Narrated An-Nu`man bin Bashir رضی اللہ عنہما:
He on the pulpit saying, "My father gave me a gift but `Amra bint Rawaha رضی اللہ عنہ (my mother) said that she would not agree to it unless he made Allah's Messenger (ﷺ) as a witness to it. So, my father went to Allah's Messenger (ﷺ) and said, 'I have given a gift to my son from `Amra bint Rawaha, but she ordered me to make you as a witness to it, O Allah's Messenger (ﷺ)!' Allah's Messenger (ﷺ) asked, 'Have you given (the like of it) to everyone of your sons?' He replied in the negative. Allah's Messenger (ﷺ) said, 'Be afraid of Allah, and be just to your children.' My father then returned and took back his gift."
ہم سے حامد بن عمر نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم سے ابوعوانہ نے بیان کیا حصین سے ، وہ عامر سے کہ میں نے نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہما سے سنا
وہ منبر پر بیان کر رہے تھے کہ میرے باپ نے مجھے ایک عطیہ دیا ، تو عمرہ بنت رواحہ رضی اللہ عنہ ( نعمان کی والدہ ) نے کہا کہ جب تک آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس پر گواہ نہ بنائیں میں راضی نہیں ہو سکتی ۔ چنانچہ ( حاضر خدمت ہو کر ) انہوں نے عرض کیا کہ عمرہ بنت رواحہ سے اپنے بیٹے کو میں نے ایک عطیہ دیا تو انہوں نے کہا کہ پہلے میں آپ کو اس پر گواہ بنا لوں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کہ اسی جیسا عطیہ تم نے اپنی تمام اولاد کو دیا ہے ؟ انہوں نے جواب دیا کہ نہیں ، اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ سے ڈرو اور اپنی اولاد کے درمیان انصاف کو قائم رکھو ۔ چنانچہ وہ واپس ہوئے اور ہدیہ واپس لے لیا ۔
Narrated Ubaidullah bin `Abdullah:
`Aisha had said, "When the Prophet (ﷺ) became sick and his condition became serious, he requested his wives to allow him to be treated in my house, and they allowed him. He came out leaning on two men while his feet were dragging on the ground. He was walking between Al-`Abbas رضی اللہ عنہ and another man." 'Ubaidullah said, "When I informed Ibn `Abbas رضی اللہ عنہ of what `Aisha رضی اللہ عنہا had said, he asked me whether I knew who was the second man whom `Aisha رضی اللہ عنہا had not named. I replied in the negative. He said, 'He was `Ali bin Abi Talib رضی اللہ عنہ."
ہم سے ابراہیم بن موسیٰ نے بیان کیا ، کہا کہ ہم کو ہشام نے خبر دی ، انہیں معمرنے ، انہیں زہری نے ، کہا کہ مجھے عبیداللہ بن عبداللہ نے خبر دی کہ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا ، جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیماری بڑھی اور تکلیف شدید ہو گئی تو آپ نے اپنی بیویوں سے میرے گھر میں ایام مرض گزارنے کی اجازت چاہی اور آپ کو بیویوں نے اجازت دے دی تو آپ اس طرح تشریف لائے کہ دونوں قدم زمین پر رگڑ کھا رہے تھے ۔ آپ اس وقت حضرت عباس رضی اللہ عنہ اور ایک اور صاحب کے درمیان تھے ۔ عبیداللہ نے بیان کیا کہ پھر میں نے عائشہ رضی اللہ عنہا کی اس حدیث کا ذکر ابن عباس رضی اللہ عنہما سے کیا ۔ تو انہوں نے مجھ سے پوچھا ، عائشہ رضی اللہ عنہا نے جن کا نام نہیں لیا ، جانتے ہو وہ کون تھے ؟ میں نے کہا کہ نہیں ؟ آپ نے فرمایا کہ وہ حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ تھے ۔
Narrated Ibn `Abbas رضی اللہ عنہما :
The Prophet (ﷺ) said, "One who takes back his gift (which he has already given) is like a dog that swallows its vomit."
ہم سے مسلم بن ابراہیم نے بیان کیا ، کہا ہم سے وہیب نے بیان کیا ، کہا ہم سے ابن طاؤس نے بیان کیا ، ان سے ان کے والد نے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اپنا ہبہ واپس لینے والا اس کتے کی طرح ہے جو قے کر کے پھر چاٹ جاتا ہے ۔
Narrated Asma رضی اللہ عنہا :
Once I said, "O Allah's Messenger (ﷺ)! I have no property except what has been given to me by Az-Zubair (i.e. her husband). May I give in charity?" The Prophet (ﷺ) said, "Give in charity and do not withhold it; otherwise Allah will withhold it back from you . "
ہم سے ابوعاصم ضحاک بن مخلد نے بیان کیا ، ان سے ابن جریج نے ، ان سے ابن ابی ملیکہ نے ، ان سے عباد بن عبداللہ نے اور ان سے اسماء رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ
میں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میرے پاس صرف وہی مال ہے جو ( میرے شوہر ) زبیر نے میرے پاس رکھا ہوا ہے تو کیا میں اس میں سے صدقہ کر سکتی ہوں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ، صدقہ کرو ، جوڑ کے نہ رکھو ، کہیں تم سے بھی ۔ ( اللہ کی طرف سے نہ ) روک لیا جائے ۔
Narrated Asma رضی اللہ عنہا :
Allah's Messenger (ﷺ) said, "Give (in charity) and do not give reluctantly lest Allah should give you in a limited amount; and do not withhold your money lest Allah should withhold it from you."
ہم سے عبیداللہ بن سعید نے بیان کیا ، کہا ہم سے عبداللہ بن نمیر نے بیان کیا ، کہا ہم سے ہشام بن عروہ نے بیان کیا ، ان سے فاطمہ بنت منذر نے اور ان سے اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا نے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ، خرچ کیا کر ، گنا نہ کر ، تاکہ تمہیں بھی گن کے نہ ملے اور جوڑ کے نہ رکھو ، تاکہ تم سے بھی اللہ تعالیٰ ( اپنی نعمتوں کو ) نہ چھپا لے ۔
Narrated Maimuna bint Al-Harith رضی اللہ عنہا :
the freed slave of Ibn `Abbas, that told him that she manumitted a slave-girl without taking the permission of the Prophet. On the day when it was her turn to be with the Prophet, she said, "Do you know, O Allah's Messenger (ﷺ), that I have manumitted my slave-girl?" He said, "Have you really?" She replied in the affirmative. He said, "You would have got more reward if you had given her (i.e. the slave-girl) to one of your maternal uncles."
ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا ، ان سے لیث نے ، ان سے یزید بن ابی حبیب نے ، ان سے بکیر نے ، ان سے ابن عباس کے غلام کریب نے اور انہیں ( ام المؤمنین ) حضرت میمونہ بنت حارث رضی اللہ عنہا نے خبر دی کہ
انہوں نے ایک لونڈی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اجازت لیے بغیر آزاد کر دی ۔ پھر جس دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی باری آپ کے گھر آنے کی تھی ، انہوں نے خدمت نبوی میں عرض کیا ، یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ کو معلوم بھی ہوا ، میں نے ایک لونڈی آزاد کر دی ہے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ، اچھا تم نے آزاد کر دیا ؟ انہوں نے عرض کیا کہ ہاں ! فرمایا کہ اگر اس کے بجائے تم نے اپنے ننھیال والوں کو دی ہوتی تو تمہیں اس سے بھی زیادہ ثواب ملتا ۔ اس حدیث کو بکیر بن مضر نے عمرو بن حارث سے ، انہوں نے بکیر سے ، انہوں نے کریب سے روایت کیا کہ میمونہ رضی اللہ عنہا نے اپنی لونڈی آزاد کر دی ۔ اخیر تک ۔
Narrated Aisha رضی اللہ عنہا :
Whenever Allah's Messenger (ﷺ) wanted to go on a journey, he would draw lots as to which of his wives would accompany him. He would take her whose name came out. He used to fix for each of them a day and a night. But Sauda bint Zam`a رضی اللہ عنہا gave up her (turn) day and night to `Aisha رضی اللہ عنہا , the wife of the Prophet in order to seek the pleasure of Allah's Messenger (ﷺ) (by that action).
ہم سے حبان بن موسیٰ نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم کو عبداللہ بن مبارک نے خبر دی ، انہیں یونس نے خبر دی زہری سے ، وہ عروہ سے اور ان سے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب سفر کا ارادہ کرتے تو اپنی ازواج کے لیے قرعہ اندازی کرتے اور جن کا قرعہ نکل آتا انہیں کو اپنے ساتھ لے جاتے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ بھی طریقہ تھا کہ اپنی تمام ازواج کے لیے ایک ایک دن اور رات کی باری مقرر کر دی تھی ، البتہ ( آخر میں ) سودہ بنت زمعہ رضی اللہ عنہا نے اپنی باری عائشہ رضی اللہ عنہا کو دے دی تھی ، اس سے ان کا مقصد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رضا حاصل کرنی تھی ۔
Narrated Ibn-e-Abbas رضی اللہ عنہما :
Narrated Maimuna رضی اللہ عنہما , the wife of the Prophet (ﷺ) that she manumitted her slave-girl and the Prophet (ﷺ) said to her, "You would have got more reward if you had given the slave-girl to one of your maternal uncles."
اور بکر بن مضر نے عمرو بن حارث سے ، انہوں نے بکیر سے ، انہوں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما کے غلام کریب سے ( بیان کیا کہ )
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ مطہرہ میمونہ رضی اللہ عنہا نے اپنی ایک لونڈی آزاد کی تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ اگر وہ تمہارے ننہیالی والوں کو دی جاتی تو تمہیں زیادہ ثواب ملتا ۔
Narrated Aisha رضی اللہ عنہا :
I said, "O Allah's Messenger (ﷺ)! I have two neighbors; which of them should I give a gift to?" The Prophet (ﷺ) said, "(Give) to the one whose door is nearer to you."
ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم سے محمد بن جعفر نے بیان کیا ، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا ، ابوعمران جونی سے ، ان سے بنو تیم بن مرہ کے ایک صاحب طلحہ بن عبداللہ نے اور ان سے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ
میں نے عرض کیا ، یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میری دو پڑوسی ہیں ، تو مجھے کس کے گھر ہدیہ بھیجنا چاہئے ؟ آپ نے فرمایا کہ جس کا دروازہ تم سے قریب ہو ۔
Narrated `Abdullah bin `Abbas رضی اللہ عنہما :
He heard As-Sa'b bin Jath-thama Al-Laithi, who was one of the companions of the Prophet, saying that he gave the meat of an onager to Allah's Messenger (ﷺ) while he was at a place called Al-Abwa' or Waddan, and was in a state of Ihram. The Prophet (ﷺ) did not accept it. When the Prophet (ﷺ) saw the signs of sorrow on As-Sa'b's face because of not accepting his present, he said (to him), "We are not returning your present, but we are in the state of Ihram." (See Hadith No. 747)
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا ، کہا ہم کو شعیب نے خبر دی ، انہیں زہری نے ، کہا کہ مجھے عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ نے خبر دی ، انہیں عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے خبر دی کہ انہوں نے صعب بن جثامہ لیثی رضی اللہ عنہ سے سنا ، وہ اصحاب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں سے تھے ۔ ان کا بیان تھا کہ
انہوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک گورخر ہدیہ کیا تھا ۔ آپ اس وقت مقام ابواء یا ودان میں تھے اور محرم تھے ۔ آپ نے وہ گورخر واپس کر دیا ۔ صعب رضی اللہ عنہ نے کہا کہ اس کے بعد جب آپ نے میرے چہرے پر ( ناراضی کا اثر ) ہدیہ کی واپسی کی وجہ سے دیکھا ، تو فرمایا کہ ہدیہ واپس کرنا مناسب تو نہ تھا لیکن بات یہ ہے کہ ہم احرام باندھے ہوئے ہیں ۔
Narrated Abu Humaid Al-Sa`idi رضی اللہ عنہ :
The Prophet (ﷺ) appointed a man from the tribe of Al-Azd, called Ibn 'Utbiyya for collecting the Zakat. When he returned he said, "This (i.e. the Zakat) is for you and this has been given to my as a present." The Prophet (ﷺ) said, "Why hadn't he stayed in his father's or mother's house to see whether he would be given presents or not? By Him in Whose Hands my life is, whoever takes something from the resources of the Zakat (unlawfully) will be carrying it on his neck on the Day of Resurrection; if it be a camel, it will be grunting; if a cow, it will be mooing; and if a sheep, it will be bleating." The Prophet then raised his hands till we saw the whiteness of his armpits, and he said thrice, "O Allah! Haven't I conveyed Your Message (to them)?"
ہم سے عبداللہ بن محمد نے بیان کیا ، کہا ہم سے سفیان بن عینیہ نے بیان کیا ، زہری سے ، وہ عروہ بن زبیر سے ، وہ ابو حمید ساعدی رضی اللہ عنہ سے کہ
قبیلہ ازد کے ایک صحابی کو جنہیں ابن اتبیہ کہتے تھے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صدقہ وصول کرنے کے لیے عامل بنایا ۔ پھر جب وہ واپس آئے تو کہا کہ یہ تم لوگوں کا ہے ( یعنی بیت المال کا ) اور یہ مجھے ہدیہ میں ملا ہے ۔ اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ وہ اپنے والد یا اپنی والدہ کے گھر میں کیوں نہ بیٹھا رہا ۔ دیکھتا وہاں بھی انہیں ہدیہ ملتا ہے یا نہیں ۔ اس ذات کی قسم ! جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ۔ اس ( مال زکوٰۃ ) میں سے اگر کوئی شخص کچھ بھی ( ناجائز ) لے لے گا تو قیامت کے دن اسے وہ اپنی گردن پر اٹھائے ہوئے آئے گا ۔ اگر اونٹ ہے تو وہ اپنی آواز نکالتا ہوا آئے گا ، گائے ہے تو وہ اپنی اور اگر بکری ہے تو وہ اپنی آواز نکالتی ہو گی ۔ پھر آپ نے اپنے ہاتھ اٹھائے یہاں تک کہ ہم نے آپ کی بغل مبارک کی سفیدی بھی دیکھ لی ( اور فرمایا ) اے اللہ ! کیا میں نے تیرا حکم پہنچا دیا ۔ اے اللہ ! کیا میں نے تیرا حکم پہنچا دیا ۔ تین مرتبہ ( آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہی فرمایا ) ۔
Narrated Jabir رضی اللہ عنہ :
The Prophet (ﷺ) said to me, "I will give you so much (the Prophet (ﷺ) pointed thrice with his hands) when funds of Bahrain will come to me." But the Prophet (ﷺ) died before the money reached him. (When it came) Abu Bakr رضی اللہ عنہ ordered an announcer to announce that whoever had a money claim on the Prophet (ﷺ) or was promised to be given something, should come to Abu Bakr. I went to Abu Bakr and told him that the Prophet (ﷺ) had promised to give me so much. On that Abu Bakr gave me three handfuls (of money).
ہم سے علی بن عبداللہ نے بیان کیا ، کہا ہم سے سفیان بن عینہ نے بیان کیا ، کہا ہم سے محمد بن المنکدر نے بیان کیا ، انہوں نے جابر رضی اللہ عنہ سے سنا ۔ آپ نے بیان کیا کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے وعدہ فرمایا ، اگر بحرین کا مال ( جزیہ کا ) آیا تو میں تمہیں اتنا اتنا تین لپ مال دوں گا ۔ لیکن بحرین سے مال آنے سے پہلے ہی آپ صلی اللہ علیہ وسلم وفات فرما گئے اور حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے ایک منادی سے یہ اعلان کرنے کے لیے کہا کہ جس سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا کوئی وعدہ ہو یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر اس کا کوئی قرض ہو تو وہ ہمارے پاس آئے ۔ چنانچہ میں آپ کے یہاں گیا اور کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے وعدہ کیا تھا ۔ تو انہوں نے تین لپ بھر کر مجھے دئیے ۔
Narrated Al-Miswar bin Makhrama رضی اللہ عنہ :
Allah's Messenger (ﷺ) distributed some cloaks but did not give anything thereof to Makhrama رضی اللہ عنہ . Makhrama رضی اللہ عنہ said (to me), "O son! accompany me to Allah's Messenger (ﷺ)." When I went with him, he said, "Call him to me." I called him (i.e. the Prophet (ﷺ) ) for my father. He came out wearing one of those cloaks and said, "We kept this (cloak) for you, (Makhrama)." Makhrama رضی اللہ عنہ looked at the cloak and said, "Makhrama رضی اللہ عنہ is pleased," (or the Prophet (ﷺ) said), "Is Makhrama رضی اللہ عنہ pleased?"
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا ، کہا ہم سے لیث نے بیان کیا ابن ابی ملیکہ سے اور وہ مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ سے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چند قبائیں تقسیم کیں اور مخرمہ رضی اللہ عنہ کو اس میں سے ایک بھی نہیں دی ۔ انہوں نے ( مجھ سے ) کہا ، بیٹے چلو ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں چلیں ۔ میں ان کے ساتھ چلا ۔ پھر انہوں نے کہا کہ اندر جاؤ اور حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کرو کہ میں آپ کا منتظر کھڑا ہوا ہوں ، چنانچہ میں اندر گیا اور حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو بلا لایا ۔ آپ اس وقت انہیں قباؤں میں سے ایک قباء پہنے ہوئے تھے ۔ آپ نے فرمایا کہ میں نے یہ تمہارے لیے چھپا رکھی تھی ، لو اب یہ تمہاری ہے ۔ مسور نے بیان کیا کہ ( میرے والد ) مخرمہ رضی اللہ عنہ نے قباء کی طرف دیکھا ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ، مخرمہ ! خوش ہو یا نہیں ؟
Narrated Abu Huraira رضی اللہ عنہ :
A man came to Allah's Messenger (ﷺ) and said, "I am ruined." The Prophet (ﷺ) asked, "What do you mean?" He said, "I had a sexual intercourse with my wife during Ramadan (while fasting)." The Prophet (ﷺ) asked him, "Can you manumit a slave?" He replied in the negative. He then asked him, "Can you fast for two successive months continuously" He replied in the negative. The Prophet (ﷺ) then asked him, "Can you feed sixty poor persons?" He replied in the negative. In the meantime an Ansari came with a basket full of dates. The Prophet (ﷺ) said to the man, "Take it and give it in charity (as an expiation of your sin)." The man said "Should I give it to some people who are poorer than we O Allah's Messenger (ﷺ)? By Him Who has sent you with the Truth, there is no family between Medina's two mountains poorer than we." Allah's Messenger (ﷺ) told him to take it and provide his family with it."
ہم سے محمد بن محبوب نے بیان کیا ، کہا ہم سے عبدالواحد بن زیادہ نے بیان کیا ، کہا ہم سے معمر نے بیان کیا زہری سے ، وہ حمید بن عبدالرحمٰن سے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ
ایک دیہاتی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آیا اور کہنے لگا کہ میں تو ہلاک ہو گیا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا ، کیا بات ہوئی ؟ عرض کیا کہ رمضان میں میں نے اپنی بیوی سے ہمبستری کر لی ہے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا ، تمہارے پاس کوئی غلام ہے ؟ کہا کہ نہیں ۔ پھر دریافت فرمایا ، کیا دو مہینے پے در پے روزے رکھ سکتے ہو ؟ کہا کہ نہیں ۔ پھر دریافت فرمایا ، کیا ساٹھ مسکینوں کو کھانا دے سکتے ہو ؟ اس پر بھی جواب تھا کہ نہیں ۔ بیان کیا کہ اتنے میں ایک انصاری عرق لائے ۔ ( عرق کھجور کے پتوں کا بنا ہوا ایک ٹوکرا ہوتا تھا جس میں کھجور رکھی جاتی تھی ) آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا کہ اسے لے جا اور صدقہ کر دے انہوں نے عرض کیا ، یا رسول اللہ ! کیا اپنے سے زیادہ ضرورت مند پر صدقہ کر دوں ؟ اور اس ذات کی قسم ! جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے کہ سارے مدینے میں ہم سے زیادہ محتاج اور کوئی گھرانہ نہیں ہو گا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پھر جا ، اپنے ہی گھر والوں کو کھلا دے ۔
Narrated Jabir bin `Abdullah رضی اللہ عنہما :
My father was martyred on the day (of the battle) of Uhud and his creditors demanded the debt back in a harsh manner. So I went to Allah's Messenger (ﷺ) and informed him of that, he asked them to accept the fruits of my garden and excuse my father, but they refused. So, Allah's Messenger (ﷺ) did not give them the fruits, nor did he cut them and distribute them among them, but said, "I will come to you tomorrow morning." So, he came to us the next morning and walked about in between the date-palms and invoked Allah to bless their fruits. I plucked the fruits and gave back all the rights of the creditors in full, and a lot of fruits were left for us. Then I went to Allah's Messenger (ﷺ), who was sitting, and informed him about what happened. Allah's Messenger (ﷺ) told `Umar رضی اللہ عنہ , who was sitting there, to listen to the story. `Umar رضی اللہ عنہ said, "Don't we know that you are Allah's Messenger (ﷺ)? By Allah! you are Allah's Messenger (ﷺ)!"
ہم سے عبدان نے بیان کیا ، کہا کہ ہم کو عبداللہ نے خبر دی ، انہیں یونس نے خبر دی اور لیث نے بیان کیا کہ مجھ سے یونس نے بیان کیا ابن شہاب سے ، وہ ابن کعب بن مالک سے اور انہیں جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما نے خبر دی کہ
احد کی لڑائی میں ان کے باپ شہید ہو گئے ( اور قرض چھوڑ گئے ) قرض خواہوں نے تقاضے میں بڑی شدت کی ، تو میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ سے اس سلسلے میں گفتگو کی ، آپ نے ان سے فرمایا کہ وہ میرے باغ کی کھجور لے لیں ( جو بھی ہوں ) اور میرے والد کو ( جو باقی رہ جائے وہ قرض ) معاف کر دیں ۔ لیکن انہوں نے انکار کیا ۔ پھر آپ نے میرا باغ انہیں نہیں دیا اور نہ ان کے لیے پھل تڑوائے ۔ بلکہ فرمایا کہ کل صبح میں تمہارے یہاں آؤں گا ۔ صبح کے وقت آپ تشریف لائے اور کھجور کے درختوں میں ٹہلتے رہے اور برکت کی دعا فرماتے رہے پھر میں نے پھل توڑ کر قرض خواہوں کے سارے قرض ادا کر دئیے اور میرے پاس کھجور بچ بھی گئی ۔ اس کے بعد میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ بیٹھے ہوئے تھے ۔ میں نے آپ کو واقعہ کی اطلاع دی ۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ بھی وہیں بیٹھے ہوئے تھے ۔ آپ نے ان سے فرمایا ، عمر ! سن رہے ہو ؟ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا ، ہمیں تو پہلے سے معلوم ہے کہ آپ اللہ کے سچے رسول ہیں ۔ قسم خدا کی ! اس میں کسی شک و شبہ کی گنجائش ہی نہیں کہ آپ اللہ کے سچے رسول ہیں ۔
Narrated Sahl bin Sa`d رضی اللہ عنہ :
A drink (milk mixed with water) was brought to the Prophet (ﷺ) who drank some of it while a boy was sitting on his right and old men on his left. The Prophet (ﷺ) said to the boy, "If you permit me, I'll give (the rest of the drink to) these old men first." The boy said, "I will not give preference to any one over me as regards my share from you, O Allah's Messenger (ﷺ)!" The Prophet (ﷺ) then put that container in the boy's hand. (See Hadith No. 541).
ہم سے یحییٰ بن قزعہ نے بیان کیا ، کہا ہم سے امام مالک نے ، وہ ابوحازم سے ، وہ سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پینے کو کچھ لایا ، ( دودھ یا پانی ) آپ نے اسے نوش فرمایا ، آپ کے دائیں طرف ایک بچہ بیٹھا تھا اور بڑے بوڑھے لوگ بائیں طرف بیٹھے ہوئے تھے ، آپ نے اس بچے سے فرمایا کہ اگر تو اجازت دے ( تو بچا ہوا پانی ) میں ان بڑے لوگوں کو دے دوں ؟ لیکن اس نے کہا کہ یا رسول اللہ ! آپ کے جوٹھے میں سے ملنے والے کسی حصہ کا میں ایثار نہیں کر سکتا ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے پیالہ جھٹکے کے ساتھ اسی کی طرف بڑھا دیا ۔
Narrator Jabir (ra) said:
"I went to the Prophet (ﷺ) in the mosque and he paid me my right and gave me more than he owed me."
اور ثابت بن محمد نے بیان کیا کہ ہم سے مسعر نے بیان کیا ، ان سے محارب نے اور ان سے جابر رضی اللہ عنہ نے کہ
میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ( سفر سے لوٹ کر ) مسجد میں حاضر ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( میرے اونٹ کی قیمت ) ادا کی اور کچھ زیادہ بھی دیا ۔
Narrated Jabir bin `Abdullah رضی اللہ عنہما :
I sold a camel to the Prophet (ﷺ) on one of the journeys. When we reached Medina, he ordered me to go to the Mosque and offer two rak`at. Then he weighed for me (the price of the camel in gold) and gave an extra amount over it. A part of it remained with me till it was taken by the army of Sham on the day of Harra."
ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا ، کہا ہم سے غندر نے بیان کیا ، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا محارب بن دثار سے اور انہوں نے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے سنا ، آپ فرماتے تھے کہ
میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو سفر میں ایک اونٹ بیچا تھا ۔ جب ہم مدینہ پہنچے تو آپ نے فرمایا کہ مسجد میں جا کر دو رکعت نماز پڑھ ، پھر آپ نے وزن کیا ۔ شعبہ نے بیان کیا ، میرا خیال ہے کہ ( جابر رضی اللہ عنہ نے کہا ) میرے لیے وزن کیا ( آپ کے حکم سے حضرت بلال رضی اللہ عنہ نے ) اور ( اس پلڑے کو جس میں سکہ تھا ) جھکا دیا ۔ ( تاکہ مجھے زیادہ ملے ) اس میں سے کچھ تھوڑا سا میرے پاس جب سے محفوظ تھا ۔ لیکن شام والے ( اموی لشکر ) یوم حرہ کے موقع پر مجھ سے چھین کر لے گئے ۔
Narrated Sahl bin Sa`d رضی اللہ عنہ :
A drink (of milk and water) was brought to Allah's Messenger (ﷺ) while a boy was sitting on his right side and old men were sitting on his left side. He asked the boy, "Will you allow me to give it to these (people)?" The boy said, "No, by Allah, I will not allow anyone to take my right from you." Then the Prophet put the bowl in the boy's hand.
ہم سے قتیبہ نے بیان کیا ، کہا ہم سے امام مالک نے ابوحازم سے ، وہ سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں کچھ پینے کو لایا گیا ۔ آپ کی دائیں طرف ایک بچہ تھا اور قوم کے بڑے لوگ بائیں طرف تھے ۔ آپ نے بچے سے فرمایا کہ کیا تمہاری طرف سے اس کی اجازت ہے کہ میں بچا ہوا پانی ان بزرگوں کو دے دوں ؟ تو اس بچے نے کہا کہ نہیں قسم اللہ کی ! میں آپ سے ملنے والے اپنے حصہ کا ہرگز ایثار نہیں کر سکتا ۔ پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مشروب ان کی طرف جھٹکے کے ساتھ بڑھا دیا ۔
Narrated Abu Huraira رضی اللہ عنہ :
Allah's Messenger (ﷺ) owed a man some debt (and that man demanded it very harshly). The companions of the Prophet (ﷺ) wanted to harm him, but the Prophet (ﷺ) said to them, "Leave him, as the creditor has the right to speak harshly." He then added, "Buy (a camel) of the same age and give it to him." They said, "We cannot get except a camel of an older age than that of his." He said, "Buy it and give it to him, as the best amongst you is he who pays back his debt in the most handsome way.'
ہم سے عبداللہ بن عثمان بن جبلہ نے بیان کیا ، انہوں نے کہا کہ مجھے میرے باپ نے خبر دی شعبہ سے ، ان سے سلمہ نے بیان کیا کہ میں نے ابوسلمہ سے سنا اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ
ایک شخص کا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر قرض تھا ( اس نے سختی کے ساتھ تقاضا کیا ) تو صحابہ اس کی طرف بڑھے ۔ لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اسے چھوڑ دو ، حق والے کو کچھ نہ کچھ کہنے کی گنجائش ہوتی ہی ہے ۔ پھر آپ نے فرمایا کہ اس کے لیے ایک اونٹ اسی کے اونٹ کی عمر کا خرید کر اسے دے دو ۔ صحابہ نے عرض کیا کہ اس سے اچھی عمر کا ہی اونٹ مل رہا ہے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اسی کو خرید کر دے دو کہ تم میں سب سے اچھا آدمی وہ ہے جو قرض کے ادا کرنے میں سب سے اچھا ہو ۔