Narrated Ibn `Abbas رضی اللہ عنہما :
The Prophet (ﷺ) sent Mu`adh رضی اللہ عنہ to Yemen and said, "Invite the people to testify that none has the right to be worshipped but Allah and I am Allah's Messenger (ﷺ), and if they obey you to do so, then teach them that Allah has enjoined on them five prayers in every day and night (in twenty-four hours), and if they obey you to do so, then teach them that Allah has made it obligatory for them to pay the Zakat from their property and it is to be taken from the wealthy among them and given to the poor."
ہم سے ابوعاصم ضحاک بن مخلد نے بیان کیا ‘ ان سے زکریا بن اسحاق نے بیان کیا ‘ ان سے یحییٰ بن عبداللہ بن صیفی نے بیان کیا ، ان سے ابومعبد نے اور ان سے حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب معاذ رضی اللہ عنہ کو یمن ( کا حاکم بنا کر ) بھیجا تو فرمایا کہ تم انہیں اس کلمہ کی گواہی کی دعوت دینا کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور یہ کہ میں اللہ کا رسول ہوں ۔ اگر وہ لوگ یہ بات مان لیں تو پھر انہیں بتانا کہ اللہ تعالیٰ نے ان پر روزانہ پانچ وقت کی نمازیں فرض کی ہیں ۔ اگر وہ لوگ یہ بات بھی مان لیں تو پھر انہیں بتانا کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے مال پر کچھ صدقہ فرض کیا ہے جو ان کے مالدار لوگوں سے لے کر انہیں کے محتاجوں میں لوٹا دیا جائے گا ۔
Narrated Abu Aiyub رضی اللہ عنہ :
A man said to the Prophet (ﷺ) "Tell me of such a deed as will make me enter Paradise." The people said, "What is the matter with him? What is the matter with him?" The Prophet (ﷺ) said, "He has something to ask. (What he needs greatly) The Prophet (ﷺ) said: (In order to enter Paradise) you should worship Allah and do not ascribe any partners to Him, offer prayer perfectly, pay the Zakat and keep good relations with your Kith and kin." (See Hadith No. 12, Vol 8). Bahz, Shoba, Muhammad bin Uthman and his father Uthman bin Abdillah, Musa bin Talha, Hadrat Abu Ayyub reported the same from the prophet (ﷺ). Imam Abu Abdullah Bukhari said: I fear Muhammad is "Ghair Mehfooz" and he is Amr.
ہم سے حفص بن عمر نے بیان کیا ‘ کہا کہ ہم سے شعبہ نے محمد بن عثمان بن عبداللہ بن موہب سے بیان کیا ہے ‘ ان سے موسیٰ بن طلحہ نے اور ان سے ابوایوب رضی اللہ عنہ نے کہ
ایک شخص نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ آپ مجھے کوئی ایسا عمل بتائیے جو مجھے جنت میں لے جائے ۔ اس پر لوگوں نے کہا کہ آخر یہ کیا چاہتا ہے ۔ لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ تو بہت اہم ضرورت ہے ۔ ( سنو ) اللہ کی عبادت کرو اور اس کا کوئی شریک نہ ٹھہراو ۔ نماز قائم کرو ۔ زکوٰۃ دو اور صلہ رحمی کرو ۔ اور بہز نے کہا کہ ہم سے شعبہ نے بیان کیا کہ ہم سے محمد بن عثمان اور ان کے باپ عثمان بن عبداللہ نے بیان کیا کہ ان دونوں صاحبان نے موسیٰ بن طلحہ سے سنا اور انہوں نے ابوایوب سے اور انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی حدیث کی طرح ( سنا ) ابوعبداللہ ( امام بخاری ) نے کہا کہ مجھے ڈر ہے کہ محمد سے روایت غیر محفوظ ہے اور روایت عمرو بن عثمان سے ( محفوظ ہے ) ۔
Narrated Abu Huraira رضی اللہ عنہ :
A Bedouin came to the Prophet (ﷺ) and said, "Tell me of such a deed as will make me enter Paradise, if I do it." The Prophet (ﷺ) said, "Worship Allah, and worship none along with Him, offer the (five) prescribed compulsory prayers perfectly, pay the compulsory Zakat, and fast the month of Ramadan." The Bedouin said, "By Him, in Whose Hands my life is, I will not do more than this." When he (the Bedouin) left, the Prophet (ﷺ) said, "Whoever likes to see a man of Paradise, then he may look at this man." Narrated Abu Zur'a: From the Prophet (ﷺ) the same as above.
ہم سے محمد بن عبدالرحیم نے بیان کیا ‘ کہا کہ ہم سے عفان بن مسلم نے بیان کیا ‘ کہا کہ ہم سے وہیب بن خالد نے بیان کیا ان سے یحییٰ بن سعید بن حیان نے ‘ ان سے ابوزرعہ نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ
ایک اعرابی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آیا اور عرض کی کہ آپ مجھے کوئی ایسا کام بتلائیے جس پر اگر میں ہمیشگی کروں تو جنت میں داخل ہو جاؤں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ کی عبادت کر ‘ اس کا کسی کو شریک نہ ٹھہرا ‘ فرض نماز قائم کر ‘ فرض زکوٰۃ دے اور رمضان کے روزے رکھ ۔ اعرابی نے کہا اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ‘ ان عملوں پر میں کوئی زیادتی نہیں کروں گا ۔ جب وہ پیٹھ موڑ کر جانے لگا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر کوئی ایسے شخص کو دیکھنا چاہے جو جنت والوں میں سے ہو تو وہ اس شخص کو دیکھ لے ۔
Narrated Ibn `Abbas رضی اللہ عنہما :
A delegation of the tribe of `Abdul Qais came to the Prophet (ﷺ) and said, "O Allah's Messenger (ﷺ)! We are from the tribe of Rabi`a, and the infidels of the tribe of Mudar stands between us and you; so we cannot come to you except during the Sacred Months. Please order us to do something (religious deeds) which we may carry out and also invite to it our people whom we have left behind." The Prophet said, "I order you to do four things and forbid you four others: (I order you) to have faith in Allah, and confess that none has the right to be worshipped but Allah, (and the Prophet (ﷺ) gestured with his hand like this (i.e. one knot) and to offer prayers perfectly and to pay the Zakat, and to pay onefifth of the booty in Allah's Cause. And I forbid you to use Dubba', Hantam, Naqir and Muzaffat (all these are the names of utensils used for preparing alcoholic drinks)." Sulaiman and Abun Noman reported from Hammad: to believe in Allah and testify that there is no one worthy of worship saves Allah.
ہم سے حجاج بن منہال نے حدیث بیان کی ‘ کہا کہ ہم سے حماد بن زید نے بیان کیا ‘ کہا کہ ہم سے ابوجمرہ نصر بن عمران ضبعی نے بیان کیا ‘ کہا کہ میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے سنا ‘ آپ نے بتلایا کہ
قبیلہ عبدالقیس کا وفد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کی کہ یا رسول اللہ ! ہم قبیلہ ربیعہ کی ایک شاخ ہیں اور قبیلہ مضر کے کافر ہمارے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے درمیان پڑتے ہیں ۔ اس لیے ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں صرف حرمت کے مہینوں ہی میں حاضر ہو سکتے ہیں ( کیونکہ ان مہینوں میں لڑائیاں بند ہو جاتی ہیں اور راستے پرامن ہو جاتے ہیں ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں کچھ ایسی باتیں بتلا دیجئیے جس پر ہم خود بھی عمل کریں اور اپنے قبیلہ کے لوگوں سے بھی ان پر عمل کرنے کے لیے کہیں جو ہمارے ساتھ نہیں آ سکے ہیں ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں تمہیں چار باتوں کا حکم دیتا ہوں اور چار چیزوں سے روکتا ہوں ۔ اللہ تعالیٰ پر ایمان لانے اور اس کی وحدانیت کی شہادت دینے کا ( یہ کہتے ہوئے ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی انگلی سے ایک طرف اشارہ کیا ۔ نماز قائم کرنا ‘ پھر زکوٰۃ ادا کرنا اور مال غنیمت سے پانچواں حصہ ادا کرنے ( کا حکم دیتا ہوں ) اور میں تمہیں کدو کے تونبی سے اور حنتم ( سبز رنگ کا چھوٹا سا مرتبان جیسا گھڑا ) فقیر ( کھجور کی جڑ سے کھودا ہوا ایک برتن ) اور زفت لگا ہوا برتن ( زفت بصرہ میں ایک قسم کا تیل ہوتا تھا ) کے استعمال سے منع کرتا ہوں ۔ سلیمان اور ابوالنعمان نے حماد کے واسطہ سے یہی روایت اس طرح بیان کی ہے ۔ «الإيمان بالله شهادة أن لا إله إلا الله» یعنی اللہ پر ایمان لانے کا مطلب «لا إله إلا الله» کی گواہی دینا ۔
Narrated Abu Huraira رضی اللہ عنہ :
When Allah's Messenger (ﷺ) died and Abu Bakr رضی اللہ عنہ became the caliph some Arabs renegade (reverted to disbelief) (Abu Bakr رضی اللہ عنہ decided to declare war against them), `Umar رضی اللہ عنہ , said to Abu Bakr رضی اللہ عنہ , "How can you fight with these people although Allah's Messenger (ﷺ) said, 'I have been ordered (by Allah) to fight the people till they say: "None has the right to be worshipped but Allah, and whoever said it then he will save his life and property from me except on trespassing the law (rights and conditions for which he will be punished justly), and his accounts will be with Allah.' " Abu Bakr رضی اللہ عنہ said, "By Allah! I will fight those who differentiate between the prayer and the Zakat as Zakat is the compulsory right to be taken from the property (according to Allah's orders) By Allah! If they refuse to pay me even a she-kid which they used to pay at the time of Allah's Messenger (ﷺ) . I would fight with them for withholding it" Then `Umar رضی اللہ عنہ said, "By Allah, it was nothing, but Allah opened Abu Bakr's chest towards the decision (to fight) and I came to know that his decision was right."
ہم سے ابوالیمان حکم بن نافع نے بیان کیا ‘ کہا کہ ہمیں شعیب بن ابی حمزہ نے خبر دی ‘ ان سے زہری نے کہا کہ ہم سے عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ بن مسعود نے بیان کیا کہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ
جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فوت ہو گئے اور ابوبکر رضی اللہ عنہ خلیفہ ہوئے تو عرب کے کچھ قبائل کافر ہو گئے ( اور کچھ نے زکوٰۃ سے انکار کر دیا اور حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے ان سے لڑنا چاہا ) تو عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمان کی موجودگی میں کیونکر جنگ کر سکتے ہیں ” مجھے حکم ہے لوگوں سے اس وقت تک جنگ کروں جب تک کہ وہ «لا إله إلا الله» کی شہادت نہ دیدیں اور جو شخص اس کی شہادت دیدے تو میری طرف سے اس کا مال و جان محفوظ ہو جائے گا ۔ سوا اسی کے حق کے ( یعنی قصاص وغیرہ کی صورتوں کے ) اور اس کا حساب اللہ تعالیٰ کے ذمہ ہو گا ۔ اس پر حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے جواب دیا کہ قسم اللہ کی میں ہر اس شخص سے جنگ کروں گا جو زکوٰۃ اور نماز میں تفریق کرے گا ۔ ( یعنی نماز تو پڑھے مگر زکوٰۃ کے لیے انکار کر دے ) کیونکہ زکوٰۃ مال کا حق ہے ۔ خدا کی قسم اگر انہوں نے زکوٰۃ میں چار مہینے کی ( بکری کے ) بچے کو دینے سے بھی انکار کیا جسے وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیتے تھے تو میں ان سے لڑوں گا ۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ بخدا یہ بات اس کا نتیجہ تھی کہ اللہ تعالیٰ نے ابوبکر رضی اللہ عنہ کا سینہ اسلام کے لیے کھول دیا تھا اور بعد میں ، میں بھی اس نتیجہ پر پہنچا کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ ہی حق پر تھے ۔
Narrated Jarir bin `Abdullah رضی اللہ عنہ :
I gave the pledge of allegiance to the Prophet (ﷺ) for offering prayer perfectly, giving Zakat, and giving good advice to every Muslim.
ہم سے محمد بن عبداللہ بن نمیر نے بیان کیا ‘ کہا کہ مجھ سے میرے والد نے بیان کیا ‘ کہا کہ ہم سے اسماعیل بن خالد نے بیان کیا ‘ ان سے قیس بن ابی حازم نے بیان کیا کہ جریر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نماز قائم کرنے ‘ زکوٰۃ دینے اور ہر مسلمان کے ساتھ خیر خواہی کرنے پر بیعت کی تھی ۔
Narrated Abu Huraira رضی اللہ عنہ :
The Prophet (ﷺ) said, "(On the Day of Resurrection) camels will come to their owner in the best state of health they have ever had (in the world), and if he had not paid their Zakat (in the world) then they would tread him with their feet; and similarly, sheep will come to their owner in the best state of health they have ever had in the world, and if he had not paid their Zakat, then they would tread him with their hooves and would butt him with their horns." The Prophet (ﷺ) added, "One of their rights is that they should be milked while water is kept in front of them." The Prophet (ﷺ) added, "I do not want anyone of you to come to me on the Day of Resurrection, carrying over his neck a sheep that will be bleating. Such a person will (then) say, 'O Muhammad! (please intercede for me,) I will say to him. 'I can't help you, for I conveyed Allah's Message to you.' Similarly, I do not want anyone of you to come to me carrying over his neck a camel that will be grunting. Such a person (then) will say "O Muhammad! (please intercede for me)." I will say to him, "I can't help you for I conveyed Allah's message to you."
ہم سے ابولیمان حکم بن نافع نے بیان کیا ‘ کہا کہ ہمیں شعیب بن ابی حمزہ نے خبر دی ‘ کہا کہ ہم سے ابوالزناد نے بیان کیا کہ عبدالرحمٰن بن ہر مزا عرج نے ان سے بیان کیا کہ انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا ‘ آپ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اونٹ ( قیامت کے دن ) اپنے مالکوں کے پاس جنہوں نے ان کا حق ( زکوٰۃ ) نہ ادا کیا کہ اس سے زیادہ موٹے تازے ہو کر آئیں گے ( جیسے دنیا میں تھے ) اور انہیں اپنے کھروں سے روندیں گے ۔ بکریاں بھی اپنے ان مالکوں کے پاس جنہوں نے ان کے حق نہیں دئیے تھے پہلے سے زیادہ موٹی تازی ہو کر آئیں گی اور انہیں اپنے کھروں سے روندیں گی اور اپنے سینگوں سے ماریں گی ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس کا حق یہ بھی ہے کہ اسے پانی ہی پر ( یعنی جہاں وہ چراگاہ میں چر رہی ہوں ) دوہا جائے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کوئی شخص قیامت کے دن اس طرح نہ آئے کہ وہ اپنی گردن پر ایک ایسی بکری اٹھائے ہوئے ہو جو چلا رہی ہو اور وہ (شخص) مجھ سے کہے کہ اے محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) ! مجھے عذاب سے بچائیے میں اسے یہ جواب دوں گا کہ تیرے لیے میں کچھ نہیں کر سکتا ( میرا کام پہنچانا تھا ) سو میں نے پہنچا دیا ۔ اسی طرح کوئی شخص اپنی گردن پر اونٹ لیے ہوئے قیامت کے دن نہ آئے کہ اونٹ چلا رہا ہو اور وہ خود مجھ سے فریاد کرے ‘ اے محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) ! مجھے بچائیے اور میں یہ جواب دے دوں کہ تیرے لیے میں کچھ نہیں کر سکتا ۔ میں نے تجھ کو ( خدا کا حکم زکوٰۃ ) پہنچا دیا تھا ۔
Narrated Abu Huraira رضی اللہ عنہ :
Allah's Messenger (ﷺ) said, "Whoever is made wealthy by Allah and does not pay the Zakat of his wealth, then on the Day of Resurrection his wealth will be made like a baldheaded poisonous male snake with two black spots over the eyes. The snake will encircle his neck and bite his cheeks and say, 'I am your wealth, I am your treasure.' " Then the Prophet (ﷺ) recited the holy verses:-- 'Let not those who withhold . . .' (to the end of the verse). (3.180).
ہم سے علی بن عبداللہ مدینی نے بیان کیا ‘ انہوں نے کہا ہم سے ہاشم بن قاسم نے بیان کیا کہ ہم سے عبدالرحمٰن بن عبداللہ بن دینار نے اپنے والد سے بیان کیا ‘ ان سے ابوصالح سمان نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ
رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جسے اللہ نے مال دیا اور اس نے اس کی زکوٰۃ نہیں ادا کی تو قیامت کے دن اس کا مال نہایت زہریلے گنجے سانپ کی شکل اختیار کر لے گا ۔ اس کی آنکھوں کے پاس دو سیاہ نقطے ہوں گے ۔ جیسے سانپ کے ہوتے ہیں ‘ پھر وہ سانپ اس کے دونوں جبڑوں سے اسے پکڑ لے گا اور کہے گا کہ میں تیرا مال اور خزانہ ہوں ۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت پڑھی ” اور وہ لوگ یہ گمان نہ کریں کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں جو کچھ اپنے فضل سے دیا ہے وہ اس پر بخل سے کام لیتے ہیں کہ ان کا مال ان کے لیے بہتر ہے ۔ بلکہ وہ برا ہے جس مال کے معاملہ میں انہوں نے بخل کیا ہے ۔ قیامت میں اس کا طوق بنا کر ان کی گردن میں ڈالا جائے گا ۔ “
Narrated Khalid bin Aslam:
We went out with 'Abdullah bin 'Umar رضی اللہ عنہما and a bedouin said (to 'Abdullah), "Tell me about Allah's saying: "And those who hoard up gold and silver (Al-Kanz - money, gold, silver etc., the Zakat of which has not been paid) and spend it not in the Way of Allah (V.9:34)." Ibn 'Umar رضی اللہ عنہما said, "Whoever hoarded them and did not pay the Zakat thereof, then woe to him. But these holy Verses were revealed before the Verses of Zakat. So when the Verses of Zakat were revealed, Allah made Zakat a purifier of the property."
ہم سے احمد بن شبیب بن سعید نے بیان کیا ‘ انہوں نے کہا ہم سے میرے والد شبیب نے بیان کیا ‘ انہوں نے کہا کہ ہم سے یونس نے بیان کیا ‘ ان سے ابن شہاب نے ‘ ان سے خالد بن اسلم نے ‘ انہوں نے بیان کیا کہ
ہم عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے ساتھ کہیں جا رہے تھے ۔ ایک اعرابی نے آپ سے پوچھا کہ مجھے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کی تفسیر بتلائیے ” جو لوگ سونے اور چاندی کا خزانہ بنا کر رکھتے ہیں ۔ “ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے اس کا جواب دیا کہ اگر کسی نے سونا چاندی جمع کیا اور اس کی زکوٰۃ نہ دی تو اس کے لیے «ويل» ( خرابی ) ہے ۔ یہ حکم زکوٰۃ کے احکام نازل ہونے سے پہلے تھا لیکن جب اللہ تعالیٰ نے زکوٰۃ کا حکم نازل کر دیا تو اب وہی زکوٰۃ مال و دولت کو پاک کر دینے والی ہے ۔
Narrated Abu Sa`id رضی اللہ عنہ :
Allah's Messenger (ﷺ) said, "No Zakat is due on property mounting to less than five Uqiyas (of silver), and no Zakat is due on less than five camels, and there is no Zakat on less than five Wasqs." (A Wasqs equals 60 Sa's) & (1 Sa=3 K gms App.)
ہم سے اسحاق بن یزید نے حدیث بیان کی ‘ انہوں نے کہا کہ ہمیں شعیب بن اسحاق نے خبر دی ‘ انہوں نے کہا کہ ہمیں امام اوزاعی نے خبر دی ‘ انہوں نے کہا کہ مجھے یحییٰ بن ابی کثیر نے خبر دی کہ عمرو بن یحییٰ بن عمارہ نے انہیں خبر دی اپنے والد یحییٰ بن عمارہ بن ابوالحسن سے اور انہوں نے ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے انہوں نے بیان کیا کہ
رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پانچ اوقیہ سے کم چاندی میں زکوٰۃ نہیں ہے اور پانچ اونٹوں سے کم میں زکوٰۃ نہیں ہے اور پانچ وسق سے کم ( غلہ ) میں زکوٰۃ نہیں ہے ۔
Narrated Zaid bin Wahab:
I passed by a place called Ar-Rabadha and by chance I met Abu Dhar رضی اللہ عنہ and asked him, "What has brought you to this place?" He said, "I was in Sham and differed with Muawiya رضی اللہ عنہ on the meaning of (the following verses of the Qur'an): 'They who hoard up gold and silver and spend them not in the way of Allah.' (9.34). Muawiya رضی اللہ عنہ said, 'This verse is revealed regarding the people of the scriptures." I said, It was revealed regarding us and also the people of the scriptures." So we had a quarrel and Mu'awiya رضی اللہ عنہ sent a complaint against me to `Uthman رضی اللہ عنہ . `Uthman رضی اللہ عنہ wrote to me to come to Medina, and I came to Medina. Many people came to me as if they had not seen me before. So I told this to `Uthman رضی اللہ عنہ who said to me, "You may depart and live nearby if you wish." That was the reason for my being here for even if an Ethiopian had been nominated as my ruler, I would have obeyed him .
ہم سے علی بن ابی ہاشم نے بیان کیا ‘ انہوں نے ہشیم سے سنا ‘ کہا کہ ہمیں حصین نے خبر دی ‘ انہیں زید بن وہب نے کہا کہ
میں مقام ربذہ سے گزر رہا تھا کہ ابوذر رضی اللہ عنہ دکھائی دیئے ۔ میں نے پوچھا کہ آپ یہاں کیوں آ گئے ہیں ؟ انہوں نے جواب دیا کہ میں شام میں تھا تو معاویہ رضی اللہ عنہ سے میرا اختلاف ( قرآن کی آیت ) ” جو لوگ سونا اور چاندی جمع کرتے ہیں اور انہیں اللہ کی راہ میں خرچ نہیں کرتے “ کے متعلق ہو گیا ۔ معاویہ رضی اللہ عنہ کا کہنا یہ تھا کہ یہ آیت اہل کتاب کے بارے میں نازل ہوئی ہے اور میں یہ کہتا تھا کہ اہل کتاب کے ساتھ ہمارے متعلق بھی یہ نازل ہوئی ہے ۔ اس اختلاف کے نتیجہ میں میرے اور ان کے درمیان کچھ تلخی پیدا ہو گئی ۔ چنانچہ انہوں نے عثمان رضی اللہ عنہ ( جو ان دنوں خلیفۃ المسلمین تھے ) کے یہاں میری شکایت لکھی ۔ عثمان رضی اللہ عنہ نے مجھے لکھا کہ میں مدینہ چلا آؤں ۔ چنانچہ میں چلا آیا ۔ ( وہاں جب پہنچا ) تو لوگوں کا میرے یہاں اس طرح ہجوم ہونے لگا جیسے انہوں نے مجھے پہلے دیکھا ہی نہ ہو ۔ پھر جب میں نے لوگوں کے اس طرح اپنی طرف آنے کے متعلق عثمان رضی اللہ عنہ سے کہا تو انہوں نے فرمایا کہ اگر مناسب سمجھو تو یہاں کا قیام چھوڑ کر مدینہ سے قریب ہی کہیں اور جگہ الگ قیام اختیار کر لو ۔ یہی بات ہے جو مجھے یہاں ( ربذہ ) تک لے آئی ہے ۔ اگر وہ میرے اوپر ایک حبشی کو بھی امیر مقرر کر دیں تو میں اس کی بھی سنوں گا اور اطاعت کروں گا ۔
Narrated Al-Ahnaf bin Qais:
While I was sitting with some people from Quraish, a man with very rough hair, clothes, and appearance came and stood in front of us, greeted us and said, "Inform those who hoard wealth, that a stone will be heated in the Hell-fire and will be put on the nipples of their breasts till it comes out from the bones of their shoulders and then put on the bones of their shoulders till it comes through the nipples of their breasts the stone will be moving and hitting." After saying that, the person retreated and sat by the side of the pillar, I followed him and sat beside him, and I did not know who he was. I said to him, "I think the people disliked what you had said." He said, "These people do not understand anything, although my friend told me." I asked, "Who is your friend?" He said, "The Prophet (ﷺ) said (to me), 'O Abu Dhar رضی اللہ عنہ ! Do you see the mountain of Uhud?' And on that I (Abu Dhar رضی اللہ عنہ) started looking towards the sun to judge how much remained of the day as I thought that Allah's Messenger (ﷺ) wanted to send me to do something for him and I said, 'Yes!' He said, 'I do not love to have gold equal to the mountain of Uhud unless I spend it all (in Allah's cause) except three Dinars (pounds). These people do not understand and collect worldly wealth. No, by Allah, Neither I ask them for worldly benefits nor am I in need of their religious advice till I meet Allah, The Honorable, The Majestic." '
ہم سے عیاش بن ولید نے بیان کیا ‘ انہوں نے کہا کہ ہم سے عبدالاعلیٰ نے بیان کیا ‘ کہا کہ ہم سے سعید جریری نے ابوالعلاء یزید سے بیان کیا ‘ ان سے احنف بن قیس نے ‘ انہوں نے کہا کہ میں بیٹھا تھا ( دوسری سند ) اور امام بخاری رحمہ اللہ نے فرمایا کہ مجھ سے اسحاق بن منصور نے بیان کیا ‘ انہوں نے کہا کہ ہم سے عبدالصمد بن عبدالوارث نے بیان کیا ‘ انہوں نے کہا کہ مجھ سے میرے باپ نے بیان کیا ‘ انہوں نے کہا مجھ سے سعید جریری نے بیان کیا ‘ کہا کہ ہم سے ابوالعلاء بن شخیر نے بیان کیا ‘ ان سے احنف بن قیس نے بیان کیا کہ
میں قریش کی ایک مجلس میں بیٹھا ہوا تھا ۔ اتنے میں سخت بال ‘ موٹے کپڑے اور موٹی جھوٹی حالت میں ایک شخص آیا اور کھڑے ہو کر سلام کیا اور کہا کہ خزانہ جمع کرنے والوں کو اس پتھر کی بشارت ہو جو جہنم کی آگ میں تپایا جائے گا اور اس کی چھاتی کی بھٹنی پر رکھ دیا جائے گا جو مونڈھے کی طرف سے پار ہو جائے گا ۔ اس طرح وہ پتھر برابر ڈھلکتا رہے گا ۔ یہ کہہ کر وہ صاحب چلے گئے اور ایک ستون کے پاس ٹیک لگا کر بیٹھ گئے ۔ میں بھی ان کے ساتھ چلا اور ان کے قریب بیٹھ گیا ۔ اب تک مجھے یہ معلوم نہ تھا کہ یہ کون صاحب ہیں ۔ میں نے ان سے کہا کہ میرا خیال ہے کہ آپ کی بات قوم نے پسند نہیں کی ۔ انہوں نے کہا یہ سب تو بیوقوف ہیں ۔ مجھ سے میرے خلیل نے کہا تھا میں نے پوچھا کہ آپ کے خلیل کون ہیں ؟ جواب دیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اے ابوذر ! کیا احد پہاڑ تو دیکھتا ہے ۔ ابوذر رضی اللہ عنہ کا بیان تھا کہ اس وقت میں نے سورج کی طرف نظر اٹھا کر دیکھا کہ کتنا دن ابھی باقی ہے ۔ کیونکہ مجھے ( آپ کی بات سے ) یہ خیال گزرا کہ آپ اپنے کسی کام کے لیے مجھے بھیجیں گے ۔ میں نے جواب دیا کہ جی ہاں ( احد پہاڑ میں نے دیکھا ہے ) آپ نے فرمایا کہ اگر میرے پاس احد پہاڑ کے برابر سونا ہو میں اس کے سوا دوست نہیں رکھتا کہ صرف تین دینار بچا کر باقی تمام کا تمام ( اللہ کے راستے میں ) دے ڈالوں ( ابوذر رضی اللہ عنہ نے پھر فرمایا کہ ) ان لوگوں کو کچھ معلوم نہیں یہ دنیا جمع کرنے کی فکر کرتے ہیں ۔ ہرگز نہیں خدا کی قسم نہ میں ان کی دنیا ان سے مانگتا ہوں اور نہ دین کا کوئی مسئلہ ان سے پوچھتا ہوں تاآنکہ میں اللہ تعالیٰ سے جا ملوں ۔
Narrated Ibn Mas`ud رضی اللہ عنہا :
I heard the Prophet (ﷺ) saying, "There is no envy except in two: a person whom Allah has given wealth and he spends it in the right way, and a person whom Allah has given wisdom (i.e. religious knowledge) and he gives his decisions accordingly and teaches it to the others."
ہم سے محمد بن مثنیٰ نے بیان کیا ‘ کہا کہ ہم سے یحییٰ بن سعید نے اسماعیل بن ابی خالد سے بیان کیا ، کہا کہ مجھ سے قیس بن ابی حازم نے بیان کیا اور ان سے ابن مسعود رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا حسد ( رشک ) کرنا صرف دو ہی آدمیوں کے ساتھ جائز ہو سکتا ہے ۔ ایک تو اس شخص کے ساتھ جسے اللہ نے مال دیا اور اسے حق اور مناسب جگہوں میں خرچ کرنے کی توفیق دی ۔ دوسرے اس شخص کے ساتھ جسے اللہ تعالیٰ نے حکمت ( عقل علم قرآن و حدیث اور معاملہ فہمی ) دی اور وہ اپنی حکمت کے مطابق حق فیصلے کرتا ہے اور لوگوں کو اس کی تعلیم دیتا ہے ۔
Narrated Abu Huraira رضی اللہ عنہ :
Allah's Messenger (ﷺ) said, "If one give in charity what equals one date-fruit from the honestly earned money and Allah accepts only the honestly earned money --Allah takes it in His right (hand) and then enlarges its reward for that person (who has given it), as anyone of you brings up his baby horse, so much s that it becomes as big as a mountain. Sulaiman corroborated him from Ibn-e-Dinaar and Warqa, Ibn-e-Dinaar, Saeed bin Yasaar, Hadrat Abu Hurairah رضی اللہ عنہ reported it from the prophet (ﷺ); and Muslim bin Abu Maryam and Zaid bin Aslam and Sohail reported it from Abu Sualih and he from Hadrat Abu Hurairah رضی اللہ عنہ and from the prophet(ﷺ).
ہم سے عبداللہ بن منیر نے بیان کیا ‘ انہوں نے ابوالنضر سالم بن ابی امیہ سے سنا ‘ انہوں نے بیان کیا کہ مجھ سے عبدالرحمٰن بن عبداللہ بن دینار نے بیان کیا ‘ ان سے ان کے والد نے ‘ ان سے ابوصالح نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص حلال کمائی سے ایک کھجور کے برابر صدقہ کرے اور اللہ تعالیٰ صرف حلال کمائی کے صدقہ کو قبول کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اسے اپنے داہنے ہاتھ سے قبول کرتا ہے پھر صدقہ کرنے والے کے فائدے کے لیے اس میں زیادتی کرتا ہے ۔ بالکل اسی طرح جیسے کوئی اپنے جانور کے بچے کو کھلا پلا کر بڑھاتا ہےحالانکہ اس کا صدقہ پہاڑ کے برابر ہو جاتا ہے ۔ عبدالرحمٰن کے ساتھ اس روایت کی متابعت سلیمان نے عبداللہ بن دینار کی روایت سے کی ہے اور ورقاء نے ابن دینار سے کہا ‘ ان سے سعید بن یسار نے ‘ ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے اور ان سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اور اس کی روایت مسلم بن ابی مریم ‘ زید بن اسلم اور سہیل نے ابوصالح سے کی ‘ ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے اور ان سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ۔
Narrated Haritha bin Wahab رضی اللہ عنہ :
I heard the Prophet (ﷺ) saying, "O people! Give in charity as a time will come upon you when a person will wander about with his object of charity and will not find anybody to accept it, and one (who will be requested to take it) will say, "If you had brought it yesterday, would have taken it, but today I am not in need of it."
ہم سے آدم بن ابی ایاس نے بیان کیا ‘ انہوں نے کہا کہ ہم سے شعبہ نے بیان کیا ‘ انہوں نے کہا کہ ہم سے سعید بن خالد نے بیان کیا ‘ انہوں نے کہا کہ میں نے حارثہ بن وہب رضی اللہ عنہ سے سنا ‘ انہوں نے فرمایا کہ
میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا تھا کہ صدقہ کرو ‘ ایک ایسا زمانہ بھی تم پر آنے والا ہے جب ایک شخص اپنے مال کا صدقہ لے کر نکلے گا اور کوئی اسے قبول کرنے والا نہیں پائے گا ۔
Narrated Abu Huraira رضی اللہ عنہ :
The Prophet (ﷺ) said, "The Hour (Day of Judgment) will not be established till your wealth increases so much so that one will be worried, for no one will accept his Zakat and the person to whom he will give it will reply, 'I am not in need of it.' "
ہم سے ابوالیمان حکم بن نافع نے بیان کیا ‘ انہوں نے کہا کہ ہمیں شعیب نے خبر دی ‘ کہا کہ ہم سے ابوالزناد نے بیان کیا ‘ ان سے عبدالرحمٰن بن ہر مزاعرج نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قیامت آنے سے پہلے مال و دولت کی اس قدر کثرت ہو جائے گی اور لوگ اس قدر مالدار ہو جائیں گے کہ اس وقت صاحب مال کو اس کی فکر ہو گی کہ اس کی زکوٰۃ کون قبول کرے اور اگر کسی کو دینا بھی چاہے گا تو اس کو یہ جواب ملے گا کہ مجھے اس کی حاجت نہیں ہے ۔
Narrated `Adi bin Hatim رضی اللہ عنہ :
While I was sitting with Allah's Messenger (ﷺ) two person came to him; one of them complained about his poverty and the other complained about the prevalence of robberies. Allah's Messenger (ﷺ) said, "As regards stealing and robberies, there will shortly come a time when a caravan will go to Mecca (from Medina) without any guard. And regarding poverty, The Hour (Day of Judgment) will not be established till one of you wanders about with his object of charity and will not find anybody to accept it And (no doubt) each one of you will stand in front of Allah and there will be neither a curtain nor an interpreter between him and Allah, and Allah will ask him, 'Did not I give you wealth?' He will reply in the affirmative. Allah will further ask, 'Didn't send a messenger to you?' And again that person will reply in the affirmative Then he will look to his right and he will see nothing but Hell-fire, and then he will look to his left and will see nothing but Hell-fire. And so, any (each one) of you should save himself from the fire even by giving half of a date-fruit (in charity). And if you do not find a hall datefruit, then (you can do it through saying) a good pleasant word (to your brethren). (See Hadith No. 793 Vol. 4).
ہم سے عبداللہ بن محمد مسندی نے بیان کیا ‘ کہا کہ ہم سے ابوعاصم نبیل نے بیان کیا ‘ کہا کہ ہمیں سعدان بن بشیر نے خبر دی ‘ کہا کہ ہم سے ابومجاہد سعد طائی نے بیان کیا ‘ کہا کہ ہم سے محل بن خلیفہ طائی نے بیان کیا ‘ کہا کہ میں نے عدی بن حاتم طائی رضی اللہ عنہ سے سنا ‘ انہوں نے کہا کہ
میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں موجود تھا کہ دو شخص آئے ‘ ایک فقر و فاقہ کی شکایت لیے ہوئے تھا اور دوسرے کو راستوں کے غیر محفوظ ہونے کی شکایت تھی۔ اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جہاں تک راستوں کے غیر محفوظ ہونے کا تعلق ہے تو بہت جلد ایسا زمانہ آنے والا ہے کہ جب ایک قافلہ مکہ سے کسی محافظ کے بغیر نکلے گا ۔ ( اور اسے راستے میں کوئی خطرہ نہ ہو گا ) اور رہا فقر و فاقہ تو قیامت اس وقت تک نہیں آئے گی جب تک ( مال و دولت کی کثرت کی وجہ سے یہ حال نہ ہو جائے کہ ) ایک شخص اپنا صدقہ لے کر تلاش کرے لیکن کوئی اسے لینے والا نہ ملے ۔ پھر اللہ تعالیٰ کے درمیان کوئی پردہ نہ ہو گا اور نہ ترجمانی کے لیے کوئی ترجمان ہو گا ۔ پھر اللہ تعالیٰ اس سے پوچھے گا کہ کیا میں نے تجھے دنیا میں مال نہیں دیا تھا ؟ وہ کہے گا کہ ہاں دیا تھا ۔ پھر اللہ تعالیٰ پوچھے گا کہ کیا میں نے تیرے پاس پیغمبر نہیں بھیجا تھا ؟ وہ کہے گا کہ ہاں بھیجا تھا ۔ پھر وہ شخص اپنے دائیں طرف دیکھے گا تو آگ کے سوا اور کچھ نظر نہیں آئے گا پھر بائیں طرف دیکھے گا اور ادھر بھی آگ ہی آگ ہو گی ۔ پس تمہیں جہنم سے ڈرنا چاہیے خواہ ایک کھجور کے ٹکڑے ہی ( کا صدقہ کر کے اس سے اپنا بچاؤ کر سکو ) اگر یہ بھی میسر نہ آ سکے تو اچھی بات ہی منہ سے نکالے ۔
Narrated Abu Musa رضی اللہ عنہ :
The Prophet (ﷺ) said, "A time will come upon the people when a person will wander about with gold as Zakat and will not find anybody to accept it, and one man will be seen followed by forty women to be their guardian because of scarcity of men and great number of women. "
ہم سے محمد بن علاء نے بیان کیا ‘ انہوں نے کہا کہ ہم سے ابواسامہ ( حماد بن اسامہ ) نے بیان کیا ‘ انہوں نے کہا ہم سے برید بن عبداللہ نے ‘ ان سے ابوبردہ نے اور ان سے ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ لوگوں پر ضرور ایک زمانہ ایسا آ جائے گا کہ ایک شخص سونے کا صدقہ لے کر نکلے گا لیکن کوئی اسے لینے والا نہیں ملے گا اور یہ بھی ہو گا کہ ایک مرد کی پناہ میں چالیس چالیس عورتیں ہو جائیں گی کیونکہ مردوں کی کمی ہو جائے گی اور عورتوں کی زیادتی ہو گی ۔
Narrated Abu Mas`ud رضی اللہ عنہ :
When the verses of charity were revealed, we used to work as porters. A man came and distributed objects of charity in abundance. And they (the people) said, "He is showing off." And another man came and gave a Sa (a small measure of food grains); they said, "Allah is not in need of this small amount of charity." And then the Divine Inspiration came: "Those who criticize such of the believers who give in charity voluntarily and those who could not find to give in charity except what is available to them." (9.79).
ہم سے ابوقدامہ عبیداللہ بن سعید نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے ابوالنعمان حکم بن عبداللہ بصریٰ نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے شعبہ بن حجاج نے بیان کیا ‘ ان سے سلیمان اعمش نے ‘ ان سے ابووائل نے اور ان سے ابومسعود انصاری رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ
جب آیت صدقہ نازل ہوئی تو ہم بوجھ ڈھونے کا کام کیا کرتے تھے ( تاکہ اس طرح جو مزدوری ملے اسے صدقہ کر دیا جائے ) اسی زمانہ میں ایک شخص ( عبدالرحمٰن بن عوف ) آیا اور اس نے صدقہ کے طور پر کافی چیزیں پیش کیں ۔ اس پر لوگوں نے یہ کہنا شروع کیا کہ یہ آدمی ریاکار ہے ۔ پھر ایک اور شخص ( ابوعقیل نامی ) آیا اور اس نے صرف ایک صاع کا صدقہ کیا ۔ اس کے بارے میں لوگوں نے یہ کہہ دیا کہ اللہ تعالیٰ کو ایک صاع صدقہ کی کیا حاجت ہے ۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی «الذين يلمزون المطوعين من المؤمنين في الصدقات والذين لا يجدون إلا جهدهم» ” وہ لوگ جو ان مومنوں پر عیب لگاتے ہیں جو صدقہ زیادہ دیتے ہیں اور ان پر بھی جو محنت سے کما کر لاتے ہیں ۔ ( اور کم صدقہ کرتے ہیں ) “ آخر تک ۔
Narrated Abu Mas`ud Al-Ansari رضی اللہ عنہ :
Whenever Allah's Messenger (ﷺ) ordered us to give in charity, we used to go to the market and work as porters and get a Mudd (a special measure of grain) and then give it in charity. (Those were the days of poverty) and today some of us have one hundred thousand.
ہم سے سعید بن یحییٰ نے بیان کیا ، کہا مجھ سے میرے والد نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے اعمش نے بیان کیا ، ان سے شقیق نے اور ان سے ابومسعود انصاری رضی اللہ عنہ نے کہا کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب ہمیں صدقہ کرنے کا حکم دیا تو ہم میں سے بہت سے بازار جا کر بوجھ اٹھانے کی مزدوری کرتے اور اس طرح ایک مد ( غلہ یا کھجور وغیرہ ) حاصل کرتے ۔ ( جسے صدقہ کر دیتے ) لیکن آج ہم میں سے بہت سوں کے پاس لاکھ لاکھ ( درہم یا دینار ) موجود ہیں ۔