Narrated 'Abdullah bin 'Amr:
A person asked Allah's Messenger (ﷺ) . "What (sort of) deeds in or (what qualities of) Islam are good?" He replied, "To feed (the poor) and greet those whom you know and those whom you don't know."
ہم سے قتیبہ نے بیان کیا ، انھوں نے کہا ہم سے لیث نے بیان کیا ، انھوں نے یزید بن ابی حبیب سے ، انھوں نے ابوالخیر سے ، انھوں نے عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے کہ
ایک آدمی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کون سا اسلام بہتر ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تو کھانا کھلائے اور ہر شخص کو سلام کرے خواہ اس کو تو جانتا ہو یا نہ جانتا ہو ۔
Narrated Ibn 'Abbas:
The Prophet (ﷺ) said: "I was shown the Hell-fire and that the majority of its dwellers were women who were ungrateful." It was asked, "Do they disbelieve in Allah?" (or are they ungrateful to Allah?) He replied, "They are ungrateful to their husbands and are ungrateful for the favors and the good (charitable deeds) done to them. If you have always been good (benevolent) to one of them and then she sees something in you (not of her liking), she will say, 'I have never received any good from you."
اس حدیث کو ہم سے عبداللہ بن مسلمہ نے بیان کیا ، وہ امام مالک سے ، وہ زید بن اسلم سے ، وہ عطاء بن یسار سے ، وہ حضرت عبداللہ ابن عباس رضی اللہ عنہما سے نقل کرتے ہیں کہ
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مجھے دوزخ دکھلائی گئی تو اس میں زیادہ تر عورتیں تھیں جو کفر کرتی ہیں ۔ کہا گیا حضور کیا وہ اللہ کے ساتھ کفر کرتی ہیں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ خاوند کی ناشکری کرتی ہیں ۔ اور احسان کی ناشکری کرتی ہیں ۔ اگر تم عمر بھر ان میں سے کسی کے ساتھ احسان کرتے رہو ۔ پھر تمہاری طرف سے کبھی کوئی ان کے خیال میں ناگواری کی بات ہو جائے تو فوراً کہہ اٹھے گی کہ میں نے کبھی بھی تجھ سے کوئی بھلائی نہیں دیکھی ۔
Narrated Al-Ma'rur:
At Ar-Rabadha I met Abu Dhar who was wearing a cloak, and his slave, too, was wearing a similar one. I asked about the reason for it. He replied, "I abused a person by calling his mother with bad names." The Prophet said to me, 'O Abu Dhar! Did you abuse him by calling his mother with bad names You still have some characteristics of ignorance. Your slaves are your brothers and Allah has put them under your command. So whoever has a brother under his command should feed him of what he eats and dress him of what he wears. Do not ask them (slaves) to do things beyond their capacity (power) and if you do so, then help them.' "
ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا ، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا ، انھوں نے اسے واصل احدب سے ، انھوں نے معرور سے ، کہا
میں ابوذر سے ربذہ میں ملا وہ ایک جوڑا پہنے ہوئے تھے اور ان کا غلام بھی جوڑا پہنے ہوئے تھا ۔ میں نے اس کا سبب دریافت کیا تو کہنے لگے کہ میں نے ایک شخص یعنی غلام کو برا بھلا کہا تھا اور اس کی ماں کی غیرت دلائی ( یعنی گالی دی ) تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ معلوم کر کے مجھ سے فرمایا اے ابوذر ! تو نے اسے ماں کے نام سے غیرت دلائی ، بیشک تجھ میں ابھی کچھ زمانہ جاہلیت کا اثر باقی ہے ۔ ( یاد رکھو ) ماتحت لوگ تمہارے بھائی ہیں ۔ اللہ نے ( اپنی کسی مصلحت کی بنا پر ) انہیں تمہارے قبضے میں دے رکھا ہے تو جس کے ماتحت اس کا کوئی بھائی ہو تو اس کو بھی وہی کھلائے جو آپ کھاتا ہے اور وہی کپڑا اسے پہنائے جو آپ پہنتا ہے اور ان کو اتنے کام کی تکلیف نہ دو کہ ان کے لیے مشکل ہو جائے اور اگر کوئی سخت کام ڈالو تو تم خود بھی ان کی مدد کرو ۔
Narrated Al-Ahnaf bin Qais:
While I was going to help this man ('Ali Ibn Abi Talib), Abu Bakra met me and asked, "Where are you going?" I replied, "I am going to help that person." He said, "Go back for I have heard Allah's Messenger (ﷺ) saying, 'When two Muslims fight (meet) each other with their swords, both the murderer as well as the murdered will go to the Hell-fire.' I said, 'O Allah's Messenger (ﷺ)! It is all right for the murderer but what about the murdered one?' Allah's Messenger (ﷺ) replied, "He surely had the intention to kill his companion."
ہم سے بیان کیا عبدالرحمٰن بن مبارک نے ، کہا ہم سے بیان کیا حماد بن زید نے ، کہا ہم سے بیان کیا ایوب اور یونس نے ، انھوں نے حسن سے ، انھوں نے احنف بن قیس سے ، کہا کہ
میں اس شخص ( حضرت علی رضی اللہ عنہ ) کی مدد کرنے کو چلا ۔ راستے میں مجھ کو ابوبکرہ ملے ۔ پوچھا کہاں جاتے ہو ؟ میں نے کہا ، اس شخص ( حضرت علی رضی اللہ عنہ ) کی مدد کرنے کو جاتا ہوں ۔ ابوبکرہ نے کہا اپنے گھر کو لوٹ جاؤ ۔ میں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے جب دو مسلمان اپنی اپنی تلواریں لے کر بھڑ جائیں تو قاتل اور مقتول دونوں دوزخی ہیں ۔ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! قاتل تو خیر ( ضرور دوزخی ہونا چاہیے ) مقتول کیوں ؟ فرمایا ’’ وہ بھی اپنے ساتھی کو مار ڈالنے کی حرص رکھتا تھا ۔ ‘‘ ( موقع پاتا تو وہ اسے ضرور قتل کر دیتا دل کے عزم صمیم پر وہ دوزخی ہوا ) ۔
Narrated 'Abdullah:
When the following Verse was revealed: "It is those who believe and confuse not their belief with wrong (worshipping others besides Allah.)" (6:83), the companions of Allah's Messenger (ﷺ) asked, "Who is amongst us who had not done injustice (wrong)?" Allah revealed: "No doubt, joining others in worship with Allah is a great injustice (wrong) indeed." (31.13)
ہمارے سامنے ابوالولید نے بیان کیا ، انھوں نے کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا ( دوسری سند ) اور امام بخاری رحمہ اللہ نے کہا کہ ہم سے ( اسی حدیث کو ) بشر نے بیان کیا ، ان سے محمد نے ، ان سے شعبہ نے ، انھوں نے سلیمان سے ، انھوں نے علقمہ سے ، انھوں نے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہما سے
جب سورۃ الانعام کی یہ آیت اتری جو لوگ ایمان لائے اور انھوں نے اپنے ایمان میں گناہوں کی آمیزش نہیں کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب نے کہا یا رسول اللہ ! یہ تو بہت ہی مشکل ہے ۔ ہم میں کون ایسا ہے جس نے گناہ نہیں کیا ۔ تب اللہ پاک نے سورۃ لقمان کی یہ آیت اتاری «إن الشرك لظلم عظيم» کہ بیشک شرک بڑا ظلم ہے ۔
Narrated Abu Huraira:
The Prophet (ﷺ) said, "The signs of a hypocrite are three: 1. Whenever he speaks, he tells a lie. 2. Whenever he promises, he always breaks it (his promise ). 3. If you trust him, he proves to be dishonest. (If you keep something as a trust with him, he will not return it.)"
ہم سے سلیمان ابوالربیع نے بیان کیا ، ان سے اسماعیل بن جعفر نے ، ان سے نافع بن ابی عامر ابوسہیل نے ، وہ اپنے باپ سے ، وہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں ، وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل کرتے ہیں کہ
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ، منافق کی علامتیں تین ہیں ۔ جب بات کرے جھوٹ بولے ، جب وعدہ کرے اس کے خلاف کرے اور جب اس کو امین بنایا جائے تو خیانت کرے ۔
Narrated 'Abdullah bin 'Amr:
The Prophet (ﷺ) said, "Whoever has the following four (characteristics) will be a pure hypocrite and whoever has one of the following four characteristics will have one characteristic of hypocrisy unless and until he gives it up. 1. Whenever he is entrusted, he betrays. 2. Whenever he speaks, he tells a lie. 3. Whenever he makes a covenant, he proves treacherous. 4. Whenever he quarrels, he behaves in a very imprudent, evil and insulting manner."
ہم سے قبیصہ بن عقبہ نے یہ حدیث بیان کی ، ان سے سفیان نے ، وہ اعمش بن عبیداللہ بن مرہ سے نقل کرتے ہیں ، وہ مسروق سے ، وہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ چار عادتیں جس کسی میں ہوں تو وہ خالص منافق ہے اور جس کسی میں ان چاروں میں سے ایک عادت ہو تو وہ ( بھی ) نفاق ہی ہے ، جب تک اسے نہ چھوڑ دے ۔ ( وہ یہ ہیں ) جب اسے امین بنایا جائے تو ( امانت میں ) خیانت کرے اور بات کرتے وقت جھوٹ بولے اور جب ( کسی سے ) عہد کرے تو اسے پورا نہ کرے اور جب ( کسی سے ) لڑے تو گالیوں پر اتر آئے ۔ اس حدیث کو شعبہ نے ( بھی ) سفیان کے ساتھ اعمش سے روایت کیا ہے ۔
Narrated Abu Huraira:
Allah's Messenger (ﷺ) said, "Whoever establishes the prayers on the night of Qadr out of sincere faith and hoping to attain Allah's rewards (not to show off) then all his past sins will be forgiven."
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا ، انہیں شعیب نے خبر دی ، کہا ان سے ابوالزناد نے اعرج کے واسطے سے بیان کیا ، اعرج نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے نقل کیا ، وہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ، جو شخص شب قدر ایمان کے ساتھ محض ثواب آخرت کے لیے ذکر و عبادت میں گزارے ، اس کے گزشتہ گناہ بخش دئیے جاتے ہیں ۔
Narrated Abu Huraira:
The Prophet (ﷺ) said, "The person who participates in (Holy battles) in Allah's cause and nothing compels him to do so except belief in Allah and His Apostles, will be recompensed by Allah either with a reward, or booty (if he survives) or will be admitted to Paradise (if he is killed in the battle as a martyr). Had I not found it difficult for my followers, then I would not remain behind any sariya going for Jihad and I would have loved to be martyred in Allah's cause and then made alive, and then martyred and then made alive, and then again martyred in His cause."
ہم سے حرمی بن حفص نے بیان کیا ، ان سے عبدالواحد نے ، ان سے عمارہ نے ، ان سے ابوزرعہ بن عمرو بن جریر نے ، وہ کہتے ہیں میں نے حضرت ابوہریرہ سے سنا ، وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل کرتے ہیں
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو شخص اللہ کی راہ میں ( جہاد کے لیے ) نکلا ، اللہ اس کا ضامن ہو گیا ۔ ( اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ) اس کو میری ذات پر یقین اور میرے پیغمبروں کی تصدیق نے ( اس سرفروشی کے لیے گھر سے ) نکالا ہے ۔ ( میں اس بات کا ضامن ہوں ) کہ یا تو اس کو واپس کر دوں ثواب اور مال غنیمت کے ساتھ ، یا ( شہید ہونے کے بعد ) جنت میں داخل کر دوں ( رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ) اور اگر میں اپنی امت پر ( اس کام کو ) دشوار نہ سمجھتا تو لشکر کا ساتھ نہ چھوڑتا اور میری خواہش ہے کہ اللہ کی راہ میں مارا جاؤں ، پھر زندہ کیا جاؤں ، پھر مارا جاؤں ، پھر زندہ کیا جاؤں ، پھر مارا جاؤں ۔
Narrated Abu Huraira:
Allah's Messenger (ﷺ) said: "Whoever establishes prayers during the nights of Ramadan faithfully out of sincere faith and hoping to attain Allah's rewards (not for showing off), all his past sins will be forgiven."
ہم سے اسماعیل نے بیان کیا ، انھوں نے کہا کہ مجھ سے امام مالک رحمہ اللہ نے بیان کیا ، انھوں نے ابن شہاب سے نقل کیا ، انھوں نے حمید بن عبدالرحمٰن سے ، انھوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے کہ
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو کوئی رمضان میں ( راتوں کو ) ایمان رکھ کر اور ثواب کے لیے عبادت کرے اس کے اگلے گناہ بخش دئیے جاتے ہیں ۔
Narrated Abu Huraira:
Allah's Messenger (ﷺ) said, "Whoever observes fasts during the month of Ramadan out of sincere faith, and hoping to attain Allah's rewards, then all his past sins will be forgiven."
ہم نے ابن سلام نے بیان کیا ، انھوں نے کہا کہ ہمیں محمد بن فضیل نے خبر دی ، انھوں نے کہا کہ ہم سے یحییٰ بن سعید نے بیان کیا ، انھوں نے ابوسلمہ سے روایت کی ، وہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے نقل کرتے ہیں کہ
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس نے رمضان کے روزے ایمان اور خالص نیت کے ساتھ رکھے اس کے پچھلے گناہ بخش دیئے گئے ۔
Narrated Abu Huraira:
The Prophet (ﷺ) said, "Religion is very easy and whoever overburdens himself in his religion will not be able to continue in that way. So you should not be extremists, but try to be near to perfection and receive the good tidings that you will be rewarded; and gain strength by worshipping in the mornings, the afternoons, and during the last hours of the nights." (See Fath-ul-Bari, Page 102, Vol 1).
ہم سے عبدالسلام بن مطہر نے بیان کیا ، انھوں نے کہا کہ ہم کو عمر بن علی نے معن بن محمد غفاری سے خبر دی ، وہ سعید بن ابوسعید مقبری سے ، وہ ابوہریرہ سے کہ
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بیشک دین آسان ہے اور جو شخص دین میں سختی اختیار کرے گا تو دین اس پر غالب آ جائے گا ( اور اس کی سختی نہ چل سکے گی ) پس ( اس لیے ) اپنے عمل میں پختگی اختیار کرو ۔ اور جہاں تک ممکن ہو میانہ روی برتو اور خوش ہو جاؤ ( کہ اس طرز عمل سے تم کو دارین کے فوائد حاصل ہوں گے ) اور صبح اور دوپہر اور شام اور کسی قدر رات میں ( عبادت سے ) مدد حاصل کرو ۔ ( نماز پنج وقتہ بھی مراد ہو سکتی ہے کہ پابندی سے ادا کرو ۔ )
Narrated Al-Bara' (bin 'Azib):
When the Prophet (ﷺ) came to Medina, he stayed first with his grandfathers or maternal uncles from Ansar. He offered his prayers facing Baitul-Maqdis (Jerusalem) for sixteen or seventeen months, but he wished that he could pray facing the Ka'ba (at Mecca). The first prayer which he offered facing the Ka'ba was the 'Asr prayer in the company of some people. Then one of those who had offered that prayer with him came out and passed by some people in a mosque who were bowing during their prayers (facing Jerusalem). He said addressing them, "By Allah, I testify that I have prayed with Allah's Messenger (ﷺ) facing Mecca (Ka'ba).' Hearing that, those people changed their direction towards the Ka'ba immediately. Jews and the people of the scriptures used to be pleased to see the Prophet (ﷺ) facing Jerusalem in prayers but when he changed his direction towards the Ka'ba, during the prayers, they disapproved of it. Al-Bara' added, "Before we changed our direction towards the Ka'ba (Mecca) in prayers, some Muslims had died or had been killed and we did not know what to say about them (regarding their prayers.) Allah then revealed: And Allah would never make your faith (prayers) to be lost (i.e. the prayers of those Muslims were valid).' " (2:143).
ہم سے عمرو بن خالد نے بیان کیا ، انھوں نے کہا ہم سے زہیر نے بیان کیا ، انھوں نے کہا ہم سے ابواسحاق نے بیان کیا ، ان کو حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ نے خبر دی کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب مدینہ تشریف لائے تو پہلے اپنی نانہال میں اترے ، جو انصار تھے ۔ اور وہاں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سولہ یا سترہ ماہ بیت المقدس کی طرف منہ کر کے نماز پڑھی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خواہش تھی کہ آپ کا قبلہ بیت اللہ کی طرف ہو ( جب بیت اللہ کی طرف نماز پڑھنے کا حکم ہو گیا ) تو سب سے پہلی نماز جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیت اللہ کی طرف پڑھی عصر کی نماز تھی ۔ وہاں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ لوگوں نے بھی نماز پڑھی ، پھر آپ کے ساتھ نماز پڑھنے والوں میں سے ایک آدمی نکلا اور اس کا مسجد ( بنی حارثہ ) کی طرف گزر ہوا تو وہ لوگ رکوع میں تھے ۔ وہ بولا کہ میں اللہ کی گواہی دیتا ہوں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مکہ کی طرف منہ کر کے نماز پڑھی ہے ۔ ( یہ سن کر ) وہ لوگ اسی حالت میں بیت اللہ کی طرف گھوم گئے اور جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیت المقدس کی طرف منہ کر کے نماز پڑھا کرتے تھے ، یہود اور عیسائی خوش ہوتے تھے مگر جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیت اللہ کی طرف منہ پھیر لیا تو انہیں یہ امر ناگوار ہوا ۔ زہیر ( ایک راوی ) کہتے ہیں کہ ہم سے ابواسحاق نے براء سے یہ حدیث بھی نقل کی ہے کہ قبلہ کی تبدیلی سے پہلے کچھ مسلمان انتقال کر چکے تھے ۔ تو ہمیں یہ معلوم نہ ہو سکا کہ ان کی نمازوں کے بارے میں کیا کہیں ۔ تب اللہ نے یہ آیت نازل کی «وما كان الله ليضيع إيمانكم» ( البقرہ : 143 ) ۔
Narrated Abu Sa'id Al Khudri:
Allah's Messenger (ﷺ) said, "If a person embraces Islam sincerely, then Allah shall forgive all his past sins, and after that starts the settlement of accounts, the reward of his good deeds will be ten times to seven hundred times for each good deed and one evil deed will be recorded as it is unless Allah forgives it."
امام مالک رحمہ اللہ کہتے ہیں مجھے زید بن اسلم نے خبر دی ، انہیں عطاء بن یسار نے ، ان کو ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے بتایا کہ
انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا کہ جب ( ایک ) بندہ مسلمان ہو جائے اور اس کا اسلام عمدہ ہو ( یقین و خلوص کے ساتھ ہو ) تو اللہ اس کے گناہ کو جو اس نے اس ( اسلام لانے ) سے پہلے کیا معاف فرما دیتا ہے اور اب اس کے بعد کے لیے بدلا شروع ہو جاتا ہے ( یعنی ) ایک نیکی کے عوض دس گنا سے لے کر سات سو گنا تک ( ثواب ) اور ایک برائی کا اسی برائی کے مطابق ( بدلا دیا جاتا ہے ) مگر یہ کہ اللہ تعالیٰ اس برائی سے بھی درگزر کرے ۔ ( اور اسے بھی معاف فرما دے ۔ یہ بھی اس کے لیے آسان ہے ۔ )
Narrated Abu Huraira:
Allah's Messenger (ﷺ) said, "If any one of you improve (follows strictly) his Islamic religion then his good deeds will be rewarded ten times to seven hundred times for each good deed and a bad deed will be recorded as it is."
ہم سے اسحاق بن منصور نے بیان کیا ، ان سے عبدالرزاق نے ، انہیں معمر نے ہمام سے خبر دی ، وہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے نقل کرتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم میں سے کوئی شخص جب اپنے اسلام کو عمدہ بنا لے ( یعنی نفاق اور ریا سے پاک کر لے ) تو ہر نیک کام جو وہ کرتا ہے اس کے عوض دس سے لے کر سات سو گنا تک نیکیاں لکھی جاتی ہیں اور ہر برا کام جو کرتا ہے تو وہ اتنا ہی لکھا جاتا ہے ( جتنا کہ اس نے کیا ہے ) ۔
Narrated 'Aisha:
Once the Prophet (ﷺ) came while a woman was sitting with me. He said, "Who is she?" I replied, "She is so and so," and told him about her (excessive) praying. He said disapprovingly, "Do (good) deeds which is within your capacity (without being overtaxed) as Allah does not get tired (of giving rewards) but (surely) you will get tired and the best deed (act of Worship) in the sight of Allah is that which is done regularly."
ہم سے محمد بن المثنی نے بیان کیا ، ان سے یحییٰ نے ہشام کے واسطے سے نقل کیا ، وہ کہتے ہیں مجھے میرے باپ ( عروہ ) نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت نقل کی کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ( ایک دن ) ان کے پاس آئے ، اس وقت ایک عورت میرے پاس بیٹھی تھی ، آپ نے دریافت کیا یہ کون ہے ؟ میں نے عرض کیا ، فلاں عورت اور اس کی نماز ( کے اشتیاق اور پابندی ) کا ذکر کیا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ٹھہر جاؤ ( سن لو کہ ) تم پر اتنا ہی عمل واجب ہے جتنے عمل کی تمہارے اندر طاقت ہے ۔ خدا کی قسم ( ثواب دینے سے ) اللہ نہیں اکتاتا ، مگر تم ( عمل کرتے کرتے ) اکتا جاؤ گے ، اور اللہ کو دین ( کا ) وہی عمل زیادہ پسند ہے جس کی ہمیشہ پابندی کی جا سکے ۔ ( اور انسان بغیر اکتائے اسے انجام دے ) ۔
Narrated Anas:
The Prophet (ﷺ) said, "Whoever said "None has the right to be worshipped but Allah and has in his heart good (faith) equal to the weight of a barley grain will be taken out of Hell. And whoever said: "None has the right to be worshipped but Allah and has in his heart good (faith) equal to the weight of a wheat grain will be taken out of Hell. And whoever said, "None has the right to be worshipped but Allah and has in his heart good (faith) equal to the weight of an atom will be taken out of Hell."
ہم سے مسلم بن ابراہیم نے بیان کیا ، ان سے ہشام نے ، ان سے قتادہ نے حضرت انس کے واسطے سے نقل کیا ، وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس شخص نے «لا إله إلا الله» کہہ لیا اور اس کے دل میں جو برابر بھی ( ایمان ) ہے تو وہ ( ایک نہ ایک دن ) دوزخ سے ضرور نکلے گا اور دوزخ سے وہ شخص ( بھی ) ضرور نکلے گا جس نے کلمہ پڑھا اور اس کے دل میں گیہوں کے دانہ برابر خیر ہے اور دوزخ سے وہ ( بھی ) نکلے گا جس نے کلمہ پڑھا اور اس کے دل میں اک ذرہ برابر بھی خیر ہے ۔ حضرت امام ابوعبداللہ بخاری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ابان نے بروایت قتادہ بواسطہ حضرت انس رضی اللہ عنہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے «خير» کی جگہ «ايمان» کا لفظ نقل کیا ہے ۔
Narrated 'Umar bin Al-Khattab:
Once a Jew said to me, "O the chief of believers! There is a verse in your Holy Book Which is read by all of you (Muslims), and had it been revealed to us, we would have taken that day (on which it was revealed as a day of celebration." 'Umar bin Al-Khattab asked, "Which is that verse?" The Jew replied, "This day I have perfected your religion For you, completed My favor upon you, And have chosen for you Islam as your religion." (5:3) 'Umar replied,"No doubt, we know when and where this verse was revealed to the Prophet. It was Friday and the Prophet (ﷺ) was standing at 'Arafat (i.e. the Day of Hajj)"
ہم سے اس حدیث کو حسن بن صباح نے بیان کیا ، انھوں نے جعفر بن عون سے سنا ، وہ ابوالعمیس سے بیان کرتے ہیں ، انہیں قیس بن مسلم نے طارق بن شہاب کے واسطے سے خبر دی ۔ وہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ
ایک یہودی نے ان سے کہا کہ اے امیرالمؤمنین ! تمہاری کتاب ( قرآن ) میں ایک آیت ہے جسے تم پڑھتے ہو ۔ اگر وہ ہم یہودیوں پر نازل ہوتی تو ہم اس ( کے نزول کے ) دن کو یوم عید بنا لیتے ۔ آپ نے پوچھا وہ کون سی آیت ہے ؟ اس نے جواب دیا ( سورۃ المائدہ کی یہ آیت کہ ) ’’ آج میں نے تمہارے دین کو مکمل کر دیا اور اپنی نعمت تم پر تمام کر دی اور تمہارے لیے دین اسلام پسند کیا ‘‘ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ ہم اس دن اور اس مقام کو ( خوب ) جانتے ہیں جب یہ آیت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہوئی ( اس وقت ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم عرفات میں جمعہ کے دن کھڑے ہوئے تھے ۔
Narrated Talha bin 'Ubaidullah:
A man from Najd with unkempt hair came to Allah's Messenger (ﷺ) and we heard his loud voice but could not understand what he was saying, till he came near and then we came to know that he was asking about Islam. Allah's Messenger (ﷺ) said, "You have to offer prayers perfectly five times in a day and night (24 hours)." The man asked, "Is there any more (praying)?" Allah's Messenger (ﷺ) replied, "No, but if you want to offer the Nawafil prayers (you can)." Allah's Messenger (ﷺ) further said to him: "You have to observe fasts during the month of Ramadan." The man asked, "Is there any more fasting?" Allah's Messenger (ﷺ) replied, "No, but if you want to observe the Nawafil fasts (you can.)" Then Allah's Messenger (ﷺ) further said to him, "You have to pay the Zakat (obligatory charity)." The man asked, "Is there any thing other than the Zakat for me to pay?" Allah's Messenger (ﷺ) replied, "No, unless you want to give alms of your own." And then that man retreated saying, "By Allah! I will neither do less nor more than this." Allah's Messenger (ﷺ) said, "If what he said is true, then he will be successful (i.e. he will be granted Paradise)."
ہم سے اسماعیل نے بیان کیا ، کہا مجھ سے امام مالک رحمہ اللہ نے بیان کیا ، انھوں نے اپنے چچا ابوسہیل بن مالک سے ، انھوں نے اپنے باپ ( مالک بن ابی عامر ) سے ، انھوں نے طلحہ بن عبیداللہ سے وہ کہتے تھے
نجد والوں میں ایک شخص آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا ، سر پریشان یعنی بال بکھرے ہوئے تھے ، ہم اس کی آواز کی بھنبھناہٹ سنتے تھے اور ہم سمجھ نہیں پا رہے تھے کہ وہ کیا کہہ رہا ہے ۔ یہاں تک کہ وہ نزدیک آن پہنچا ، جب معلوم ہوا کہ وہ اسلام کے بارے میں پوچھ رہا ہے ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اسلام دن رات میں پانچ نمازیں پڑھنا ہے ، اس نے کہا بس اس کے سوا تو اور کوئی نماز مجھ پر نہیں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نہیں مگر تو نفل پڑھے ( تو اور بات ہے ) آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اور رمضان کے روزے رکھنا ۔ اس نے کہا اور تو کوئی روزہ مجھ پر نہیں ہے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نہیں مگر تو نفل روزے رکھے ( تو اور بات ہے ) طلحہ نے کہا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے زکوٰۃ کا بیان کیا ۔ وہ کہنے لگا کہ بس اور کوئی صدقہ مجھ پر نہیں ہے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نہیں مگر یہ کہ تو نفل صدقہ دے ( تو اور بات ہے ) راوی نے کہا پھر وہ شخص پیٹھ موڑ کر چلا ۔ یوں کہتا جاتا تھا ، قسم خدا کی میں نہ اس سے بڑھاؤں گا نہ گھٹاؤں گا ، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر یہ سچا ہے تو اپنی مراد کو پہنچ گیا ۔
Narrated Abu Huraira:
Allah's Messenger (ﷺ) said, "(A believer) who accompanies the funeral procession of a Muslim out of sincere faith and hoping to attain Allah's reward and remains with it till the funeral prayer is offered and the burial ceremonies are over, he will return with a reward of two Qirats. Each Qirat is like the size of the (Mount) Uhud. He who offers the funeral prayer only and returns before the burial, will return with the reward of one Qirat only."
ہم سے احمد بن عبداللہ بن علی منجونی نے بیان کیا ، کہا ہم سے روح نے بیان کیا ، کہا ہم سے عوف نے بیان کیا ، انھوں نے حسن بصری اور محمد بن سیرین سے ، انھوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے کہ
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ، جو کوئی ایمان رکھ کر اور ثواب کی نیت سے کسی مسلمان کے جنازے کے ساتھ جائے اور نماز اور دفن سے فراغت ہونے تک اس کے ساتھ رہے تو وہ دو قیراط ثواب لے کر لوٹے گا ہر قیراط اتنا بڑا ہو گا جیسے احد کا پہاڑ ، اور جو شخص جنازے پر نماز پڑھ کر دفن سے پہلے لوٹ جائے تو وہ ایک قیراط ثواب لے کر لوٹے گا ۔ روح کے ساتھ اس حدیث کو عثمان مؤذن نے بھی روایت کیا ہے ۔ کہا ہم سے عوف نے بیان کیا ، انھوں نے محمد بن سیرین سے سنا ، انھوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے ، انھوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے اگلی روایت کی طرح ۔