Narrated Al-Bara' bin 'Azib رضی اللہ عنہما :
The Prophet (ﷺ) said, "When a faithful believer is made to sit in his grave, then (the angels) come to him and he testifies that none has the right to be worshipped but Allah and Muhammad is Allah's Apostle. And that corresponds to Allah's statement: Allah will keep firm those who believe with the word that stands firm . . . (14.27). Narrated Shu'ba: Same as above and added, "Allah will keep firm those who believe . . . (14.27) was revealed concerning the punishment of the grave."
ہم سے حفص بن عمر نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے شعبہ نے ‘ ان سے علقمہ بن مرثد نے ‘ ان سے سعد بن عبیدہ نے اور ان سے براء بن عازب رضی اللہ عنہما نے کہ ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے غندر نے کہا کہ ہم سے شعبہ نے یہی حدیث بیان کی ۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مومن جب اپنی قبر میں بٹھایا جاتا ہے تو اس کے پاس فرشتے آتے ہیں ۔ وہ شہادت دیتا ہے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں ۔ تو یہ اللہ کے اس فرمان کی تعبیر ہے جو سورۃ ابراہیم میں ہے کہ اللہ ایمان والوں کو دنیا کی زندگی اور آخرت میں ٹھیک بات یعنی توحید پر مضبوط رکھتا ہے ۔ ان کی روایت میں یہ زیادتی بھی ہے کہ آیت «يثبت الله الذين آمنوا» ” اللہ مومنوں کو ثابت قدمی بخشتا ہے ۔ “ عذاب قبر کے بارے میں نازل ہوئی ہے ۔
Narrated Ibn `Umar رضی اللہ عنہما :
The Prophet (ﷺ) looked at the people of the well (the well in which the bodies of the pagans killed in the Battle of Badr were thrown) and said, "Have you found true what your Lord promised you?" Somebody said to him, "You are addressing dead people." He replied, "You do not hear better than they but they cannot reply."
ہم سے علی بن عبداللہ مدینی نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے یعقوب بن ابراہیم نے ‘ ان سے ان کے والد نے ‘ ان سے صالح نے ‘ ان سے نافع نے کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما نے انہیں خبر دی کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کنویں والوں ( جس میں بدر کے مشرک مقتولین کو ڈال دیا گیا تھا ) کے قریب آئے اور فرمایا تمہارے مالک نے جو تم سے سچا وعدہ کیا تھا اسے تم لوگوں نے پا لیا ۔ لوگوں نے عرض کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم مردوں کو خطاب کرتے ہیں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم کچھ ان سے زیادہ سننے والے نہیں ہو البتہ وہ جواب نہیں دے سکتے ۔
Narrated `Aisha رضی اللہ عنہا :
The Prophet (ﷺ) said, "They now realize that what I used to tell them was the truth. "And Allah said, 'Verily! You cannot make the dead to hear (i.e. benefit them, and similarly the disbelievers) nor can you make the deaf hear. (27.80).
ہم سے عبداللہ بن محمد نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے ‘ ان سے ہشام بن عروہ نے ‘ ان سے ان کے والد نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بدر کے کافروں کو یہ فرمایا تھا کہ میں جو ان سے کہا کرتا تھا اب ان کو معلوم ہوا ہو گا کہ وہ سچ ہے ۔ اور اللہ نے سورۃ الروم میں فرمایا «إنك لا تسمع الموتى» اے پیغمبر ! تو مردوں کو نہیں سنا سکتا ۔
Narrated `Aisha رضی اللہ عنہا :
A Jewess came to her and mentioned the punishment in the grave, saying to her, "May Allah protect you from the punishment of the grave." `Aisha then asked Allah's Messenger (ﷺ) about the punishment of the grave. He said, "Yes, (there is) punishment in the grave." `Aisha added, "After that I never saw Allah's Messenger (ﷺ) but seeking refuge with Allah from the punishment in the grave in every prayer he prayed." Ghundar added: The tourment in the grave is a fact.
ہم سے عبدان نے بیان کیا ‘ کہا مجھ کو میرے باپ ( عثمان ) نے خبر دی ‘ انہیں شعبہ نے ‘ انہوں نے اشعث سے سنا ‘ انہوں نے اپنے والد ابوالشعثاء سے ‘ انہوں نے مسروق سے اور انہوں نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہ
ایک یہودی عورت ان کے پاس آئی ۔ اس نے عذاب قبر کا ذکر چھیڑ دیا اور کہا کہ اللہ تجھ کو عذاب قبر سے محفوظ رکھے ۔ اس پر عائشہ رضی اللہ عنہا نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عذاب قبر کے بارے میں دریافت کیا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا جواب یہ دیا کہ ہاں عذاب قبر حق ہے ۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ پھر میں نے کبھی ایسا نہیں دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کوئی نماز پڑھی ہو اور اس میں عذاب قبر سے اللہ کی پناہ نہ مانگی ہو ۔ غندر نے «عذاب القبر حق» کے الفاظ زیادہ کئے ۔
Narrated Asma' bint Abi Bakr رضی اللہ عنہا :
Allah's Messenger (ﷺ) once stood up delivering a sermon and mentioned the trial which people will face in the grave. When he mentioned that, the Muslims started shouting loudly.
ہم سے یحیٰی بن سلیمان نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ، ہم سے عبداللہ بن وہب نے بیان کیا ، انہوں نے کہا کہ مجھے یونس نے ابن شہاب سے خبر دی ، انہوں نے کہا مجھے عروہ بن زبیر نے خبر دی ، انہوں نے اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا سے سنا کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ کے لیے کھڑے ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قبر کے امتحان کا ذکر کیا جہاں انسان جانچا جاتا ہے ۔ جب حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس کا ذکر کر رہے تھے تو مسلمانوں کی ہچکیاں بندھ گئیں ۔
Narrated Anas bin Malik رضی اللہ عنہ :
Allah's Messenger (ﷺ) said, "When (Allah's) slave is put in his grave and his companions return and he even hears their footsteps, two angels come to him and make him sit and ask, 'What did you use to say about this man (i.e. Muhammad)?' The faithful Believer will say, 'I testify that he is Allah's slave and His Apostle.' Then they will say to him, 'Look at your place in the Hell Fire; Allah has given you a place in Paradise instead of it.' So he will see both his places." (Qatada said, "We were informed that his grave would be made spacious." Then Qatada went back to the narration of Anas who said;) Whereas a hypocrite or a non-believer will be asked, "What did you use to say about this man." He will reply, "I do not know; but I used to say what the people used to say." So they will say to him, "Neither did you know nor did you take the guidance (by reciting the Qur'an)." Then he will be hit with iron hammers once, that he will send such a cry as everything near to him will hear, except Jinns and human beings. (See Hadith No. 422).
ہم سے عیاش بن ولید نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے عبدالاعلیٰ نے بیان کیا ‘ کہا کہ ہم سے سعید نے بیان کیا ‘ ان سے قتادہ نے اور ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ آدمی جب اپنی قبر میں رکھا جاتا ہے اور جنازہ میں شریک ہونے والے لوگ اس سے رخصت ہوتے ہیں تو ابھی وہ ان کے جوتوں کی آواز سنتا ہوتا ہے کہ دو فرشتے ( منکر نکیر ) اس کے پاس آتے ہیں ‘ وہ اسے بٹھا کر پوچھتے ہیں کہ اس شخص یعنی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں تو کیا اعتقاد رکھتا تھا ؟ مومن تو یہ کہے گا کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں ۔ اس جواب پر اس سے کہا جائے گا کہ تو یہ دیکھ اپنا جہنم کا ٹھکانا لیکن اللہ تعالیٰ نے اس کے بدلہ میں تمہارے لیے جنت میں ٹھکانا دے دیا ۔ اس وقت اسے جہنم اور جنت دونوں ٹھکانے دکھائے جائیں گے ۔ قتادہ نے بیان کیا کہ اس کی قبر خوب کشادہ کر دی جائے گی ۔ ( جس سے آرام و راحت ملے ) پھر قتادہ نے انس رضی اللہ عنہ کی حدیث بیان کرنی شروع کی ‘ فرمایا اور منافق و کافر سے جب کہا جائے گا کہ اس شخص کے بارے میں تو کیا کہتا تھا تو وہ جواب دے گا کہ مجھے کچھ معلوم نہیں ‘ میں بھی وہی کہتا تھا جو دوسرے لوگ کہتے تھے ۔ پھر اس سے کہا جائے گا نہ تو نے جاننے کی کوشش کی اور نہ سمجھنے والوں کی رائے پر چلا ۔ پھر اسے لوہے کے گرزوں سے بڑی زور سے مارا جائے گا کہ وہ چیخ پڑے گا اور اس کی چیخ کو جن اور انسانوں کے سوا اس کے آس پاس کی تمام مخلوق سنے گی ۔
Narrated Abi Aiyub رضی اللہ عنہ :
Once the Prophet (ﷺ) went out after sunset and heard a dreadful voice, and said, "The Jews are being punished in their graves." Nadr, Shobah, Aun, his father, Hadrat Braa bin Azib رضی اللہ عنہ, Abu Ayyub Ansari رضی اللہ عنہ have reported it from the prophet (ﷺ).
ہم سے محمد بن مثنیٰ نے بیان کیا ‘ کہا کہ ہم سے یحیٰی بن سعید قطان نے ، کہا ہم سے شعبہ نے ، کہا کہ مجھ سے عون بن ابی حجیفہ نے بیان کیا ، ان سے ان کے والد ابوحجیفہ نے ، ان سے براء بن عازب نے اور ان سے ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ سے باہر تشریف لے گئے ، سورج غروب ہو چکا تھا ، اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک آواز سنائی دی ۔ ( یہودیوں پر عذاب قبر کی ) پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہودی پر اس کی قبر میں عذاب ہو رہا ہے ۔ اور نضر بن شمیل نے بیان کیا کہ ہمیں شعبہ نے خبر دی ، ان سے عون نے بیان کیا ، انہوں نے اپنے باپ ابوحجیفہ سے سنا ، انہوں نے براء سے سنا ، انہوں نے ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ۔
Narrated The daughter of Khalid bin Sa id bin Al-`Asi:
Who said that she had heard the Prophet (ﷺ) seeking refuge with Allah from the punishment in the grave.
ہم سے معلٰی بن اسد نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے وہیب نے بیان کیا ‘ ان سے موسیٰ بن عقبہ نے بیان کیا ۔ کہا کہ مجھ سے خالد بن سعید بن عاص کی صاحبزادی ( ام خالد ) نے بیان کیا ‘
وہ کہتی ہیں کہ اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو عذاب قبر سے اللہ کی پناہ مانگتے ہوئے سنا ہے۔
Narrated Abu Huraira رضی اللہ عنہ :
Allah's Messenger (ﷺ) used to invoke (Allah): "Allahumma ini a`udhu bika min 'adhabi-l-Qabr, wa min 'adhabi-nnar, wa min fitnati-l-mahya wa-lmamat, wa min fitnati-l-masih ad-dajjal. (O Allah! I seek refuge with you from the punishment in the grave and from the punishment in the Hell fire and from the afflictions of life and death, and the afflictions of Al-Masih Ad-Dajjal."
ہم سے مسلم بن ابراہیم نے بیان کیا ‘ انہوں نے کہا ہم سے ہشام دستوائی نے بیان کیا ‘ ان سے یحیٰی بن ابی کثیر نے بیان کیا ، ان سے ابوسلمہ نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس طرح دعا کرتے تھے «اللهم إني أعوذ بك من عذاب القبر ، ومن عذاب النار ، ومن فتنة المحيا والممات ، ومن فتنة المسيح الدجال» ” اے اللہ ! میں قبر کے عذاب سے تیری پناہ چاہتا ہوں اور دوزخ کے عذاب سے اور زندگی اور موت کی آزمائشوں سے اور کانے دجال کی بلا سے تیری پناہ چاہتا ہوں “ ۔
Narrated Ibn `Abbas رضی اللہ عنہما :
The Prophet (ﷺ) once passed by two graves and said, "They (the deceased persons in those graves) are being tortured not for a great thing to avoid." And then added, "Yes, (they are being punished for a big sin), for one of them used to go about with calumnies while the other never saved himself from being soiled with his urine." (Ibn `Abbas رضی اللہ عنہما added): Then he took a green leaf of a date-palm) and split it into two pieces and fixed one piece on each grave and said, "May their punishment be abated till these (two pieces) get dry."
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے جریر نے بیان کیا ‘ ان سے اعمش نے ‘ ان سے مجاہد نے ‘ ان سے طاؤس نے کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا گزر دو قبروں پر ہوا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ان دونوں کے مردوں پر عذاب ہو رہا ہے اور یہ بھی نہیں کہ کسی بڑی اہم بات پر ہو رہا ہے ۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہاں ! ان میں ایک شخص تو چغل خوری کیا کرتا تھا اور دوسرا پیشاب سے بچنے کے لیے احتیاط نہیں کرتا تھا ۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ہری ٹہنی لی اور اس کے دو ٹکڑے کر کے دونوں کی قبروں پر گاڑ دیا اور فرمایا کہ شاید جب تک یہ خشک نہ ہوں ان کا عذاب کم ہو جائے ۔
Narrated `Abdullah bin `Umar رضی اللہ عنہما :
Allah's Messenger (ﷺ) said, "When anyone of you dies, he is shown his place both in the morning and in the evening. If he is one of the people of Paradise; he is shown his place in it, and if he is from the people of the Hell-Fire; he is shown his place there-in. Then it is said to him, 'This is your place till Allah resurrect you on the Day of Resurrection."
ہم سے اسماعیل بن ابی وایس نے بیان کیا ‘ انہوں نے کہا کہ مجھ سے امام مالک رحمہ اللہ نے یہ حدیث بیان کی ‘ انہوں نے کہا کہ ہم سے نافع نے بیان کیا اور ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب تم میں سے کوئی شخص مر جاتا ہے تو اس کا ٹھکانا اسے صبح و شام دکھایا جاتا ہے ۔ اگر وہ جنتی ہے تو جنت والوں میں اور جو دوزخی ہے تو دوزخ والوں میں ۔ پھر کہا جاتا ہے یہ تیرا ٹھکانا ہے یہاں تک کہ قیامت کے دن اللہ تجھ کو اٹھائے گا ۔
Narrated Abu Sa`id Al-Khudri رضی اللہ عنہ :
Allah's Messenger (ﷺ) said, "When the funeral is ready (for its burial) and the people lift it on their shoulders, then if the deceased is a righteous person he says, 'Take me ahead,' and if he is not a righteous one then he says, 'Woe to it (me)! Where are you taking it (me)?' And his voice is audible to everything except human beings; and if they heard it they would fall down unconscious . "
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا ‘ انہوں نے کہا ہم سے لیث بن سعد نے بیان کیا ‘ ان سے سعید بن ابی سعید نے بیان کیا ‘ ان سے ان کے باپ نے بیان کیا ‘ ان سے ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے کہ
رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب جنازہ تیار ہو جاتا ہے پھر مرد اس کو اپنی گردنوں پر اٹھا لیتے ہیں تو اگر وہ مردہ نیک ہو تو کہتا ہے کہ ہاں آگے لیے چلو مجھے بڑھائے چلو اور اگر نیک نہیں ہوتا تو کہتا ہے ۔ ہائے رے خرابی ! میرا جنازہ کہاں لیے جا رہے ہو ۔ اس آواز کو انسان کے سوا تمام مخلوق خدا سنتی ہے ۔ اگر کہیں انسان سن پائیں تو بیہوش ہو جائیں ۔
Narrated Anas bin Malik رضی اللہ عنہ :
Allah's Messenger (ﷺ) said, "Any Muslim whose three children died before the age of puberty will be granted Paradise by Allah because of His mercy to them."
ہم سے یعقوب بن ابراہیم نے بیان کیا ‘ انہوں نے کہا ہم سے اسماعیل بن علیہ نے بیان کیا ‘ ان سے عبدالعزیزبن صہیب نے بیان کیا اور ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس مسلمان کے بھی تین نابالغ بچے مر جائیں تو اللہ تعالیٰ اپنے فضل و رحمت سے جو ان بچوں پر کرے گا ‘ ان کو بہشت میں لے جائے گا ۔
Narrated Al-Bara' رضی اللہ عنہ :
When Ibrahim (the son of Prophet) expired, Allah's Messenger (ﷺ) said, "There is a wet-nurse for him in Paradise."
ہم سے ابوالولید نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا ‘ ان سے عدی بن ثابت نے بیان کیا ‘ انہوں نے براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے سنا ‘ انہوں نے فرمایا کہ
جب حضرت ابراہیم ( آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے صاحبزادے ) کا انتقال ہوا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بہشت میں ان کے لیے ایک دودھ پلانے والی ہے ۔
Narrated Ibn `Abbas رضی اللہ عنہما :
Allah's Messenger (ﷺ) was asked about the children of (Mushrikeen) pagans. The Prophet (ﷺ) replied, "Since Allah created them, He knows what sort of deeds they would have done."
ہم سے حبان بن موسیٰ مروزی نے بیان کیا ‘ کہا کہ ہمیں عبداللہ بن مبارک نے خبر دی ‘ کہا کہ ہمیں شعبہ نے خبر دی ‘ انہیں ابوبشر جعفر نے ‘ انہیں سعید بن جبیرنے ‘ ان کو ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے مشرکوں کے نابالع بچوں کے بارے میں پوچھا گیا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے جب انہیں پیدا کیا تھا اسی وقت وہ خوب جانتا تھا کہ یہ کیا عمل کریں گے ۔
Narrated Abu Huraira رضی اللہ عنہ :
The Prophet (ﷺ) was asked about the offspring of pagans (Mushrikeen); so he said, "Allah knows what sort of deeds they would have done."
ہم سے ابوالیمان حکم بن نافع نے بیان کیا ‘ کہا کہ ہمیں شعیب نے زہری سے خبر دی ‘ انہوں نے کہا کہ مجھے عطاء بن یزیدلیثی نے خبر دی ‘ انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا ‘ آپ نے فرمایا کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مشرکوں کے نابالغ بچوں کے بارے میں پوچھا گیا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ خوب جانتا ہے جو بھی وہ عمل کرنے والے ہوئے۔
Narrated Abu Huraira رضی اللہ عنہ :
The Prophet (ﷺ) said, "Every child is born with a true faith of Islam (i.e. to worship none but Allah Alone) and his parents convert him to Judaism or Christianity or Magianism, as an animal delivers a perfect baby animal. Do you find it mutilated?"
ہم سے آدم بن ابی ایاس نے بیان کیا ‘ ان سے ابن ابی ذئب نے ‘ ان سے زہری نے ‘ ان سے ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہر بچہ کی پیدائش فطرت پر ہوتی ہے پھر اس کے ماں باپ اسے یہودی یا نصرانی یا مجوسی بنا دیتے ہیں بالکل اس طرح جیسے جانور کے بچے صحیح سالم ہوتے ہیں ۔ کیا تم نے ( پیدائشی طور پر ) کوئی ان کے جسم کا حصہ کٹا ہوا دیکھا ہے ۔
Narrated Samura bin Jundab رضی اللہ عنہ :
Whenever the Prophet (ﷺ) finished the (morning) prayer, he would face us and ask, "Who amongst you had a dream last night?" So if anyone had seen a dream he would narrate it. The Prophet (ﷺ) would say: "Ma sha'a-llah" (An Arabic maxim meaning literally, 'What Allah wished,' and it indicates a good omen.) One day, he asked us whether anyone of us had seen a dream. We replied in the negative. The Prophet said, "But I had seen (a dream) last night that two men came to me, caught hold of my hands, and took me to the Sacred Land (Jerusalem). There, I saw a person sitting and another standing with an iron hook in his hand pushing it inside the mouth of the former till it reached the jawbone, and then tore off one side of his cheek, and then did the same with the other side; in the meantime the first side of his cheek became normal again and then he repeated the same operation again. I said, 'What is this?' They told me to proceed on and we went on till we came to a man Lying flat on his back, and another man standing at his head carrying a stone or a piece of rock, and crushing the head of the Lying man, with that stone. Whenever he struck him, the stone rolled away. The man went to pick it up and by the time he returned to him, the crushed head had returned to its normal state and the man came back and struck him again (and so on). I said, 'Who is this?' They told me to proceed on; so we proceeded on and passed by a hole like an oven; with a narrow top and wide bottom, and the fire was kindling underneath that hole. Whenever the fire-flame went up, the people were lifted up to such an extent that they about to get out of it, and whenever the fire got quieter, the people went down into it, and there were naked men and women in it. I said, 'Who is this?' They told me to proceed on. So we proceeded on till we reached a river of blood and a man was in it, and another man was standing at its bank with stones in front of him, facing the man standing in the river. Whenever the man in the river wanted to come out, the other one threw a stone in his mouth and caused him to retreat to his original position; and so whenever he wanted to come out the other would throw a stone in his mouth, and he would retreat to his original position. I asked, 'What is this?' They told me to proceed on and we did so till we reached a well-flourished green garden having a huge tree and near its root was sitting an old man with some children. (I saw) Another man near the tree with fire in front of him and he was kindling it up. Then they (i.e. my two companions) made me climb up the tree and made me enter a house, better than which I have ever seen. In it were some old men and young men, women and children. Then they took me out of this house and made me climb up the tree and made me enter another house that was better and superior (to the first) containing old and young people. I said to them (i.e. my two companions), 'You have made me ramble all the night. Tell me all about that I have seen.' They said, 'Yes. As for the one whose cheek you saw being torn away, he was a liar and he used to tell lies, and the people would report those lies on his authority till they spread all over the world. So, he will be punished like that till the Day of Resurrection. The one whose head you saw being crushed is the one whom Allah had given the knowledge of Qur'an (i.e. knowing it by heart) but he used to sleep at night (i.e. he did not recite it then) and did not use to act upon it (i.e. upon its orders etc.) by day; and so this punishment will go on till the Day of Resurrection. And those you saw in the hole (like oven) were adulterers (those men and women who commit illegal sexual intercourse). And those you saw in the river of blood were those dealing in Riba (usury). And the old man who was sitting at the base of the tree was Abraham and the little children around him were the offspring of the people. And the one who was kindling the fire was Malik, the gatekeeper of the Hell-fire. And the first house in which you have gone was the house of the common believers, and the second house was of the martyrs. I am Gabriel and this is Michael. Raise your head.' I raised my head and saw a thing like a cloud over me. They said, 'That is your place.' I said, 'Let me enter my place.' They said, 'You still have some life which you have not yet completed, and when you complete (that remaining portion of your life) you will then enter your place.' "
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے جریربن حازم نے بیان کیا ‘ کہا کہ ہم سے ابورجاء عمران بن تمیم نے بیان کیا اور ان سے سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ نے کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نماز ( فجر ) پڑھنے کے بعد ( عموماً ) ہماری طرف منہ کر کے بیٹھ جاتے اور پوچھتے کہ آج رات کسی نے کوئی خواب دیکھا ہو تو بیان کرو ۔ راوی نے کہا کہ اگر کسی نے کوئی خواب دیکھا ہوتا تو اسے وہ بیان کر دیتا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کی تعبیر اللہ کو جو منظور ہوتی بیان فرماتے ۔ ایک دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے معمول کے مطابق ہم سے دریافت فرمایا کیا آج رات کسی نے تم میں کوئی خواب دیکھا ہے ؟ ہم نے عرض کی کہ کسی نے نہیں دیکھا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا لیکن میں نے آج رات ایک خواب دیکھا ہے کہ دو آدمی میرے پاس آئے ۔ انہوں نے میرے ہاتھ تھام لیے اور وہ مجھے ارض مقدس کی طرف لے گئے ۔ ( اور وہاں سے عالم بالا کی مجھ کو سیر کرائی ) وہاں کیا دیکھتا ہوں کہ ایک شخص تو بیٹھا ہوا ہے اور ایک شخص کھڑا ہے اور اس کے ہاتھ میں ( امام بخاری نے کہا کہ ) ہمارے بعض اصحاب نے ( غالباً عباس بن فضیل اسقاطی نے موسیٰ بن اسماعیل سے یوں روایت کیا ہے ) لوہے کا آنکس تھا جسے وہ بیٹھنے والے کے جبڑے میں ڈال کر اس کے سرکے پیچھے تک چیر دیتا پھر دوسرے جبڑے کے ساتھ بھی اسی طرح کرتا تھا ۔ اس دوران میں اس کا پہلا جبڑا صحیح اور اپنی اصلی حالت پر آ جاتا اور پھر پہلے کی طرح وہ اسے دوبارہ چیرتا ۔ میں نے پوچھا کہ یہ کیا ہو رہا ہے ؟ میرے ساتھ کے دونوں آدمیوں نے کہا کہ آگے چلیں ۔ چنانچہ ہم آگے بڑھے تو ایک ایسے شخص کے پاس آئے جو سر کے بل لیٹا ہوا تھا اور دوسرا شخص ایک بڑا سا پتھر لیے اس کے سر پر کھڑا تھا ۔ اس پتھر سے وہ لیٹے ہوئے شخص کے سر کو کچل دیتا تھا ۔ جب وہ اس کے سر پر پتھر مارتا تو سر پر لگ کر وہ پتھر دور چلا جاتا اور وہ اسے جا کر اٹھا لاتا ۔ ابھی پتھر لے کر واپس بھی نہیں آتا تھا کہ سر دوبارہ درست ہو جاتا ۔ بالکل ویسا ہی جیسا پہلے تھا ۔ واپس آ کر وہ پھر اسے مارتا ۔ میں نے پوچھا کہ یہ کون لوگ ہیں ؟ ان دونوں نے جواب دیا کہ ابھی اور آگے چلیں ۔ چنانچہ ہم آگے بڑھے تو ایک تنور جیسے گڑھے کی طرف چلے ۔ جس کے اوپر کا حصہ تو تنگ تھا لیکن نیچے سے خوب فراخ ۔ نیچے آگ بھڑک رہی تھی ۔ جب آگ کے شعلے بھڑک کر اوپر کو اٹھتے تو اس میں جلنے والے لوگ بھی اوپر اٹھ آتے اور ایسا معلوم ہوتا کہ اب وہ باہر نکل جائیں گے لیکن جب شعلے دب جاتے تو وہ لوگ بھی نیچے چلے جاتے ۔ اس تنور میں ننگے مرد اور عورتیں تھیں ۔ میں نے اس موقع پر بھی پوچھا کہ یہ کیا ہے ؟ لیکن اس مرتبہ بھی جواب یہی ملا کہا کہ ابھی اور آگے چلیں ‘ ہم آگے چلے ۔ اب ہم خون کی ایک نہر کے اوپر تھے نہر کے اندر ایک شخص کھڑا تھا اور اس کے بیچ میں ( یزید بن ہارون اور وہب بن جریر نے جریر بن حازم کے واسطہ سے «وسطه النهر» کے بجائے «شط النهر» نہر کے کنارے کے الفاظ نقل کئے ہیں ) ایک شخص تھا ۔ جس کے سامنے پتھر رکھا ہوا تھا ۔ نہر کا آدمی جب باہر نکلنا چاہتا تو پتھر والا شخص اس کے منہ پر اتنی زور سے پتھر مارتا کہ وہ اپنی پہلی جگہ پر چلا جاتا اور اسی طرح جب بھی وہ نکلنے کی کوشش کرتا وہ شخص اس کے منہ پر پتھر اتنی ہی زور سے پھر مارتا کہ وہ اپنی اصلی جگہ پر نہر میں چلا جاتا ۔ میں نے پوچھا یہ کیا ہو رہا ہے ؟ انہوں نے جواب دیا کہ ابھی اور آگے چلیں ۔ چنانچہ ہم اور آگے بڑھے اور ایک ہرے بھرے باغ میں آئے ۔ جس میں ایک ب ہت بڑا درخت تھا اس درخت کی جڑ میں ایک بڑی عمر والے بزرگ بیٹھے ہوئے تھے اور ان کے ساتھ کچھ بچے بھی بیٹھے ہوئے تھے ۔ درخت سے قریب ہی ایک شخص اپنے آگے آگ سلگا رہا تھا ۔ وہ میرے دونوں ساتھی مجھے لے کر اس درخت پر چڑھے ۔ اس طرح وہ مجھے ایک ایسے گھر میں لے گئے کہ اس سے زیادہ حسین و خوبصورت اور بابرکت گھر میں نے کبھی نہیں دیکھا تھا ۔ اس گھر میں بوڑھے ، جوان ‘ عورتیں اور بچے ( سب ہی قسم کے لوگ ) تھے ۔ میرے ساتھی مجھے اس گھر سے نکال کر پھر ایک اور درخت پر چڑھا کر مجھے ایک اور دوسرے گھر میں لے گئے جو نہایت خوبصورت اور بہتر تھا ۔ اس میں بھی بہت سے بوڑھے اور جوان تھے ۔ میں نے اپنے ساتھیوں سے کہا تم لوگوں نے مجھے رات بھر خوب سیر کرائی ۔ کیا جو کچھ میں نے دیکھا اس کی تفصیل بھی کچھ بتلاؤ گے ؟ انہوں نے کہا ہاں وہ جو آپ نے دیکھا تھا اس آدمی کا جبڑا لوہے کے آنکس سے پھاڑا جا رہا تھا تو وہ جھوٹا آدمی تھا جو جھوٹی باتیں بیان کیا کرتا تھا ۔ اس سے وہ جھوٹی باتیں دوسرے لوگ سنتے ۔ اس طرح ایک جھوٹی بات دور دور تک پھیل جایا کرتی تھی ۔ اسے قیامت تک یہی عذاب ہوتا رہے گا ۔ جس شخص کو آپ نے دیکھا کہ اس کا سر کچلا جا رہا تھا تو وہ ایک ایسا انسان تھا جسے اللہ تعالیٰ نے قرآن کا علم دیا تھا لیکن وہ رات کو پڑا سوتا رہتا اور دن میں اس پر عمل نہیں کرتا تھا ۔ اسے بھی یہ عذاب قیامت تک ہوتا رہے گا اور جنہیں آپ نے تنور میں دیکھا تو وہ زناکار تھے ۔ اور جس کو آپ نے نہر میں دیکھا وہ سود خوار تھا اور وہ بزرگ جو درخت کی جڑ میں بیٹھے ہوئے تھے وہ ابراہیم علیہ السلام تھے اور ان کے اردگرد والے بچے ‘ لوگوں کی نابالغ اولاد تھی اور جو شخص آگ جلا رہا تھا وہ دوزخ کا داروغہ تھا اور وہ گھر جس میں آپ پہلے داخل ہوئے جنت میں عام مومنوں کا گھر تھا اور یہ گھر جس میں آپ اب کھڑے ہیں ‘ یہ شہداء کا گھر ہے اور میں جبرائیل ہوں اور یہ میرے ساتھ میکائیکل ہیں ۔ اچھا اب اپنا سر اٹھاؤ میں نے جو سر اٹھایا تو کیا دیکھتا ہوں کہ میرے اوپر بادل کی طرح کوئی چیز ہے ۔ میرے ساتھیوں نے کہا کہ یہ آپ کا مکان ہے ۔ اس پر میں نے کہا کہ پھر مجھے اپنے مکان میں جانے دو ۔ انہوں نے کہا کہ ابھی آپ کی عمر باقی ہے جو آپ نے پوری نہیں کی اگر آپ وہ پوری کر لیتے تو اپنے مکان میں آ جاتے ۔
Narrated Aisha رضی اللہ عنہا :
"I went to Abu Bakr رضی اللہ عنہ (during his fatal illness) and he asked me, 'In how many garments was the Prophet (ﷺ) shrouded?' She replied, 'In three Suhuliya pieces of white cloth of cotton, and there was neither a shirt nor a turban among them.' Abu Bakr further asked her, 'On which day did the Prophet die?' She replied, 'He died on Monday.' He asked, 'What is today?' She replied, 'Today is Monday.' He added, 'I hope I shall die sometime between this morning and tonight.' Then he looked at a garment that he was wearing during his illness and it had some stains of saffron. Then he said, 'Wash this garment of mine and add two more garments and shroud me in them.' I said, 'This is worn out.' He said, 'A living person has more right to wear new clothes than a dead one; the shroud is only for the body's pus.' He did not die till it was the night of Tuesday and was buried before the morning."
ہم سے معلی بن اسد نے بیان کیا ‘ انہوں نے کہا ہم سے وہیب بن خالد نے بیان کیا ‘ ان سے ہشام بن عروہ نے ‘ ان سے ان کے باپ نے اور ان سے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہ
میں ( والد ماجد حضرت ) ابوبکر رضی اللہ عنہ کی خدمت میں ( ان کی مرض الموت میں ) حاضر ہوئی تو آپ نے پوچھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو تم لوگوں نے کتنے کپڑوں کا کفن دیا تھا ؟ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے جواب دیا کہ تین سفید دھلے ہوئے کپڑوں کا ۔ آپ کو کفن میں قمیض اور عمامہ نہیں دیا گیا تھا اور ابوبکر رضی اللہ عنہ نے ان سے یہ بھی پوچھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کس دن ہوئی تھی ۔ انہوں نے جواب دیا کہ پیر کے دن ۔ پھر پوچھا کہ آج کون سا دن ہے ؟ انہوں نے کہا آج پیر کا دن ہے ۔ آپ نے فرمایا کہ پھر مجھے بھی امید ہے کہ اب سے رات تک میں بھی رخصت ہو جاؤں گا ۔ اس کے بعد آپ نے اپنا کپڑا دیکھا جسے مرض کے دوران میں آپ پہن رہے تھے ۔ اس کپڑے پر زعفران کا دھبہ لگا ہوا تھا ۔ آپ نے فرمایا میرے اس کپڑے کو دھو لینا اور اس کے ساتھ دو اور ملا لینا پھر مجھے کفن انہیں کا دینا ۔ میں نے کہا کہ یہ تو پرانا ہے ۔ فرمایا کہ زندہ آدمی نئے ( کپڑے ) کا مردے سے زیادہ مستحق ہے ‘ یہ تو پیپ اور خون کی نذر ہو جائے گا ۔ پھر منگل کی رات کا کچھ حصہ گزرنے پر آپ کا انتقال ہوا اور صبح ہونے سے پہلے آپ کو دفن کیا گیا ۔
Narrated Aisha رضی اللہ عنہا :
A man said to the Prophet (ﷺ), "My mother died suddenly and I thought that if she had lived she would have given alms. So, if I give alms now on her behalf, will she get the reward?" The Prophet (ﷺ) replied in the affirmative.
ہم سے سعید بن ابی مریم نے بیان کیا کہ ہم سے محمد بن جعفر نے بیان کیا ‘ کہا مجھے ہشام بن عروہ نے خبر دی ‘ انہیں ان کے باپ نے اور انہیں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہ
ایک شخص نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ میری ماں کا اچانک انتقال ہو گیا اور میرا خیال ہے کہ اگر انہیں بات کرنے کا موقع ملتا تو وہ کچھ نہ کچھ خیرات کرتیں ۔ اگر میں ان کی طرف سے کچھ خیرات کر دوں تو کیا انہیں اس کا ثواب ملے گا ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں ملے گا ۔