Back to Sahih Bukhari

Gifts

كتاب الهبة

Chapter 52

Hadith 2607, 2608
Sahih
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ، أَنَّ مَرْوَانَ بْنَ الْحَكَمِ، وَالْمِسْوَرَ بْنَ مَخْرَمَةَ، أَخْبَرَاهُ أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ حِينَ جَاءَهُ وَفْدُ هَوَازِنَ مُسْلِمِينَ، فَسَأَلُوهُ أَنْ يَرُدَّ إِلَيْهِمْ أَمْوَالَهُمْ وَسَبْيَهُمْ فَقَالَ لَهُمْ ‏"‏ مَعِي مَنْ تَرَوْنَ، وَأَحَبُّ الْحَدِيثِ إِلَىَّ أَصْدَقُهُ، فَاخْتَارُوا إِحْدَى الطَّائِفَتَيْنِ إِمَّا السَّبْىَ وَإِمَّا الْمَالَ، وَقَدْ كُنْتُ اسْتَأْنَيْتُ ‏"‏‏.‏ وَكَانَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم انْتَظَرَهُمْ بِضْعَ عَشْرَةَ لَيْلَةً حِينَ قَفَلَ مِنَ الطَّائِفِ، فَلَمَّا تَبَيَّنَ لَهُمْ أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم غَيْرُ رَادٍّ إِلَيْهِمْ إِلاَّ إِحْدَى الطَّائِفَتَيْنِ قَالُوا فَإِنَّا نَخْتَارُ سَبْيَنَا‏.‏ فَقَامَ فِي الْمُسْلِمِينَ فَأَثْنَى عَلَى اللَّهِ بِمَا هُوَ أَهْلُهُ ثُمَّ قَالَ ‏"‏ أَمَّا بَعْدُ فَإِنَّ إِخْوَانَكُمْ هَؤُلاَءِ جَاءُونَا تَائِبِينَ، وَإِنِّي رَأَيْتُ أَنْ أَرُدَّ إِلَيْهِمْ سَبْيَهُمْ، فَمَنْ أَحَبَّ مِنْكُمْ أَنْ يُطَيِّبَ ذَلِكَ فَلْيَفْعَلْ، وَمَنْ أَحَبَّ أَنْ يَكُونَ عَلَى حَظِّهِ حَتَّى نُعْطِيَهُ إِيَّاهُ مِنْ أَوَّلِ مَا يُفِيءُ اللَّهُ عَلَيْنَا فَلْيَفْعَلْ ‏"‏‏.‏ فَقَالَ النَّاسُ طَيَّبْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ لَهُمْ‏.‏ فَقَالَ لَهُمْ ‏"‏ إِنَّا لاَ نَدْرِي مَنْ أَذِنَ مِنْكُمْ فِيهِ مِمَّنْ لَمْ يَأْذَنْ، فَارْجِعُوا حَتَّى يَرْفَعَ إِلَيْنَا عُرَفَاؤُكُمْ أَمْرَكُمْ ‏"‏‏.‏ فَرَجَعَ النَّاسُ فَكَلَّمَهُمْ عُرَفَاؤُهُمْ، ثُمَّ رَجَعُوا إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَأَخْبَرُوهُ أَنَّهُمْ طَيَّبُوا وَأَذِنُوا‏.‏ وَهَذَا الَّذِي بَلَغَنَا مِنْ سَبْىِ هَوَازِنَ هَذَا آخِرُ قَوْلِ الزُّهْرِيِّ، يَعْنِي فَهَذَا الَّذِي بَلَغَنَا‏.‏
English

Narrated Marwan bin Al-Hakam and Al-Miswar bin Makhrama رضی اللہ عنہما :

When the delegates of the tribe of Hawazin came to the Prophet (ﷺ) they requested him to return their property and their captives. He said to them, "This concerns also other people along with me as you see, and the best statement to me is the true one, so you may choose one of two alternatives; either the captives or the property and (I have not distributed the booty for) I have been waiting for you." When the Prophet (ﷺ) had returned from Ta'if, he waited for them for more than ten nights. When they came to know that the Prophet (ﷺ) would not return except one of the two, they chose their captives. The Prophet then stood up amongst the Muslims, Glorified and Praised Allah as He deserved, and then said, "Then after: These brothers of yours have come to you with repentance and I see it proper to return their captives, so whoever amongst you likes to do that as a favor, then he can do it, and whoever of you wants to stick to his share till we pay him from the very first Fai (i.e. war booty) which Allah will give us, then he can do so." The people said, "We return (the captives) to them willingly as a favor, O Allah's Messenger (ﷺ)!" The Prophet (ﷺ) said, "I do not know who of you has given his consent and who has not; so go back and your leaders may present your decision to me." The people went away, and their leaders discussed the matter with them, and then came to the Prophet (ﷺ) to tell him that all of them had given their consent (to return the captives) willingly. (Az-Zuhn, the sub-narrator said, "This is what we know about the captives, of Hawazin.")

Urdu

ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا ، ان سے لیث نے ، کہا ہم سے عقیل نے ابن شہاب سے ، وہ عروہ سے کہ مروان بن حکم اور مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہما نے انہیں خبر دی کہ

رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں جب ہوازن کا وفد مسلمان ہو کر حاضر ہوا اور آپ سے درخواست کی کہ ان کے اموال اور قیدی انہیں واپس کر دئیے جائیں تو آپ نے ان سے فرمایا میرے ساتھ جتنی بڑی جماعت ہے اسے بھی تم دیکھ رہے ہو اور سب سے زیادہ سچی بات ہی مجھے سب سے زیادہ پسند ہے اس لیے تم لوگ ان دو چیزوں میں سے ایک ہی لے سکتے ہو ، یا اپنے قیدی لے لو یا اپنا مال ۔ میں نے تمہارا پہلے ہی انتظار کیا تھا ۔ اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم طائف سے واپسی پر تقریباً دس دن تک ( مقام جعرانہ میں ) ان لوگوں کا انتظار فرماتے رہے ۔ پھر جب ان لوگوں کے سامنے یہ بات پوری طرح واضح ہو گئی کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ان کی صرف ایک ہی چیز واپس فرما سکتے ہیں تو انہوں نے کہا کہ ہم اپنے قیدیوں ہی کو ( واپس لینا ) پسند کرتے ہیں ۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھڑے ہو کر مسلمانوں کو خطاب کیا ، آپ نے اللہ کی اس کی شان کے مطابق تعریف بیان کی اور فرمایا ، امابعد ! یہ تمہارے بھائی ہمارے پاس اب توبہ کر کے آئے ہیں ۔ میرا خیال یہ ہے کہ انہیں ان کے قیدی واپس کر دوں ۔ اس لیے جو صاحب اپنی خوشی سے واپس کرنا چاہیں وہ ایسا کر لیں اور جو لوگ یہ چاہتے ہوں کہ اپنے حصے کو نہ چھوڑیں بلکہ ہم انہیں اس کے بدلے میں سب سے پہلی غنیمت کے مال میں سے معاوضہ دیں ، تو وہ بھی ( اپنے موجودہ قیدیوں کو ) واپس کر دیں ۔ سب صحابہ نے اس پر کہا ، یا رسول اللہ ! ہم اپنی خوشی سے انہیں واپس کرتے ہیں ۔ آپ نے فرمایا لیکن واضح طور پر اس وقت یہ معلوم نہ ہو سکا کہ کون اپنی خوشی سے دینے کے لیے تیار ہے اور کون نہیں ۔ اس لیے سب لوگ ( اپنے خیموں میں ) واپس جائیں اور تمہارے چودھری لوگ تمہارا معاملہ لا کر پیش کریں ۔ چنانچہ سب لوگ واپس ہو گئے اور نمائندوں نے ان سے گفتگو کی اور واپس ہو کر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو بتایا کہ تمام لوگوں نے خوشی سے اجازت دے دی ہے ۔ قبیلہ ہوازن کے قیدیوں کے متعلق ہمیں یہی بات معلوم ہوئی ہے ۔ ابوعبداللہ امام بخاری نے کہا یہ زہری رحمہ اللہ کا آخری قول تھا ۔ یعنی یہ کہ ” قبیلہ ہوازن کے قیدیوں کے متعلق ہمیں یہی بات معلوم ہوئی ہے “ ۔

Hadith 2609
Sahih
حَدَّثَنَا ابْنُ مُقَاتِلٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُ أَخَذَ سِنًّا فَجَاءَ صَاحِبُهُ يَتَقَاضَاهُ فَقَالَ ‏"‏ إِنَّ لِصَاحِبِ الْحَقِّ مَقَالاً ‏"‏‏.‏ ثُمَّ قَضَاهُ أَفْضَلَ مِنْ سِنِّهِ وَقَالَ ‏"‏ أَفْضَلُكُمْ أَحْسَنُكُمْ قَضَاءً ‏"‏‏.‏
English

Narrated Abu Huraira رضی اللہ عنہ :

The Prophet (ﷺ) took a camel of special age from somebody on credit. Its owner came and demanded it back (harshly). The Prophet (ﷺ) said, "No doubt, he who has a right, can demand it." Then the Prophet (ﷺ) gave him an older camel than his camel and said, "The best amongst you is he who repays his debts in the most handsome way."

Urdu

ہم سے ابن مقاتل نے بیان کیا ، کہا ہم کو عبداللہ نے خبر دی شعبہ سے ، انہیں ابوسلمہ بن کہیل نے ، انہیں ابوسلمہ نے اور انہیں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک اونٹ بطور قرض لیا ، قرض خواہ تقاضا کرنے آیا ( اور نازیبا گفتگو کی ) تو آپ نے فرمایا کہ حق والے کو کہنے کا حق ہوتا ہے ۔ پھر آپ نے اس سے اچھی عمر کا اونٹ اسے دلا دیا اور فرمایا کہ تم میں افضل وہ ہے جو ادا کرنے میں سب سے بہتر ہو ۔

Hadith 2610
Sahih
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَمْرٍو، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ـ رضى الله عنهما ـ أَنَّهُ كَانَ مَعَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فِي سَفَرٍ فَكَانَ عَلَى بَكْرٍ لِعُمَرَ صَعْبٍ، فَكَانَ يَتَقَدَّمُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَيَقُولُ أَبُوهُ يَا عَبْدَ اللَّهِ لاَ يَتَقَدَّمِ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم أَحَدٌ‏.‏ فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ بِعْنِيهِ ‏"‏‏.‏ فَقَالَ عُمَرُ هُوَ لَكَ‏.‏ فَاشْتَرَاهُ ثُمَّ قَالَ ‏"‏ هُوَ لَكَ يَا عَبْدَ اللَّهِ، فَاصْنَعْ بِهِ مَا شِئْتَ ‏"‏‏.‏
English

Narrated Ibn `Umar رضی اللہ عنہما :

He was in the company of the Prophet (ﷺ) on a journey, riding a troublesome camel belonging to `Umar رضی اللہ عنہ . The camel used to go ahead of the Prophet, so Ibn `Umar's father would say, "O `Abdullah! No one should go ahead of the Prophet." The Prophet (ﷺ) said to him, "Sell it to me." `Umar رضی اللہ عنہ said to the Prophet "It is for you." So, he bought it and said, "O `Abdullah! It is for you, and you can do with it what you like."

Urdu

ہم سے عبداللہ بن محمد نے بیان کیا ، کہا ہم سے ابن عیینہ نے بیان کیا عمرو سے اور ان سے ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ

وہ سفر میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے اور عمر رضی اللہ عنہ کے ایک سرکش اونٹ پر سوار تھے ۔ وہ اونٹ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی آگے بڑھ جایا کرتا تھا ۔ اس لیے ان کے والد ( عمر رضی اللہ عنہ ) کو تنبیہ کرنی پڑتی تھی کہ اے عبداللہ ! نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے آگے کسی کو نہ ہونا چاہئے ۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ! کہ عمر ! اسے مجھے بیچ دے ۔ عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا یہ تو آپ ہی کا ہے ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے خرید لیا ۔ پھر فرمایا ، عبداللہ یہ اب تیرا ہے ۔ جس طرح تو چاہے استعمال کر ۔

Hadith 2611
Sahih
وَقَالَ الْحُمَيْدِيُّ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، حَدَّثَنَا عَمْرٌو، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَ كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فِي سَفَرٍ، وَكُنْتُ عَلَى بَكْرٍ صَعْبٍ فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم لِعُمَرَ ‏"‏ بِعْنِيهِ ‏"‏‏.‏ فَابْتَاعَهُ فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ هُوَ لَكَ يَا عَبْدَ اللَّهِ ‏"‏‏.‏
English

Narrated Ibn 'Umar (رضی اللہ عنہما):

We were in the company of the Prophet (ﷺ) on a journey, and I was riding a troublesome camel. The Prophet (ﷺ) asked 'Umar رضی اللہ عنہ to sell that camel to him. So, 'Umar رضی اللہ عنہ sold it to him. The Prophet (ﷺ) then said, "O 'Abdullah! The camel is for you."

Urdu

اور حمیدی نے بیان کیا کہ ہم سے سفیان نے بیان کیا کہ ہم سے عمرو نے اور ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ

ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک سفر میں تھے اور میں ایک سرکش اونٹ پر سوار تھا ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عمر رضی اللہ عنہ سے فرمایا کہ یہ اونٹ مجھے بیچ دے چنانچہ آپ نے اسے خرید لیا اور پھر فرمایا عبداللہ ! تو یہ اونٹ لے جا ( میں نے یہ تجھ کو بخش دیا ) ۔

Hadith 2612
Sahih
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَ رَأَى عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ حُلَّةً سِيَرَاءَ عِنْدَ باب الْمَسْجِدِ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ لَوِ اشْتَرَيْتَهَا فَلَبِسْتَهَا يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَلِلْوَفْدِ قَالَ ‏"‏ إِنَّمَا يَلْبَسُهَا مَنْ لاَ خَلاَقَ لَهُ فِي الآخِرَةِ ‏"‏‏.‏ ثُمَّ جَاءَتْ حُلَلٌ فَأَعْطَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عُمَرَ مِنْهَا حُلَّةً، وَقَالَ أَكَسَوْتَنِيهَا وَقُلْتَ فِي حُلَّةِ عُطَارِدٍ مَا قُلْتَ‏.‏ فَقَالَ ‏"‏ إِنِّي لَمْ أَكْسُكَهَا لِتَلْبَسَهَا ‏"‏‏.‏ فَكَسَا عُمَرُ أَخًا لَهُ بِمَكَّةَ مُشْرِكًا‏.‏
English

Narrated `Abdullah bin `Umar رضی اللہ عنہما :

`Umar bin Al-Khattab رضی اللہ عنہ saw a silken dress (cloak) being sold at the gate of the Mosque and said, "O Allah's Messenger (ﷺ)! Would that you buy it and wear it on Fridays and when the delegates come to you!" Allah's Messenger (ﷺ) said, "This is worn by the one who will have no share in the Hereafter." Later on some silk dresses were brought and Allah's Messenger (ﷺ) sent one of them to `Umar رضی اللہ عنہ . `Umar رضی اللہ عنہ said, "How do you give me this to wear while you said what you said about the dress of 'Utarid?" Allah's Messenger (ﷺ) said, "I have not given it to you to wear." So, `Umar رضی اللہ عنہ gave it to a pagan brother of his in Mecca.

Urdu

ہم سے عبداللہ بن مسلمہ نے بیان کیا ، کہا ہم سے امام مالک نے نافع سے اور ان سے ابن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ

عمر رضی اللہ عنہ نے دیکھا کہ مسجد کے دروازے پر ایک ریشمی حلہ ( بک رہا ) ہے ۔ آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا ، کہ کیا اچھا ہوتا اگر آپ اسے خرید لیتے اور جمعہ کے دن اور وفود کی ملاقات کے موقع پر اسے زیب تن فرما لیا کرتے ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا جواب یہ دیا کہ اسے وہی لوگ پہنتے ہیں جن کا آخرت میں کوئی حصہ نہیں ہو گا ۔ کچھ دنوں بعد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے یہاں بہت سے ( ریشمی ) حلے آئے اور آپ نے ایک حلہ ان میں سے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو بھی عنایت فرمایا ۔ عمر رضی اللہ عنہ نے اس پر عرض کیا کہ آپ یہ مجھے پہننے کے لیے عنایت فرما رہے ہیں ۔ حالانکہ آپ خود عطارد کے حلوں کے بارے میں جو کچھ فرمانا تھا فرما چکے ہیں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں نے اسے تمہیں پہننے کے لیے نہیں دیا ہے ۔ چنانچہ عمر رضی اللہ عنہ نے اسے اپنے ایک مشرک بھائی کو دے دیا ، جو مکے میں رہتا تھا ۔

Hadith 2613
Sahih
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ أَبُو جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَ أَتَى النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم بَيْتَ فَاطِمَةَ فَلَمْ يَدْخُلْ عَلَيْهَا، وَجَاءَ عَلِيٌّ فَذَكَرَتْ لَهُ ذَلِكَ فَذَكَرَهُ لِلنَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ إِنِّي رَأَيْتُ عَلَى بَابِهَا سِتْرًا مَوْشِيًّا ‏"‏‏.‏ فَقَالَ ‏"‏ مَا لِي وَلِلدُّنْيَا ‏"‏‏.‏ فَأَتَاهَا عَلِيٌّ فَذَكَرَ ذَلِكَ لَهَا فَقَالَتْ لِيَأْمُرْنِي فِيهِ بِمَا شَاءَ‏.‏ قَالَ تُرْسِلُ بِهِ إِلَى فُلاَنٍ‏.‏ أَهْلِ بَيْتٍ بِهِمْ حَاجَةٌ‏.‏
English

Narrated Ibn `Umar رضی اللہ عنہما :

Once the Prophet (ﷺ) went to the house of Fatima رضی اللہ عنہا but did not enter it. `Ali رضی اللہ عنہ came and she told him about that. When 'All asked the Prophet (ﷺ) about it, he said, "I saw a (multicolored) decorated curtain on her door. I am not interested in worldly things." `Ali رضی اللہ عنہ went to Fatima and told her about it. Fatima رضی اللہ عنہا said, "I am ready to dispense with it in the way he suggests." The Prophet (ﷺ) ordered her to send it to such-andsuch needy people. "

Urdu

ہم سے ابوجعفر محمد بن جعفر نے بیان کیا ، کہا ہم سے ابن فضیل نے بیان کیا ، ان سے ان کے والد نے نافع سے اور ان سے ابن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کے گھر تشریف لے گئے ، لیکن اندر نہیں گئے ۔ اس کے بعد حضرت علی رضی اللہ عنہ گھر آئے تو فاطمہ رضی اللہ عنہا نے ذکر کیا ( کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم گھر میں تشریف نہیں لائے ) علی رضی اللہ عنہ نے اس کا ذکر جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں نے اس کے دروازے پر دھاری دار پردہ لٹکا دیکھا تھا ( اس لیے واپس چلا آیا ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مجھے دنیا ( کی آرائش و زیبائش ) سے کیا سروکار ۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے آ کر ان سے آپ کی گفتگو کا ذکر کیا تو انہوں نے کہا کہ آپ مجھے جس طرح کا چاہیں اس سلسلے میں حکم فرمائیں ۔ ( آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو جب یہ بات پہنچی تو ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ فلاں گھر میں اسے بھجوا دیں ۔ انہیں اس کی ضرورت ہے ۔

Hadith 2614
Sahih
حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ أَخْبَرَنِي عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ مَيْسَرَةَ، قَالَ سَمِعْتُ زَيْدَ بْنَ وَهْبٍ، عَنْ عَلِيٍّ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ أَهْدَى إِلَىَّ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم حُلَّةً سِيَرَاءَ فَلَبِسْتُهَا، فَرَأَيْتُ الْغَضَبَ فِي وَجْهِهِ، فَشَقَقْتُهَا بَيْنَ نِسَائِي‏.‏
English

Narrated `Ali رضی اللہ عنہ :

The Prophet (ﷺ) gave me a silken dress as a gift and I wore it. When I saw the signs of anger on his face, I cut it into pieces and distributed it among my wives."

Urdu

ہم سے حجاج بن منہال نے بیان کیا ، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا کہ مجھے عبدالمالک بن میسرہ نے خبر دی ، کہا کہ میں نے زید بن وہب سے سنا کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے ایک ریشمی حلہ ہدیہ میں دیا تو میں نے اسے پہن لیا ۔ لیکن جب غصے کے آثار روئے مبارک پر دیکھے تو اسے اپنی عورتوں میں پھاڑ کر تقسیم کر دیا ۔

Hadith 2615, 2616
Sahih
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ، عَنْ قَتَادَةَ، حَدَّثَنَا أَنَسٌ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ أُهْدِيَ لِلنَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم جُبَّةُ سُنْدُسٍ، وَكَانَ يَنْهَى عَنِ الْحَرِيرِ، فَعَجِبَ النَّاسُ مِنْهَا فَقَالَ ‏ "‏ وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ لَمَنَادِيلُ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ فِي الْجَنَّةِ أَحْسَنُ مِنْ هَذَا ‏"‏‏.‏وَقَالَ سَعِيدٌ عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، إِنَّ أُكَيْدِرَ دُومَةَ أَهْدَى إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم‏.‏
English

Narrated Anas رضی اللہ عنہ :

A Jubba (i.e. cloak) made of thick silken cloth was presented to the Prophet. The Prophet (ﷺ) used to forbid people to wear silk. So, the people were pleased to see it. The Prophet (ﷺ) said, "By Him in Whose Hands Muhammad's soul is, the handkerchiefs of Sa`d bin Mu`adh رضی اللہ عنہ in Paradise are better than this." Anas رضی اللہ عنہ added, "The present was sent to the Prophet (ﷺ) by Ukaidir (a Christian) from Dauma."

Urdu

ہم سے عبداللہ بن محمد نے بیان کیا ، کہا ہم سے یونس بن محمد نے بیان کیا ، ان سے شیبان نے بیان کیا قتادہ سے اور ان سے انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں دبیز قسم کے ریشم کا ایک جبہ ہدیہ کے طور پر پیش کیا گیا ۔ آپ اس کے استعمال سے ( مردوں کو ) منع فرماتے تھے ۔ صحابہ کو بڑی حیرت ہوئی ( کہ کتنا عمدہ ریشم ہے ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ( تمہیں اس پر حیرت ہے ) اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جان ہے ، جنت میں سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کے رومال اس سے بھی زیادہ خوبصورت ہیں ۔ سعد نے بیان کیا قتادہ سے اور ان سے انس رضی اللہ عنہ نے کہ دومہ ( تبوک کے قریب ایک مقام ) کے اکیدر ( نصرانی ) نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ہدیہ بھیجا تھا ۔

Hadith 2617
Sahih
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ هِشَامِ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ـ رضى الله عنه ـ أَنَّ يَهُودِيَّةً، أَتَتِ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم بِشَاةٍ مَسْمُومَةٍ، فَأَكَلَ مِنْهَا فَجِيءَ بِهَا فَقِيلَ أَلاَ نَقْتُلُهَا‏.‏ قَالَ ‏ "‏ لاَ ‏"‏‏.‏ فَمَا زِلْتُ أَعْرِفُهَا فِي لَهَوَاتِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم‏.‏
English

Narrated Anas bin Malik رضی اللہ عنہ :

A Jewess brought a poisoned (cooked) sheep for the Prophet (ﷺ) who ate from it. She was brought to the Prophet and he was asked, "Shall we kill her?" He said, "No." I continued to see the effect of the poison on the palate of the mouth of Allah's Messenger (ﷺ) .

Urdu

ہم سے عبداللہ بن عبدالوہاب نے بیان کیا ، کہا ہم سے خالد بن حارث نے بیان کیا ، ان سے شعبہ نے ، ان سے ہشام بن زید نے اور ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے کہ

ایک یہودی عورت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں زہر ملا ہوا بکری کا گوشت لائی ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس میں سے کچھ کھایا ( لیکن فوراً ہی فرمایا کہ اس میں زہر پڑا ہوا ہے ) پھر جب اسے لایا گیا ( اور اس نے زہر ڈالنے کا اقرار بھی کر لیا ) تو کہا گیا کہ کیوں نہ اسے قتل کر دیا جائے ۔ لیکن آپ نے فرمایا کہ نہیں ۔ اس زہر کا اثر میں نے ہمیشہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے تالو میں محسوس کیا ۔

Hadith 2618
Sahih
حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ، حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَ كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم ثَلاَثِينَ وَمِائَةً فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ هَلْ مَعَ أَحَدٍ مِنْكُمْ طَعَامٌ ‏"‏‏.‏ فَإِذَا مَعَ رَجُلٍ صَاعٌ مِنْ طَعَامٍ أَوْ نَحْوُهُ، فَعُجِنَ ثُمَّ جَاءَ رَجُلٌ مُشْرِكٌ مُشْعَانٌّ طَوِيلٌ بِغَنَمٍ يَسُوقُهَا، فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ بَيْعًا أَمْ عَطِيَّةً ـ أَوْ قَالَ ـ أَمْ هِبَةً ‏"‏‏.‏ قَالَ لاَ، بَلْ بَيْعٌ‏.‏ فَاشْتَرَى مِنْهُ شَاةً، فَصُنِعَتْ وَأَمَرَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم بِسَوَادِ الْبَطْنِ أَنْ يُشْوَى، وَايْمُ اللَّهِ مَا فِي الثَّلاَثِينَ وَالْمِائَةِ إِلاَّ قَدْ حَزَّ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم لَهُ حُزَّةً مِنْ سَوَادِ بَطْنِهَا، إِنْ كَانَ شَاهِدًا أَعْطَاهَا إِيَّاهُ، وَإِنْ كَانَ غَائِبًا خَبَأَ لَهُ، فَجَعَلَ مِنْهَا قَصْعَتَيْنِ، فَأَكَلُوا أَجْمَعُونَ، وَشَبِعْنَا، فَفَضَلَتِ الْقَصْعَتَانِ، فَحَمَلْنَاهُ عَلَى الْبَعِيرِ‏.‏ أَوْ كَمَا قَالَ‏.‏
English

Narrated `Abdur-Rahman bin Abu Bakr رضی اللہ عنہما :

We were one-hundred and thirty persons accompanying the Prophet (ﷺ) who asked us whether anyone of us had food. There was a man who had about a Sa of wheat which was mixed with water then. A very tall pagan came driving sheep. The Prophet (ﷺ) asked him, "Will you sell us (a sheep) or give it as a present?" He said, "I will sell you (a sheep)." The Prophet (ﷺ) bought a sheep and it was slaughtered. The Prophet ordered that its liver and other Abdominal organs be roasted. By Allah, the Prophet (ﷺ) gave every person of the one-hundred-and-thirty a piece of that; he gave all those of them who were present; and kept the shares of those who were absent. The Prophet (ﷺ) then put its meat in two huge basins and all of them ate to their fill, and even then more food was left in the two basins which were carried on the camel (or said something like it).

Urdu

ہم سے ابوالنعمان نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم سے معتمر بن سلیمان نے بیان کیا ، ان سے ان کے باپ نے بیان کیا ، ان سے ابوعثمان نے بیان کیا اور ان سے عبدالرحمٰن بن ابی بکر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ

ہم ایک سو تیس آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ( ایک سفر میں ) تھے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کیا کسی کے ساتھ کھانے کی بھی کوئی چیز ہے ؟ ایک صحابی کے ساتھ تقریباً ایک صاع کھانا ( آٹا ) تھا ۔ وہ آٹا گوندھا گیا ۔ پھر ایک لمبا تڑنگا مشرک پریشان حال بکریاں ہانکتا ہوا آیا ۔ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا یہ بیچنے کے لیے ہیں ۔ یا کسی کا عطیہ ہی یا آپ نے ( عطیہ کی بجائے ) ہبہ فرمایا ۔ اس نے کہا کہ نہیں بیچنے کے لیے ہیں ۔ آپ نے اس سے ایک بکری خریدی پھر وہ ذبح کی گئی ۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی کلیجی بھوننے کے لیے کہا ۔ قسم خدا کی ایک سو تیس اصحاب میں سے ہر ایک کو اس کلیجی میں سے کاٹ کے دیا ۔ جو موجود تھے انہیں تو آپ نے فوراً ہی دے دیا اور جو اس وقت موجود نہیں تھے ان کا حصہ محفوظ رکھ لیا ۔ پھر بکری کے گوشت کو دو بڑی قابوں میں رکھا گیا اور سب نے خوب سیر ہو کر کھایا ۔ جو کچھ قابوں میں بچ گیا تھا اسے اونٹ پر رکھ کر ہم واپس لائے ۔ او کما قال ۔

Hadith 2619
Sahih
حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلاَلٍ، قَالَ حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دِينَارٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَ رَأَى عُمَرُ حُلَّةً عَلَى رَجُلٍ تُبَاعُ فَقَالَ لِلنَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم ابْتَعْ هَذِهِ الْحُلَّةَ تَلْبَسْهَا يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَإِذَا جَاءَكَ الْوَفْدُ‏.‏ فَقَالَ ‏"‏ إِنَّمَا يَلْبَسُ هَذَا مَنْ لاَ خَلاَقَ لَهُ فِي الآخِرَةِ ‏"‏‏.‏ فَأُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مِنْهَا بِحُلَلٍ فَأَرْسَلَ إِلَى عُمَرَ مِنْهَا بِحُلَّةٍ‏.‏ فَقَالَ عُمَرُ كَيْفَ أَلْبَسُهَا وَقَدْ قُلْتَ فِيهَا مَا قُلْتَ قَالَ ‏"‏ إِنِّي لَمْ أَكْسُكَهَا لِتَلْبَسَهَا، تَبِيعُهَا أَوْ تَكْسُوهَا ‏"‏‏.‏ فَأَرْسَلَ بِهَا عُمَرُ إِلَى أَخٍ لَهُ مِنْ أَهْلِ مَكَّةَ قَبْلَ أَنْ يُسْلِمَ‏.‏
English

Narrated Ibn `Umar:

`Umar رضی اللہ عنہ saw a silken cloak over a man for sale and requested the Prophet (ﷺ) to buy it in order to wear it on Fridays and while meeting delegates. The Prophet (ﷺ) said, "This is worn by the one who will have no share in the Hereafter." Later on Allah's Messenger (ﷺ) got some silken cloaks similar to that one, and he sent one to `Umar رضی اللہ عنہ . `Umar رضی اللہ عنہ said to the Prophet (ﷺ) "How can I wear it, while you said about it what you said?" The Prophet (ﷺ) said, "I have not given it to you to wear, but to sell or to give to someone else." So, `Umar رضی اللہ عنہ sent it to his brother at Mecca before he embraced Islam.

Urdu

ہم سے خالد بن مخلد نے بیان کیا ، کہا ہم سے سلیمان بن بلال نے بیان کیا ، کہا کہ مجھ سے عبداللہ بن دینار نے بیان کیا اور ان سے عبداللہ بن عمر نے کہ

عمر رضی اللہ عنہ نے دیکھا کہ ایک شخص کے یہاں ایک ریشمی جوڑا بک رہا ہے ۔ تو آپ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ آپ یہ جوڑا خرید لیجئیے تاکہ جمعہ کے دن اور جب کوئی وفد آئے تو آپ اسے پہنا کریں ۔ آپ نے فرمایا کہ اسے تو وہ لوگ پہنتے ہیں جن کا آخرت میں کوئی حصہ نہیں ہوتا ۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بہت سے ریشمی جوڑے آئے اور آپ نے ان میں سے ایک جوڑا عمر رضی اللہ عنہ کو بھیجا ۔ عمر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں اسے کس طرح پہن سکتا ہوں جب کہ آپ خود ہی اس کے متعلق جو کچھ ارشاد فرمانا تھا ، فرما چکے ہیں ۔ آپ نے فرمایا کہ میں نے تمہیں پہننے کے لیے نہیں دیا بلکہ اس لیے دیا کہ تم اسے بیچ دو یا کسی ( غیر مسلم ) کو پہنا دو ۔ چنانچہ عمر رضی اللہ عنہ نے اسے مکے میں اپنے ایک بھائی کے گھر بھیج دیا جو ابھی اسلام نہیں لایا تھا ۔

Hadith 2620
Sahih
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَتْ قَدِمَتْ عَلَىَّ أُمِّي وَهْىَ مُشْرِكَةٌ، فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم، فَاسْتَفْتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قُلْتُ ‏{‏إِنَّ أُمِّي قَدِمَتْ‏}‏ وَهْىَ رَاغِبَةٌ، أَفَأَصِلُ أُمِّي قَالَ ‏ "‏ نَعَمْ صِلِي أُمَّكِ ‏"‏‏.‏
English

Narrated Asma' bint Abu Bakr رضی اللہ عنہما :

My mother came to me during the lifetime of Allah's Messenger (ﷺ) and she was a pagan. I said to Allah's Apostle (seeking his verdict), "My mother has come to me and she desires to receive a reward from me, shall I keep good relations with her?" The Prophet (ﷺ) said, "Yes, keep good relation with her. "

Urdu

ہم سے عبید بن اسماعیل نے بیان کیا ، کہا ہم سے ابواسامہ نے بیان کیا ہشام سے ، ان سے ان کے باپ نے اور ان سے اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں میری والدہ ( قتیلہ بنت عبدالعزیٰ ) جو مشرکہ تھیں ، میرے یہاں آئیں ۔ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا ، میں نے یہ بھی کہا کہ وہ ( مجھ سے ملاقات کی ) بہت خواہشمند ہیں ، تو کیا میں اپنی والدہ کے ساتھ صلہ رحمی کر سکتی ہوں ؟ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہاں اپنی والدہ کے ساتھ صلہ رحمی کر ۔

Hadith 2621
Sahih
حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، وَشُعْبَةُ، قَالاَ حَدَّثَنَا قَتَادَةُ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ الْعَائِدُ فِي هِبَتِهِ كَالْعَائِدِ فِي قَيْئِهِ ‏"‏‏.‏
English

Narrated Ibn `Abbas رضی اللہ عنہما :

The Prophet (ﷺ) said, "He who takes back his present is like him who swallows his vomit."

Urdu

ہم سے مسلم بن ابراہیم نے بیان کیا ، کہا ہم سے ہشام اور شعبہ نے بیان کیا ، انہوں نے کہا کہ ہم سے قتادہ نے بیان کیا سعید بن مسیب سے اور ان سے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ، اپنا دیا ہوا ہدیہ واپس لینے والا ایسا ہے جیسے اپنی کی ہوئی قے کو چاٹنے والا ۔

Hadith 2622
Sahih
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْمُبَارَكِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ لَيْسَ لَنَا مَثَلُ السَّوْءِ، الَّذِي يَعُودُ فِي هِبَتِهِ كَالْكَلْبِ يَرْجِعُ فِي قَيْئِهِ ‏"‏‏.‏
English

Narrated Ibn `Abbas رضی اللہ عنہما :

The Prophet (ﷺ) said, "The bad example is not for us. He who takes back his present is like a dog that swallows back its vomit."

Urdu

ہم سے عبدالرحمٰن بن مبارک نے بیان کیا ، کہا ہم سے عبدالوارث نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے ایوب نے بیان کیا عکرمہ سے اور ان سے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہم مسلمانوں کو بری مثال نہ اختیار کرنی چاہئے ۔ اس شخص کی سی جو اپنا دیا ہوا ہدیہ واپس لے لے ، وہ اس کتے کی طرح ہے جو اپنی قے خود چاٹتا ہے ۔

Hadith 2623
Sahih
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ قَزَعَةَ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ أَبِيهِ، سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ ـ رضى الله عنه ـ يَقُولُ حَمَلْتُ عَلَى فَرَسٍ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، فَأَضَاعَهُ الَّذِي كَانَ عِنْدَهُ، فَأَرَدْتُ أَنْ أَشْتَرِيَهُ مِنْهُ، وَظَنَنْتُ أَنَّهُ بَائِعُهُ بِرُخْصٍ، فَسَأَلْتُ عَنْ ذَلِكَ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ ‏ "‏ لاَ تَشْتَرِهِ، وَإِنْ أَعْطَاكَهُ بِدِرْهَمٍ وَاحِدٍ، فَإِنَّ الْعَائِدَ فِي صَدَقَتِهِ كَالْكَلْبِ يَعُودُ فِي قَيْئِهِ ‏"‏‏.‏
English

Narrated `Umar bin Al-Khattab رضی اللہ عنہ :

I gave a horse in Allah's Cause. The person to whom it was given, did not look after it. I intended to buy it from him, thinking that he would sell it cheap. When I asked the Prophet (ﷺ) he said, "Don't buy it, even if he gives it to you for one Dirham, as the person who takes back what he has given in charity, is like a dog that swallows back its vomit."

Urdu

ہم سے یحییٰ بن قزعہ نے بیان کیا ، کہا ہم سے امام مالک نے بیان کیا زید بن اسلم سے ، ان سے ان کے باپ نے کہ انہوں نے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے سنا ۔ آپ نے فرمایا کہ

میں نے ایک گھوڑا اللہ کے راستے میں جہاد کے لیے ( ایک شخص کو ) دیا ) ۔ جسے میں نے وہ گھوڑا دیا تھا ، اس نے اسے دبلا کر دیا ۔ اس لیے میرا ارادہ ہوا کہ اس سے اپنا وہ گھوڑا خرید لوں ، میرا یہ بھی خیال تھا کہ وہ شخص وہ گھوڑا سستے داموں پر بیچ دے گا ۔ لیکن جب میں نے اس کے بارے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا تو آپ نے فرمایا کہ تم اسے نہ خریدو ، خواہ تمہیں وہ ایک ہی درہم میں کیوں نہ دے ۔ کیونکہ اپنے صدقہ کو واپس لینے والا شخص اس کتے کی طرح ہے جو اپنی ہی قے خود چاٹتا ہے ۔

Hadith 2624
Sahih
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى، أَخْبَرَنَا هِشَامُ بْنُ يُوسُفَ، أَنَّ ابْنَ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَهُمْ قَالَ أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، أَنَّ بَنِي صُهَيْبٍ، مَوْلَى ابْنِ جُدْعَانَ ادَّعَوْا بَيْتَيْنِ وَحُجْرَةً، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَعْطَى ذَلِكَ صُهَيْبًا، فَقَالَ مَرْوَانُ مَنْ يَشْهَدُ لَكُمَا عَلَى ذَلِكَ قَالُوا ابْنُ عُمَرَ‏.‏ فَدَعَاهُ فَشَهِدَ لأَعْطَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم صُهَيْبًا بَيْتَيْنِ وَحُجْرَةً‏.‏ فَقَضَى مَرْوَانُ بِشَهَادَتِهِ لَهُمْ‏.‏
English

Narrated Banu Sohaib:

The sons of Suhaib رضی اللہ عنہ , (Suhaib, who was the freed slave of Bani Jud'an) claimed that Allah's Messenger (ﷺ) had given two houses and one room to Suhaib. Marwan asked, "Who will testify to your claim?" They replied that Ibn 'Umar رضی اللہ عنہما would do so. Marwan sent for Ibn 'Umar who testified that Allah's Messenger (ﷺ) had really given Suhaib رضی اللہ عنہ two houses and a room. So, Marwan gave the verdict (in favour of Suhaib's sons), because of (Ibn 'Umar's) witness.

Urdu

ہم سے ابراہیم بن موسیٰ نے بیان کیا ، کہا ہم کو ہشام بن یوسف نے خبر دی ، انہیں ابن جریج نے خبر دی ، کہا کہ مجھے عبداللہ بن عبیداللہ بن ابی ملیکہ نے خبر دی کہ ابن جدعان کے غلام بنوصہیب نے دعویٰ کیا کہ

دو مکان اور ایک حجرہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صہیب رضی اللہ عنہ کو عنایت فرمایا تھا ( جو وراثت میں انہیں ملنا چاہئے ) خلیفہ مروان بن حکم نے پوچھا کہ تمہارے حق میں اس دعویٰ پر گواہ کون ہے ؟ انہوں نے کہا کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما ۔ مروان نے آپ کو بلایا تو آپ نے گواہی دی کہ واقعی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صہیب رضی اللہ عنہ کو دو مکان اور ایک حجرہ دیا تھا ۔ مروان نے آپ کی گواہی پر فیصلہ ان کے حق میں کر دیا ۔

Hadith 2625
Sahih
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ، عَنْ يَحْيَى، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ جَابِرٍ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ قَضَى النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم بِالْعُمْرَى أَنَّهَا لِمَنْ وُهِبَتْ لَهُ‏.‏
English

Narrated Jabir رضی اللہ عنہ :

The Prophet (ﷺ) gave the verdict that `Umra is for the one to whom it is presented.

Urdu

ہم سے ابونعیم نے بیان کیا ، ان سے شیبان نے بیان کیا ، ان سے یحییٰ نے ، ان سے ابوسلمہ نے اور ان سے جابر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عمرہ کے متعلق فیصلہ کیا تھا کہ وہ اس کا ہو جاتا ہے جسے ہبہ کیا گیا ہو ۔

Hadith 2626
Sahih
حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ، قَالَ حَدَّثَنِي النَّضْرُ بْنُ أَنَسٍ، عَنْ بَشِيرِ بْنِ نَهِيكٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ الْعُمْرَى جَائِزَةٌ ‏"‏‏.‏ وَقَالَ عَطَاءٌ حَدَّثَنِي جَابِرٌ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم نَحْوَهُ‏.‏
English

Narrated Abu Huraira رضی اللہ عنہ :

The Prophet (ﷺ) said, "Umra is permissible." Ata said, "Jabir رضی اللہ عنہ narrated the same to me from the Prophet."

Urdu

ہم سے حفص بن عمر نے بیان کیا ، کہا ہم سے ہمام نے بیان کیا ، ان سے قتادہ نے بیان کیا ، ان سے نضر بن انس نے بیان کیا ، ان سے بشیر بن نہیک نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا عمریٰ جائز ہے اور عطاء نے کہا کہ مجھ سے جابر رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح بیان کیا ۔

Hadith 2627
Sahih
حَدَّثَنَا آدَمُ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، قَالَ سَمِعْتُ أَنَسًا، يَقُولُ كَانَ فَزَعٌ بِالْمَدِينَةِ فَاسْتَعَارَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فَرَسًا مِنْ أَبِي طَلْحَةَ يُقَالُ لَهُ الْمَنْدُوبُ، فَرَكِبَ فَلَمَّا رَجَعَ قَالَ ‏ "‏ مَا رَأَيْنَا مِنْ شَىْءٍ، وَإِنْ وَجَدْنَاهُ لَبَحْرًا ‏"‏‏.‏
English

Narrated Anas رضی اللہ عنہ :

Once the people of Medina were frightened, so the Prophet (ﷺ) borrowed a horse from Abu Talha رضی اللہ عنہ called Al-Mandub, and rode it. When he came back he said, "We have not seen anything (to be afraid of), but the horse was very fast (having an energy as inexhaustible as the water of the sea).

Urdu

ہم سے آدم نے بیان کیا ، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا قتادہ سے کہ میں نے انس رضی اللہ عنہ سے سنا ۔ آپ نے بیان کیا کہ

مدینے پر ( دشمن کے حملے کا ) خوف تھا ۔ اس لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوطلحہ رضی اللہ عنہ سے ایک گھوڑا جس کا نام مندوب تھا مستعار لیا ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس پر سوار ہوئے ( صحابہ بھی ساتھ تھے ) پھر جب واپس ہوئے تو فرمایا ، ہمیں تو کوئی خطرہ کی چیز نظر نہ آئی ، البتہ یہ گھوڑا سمندر کی طرح ( تیز دوڑتا ) پایا ۔

Hadith 2628
Sahih
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ أَيْمَنَ، قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي قَالَ، دَخَلْتُ عَلَى عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ وَعَلَيْهَا دِرْعُ قِطْرٍ ثَمَنُ خَمْسَةِ دَرَاهِمَ، فَقَالَتِ ارْفَعْ بَصَرَكَ إِلَى جَارِيَتِي، انْظُرْ إِلَيْهَا فَإِنَّهَا تُزْهَى أَنْ تَلْبَسَهُ فِي الْبَيْتِ، وَقَدْ كَانَ لِي مِنْهُنَّ دِرْعٌ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم، فَمَا كَانَتِ امْرَأَةٌ تُقَيَّنُ بِالْمَدِينَةِ إِلاَّ أَرْسَلَتْ إِلَىَّ تَسْتَعِيرُهُ‏.‏
English

Narrated Aiman:

I went to `Aisha رضی اللہ عنہا and she was wearing a coarse dress costing five Dirhams. `Aisha رضی اللہ عنہا said, "Look up and see my slave-girl who refuses to wear it in the house though during the lifetime of Allah's Messenger (ﷺ) I had a similar dress which no woman desiring to appear elegant (before her husband) failed to borrow from me."

Urdu

ہم سے ابونعیم نے بیان کیا ، کہا ہم سے عبدالواحد بن ایمن نے بیان کیا ، کہا کہ مجھ سے میرے باپ نے بیان کیا ، انہوں نے کہا کہ

میں عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ قطر ( یمن کا ایک دبیز کھردرا کپڑا ) کی قمیص قیمتی پانچ درہم کی پہنے ہوئے تھیں ۔ آپ نے ( مجھ سے ) فرمایا ۔ ذرا نظر اٹھا کر میری اس لونڈی کو تو دیکھ ۔ اسے گھر میں بھی یہ کپڑے پہننے سے انکار ہے ۔ حالانکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں میرے پاس اسی کی ایک قمیص تھی ۔ جب کوئی لڑکی دلہن بنائی جاتی تو میرے یہاں آدمی بھیج کر وہ قمیص عاریتاً منگا لیتی تھی ۔