Narrated `Abdullah bin `Amr bin Al-`As رضی اللہ عنہما :
"Once Allah's Messenger (ﷺ) came to me," and then he narrated the whole narration, i.e. your guest has a right on you, and your wife has a right on you. I then asked about the fasting of David. The Prophet (ﷺ) replied, "Half of the year," (i.e. he used to fast on every alternate day).
ہم سے اسحاق نے بیان کیا ، کہا کہ ہم کو ہارون بن اسماعیل نے خبر دی ، کہا کہ ہم سے علی نے بیان کیا ، ان سے یحییٰ نے بیان کیا ، کہا کہ مجھ سے ابوسلمہ نے بیان کیا ، کہا کہ مجھ سے عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما نے بیان کیا ، آپ نے فرمایا کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے یہاں تشریف لائے ۔ پھر انہوں نے پوری حدیث بیان کی ، یعنی تمہارے ملاقاتیوں کا بھی تم پر حق ہے اور تمہاری بیوی کا بھی تم پر حق ہے ۔ اس پر میں نے پوچھا اور داؤد علیہ السلام کا روزہ کیسا تھا ؟ تو آپ نے فرمایا کہ ایک دن روزہ رکھنا اور ایک دن بے روزہ رہنا صوم داؤدی ہے ۔
Narrated `Abdullah bin `Amr bin Al-`As رضی اللہ عنہما :
Allah's Messenger (ﷺ) said to me, "O `Abdullah! Have I not been informed that you fast during the day and offer prayers all the night." `Abdullah replied, "Yes, O Allah's Messenger (ﷺ)!" The Prophet (ﷺ) said, "Don't do that; fast for few days and then give it up for few days, offer prayers and also sleep at night, as your body has a right on you, and your wife has a right on you, and your guest has a right on you. And it is sufficient for you to fast three days in a month, as the reward of a good deed is multiplied ten times, so it will be like fasting throughout the year." I insisted (on fasting) and so I was given a hard instruction. I said, "O Allah's Messenger (ﷺ)! I have power." The Prophet (ﷺ) said, "Fast like the fasting of the Prophet (ﷺ) David and do not fast more than that." I said, "How was the fasting of the Prophet (ﷺ) of Allah, David?" He said, "Half of the year," (i.e. he used to fast on every alternate day). Afterwards when `Abdullah رضی اللہ عنہ became old, he used to say, "It would have been better for me if I had accepted the permission of the Prophet (which he gave me i.e. to fast only three days a month).
ہم سے ابن مقاتل نے بیان کیا ، انہوں نے کہا کہ ہم کو عبداللہ نے خبر دی ، انہوں نے کہا کہ ہم کو اوزاعی نے خبر دی ، انہوں نے کہا کہ مجھ سے یحییٰ بن ابی کثیر نے بیان کیا ، انہوں نے کہا کہ مجھ سے ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن نے بیان کیا ، انہوں نے کہا کہ مجھ سے عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما نے بیان کیا ، کہ
مجھ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ، عبداللہ ! کیا یہ خبر صحیح ہے کہ تم دن میں تو روزہ رکھتے ہو اور ساری رات نماز پڑھتے ہو ؟ میں نے عرض کی صحیح ہے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ نے فرمایا ، کہ ایسا نہ کر ، روزہ بھی رکھ اور بے روزہ کے بھی رہ ۔ نماز بھی پڑھ اور سوؤ بھی ۔ کیونکہ تمہارے جسم کا بھی تم پر حق ہے تہماری آنکھوں کا بھی تم پر حق ہے اور تمہاری بیوی کا بھی تم پر حق ہے اور تم سے ملاقات کرنے والوں کا بھی تم پر حق ہے بس یہی کافی ہے کہ ہر مہینے میں تین دن روزہ رکھ لیا کرو ، کیونکہ ہر نیکی کا بدلہ دس گنا ملے گا اور اس طرح یہ ساری عمر کا روزہ ہو جائے گا ، لیکن میں نے اپنے پر سختی چاہی تو مجھ پر سختی کر دی گئی ۔ میں نے عرض کی ، یا رسول اللہ ! میں اپنے میں قوت پاتا ہوں ۔ اس پر آپ نے فرمایا کہ پھر اللہ کے نبی داؤد علیہ السلام کا روزہ رکھ اور اس سے آگے نہ بڑھ ، میں نے پوچھا اللہ کے نبی داؤد علیہ السلام کا روزہ کیا تھا ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ، ایک دن روزہ رکھتے اور ایک دن بے روزہ رہا کرتے تھے ۔ عبداللہ رضی اللہ عنہ بعد میں جب ضعیف ہو گئے تو کہا کرتے تھے کاش ! میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دی ہوئی رخصت مان لیتا ۔
Narrated `Abdullah bin `Amr رضی اللہ عنہما :
Allah's Messenger (ﷺ) was informed that I had taken an oath to fast daily and to pray (every night) all the night throughout my life (so Allah's Messenger (ﷺ) came to me and asked whether it was correct): I replied, "Let my parents be sacrificed for you! I said so." The Prophet (ﷺ) said, "You can not do that. So, fast for few days and give it up for few days, offer Salat (prayer) and sleep. Fast three days a month as the reward of good deeds is multiplied ten times and that will be equal to one year of fasting." The Prophet (ﷺ) said to me, "Fast one day and give up fasting for two days." I replied, "I can do better than that." The Prophet (ﷺ) said to me, "Fast one day and give up fasting for a day and that is the fasting of Prophet David and that is the best fasting." I said, "I have the power to fast better (more) than that." The Prophet (ﷺ) said, "There is no better fasting than that."
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا ، کہا کہ ہم کو شعیب نے خبر دی ، انہیں زہری نے ، کہا کہ مجھے سعید بن مسیب اور ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن نے خبر دی کہ عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما نے کہا کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تک میری یہ بات پہنچا گئی کہ ” خدا کی قسم ! زندگی بھر میں دن میں تو روزے رکھوں گا ۔ اور ساری رات عبادت کروں گا “ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کی ، میرے ماں باپ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر فدا ہوں ، ہاں میں نے یہ کہا ہے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا لیکن تیرے اندر اس کی طاقت نہیں ، اس لیے روزہ بھی رکھ اور بے روزہ بھی رہ ۔ عبادت بھی کر لیکن سوؤ بھی اور مہینے میں تین دن کے روزے رکھا کر ۔ نیکیوں کا بدلہ دس گنا ملتا ہے ، اس طرح یہ ساری عمر کا روزہ ہو جائے گا ، میں نے کہا کہ میں اس سے بھی زیادہ کی طاقت رکھتاہوں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر ایک دن روزہ رکھا کر اور دو دن کے لیے روزے چھوڑ دیا کر ۔ میں نے پھر کہا کہ میں اس سے بھی زیادہ کی طاقت رکھتا ہوں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اچھا ایک دن روزہ رکھ اور ایک دن بے روزہ کے رہ کہ داؤد علیہ السلام کا روزہ ایسا ہی تھا ۔ اور روزہ کا یہ سب سے افضل طریقہ ہے ۔ میں نے اب بھی وہی کہا کہ مجھے اس سے بھی زیادہ کی طاقت ہے لیکن اس مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس سے افضل کوئی روزہ نہیں ہے ۔
Narrated `Abdullah bin `Amr رضی اللہ عنہما :
The news of my daily fasting and praying every night throughout the night reached the Prophet. So he sent for me or I met him, and he said, "I have been informed that you fast everyday and pray every night (all the night). Fast (for some days) and give up fasting (for some days); pray and sleep, for your eyes have a right on you, and your body and your family (i.e. wife) have a right on you." I replied, "I have more power than that (fasting)." The Prophet (ﷺ) said, "Then fast like the fasts of (the Prophet) David". I said, "How?" He replied, "He used to fast on alternate days, and he used not to flee on meeting the enemy." I said, "From where can I get that chance?" (`Ata' said, "I do not know how the expression of fasting daily throughout the life occurred.") So, the Prophet (ﷺ) said, twice, "Whoever fasts daily throughout his life is just as the one who does not fast at all."
ہم سے عمرو بن علی نے بیان کیا ، کہا کہ ہم کو ابوعاصم نے خبر دی ، انہیں ابن جریج نے ، انہوں نے عطاء سے سنا ، انہیں ابوعباس شاعر نے خبر دی ، انہوں نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے سنا کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو معلوم ہوا کہ میں مسلسل روزے رکھتا ہوں اور ساری رات عبادت کرتا ہوں ۔ اب یا آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی کو میرے پاس بھیجا یا خود میں نے آپ سے ملاقات کی ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کہ کیا یہ خبر صحیح ہے کہ تو متواتر روزے رکھتا ہے اور ایک بھی نہیں چھوڑتا اور ( رات بھر ) نماز پڑھتا رہتا ہے ؟ روزہ بھی رکھ اور بے روزہ بھی رہ ، عبادت بھی کر اور سوؤ بھی کیونکہ تیری آنکھ کا بھی تجھ پر حق ہے ، تیری جان کا بھی تجھ پر حق ہے اور تیری بیوی کا بھی تجھ پر حق ہے ۔ عبداللہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ مجھ میں اس سے زیادہ کی طاقت ہے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر داؤد علیہ السلام کی طرح روزہ رکھا کر ۔ انہوں نے کہا اور وہ کس طرح ؟ فرمایا کہ داؤد علیہ السلام ایک دن روزہ رکھتے تھے اور ایک دن کا روزہ چھوڑ دیا کرتے تھے ۔ اور جب دشمن سے مقابلہ ہوتا تو پیٹھ نہیں پھیرتے تھے ۔ اس پر عبداللہ رضی اللہ عنہ نے عرض کی ، اے اللہ کے نبی ! میرے لیے یہ کیسے ممکن ہے کہ میں پیٹھ پھیرجاؤں ۔ عطاء نے کہا کہ مجھے یاد نہیں ( اس حدیث میں ) صوم دہر کا کس طرح ذکر ہوا ! ( البتہ انہیں اتنا دیا تھا کہ ) آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ، جو صوم دہر رکھتا ہے اس کا روزہ ہی نہیں ، دو مرتبہ ( آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہی فرمایا ) ۔
Narrated Mujahid from `Abdullah bin `Amr رضی اللہ عنہما :
The Prophet (ﷺ) said (to `Abdullah), "Fast three days a month." `Abdullah said, (to the Prophet) "I am able to fast more than that." They kept on arguing on this matter till the Prophet (ﷺ) said, "Fast on alternate days, and recite the whole Qur'an once a month." `Abdullah said, "I can recite more (in a month)," and the argument went on till the Prophet (ﷺ) said, "Recite the Qur'an once each three days." (i.e. you must not recite the whole Qur'an in less than three days).
ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے غندر نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے شعبہ نے بیان کیا ، ان سے مغیرہ نے بیان کیا کہ میں نے مجاہد سے سنا اور انہوں نے عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ، مہینہ میں صرف تین دن کے روزے رکھا کر ۔ انہوں نے کہا کہ مجھ میں اس سے بھی زیادہ کی طاقت ہے ۔ اسی طرح وہ برابر کہتے رہے ( کہ مجھ میں اس سے بھی زیادہ کی طاقت ہے ) یہاں تک کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ، ایک دن روزہ رکھو اور ایک دن کا روزہ چھوڑ دیا کر ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے یہ بھی فرمایا کہ مہینہ میں ایک قرآن مجید ختم کیا کر ۔ انہوں نے اس پر بھی کہا کہ میں اس سے زیادہ کی طاقت رکھتا ہوں ۔ اور برابر یہی کہتے رہے ۔ یہاں تک کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تین دن میں ( ایک قرآن ختم کیا کر ) ۔
Narrated `Abdullah bin `Amr bin Al-`As رضی اللہ عنہما :
The Prophet (ﷺ) said to me, "You fast daily all the year and pray every night all the night?" I replied in the affirmative. The Prophet (ﷺ) said, "If you keep on doing this, your eyes will become weak and your body will get tired. He who fasts all the year is as he who did not fast at all. The fasting of three days (a month) will be equal to the fasting of the whole year." I replied, "I have the power for more than this." The Prophet (ﷺ) said, "Then fast like the fasting of David who used to fast on alternate days and would never flee from the battle field, on meeting the enemy."
ہم سے آدم نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے شعبہ نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے حبیب بن ابی ثابت نے بیان کیا ، کہا کہ میں نے ابوعباس مکی سے سنا ، وہ شاعر تھے لیکن روایت حدیث میں ان پر کسی قسم کا اتہام نہیں تھا ۔ انہوں نے بیان کیا کہ میں نے عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما سے سنا ، انہوں نے کہا کہ
مجھ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ، کیا تو متواتر روزے رکھتا ہے اور رات بھر عبادت کرتا ہے ؟ میں نے ہاں میں جواب دیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ، اگر تو یونہی کرتا رہا تو آنکھیں دھنس جائیں گی ، اور تو بےحد کمزور ہو جائے گا یہ کوئی روزہ نہیں کہ کوئی زندگی بھر ( بلاناغہ ہر روز ) روزہ رکھے ۔ تین دن کا ( ہر مہینہ میں ) روزہ پوری زندگی کے روزے کے برابر ہے ۔ میں نے اس پر کہا کہ مجھے اس سے بھی زیادہ طاقت ہے ۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر داؤد علیہ السلام کا روزہ رکھا کر ۔ آپ ایک دن روزہ رکھتے تھے اور ایک دن روزہ چھوڑ دیتے تھے اور جب دشمن کا سامنا ہوتا تو پیٹھ نہیں دکھلایا کرتے تھے ۔
Narrated `Abdullah bin `Amr رضی اللہ عنہما :
Allah's Messenger (ﷺ) was informed about my fasts, and he came to me and I spread for him a leather cushion stuffed with palm fires, but he sat on the ground and the cushion remained between me and him, and then he said, "Isn't it sufficient for you to fast three days a month?" I replied, "O Allah's Apostle! (I can fast more)." He said, "Five?" I replied, "O Allah's Messenger (ﷺ)! (I can fast more)." He said, "Seven?" I replied, "O Allah's Messenger (ﷺ)! (I can fast more)." He said, "Nine (days per month)?" I replied, "O Allah's Messenger (ﷺ)! (I can fast more)" He said, "Eleven (days per month)?" And then the Prophet said, "There is no fast superior to that of the Prophet (ﷺ) David it was for half of the year. So, fast on alternate days."
ہم سے اسحٰق واسطی نے بیان کیا ، کہا ہم سے خالد نے بیان کیا ، ان سے خالد حذاء نے اور ان سے ابوقلابہ نے کہ مجھے ابوملیح نے خبر دی ، کہا کہ میں آپ کے والد کے ساتھ عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کی خدمت میں حاضر ہوا ۔ انہوں نے ہم سے بیان کیا کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو میرے روزے کے متعلق خبر ہو گئی ۔ ( کہ میں مسلسل روزے رکھتا ہوں ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم میرے یہاں تشریف لائے اور میں نے ایک گدہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے بچھا دیا ۔ جس میں کھجور کی چھال بھری ہوئی تھی لیکن آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم زمین پر بیٹھ گئے ۔ اور تکیہ میرے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے درمیان ہو گیا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ، کیا تمہارے لیے ہر مہینہ میں تین دن کے روزے کافی نہیں ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ میں نے عرض کی ، یا رسول اللہ ! ( کچھ اور بڑھا دیجئیے ) آپ نے فرمایا ، اچھا پانچ دن کے روزے ( رکھ لے ) میں نے عرض کی ، یا رسول اللہ کچھ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا چلو چھ دن ، میں نے عرض کی یا رسول اللہ ! ( کچھ اور بڑھائیے ، مجھ میں اس سے بھی زیادہ کی طاقت ہے ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ! اچھا نو دن ، میں نے عرض کی ، یا رسول اللہ ! کچھ اور فرمایا ، اچھا گیارہ دن ۔ آخر آپ نے فرمایا کہ داؤد علیہ السلام کے روزے کے طریقے کے سوا اور کوئی طریقہ ( شریعت میں ) جائز نہیں ۔ یعنی زندگی کے آدھے دنوں میں ایک دن کا روزہ رکھ اور ایک دن کا روزہ چھوڑ دیا کر ۔
Narrated Abu Huraira رضی اللہ عنہ :
My friend (the Prophet (ﷺ) ) advised me to observe three things: (1) to fast three days a month; (2) to pray two rak`at of Duha prayer (forenoon prayer); and (3) to pray witr before sleeping.
ہم سے معمر نے بیان کیا ، ان سے عبدالوارث نے بیان کیا ، ان سے ابوالتیاح نے بیان کیا ، کہا کہ مجھ سے ابوعثمان نے بیان کیا اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ
میرے خلیل صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے ہر مہینے کی تین تاریخوں میں روزہ رکھنے کی وصیت فرمائی تھی ۔ اسی طرح چاشت کی دو رکعتوں کی بھی وصیت فرمائی تھی اور اس کی بھی کہ سونے سے پہلے ہی میں وتر پڑھ لیا کروں ۔
Narrated Anas رضی اللہ عنہ :
The Prophet (ﷺ) paid a visit to Um-Sulaim رضی اللہ عنہا and she placed before him dates and ghee. The Prophet (ﷺ) said, "Replace the ghee and dates in their respective containers for I am fasting." Then he stood somewhere in her house and offered an optional prayer and then he invoked good on Um-Sulaim رضی اللہ عنہا and her family. Then Um-Sulaim رضی اللہ عنہا said, "O Allah's Messenger (ﷺ)! I have a special request (today)." He said, "What is it?" She replied, "(Please invoke for) your servant Anas رضی اللہ عنہ ." So Allah's Messenger (ﷺ) did not leave anything good in the world or the Hereafter which he did not invoke (Allah to bestow) on me and said, "O Allah! Give him (i.e. Anas رضی اللہ عنہ) property and children and bless him." Thus I am one of the richest among the Ansar and my daughter Umaina told me that when Al-Hajjaj came to Basra, more than 120 of my offspring had been buried. Hadrat Humaid heard from Hadrat Anas رضی اللہ عنہ that the prophet (ﷺ)said the same.
ہم سے محمد بن مثنی نے بیان کیا ، کہا کہ مجھ سے خالد نے ( جو حارث کے بیٹے ہیں ) بیان کیا ، ان سے حمید نے اور ان سے انس رضی اللہ عنہ نے کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ام سلیم رضی اللہ عنہا نامی ایک عورت کے یہاں تشریف لے گئے ۔ انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں کھجور اور گھی پیش کیا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ، یہ گھی اس کے برتن میں رکھ دو اور یہ کھجوریں بھی اس کے برتن میں رکھ دو کیونکہ میں تو روزے سے ہوں ، پھر آپ نے گھر کے ایک کنارے میں کھڑے ہو کر نفل نماز پڑھی اور ام سلیم رضی اللہ عنہا اور ان کے گھر والوں کے لیے دعا کی ، ام سلیم رضی اللہ عنہا نے عرض کی کہ میرا ایک بچہ لاڈلا بھی تو ہے ( اس کے لیے بھی تو دعا فرما دیجئیے ) فرمایا کون ہے انہوں نے کہا آپ کا خادم انس ( رضی اللہ عنہ ) پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دنیا اور آخرت کی کوئی خیر و بھلائی نہ چھوڑی جس کی ان کے لیے دعا نہ کی ہو ۔ آپ نے دعا میں یہ بھی فرمایا اے اللہ ! اسے مال اور اولاد عطا فرما اور اس کے لیے برکت عطا کر ( انس رضی اللہ عنہ کا بیان تھا کہ ) چنانچہ میں انصار میں سب سے زیادہ مالدار ہوں ۔ اور مجھ سے میری بیٹی امینہ نے بیان کیا حجاج کے بصرہ آنے تک میری صلبی اولاد میں سے تقریباً ایک سو بیس دفن ہو چکے تھے ۔ ہم سے ابن ابی مریم نے بیان کیا ، انہیں یحییٰ نے خبر دی ، کہا کہ مجھ سے حمید نے بیان کیا ، اور انہوں نے انس رضی اللہ عنہ سے سنا ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالہ کے ساتھ ۔
Narrated Mutarrif from `Imran Ibn Husain رضی اللہ عنہما :
That the Prophet (ﷺ) asked him (Imran) or asked a man and `Imran was listening, "O Abu so-and-so! Have you fasted the last days of this month?" (The narrator thought that he said, "the month of Ramadan"). The man replied, "No, O Allah's Messenger (ﷺ)!" The Prophet (ﷺ) said to him, "When you finish your fasting (of Ramadan) fast two days (in Shawwal)." Through another series of narrators `Imran رضی اللہ عنہ said, "The Prophet (ﷺ) said, '(Have you fasted) the last days of Sha'ban?"
ہم سے صلت بن محمد نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم سے مہدی نے بیان کیا ، انہوں نے کہا کہ ہم سے غیلان نے ( دوسری سند ) امام بخاری نے کہا اور ہم سے ابوالنعمان نے بیان کیا ، انہوں نے کہا کہ ہم سے مہدی بن میمون نے ، ان سے غیلان بن جریر نے ، ان سے مطرف نے ، ان سے عمران بن حصین رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ
انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا یا ( مطرف نے یہ کہا کہ ) سوال تو کسی اور نے کیا تھا لیکن وہ سن رہے تھے ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ، اے ابوفلاں ! کیا تم نے اس مہینے کے آخر کے روزے رکھے ؟ ابونعمان نے کہا کہ میرا خیال ہے کہ راوی نے کہا کہ آپ کی مراد رمضان سے تھی ۔ ابوعبداللہ ( امام بخاری رحمہ اللہ ) کہتے ہیں کہ ثابت نے بیان کیا ، ان سے مطرف نے ، ان سے عمران رضی اللہ عنہ نے اور ان سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ( رمضان کے آخر کے بجائے ) شعبان کے آخر میں کا لفظ بیان کیا ( یہی صحیح ہے ) ۔
Narrated Muhammad bin `Abbad:
I asked Jabir رضی اللہ عنہ "Did the Prophet (ﷺ) forbid fasting on Fridays?" He replied, "Yes." (Other narrators added, "If he intends to fast only that day.")
ہم سے ابوعاصم نے بیان کیا ، ان سے ابن جریج نے ، ان سے عبدالحمید بن جبیر نے اور ان سے محمد بن عباد نے کہ
میں نے جابر رضی اللہ عنہ سے پوچھا کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جمعہ کے دن روزہ رکھنے سے منع فرمایا ہے ؟ انہوں نے جواب دیا کہ ہاں ! ابوعاصم کے علاوہ راویوں نے یہ اضافہ کیا ہے کہ خالی ( ایک جمعہ ہی کے دن ) روزہ رکھنے سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا ۔
Narrated Abu Huraira رضی اللہ عنہ :
I heard the Prophet (ﷺ) saying, "None of you should fast on Friday unless he fasts a day before or after it."
ہم سے عمر بن حفص بن غیاث نے بیان کیا ، کہا مجھ سے میرے باپ نے بیان کیا ، ان سے اعمش نے بیان کیا ، ان سے ابوصالح نے بیان کیا اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ
میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کوئی بھی شخص جمعہ کے دن اس وقت تک روزہ نہ رکھے جب تک اس سے ایک دن پہلے یا اس کے ایک بعد روزہ نہ رکھتا ہو ۔
Narrated Abu Aiyub from Juwairiya bint Al-Harith رضی اللہ عنہا :
The Prophet (ﷺ) visited her (Juwairiya) on a Friday and she was fasting. He asked her, "Did you fast yesterday?" She said, "No." He said, "Do you intend to fast tomorrow?" She said, "No." He said, "Then break your fast." Through another series of narrators, Abu Aiyub is reported to have said, "He ordered her and she broke her fast."
ہم سے مسدد نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے یحییٰ نے بیان کیا ، ان سے شعبہ نے ، ( دوسری سند ) اور امام بخاری رحمہ اللہ نے کہا کہ مجھ سے محمد نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے غندر نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے شعبہ نے بیان کیا ، ان سے قتادہ نے ، ان سے ابوایوب نے اور ان سے جویریہ بنت حارث رضی اللہ عنہا نے کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے یہاں جمعہ کے دن تشریف لے گئے ، ( اتفاق سے ) وہ روزہ سے تھیں ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر دریافت فرمایا کے کل کے دن بھی تو نے روزہ رکھا تھا ؟ انہوں نے جواب دیا کہ نہیں ۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کیا آئندہ کل روزہ رکھنے کا ارادہ ہے ؟ جواب دیا کہ نہیں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر روزہ توڑ دو ۔ حماد بن جعد نے بیان کیا کہ انہوں نے قتادہ سے سنا ، ان سے ابوایوب نے بیان کیا اور ان سے جویریہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا اور انہوں نے روزہ توڑ دیا ۔
Narrated `Aisha رضی اللہ عنہا :
"Did Allah s Apostle, use to choose some special days (for fasting)?" She replied, "No, but he used to be regular (constant) (in his service of worshipping). Who amongst you can endure what Allah's Messenger (ﷺ) used to endure?"
ہم سے مسدد نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے یحییٰ نے بیان کیا ، ان سے سفیان نے ، ان سے منصور نے ، ان سے ابراہیم نے ، ان سے علقمہ نے ، انہوں نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا کہ
کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( روزہ وغیرہ عبادات کے لیے ) کچھ دن خاص طور پر مقرر کر رکھے تھے ؟ انہوں نے کہا نہیں ۔ بلکہ آپ کے ہر عمل میں ہمیشگی ہوتی تھی اور دوسرا کون ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جتنی طاقت رکھتا ہو ؟
Narrated Um Al-Fadl bint Al-Harith رضی اللہ عنہا :
"While the people were with me on the day of `Arafat they differed as to whether the Prophet (ﷺ) was fasting or not; some said that he was fasting while others said that he was not fasting. So, I sent to him a bowl full of milk while he was riding over his camel and he drank it."
ہم سے مسدد نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے یحییٰ نے بیان کیا ، ان سے امام مالک رحمہ اللہ نے بیان کیا کہ مجھ سے سالم نے بیان کیا ، کہا کہ مجھ سے ام فضل رضی اللہ عنہا کے مولی عمیر نے بیان کیا اور ان سے ام فضل رضی اللہ عنہا نے بیان کیا ۔ ( دوسری سند ) امام بخاری رحمہ اللہ نے کہا اور ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا ، انہیں امام مالک رحمہ اللہ نے خبر دی ، انہیں عمر بن عبداللہ کے غلام ابونضر نے ، انہیں عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے غلام عمیر نے اور انہیں ام فضل بنت حارث رضی اللہ عنہا نے کہ
ان کے یہاں کچھ لوگ عرفات کے دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے روزہ کے بارے میں جھگڑ رہے تھے ۔ بعض نے کہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم روزہ سے ہیں ۔ اور بعض نے کہا کہ روزہ سے نہیں ہیں ۔ اس پر ام فضل رضی اللہ عنہا نے آپ کی خدمت میں دودھ کا ایک پیالہ بھیجا ( تاکہ حقیقت ظاہر ہو جائے ) آپ اپنے اونٹ پر سوار تھے ، آپ نے دودھ پی لیا ۔
Narrated Maimuna رضی اللہ عنہا :
The people doubted whether the Prophet (ﷺ) was fasting on the day of `Arafat or not, so I sent milk while he was standing at `Arafat, he drank it and the people were looking at him.
ہم سے یحییٰ بن سلیمان نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے ابن وہب نے بیان کیا ، ( یا ان کے سامنے حدیث کی قرآت کی گئی ) ۔ کہا کہ مجھ کو عمرو نے خبر دی ، انہیں بکیر نے ، انہیں کریب نے اور انہیں میمونہ رضی اللہ عنہا نے کہ
عرفہ کے دن کچھ لوگوں کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے روزے کے متعلق شک ہوا ۔ اس لیے انہوں نے آپ کی خدمت میں دودھ بھیجا ۔ آپ اس وقت عرفات میں وقوف فرما تھے ۔ آپ نے دودھ پی لیا اور سب لوگ دیکھ رہے تھے ۔
Narrated Abu `Ubaid (the slave of Ibn Azhar):
I witnessed the `Id with `Umar bin Al-Khattab رضی اللہ عنہ who said, Allah's Messenger (ﷺ) has forbidden people to fast on the day on which you break fasting (the fasts of Ramadan) and the day on which you eat the meat of your sacrifices (the first day of `Id ul Fitr and `Id ul-Adha).
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا ، انہوں نے کہا کہ ہم کو امام مالک رحمہ اللہ نے خبر دی ، انہیں ابن شہاب نے ، انہوں نے کہا کہ ہم سے ابن ازہر کے غلام ابوعبید نے بیان کیا کہ
عید کے دن میں عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے خدمت میں حاضر تھا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ دو دن ایسے ہیں جن کے روزوں کی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ممانعت فرمائی ہے ۔ ( رمضان کے ) روزوں کے بعد افطار کا دن ( عیدالفطر ) اور دوسرا وہ دن جس میں تم اپنی قربانی کا گوشت کھاتے ہو ( یعنی عیدالاضحی کا دن ) ۔
Narrated Abu Sa`id رضی اللہ عنہ :
The Prophet (ﷺ) forbade the fasting of `Id-ul-Fitr and `Id-ul-Adha (two feast days) and also the wearing of As-Samma' (a single garment covering the whole body), and sitting with one's leg drawn up while being wrapped in one garment. He also forbade the prayers after the Fajr (morning) and the `Asr (afternoon) prayers.
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا ، ان سے وہیب نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے عمرو بن یحییٰ نے بیان کیا ، ان سے ان کے والد نے اور ان سے ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عیدالفطر اور قربانی کے دنوں کے روزوں کی ممانعت کی تھی اور ایک کپڑا سارے بدن پر لپیٹ لینے سے اور ایک کپڑے میں گوٹ ما کر بیٹھنے سے ۔ اور صبح اور عصر کے بعد نماز پڑھنے سے (منع فرمایا) ۔
Narrated Abu Huraira رضی اللہ عنہ :
Two fasts and two kinds of sale are forbidden: fasting on the day of `Id ul Fitr and `Id-ul-Adha and the kinds of sale called Mulamasa and Munabadha. (These two kinds of sale used to be practiced in the days of Pre-Islamic period of ignorance; Mulamasa means when you touch something displayed for sale you have to buy it; Munabadha means when the seller throws something to you, you have to buy it.)
ہم سے ابراہیم بن موسیٰ نے بیان کیا ، کہا کہ ہم کو ہشام نے خبر دی ، ان سے ابن جریج نے بیان کیا کہ مجھے عمرو بن دینار نے خبر دی ، انہوں نے عطاء بن میناء سے سنا ، وہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے یہ حدیث نقل کرتے تھے کہ
آپ نے فرمایا ، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے دو روزے اور دو قسم کی خریدوفروخت سے منع فرمایا ہے ۔ عیدالفطر اور عیدالاضحی کے روزے سے ۔ اور ملامست اور منابذت کے ساتھ خریدوفروخت کرنے سے ۔ (یہ دو قسم کی خریدوفروخت زمانہ جاہلیت میں رائج تھی، ملامسہ کا مطلب ہے کہ جب آپ فروخت کے لیے دکھائی جانے والی چیز کو چھوتے ہیں تو آپ کو اسے خریدنا پڑتا ہے؛ منابع کا مطلب ہے کہ جب بیچنے والا آپ کی طرف کوئی چیز پھینکے تو آپ کو خریدنا پڑتا ہے۔ یہ.)
Narrated Ziyad bin Jubair:
A man went to Ibn `Umar رضی اللہ عنہما I. and said, "A man vowed to fast one day (the sub-narrator thinks that he said that the day was Monday), and that day happened to be `Id day." Ibn `Umar رضی اللہ عنہما said, "Allah orders vows to be fulfilled and the Prophet (ﷺ) forbade the fasting on this day (i.e. Id).
ہم سے محمد بن مثنیٰ نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے معاذ بن معاذ عنبری نے بیان کیا ، کہا کہ ہم کو عبداللہ بن عون نے خبر دی ، ان سے زیاد بن جبیر نے بیان کیا کہ
ایک شخص ابن عمر رضی اللہ عنہما کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کی کہ ایک شخص نے ایک دن کے روزے کے نذر مانی ۔ پھر کہا کہ میرا خیال ہے کہ وہ پیر کا دن ہے اور اتفاق سے وہی عید کا دن پڑ گیا ۔ ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے تو نذر پوری کرنے کا حکم دیا ہے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس دن روزہ رکھنے سے ( اللہ کے حکم سے ) منع فرمایا ہے ۔ ( گویا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کوئی قطعی فیصلہ نہیں دیا ) ۔