Narrated Zahdam:
Once we were in the house of Abu Musa رضی اللہ عنہ who presented a meal containing cooked chicken. A man from the tribe of Bani Taim Allah with red complexion as if he were from the Byzantine war prisoners, was present. Abu Musa رضی اللہ عنہ invited him to share the meal but he (apologised) saying. "I saw chickens eating dirty things and so I have had a strong aversion to eating them, and have taken an oath that I will not eat chickens." Abu Musa رضی اللہ عنہ said, "Come along, I will tell you about this matter (i.e. how to cancel one's oath). I went to the Prophet (ﷺ) in the company of a group of Al-Ashariyin, asked him to provide us with means of conveyance. He said, 'By Allah, I will not provide you with any means of conveyance and I have nothing to make you ride on.' Then some camels as booty were brought to Allah's Messenger (ﷺ) and he asked for us saying. 'Where are the group of Al-Ash`ariyun?' Then he ordered that we should be given five camels with white humps. When we set out we said, 'What have we done? We will never be blessed (with what we have been given).' So, we returned to the Prophet (ﷺ) and said, 'We asked you to provide us with means of conveyance, but you took an oath that you would not provide us with any means of conveyance. Did you forget (your oath when you gave us the camels)? He replied. 'I have not provided you with means of conveyance, but Allah has provided you with it, and by Allah, Allah willing, if ever I take an oath to do something, and later on I find that it is more beneficial to do something different, I will do the thing which is better, and give expiation for my oath."
ہم سے عبداللہ بن عبدالوہاب نے کہا کہ ہم سے حماد نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے ایوب نے بیان کیا ‘ ان سے ابوقلابہ نے بیان کیا اور ( ایوب نے ایک دوسری سند کے ساتھ اس طرح روایت کی ہے کہ ) مجھ سے قاسم بن عاصم کلیبی نے بیان کیا اور کہا کہ قاسم کی حدیث ( ابوقلابہ کی حدیث کی بہ نسبت ) مجھے زیادہ اچھی طرح یاد ہے ‘ زہدم سے ‘ انہوں نے بیان کیا کہ
ہم ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کی مجلس میں حاضر تھے ( کھانا لایا گیا اور ) وہاں مرغی کا ذکر ہونے لگا ۔ بنی تمیم اللہ کے ایک آدمی سرخ رنگ والے وہاں موجود تھے ۔ غالباً موالی میں سے تھے ۔ انہیں بھی ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے کھانے پر بلایا ‘ وہ کہنے لگے کہ میں نے مرغی کو گندی چیزیں کھاتے ایک مرتبہ دیکھا تھا تو مجھے بڑی نفرت ہوئی اور میں نے قسم کھا لی کہ اب کبھی مرغی کا گوشت نہ کھاؤں گا ۔ حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ قریب آ جاؤ ( تمہاری قسم پر ) میں تم سے ایک حدیث اسی سلسلے کی بیان کرتا ہوں ‘ قبیلہ اشعر کے چند لوگوں کو ساتھ لے کر میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ( غزوہ تبوک کے لئے ) حاضر ہوا اور سواری کی درخواست کی ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ‘ اللہ کی قسم ! میں تمہارے لئے سواری کا انتظام نہیں کر سکتا ‘ کیونکہ میرے پاس کوئی ایسی چیز نہیں ہے جو تمہاری سواری کے کام آ سکے ‘ پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں غنیمت کے کچھ اونٹ آئے ‘ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارے متعلق دریافت فرمایا ‘ اور فرمایا کہ قبیلہ اشعر کے لوگ کہاں ہیں ؟ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پانچ اونٹ ہمیں دیئے جانے کا حکم صادر فرمایا ‘ خوب موٹے تازے اور فربہ ۔ جب ہم چلنے لگے تو ہم نے آپس میں کہا کہ جو نامناسب طریقہ ہم نے اختیار کیا اس سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اس عطیہ میں ہمارے لئے کوئی برکت نہیں ہو سکتی ۔ چنانچہ ہم پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ ہم نے پہلے جب آپ سے درخواست کی تھی تو آپ نے قسم کھا کر فرمایا تھا کہ میں تمہاری سواری کا انتظام نہیں کر سکوں گا ۔ شاید آپ حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو وہ قسم یاد نہ رہی ہو ‘ لیکن آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں نے تمہاری سواری کا انتظام واقعی نہیں کیا ‘ وہ اللہ تعالیٰ ہے جس نے تمہیں یہ سواریاں دے دی ہیں ۔ اللہ کی قسم ! تم اس پر یقین رکھو کہ انشاءاللہ جب بھی میں کوئی قسم کھاؤں ‘ پھر مجھ پر یہ بات ظاہر ہو جائے کہ بہتر اور مناسب طرز عمل اس کے سوا میں ہے تو میں وہی کروں گا جس میں اچھائی ہو گی اور قسم کا کفارہ دے دوں گا ۔
Narrated Nafi` from Ibn `Umar رضی اللہ عنہما :
Allah's Messenger (ﷺ) sent a Sariya towards Najd, and `Abdullah bin `Umar رضی اللہ عنہما was in the Sariya. They gained a great number of camels as war booty. The share of each one of them was twelve or eleven camels, and they were given an extra camel each.
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا ‘ کہا ہم کو امام مالک نے خبر دی ‘ انہیں نافع نے اور انہیں ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نجد کی طرف ایک لشکر روانہ کیا ۔ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بھی لشکر کے ساتھ تھے ۔ غنیمت کے طور پر اونٹوں کی ایک بڑی تعداد اس لشکر کو ملی ۔ اس لئے اس کے ہر سپاہی کو حصہ میں بھی بارہ بارہ گیارہ گیارہ اونٹ ملے تھے اور ایک ایک اونٹ اور انعام میں ملا ۔
Narrated Ibn `Umar رضی اللہ عنہما :
Allah's Messenger (ﷺ) used to give extra share to some of the members of the Sariya he used to send, in addition to the shares they shared with the army in general.
ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا ‘ انہوں نے کہا ہم کو لیث نے خبر دی ‘ انہیں عقیل نے ‘ انہیں ابن شہاب نے ‘ انہیں سالم نے اور انہیں عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بعض مہموں کے موقع پر اس میں شریک ہونے والوں کو غنیمت کے عام حصوں کے علاوہ ( خمس وغیرہ میں سے ) اپنے طور پر بھی دیا کرتے تھے ۔
Narrated Abu Musa رضی اللہ عنہ :
We got the news of the migration of the Prophet (ﷺ) while we were in Yemen, so we set out migrating to him. We were, I and my two brothers, I being the youngest, and one of my brothers was Abu Burda رضی اللہ عنہ and the other was Abu Ruhm. We were over fifty (or fifty-three or fifty two) men from our people. We got on board a ship which took us to An-Najashi in Ethiopia, and there we found Ja`far bin Abu Talib رضی اللہ عنہ and his companions with An-Najaishi. Ja`far said (to us), "Allah's Messenger (ﷺ) has sent us here and ordered us to stay here, so you too, stay with us." We stayed with him till we all left (Ethiopia) and met the Prophet (ﷺ) at the time when he had conquered Khaibar. He gave us a share from its booty (or gave us from its booty). He gave only to those who had taken part in the Ghazwa with him. but he did not give any share to any person who had not participated in Khaibar's conquest except the people of our ship, besides Ja`far and his companions, whom he gave a share as he did them (i.e. the people of the ship).
ہم سے محمد بن علاء نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے ابواسامہ نے بیان کیا ‘ ان سے برید بن عبداللہ نے بیان کیا ‘ ان سے ابوبردہ نے اور ان سے ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجرت کی خبر ہمیں ملی ‘ تو ہم یمن میں تھے ۔ اس لئے ہم بھی آپ کی خدمت میں مہاجر کی حیثیت سے حاضر ہونے کے لئے روانہ ہوئے ۔ میں تھا ‘ میرے بھائی تھے ۔ ( میری عمر ان دونوں سے کم تھی ‘ دونوں بھائیوں میں ) ایک ابوبردہ رضی اللہ عنہ تھے اور دوسرے ابو رہم ۔ یا انہوں نے یہ کہا کہ اپنی قوم کے چند افراد کے ساتھ یا یہ کہا تریپن یا باون آدمیوں کے ساتھ ( یہ لوگ روانہ ہوئے تھے ) ہم کشتی میں سوار ہوئے تو ہماری کشتی نجاشی کے ملک حبشہ پہنچ گئی اور وہاں ہمیں جعفر بن ابی طالب رضی اللہ عنہ اپنے دوسرے ساتھیوں کے سا تھ ملے ۔ جعفر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں یہاں بھیجا تھا اور حکم دیا تھا کہ ہم یہیں رہیں ۔ چنانچہ ہم بھی وہیں ٹھہر گئے ۔ اور پھر سب ایک ساتھ ( مدینہ ) حاضر ہوئے ‘ جب ہم خدمت نبوی میں پہنچے ‘ تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم خیبر فتح کر چکے تھے ۔ لیکن آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ( دوسرے مجاہدوں کے ساتھ ) ہمارا بھی حصہ مال غنیمت میں لگایا ۔ یا انہوں نے یہ کہا کہ آپ نے غنیمت میں سے ہمیں بھی عطا فرمایا ‘ حالانکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی ایسے شخص کا غنیمت میں حصہ نہیں لگایا جو لڑائی میں شریک نہ رہا ہو ۔ صرف انہی لوگوں کو حصہ ملا تھا ‘ جو لڑائی میں شریک تھے ۔ البتہ ہمارے کشتی کے ساتھیوں اور جعفر اور ان کے ساتھیوں کو بھی آپ نے غنیمت میں شریک کیا تھا ۔ ( حالانکہ ہم لوگ لڑائی میں شریک نہیں ہوئے تھے ) ۔
Narrated Jabir رضی اللہ عنہ :
Allah's Messenger (ﷺ) said (to me), "If the property of Bahrain had come to us, I would have given you so much and so much." But the Bahrain property did not come till the Prophet (ﷺ) had died. When the Bahrain property came. Abu Bakr رضی اللہ عنہ ordered somebody to announce, "Any person who has money claim on Allah's Messenger (ﷺ) or whom Allah's Messenger (ﷺ) had promised something, should come to us." So, I went to him and said, "Allah's Messenger (ﷺ) had promised to give me so much an so much." Abu Bakr رضی اللہ عنہ scooped up money with both hands thrice for me." (The sub-narrator Sufyan illustrated this action by scooping up with both hands and said, "Ibn Munkadir, another sub-narrator, used to illustrate it in this way.") Narrated Jabir رضی اللہ عنہ : Once I went to Abu Bakr رضی اللہ عنہ and asked for the money but he did not give me, and I went to him again, but he did not give me, so I went to him for the third time and said, "I asked you, but you did not give me; then I asked you (for the second time) and you did not give me; then I asked you (for the third time) but you did not give me. You should either give me or allow yourself to be considered a miser regarding my case." Abu Bakr رضی اللہ عنہ said, "You tell me that I am a miser with regard to you. But really, whenever I rejected your request, I had the inclination to give you." (In another narration Jabir added:) So, Abu Bakr رضی اللہ عنہ scooped up money with both hands for me and asked me to count it. I found out that It was five hundred. Abu Bakr رضی اللہ عنہ told me to take twice that amount. Ibn-e-Munkadir says: Which disease is more perilous than niggardliness?
ہم سے علی بن عبداللہ مدینی نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے ‘ کہا ہم سے محمد بن منکدر نے ‘ اور انہوں نے جابر رضی اللہ عنہ سے سنا ‘ آپ نے بیان کیا کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ جب بحرین سے وصول ہو کر میرے پاس مال آئے گا تو میں تمہیں اس طرح اس طرح ‘ اس طرح ( تین لپ ) دوں گا اس کے بعد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہو گئی اور بحرین کا مال اس وقت تک نہ آیا ۔ پھر جب وہاں سے مال آیا تو ابوبکر رضی اللہ عنہ کے حکم سے منادی نے اعلان کیا کہ جس کا بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر کوئی قرض ہو یا آپ کا کوئی وعدہ ہو تو ہمارے پاس آئے ۔ میں ابوبکر رضی اللہ عنہ کی خدمت میں گیا اور عرض کیا کہ مجھ سے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا تھا ۔ چنانچہ انہوں نے تین لپ بھر کر مجھے دیا ۔ سفیان بن عیینہ نے اپنے دونوں ہاتھوں سے اشارہ کر کے ( لپ بھرنے کی ) کیفیت بتائی پھر ہم سے سفیان نے بیان کیا کہ ابن منکدر نے بھی ہم سے اسی طرح بیان کیا تھا ۔ اور ایک مرتبہ سفیان نے ( سابقہ سند کے ساتھ ) بیان کیا کہ جابر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں ابوبکر رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا تو انہوں نے مجھے کچھ نہیں دیا ۔ پھر میں حاضر ہوا ‘ اور اس مرتبہ بھی مجھے انہوں نے کچھ نہیں دیا ۔ پھر میں تیسری مرتبہ حاضر ہوا اور عرض کیا کہ میں نے ایک مرتبہ آپ سے مانگا اور آپ نے عنایت نہیں فرمایا ۔ دوبارہ مانگا ‘ پھر بھی آپ نے عنایت نہیں فرمایا اور پھر مانگا لیکن آپ نے عنایت نہیں فرمایا ۔ اب یا آپ مجھے دیجئیے یا پھر میرے بارے میں بخل سے کام لیجئے ، حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ تم کہتے ہو کہ میرے معاملے میں بخل سے کام لیتا ہے ۔ حالانکہ تمہیں دینے سے جب بھی میں نے منہ پھیرا تو میرے دل میں یہ بات ہوتی تھی کہ تمہیں کبھی نہ کبھی دینا ضرور ہے ۔ ، سفیان نے بیان کیا کہ ہم سے عمرو نے بیان کیا ‘ ان سے محمد بن علی نے اور ان سے جابر نے ‘ پھر ابوبکر رضی اللہ عنہ نے مجھے ایک لپ بھر کر دیا اور فرمایا کہ اسے شمار کر میں نے شمار کیا تو پانچ سو کی تعداد تھی ‘ اس کے بعد ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا ‘ کہ اتنا ہی دو مرتبہ اور لے لے ۔ اور ابن المنکدر نے بیان کیا ( کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا تھا ) بخل سے زیادہ بدترین اور کیا بیماری ہو سکتی ہے ۔
Narrated Jabir bin `Abdullah رضی اللہ عنہما :
While Allah's Messenger (ﷺ) was distributing the booty at Al-Ja'rana, somebody said to him "Be just (in your distribution)." The Prophet (ﷺ) replied, "Verily I would be miserable if I did not act justly."
ہم سے مسلم بن ابراہیم نے بیان کیا ، کہا ہم سے قرۃ بن خالد نے بیان کیا ، کہا ہم سے عمرو بن دینار نے بیان کیا اور ان سے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مقام جعرانہ میں غنیمت تقسیم کر رہے تھے کہ ایک شخص ذوالخویصرہ نے آپ سے کہا ، انصاف سے کام لیجئے ، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ، اگر میں بھی انصاف سے کام نہ لوں تو بدبخت ہوا ۔
Narrated Jubair bin Mut`im:
The Prophet (ﷺ) talked about war prisoners of Badr saying, "Had Al-Mut`im bin Adi been alive and interceded with me for these mean people, I would have freed them for his sake."
ہم سے اسحاق بن منصور نے بیان کیا ، کہا ہم کو عبدالرزاق نے خبر دی ، انہیں معمر نے ، انہیں زہری نے ، انہیں محمد بن جبیر نے اور انہیں ان کے والد رضی اللہ عنہ نے کہ
رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بدر کے قیدیوں کے بارے میں فرمایا تھا کہ اگر مطعم بن عدی ( جو کفر کی حالت میں مر گئے تھے ) زندہ ہوتے اور ان نجس ، ناپاک لوگوں کی سفارش کرتے تو میں ان کی سفارش سے انہیں ( فدیہ لیے بغیر ) چھوڑ دیتا ۔
Narrated Jubair bin Mut`im رضی اللہ عنہ :
I and `Uthman bin `Affan رضی اللہ عنہ went to Allah's Messenger (ﷺ) and said, "O Allah's Messenger (ﷺ)! You have given to Bani Al-Muttalib and left us although they and we are of the same kinship to you." Allah's Messenger (ﷺ) said, "Bani Muttalib and Bani Hashim are one and the same." The Prophet (ﷺ) did not give a share to Bani `Abd Shams and Bani Naufai. (Ibn 'Is-haq said, "Abd Shams and Hashim and Al-Muttalib were maternal brothers and their mother was 'Atika bint Murra and Naufal was their paternal brother.)
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم سے لیث نے بیان کیا ، ان سے عقیل نے بیان کیا ، ان سے ابن شہاب نے بیان کیا ، ان سے ابن مسیب نے بیان کیا اور ان سے جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ
میں اور عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا ، یا رسول اللہ ! آپ نے بنو مطلب کو تو عنایت فرمایا لیکن ہم کو چھوڑ دیا ، حالانکہ ہم کو آپ سے وہی رشتہ ہے جو بنو مطلب کو آپ سے ہے ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بنو مطلب اور بنو ہاشم ایک ہی ہے ۔ لیث نے بیان کیا کہ مجھ سے یونس نے بیان کیا اور ( اس روایت میں ) یہ زیادتی کی کہ جبیر رضی اللہ عنہ نے کہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بنو عبدشمس اور بنو نوفل کو نہیں دیا تھا ، اور ابن اسحاق ( صاحب مغازی ) نے کہا ہے کہ عبد شمس ، ہاشم اور مطلب ایک ماں سے تھے اور ان کی ماں کا نام عاتکہ بن مرہ تھا اور نوفل باپ کی طرف سے ان کے بھائی تھے ۔ ( ان کی ماں دوسری تھیں ) ۔
Narrated `Abdur-Rahman bin `Auf:
While I was standing in the row on the day (of the battle) of Badr, I looked to my right and my left and saw two young Ansari boys, and I wished I had been stronger than they. One of them called my attention saying, "O Uncle! Do you know Abu Jahl?" I said, "Yes, What do you want from him, O my nephew?" He said, "I have been informed that he abuses Allah's Messenger (ﷺ). By Him in Whose Hands my life is, if I should see him, then my body will not leave his body till either of us meet his fate." I was astonished at that talk. Then the other boy called my attention saying the same as the other had said. After a while I saw Abu Jahl walking amongst the people. I said (to the boys), "Look! This is the man you asked me about." So, both of them attacked him with their swords and struck him to death and returned to Allah'S Apostle to inform him of that. Allah's Messenger (ﷺ) asked, "Which of you has killed him?" Each of them said, "I Have killed him." Allah's Messenger (ﷺ) asked, "Have you cleaned your swords?" They said, "No. " He then looked at their swords and said, "No doubt, you both have killed him and the spoils of the deceased will be given to Mu`adh bin and Ibrahim heard from his father.
ہم سے مسدد نے بیان کیا ، کہا ہم سے یوسف بن ماجشون نے ، ان سے صالح بن ابراہیم بن عبدالرحمن بن عوف نے ، ان سے ان کے باپ نے اور ان سے صالح کے دادا ( عبدالرحمن بن عوفص ) نے بیان کے کہ
بدر کی لڑائی میں ، میں صف کے ساتھ کھڑا ہوا تھا ۔ میں نے جو دائیں بائیں جانب دیکھا ، تو میرے دونوں طرف قبیلہ انصار کے دو نوعمر لڑکے تھے ۔ میں نے آرزو کی کاش ! میں ان سے زبردست زیادہ عمر والوں کے بیچ میں ہوتا ۔ ایک نے میری طرف اشارہ کیا ، اور پوچھا چچا ! آپ ابوجہل کو بھی پہچانتے ہیں ؟ میں نے کہا کہ ہاں ! لیکن بیٹے تم لوگوں کو اس سے کیا کام ہے ؟ لڑکے نے جواب دیا مجھے معلوم ہوا ہے کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو گالیاں دیتا ہے ، اس ذات کی قسم ! جس کے ہاتھ میں میری جان ہے اگر مجھے وہ مل گیا تو اس وقت تک میں اس سے جدا نہ ہوں گا جب تک ہم میں سے کوئی جس کی قسمت میں پہلے مرنا ہو گا ، مر نہ جائے ، مجھے اس پر بڑی حیرت ہوئی ۔ پھر دوسرے نے اشارہ کیا اور وہی باتیں اس نے بھی کہیں ۔ ابھی چند منٹ ہی گزرے تھے کہ مجھے ابوجہل دکھائی دیا جو لوگوں میں ( کفار کے لشکر میں ) گھومتا پھر رہا تھا ۔ میں نے ان لڑکوں سے کہا کہ جس کے متعلق تم لوگ مجھ سے پوچھ رہے تھے ، وہ سامنے ( پھرتا ہوا نظر آ رہا ) ہے ۔ دونوں نے اپنی تلواریں سنبھالیں اور اس پر جھپٹ پڑے اور حملہ کر کے اسے قتل کر ڈالا ۔ اس کے بعد رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر آپ کو خبر دی ، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کہ تم دونوں میں سے کس نے اسے مارا ہے ؟ دونوں نوجوانوں نے کہا کہ میں نے قتل کیا ہے ۔ اس لیے آپ نے ان سے پوچھا کہ کیا اپنی تلواریں تم نے صاف کر لی ہیں ؟ انہوں نے عرض کیا کہ نہیں ۔ پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں تلواروں کو دیکھا اور فرمایا کہ تم دونوں ہی نے اسے مارا ہے ۔ اور اس کا سامان معاذ بن عمرو بن جموح کو ملے گا ۔ وہ دونوں نوجوان معاذ بن عفراء اور معاذ بن عمرو بن جموع تھے ۔ محمد نے کہا یوسف نے صالح سے سنا اور ابراہیم نے اپنے باپ سے سنا ۔
Narrated Abu Qatada رضی اللہ عنہ :
We set out in the company of Allah's Messenger (ﷺ) on the day (of the battle) of Hunain. When we faced the enemy, the Muslims retreated and I saw a pagan throwing himself over a Muslim. I turned around and came upon him from behind and hit him on the shoulder with the sword He (i.e. the pagan) came towards me and seized me so violently that I felt as if it were death itself, but death overtook him and he released me. I followed `Umar bin Al Khattab رضی اللہ عنہ and asked (him), "What is wrong with the people (fleeing)?" He replied, "This is the Will of Allah," After the people returned, the Prophet (ﷺ) sat and said, "Anyone who has killed an enemy and has a proof of that, will posses his spoils." I got up and said, "Who will be a witness for me?" and then sat down. The Prophet (ﷺ) again said, "Anyone who has killed an enemy and has proof of that, will possess his spoils." I (again) got up and said, "Who will be a witness for me?" and sat down. Then the Prophet (ﷺ) said the same for the third time. I again got up, and Allah's Messenger (ﷺ) said, "O Abu Qatada! What is your story?" Then I narrated the whole story to him. A man (got up and) said, "O Allah's Messenger (ﷺ)! He is speaking the truth, and the spoils of the killed man are with me. So please compensate him on my behalf." On that Abu Bakr As-Siddiq رضی اللہ عنہ said, "No, by Allah, he (i.e. Allah's Messenger (ﷺ) ) will not agree to give you the spoils gained by one of Allah's Lions who fights on the behalf of Allah and His Apostle." The Prophet (ﷺ) said, "Abu Bakr رضی اللہ عنہ has spoken the truth." So, Allah's Messenger (ﷺ) gave the spoils to me. I sold that armor (i.e. the spoils) and with its price I bought a garden at Bani Salima, and this was my first property which I gained after my conversion to Islam.
ہم سے عبداللہ بن مسلمہ نے بیان کیا ، کہا ہم سے امام مالک نے ، ان سے یحییٰ بن سعید نے ، ان سے ابن افلح نے ، ان سے ابوقتادہ کے غلام ابومحمد نے اور ان سے ابوقتادہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ
غزوہ حنین کے سال ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ روانہ ہوئے ۔ پھر جب ہمارا دشمن سے سامنا ہوا تو ( ابتداء میں ) اسلامی لشکر ہارنے لگا ۔ اتنے میں میں نے دیکھا کہ مشرکین کے لشکر کا ایک شخص ایک مسلمان کے اوپر چڑھا ہوا ہے ۔ اس لیے میں فوراً ہی گھوم پڑا اور اس کے پیچھے سے آ کر تلوار اس کی گردن پر ماری ۔ اب وہ شخص مجھ پر ٹوٹ پڑا ، اور مجھے اتنی زور سے اس نے بھینچا کہ میری روح جیسے قبض ہونے کو تھی ۔ آخر جب اس کو موت نے آ ڈبوچا ، تب کہیں جا کر اس نے مجھے چھوڑا ۔ اس کے بعد مجھے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ ملے ، تو میں نے ان سے پوچھا کہ مسلمان اب کس حالت میں ہیں ؟ انہوں نے کہا کہ جو اللہ کا حکم تھا وہی ہوا ۔ لیکن مسلمان ہارنے کے بعد پھر مقابلہ پر سنبھل گئے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھ گئے اور فرمایا کہ جس نے بھی کسی کافر کو قتل کیا ہو اور اس پر وہ گواہ بھی پیش کر دے تو مقتول کا سارا ساز و سامان اسے ہی ملے گا ( ابوقتادہ رضی اللہ عنہ نے کہا ) میں بھی کھڑا ہوا ۔ اور میں نے کہا کہ میری طرف سے کون گواہی دے گا ؟ لیکن ( جب میری طرف سے کوئی نہ اٹھا تو ) میں بیٹھ گیا ۔ پھر دوبارہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ( آج ) جس نے کسی کافر کو قتل کیا اور اس پر اس کی طرف سے کوئی گواہ بھی ہو تو مقتول کا سارا سامان اسے ملے گا ۔ اس مرتبہ پھر میں نے کھڑے ہو کر کہا کہ میری طرف سے کون گواہی دے گا ؟ اور پھر مجھے بیٹھنا پڑا ۔ تیسری مرتبہ پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے وہی ارشاد دہرایا اور اس مرتبہ جب میں کھڑا ہوا تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے خود ہی دریافت فرمایا ، کس چیز کے متعلق کہہ رہے ہو ابوقتادہ ! میں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے سارا واقعہ بیان کر دیا ، تو ایک صاحب ( اسود بن خزاعی اسلمی ) نے بتایا کہ ابوقتادہ سچ کہتے ہیں ، یا رسول اللہ ! اور اس مقتول کا سامان میرے پاس محفوظ ہے ۔ اور میرے حق میں انہیں راضی کر دیجئیے ( کہ وہ مقتول کا سامان مجھ سے نہ لیں ) لیکن ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے کہا کہ نہیں اللہ کی قسم ! اللہ کے ایک شیر کے ساتھ ، جو اللہ اور اس کے رسول کے لیے لڑے ، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ایسا نہیں کریں گے کہ ان کا سامان تمہیں دے دیں ، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ابوبکرنے سچ کہا ہے ۔ پھر آپ نے سامان ابوقتادہ رضی اللہ عنہ کو عطا فرمایا ۔ ابوقتادہ نے کہا کہ پھر اس کی زرہ بیچ کر میں نے بنی سلمہ میں ایک باغ خرید لیا اور یہ پہلا مال تھا جو اسلام لانے کے بعد میں نے حاصل کیا تھا ۔
Narrated `Urwa bin Az-Zubair رضی اللہ عنہ :
Hakim bin Hizam رضی اللہ عنہ said, "I asked Allah's Messenger (ﷺ) for something, and he gave me. I asked him again, and he gave me, and said to me. 'O Hakim! This wealth is like green sweet (i.e. fruit), and if one takes it without greed, then one is blessed in it, and if one takes it with greediness, then one is not blessed in it, and will be like the one who eats without satisfaction. And an upper (i.e. giving) hand is better than a lower (i.e. taking) hand,' I said, 'O Allah's Messenger (ﷺ)! By Him Who has sent you with the Truth. I will not ask anyone for anything after you till I leave this world." So, when Abu Bakr رضی اللہ عنہ during his Caliphate, called Hakim to give him (some money), Hakim refused to accept anything from him. Once `Umar called him (during his Caliphate) in order to give him something, but Hakim refused to accept it, whereupon `Umar رضی اللہ عنہ said, "O Muslims! I give him (i.e. Hakim) his right which Allah has assigned to him) from this Fai '(booty), but he refuses to take it." So Hakim never took anything from anybody after the Prophet (ﷺ) till he died.
ہم سے محمد بن یوسف فریابی نے بیان کیا ، کہا ہم سے امام اوزاعی نے بیان کیا ، ان سے زہری نے ، ان سے سعید بن مسیب اور عروہ بن زبیر رضی اللہ عنہ نے کہ
حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ نے بیان کیا ، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کچھ روپیہ مانگا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے عطا فرمایا ، پھر دوبارہ میں نے مانگا اور اس مرتبہ بھی آپ نے عطا فرمایا ، پھر ارشاد فرمایا ، حکیم ! یہ مال دیکھنے میں سرسبز بہت میٹھا اور مزیدار ہے لیکن جو شخص اسے دل کی بے طمعی کے ساتھ لے اس کے مال میں تو برکت ہوتی ہے اور جو شخص اسے لالچ اور حرص کے ساتھ لے تو اس کے مال میں برکت نہیں ہوتی ، بلکہ اس کی مثال اس شخص جیسی ہے جو کھائے جاتا ہے لیکن اس کا پیٹ نہیں بھرتا اور اوپر کا ہاتھ ( دینے والا ) نیچے کے ہاتھ ( لینے والے ) سے بہتر ہوتا ہے ۔ حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! آپ کے بعد اب میں کسی سے کچھ بھی نہیں مانگوں گا ، یہاں تک کہ اس دنیا میں سے چلا جاؤں گا ۔ چنانچہ ( آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد ) حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ انہیں دینے کے لیے بلاتے ، لیکن وہ اس میں سے ایک پیسہ بھی لینے سے انکار کر دیتے ۔ پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ ( اپنے زمانہ خلافت میں ) انہیں دینے کے لیے بلاتے اور ان سے بھی لینے سے انہوں نے انکار کر دیا ۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اس پر کہا کہ مسلمانو ! میں انہیں ان کا حق دیتا ہوں جو اللہ تعالیٰ نے فئے کے مال سے ان کا حصہ مقرر کیا ہے ۔ لیکن یہ اسے بھی قبول نہیں کرتے ۔ حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ کی وفات ہو گئی لیکن آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد انہوں نے کسی سے کوئی چیز نہیں لی ۔
Narrated Nafi`:
`Umar bin Al-Khattab رضی اللہ عنہ said, "O Allah's Messenger (ﷺ)! I vowed to observe I`tikaf for one day during the Prelslamic period." The Prophet (ﷺ) ordered him to fulfill his vow. `Umar رضی اللہ عنہ gained two lady captives from the war prisoners of Hunain and he left them in some of the houses at Mecca. When Allah's Messenger (ﷺ) freed the captives of Hunain without ransom, they came out walking in the streets. `Umar رضی اللہ عنہ said (to his son), "O `Abdullah! See what is the matter." `Abdullah رضی اللہ عنہ replied, "Allah's Messenger (ﷺ) has freed the captives without ransom." He said (to him), "Go and set free those two slave girls." (Nafi` added:) Allah's Apostle did not perform the `Umra from Al-Jarana, and if he had performed the `Umra, it would not have been hidden from `Abdullah رضی اللہ عنہ . Hadrat Jareer bin Hazim has added with the reference to Ayyub and Nafii that Hadrat Ibn-e-Umer رضی اللہ عنہ said: They were out of the Royal fifth, and Mamar has reported it from Nafii and Ibn-e-Umer regarding a vow and did not mention the word "يَوْمَ" .
ہم سے ابوالنعمان نے بیان کیا ، کہا ہم سے حماد بن زید نے بیان کیا ، ان سے ایوب نے ، ان سے نافع نے کہ
عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے عرض کیا یا رسول اللہ ! زمانہ جاہلیت ( کفر ) میں میں نے ایک دن کے اعتکاف کی منت مانی تھی ، تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے پورا کرنے کا حکم فرمایا ۔ نافع نے بیان کیا کہ حنین کے قیدیوں میں سے عمر رضی اللہ عنہ کو دو باندیاں ملی تھیں ۔ تو آپ نے انہیں مکہ کے کسی گھر میں رکھا ۔ انہوں نے بیان کیا کہ پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حنین کے قیدیوں پر احسان کیا ( اور سب کو مفت آزاد کر دیا ) تو گلیوں میں وہ دوڑنے لگے ۔ عمر رضی اللہ عنہ نے کہا ، عبداللہ ! دیکھو تو یہ کیا معاملہ ہے ۔ انہوں نے بتایا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان پر احسان کیا ہے ( اور حنین کے تمام قیدی مفت آزاد کر دئیے گئے ہیں ) حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ پھر جا ان دونوں لڑکیوں کو بھی آزاد کر دے ۔ نافع نے کہا کہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے مقام جعرانہ سے عمرہ کا احرام نہیں باندھا تھا ۔ اگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم وہاں سے عمرہ کا احرام باندھتے تو عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کو یہ ضرور معلوم ہوتا اور جریر بن حازم نے جو ایوب سے روایت کی ، انہوں نے نافع سے ، انہوں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے ، اس میں یوں ہے کہ ( وہ دونوں باندیاں جو عمر رضی اللہ عنہ کو ملی تھیں ) خمس میں سے تھیں ۔ ( اعتکاف سے متعلق یہ روایت ) معمر نے ایوب سے نقل کی ہے ، ان سے نافع نے ، ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے نذر کا قصہ جو روایت کیا ہے اس میں ایک دن کا لفظ نہیں ہے ۔
Narrated `Amr bin Taghlib رضی اللہ عنہ :
Allah's Messenger (ﷺ) gave (gifts) to some people to the exclusion of some others. The latter seemed to be displeased by that. The Prophet (ﷺ) said, "I give to some people, lest they should deviate from True Faith or lose patience, while I refer other people to the goodness and contentment which Allah has put in their hearts, and `Amr bin Taghlib رضی اللہ عنہ is amongst them." `Amr bin Taghlib رضی اللہ عنہ said, "The statement of Allah's Apostle is dearer to me than red camels." Narrated Al-Hasan: `Amr bin Taghlib رضی اللہ عنہ told us that Allah's Messenger (ﷺ) got some property or some war prisoners and he distributed them in the above way (i.e. giving to some people to the exclusion of others) .
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا ، کہا ہم سے جریر بن حازم نے بیان کیا ، کہا ہم سے حسن بصریٰ نے بیان کیا ، کہا کہ مجھ سے عمرو بن تغلب رضی اللہ عنہ نے بیان کیا ، انہوں نے بیان کیا کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ لوگوں کو دیا اور کچھ لوگوں کو نہیں دیا ۔ غالباً جن لوگوں کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہیں دیا تھا ، ان کو ناگوار ہوا ۔ تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ، کہ میں کچھ ایسے لوگوں کو دیتا ہوں کہ مجھے جن کے بگڑ جانے ( اسلام سے پھر جانے ) اور بےصبری کا ڈر ہے ۔ اور کچھ لوگ ایسے ہیں جن پر میں بھروسہ کرتا ہوں ، اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں میں بھلائی اور بے نیازی رکھی ہے ( ان کو میں نہیں دیتا ) عمرو بن تغلب رضی اللہ عنہ بھی انہیں میں شامل ہیں ۔ عمرو بن تغلب رضی اللہ عنہ کہا کرتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میری نسبت یہ جو کلمہ فرمایا اگر اس کے بدلے سرخ اونٹ ملتے تو بھی میں اتنا خوش نہ ہوتا ۔ ابوعاصم نے جریر سے بیان کیا کہ میں نے حسن بصریٰ سے سنا ، وہ بیان کرتے تھے کہ ہم سے عمرو بن تغلب رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس مال یا قیدی آئے تھے اور انہیں کو آپ نے تقسیم فرمایا تھا ۔
Narrated Anas رضی اللہ عنہ :
The Prophet (ﷺ) said, "I give to Quraish people in order to let them adhere to Islam, for they are near to their life of Ignorance (i.e. they have newly embraced Islam and it is still not strong in their hearts."
ہم سے ابوالولید نے بیان کیا ، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا ، ان سے قتادہ نے اور ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ، قریش کو میں ان کا دل ملانے کے لیے دیتا ہوں ، کیونکہ ان کی جاہلیت ( کفر ) کا زمانہ ابھی تازہ گزرا ہے ۔ ( ان کی دلجوئی کرنا ضروری ہے ) ۔
Narrated Anas bin Malik رضی اللہ عنہ :
When Allah favored His Apostle with the properties of Hawazin tribe as Fai (booty), he started giving to some Quarries men even up to one-hundred camels each, whereupon some Ansari men said about Allah's Messenger (ﷺ), "May Allah forgive His Apostle! He is giving to (men of) Quraish and leaves us, in spite of the fact that our swords are still dropping blood (of the infidels)" When Allah's Messenger (ﷺ) was informed of what they had said, he called the Ansar and gathered them in a leather tent and did not call anybody else along, with them. When they gathered, Allah's Messenger (ﷺ) came to them and said, "What is the statement which, I have been informed, and that which you have said?" The learned ones among them replied," O Allah's Messenger (ﷺ)! The wise ones amongst us did not say anything, but the youngsters amongst us said, 'May Allah forgive His Apostle; he gives the Quarish and leaves the Ansar, in spite of the fact that our swords are still dribbling (wet) with the blood of the infidels.' " Allah's Messenger (ﷺ) replied, I give to such people as are still close to the period of Infidelity (i.e. they have recently embraced Islam and Faith is still weak in their hearts). Won't you be pleased to see people go with fortune, while you return with Allah's Messenger (ﷺ) to your houses? By Allah, what you will return with, is better than what they are returning with." The Ansar replied, "Yes, O Allah's Messenger (ﷺ), we are satisfied' Then the Prophet (ﷺ) said to them." You will find after me, others being preferred to you. Then be patient till you meet Allah and meet His Apostle at Al-Kauthar (i.e. a fount in Paradise)." (Anas رضی اللہ عنہ added:) But we did not remain patient.
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا ، کہا ہم کو شعیب نے خبر دی ، کہا ہم سے زہری نے بیان کیا ، کہا کہ مجھے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے خبر دی کہ
جب اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو قبیلہ ہوازن کے اموال میں سے غنیمت دی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم قریش کے بعض آدمیوں کو ( تالیف قلب کی غرض سے ) سو سو اونٹ دینے لگے تو بعض انصاری لوگوں نے کہا اللہ تعالیٰ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بخشش کرے ۔ آپ قریش کو تو دے رہے ہیں اور ہمیں چھوڑ دیا ۔ حالانکہ ان کا خون ابھی تک ہماری تلواروں سے ٹپک رہا ہے ۔ ( قریش کے لوگوں کو حال ہی میں ہم نے مارا ، ان کے شہر کو ہم ہی نے فتح کیا ) انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو جب یہ خبر پہنچی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انصار کو بلایا اور انہیں چمڑے کے ایک ڈیرے میں جمع کیا ، ان کے سوا کسی دوسرے صحابی کو آپ نے نہیں بلایا ۔ جب سب انصاری لوگ جمع ہو گئے تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم بھی تشریف لائے اور دریافت فرمایا کہ آپ لوگوں کے بارے میں جو بات مجھے معلوم ہوئی وہ کہاں تک صحیح ہے ؟ انصار کے سمجھ دار لوگوں نے عرض کیا ، یا رسول اللہ ! ہم میں جو عقل والے ہیں ، وہ تو کوئی ایسی بات زبان پر نہیں لائے ہیں ، ہاں چند نوعمر لڑکے ہیں ، انہوں نے یہ کہا ہے کہ اللہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بخشش کرے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم قریش کو تو دے رہے ہیں اور ہم کو نہیں دیتے حالانکہ ہماری تلواروں سے ابھی تک ان کے خون ٹپک رہے ہیں ۔ اس پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں بعض ایسے لوگوں کو دیتا ہوں جن کا کفر کا زمانہ ابھی گزرا ہے ۔ ( اور ان کو دے کر ان کا دل ملاتا ہوں ) کیا تم اس پر خوش نہیں ہو کہ جب دوسرے لوگ مال و دولت لے کر واپس جا رہے ہوں گے ، تو تم لوگ اپنے گھروں کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو لے کر واپس جا رہے ہو گے ۔ اللہ کی قسم ! تمہارے ساتھ جو کچھ واپس جا رہا ہے وہ اس سے بہتر ہے جو دوسرے لوگ اپنے ساتھ واپس لے جائیں گے ۔ سب انصاریوں نے کہا بیشک یا رسول اللہ ! ہم اس پر راضی اور خوش ہیں ۔ پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا ، میرے بعد تم یہ دیکھو گے کہ تم پر دوسرے لوگوں کو مقدم کیا جائے گا ، اس وقت تم صبر کرنا ، ( دنگا فساد نہ کرنا ) یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ سے جا ملو اور اس کے رسول سے حوض کوثر پر ۔ انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا ، پھر ہم سے صبر نہ ہو سکا ۔
Narrated Jubair bin Mut`im رضی اللہ عنہ :
While he was with Allah's Messenger (ﷺ) who was accompanied by the people on their way back from Hunain, the bedouins started begging things of Allah's Messenger (ﷺ) so much so that they forced him to go under a Samura tree where his loose outer garment was snatched away. On that, Allah's Messenger (ﷺ) stood up and said to them, "Return my garment to me. If I had as many camels as these trees, I would have distributed them amongst you; and you will not find me a miser or a liar or a coward."
ہم سے عبدالعزیز بن عبداللہ اویسی نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم سے ابراہیم بن سعد نے بیان کیا ، انہوں نے کہا کہ ہم سے صالح بن کیسان نے ، ان سے ابن شہاب نے بیان کیا کہ مجھے عمر بن محمد بن جبیر بن مطعم نے خبر دی کہ میرے باپ محمد بن جبیر نے کہا اور انہیں جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ نے خبر دی کہ
ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے ۔ آپ کے ساتھ اور بھی صحابہ تھے ۔ حنین کے جہاد سے واپسی ہو رہی تھی ۔ راستے میں کچھ بدو آپ سے لپٹ گئے ( لوٹ کا مال ) آپ سے مانگتے تھے ۔ وہ آپ سے ایسا لپٹے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک ببول کے درخت کی طرف دھکیل لے گئے ۔ آپ کی چادر اس میں اٹک کر رہ گئی ۔ اس وقت آپ ٹھہر گئے ۔ آپ نے فرمایا ، ( بھائیو ) میری چادر تو دے دو ۔ اگر میرے پاس ان کانٹے دار درختوں کی تعداد میں اونٹ ہوتے تو وہ بھی تم میں تقسیم کر دیتا ۔ تم مجھے بخیل ، جھوٹا اور بزدل ہرگز نہیں پاو گے ۔
Narrated Anas bin Malik رضی اللہ عنہ :
While I was walking with the Prophet (ﷺ) who was wearing a Najrani outer garment with a thick hem, a bedouin came upon the Prophet (ﷺ) and pulled his garment so violently that I could recognize the impress of the hem of the garment on his shoulder, caused by the violence of his pull. Then the bedouin said, "Order for me something from Allah's Fortune which you have." The Prophet (ﷺ) turned to him and smiled, and ordered that a gift be given to him.
ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا ، کہا ہم سے امام مالک نے بیان کیا ، ان سے اسحاق بن عبداللہ نے اور ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ
میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جا رہا تھا ۔ آپ نجران کی بنی ہوئی چوڑے حاشیہ کی ایک چادر اوڑھے ہوئے تھے ۔ اتنے میں ایک دیہاتی نے آپ کو گھیر لیا اور زور سے آپ کو کھینچا ، میں نے آپ کے شانے کو دیکھا ، اس پر چادر کے کونے کا نشان پڑ گیا ۔ ایسا کھینچا ۔ پھر کہنے لگا ۔ اللہ کا مال جو آپ کے پاس ہے اس میں سے کچھ مجھ کو دلائیے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی طرف دیکھا اور ہنس دئیے ۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے دینے کا حکم فرمایا ۔ ( آخری جملہ میں سے ترجمۃ الباب نکلتا ہے ) ۔
Narrated `Abdullah رضی اللہ عنہما :
On the day (of the battle) of Hunain, Allah's Messenger (ﷺ) favored some people in the distribution of the booty (to the exclusion of others); he gave Al-Aqra' bin H`Abis رضی اللہ عنہ one-hundred camels and he gave 'Uyaina رضی اللہ عنہ the same amount, and also gave to some of the eminent Arabs, giving them preference in this regard. Then a person came and said, "By Allah, in this distribution justice has not been observed, nor has Allah's Pleasure been aimed at." I said (to him), "By Allah, I will inform the Prophet (of what you have said), "I went and informed him, and he said, "If Allah and His Apostle did not act justly, who else would act justly. May Allah be merciful to Moses, for he was harmed with more than this, yet he kept patient."
ہم سے عثمان بن ابی شیبہ نے بیان کیا ، کہا ہم سے جریر نے بیان کیا ، ان سے منصور نے ، ان سے ابووائل نے کہ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ
حنین کی لڑائی کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ( غنیمت کی ) تقسیم میں بعض لوگوں کو زیادہ دیا ۔ جیسے اقرع بن حابس رضی اللہ عنہ کو سو اونٹ دئیے ، اتنے ہی اونٹ عیینہ بن حصین رضی اللہ عنہ کو دئیے اور کئی عرب کے اشراف لوگوں کو اسی طرح تقسیم میں زیادہ دیا ۔ اس پر ایک شخص ( معتب بن قشیر منافق ) نے کہا ، کہ خدا کی قسم ! اس تقسیم میں نہ تو عدل کو ملحوظ رکھا گیا ہے اور نہ اللہ کی خوشنودی کا خیال ہوا ۔ میں نے کہا کہ واللہ ! اس کی خبر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ضرور دوں گا ۔ چنانچہ میں آپ کی خدمت میں حاضر ہوا ، اور آپ کو اس کی خبر دی ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے سن کر فرمایا اگر اللہ اور اس کا رسول صلی اللہ علیہ وسلم بھی عدل نہ کرے تو پھر کون عدل کرے گا ۔ اللہ تعالیٰ موسیٰ علیہ السلام پر رحم فرمائے کہ ان کو لوگوں کے ہاتھ اس سے بھی زیادہ تکلیف پہنچی لیکن انہوں نے صبر کیا ۔
Narrated Asma bint Abu Bakr رضی اللہ عنہما :
I used to carry the date stones on my head from the land of Az-Zubair رضی اللہ عنہ which Allah's Messenger (ﷺ) had given to him, and it was at a distance of 2/3 of a Farsakh from my house. Narrated Hisham's father: The Prophet (ﷺ) gave Az-Zubair a piece of land from the property of Bani An- Nadir (gained as war booty).
ہم سے محمود بن غیلان نے بیان کیا ، کہا ہم سے ابواسامہ نے بیان کیا ، کہا ہم سے ہشام نے بیان کیا ، کہا کہ مجھے میرے والد نے خبر دی ، ان سے اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے زبیر رضی اللہ عنہ کو جو زمین عنایت فرمائی تھی ، میں اس میں سے گٹھلیاں ( سوکھی کھجوریں ) اپنے سر پر لایا کرتی تھی ۔ وہ جگہ میرے گھر سے دو میل فرسخ کی دو تہائی پر تھی ۔ ابوضمرہ نے ہشام سے بیان کیا اور انہوں نے اپنے باپ سے ( مرسلاً ) بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے زبیر رضی اللہ عنہ کو بنی نضیر کی اراضی میں سے ایک زمین قطعہ کے طور پر دی تھی ۔
Narrated Ibn `Umar رضی اللہ عنہما :
`Umar bin Al-Khattab expelled all the Jews and Christians from the land of Hijaz. Allah's Messenger (ﷺ) after conquering Khaibar, thought of expelling the Jews from the land which, after he conquered it belonged to Allah, Allah's Messenger (ﷺ) and the Muslims. But the Jews requested Allah's Messenger (ﷺ) to leave them there on the condition that they would do the labor and get half of the fruits (the land would yield). Allah's Messenger (ﷺ) said, "We shall keep you on these terms as long as we wish." Thus they stayed till the time of `Umar's Caliphate when he expelled them to Taima and Ariha.
مجھ سے احمد بن مقدام نے بیان کیا ، کہا ہم سے فضل بن سلیمان نے بیان کیا ، کہا ہم سے موسیٰ بن عقبہ نے بیان کیا ، کہا کہ مجھے نافع نے خبر دی ، انہیں عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ
عمر نے یہود و نصاریٰ کو سرزمین حجاز سے نکال کر دوسری جگہ بسا دیا تھا ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب خیبر فتح کیا تو آپ کا بھی ارادہ ہوا تھا کہ یہودیوں کو یہاں سے نکال دیا جائے ۔ جب آپ نے فتح پائی تو اس وقت وہاں کی کچھ زمین یہودیوں کے قبضے میں ہی تھی ۔ اور اکثر زمین پیغمبر علیہ السلام اور مسلمانوں کے قبضے میں تھی ۔ لیکن پھر یہودیوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے درخواست کی ، آپ زمین انہیں کے پاس رہنے دیں ۔ وہ ( کھیتوں اور باغوں میں ) کام کیا کریں گے ۔ اور آدھی پیداوار لیں گے ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ، اچھا جب تک ہم چاہیں گے اس وقت تک کے لیے تمہیں اس شرط پر یہاں رہنے دیں گے ۔ چنانچہ یہ لوگ وہیں رہے اور پھر عمر رضی اللہ عنہ نے انہیں اپنے دور خلافت میں ( مسلمانوں کے خلاف ان کے فتنوں اور سازشوں کی وجہ سے یہود خیبر کو ) تیماء یا اریحا کی طرف نکال دیا تھا ۔