Muhammad Ibn Hanafiya:
"My father sent me saying, 'Take this letter to `Uthman رضی اللہ عنہ for it contains the orders of the Prophet (ﷺ) concerning the Sadaqa.' "
حمیدی نے بیان کیا ‘ انہوں نے کہا ہم سے سفیان نے بیان کیا ‘ انہوں نے کہا ہم سے محمد بن سوقہ نے کہا کہ میں نے منذر ثوری سے سنا ‘ وہ محمد بن حنفیہ سے بیان کرتے تھے کہ
میرے والد ( حضرت علی رضی اللہ عنہ ) نے مجھ کو کہا کہ یہ پروانہ عثمان رضی اللہ عنہ کو لے جا کر دے آؤ ‘ اس میں زکوٰۃ سے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بیان کردہ احکامات درج ہیں ۔
Narrated `Ali رضی اللہ عنہ :
Fatima رضی اللہ عنہا complained of what she suffered from the hand mill and from grinding, when she got the news that some slave girls of the booty had been brought to Allah's Messenger (ﷺ). She went to him to ask for a maid-servant, but she could not find him, and told `Aisha رضی اللہ عنہا of her need. When the Prophet (ﷺ) came, Aisha رضی اللہ عنہا informed him of that. The Prophet (ﷺ) came to our house when we had gone to our beds. (On seeing the Prophet) we were going to get up, but he said, 'Keep at your places,' I felt the coolness of the Prophet's feet on my chest. Then he said, "Shall I tell you a thing which is better than what you asked me for? When you go to your beds, say: 'Allahu Akbar (i.e. Allah is Greater)' for 34 times, and 'Al hamdu Li llah (i.e. all the praises are for Allah)' for 33 times, and Subhan Allah (i.e. Glorified be Allah) for 33 times. This is better for you than what you have requested."
ہم سے بدل بن محبر نے بیان کیا ‘ کہا ہم کو شعبہ نے خبر دی ‘ کہا کہ مجھے حکم نے خبر دی ‘ کہا کہ میں نے ابن ابی لیلیٰ سے سنا ‘ کہا مجھ سے حضرت علی رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ
حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کو چکی پیسنے کی بہت تکلیف ہوتی ۔ پھر انہیں معلوم ہوا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کچھ قیدی آئے ہیں ۔ اس لئے وہ بھی ان میں سے ایک لونڈی یا غلام کی درخواست لے کر حاضر ہوئیں ۔ لیکن آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم موجود نہیں تھے ۔ وہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے اس کے متعلق کہہ کر ( واپس ) چلی آئیں ۔ پھر جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ان کی درخواست پیش کر دی ۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ اسے سن کر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے یہاں ( رات ہی کو ) تشریف لائے ۔ جب ہم اپنے بستروں پر لیٹ چکے تھے ( جب ہم نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا ( تو ہم لوگ کھڑے ہونے لگے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس طرح ہو ویسے ہی لیٹے رہو ۔ ( پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم میرے اور فاطمہ رضی اللہ عنہا کے بیچ میں بیٹھ گئے اور اتنے قریب ہو گئے کہ ) میں نے آپ کے دونوں قدموں کی ٹھنڈک اپنے سینے پر پائی ۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ‘ جو کچھ تم لوگوں نے ( لونڈی یا غلام ) مانگے ہیں ‘ میں تمہیں اس سے بہتر بات کیوں نہ بتاؤں ‘ جب تم دونوں اپنے بستر پر لیٹ جاؤ ( تو سونے سے پہلے ) اللہ اکبر 34 مرتبہ اور الحمداللہ 33 مرتبہ اور سبحان اللہ 33 مرتبہ پڑھ لیا کرو ‘ یہ عمل بہتر ہے اس سے جو تم دونوں نے مانگا ہے ۔
Narrated Jabir bin 'Abdullah (رضی اللہ عنہما):
A boy was born to one of our men, the Ansar, and he wanted to name him Muhammad. Then Ansari man said, "I took the boy to the Prophet (ﷺ). The Prophet (ﷺ) said, "Name your child by my name, but do not name (them) by my Kunya, for I have been made Qasim (i.e., a distributor) to distribute (the booty etc.) amongst you." The narrator, Husain said that the Prophet (ﷺ) said, "I have been sent as a Qasim (i.e., distributor) to distribute (things) amongst you." [The Sub narrator Salim said that he heard Jabir saying that the man wanted to name the boy Al-Qasim, but the Prophet (ﷺ) said, "Call (your sons) by my name, but do not name (them) by my Kunya."]
ہم سے ابو ولید نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا ‘ ان سے سلیمان ‘ منصور اور قتادہ نے ‘ انہوں نے سالم بن ابی الجعد سے سنا اور ان سے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ
ہم انصاریوں کے قبیلہ میں ایک انصاری کے گھر بچہ پیدا ہو تو انہوں نے بچے کا نام محمد رکھنے کا ارادہ کیا اور شعبہ نے منصور سے روایت کر کے بیان کیا ہے کہ ان انصاری نے بیان کیا ( جن کے یہاں بچہ پیدا ہوا تھا ) کہ میں بچے کو اپنی گردن پر اٹھا کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ۔ اور سلیمان کی روایت میں ہے کہ ان کے یہاں بچہ پیدا ہوا ‘ تو انہوں نے اس کا نام محمد رکھنا چاہا ‘ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر فرمایا کہ میرے نام پر نام رکھو ‘ لیکن میری کنیت ( ابوالقاسم ) پر کنیت نہ رکھنا ‘ کیونکہ مجھے تقسیم کرنے والا ( قاسم ) بنایا گیا ہے ۔ میں تم میں تقسیم کرتا ہوں ‘ اور حصین نے ( اپنی روایت میں ) یوں بیان کیا ‘ کہ مجھے تقسیم کرنے والا ( قاسم ) بنا کر بھیجا گیا ہے ‘ میں تم میں تقسیم کرتا ہوں ۔ عمرو بن مرزوق نے کہا کہ ہمیں شعبہ نے خبر دی ‘ ان سے قتادہ نے بیان کیا ‘ انہوں نے سالم سے سنا انہوں نے جابر رضی اللہ عنہ سے کہ ان انصاری صحابی نے اپنے بچے کا نام قاسم رکھنا چاہا تھا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میرے نام پر نام رکھو لیکن کنیت نہ رکھو ۔
Narrated Jabir bin `Abdullah Al-Ansari رضی اللہ عنہما :
A man amongst us begot a boy whom he named Al-Qasim. On that the Ansar said, (to the man), "We will never call you Abu-al-Qasim and will never please you with this blessed title." So, he went to the Prophet and said, "O Allah's Messenger (ﷺ)! I have begotten a boy whom I named Al-Qasim and the Ansar said, 'We will never call you Abu-al-Qasim, nor will we please you with this title.' " The Prophet (ﷺ) said, "The Ansar have done well. Name by my name, but do not name by my Kunya, for I am Qasim."
ہم سے محمد بن یوسف بیکندی نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے سفیان ثوری نے بیان کیا ‘ ان سے اعمش نے ‘ ان سے ابو سالم نے ‘ ان سے ابوالجعد نے اور ان سے جابر بن عبداللہ انصاری رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ
ہمارے قبیلہ میں ایک شخص کے یہاں بچہ پیدا ہوا ‘ تو انہوں نے اس کا نام قاسم رکھا ‘ انصار کہنے لگے کہ ہم تمہیں ابوالقاسم کہہ کر کبھی نہیں پکاریں گے اور ہم تمہاری آنکھ ٹھنڈی نہیں کریں گے یہ سن کر وہ انصاری آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور عرض کی یا رسول اللہ ! میرے گھر ایک بچہ پیدا ہوا ہے ۔ میں نے اس کا نام قاسم رکھا ہے تو انصار کہتے ہیں ہم تیری کنیت ابوالقاسم نہیں پکاریں گے اور تیری آنکھ ٹھنڈی نہیں کریں گے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ‘ انصار نے ٹھیک کہا ہے میرے نام پر نام رکھو ‘ لیکن میری کنیت مت رکھو ‘ کیونکہ قاسم میں ہوں ۔
Narrated Muawiya رضی اللہ عنہ :
Allah's Messenger (ﷺ) said, "If Allah wants to do good for somebody, he makes him comprehend the Religion (i.e. Islam), and Allah is the Giver and I am Al-Qasim (i.e. the distributor), and this (Muslim) nation will remain victorious over their opponents, till Allah's Order comes and they will still be victorious "
ہم سے حبان بن موسیٰ نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے عبداللہ بن مبارک نے ‘ انہیں یونس نے ، انہیں زہری نے ‘ انہیں حمید بن عبدالرحمن نے ‘ انہوں نے معاویہ رضی اللہ عنہ سے سنا ‘ آپ نے بیان کیا کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ‘ جس کے ساتھ اللہ تعالیٰ بھلائی چاہتا ہے اسے دین کی سمجھ دے دیتا ہے ۔ اور دینے والا تو اللہ ہی ہے میں تو صرف تقسیم کرنے والا ہوں اور اپنے دشمنوں کے مقابلے میں یہ امت ( مسلمہ ) ہمیشہ غالب رہے گی ۔ تاآنکہ اللہ کا حکم ( قیامت ) آ جائے اور اس وقت بھی وہ غالب ہی ہوں گے ۔
Abu Huraira رضی اللہ عنہ :
Allah's Messenger (ﷺ) said, "Neither do I give you (anything) nor withhold (anything) from you, but I am just a distributor (i.e. Qasim), and I give as I am ordered."
ہم سے محمد بن سنان نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے فلیح نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے بلال نے بیان کیا ان سے عبدالرحمن بن ابی عمرہ نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ
رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ‘ نہ میں تمہیں کوئی چیز دیتا ہوں ‘ نہ تم سے کسی چیز کو روکتا ہوں ۔ میں تو صرف تقسیم کرنے والا ہوں ۔ جہاں جہاں کا مجھے حکم ہوتا ہے بس وہیں رکھ دیتا ہوں ۔
Narrated Khaula Al-Ansariya رضی اللہ عنہا :
I heard Allah's Messenger (ﷺ) saying, "Some people spend Allah's Wealth (i.e. Muslim's wealth) in an unjust manner; such people will be put in the (Hell) Fire on the Day of Resurrection."
ہم سے عبداللہ بن یزید نے بیان کیا ‘ انہوں نے کہا کہ ہم سے سعید بن ابی ایوب نے بیان کیا ‘ انہوں نے کہا کہ مجھ سے ابوالاسود نے بیان کیا ‘ ان سے ابن ابی عیاش نے بیان کیا اور ان کا نام نعمان تھا ‘ ان سے خولہ بنت قیس انصاریہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے میں نے سنا ‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے کچھ لوگ اللہ تعالیٰ کے مال کو بے جا اڑاتے ہیں ‘ انہیں قیامت کے دن آگ ملے گی ۔
Narrated `Urwa-al-Bariqi رضی اللہ عنہ :
The Prophet (ﷺ) said, "Horses are always the source of good, namely, rewards (in the Hereafter) and booty, till the Day of Resurrection."
ہم سے مسدد نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے خالد نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے حصین نے بیان کیا ‘ ان سے عامر نے اور ان سے عروہ بارقی رضی اللہ عنہ نے کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ‘ گھوڑوں کی پیشانیوں سے قیامت تک خیر و برکت ( آخرت میں ) اور غنیمت ( دنیا میں ) بندھی ہوئی ہے ۔
Narrated Abu Huraira رضی اللہ عنہ :
Allah's Messenger (ﷺ) said, "When Khosrau is ruined, there will be no Khosrau after him; and when Caesar is ruined, there will be no Caesar after him. By Him in Whose Hands my life is, you will spend their treasures in Allah's Cause."
ہم سے ابو الیمان نے بیان کیا ‘ کہا ہم کو شعیب نے خبر دی ‘ کہا ہم سے ابوالزناد نے بیان کیا ‘ ان سے اعرج نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب کسریٰ مر جائے گا تو اس کے بعد کوئی کسریٰ پیدا نہ ہو گا ۔ اور جب قیصر مر جائے گا تو اس کی بعد کوئی قیصر پیدا نہ ہو گا اور اس ذات کی قسم ! جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ‘ تم لوگ ان دونوں کے خزانے اللہ کے راستے میں خرچ کرو گے ۔
Narrated Jabir bin Samura رضی اللہ عنہ :
Allah's Messenger (ﷺ) said, "When Khosrau is ruined, there will be no Khosrau after him; and when Caesar is ruined, their will be no Caesar after him. By Him in Whose Hands my life is, you will spend their treasures in Allah's Cause."
ہم سے اسحاق بن راہویہ نے بیان کیا ‘ انہوں نے جریر سے سنا ‘ انہوں نے عبدالملک سے اور ان سے جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب کسریٰ مر جائے گا تو اس کے بعد کوئی کسریٰ پیدا نہ ہو گا اور جب قیصر مر جائے گا تو اس کے بعد کوئی قیصر پیدا نہ ہو گا اور اس ذات کی قسم ! جس کے ہاتھ میں میری جان ہے تم لوگ ان دونوں کے خزانے اللہ کے راستے میں خرچ کرو گے ۔
Narrated Jabir bin `Abdullah رضی اللہ عنہما :
Allah's Messenger (ﷺ) said, "Booty has been made legal for me."
ہم سے محمد بن سنان نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے ہشیم نے بیان کیا ‘ کہا ہم کو سیار بن ابی سیار نے خبر دی ‘ کہا ہم سے یزید فقیر نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ
رسول اللہ نے فرمایا ‘ میرے لئے ( مراد امت ہے ) غنیمت کے مال حلال کئے گئے ہیں ۔
Narrated Abu Huraira رضی اللہ عنہ :
Allah's Messenger (ﷺ) said, "Allah guarantees him who strives in His Cause and whose motivation for going out is nothing but Jihad in His Cause and belief in His Word, that He will admit him into Paradise (if martyred) or bring him back to his dwelling place, whence he has come out, with what he gains of reward and booty."
ہم سے اسماعیل بن ابی اویس نے بیان کیا ‘ انہوں نے کہا مجھ سے امام مالک رحمہ اللہ نے بیان کیا ‘ ان سے ابوالزناد نے ‘ ان سے اعرج نے بیان کیا اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ‘ جو اللہ کے راستے میں جہاد کرے ‘ جہاد ہی کی نیت سے نکلے ‘ اللہ کے کلام ( اس کے وعدے ) کو سچ جان کر ‘ تو اللہ اس کا ضامن ہے ۔ یا تو اللہ تعالیٰ اس کو شہید کر کے جنت میں لے جائے گا ‘ یا اس کو ثواب اور غنیمت کا مال دلا کر اس کے گھر لوٹا لائے گا ۔
Narrated Abu Huraira رضی اللہ عنہ :
The Prophet (ﷺ) said, "A prophet amongst the prophets carried out a holy military expedition, so he said to his followers, 'Anyone who has married a woman and wants to consummate the marriage, and has not done so yet, should not accompany me; nor should a man who has built a house but has not completed its roof; nor a man who has sheep or shecamels and is waiting for the birth of their young ones.' So, the prophet carried out the expedition and when he reached that town at the time or nearly at the time of the `Asr prayer, he said to the sun, 'O sun! You are under Allah's Order and I am under Allah's Order O Allah! Stop it (i.e. the sun) from setting.' It was stopped till Allah made him victorious. Then he collected the booty and the fire came to burn it, but it did not burn it. He said (to his men), 'Some of you have stolen something from the booty. So one man from every tribe should give me a pledge of allegiance by shaking hands with me.' (They did so and) the hand of a man got stuck over the hand of their prophet. Then that prophet said (to the man), 'The theft has been committed by your people. So all the persons of your tribe should give me the pledge of allegiance by shaking hands with me.' The hands of two or three men got stuck over the hand of their prophet and he said, "You have committed the theft.' Then they brought a head of gold like the head of a cow and put it there, and the fire came and consumed the booty. The Prophet (ﷺ) added: Then Allah saw our weakness and disability, so he made booty legal for us."
ہم سے محمد بن علاء نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے عبداللہ بن مبارک نے بیان کیا ‘ ان سے معمر نے ‘ ان سے ہمام بن منبہ نے اور ان سے ابو ھریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ
رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ‘ نبی اسرائیل کے پیغمبروں میں سے ایک نبی ( یوشع علیہ السلام ) نے غزوہ کرنے کا ارادہ کیا تو اپنی قوم سے کہا کہ میرے ساتھ کوئی ایسا شخص جس نے ابھی نئی شادی کی ہو اور بیوی کے ساتھ رات بھی نہ گزاری ہو اور وہ رات گزارنا چاہتا ہو اور وہ شخص جس نے گھر بنایا ہو اور ابھی اس کی چھت نہ رکھی ہو اور وہ شخص جس نے حاملہ بکری یا حاملہ اونٹنیاں خریدی ہوں اور اسے ان کے بچے جننے کا انتظار ہو تو ( ایسے لوگوں میں سے کوئی بھی ) ہمارے ساتھ جہاد میں نہ چلے ۔ پھر انہوں نے جہاد کیا ‘ اور جب اس آبادی ( اریحا ) سے قریب ہوئے تو عصر کا وقت ہو گیا یا اس کے قریب وقت ہوا ۔ انہوں نے سورج سے فرمایا کہ تو بھی خدا کا تابع فرمان ہے اور میں بھی اس کا تابع فرمان ہوں ۔ اے اللہ ! ہمارے لئے اسے اپنی جگہ پر روک دے ۔ چنانچہ سورج رک گیا ‘ یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں فتح عنایت فرمائی ۔ پھر انہوں نے اموال غنیمت کو جمع کیا اور آگ اسے جلانے کے لئے آئی لیکن جلا نہ سکی ‘ اس نبی نے فرمایا کہ تم میں سے کسی نے مال غنیمت میں چوری کی ہے ۔ اس لئے ہر قبیلہ کا ایک آدمی آ کر میرے ہاتھ پر بیعت کرے ( جب بیعت کرنے لگے تو ) ایک قبیلہ کے شخص کا ہاتھ ان کے ہاتھ سے چمٹ گیا ۔ انہوں نے فرمایا ‘ کہ چوری تمہارے قبیلہ ہی والوں نے کی ہے ۔ اب تمہارے قبیلے کے سب لوگ آئیں اور بیعت کریں ۔ چنانچہ اس قبیلے کے دو تین آدمیوں کا ہاتھ اس طرح ان کے ہاتھ سے چمٹ گیا ‘ تو آپ نے فرمایا کہ چوری تمہیں لوگوں نے کی ہے ۔ ( آخر چوری مان لی گئی ) اور وہ لوگ گائے کے سر کی طرح سونے کا ایک سر لائے ( جو غنیمت میں سے چرا لیا گیا تھا ) اور اسے مال غنیمت میں رکھ دیا ‘ تب آگ آئی اور اسے جلا گئی ‘ پھر غنیمت اللہ تعالیٰ نے ہمارے لئے جائز قرار دے دی ‘ ہماری کمزوری اور عاجزی کو دیکھا ۔ اسلئے ہمارے واسطے حلال قرار دے دی ۔
Narrated Aslam:
`Umar رضی اللہ عنہ said, "Were it not for those Muslims who have not come to existence yet, I would have distributed (the land of) every town I conquer among the fighters as the Prophet (ﷺ) distributed the land of Khaibar."
ہم سے صدقہ بن فضل نے بیان کیا ‘ کہا ہم کو عبدالرحمن بن مہدی نے خبر دی ‘ انہیں امام مالک نے ‘ انہیں زید بن اسلم نے ‘ انہیں ان کے والد نے کہ
عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا ‘ اگر مسلمانوں کی آنے والی نسلوں کا خیال نہ ہوتا تو جو شہر بھی فتح ہوتا میں اسے فاتحوں میں اسی طرح تقسیم کر دیا کرتا جس طرح نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر کی تقسیم کی تھی ۔
Narrated Abu Musa Al-Ash`ari رضی اللہ عنہ :
A bedouin asked the Prophet, "A man may fight for the sake of booty, and another may fight so that he may be mentioned by the people, and a third may fight to show his position (i.e. bravery); which of these regarded as fighting in Allah's Cause?" The Prophet (ﷺ) said, "He who fights so that Allah's Word (i.e. Islam) should be superior, fights for Allah's Cause."
ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے غندر نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے شعبہ نے ‘ ان سے عمرو بن مرہ نے بیان کیا ‘ انہوں نے ابووائل سے سنا ‘ انہوں نے بیان کیا کہ ہم سے ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ
ایک اعرابی ( لاحق بن ضمیرہ باہلی ) نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا ایک شخص ہے جو غنیمت حاصل کرنے کے لئے جہاد میں شریک ہوا ‘ ایک شخص ہے جو اس لئے شرکت کرتا ہے کہ اس کی بہادری کے چرچے زبانوں پر آ جائیں ‘ ایک شخص اس لئے لڑتا ہے کہ اس کی دھاک بیٹھ جائے ‘ تو ان میں سے اللہ کے راستے میں کون سا ہو گا ؟ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ‘ کہ جو شخص جنگ میں شرکت اس لئے کرے تاکہ اللہ کا کلمہ ( دین ) ہی بلند رہے ۔ فقط وہی اللہ کے راستے میں ہے ۔
Narrated `Abdullah bin Abu Mulaika:
Some silken cloaks with golden buttons were presented to the Prophet. He distributed them amongst his companions and kept one for Makhrama bin Naufal رضی اللہ عنہ . Later on Makhrama رضی اللہ عنہ came along with his son Al-Miswar bin Makhrama رضی اللہ عنہ , and stood up at the gate and said (to his son). "Call him (i.e. the Prophet) to me." The Prophet (ﷺ) heard his voice, took a silken cloak and brought it to him, placing those golden buttons in front of him saying, "O Abu-al-Miswar! I have kept this aside for you! O Abu-al Miswar رضی اللہ عنہ! I have kept this aside for you!" Makhrama رضی اللہ عنہ was a bad-tempered man. Hadrat Miswer bin Mukhramah reports that those robes were presented to the prophet (ﷺ). Laith also corroborated him from Ibn-e-Abi Molaikah.
ہم سے عبداللہ بن عبدالوہاب نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے حماد بن زید نے بیان کیا ‘ ان سے ایوب سختیانی نے اور ان سے عبداللہ بن ابی ملیکہ نے کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں دیبا کی کچھ قبائیں تحفہ کے طور پر آئی تھیں ۔ جن میں سونے کی گھنڈیاں لگی ہوئی تھیں ‘ انہیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے چند اصحاب میں تقسیم فرما دیا اور ایک قباء مخرمہ بن نوفل رضی اللہ عنہ کے لئے رکھ لی ۔ پھر مخرمہ رضی اللہ عنہ آئے اور ان کے ساتھ ان کے صاحبزادے مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ بھی تھے ۔ آپ دروازے پر کھڑے ہو گئے اور کہا کہ میرا نام لے کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بلا لا ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی آواز سنی تو قباء لے کر باہر تشریف لائے اور اس کی گھنڈیاں ان کے سامنے کر دیں ۔ پھر فرمایا ابو مسور ! یہ قباء میں نے تمہارے لئے چھپا کر رکھ لی تھی ۔ مخرمہ رضی اللہ عنہ ذرا تیز طبیعت کے آدمی تھے ۔ ابن علیہ نے ایوب کے واسطے سے یہ حدیث ( مرسلاً ہی ) روایت کی ہے ۔ اور حاتم بن وردان نے بیان کیا کہ ہم سے ایوب نے بیان کیا ‘ ان سے ابن ابی ملیکہ نے ان سے مسور رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے یہاں کچھ قبائیں آئیں تھیں ‘ اس روایت کی متابعت لیث نے ابن ابی ملیکہ سے کی ہے ۔
Narrated Anas bin Malik رضی اللہ عنہ :
People used to give some of their datepalms to the Prophet (as a gift), till he conquered Bani Quraiza and Bani An-Nadir, whereupon he started returning their favors.
ہم سے عبداللہ بن ابی الاسود نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے معتمر نے بیان کیا ‘ ان سے ان کے باپ سلیمان نے ‘ انہوں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے سنا ‘ انہوں نے بیان کیا کہ
صحابہ ( انصار ) کچھ کھجور کے درخت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بطور تحفہ دے دیا کرتے تھے لیکن جب اللہ تعالیٰ نے بنوقریظہ اور بنو نضیر کے قبائل پر فتح دی تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بعد اس طرح کے ہدیا واپس فرما دیا کرتے تھے ۔
Narrated `Abdullah bin Az-Zubair رضی اللہ عنہما :
When Az-Zubair رضی اللہ عنہ got up during the battle of Al-Jamal, he called me and I stood up beside him, and he said to me, "O my son! Today one will be killed either as an oppressor or as an oppressed one. I see that I will be killed as an oppressed one. My biggest worry is my debts. Do you think, if we pay the debts, there will be something left for us from our money?" Az-Zubair رضی اللہ عنہ added, "O my son! Sell our property and pay my debts." Az-Zubair رضی اللہ عنہ then willed one-third of his property and willed one-third of that portion to his sons; namely, `Abdullah's sons. He said, "One-third of the one third. If any property is left after the payment of the debts, one-third (of the one-third of what is left) is to be given to your sons." (Hisham, a sub-narrator added, "Some of the sons of `Abdullah were equal in age to the sons of Az-Zubair رضی اللہ عنہ e.g. Khubaib and `Abbas. `Abdullah رضی اللہ عنہ had nine sons and nine daughters at that time." (The narrator `Abdullah added:) My father (Az-Zubair رضی اللہ عنہ) went on drawing my attention to his debts saying, "If you should fail to pay part of the debts, appeal to my Master to help you." By Allah! I could not understand what he meant till I asked, "O father! Who is your Master?" He replied, "Allah (is my Master)." By Allah, whenever I had any difficulty regarding his debts, I would say, "Master of Az-Zubair! Pay his debts on his behalf ." and Allah would (help me to) pay it. Az-Zubair رضی اللہ عنہ was martyred leaving no Dinar or Dirham but two pieces of land, one of which was (called) Al-Ghaba, and eleven houses in Medina, two in Basra, one in Kufa and one in Egypt. In fact, the source of the debt which he owed was, that if somebody brought some money to deposit with him. Az-Zubair رضی اللہ عنہ would say, "No, (i won't keep it as a trust), but I take it as a debt, for I am afraid it might be lost." Az-Zubair رضی اللہ عنہ was never appointed governor or collector of the tax of Kharaj or any other similar thing, but he collected his wealth (from the war booty he gained) during the holy battles he took part in, in the company of the Prophet, Abu Bakr, `Umar, and `Uthman رضی اللہ عنہما . (`Abdullah bin Az-Zubair added:) When I counted his debt, it turned to be two million and two hundred thousand. (The sub-narrator added:) Hakim bin Hizam رضی اللہ عنہ met `Abdullah bin Zubair and asked, "O my nephew! How much is the debt of my brother?" `Abdullah رضی اللہ عنہا kept it as a secret and said, "One hundred thousand," Hakim said, "By Allah! I don't think your property will cover it." On that `Abdullah said to him, "What if it is two million and two hundred thousand?" Hakim said, "I don't think you can pay it; so if you are unable to pay all of it, I will help you." Az- Zubair had already bought Al-Ghaba for one hundred and seventy thousand. `Abdullah sold it for one million and six hundred thousand. Then he called the people saying, "Any person who has any money claim on Az-Zubair should come to us in Al-Ghaba." There came to him `Abdullah bin Ja`far whom Az-Zubair owed four hundred thousand. He said to `Abdullah bin Az-Zubair, "If you wish I will forgive you the debt." `Abdullah (bin Az-Zubair) said, "No." Then Ibn Ja`far said, "If you wish you can defer the payment if you should defer the payment of any debt." Ibn Az-Zubair رضی اللہ عنہ said, "No." `Abdullah bin Ja`far said, "Give me a piece of the land." `Abdullah bin Az-Zubair رضی اللہ عنہ said (to him), "Yours is the land extending from this place to this place." So, `Abdullah bin Az-Zubair رضی اللہ عنہ sold some of the property (including the houses) and paid his debt perfectly, retaining four and a half shares from the land (i.e. Al-Ghaba). He then went to Mu'awlya while `Amr bin `Uthman, Al-Mundhir bin Az- Zubair and Ibn Zam`a were sitting with him. Mu'awiya رضی اللہ عنہ asked, "At what price have you appraised Al- Ghaba?" He said, "One hundred thousand for each share," Muawiya رضی اللہ عنہ asked, "How many shares have been left?" `Abdullah replied, "Four and a half shares." Al-Mundhir bin Az-Zubair رضی اللہ عنہ said, "I would like to buy one share for one hundred thousand." `Amr bin `Uthman said, "I would like to buy one share for one hundred thousand." Ibn Zam`a said, "I would like to buy one share for one hundred thousand." Muawiya رضی اللہ عنہ said, "How much is left now?" `Abdullah replied, "One share and a half." Muawiya رضی اللہ عنہ said, "I would like to buy it for one hundred and fifty thousand." `Abdullah also sold his part to Muawiya رضی اللہ عنہ six hundred thousand. When Ibn Az-Zubair رضی اللہ عنہ had paid all the debts. Az-Zubair's sons said to him, "Distribute our inheritance among us." He said, "No, by Allah, I will not distribute it among you till I announce in four successive Hajj seasons, 'Would those who have money claims on Az-Zubair رضی اللہ عنہ come so that we may pay them their debt." So, he started to announce that in public in every Hajj season, and when four years had elapsed, he distributed the inheritance among the inheritors. Az-Zubair رضی اللہ عنہ had four wives, and after the one-third of his property was excluded (according to the will), each of his wives received one million and two hundred thousand. So the total amount of his property was fifty million and two hundred thousand.
ہم سے اسحاق بن ابراہیم نے بیان کیا ‘ کہا کہ میں نے ابواسامہ سے پوچھا ‘ کیا آپ لوگوں سے ہشام بن عروہ نے یہ حدیث اپنے والد سے بیان کی ہے کہ ان سے عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما نے کہا کہ
جمل کی جنگ کے موقع پر جب زبیر رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے تو مجھے بلایا میں ان کے پہلو میں جا کر کھڑا ہو گیا ‘ انہوں نے کہا بیٹے ! آج کی لڑائی میں ظالم مارا جائے گا یا مظلوم میں سمجھتا ہوں کہ آج میں مظلوم قتل کیا جاؤں گا اور مجھے سب سے زیادہ فکر اپنے قرضوں کی ہے ۔ کیا تمہیں بھی کچھ اندازہ ہے کہ قرض ادا کرنے کے بعد ہمارا کچھ مال بچ سکے گا ؟ پھر انہوں نے کہا بیٹے ! ہمارا مال فروخت کر کے اس سے قرض ادا کر دینا ۔ اس کے بعد انہوں نے ایک تہائی کی میرے لئے اور اس تہائی کے تیسرے حصہ کی وصیت میرے بچوں کے لئے کی ‘ یعنی عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کے بچوں کے لئے ۔ انہوں نے فرمایا تھا کہ اس تہائی کے تین حصے کر لینا اور اگر قرض کی ادائیگی کے بعد ہمارے اموال میں سے کچھ بچ جائے تو اس کا ایک تہائی تمہارے بچوں کے لئے ہو گا ۔ ہشام راوی نے بیان کیا کہ عبداللہ رضی اللہ عنہ کے بعض لڑکے زبیر رضی اللہ عنہ کے لڑکوں کے ہم عمر تھے ۔ جیسے خبیب اور عباد ۔ اور زبیر رضی اللہ عنہ کے اس وقت نو لڑکے اور نو لڑکیاں تھیں ۔ عبداللہ بن زبیر نے بیان کیا کہ پھر زبیر رضی اللہ عنہ مجھے اپنے قرض کے سلسلے میں وصیت کرنے لگے اور فرمانے لگے کہ بیٹا ! اگر قرض ادا کرنے سے عاجز ہو جاؤ تو میرے مالک و مولا سے اس میں مدد چاہنا ۔ عبداللہ نے بیان کیا کہ قسم اللہ کی ! میں ان کی بات نہ سمجھ سکا ‘ میں نے پوچھا کہ بابا آپ کے مولا کون ہیں ؟ انہوں نے فرمایا کہ اللہ پاک ! عبداللہ نے بیان کیا ‘ قسم اللہ کی ! قرض ادا کرنے میں جو بھی دشواری سامنے آئی تو میں نے اسی طرح دعا کی ‘ کہ اے زبیر کے مولا ! ان کی طرف سے ان کا قرض ادا کرا دے اور ادائیگی کی صورت پیدا ہو جاتی تھی ۔ چنانچہ جب زبیر رضی اللہ عنہ ( اسی موقع پر ) شہید ہو گئے تو انہوں نے ترکہ میں درہم و دینار نہیں چھوڑے بلکہ ان کا ترکہ کچھ تو آراضی کی صورت میں تھا اور اسی میں غابہ کی زمین بھی شامل تھی ۔ گیارہ مکانات مدینہ میں تھے ‘ دو مکان بصرہ میں تھے ‘ ایک مکان کوفہ میں تھا اور ایک مصر میں تھا ۔ عبداللہ نے بیان کیا کہ ان پر جو اتنا سارا قرض ہو گیا تھا اس کی صورت یہ ہوئی تھی کہ جب ان کے پاس کوئی شخص اپنا مال لے کر امانت رکھنے آتا تو آپ اسے کہتے کہ نہیں البتہ اس صورت میں رکھ سکتا ہوں کہ یہ میرے ذمے بطور قرض رہے ۔ کیونکہ مجھے اس کے ضائع ہو جانے کا بھی خوف ہے ۔ حضرت زبیر رضی اللہ عنہ کسی علاقے کے امیر کبھی نہیں بنے تھے ۔ نہ وہ خراج وصول کرنے پر کبھی مقرر ہوئے اور نہ کوئی دوسرا عہدہ انہوں نے قبول کیا ‘ البتہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اور ابوبکر عمر اور عثمان رضی اللہ عنہما کے ساتھ جہادوں میں شرکت کی تھی ۔ عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما نے کہا کہ جب میں نے اس رقم کا حساب کیا جو ان پر قرض تھی تو اس کی تعداد بائیس لاکھ تھی ۔ بیان کیا کہ پھر حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما سے ملے تو دریافت فرمایا ‘ بیٹے ! میرے ( دینی ) بھائی پر کتنا قرض رہ گیا ہے ؟ عبداللہ رضی اللہ عنہ نے چھپانا چاہا اور کہہ دیا کہ ایک لاکھ ‘ اس پر حکیم رضی اللہ عنہ نے کہا قسم اللہ کی ! میں تو نہیں سمجھتاکہ تمہارے پاس موجود سرمایہ سے یہ قرض ادا ہو سکے گا ۔ عبداللہ نے اب کہا ‘ کہ قرض کی تعداد بائیس لاکھ ہوئی پھر آپ کی کیا رائے ہو گی ؟ انہوں نے فرمایا پھر تو یہ قرض تمہاری برداشت سے بھی باہر ہے ۔ خیر اگر کوئی دشواری پیش آئے تو مجھ سے کہنا ‘ عبداللہ نے بیان کیا کہ حضرت زبیر رضی اللہ عنہ نے غابہ کی جائیداد ایک لاکھ ستر ہزار میں خریدی تھی لیکن عبداللہ نے وہ سولہ لاکھ میں بیچی ۔ پھر انہوں نے اعلان کیا کہ حضرت زبیر رضی اللہ عنہ پر جس کا قرض ہو وہ غابہ میں آ کر ہم سے مل لے ‘ چنانچہ عبداللہ بن جعفر بن ابی طالب رضی اللہ عنہ آئے ‘ ان کا زبیر پرچار لاکھ روپیہ تھا ۔ انہوں نے تو یہی پیش کش کی کہ اگر تم چاہو تو میں یہ قرض چھوڑ سکتا ہوں ‘ لیکن عبداللہ نے کہا کہ نہیں پھر انہوں نے کہا کہ اگر تم چاہو تو میں سارے قرض کی ادائیگی کے بعد لے لوں گا ۔ عبداللہ رضی اللہ عنہ نے اس پر بھی یہی کہا کہ تاخیر کی بھی کوئی ضرورت نہیں ۔ آخر انہوں نے کہا کہ پھر اس زمین میں میرے حصے کا قطعہ مقرر کر دو ۔ عبداللہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ آپ اپنے قرض میں یہاں سے یہاں تک لے لیجئے ۔ ( راوی نے ) بیان کیا کہ زبیر رضی اللہ عنہ کی جائیداد اور مکانات وغیرہ بیچ کر ان کا قرض ادا کر دیا گیا ۔ اور سارے قرض کی ادائیگی ہو گئی ۔ غابہ کی جائیداد میں ساڑھے چار حصے ابھی بک نہیں سکے تھے ۔ اس لئے عبداللہ رضی اللہ عنہ معاویہ کے یہاں ( شام ) تشریف لے گئے ‘ وہاں عمرو بن عثمان ‘ منزر بن زبیر اور ابن زمعہ بھی موجود تھے ۔ معاویہ رضی اللہ عنہ نے ان سے دریافت کیا کہ غابہ کی جائیداد کی قیمت کتنی طے ہوئی ‘ انہوں نے بتایا کہ ہر حصے کی قیمت ایک لاکھ طے پائی تھی ۔ معاویہ رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا کہ اب باقی کتنے حصے رہ گئے ہیں ؟ انہوں نے بتایا کہ ساڑھے چار حصے ‘ اس پر منذر بن زبیر نے کہا کہ ایک حصہ ایک لاکھ میں لے لیتا ہوں ‘ عمرو عثمان نے کہا کہ ایک حصہ ایک لاکھ میں لے لیتا ہوں ‘ ابن زمعہ نے کہا کہ ایک حصہ ایک لاکھ میں لے لیتا ہوں ‘ اس کے بعد معاویہ رضی اللہ عنہ نے پوچھا کہ اب کتنے حصے باقی بچے ہیں ؟ انہوں نے کہا کہ ڈیڑھ حصہ ! معاویہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ پھر اسے میں ڈیڑھ لاکھ میں لے لیتا ہوں ‘ بیان کیا کہ عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہ نے اپنا حصہ بعد میں معاویہ رضی اللہ عنہ کو چھ لاکھ میں بیچ دیا ۔ پھر جب عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما قرض کی ادائیگی کر چکے تو زبیر رضی اللہ عنہ کی اولاد نے کہا کہ اب ہماری میراث تقسیم کر دیجئیے ‘ لیکن عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ ابھی تمہاری میراث اس وقت تک تقسیم نہیں کر سکتا ‘ جب تک چار سال تک ایام حج میں اعلان نہ کرا لوں کہ جس شخص کا بھی زبیر رضی اللہ عنہ پر قرض ہو وہ ہمارے پاس آئے اور اپنا قرض لے جائے ‘ راوی نے بیان کیا کہ عبداللہ رضی اللہ عنہ نے اب ہر سال ایام حج میں اس کا اعلان کرانا شروع کیا اور جب چار سال گزر گئے ‘ تو عبداللہ نے ان کی میراث تقسیم کی ‘ راوی نے بیان کیا کہ زبیر رضی اللہ عنہ کی چار بیویاں تھیں اور عبداللہ نے ( وصیت کے مطابق ) تہائی حصہ بچی ہوئی رقم میں سے نکال لیا تھا ‘ پھر بھی ہر بیوی کے حصے میں بارہ بارہ لاکھ کی رقم آئی ‘ اور کل جائیداد حضرت زبیر رضی اللہ عنہ کی پانچ کروڑ دو لاکھ ہوئی ۔
Narrated Ibn `Umar رضی اللہ عنہما :
`Uthman رضی اللہ عنہ did not join the Badr battle because he was married to one of the daughters of Allah's Apostle and she was ill. So, the Prophet (ﷺ) said to him. "You will get a reward and a share (from the war booty) similar to the reward and the share of one who has taken part in the Badr battle."
ہم سے موسیٰ بن اسمعٰیل نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے ابو عوانہ نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے عثمان بن موہب رضی اللہ عنہ نے بیان کیا ‘ اور ان سے ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ
حضرت عثمان رضی اللہ عنہ بدر کی لڑائی میں شریک نہ ہو سکے تھے ۔ ان کے نکاح میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک صاحبزادی تھیں اور وہ بیمار تھیں ۔ ان سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تمہیں بھی اتنا ہی ثواب ملے گا جتنا بدر میں شریک ہونے والے کسی شخص کو ‘ اور اتنا ہی حصہ بھی ملے گا ۔
Narrated Marwan bin Al-Hakim and Miswar bin Makhrama رضی اللہ عنہ :
When the Hawazin delegation came to Allah's Messenger (ﷺ) after they had embraced Islam and requested him to return their properties and war prisoners to them, Allah's Messenger (ﷺ) said, "To me the best talk is the truest, so you may choose either of two things; the war prisoners or the wealth, for I have delayed their distribution." Allah's Messenger (ﷺ) had waited for them for over ten days when he returned from Ta'if. So, when those people came to know that Allah's Messenger (ﷺ) was not going to return to them except one of the two things the said, "We choose our war Prisoners 'Allah's Messenger (ﷺ) stood up amongst the Muslims, and after glorifying Allah as He deserved, he said, "Now then, these brothers of yours have come to us with repentance, and I see it logical that I should return their captives to them, so whoever of you likes to do that as a favor then he can do it, and whoever amongst you likes to stick to his share, let him give up his prisoners and we will compensate him from the very first Fai' (i.e. war booty received without fight) which Allah will give us." On that, all the people said. 'O Allah's Messenger (ﷺ)s We have agreed willingly to do so (return the captives)" Then Allah's Messenger (ﷺ) said to them "I do not know who amongst you has agreed to this and who has not. You should return and let your leaders inform me of your agreement." The people returned and their leaders spoke to them, and then came to Allah's Apostle and said, "All the people have agreed willingly to do so and have given the permission to return the war prisoners (without Compensation)" (Az-Zuhri, the sub-narrator states) This is what has been related to us about the captives of Hawazin.
ہم سے سعید بن عفیر نے بیان کیا ‘ کہا کہ مجھ سے لیث نے بیان کیا ‘ کہا کہ مجھ سے عقیل نے بیان کیا ‘ ان سے ابن شہاب نے بیان کیا کہ عروہ کہتے تھے کہ مروان بن حکم اور مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ نے انہیں خبر دی کہ
جب ہوازن کا وفد رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور اپنے مالوں اور قیدیوں کی واپسی کا سوال کیا ‘ تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ‘ کہ سچی بات مجھے سب سے زیادہ پسند ہے ۔ ان دونوں چیزوں میں سے تم ایک ہی واپس لے سکتے ہو ۔ اپنے قیدی واپس لے لو یا پھر مال لے لو ‘ اور میں نے تمہارا انتظار بھی کیا ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے تقریباً دس دن تک طائف سے واپسی پر ان کا انتظار کیا اور جب یہ بات ان پر واضح ہو گئی کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ان کی صرف ایک ہی چیز ( قیدی یا مال ) واپس کر سکتے ہیں تو انہوں نے کہا کہ ہم اپنے قیدی ہی واپس لینا چاہتے ہیں ۔ اب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں کو خطاب فرمایا ‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ کی شان کے مطابق حمد و ثنا کرنے کے بعد فرمایا ‘ امابعد ! تمہارے یہ بھائی اب ہمارے پاس توبہ کر کے آئے ہیں اور میں مناسب سمجھتا ہوں کہ ان کے قیدی انہیں واپس کر دیئے جائیں ۔ اسی لئے جو شخص اپنی خوشی سے غنیمت کے اپنے حصے کے ( قیدی ) واپس کرنا چاہے وہ کر دے اور جو شخص چاہتا ہو کہ اس کا حصہ باقی رہے اور ہمیں جب اس کے بعد سب سے پہلی غنیمت ملے تو اس میں سے اس کے حصے کی ادائیگی کر دی جائے تو وہ بھی اپنے قیدی واپس کر دے ‘ ( اور جب ہمیں دوسرے غنیمت ملے گی تو اس کا حصہ ادا کر دیا جائے گا ) اس پر صحابہ کرام رضی اللہ عنہ نے کہا کہ یا رسول اللہ ! ہم اپنی خوشی سے انہیں اپنے حصے واپس کر دیتے ہیں ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا لیکن ہمیں یہ معلوم نہ ہو سکا کہ کن لوگوں نے اپنی خوشی سے اجازت دی اور کن لوگوں نے نہیں دی ہے ۔ اس لئے سب لوگ ( اپنے خیموں میں ) واپس چلے جائیں اور تمہارے سردار لوگ تمہاری بات ہمارے سامنے آ کر بیان کریں ۔ سب لوگ واپس چلے گئے اور ان کے سرداروں نے اس مسئلہ پر گفتگو کی اور پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو آ کر خبر دی کہ سب لوگ خوشی سے اجازت دیتے ہیں ۔ یہی وہ خبر ہے جو ہوازن کے قیدیوں کے سلسلے میں ہمیں معلوم ہوئی ہے ۔