Narrated Ibn 'Umar:
Allah's Messenger (ﷺ) said: Islam is based on (the following) five (principles): 1. To testify that none has the right to be worshipped but Allah and Muhammad is Allah's Messenger (ﷺ). 2. To offer the (compulsory congregational) prayers dutifully and perfectly. 3. To pay Zakat (i.e. obligatory charity) . 4. To perform Hajj. (i.e. Pilgrimage to Mecca) 5. To observe fast during the month of Ramadan.
ہم سے عبیداللہ بن موسیٰ نے یہ حدیث بیان کی۔ انھوں نے کہا کہ ہمیں اس کی بابت حنظلہ بن ابی سفیان نے خبر دی۔ انھوں نے عکرمہ بن خالد سے روایت کی انھوں نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر قائم کی گئی ہے۔ اول گواہی دینا کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور بیشک حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے سچے رسول ہیں اور نماز قائم کرنا اور زکوٰۃ ادا کرنا اور حج کرنا اور رمضان کے روزے رکھنا ۔
Narrated Abu Huraira:
The Prophet (ﷺ) said, "Faith (Belief) consists of more than sixty branches (i.e. parts). And Haya (This term "Haya" covers a large number of concepts which are to be taken together; amongst them are self respect, modesty, bashfulness, and scruple, etc.) is a part of faith."
ہم سے بیان کیا عبداللہ بن محمد جعفی نے ، انھوں نے کہا ہم سے بیان کیا ابوعامر عقدی نے ، انھوں نے کہا ہم سے بیان کیا سلیمان بن بلال نے ، انھوں نے عبداللہ بن دینار سے ، انہوں نے روایت کیا ابوصالح سے ، انہوں نے نقل کیا حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے ، انہوں نے نقل فرمایا جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ایمان کی ساٹھ سے کچھ اوپر شاخیں ہیں ۔ اور حیاء ( شرم ) بھی ایمان کی ایک شاخ ہے ۔
Narrated 'Abdullah bin 'Amr:
The Prophet (ﷺ) said, "A Muslim is the one who avoids harming Muslims with his tongue and hands. And a Muhajir (emigrant) is the one who gives up (abandons) all what Allah has forbidden."
ہم سے آدم بن ابی ایاس نے یہ حدیث بیان کی ، ان کو شعبہ نے وہ عبداللہ بن ابی السفر اور اسماعیل سے روایت کرتے ہیں ، وہ دونوں شعبی سے نقل کرتے ہیں ، انھوں نے عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما سے ، وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے مسلمان بچے رہیں اور مہاجر وہ ہے جو ان کاموں کو چھوڑ دے جن سے اللہ نے منع فرمایا ۔ ابوعبداللہ امام بخاری نے فرمایا اور ابومعاویہ نے کہ ہم کو حدیث بیان کی داؤد بن ابی ہند نے ، انھوں نے روایت کی عامر شعبی سے ، انھوں نے کہا کہ میں نے سنا عبداللہ بن عمرو بن عاص سے ، وہ حدیث بیان کرتے ہیں جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ( وہی مذکورہ حدیث ) اور کہا کہ عبدالاعلیٰ نے روایت کیا داؤد سے ، انھوں نے عامر سے ، انھوں نے عبداللہ بن عمرو بن عاص سے ، انھوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ۔
Narrated Abu Musa:
Some people asked Allah's Messenger (ﷺ), "Whose Islam is the best? i.e. (Who is a very good Muslim)?" He replied, "One who avoids harming the Muslims with his tongue and hands."
ہم کو سعید بن یحییٰ بن سعید اموی قریشی نے یہ حدیث سنائی ، انھوں نے اس حدیث کو اپنے والد سے نقل کیا ، انھوں نے ابوبردہ بن عبداللہ بن ابی بردہ سے ، انھوں نے ابی بردہ سے ، انھوں نے ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے ، وہ کہتے ہیں کہ
لوگوں نے پوچھا یا رسول اللہ ! کون سا اسلام افضل ہے ؟ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وہ جس کے ماننے والے مسلمانوں کی زبان اور ہاتھ سے سارے مسلمان سلامتی میں رہیں ۔
Narrated 'Abdullah bin 'Amr:
A man asked the Prophet (ﷺ) , "What sort of deeds or (what qualities of) Islam are good?" The Prophet (ﷺ) replied, 'To feed (the poor) and greet those whom you know and those whom you do not Know (See Hadith No. 27).
ہم سے حدیث بیان کی عمرو بن خالد نے ، ان کو لیث نے ، وہ روایت کرتے ہیں یزید سے ، وہ ابوالخیر سے ، وہ حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما سے کہ
ایک دن ایک آدمی نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ کون سا اسلام بہتر ہے ؟ فرمایا کہ تم کھانا کھلاؤ ، اور جس کو پہچانو اس کو بھی اور جس کو نہ پہچانو اس کو بھی ، الغرض سب کو سلام کرو ۔
Narrated Anas:
The Prophet (ﷺ) said, "None of you will have faith till he wishes for his (Muslim) brother what he likes for himself."
ہم سے حدیث بیان کی مسدد نے ، ان کو یحییٰ نے ، انھوں نے شعبہ سے نقل کیا ، انھوں نے قتادہ سے ، انھوں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ خادم رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ، انھوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا ۔ اور شعبہ نے حسین معلم سے بھی روایت کیا ، انھوں نے قتادہ سے ، انھوں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے ، انھوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل فرمایا کہ
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم میں سے کوئی شخص ایماندار نہ ہو گا جب تک اپنے بھائی کے لیے وہ نہ چاہے جو اپنے نفس کے لیے چاہتا ہے ۔
Narrated Abu Huraira:
"Allah's Messenger (ﷺ) said, "By Him in Whose Hands my life is, none of you will have faith till he loves me more than his father and his children."
ہم سے ابوالیمان نے حدیث بیان کی ، ان کو شعیب نے ، ان کو ابولزناد نے اعرج سے ، انھوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے نقل کی کہ
بیشک رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ، قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ۔ تم میں سے کوئی بھی ایماندار نہ ہو گا جب تک میں اس کے والد اور اولاد سے بھی زیادہ اس کا محبوب نہ بن جاؤں ۔
Narrated Anas:
The Prophet (ﷺ) said "None of you will have faith till he loves me more than his father, his children and all mankind."
ہمیں حدیث بیان کی یعقوب بن ابراہیم نے ، ان کو ابن علیہ نے ، وہ عبدالعزیز بن صہیب سے روایت کرتے ہیں ، وہ حضرت انس رضی اللہ عنہ سے وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل کرتے ہیں اور ہم کو آدم بن ابی ایاس نے حدیث بیان کی ، ان کو شعبہ نے ، وہ قتادہ سے نقل کرتے ہیں ، وہ حضرت انس رضی اللہ عنہ سے کہ
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم میں سے کوئی شخص ایماندار نہ ہو گا جب تک اس کے والد اور اس کی اولاد اور تمام لوگوں سے زیادہ اس کے دل میں میری محبت نہ ہو جائے ۔
Narrated Anas:
The Prophet (ﷺ) said, "Whoever possesses the following three qualities will have the sweetness (delight) of faith: 1. The one to whom Allah and His Apostle becomes dearer than anything else. 2. Who loves a person and he loves him only for Allah's sake. 3. Who hates to revert to Atheism (disbelief) as he hates to be thrown into the fire."
ہمیں محمد بن مثنیٰ نے یہ حدیث بیان کی ، ان کو عبدالوہاب ثقفی نے ، ان کو ایوب نے ، وہ ابوقلابہ سے روایت کرتے ہیں ، وہ حضرت انس رضی اللہ عنہ سے ناقل ہیں
وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تین خصلتیں ایسی ہیں کہ جس میں یہ پیدا ہو جائیں اس نے ایمان کی مٹھاس کو پا لیا ۔ اول یہ کہ اللہ اور اس کا رسول اس کے نزدیک سب سے زیادہ محبوب بن جائیں ، دوسرے یہ کہ وہ کسی انسان سے محض اللہ کی رضا کے لیے محبت رکھے ۔ تیسرے یہ کہ وہ کفر میں واپس لوٹنے کو ایسا برا جانے جیسا کہ آگ میں ڈالے جانے کو برا جانتا ہے ۔
Narrated Anas:
The Prophet (ﷺ) said, "Love for the Ansar is a sign of faith and hatred for the Ansar is a sign of hypocrisy."
ہم سے اس حدیث کو ابوالولید نے بیان کیا ، ان سے شعبہ نے ، انہیں عبداللہ بن جبیر نے خبر دی ، وہ کہتے ہیں کہ ہم نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے اس کو سنا ، وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا انصار سے محبت رکھنا ایمان کی نشانی ہے اور انصار سے کینہ رکھنا نفاق کی نشانی ہے ۔
Narrated 'Ubada bin As-Samit:
who took part in the battle of Badr and was a Naqib (a person heading a group of six persons), on the night of Al-'Aqaba pledge: Allah's Apostle said while a group of his companions were around him, "Swear allegiance to me for: 1. Not to join anything in worship along with Allah. 2. Not to steal. 3. Not to commit illegal sexual intercourse. 4. Not to kill your children. 5. Not to accuse an innocent person (to spread such an accusation among people). 6. Not to be disobedient (when ordered) to do good deed." The Prophet (ﷺ) added: "Whoever among you fulfills his pledge will be rewarded by Allah. And whoever indulges in any one of them (except the ascription of partners to Allah) and gets the punishment in this world, that punishment will be an expiation for that sin. And if one indulges in any of them, and Allah conceals his sin, it is up to Him to forgive or punish him (in the Hereafter)." 'Ubada bin As-Samit added: "So we swore allegiance for these." (points to Allah's Apostle)
ہم سے اس حدیث کو ابوالیمان نے بیان کیا ، ان کو شعیب نے خبر دی ، وہ زہری سے نقل کرتے ہیں ، انہیں ابوادریس عائذ اللہ بن عبداللہ نے خبر دی کہ
عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ جو بدر کی لڑائی میں شریک تھے اور لیلۃالعقبہ کے ( بارہ ) نقیبوں میں سے تھے ۔ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس وقت جب آپ کے گرد صحابہ کی ایک جماعت بیٹھی ہوئی تھی فرمایا کہ مجھ سے بیعت کرو اس بات پر کہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو گے ، چوری نہ کرو گے ، زنا نہ کرو گے ، اپنی اولاد کو قتل نہ کرو گے اور نہ عمداً کسی پر کوئی ناحق بہتان باندھو گے اور کسی بھی اچھی بات میں ( خدا کی ) نافرمانی نہ کرو گے ۔ جو کوئی تم میں ( اس عہد کو ) پورا کرے گا تو اس کا ثواب اللہ کے ذمے ہے اور جو کوئی ان ( بری باتوں ) میں سے کسی کا ارتکاب کرے اور اسے دنیا میں ( اسلامی قانون کے تحت ) سزا دے دی گئی تو یہ سزا اس کے ( گناہوں کے ) لیے بدلا ہو جائے گی اور جو کوئی ان میں سے کسی بات میں مبتلا ہو گیا اور اللہ نے اس کے ( گناہ ) کو چھپا لیا تو پھر اس کا ( معاملہ ) اللہ کے حوالہ ہے ، اگر چاہے معاف کرے اور اگر چاہے سزا دیدے ۔ ( عبادہ کہتے ہیں کہ ) پھر ہم سب نے ان ( سب باتوں ) پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کر لی ۔
Narrated Abu Said Al-Khudri:
Allah's Messenger (ﷺ) said, "A time will soon come when the best property of a Muslim will be sheep which he will take on the top of mountains and the places of rainfall (valleys) so as to flee with his religion from afflictions."
ہم سے ( اس حدیث کو ) عبداللہ بن مسلمہ نے بیان کیا ، انھوں نے اسے مالک رحمہ اللہ سے نقل کیا ، انھوں نے عبدالرحمٰن بن عبداللہ بن ابی صعصعہ سے ، انھوں نے اپنے باپ ( عبداللہ رحمہ اللہ ) سے ، وہ ابو سعید خدری سے نقل کرتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وہ وقت قریب ہے جب مسلمان کا ( سب سے ) عمدہ مال ( اس کی بکریاں ہوں گی ) ۔ جن کے پیچھے وہ پہاڑوں کی چوٹیوں اور برساتی وادیوں میں اپنے دین کو بچانے کے لیے بھاگ جائے گا ۔
Narrated 'Aisha:
Whenever Allah's Messenger (ﷺ) ordered the Muslims to do something, he used to order them deeds which were easy for them to do, (according to their strength and endurance). They said, "O Allah's Messenger (ﷺ)! We are not like you. Allah has forgiven your past and future sins." So Allah's Apostle became angry and it was apparent on his face. He said, "I am the most Allah fearing, and know Allah better than all of you do."
یہ حدیث ہم سے محمد بن سلام نے بیان کی ، وہ کہتے ہیں کہ انہیں اس کی عبدہ نے خبر دی ، وہ ہشام سے نقل کرتے ہیں ، ہشام حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے وہ فرماتی ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کو کسی کام کا حکم دیتے تو وہ ایسا ہی کام ہوتا جس کے کرنے کی لوگوں میں طاقت ہوتی ( اس پر ) صحابہ رضی اللہ عنہم نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ ! ہم لوگ تو آپ جیسے نہیں ہیں ( آپ تو معصوم ہیں ) اور آپ کی اللہ پاک نے اگلی پچھلی سب لغزشیں معاف فرما دی ہیں ۔ ( اس لیے ہمیں اپنے سے کچھ زیادہ عبادت کرنے کا حکم فرمائیے ) ( یہ سن کر ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم ناراض ہوئے حتیٰ کہ خفگی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرہ مبارک سے ظاہر ہونے لگی ۔ پھر فرمایا کہ بیشک میں تم سب سے زیادہ اللہ سے ڈرتا ہوں اور تم سب سے زیادہ اسے جانتا ہوں ۔ ( پس تم مجھ سے بڑھ کر عبادت نہیں کر سکتے ) ۔
Narrated Anas:
The Prophet (ﷺ) said, "Whoever possesses the following three qualities will taste the sweetness of faith: 1. The one to whom Allah and His Apostle become dearer than anything else. 2. Who loves a person and he loves him only for Allah's sake. 3. Who hates to revert to disbelief (Atheism) after Allah has brought (saved) him out from it, as he hates to be thrown in fire."
اس حدیث کو ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا ، ان سے شعبہ نے ، وہ قتادہ سے روایت کرتے ہیں ، وہ حضرت انس رضی اللہ عنہ سے ، اور وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل کرتے ہیں کہ
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ، جس شخص میں یہ تین باتیں ہوں گی وہ ایمان کا مزہ پالے گا ، ایک یہ کہ وہ شخص جسے اللہ اور اس کا رسول ان کے ماسوا سے زیادہ عزیز ہوں اور دوسرے یہ کہ جو کسی بندے سے محض اللہ ہی کے لیے محبت کرے اور تیسری بات یہ کہ جسے اللہ نے کفر سے نجات دی ہو ، پھر دوبارہ کفر اختیار کرنے کو وہ ایسا برا سمجھے جیسا آگ میں گر جانے کو برا جانتا ہے ۔
Narrated Abu Said Al-Khudri:
The Prophet (ﷺ) said, "When the people of Paradise will enter Paradise and the people of Hell will go to Hell, Allah will order those who have had faith equal to the weight of a grain of mustard seed to be taken out from Hell. So they will be taken out but (by then) they will be blackened (charred). Then they will be put in the river of Haya' (rain) or Hayat (life) (the Narrator is in doubt as to which is the right term), and they will revive like a grain that grows near the bank of a flood channel. Don't you see that it comes out yellow and twisted"
ہم سے اسماعیل نے یہ حدیث بیان کی ، وہ کہتے ہیں ان سے مالک نے ، وہ عمرو بن یحییٰ المازنی سے نقل کرتے ہیں ، وہ اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں اور وہ حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ اور وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل کرتے ہیں کہ
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب جنتی جنت میں اور دوزخی دوزخ میں داخل ہو جائیں گے ۔ اللہ پاک فرمائے گا ، جس کے دل میں رائی کے دانے کے برابر ( بھی ) ایمان ہو ، اس کو بھی دوزخ سے نکال لو ۔ تب ( ایسے لوگ ) دوزخ سے نکال لیے جائیں گے اور وہ جل کر کوئلے کی طرح سیاہ ہو چکے ہوں گے ۔ پھر زندگی کی نہر میں یا بارش کے پانی میں ڈالے جائیں گے ۔ ( یہاں راوی کو شک ہو گیا ہے کہ اوپر کے راوی نے کون سا لفظ استعمال کیا ) اس وقت وہ دانے کی طرح اگ آئیں گے جس طرح ندی کے کنارے دانے اگ آتے ہیں ۔ کیا تم نے نہیں دیکھا کہ دانہ زردی مائل پیچ در پیچ نکلتا ہے ۔ وہیب نے کہا کہ ہم سے عمرو نے ( «حياء» کی بجائے ) «حياة» ، اور («خردل من ايمان» ) کی بجائے ( «خردل من خير» ) کا لفظ بیان کیا ۔
Narrated Abu Said Al-Khudri:
Allah's Messenger (ﷺ) said, "While I was sleeping I saw (in a dream) some people wearing shirts of which some were reaching up to the breasts only while others were even shorter than that. Umar bin Al-Khattab was shown wearing a shirt that he was dragging." The people asked, "How did you interpret it? (What is its interpretation) O Allah's Messenger (ﷺ)?" He (the Prophet (ﷺ) ) replied, "It is the Religion."
ہم سے محمد بن عبیداللہ نے یہ حدیث بیان کی ، ان سے ابراہیم بن سعد نے ، وہ صالح سے روایت کرتے ہیں ، وہ ابن شہاب سے ، وہ ابوامامہ بن سہل بن حنیف سے راوی ہیں ، وہ حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے ، وہ کہتے تھے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں ایک وقت سو رہا تھا ، میں نے خواب میں دیکھا کہ لوگ میرے سامنے پیش کیے جا رہے ہیں اور وہ کرتے پہنے ہوئے ہیں ۔ کسی کا کرتہ سینے تک ہے اور کسی کا اس سے نیچا ہے ۔ ( پھر ) میرے سامنے عمر بن الخطاب لائے گئے ۔ ان ( کے بدن ) پر ( جو ) کرتا تھا ۔ اسے وہ گھسیٹ رہے تھے ۔ ( یعنی ان کا کرتہ زمین تک نیچا تھا ) صحابہ نے پوچھا کہ یا رسول اللہ ! اس کی کیا تعبیر ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ( اس سے ) دین مراد ہے ۔
Narrated 'Abdullah (bin 'Umar):
Once Allah's Messenger (ﷺ) passed by an Ansari (man) who was admonishing his brother regarding Haya'. On that Allah's Messenger (ﷺ) said, "Leave him as Haya' is a part of faith." (See Hadith 9)
عبداللہ ابن یوسف نے ہم سے بیان کیا ، وہ کہتے ہیں کہ ہمیں مالک ابن انس نے ابن شہاب سے خبر دی ، وہ سالم بن عبداللہ سے نقل کرتے ہیں ، وہ اپنے باپ ( عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما ) سے کہ
ایک دفعہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک انصاری شخص کے پاس سے گزرے اس حال میں کہ وہ اپنے ایک بھائی سے کہہ رہے تھے کہ تم اتنی شرم کیوں کرتے ہو ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس انصاری سے فرمایا کہ اس کو اس کے حال پر رہنے دو کیونکہ حیاء بھی ایمان ہی کا ایک حصہ ہے ۔
Narrated Ibn 'Umar:
Allah's Messenger (ﷺ) said: "I have been ordered (by Allah) to fight against the people until they testify that none has the right to be worshipped but Allah and that Muhammad is Allah's Messenger (ﷺ), and offer the prayers perfectly and give the obligatory charity, so if they perform that, then they save their lives and property from me except for Islamic laws and then their reckoning (accounts) will be done by Allah."
اس حدیث کو ہم سے عبداللہ بن محمد مسندی نے بیان کیا ، ان سے ابوروح حرمی بن عمارہ نے ، ان سے شعبہ نے ، وہ واقد بن محمد سے روایت کرتے ہیں ، وہ کہتے ہیں میں نے یہ حدیث اپنے باپ سے سنی ، وہ ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ۔ مجھے ( اللہ کی طرف سے ) حکم دیا گیا ہے کہ لوگوں سے جنگ کروں اس وقت تک کہ وہ اس بات کا اقرار کر لیں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ہے اور یہ کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے سچے رسول ہیں اور نماز ادا کرنے لگیں اور زکوٰۃ دیں ، جس وقت وہ یہ کرنے لگیں گے تو مجھ سے اپنے جان و مال کو محفوظ کر لیں گے ، سوائے اسلام کے حق کے ۔ ( رہا ان کے دل کا حال تو ) ان کا حساب اللہ کے ذمے ہے ۔
Narrated Abu Huraira:
Allah's Messenger (ﷺ) was asked, "What is the best deed?" He replied, "To believe in Allah and His Apostle (Muhammad). The questioner then asked, "What is the next (in goodness)? He replied, "To participate in Jihad (religious fighting) in Allah's Cause." The questioner again asked, "What is the next (in goodness)?" He replied, "To perform Hajj (Pilgrim age to Mecca) 'Mubrur, (which is accepted by Allah and is performed with the intention of seeking Allah's pleasure only and not to show off and without committing a sin and in accordance with the traditions of the Prophet)."
ہم سے احمد بن یونس اور موسیٰ بن اسماعیل دونوں نے بیان کیا ، انھوں نے کہا ہم سے ابراہیم بن سعید نے بیان کیا ، انھوں نے کہا ہم سے ابن شہاب نے بیان کیا ، وہ سعید بن المسیب رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں ، وہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا گیا کہ کون سا عمل سب سے افضل ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لانا “ کہا گیا ، اس کے بعد کون سا ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ” اللہ کی راہ میں جہاد کرنا “ کہا گیا ، پھر کیا ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” حج مبرور “ ۔
Narrated Sa'd:
Allah's Messenger (ﷺ) distributed (Zakat) amongst (a group of) people while I was sitting there but Allah's Messenger (ﷺ) left a man whom I thought the best of the lot. I asked, "O Allah's Messenger (ﷺ)! Why have you left that person? By Allah I regard him as a faithful believer." The Prophet (ﷺ) commented: "Or merely a Muslim." I remained quiet for a while, but could not help repeating my question because of what I knew about him. And then asked Allah's Messenger (ﷺ), "Why have you left so and so? By Allah! He is a faithful believer." The Prophet (ﷺ) again said, "Or merely a Muslim." And I could not help repeating my question because of what I knew about him. Then the Prophet (ﷺ) said, "O Sa'd! I give to a person while another is dearer to me, for fear that he might be thrown on his face in the Fire by Allah."
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا ، وہ کہتے ہیں کہ ہمیں شعیب نے زہری سے خبر دی ، انہیں عامر بن سعد بن ابی وقاص نے اپنے والد سعد رضی اللہ عنہ سے سن کر یہ خبر دی کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چند لوگوں کو کچھ عطیہ دیا اور سعد وہاں موجود تھے ۔ ( وہ کہتے ہیں کہ ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان میں سے ایک شخص کو کچھ نہ دیا ۔ حالانکہ وہ ان میں مجھے سب سے زیادہ پسند تھا ۔ میں نے کہا حضور آپ نے فلاں کو کچھ نہ دیا حالانکہ میں اسے مومن گمان کرتا ہوں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مومن یا مسلمان ؟ میں تھوڑی دیر چپ رہ کر پھر پہلی بات دہرانے لگا ۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی دوبارہ وہی جواب دیا ۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اے سعد ! باوجود یہ کہ ایک شخص مجھے زیادہ عزیز ہے ( پھر بھی میں اسے نظرانداز کر کے ) کسی اور دوسرے کو اس خوف کی وجہ سے یہ مال دے دیتا ہوں کہ ( وہ اپنی کمزوری کی وجہ سے اسلام سے پھر جائے اور ) اللہ اسے آگ میں اوندھا ڈال دے ۔ اس حدیث کو یونس ، صالح ، معمر اور زہری کے بھتیجے عبداللہ نے زہری سے روایت کیا ۔