفہ میں وقوف کئے ہوئے تھا کہ وہ اپنے اونٹ سے گر پڑا اور اونٹ نے انہیں کچل دیا ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ انہیں پانی اور بیری کے پتوں سے غسل دے کر دو کپڑوں کا کفن دو ، خوشبو نہ لگاؤ اور نہ سر ڈھکو کیونکہ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن انہیں لبیک کہتے ہوئے اٹھائے گا ۔
Narrated Ibn `Abbas رضی اللہ عنہما :
A man was killed by his camel while we were with the Prophet (ﷺ) and he was a Muhrim. So the Prophet (ﷺ) said, "Wash him with water and Sidr and shroud him in two pieces of cloth and neither perfume him nor cover his head, for Allah will resurrect him on the Day of Resurrection and he will be saying 'Labbaik' . "
ہم سے ابو النعمان نے بیان کیا ، انہوں نے کہا کہ ہم کو ابو عوانہ نے خبر دی ، انہیں ابو بشر جعفر نے ، انہیں سعید بن جبیر نے ، انہیں حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے کہ
ایک مرتبہ ہم لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ احرام باندھے ہوئے تھے کہ ایک شخص کی گردن اس کے اونٹ نے توڑ ڈالی ۔ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ انہیں پانی اور بیری کے پتوں سے غسل دے دو اور کپڑوں کا کفن دو اور خوشبو نہ لگاؤ نہ ان کے سر کو ڈھکو ۔ اس لیے کہ اللہ تعالیٰ انہیں اٹھائے گا ۔ اس حالت میں کہ وہ لبیک پکارتا ہو گا ۔
Narrated Ibn `Abbas رضی اللہ عنہما :
A man fell from his Mount and died while he was with the Prophet (ﷺ) at `Arafat. The Prophet (ﷺ) said, "Wash him with water and Sidr and shroud him in two pieces of cloth and neither perfume him nor cover his head, for he will be resurrected on the Day of Resurrection saying, 'Labbaik'."Ayyub said (i.e.) saying Talbiyyah (will go together) and Amr quoted the word «Milbiyya» (after «Milbiy» in his tradition). (i.e. speaking back).
ہم سے مسدد نے بیان کیا ، ان سے حماد بن زید نے ، ان سے عمرو اور ایوب نے ، ان سے سعید بن جبیر نے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہ
ایک شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ میدان عرفات میں کھڑا ہوا تھا ، اچانک وہ اپنی سواری سے گر پڑا ۔ ایوب نے کہا اونٹنی نے اس کی گردن توڑ ڈالی ۔ اور عمرو نے یوں کہا کہ اونٹنی نے اس کو گرتے ہی مار ڈالا اور اس کا انتقال ہو گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اسے پانی اور بیری کے پتوں سے غسل دو اور دو کپڑوں کا کفن دو اور خوشبو نہ لگاؤ نہ سر ڈھکو کیونکہ قیامت میں یہ اٹھایا جائے گا ۔ ایوب نے کہا کہ ( یعنی ) تلبیہ کہتے ہوئے ( اٹھایا جائے گا ) اور عمرو نے ( اپنی روایت میں «ملبی» کے بجائے ) «ملبيا» کا لفظ نقل کیا ۔ ( یعنی لبیک کہتا ہوا اٹھے گا ) ۔
Narrated Ibn `Umar رضی اللہ عنہما :
When `Abdullah bin Ubai (the chief of hypocrites) died, his son came to the Prophet (ﷺ) and said, "O Allah's Messenger (ﷺ)! Please give me your shirt to shroud him in it, offer his funeral prayer and ask for Allah's forgiveness for him." So Allah's Messenger (ﷺ) gave his shirt to him and said, "Inform me (When the funeral is ready) so that I may offer the funeral prayer." So, he informed him and when the Prophet intended to offer the funeral prayer, `Umar رضی اللہ عنہ took hold of his hand and said, "Has Allah not forbidden you to offer the funeral prayer for the hypocrites? The Prophet (ﷺ) said, "I have been given the choice for Allah says: '(It does not avail) Whether you (O Muhammad) ask forgiveness for them (hypocrites), or do not ask for forgiveness for them. Even though you ask for their forgiveness seventy times, Allah will not forgive them. (9.80)" So the Prophet (ﷺ) offered the funeral prayer and on that the revelation came: "And never (O Muhammad) pray (funeral prayer) for any of them (i.e. hypocrites) that dies." (9. 84)
ہم سے مسدد نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے یحییٰ بن سعید قطان نے بیان کیا ، ان سے عبیداللہ عمری نے کہا کہ مجھ سے نافع نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے بیان کیا کہ
جب عبداللہ بن ابی ( منافق ) کی موت ہوئی تو اس کا بیٹا ( عبداللہ صحابی ) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آیا اور عرض کی کہ یا رسول اللہ ! والد کے کفن کے لیے آپ اپنی قمیص عنایت فرمائیے اور ان پر نماز پڑھئے اور مغفرت کی دعا کیجئے ۔ چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی قمیص ( غایت مروت کی وجہ سے ) عنایت کی اور فرمایا کہ مجھے بتانا میں نماز جنازہ پڑھوں گا ۔ عبداللہ نے اطلاع بھجوائی ۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھا نے کے لیے آگے بڑھے تو عمر رضی اللہ عنہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو پیچھے سے پکڑ لیا اور عرض کیا کہ کیا اللہ تعالیٰ نے آپ کو منافقین کی نماز جنازہ پڑھنے سے منع نہیں کیا ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مجھے اختیار دیا گیا ہے جیسا کہ ارشاد باری ہے ” تو ان کے لیے استغفار کر یا نہ کر اور اگر تو ستر مرتبہ بھی استغفار کرے تو بھی اللہ انہیں ہرگز معاف نہیں کرے گا “ چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھائی ۔ اس کے بعد یہ آیت اتری ” کسی بھی منافق کی موت پر اس کی نماز جنازہ کبھی نہ پڑھانا “ ۔
Narrated Jabir رضی اللہ عنہ :
The Prophet (ﷺ) came to (the grave of) `Abdullah bin Ubai after his body was buried. The body was brought out and then the Prophet (ﷺ) put his saliva over the body and clothed it in his shirt.
ہم سے مالک بن اسماعیل نے بیان کیا ، ان سے ابن عیینہ نے بیان کیا ، ان سے عمرونے ، انہوں نے جابر رضی اللہ عنہ سے سنا کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو عبداللہ بن ابی کو دفن کیا جا رہا تھا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے قبر سے نکلوایا اور اپنا لعاب دہن اس کے منہ میں ڈالا اور اپنی قمیص پہنائی ۔
Narrated `Aisha رضی اللہ عنہا :
The Prophet (ﷺ) was shrouded in three pieces of cloth which were made of Suhul (a type of cotton), and neither a shirt nor a turban were used.
ہم سے ابونعیم نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے سفیان ثوری نے بیان کیا ‘ ان سے ہشام بن عروہ نے ‘ ان سے عروہ بن زبیر نے ‘ ان سے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو تین سوتی دھلے ہوئے کپڑوں کا کفن دیا گیا تھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے کفن میں نہ قمیص تھی اور نہ عمامہ ۔
Narrated `Aisha رضی اللہ عنہا :
Allah's Messenger (ﷺ) was shrouded in three pieces of cloth and neither a shirt nor a turban were used.
ہم سے مسدد نے بیان کیا ، ان سے یحییٰ نے ان سے ہشام نے ان سے ان کے باپ عروہ بن زبیر نے ان سے ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تین کپڑوں میں کفن دیا گیا تھا جن میں نہ قمیص تھی اور نہ عمامہ تھا ۔ حضرت امام ابوعبداللہ بخاری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ابونعیم نے لفظ «ثلاثة» نہیں کہا اور عبداللہ بن ولید نے سفیان سے لفظ «ثلاثة» نقل کیا ہے ۔
Narrated Aisha:
Allah's Messenger (ﷺ) was shrouded in three pieces of cloth which were made of white Suhul and neither a shirt nor a turban were used.
ہم سے اسماعیل نے بیان کیا کہا کہ مجھ سے مالک نے بیان کیا ‘ ان سے ہشام بن عروہ نے ‘ ان سے ان کے باپ عروہ بن زبیر نے ‘ ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہ
رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو سحول کے تین سفید کپڑوں کا کفن دیا گیا تھا نہ ان میں قمیص تھی اور نہ عمامہ تھا ۔
Narrated Sa`d from his father:
Once the meal of `Abdur-Rahman bin `Auf رضی اللہ عنہ was brought in front of him, and he said, "Mus`ab bin `Umair رضی اللہ عنہ was martyred and he was better than I, and he had nothing except his Burd (a black square narrow dress) to be shrouded in. Hamza رضی اللہ عنہ or another person was martyred and he was also better than I and he had nothing to be shrouded in except his Burd. No doubt, I fear that the rewards of my deeds might have been given early in this world." Then he started weeping.
ہم سے احمد بن محمد مکی نے بیان کیا ‘ کہا کہ ہم سے ابراہیم بن سعد نے ‘ ان سے ان کے باپ سعد نے اور ان سے ان کے والد ابراہیم بن عبدالرحمٰن نے بیان کیا کہ
عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کے سامنے ایک دن کھانا رکھا گیا تو انہوں نے فرمایا کہ مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ ( غزوہ احد میں ) شہید ہوئے ‘ وہ مجھ سے افضل تھے ۔ لیکن ان کے کفن کے لیے ایک چادر کے سوا اور کوئی چیز مہیا نہ ہو سکی ۔ اسی طرح جب حمزہ رضی اللہ عنہ شہید ہوئے یا کسی دوسرے صحابی کا نام لیا ‘ وہ بھی مجھ سے افضل تھے ۔ لیکن ان کے کفن کے لیے بھی صرف ایک ہی چادر مل سکی ۔ مجھے تو ڈر لگتا ہے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ ہمارے چین اور آرام کے سامان ہم کو جلدی سے دنیا ہی میں دے دئیے گئے ہوں پھر وہ رونے لگے ۔
Narrated Ibrahim:
Once a meal was brought to `Abdur-Rahman bin `Auf and he was fasting. He said, "Mustab bin `Umar was martyred and he was better than I and was shrouded in his Burd and when his head was covered with it, his legs became bare, and when his legs were covered his head got uncovered. Hamza was martyred and was better than I. Now the worldly wealth have been bestowed upon us (or said a similar thing). No doubt, I fear that the rewards of my deeds might have been given earlier in this world." Then he started weeping and left his food.
ہم سے محمد بن مقاتل نے بیان کیا ‘ کہا کہ ہم کو عبداللہ بن مبارک نے خبر دی ‘ کہا کہ ہم کو شعبہ نے خبر دی ‘ انہیں سعد بن ابراہیم نے ‘ انہیں ان کے باپ ابراہیم بن عبدالرحمٰن نے کہ
عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کے سامنے کھانا حاضر کیا گیا ۔ وہ روزہ سے تھے اس وقت انہوں نے فرمایا کہ ہائے ! مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ شہید کئے گئے ‘ وہ مجھ سے بہتر تھے ۔ لیکن ان کے کفن کے لیے صرف ایک چادر میسر آ سکی کہ اگر اس سے ان کا سر ڈھانکا جاتا تو پاؤں کھل جاتے اور پاؤں ڈھانکے جاتے تو سر کھل جاتا اور میں سمجھتا ہوں کہ انہوں نے یہ بھی فرمایا اور حمزہ رضی اللہ عنہ بھی ( اسی طرح ) شہید ہوئے وہ بھی مجھ سے اچھے تھے ۔ پھر ان کے بعد دنیا کی کشادگی ہمارے لیے خوب ہوئی یا یہ فرمایا کہ دنیا ہمیں بہت دی گئی اور ہمیں تو اس کا ڈر لگتا ہے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ ہماری نیکیوں کا بدلہ اسی دنیا میں ہم کو مل گیا ہو پھر آپ اس طرح رونے لگے کہ کھانا بھی چھوڑ دیا ۔
Narrated Khabbab رضی اللہ عنہ :
We emigrated with the Prophet (ﷺ) in Allah's cause, and so our reward was then surely incumbent on Allah. Some of us died and they did not take anything from their rewards in this world, and amongst them was Mustab bin `Umar رضی اللہ عنہ ; and the others were those who got their rewards. Mustab bin `Umar رضی اللہ عنہ was martyred on the day of the Battle of Uhud and we could get nothing except his Burd to shroud him in. And when we covered his head his feet became bare and vice versa. So the Prophet (ﷺ) ordered us to cover his head only and to put idhkhir (a kind of shrub) over his feet.
ہم سے عمر بن حفص بن غیاث نے بیان کیا ‘ کہا کہ ہم سے میرے والد نے بیان کیا ‘ کہا کہ ہم سے اعمش نے بیان کیا ‘ کہا کہ ہم سے شقیق نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے خباب بن ارت رضی اللہ عنہ نے بیان کیا ‘ کہ
ہم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ صرف اللہ کے لیے ہجرت کی ۔ اب ہمیں اللہ تعالیٰ سے اجر ملنا ہی تھا ۔ ہمارے بعض ساتھی تو انتقال کر گئے اور ( اس دنیا میں ) انہوں نے اپنے کئے کا کوئی پھل نہیں دیکھا ۔ مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ بھی انہیں لوگوں میں سے تھے اور ہمارے بعض ساتھیوں کا میوہ پک گیا اور وہ چن چن کر کھاتا ہے ۔ ( مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ ) احد کی لڑائی میں شہید ہوئے ہم کو ان کے کفن میں ایک چادر کے سوا اور کوئی چیز نہ ملی اور وہ بھی ایسی کہ اگر اس سے سر چھپاتے ہیں تو پاؤں کھل جاتا ہے اور اگر پاؤں ڈھکتے تو سر کھل جاتا ۔ آخر یہ دیکھ کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ سر کو چھپا دیں اور پاؤں پر سبز گھاس اذخر نامی ڈال دیں ۔
Narrated Sahl رضی اللہ عنہ :
A woman brought a woven Burda (sheet) having edging (border) to the Prophet (ﷺ), Then Sahl asked them whether they knew what is Burda, they said that Burda is a cloak and Sahl رضی اللہ عنہ confirmed their reply. Then the woman said, "I have woven it with my own hands and I have brought it so that you may wear it." The Prophet (ﷺ) accepted it, and at that time he was in need of it. So he came out wearing it as his waist-sheet. A man praised it and said, "Will you give it to me? How nice it is!" The other people said, "You have not done the right thing as the Prophet (ﷺ) is in need of it and you have asked for it when you know that he never turns down anybody's request." The man replied, "By Allah, I have not asked for it to wear it but to make it my shroud." Later it was his shroud.
ہم سے عبداللہ بن مسلمہ قعنبی نے بیان کیا ‘ کہا کہ ہم سے عبدالعزیز بن ابی حازم نے بیان کیا ‘ ان سے ان کے باپ نے اور ان سے سہل رضی اللہ عنہ نے کہ
ایک عورت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک بنی ہوئی حاشیہ دار چادر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے تحفہ لائی ۔ سہل بن سعد رضی اللہ عنہ نے ( حاضرین سے ) پوچھا کہ تم جانتے ہو چادر کیا ؟ لوگوں نے کہا کہ جی ہاں ! شملہ ۔ سہل رضی اللہ عنہ نے کہا ہاں شملہ ( تم نے ٹھیک بتایا ) خیر اس عورت نے کہا کہ میں نے اپنے ہاتھ سے اسے بنا ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو پہنانے کے لیے لائی ہوں ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ کپڑا قبول کیا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کی اس وقت ضرورت بھی تھی پھر اسے ازار کے طور پر باندھ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم باہر تشریف لائے تو ایک صاحب ( عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ ) نے کہا کہ یہ تو بڑی اچھی چادر ہے ‘ یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے پہنا دیجئیے ۔ لوگوں نے کہا کہ آپ نے ( مانگ کر ) کچھ اچھا نہیں کیا ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اپنی ضرورت کی وجہ سے پہنا تھا اور تم نے یہ مانگ لیا حالانکہ تم کو معلوم ہے کہ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کسی کا سوال رد نہیں کرتے ۔ عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ نے جواب دیا کہ خدا کی قسم ! میں نے اپنے پہننے کے لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ چادر نہیں مانگی تھی ۔ بلکہ میں اسے اپنا کفن بناؤں گا ۔ سہل رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ وہی چادر ان کا کفن بنی ۔
Narrated Um 'Atiyya رضی اللہ عنہا :
We were forbidden to accompany funeral processions but not strictly.
ہم سے قبیصہ بن عقبہ نے بیان کیا ‘ انہوں نے کہا کہ ہم سے سفیان ثوری نے بیان کیا ‘ ان سے خالد حذاء نے ‘ ان سے ام ہذیل حفصہ بنت سیرین نے ‘ ان سے ام عطیہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ
ہمیں ( عورتوں کو ) جنازے کے ساتھ چلنے سے منع کیا گیا مگر تاکید سے منع نہیں ہوا ۔
Narrated Muhammad bin Seereen:
One of the sons of Um 'Atiyya رضی اللہ عنہا died, and when it was the third day she asked for a yellow perfume and put it over her body, and said, "We were forbidden to mourn for more than three days except for our husbands."
ہم سے مسددبن مسرہد نے بیان کیا ‘ انہوں نے کہا کہ ہم سے بشربن مفضل نے بیان کیا ‘ انہوں نے کہا کہ ہم سے سلمہ بن علقمہ نے اور ان سے محمد بن سیرین نے کہ
ام عطیہ رضی اللہ عنہا کے ایک بیٹے کا انتقال ہو گیا ۔ انتقال کے تیسرے دن انہوں نے ” صفرہ خلوق “ ( ایک قسم کی زرد خوشبو ) منگوائی اور اسے اپنے بدن پر لگایا اور فرمایا کہ خاوند کے سوا کسی دوسرے پر تین دن سے زیادہ سوگ کرنے سے ہمیں منع کیا گیا ہے ۔