Narrated Humran:
I saw `Uthman رضی اللہ عنہ performing ablution; he washed his hands thrice, rinsed his mouth and then washed his nose, by putting water in it and then blowing it out, and washed his face thrice, and then washed his right forearm up to the elbow thrice, and then the left-forearm up to the elbow thrice, then smeared his head with water, washed his right foot thrice, and then his left foot thrice and said, "I saw Allah's Apostle performing ablution similar to my present ablution, and then he said, 'Whoever performs ablution like my present ablution and then offers two rak`at in which he does not think of worldly things, all his previous sins will be forgiven."
ہم سے عبدان نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم کو عبداللہ بن مبارک نے خبر دی ، انہوں نے کہا ہم کو معمر نے خبر دی ، انہوں نے کہا ہم سے زہری نے بیان کیا ، ان سے عطاء بن زید نے ، ان سے حمران نے
انہوں نے حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کو وضو کرتے دیکھا ، آپ نے ( پہلے ) اپنے دونوں ہاتھوں پر تین مرتبہ پانی ڈالا پھر کلی کی اور ناک صاف کی ، پھر تین مرتبہ چہرہ دھویا ، پھر دایاں ہاتھ کہنی تک دھویا ، پھر بایاں ہاتھ کہنی تک دھویا تین تین مرتبہ ، اس کے بعد اپنے سر کا مسح کیا اور تین مرتبہ داہنا پاؤں دھویا ، پھر تین مرتبہ بایاں پاؤں دھویا ، آخر میں کہا کہ جس طرح میں نے وضو کیا ہے میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی اسی طرح وضو کرتے دیکھا ہے ، پھر آپ نے فرمایا تھا کہ جس نے میری طرح وضو کیا پھر دو رکعت نماز ( تحیۃ الوضو ) اس طرح پڑھی کہ اس نے دل میں کسی قسم کے خیالات و وساوس گزرنے نہیں دیئے تو اس کے اگلے گناہ معاف کر دیئے جائیں گے ۔
Narrated `Aisha رضی اللہ عنہا :
A man came to the Prophet (ﷺ) and said that he had been burnt (ruined). The Prophet (ﷺ) asked him what was the matter. He replied, "I had sexual intercourse with my wife in Ramadan (while I was fasting)." Then a basket full of dates was brought to the Prophet (ﷺ) and he asked, "Where is the burnt (ruined) man?" He replied, "I am present." The Prophet (ﷺ) told him to give that basket in charity (as expiation).
ہم سے عبداللہ بن منیر نے بیان کیا ، کہا کہ ہم نے یزید بن ہارون سے سنا ، ان سے یحییٰ نے ( جو سعید کے صاحبزادے ہیں ) کہا ، انہیں عبدالرحمٰن بن قاسم نے خبر دی ، انہیں محمد بن جعفر بن زبیر بن عوام بن خویلد نے اور انہیں عباد بن عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما نے خبر دی کہ انہوں نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے سنا ، آپ نے کہا کہ
ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کی کہ میں دوزخ میں جل چکا ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کہ کیا بات ہوئی ؟ اس نے کہا کہ رمضان میں میں نے ( روزے کی حالت میں ) اپنی بیوی سے ہمبستری کر لی ، تھوڑی دیر میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ( کھجور کا ) ایک تھیلہ جس کا نام عرق تھا ، پیش کیا گیا ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ دوزخ میں جلنے والا شخص کہاں ہے ؟ اس نے کہا کہ حاضر ہوں ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ لے تو اسے خیرات کر دے ۔
Narrated Abu Huraira رضی اللہ عنہ :
While we were sitting with the Prophet (ﷺ) a man came and said, "O Allah's Messenger (ﷺ)! I have been ruined." Allah's Messenger (ﷺ) asked what was the matter with him. He replied "I had sexual intercourse with my wife while I was fasting." Allah's Messenger (ﷺ) asked him, "Can you afford to manumit a slave?" He replied in the negative. Allah's Messenger (ﷺ) asked him, "Can you fast for two successive months?" He replied in the negative. The Prophet (ﷺ) asked him, "Can you afford to feed sixty poor persons?" He replied in the negative. The Prophet (ﷺ) kept silent and while we were in that state, a big basket full of dates was brought to the Prophet (ﷺ) . He asked, "Where is the questioner?" He replied, "I (am here)." The Prophet (ﷺ) said (to him), "Take this (basket of dates) and give it in charity." The man said, "Should I give it to a person poorer than I? By Allah; there is no family between its (i.e. Medina's) two mountains who are poorer than I." The Prophet (ﷺ) smiled till his premolar teeth became visible and then said, 'Feed your family with it."
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا ، کہا ہم کو شعیب نے خبر دی ، انہیں زہری نے ، انہوں نے بیان کیا کہ مجھے حمید بن عبدالرحمٰن نے خبر دی اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ
ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں تھے کہ ایک شخص نے حاضر ہو کر کہا کہ یا رسول اللہ ! میں تو تباہ ہو گیا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کیا بات ہوئی ؟ اس نے کہا کہ میں نے روزہ کی حالت میں اپنی بیوی سے جماع کر لیا ہے ، اس پر رسول اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کیا تمہارے پاس کوئی غلام ہے جسے تم آزاد کر سکو ؟ اس نے کہا نہیں ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کیا پے درپے دو مہینے کے روزے رکھ سکتے ہو ؟ اس نے عرض کی نہیں ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کیا تم کو ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلانے کی طاقت ہے ؟ اس نے اس کا جواب بھی انکار میں دیا ، راوی نے بیان کیا کہ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تھوڑی دیر کے لیے ٹھہر گئے ، ہم بھی اپنی اسی حالت میں بیٹھے ہوئے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک بڑا تھیلا ( عرق نامی ) پیش کیا گیا جس میں کھجوریں تھیں ۔ عرق تھیلے کو کہتے ہیں ( جسے کھجور کی چھال سے بناتے ہیں ) آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کہ سائل کہاں ہے ؟ اس نے کہا کہ میں حاضر ہوں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کے اسے لے لو اور صدقہ کر دو ، اس شخص نے کہا یا رسول اللہ ! کیا میں اپنے سے زیادہ محتاج پر صدقہ کر دوں ، بخدا ان دونوں پتھریلے میدانوں کے درمیان کوئی بھی گھرانہ میرے گھر سے زیادہ محتاج نہیں ہے ، اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس طرح ہنس پڑے کہ آپ کے آگے کے دانت دیکھے جا سکے ۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ اچھا جا اپنے گھر والوں ہی کو کھلا دے ۔
Narrated Abu Huraira رضی اللہ عنہ :
A man came to the Prophet (ﷺ) and said, "I had sexual intercourse with my wife on Ramadan (while fasting)." The Prophet (ﷺ) asked him, "Can you afford to manumit a slave?" He replied in the negative. The Prophet (ﷺ) asked him, "Can you fast for two successive months?" He replied in the negative. He asked him, "Can you afford to feed sixty poor persons?" He replied in the negative. (Abu Huraira added): Then a basket full of dates was brought to the Prophet (ﷺ) and he said (to that man), "Feed (poor people) with this by way of atonement." He said, "(Should I feed it) to poorer people than we? There is no poorer house than ours between its (Medina's) mountains." The Prophet (ﷺ) said, "Then feed your family with it."
ہم سے عثمان بن ابی شیبہ نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے جریر نے بیان کیا ، ان سے منصور نے ، ان سے زہری نے ، ان سے حمید بن عبدالرحمٰن نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ
ایک شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کی کہ یہ بدنصیب رمضان میں اپنی بیوی سے جماع کر بیٹھا ہے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کہ تمہارے پاس اتنی طاقت نہیں ہے کہ ایک غلام آزاد کر سکو ؟ اس نے کہا کہ نہیں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر دریافت فرمایا کیا تم پے در پے دو مہینے کے روزے رکھ سکتے ہو ؟ اس نے کہا کہ نہیں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر دریافت فرمایا کہ کیا تمہارے اندر اتنی طاقت ہے کہ ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلا سکو ؟ اب بھی اس کا جواب نفی میں تھا ۔ راوی نے بیان کیا پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک تھیلا لایا گیا جس میں کھجوریں تھیں «عرق» زنبیل کو کہتے ہیں ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اسے لے جا اور اپنی طرف سے ( محتاجوں کو ) کھلا دے ، اس شخص نے کہا میں اپنے سے بھی زیادہ محتاج کو حالانکہ دو میدانوں کے درمیان کوئی گھرانہ ہم سے زیادہ محتاج نہیں آپ نے فرمایا کہ پھر جا اپنے گھر والوں ہی کو کھلا دے ۔
Narrated Ibn `Abbas رضی اللہ عنہما :
The Prophet (ﷺ) was cupped while he was in the state of lhram, and also while he was observing a fast.
ہم سے معلی بن اسد نے بیان کیا ، ان سے وہیب نے ، وہ ایوب سے ، وہ عکرمہ سے ، وہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے احرام میں اوروزے کی حالت میں پچھنا لگوایا ۔
Narrated Ibn `Abbas رضی اللہ عنہما :
The Prophet (ﷺ) was cupped while he was fasting.
ہم سے ابومعمر عبداللہ بن عمری نے بیان کیا ، کہا ہم سے عبدالوارث بن سعید نے بیان کیا ، ان سے ایوب سختیانی نے بیان کیا ، ان سے عکرمہ نے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے روزہ کی حالت میں پچھنا لگوایا ۔
Narrated Thabit Al-Bunani:
Anas bin Malik was asked whether they disliked the cupping for a fasting person. He replied in the negative and said, "Only if it causes weakness." Shababah has reported from Shobah in the prophet times.
ہم سے آدم بن ابی ایاس نے بیان کیا ، ہم سے شعبہ نے بیان کیا ، کہا کہ میں نے ثابت بنانی سے سنا ، انہوں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے پوچھا تھا کہ
کیا آپ لوگ روزہ کی حالت میں پچھنا لگوانے کو مکروہ سمجھا کرتے تھے ؟ آپ نے جواب دیا کہ نہیں البتہ کمزوی کے خیال سے ( روزہ میں نہیں لگواتے تھے ) شبابہ نے یہ زیادتی کی ہے کہ ہم سے شعبہ نے بیان کیا کہ ( ایسا ہم ) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں ( کرتے تھے ) ۔
Narrated Ibn Abi `Aufa رضی اللہ عنہ :
We were in the company of Allah's Messenger (ﷺ) on a journey. He said to a man, "Get down and mix Sawiq (powdered barley) with water for me." The man said, "The sun (has not set yet), O Allah's Messenger (ﷺ)." The Prophet (ﷺ) again said to him, "Get down and mix Sawiq with water for me." The man again said, "O Allah's Messenger (ﷺ)! The sun!" The Prophet (ﷺ) said to him (for the third time) "Get down and mix Sawiq with water for me." The man dismounted and mixed Sawiq with water for him. The Prophet (ﷺ) drank it and then beckoned with his hand (towards the East) and said, "When you see the night falling from this side, then a fasting person should break his fast." Jareer and Abu Bakr bin Ayyash corroborated him from Shaibani that Hadrat Ibn-e-Abi Aufa said: Iwas on a journey with the prophet (ﷺ).
ہم سے علی بن عبداللہ مدینی نے بیان کیا ، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا ، ان سے ابواسحاق شیبانی نے ، انہوں نے عبداللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہ سے سنا کہا کہ
ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سفر میں تھے ( روزہ کی حالت میں ) آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک صاحب ( بلال رضی اللہ عنہ ) سے فرمایا کہ اتر کر میرے لیے ستو گھول لے ، انہوں نے عرض کی یا رسول اللہ ! ابھی تو سورج باقی ہے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر فرمایا کہ اتر کر ستو گھول لے ، اب کی مرتبہ بھی انہوں نے عرض کی یا رسول اللہ ! ابھی سورج باقی ہے لیکن آپ کا حکم اب بھی یہی تھا کہ اتر کر میرے لیے ستو گھول لے ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک طرف اشارہ کر کے فرمایا جب تم دیکھو کہ رات یہاں سے شروع ہو چکی ہے تو روزہ دار کو افطار کر لینا چاہئے ۔ اس کی متابعت جریر اور ابوبکر بن عیاش نے شیبانی کے واسطہ سے کی ہے اور ان سے ابواوفی رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں رسول اللہ صلی علیہ وسلم کے ساتھ سفر میں تھا ۔
Narrated `Aisha رضی اللہ عنہا :
Hamza bin `Amr Al-Aslami رضی اللہ عنہ said, "O Allah's Messenger (ﷺ)! I fast continuously."
ہم سے مسدد نے بیان کیا ، کہا ہم سے یحییٰ بن قطان نے بیان کیا ، ان سے ہشام بن عروہ نے بیان کیا کہ مجھ سے میرے باپ عروہ نے بیان کیا ، ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہ
حمزہ بن عمرو اسلمی رضی اللہ عنہ نے عرض کی یا رسول اللہ ! میں سفر میں لگاتار روزہ رکھتا ہوں ۔
Narrated `Aisha رضی اللہ عنہا (the wife of the Prophet):
Hamza bin `Amr Al-Aslami asked the Prophet, "Should I fast while traveling?" The Prophet (ﷺ) replied, "You may fast if you wish, and you may not fast if you wish."
( دوسری سند امام بخاری نے کہا کہ ) اور ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا ، انہیں امام مالک نے خبر دی ، انہیں ہشام بن عروہ نے ، انہیں ان کے والد نے اور انہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ مطہرہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہ
حمزہ بن عمرو اسلمی رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کی میں سفر میں روزہ رکھوں ؟ وہ روزے بکثرت رکھا کرتے تھے ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر جی چاہے تو روزہ رکھ اور جی چاہے افطار کر ۔
Narrated Ibn `Abbas رضی اللہ عنہما :
Allah's Messenger (ﷺ) set out for Mecca in Ramadan and he fasted, and when he reached Al-Kadid, he broke his fast and the people (with him) broke their fast too. (Abu `Abdullah said, "Al-Kadid is a land covered with water between Usfan and Qudaid.")
ہم سے عبداللہ بن یوسف تنیسی نے بیان کیا ، کہا کہ ہم کو امام مالک نے خبر دی ، انہیں ابن شہاب نے ، انہیں عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ نے اور انہیں ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ( فتح مکہ کے موقع پر ) مکہ کی طرف رمضان میں چلے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم روزہ سے تھے لیکن جب کدید پہنچے تو روزہ رکھنا چھوڑ دیا ۔ ابوعبداللہ امام بخاری رحمہ اللہ نے کہا کہ عسفان اور قدید کے درمیان کدید ایک تالاب ہے ۔
Narrated Abu Ad-Darda رضی اللہ عنہا :
We set out with Allah's Messenger (ﷺ) on one of his journeys on a very hot day, and it was so hot that one had to put his hand over his head because of the severity of heat. None of us was fasting except the Prophet and Ibn Rawaha رضی اللہ عنہ .
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے یحییٰ بن حمزہ نے بیان کیا ، ان سے ابوعبدالرحمٰن بن یزید بن جابر نے بیان کیا ، ان سے اسماعیل بن عبیداللہ نے بیان کیا ، اور ان سے ام الدرداء رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ
ابودرداء رضی اللہ عنہ نے کہا ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک سفر کر رہے تھے ۔ دن انتہائی گرم تھا ۔ گرمی کا یہ عالم تھا کہ گرمی کی سختی سے لوگ اپنے سروں کو پکڑ لیتے تھے ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور ابن رواحہ رضی اللہ عنہ کے سوا کوئی شخص روزہ سے نہیں تھا ۔
Narrated Jabir bin `Abdullah رضی اللہ عنہما :
Allah's Messenger (ﷺ) was on a journey and saw a crowd of people, and a man was being shaded (by them). He asked, "What is the matter?" They said, "He (the man) is fasting." The Prophet (ﷺ) said, "It is not righteousness that you fast on a journey."
ہم سے آدم بن ایاس نے بیان کیا ، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا ، ان سے محمد بن عبدالرحمٰن انصاری نے بیان کیا ، کہا کہ میں نے محمد بن عمرو بن حسن بن علی رضی اللہ عنہ سے سنا اور انہوں نے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک سفر ( غزوہ فتح ) میں تھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھا کہ ایک شخص پر لوگوں نے سایہ کر رکھا ہے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کہ کیا بات ہے ؟ لوگوں نے کہا کہ ایک روزہ دار ہے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ سفر میں رو زہ رکھنا اچھا کام نہیں ہے ۔
Narrated Anas bin Malik رضی اللہ عنہ :
We used to travel with the Prophet (ﷺ) and neither did the fasting persons criticize those who were not fasting, nor did those who were not fasting criticize the fasting ones.
ہم سے عبداللہ بن مسلمہ نے بیان کیا ، کہا ہم سے امام مالک نے ، ان سے حمید طویل نے اور ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے کہ
ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ( رمضان میں ) سفر کیا کرتے تھے ۔ ( سفر میں بہت سے روزے سے ہوتے اور بہت سے بے روزہ ہوتے ) لیکن روزے دار بے روزہ دار پر اور بے روزہ دار روزے دار پر کسی قسم کی عیب جوئی نہیں کیا کرتے تھے ۔
Narrated Ibn `Abbas رضی اللہ عنہما :
"Allah's Messenger (ﷺ) set out from Medina to Mecca and he fasted till he reached 'Usfan, where he asked for water and raised his hand to let the people see him, and then broke the fast, and did not fast after that till he reached Mecca, and that happened in Ramadan." Ibn `Abbas رضی اللہ عنہما used to say, "Allah's Messenger (ﷺ) (sometimes) fasted and (sometimes) did not fast during the journeys so whoever wished to fast could fast, and whoever wished not to fast, could do so."
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم سے ابوعوانہ نے ، ان سے منصور نے ، ان سے مجاہد نے ، ان سے طاؤس نے اور ان سے حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( غزوہ فتح میں ) مدینہ سے مکہ کے لیے سفر شروع کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم روزہ سے تھے ، جب آپ عسفان پہنچے تو پانی منگوایا اور اسے اپنے ہاتھ سے ( منہ تک ) اٹھایا تاکہ لوگ دیکھ لیں پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے روزہ چھوڑ دیا یہاں تک کہ مکہ پہنچے ۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما کہا کرتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( سفر میں ) روزہ رکھا بھی اور نہیں بھی رکھا اس لیے جس کا جی چاہے روزہ رکھے اور جس کا جی چاہے نہ رکھے ۔
Narrated Nafi`:
Ibn `Umar رضی اللہ عنہما recited the verse: "They had a choice either to fast or to feed a poor person for every day, and said that the order of this Verse was canceled.
ہم سے عیاش نے بیان کیا ، ان سے عبدالاعلیٰ نے بیان کیا ، ان سے عبیداللہ نے بیان کیا ، ان سے نافع نے کہ
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے ( آیت مذکور بالا ) «فديه طعام مسكين» پڑھی اور فرمایا یہ منسوخ ہے ۔
Narrated `Aisha رضی اللہ عنہا :
Sometimes I missed some days of Ramadan, but could not fast in lieu of them except in the month of Sha'ban." Said Yahya, a sub-narrator, "She used to be busy serving the Prophet (ﷺ) ."
ہم سے احمد بن یونس نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے زہیر نے بیان کیا ، ان سے یحییٰ بن ابی کثیر نے بیان کیا ، ان سے ابوسلمہ نے بیان کیا کہ میں نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے سنا وہ فرماتیں کہ
رمضان کا روزہ مجھ سے چھوٹ جاتا ۔ شعبان سے پہلے اس کی قضاء کی توفیق نہ ہوتی ۔ یحییٰ نے کہا کہ یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں مشغول رہنے کی وجہ سے تھا ۔
Narrated Abu Sa`id رضی اللہ عنہ :
The Prophet (ﷺ) said, "Isn't it true that a woman does not pray and does not fast on menstruating? And that is the defect (a loss) in her religion."
ہم سے سعید بن ابی مریم نے بیان کیا ، کہا ہم سے محمد بن جعفر نے بیان کیا ، کہا کہ مجھ سے زید بن اسلم نے بیان کیا ، ان سے عیاض نے اور ان سے ابوسعید رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا جب عورت حائضہ ہوتی ہے تو نماز اور روزے نہیں چھوڑ دیتی ؟ یہی اس کے دین کا نقصان ہے ۔
Narrated `Aisha رضی اللہ عنہا :
Allah's Messenger (ﷺ) said, "Whoever died and he ought to have fasted (the missed days of Ramadan) then his guardians must fast on his behalf." Ibn-e- Wahab corroborated him from Amr and reported it Yahya bin Ayyub from Ibn-e-Abi Jafar.
ہم سے محمد بن خالد نے بیان کیا ، کہا ہم سے محمد بن موسیٰ ابن اعین نے بیان کیا ، انہوں نے کہا کہ ہم سے ان کے والد نے بیان کیا ، ان سے عمرو بن حارث نے ، ان سے عبیداللہ بن ابی جعفر نے ، ان سے محمد بن جعفر نے کہا ، ان سے عروہ نے بیان کیا اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر کوئی شخص مر جائے اور اس کے ذمہ روزے واجب ہوں تو اس کا ولی اس کی طرف سے روزے رکھ دے ، موسیٰ کے ساتھ اس حدیث کو ابن وہب نے بھی عمرو سے روایت کیا اور یحییٰ بن ایوب سختیانی نے بھی ابن ابی جعفر سے ۔
Narrated Ibn `Abbas رضی اللہ عنہما :
A man came to the Prophet (ﷺ) and said, "O Allah's Messenger (ﷺ)! My mother died and she ought to have fasted one month (for her missed Ramadan). Shall I fast on her behalf?" The Prophet (ﷺ) replied in the affirmative and said, "Allah's debts have more right to be paid." In another narration a woman is reported to have said, "My sister died..." Narrated Ibn `Abbas رضی اللہ عنہما : A woman said to the Prophet (ﷺ) "My mother died and she had vowed to fast but she didn't fast." In another narration Ibn `Abbas رضی اللہ عنہما is reported to have said, "A woman said to the Prophet, "My mother died while she ought to have fasted for fifteen days."
ہم سے محمد بن عبدالرحیم نے بیان کیا ، کہا ہم سے معاویہ بن عمرو نے بیان کیا ، کہا ہم سے زائدہ نے بیان کیا ، ان سے اعمش نے ، ان سے مسلم بطین نے ، ان سے سعید بن جبیر نے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہ
ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کی یا رسول اللہ ! میری ماں کا انتقال ہو گیا اور ان کے ذمے ایک مہینے کے روزے باقی رہ گئے ہیں ۔ کیا میں ان کی طرف سے قضاء رکھ سکتا ہوں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں ضرور ، اللہ تعالیٰ کا قرض اس بات کا زیادہ مستحق ہے کہ اسے ادا کر دیا جائے ۔ سلیمان اعمش نے بیان کیا کہ حکم اور سلمہ نے کہا جب مسلم بطین نے یہ حدیث بیان کیا تو ہم سب وہیں بیٹھے ہوئے تھے ۔ ان دونوں حضرات نے فرمایا کہ ہم نے مجاہد سے بھی سنا تھا کہ وہ یہ حدیث ابن عباس رضی اللہ عنہما سے بیان کرتے تھے ۔ ابوخالد سے روایت ہے کہ اعمش نے بیان کیا ان سے حکم ، مسلم بطین اور سلمہ بن کہیل نے ، ان سے سعید بن جبیر ، عطاء اور مجاہد نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے کہ ایک خاتون نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کی کہ میری ” بہن “ کا انتقال ہو گیا ہے پھر یہی قصہ بیان کیا ، یحییٰ اور سعید اور ابومعاویہ نے کہا ، ان سے اعمش نے بیان کیا ، ان سے مسلم نے ، ان سے سعید نے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہ ایک خاتون نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کی کہ میری ماں کا انتقال ہو گیا ہے اور عبیداللہ نے بیان کیا ، ان سے زید ابن ابی انیسہ نے ، ان سے حکم نے ، ان سے سعید بن جبیر نے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہ ایک خاتون نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کی کہ میری ماں کا انتقال ہو گیا ہے اور ان پر نذر کا ایک روزہ واجب تھا اور ابوحریز عبداللہ بن حسین نے بیان کیا ، کہا ہم سے عکرمہ نے بیان کیا اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہ ایک خاتون نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کی کہ میری ماں کا انتقال ہو گیا ہے اور ان پر پندرہ دن کے روزے واجب تھے ۔