Narrated Abu Sa`id Al-Khudri رضی اللہ عنہ :
I heard Allah's Messenger (ﷺ) saying, "While I was sleeping, the people were presented to me (in a dream). They were wearing shirts, some of which were merely covering their (chests). and some were a bit longer. `Umar was presented before me and his shirt was so long that he was dragging it." They asked, "How have you interpreted it, O Allah's Messenger (ﷺ)?" He said, "Religion."
ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا ، کہا ہم سے لیث بن سعد نے بیان کیا ، ان سے عقیل نے ، ان سے ابن شہاب نے بیان کیا ، مجھ کو ابوامامہ بن سہل بن حنیف نے خبر دی اور ان سے حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں نے خواب میں دیکھا کہ کچھ لوگ میرے سامنے پیش کئے گئے جو قمیص پہنے ہوئے تھے ان میں سے بعض کی قمیص صرف سینے تک تھی اور بعض کی اس سے بھی چھوٹی اور میرے سامنے عمر پیش کئے گئے تو وہ اتنی بڑی قمیص پہنے ہوئے تھے کہ چلتے ہوئے گھسٹتی تھی ، صحابہ نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! آپ نے اس کی تعبیر کیالی ؟ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ دین مراد ہے ۔
Narrated Al-Miswar bin Makhrama:
When `Umar was stabbed, he showed signs of agony. Ibn `Abbas رضی اللہ عنہما , as if intending to encourage `Umar رضی اللہ عنہ , said to him, "O Chief of the believers! Never mind what has happened to you, for you have been in the company of Allah's Messenger (ﷺ) and you kept good relations with him and you parted with him while he was pleased with you. Then you were in the company of Abu Bakr رضی اللہ عنہ and kept good relations with him and you parted with him (i.e. he died) while he was pleased with you. Then you were in the company of the Muslims, and you kept good relations with them, and if you leave them, you will leave them while they are pleased with you." `Umar رضی اللہ عنہ said, (to Ibn "Abbas), "As for what you have said about the company of Allah's Messenger (ﷺ) and his being pleased with me, it is a favor, Allah did to me; and as for what you have said about the company of Abu Bakr رضی اللہ عنہ and his being pleased with me, it is a favor Allah did to me; and concerning my impatience which you see, is because of you and your companions. By Allah! If (at all) I had gold equal to the earth, I would have ransomed myself with it from the Punishment of Allah before I meet Him." Hadrat Ibn-e-Abbaas رضی اللہ عنہما reports that I visited Hadrat Umer رضی اللہ عنہ at that moment.
ہم سے صلت بن محمد نے بیان کیا کہا ہم سے اسماعیل بن ابراہیم نے بیان کیا ، کہا ہم سے ایوب نے بیان کیا ، ان سے ابن ابی ملیکہ نے اور ان سے مسور بن مخرمہ نے بیان کیا کہ
جب حضرت عمر زخمی کر دیئے گئے تو آپ نے بڑی بے چینی کا اظہار کیا ۔ اس موقع پر ابن عباس رضی اللہ عنہما نے آپ سے تسلی کے طور پر کہا کہ اے امیرالمؤمنین ! آپ اس درجہ گھبراکیوں رہے ہیں ۔ آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت میں رہے اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت کا پورا حق ادا کیا اور پھر جب آپ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے جدا ہوئے تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم آپ سے خوش اور راضی تھے ، اس کے بعد ابوبکر رضی اللہ عنہ کی صحبت اٹھائی اور ان کی صحبت کا بھی آپ نے پورا حق ادا کیا اور جب جدا ہوئے تو وہ بھی آپ سے راضی اور خوش تھے ۔ آخر میں مسلمانوں کی صحبت آپ کو حاصل رہی ۔ ان کی صحبت کا بھی آپ نے پورا حق ادا کیا اور اگر آپ ان سے جدا ہوئے تو اس میں کوئی شبہ نہیں کہ انہیں بھی آپ اپنے سے خوش اور راضی ہی چھوڑیں گے ۔ اس پر عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : ابن عباس ! تم نے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت کا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی رضا وخوشی کا ذکر کیا ہے تو یقیناً یہ صرف اللہ تعالیٰ کا ایک فضل اور احسان ہے جو اس نے مجھ پر کیا ہے ۔ اسی طرح جو تم نے ابوبکر رضی اللہ عنہ کی صحبت اور ان کی خوشی کا ذکر کیا ہے تو یہ بھی اللہ تعالیٰ کا مجھ پر فضل و احسان تھا ۔ لیکن جو گھبراہٹ اور پریشانی مجھ پر تم طاری دیکھ رہے ہو وہ تمہاری وجہ سے اور تمہارے ساتھیوں کی فکر کی وجہ سے ہے ۔ اور خدا کی قسم ، اگر میرے پاس زمین بھر سونا ہوتا تو اللہ تعالیٰ کے عذاب کا سامنا کرنے سے پہلے اس کا فدیہ دے کر اس سے نجات کی کوشش کرتا ، حماد بن زید نے بیان کیا ، ان سے ایوب نے بیان کیا ، ان سے ابن ابی ملیکہ نے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہ میں عمر رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا ۔ پھر آخر تک یہی حدیث بیان کی ۔
Narrated Abu Musa رضی اللہ عنہ :
While I was with the Prophet (ﷺ) in one of the gardens of Medina, a man came and asked me to open the gate. The Prophet (ﷺ) said to me, "Open the gate for him and give him the glad tidings that he will enter Paradise." I opened (the gate) for him, and behold! It was Abu Bakr رضی اللہ عنہ . I informed him of the glad tidings the Prophet (ﷺ) had said, and he praised Allah. Then another man came and asked me to open the gate. The Prophet (ﷺ) said to me "Open (the gate) and give him the glad tidings of entering Paradise." I opened (the gate) for him, and behold! It was `Umar رضی اللہ عنہ . I informed him of what the Prophet (ﷺ) had said, and he praised Allah. Then another man came and asked me to open the gate. The Prophet (ﷺ) said to me. "Open (the gate) for him and inform him of the glad tidings, of entering Paradise with a calamity which will befall him. " Behold ! It was `Uthman رضی اللہ عنہ , I informed him of what Allah's Messenger (ﷺ) had said. He praised Allah and said, "I seek Allah's Aid."
ہم سے یوسف بن موسیٰ نے بیان کیا ، کہا ہم سے ابواسامہ نے بیان کیا ، کہا کہ مجھ سے عثمان بن غیاث نے بیان کیا ، کہا کہ مجھ سے ابوعثمان نہدی نے بیان کیا ، اور ان سے حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ
میں مدینہ کے ایک باغ ( بئراریس ) میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھا کہ ایک صاحب نے آ کر دروازہ کھلوایا ، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ان کے لیے دروازہ کھول دو اور انہیں جنت کی بشارت سنا دو ، میں نے دروازہ کھولا تو حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ تھے ۔ میں نے انہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمانے کے مطابق جنت کی خوشخبری سنائی تو انہوں نے اس پر اللہ کی حمد کی ، پھر ایک اور صاحب آئے اور دروازہ کھلوایا ۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اس موقع پر بھی یہی فرمایا کہ دروازہ ان کے لیے کھول دو اور انہیں جنت کی بشارت سنا دو ، میں نے دروازہ کھولا تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ تھے ، انہیں بھی جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد کی اطلاع سنائی تو انہوں نے بھی اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا بیان کی ۔ پھر ایک تیسرے اور صاحب نے دروازہ کھلوایا ۔ ان کے لیے بھی حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ دروازہ کھول دو اور انہیں جنت کی بشارت سنا دو ان مصائب اور آزمائشوں کے بعد جن سے انہیں ( دنیا میں ) واسطہ پڑے گا ۔ وہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ تھے ۔ جب میں نے ان کو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد کی اطلاع دی تو انہوں نے اللہ کی حمد و ثنا کے بعد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ ہی مدد کرنے والا ہے ۔ ( یہ حدیث پہلے بھی گزر چکی ہے )
Narrated `Abdullah bin Hisham رضی اللہ عنہ :
We were with the Prophet (ﷺ) while he was holding `Umar bin Al-Khattab رضی اللہ عنہ by the hand.
ہم سے یحییٰ بن سلیمان نے بیان کیا ، کہا کہ مجھ سے عبداللہ بن وہب نے بیان کیا ، کہا کہ مجھے حیوہ بن شریح نے خبر دی ، کہا کہ مجھ سے ابوعقیل زہرہ بن معبد نے بیان کیا اور انہوں نے اپنے دادا حضرت عبداللہ بن ہشام رضی اللہ عنہ سے سنا ۔ انہوں نے بیان کیا کہ
ہم ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے ۔ آپ اس وقت حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لیے ہوئے تھے ۔
Narrated Abu Musa رضی اللہ عنہ :
The Prophet (ﷺ) entered a garden and ordered me to guard its gate. A man came and asked permission to enter. The Prophet (ﷺ) said, "Admit him and give him the glad tidings of entering Paradise." Behold! It was Abu Bakr رضی اللہ عنہ . Another man came and asked the permission to enter. The Prophet (ﷺ) said, "Admit him and give him the glad tidings of entering Paradise." Behold! It was `Umar رضی اللہ عنہ. Then another man came, asking the permission to enter. The Prophet (ﷺ) kept silent for a short while and then said, "Admit him and give him the glad tidings of entering Paradise with a calamity which will befall him." Behold! It was `Uthman bin `Affan. `Asim, in another narration, said that the Prophet (ﷺ) was sitting in a place where there was water, and he was uncovering both his knees or his knee, and when `Uthman رضی اللہ عنہ entered, he covered them (or it).
ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا ، کہا ہم سے حماد بن زید نے بیان کیا ، ان سے ایوب نے ، ان سے ابوعثمان نے اور ان سے حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک باغ ( بئراریس ) کے اندر تشریف لے گئے اور مجھ سے فرمایا کہ میں دروازہ پر پہرہ دیتارہوں ۔ پھر ایک صاحب آئے اور اجازت چاہی ۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ انہیں اجازت دے دو اور جنت کی خوشخبری بھی سنا دو ، وہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ تھے ۔ پھر دوسرے ایک اور صاحب آئے اور اجازت چاہی ۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ انہیں بھی اجازت دے دو اور جنت کی خوشخبری سنا دو ، وہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ تھے ۔ پھر تیسرے ایک اور صاحب آئے اور اجازت چاہی ۔ حضور تھوڑی دیر کے لیے خاموش ہو گئے پھر فرمایا کہ انہیں بھی اجازت دے دو اور ( دنیا میں ) ایک آزمائش سے گزرنے کے بعد جنت کی بشارت بھی سنا دو ، وہ عثمان غنی رضی اللہ عنہ تھے ۔ حماد بن سلمہ نے بیان کیا ، ہم سے عاصم احول اور علی بن حکم نے بیان کیا ، انہوں نے ابوعثمان سے سنا اور وہ ابوموسیٰ سے اسی طرح بیان کرتے تھے ، لیکن عاصم نے اپنی اس روایت میں یہ زیادہ کیا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت ایک ایسی جگہ بیٹھے ہوئے تھے جس کے اندر پانی تھا اور آپ اپنے دونوں گھٹنے یا ایک گھٹنہ کھولے ہوئے تھے لیکن جب عثمان رضی اللہ عنہ داخل ہوئے تو آپ نے اپنے گھٹنے کو چھپا لیا ۔
Narrated `Abdur-Rahman bin Al-Aswad bin 'Abu Yaghuth رضی اللہ عنہ :
"What forbids you to talk to `Uthman رضی اللہ عنہ about his brother Al-Walid because people have talked much about him?" So I went to `Uthman رضی اللہ عنہ and when he went out for prayer I said (to him), "I have something to say to you and it is a piece of advice for you " `Uthman رضی اللہ عنہ said, "O man, from you." (`Umar said: I see that he said, "I seek Refuge with Allah from you.") So I left him and went to them. Then the messenger of `Uthman رضی اللہ عنہ came and I went to him (i.e. `Uthman رضی اللہ عنہ ), `Uthman رضی اللہ عنہ asked, "What is your advice?" I replied, "Allah sent Muhammad with the Truth, and revealed the Divine Book (i.e. Qur'an) to him; and you were amongst those who followed Allah and His Apostle, and you participated in the two migrations (to Ethiopia and to Medina) and enjoyed the company of Allah's Messenger (ﷺ) and saw his way. No doubt, the people are talking much about Al-Walid." `Uthman رضی اللہ عنہ said, "Did you receive your knowledge directly from Allah's Messenger (ﷺ) ?" I said, "No, but his knowledge did reach me and it reached (even) to a virgin in her seclusion." `Uthman رضی اللہ عنہ said, "And then Allah sent Muhammad with the Truth and I was amongst those who followed Allah and His Apostle and I believed in what ever he (i.e. the Prophet) was sent with, and participated in two migrations, as you have said, and I enjoyed the company of Allah's Messenger (ﷺ) and gave the pledge of allegiance him. By Allah! I never disobeyed him, nor did I cheat him till Allah took him unto Him. Then I treated Abu Bakr رضی اللہ عنہ and then `Umar رضی اللہ عنہ similarly and then I was made Caliph. So, don't I have rights similar to theirs?" I said, "Yes." He said, "Then what are these talks reaching me from you people? Now, concerning what you mentioned about the question of Al-Walid, Allah willing, I shall deal with him according to what is right." Then he called `Ali and ordered him to flog him, and `Ali flogged him (i.e. Al-Walid) eighty lashes.
ہم سے احمد بن شبیب بن سعید نے بیان کیا ، کہا کہ مجھ سے میرے والد نے بیان کیا ، ان سے یونس نے کہ ابن شہاب نے بیان کیا ، کہا مجھ کو عروہ نے خبر دی ، انہیں عبیداللہ بن عدی بن خیار نے خبر دی کہ مسور بن مخرمہ اور عبدالرحمٰن بن اسود بن عبد یغوث رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا کہ
تم حضرت عثمان رضی اللہ عنہ سے ان کے بھائی ولید کے مقدمہ میں ( جسے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے کوفہ کا گورنر بنایا تھا ) کیوں گفتگو نہیں کرتے ، لوگ اس سے بہت ناراض ہیں ۔ چنانچہ میں حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے پاس گیا ، اور جب وہ نماز کے لیے باہر تشریف لائے تو میں نے عرض کیا کہ مجھے آپ سے ایک ضرورت ہے اور وہ ہے آپ کے ساتھ ایک خیرخواہی ! اس پر عثمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا : بھلے آدمی تم سے ( میں خدا کی پناہ چاہتا ہوں ) امام بخاری رحمہ اللہ نے کہا : میں سمجھتا ہوں کہ معمر نے یوں روایت کیا ، میں تجھ سے اللہ کی پناہ چاہتا ہوں ۔ میں واپس ان دونوں کے پاس گیا ، اتنے میں حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کا قاصد مجھ کو بلانے کے لیے آیا میں جب اس کے ساتھ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا تو انہوں نے دریافت فرمایا کہ تمہاری خیرخواہی کیا تھی ؟ میں نے عرض کیا : اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو حق کے ساتھ بھیجا اور ان پر کتاب نازل کی آپ بھی ان لوگوں میں شامل تھے جنہوں نے اللہ اور اس کے رسول کی دعوت کو قبول کیا تھا ۔ آپ نے دو ہجرتیں کیں ۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت اٹھائی اور آپ کے طریقے اور سنت کو دیکھا ، لیکن بات یہ ہے کہ لوگ ولید کی بہت شکایتیں کر رہے ہیں ۔ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے اس پر پوچھا : تم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کچھ سنا ہے ؟ میں نے عرض کیا کہ نہیں ۔ لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث ایک کنواری لڑکی تک کو اس کے تمام پردوں کے باوجود جب پہنچ چکی ہیں تو مجھے کیوں نہ معلوم ہوتیں ۔ اس پر حضرت عثمان نے فرمایا : امابعد : بیشک اللہ تعالیٰ نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو حق کے ساتھ بھیجا اور میں اللہ اور اس کے رسول کی دعوت کو قبول کرنے والوں میں بھی تھا ۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جس دعوت کو لے کر بھیجے گئے تھے میں اس پر پورے طور سے ایمان لایا اور جیسا کہ تم نے کہا دو ہجرتیں بھی کیں ۔ میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت میں بھی رہا ہوں اور آپ سے بیعت بھی کی ہے ۔ پس خدا کی قسم میں نے کبھی آپ کے حکم سے سرتابی نہیں کی ۔ اور نہ آپ کے ساتھ کبھی کوئی دھوکا کیا ، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو وفات دی ۔ اس کے بعد ابوبکر رضی اللہ عنہ کے ساتھ بھی میرا یہی معاملہ رہا ۔ اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے ساتھ بھی یہی معاملہ رہا تو کیا جب کہ مجھے ان کا جانشیں بنا دیا گیا ہے تو مجھے وہ حقوق حاصل نہیں ہوں گے جو انہیں تھے ؟ میں نے عرض کیا کہ کیوں نہیں ، آپ نے فرمایا کہ پھر ان باتوں کے لیے کیا جواز رہ جاتا ہے جو تم لوگوں کی طرف سے مجھے پہنچتی رہتی ہیں لیکن تم نے جو ولید کے حالات کا ذکر کیا ہے ، انشاءاللہ ہم اس کی سزا جو واجبی ہے اس کو دیں گے ۔ پھر حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو بلایا اور ان سے فرمایا کہ ولید کو حد لگائیں ۔ چنانچہ انہوں نے ولید کو اسی کوڑے حد کے لگائے ۔
Narrated Ibn `Umar رضی اللہ عنہما :
During the lifetime of the Prophet (ﷺ) we considered Abu Bakr رضی اللہ عنہ as peerless and then `Umar and then `Uthman رضی اللہ عنہ (coming next to him in superiority) and then we used not to differentiate between the companions of the Prophet. Without giving them superiority to one another, Abdullah (bin Sualih) has also reported from Abdul Azeez in the same way.
مجھ سے محمد بن حاتم بن بزیع نے بیان کیا ، کہا ہم سے شاذان نے بیان کیا ، کہا ہم سے عبدالعزیز بن ابی سلمہ ماجشون نے بیان کیا ، ان سے عبیداللہ نے ، ان سے نافع نے اور ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں ہم حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے برابر کسی کونہیں قرار دیتے تھے ۔ پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو پھر حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو ۔ اس کے بعد حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ پر ہم کوئی بحث نہیں کرتے تھے اور کسی کوایک دوسرے پر فضیلت نہیں دیتے تھے ، اس حدیث کو عبداللہ بن صالح نے بھی عبدالعزیز سے روایت کیا ہے ۔
Narrated `Uthman (the son of Muhib):
An Egyptian who came and performed the Hajj to the Ka`ba saw some people sitting. He enquire, "Who are these people?" Somebody said, "They are the tribe of Quraish." He said, "Who is the old man sitting amongst them?" The people replied, "He is `Abdullah bin `Umar رضی اللہ عنہما." He said, "O Ibn `Umar! I want to ask you about something; please tell me about it. Do you know that `Uthman رضی اللہ عنہ fled away on the day (of the battle) of Uhud?" Ibn `Umar رضی اللہ عنہما said, "Yes." The (Egyptian) man said, "Do you know that `Uthman رضی اللہ عنہ was absent on the day (of the battle) of Badr and did not join it?" Ibn `Umar said, "Yes." The man said, "Do you know that he failed to attend the Ar Ridwan pledge and did not witness it (i.e. Hudaibiya pledge of allegiance)?" Ibn `Umar رضی اللہ عنہما said, "Yes." The man said, "Allahu Akbar!" Ibn `Umar رضی اللہ عنہما said, "Let me explain to you (all these three things). As for his flight on the day of Uhud, I testify that Allah has excused him and forgiven him; and as for his absence from the battle of Badr, it was due to the fact that the daughter of Allah's Messenger (ﷺ) was his wife and she was sick then. Allah's Messenger (ﷺ) said to him, "You will receive the same reward and share (of the booty) as anyone of those who participated in the battle of Badr (if you stay with her).' As for his absence from the Ar-Ridwan pledge of allegiance, had there been any person in Mecca more respectable than `Uthman رضی اللہ عنہ (to be sent as a representative). Allah's Messenger (ﷺ) would have sent him instead of him. No doubt, Allah's Messenger (ﷺ) had sent him, and the incident of the Ar-Ridwan pledge of Allegiance happened after `Uthman رضی اللہ عنہ had gone to Mecca. Allah's Messenger (ﷺ) held out his right hand saying, 'This is `Uthman's hand.' He stroke his (other) hand with it saying, 'This (pledge of allegiance) is on the behalf of `Uthman رضی اللہ عنہ .' Then Ibn `Umar رضی اللہ عنہما said to the man, 'Bear (these) excuses in mind with you.'
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا ، کہا ہم سے ابوعوانہ نے ، کہا ہم سے عثمان بن موہب نے بیان کیا کہ
مصر والوں میں سے ایک نام نامعلوم آدمی آیا اور حج بیت اللہ کیا ، پھر کچھ لوگوں کو بیٹھے ہوئے دیکھا تو اس نے پوچھا کہ یہ کون لوگ ہیں ؟ کسی نے کہا کہ یہ قریشی ہیں ۔ اس نے پوچھا کہ ان میں بزرگ کون صاحب ہیں ؟ لوگوں نے بتایا کہ یہ عبداللہ بن عمر ہیں ۔ اس نے پوچھا ۔ اے ابن عمر ! میں آپ سے ایک بات پوچھنا چاہتا ہوں ۔ امید ہے کہ آپ مجھے بتائیں گے ۔ کیا آپ کو معلوم ہے کہ عثمان رضی اللہ عنہ نے احد کی لڑائی سے راہ فرار اختیار کی تھی ؟ ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ ہاں ایسا ہوا تھا ۔ پھر انہوں نے پوچھا : کیا آپ کو معلوم ہے کہ وہ بدرکی لڑائی میں شریک نہیں ہوئے تھے ؟ جواب دیا کہ ہاں ایسا ہوا تھا ۔ اس نے پوچھا کیا آپ کو معلوم ہے کہ وہ بیعت رضوان میں بھی شریک نہیں تھے ۔ جواب دیا کہ ہاں یہ بھی صحیح ہے ۔ یہ سن کر اس کی زبان سے نکلا اللہ اکبر تو ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا کہ قریب آ جاؤ ، اب میں تمہیں ان واقعات کی تفصیل سمجھاؤں گا ۔ احد کی لڑائی سے فرار کے متعلق میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں معاف کر دیا ہے ۔ بدر کی لڑائی میں شریک نہ ہونے کی وجہ یہ ہے کہ ان کے نکاح میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی تھیں اور اس وقت وہ بیمار تھیں اور حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ تمہیں ( مریضہ کے پاس ٹھہرنے کا ) اتنا ہی اجر و ثواب ملے گا جتنا اس شخص کو جو بدر کی لڑائی میں شریک ہو گا اور اسی کے مطابق مال غنیمت سے حصہ بھی ملے گا اور بیعت رضوان میں شریک نہ ہونے کی وجہ یہ ہے کہ اس موقع پر وادی مکہ میں کوئی بھی شخص ( مسلمانوں میں سے ) عثمان رضی اللہ عنہ سے زیادہ عزت والا اور بااثر ہوتا تو حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اسی کو ان کی جگہ وہاں بھیجتے ، یہی وجہ ہوئی تھی کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ( قریش سے باتیں کرنے کے لیے ) مکہ بھیج دیا تھا اور جب بیعت رضوان ہو رہی تھی تو عثمان رضی اللہ عنہ مکہ جا چکے تھے ، اس موقع پر حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے داہنے ہاتھ کو اٹھا کر فرمایا تھا کہ یہ عثمان کا ہاتھ ہے اور پھر اسے اپنے دوسرے ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر فرمایا تھا کہ یہ بیعت عثمان کی طرف سے ہے ۔ اس کے بعد ابن عمر رضی اللہ عنہما نے سوال کرنے والے شخص سے فرمایا کہ جا ، ان باتوں کو ہمیشہ یاد رکھنا ۔
Narrated Anas رضی اللہ عنہ :
The Prophet (ﷺ) ascended the mountain of Uhud and Abu Bakr, `Umar and `Uthman رضی اللہ عنہم were accompanying him. The mountain gave a shake (i.e. trembled underneath them) . The Prophet (ﷺ) said, "O Uhud ! Be calm." I think that the Prophet (ﷺ) hit it with his foot, adding, "For upon you there are none but a Prophet, a Siddiq and two martyrs."
ہہم سے مسدد نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم سے یحییٰ نے بیان کیا ، ان سے سعید نے ، ان سے قتادہ نے اور ان سے انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب احد پہاڑ پر چڑھے اور آپ کے ساتھ ابوبکر ، عمر اور عثمان رضی اللہ عنہم بھی تھے تو پہاڑ کا نپنے لگا ۔ آپ نے اس پر فرمایا احد ٹھہر جا ۔ میرا خیال ہے کہ حضور نے اسے اپنے پاؤں سے مارا بھی تھا کہ تجھ پر ایک نبی ، ایک صدیق اور دوشہید ہی تو ہیں ۔
Narrated `Amr bin Maimun:
I saw `Umar bin Al-Khattab رضی اللہ عنہ a few days before he was stabbed in Medina. He was standing with Hudhaifa bin Al-Yaman and `Uthman bin Hunaif رضی اللہ عنہما to whom he said, "What have you done? Do you think that you have imposed more taxation on the land (of As-Swad i.e. 'Iraq) than it can bear?" They replied, "We have imposed on it what it can bear because of its great yield." `Umar رضی اللہ عنہ again said, "Check whether you have imposed on the land what it can not bear." They said, "No, (we haven't)." `Umar رضی اللہ عنہ added, "If Allah should keep me alive I will let the widows of Iraq need no men to support them after me." But only four days had elapsed when he was stabbed (to death ). The day he was stabbed, I was standing and there was nobody between me and him (i.e. `Umar رضی اللہ عنہ) except `Abdullah bin `Abbas رضی اللہ عنہما . Whenever `Umar رضی اللہ عنہ passed between the two rows, he would say, "Stand in straight lines." When he saw no defect (in the rows), he would go forward and start the prayer with Takbir. He would recite Surat Yusuf or An-Nahl or the like in the first rak`a so that the people may have the time to Join the prayer. As soon as he said Takbir, I heard him saying, "The dog has killed or eaten me," at the time he (i.e. the murderer) stabbed him. A non-Arab infidel proceeded on carrying a double-edged knife and stabbing all the persons he passed by on the right and left (till) he stabbed thirteen persons out of whom seven died. When one of the Muslims saw that, he threw a cloak on him. Realizing that he had been captured, the non-Arab infidel killed himself, `Umar رضی اللہ عنہ held the hand of `Abdur-Rahman bin `Auf and let him lead the prayer. Those who were standing by the side of `Umar رضی اللہ عنہ saw what I saw, but the people who were in the other parts of the Mosque did not see anything, but they lost the voice of `Umar رضی اللہ عنہ and they were saying, "Subhan Allah! Subhan Allah! (i.e. Glorified be Allah)." `Abdur-Rahman bin `Auf led the people a short prayer. When they finished the prayer, `Umar رضی اللہ عنہ said, "O Ibn `Abbas! Find out who attacked me." Ibn `Abbas رضی اللہ عنہما kept on looking here and there for a short time and came to say. "The slave of Al Mughira." On that `Umar رضی اللہ عنہ said, "The craftsman?" Ibn `Abbas رضی اللہ عنہما said, "Yes." `Umar رضی اللہ عنہ said, "May Allah curse him. I did not treat him unjustly. All the Praises are for Allah Who has not caused me to die at the hand of a man who claims himself to be a Muslim. No doubt, you and your father (Abbas) used to love to have more non-Arab infidels in Medina." Al-Abbas had the greatest number of slaves. Ibn `Abbas said to `Umar رضی اللہ عنہ. "If you wish, we will do." He meant, "If you wish we will kill them." `Umar رضی اللہ عنہ said, "You are mistaken (for you can't kill them) after they have spoken your language, prayed towards your Qibla, and performed Hajj like yours." Then `Umar رضی اللہ عنہ was carried to his house, and we went along with him, and the people were as if they had never suffered a calamity before. Some said, "Do not worry (he will be Alright soon)." Some said, "We are afraid (that he will die)." Then an infusion of dates was brought to him and he drank it but it came out (of the wound) of his belly. Then milk was brought to him and he drank it, and it also came out of his belly. The people realized that he would die. We went to him, and the people came, praising him. A young man came saying, "O chief of the believers! Receive the glad tidings from Allah to you due to your company with Allah's Messenger (ﷺ) and your superiority in Islam which you know. Then you became the ruler (i.e. Caliph) and you ruled with justice and finally you have been martyred." `Umar رضی اللہ عنہ said, "I wish that all these privileges will counterbalance (my shortcomings) so that I will neither lose nor gain anything." When the young man turned back to leave, his clothes seemed to be touching the ground. `Umar رضی اللہ عنہ said, "Call the young man back to me." (When he came back) `Umar رضی اللہ عنہ said, "O son of my brother! Lift your clothes, for this will keep your clothes clean and save you from the Punishment of your Lord." `Umar رضی اللہ عنہ further said, "O `Abdullah bin `Umar رضی اللہ عنہما ! See how much I am in debt to others." When the debt was checked, it amounted to approximately eighty-six thousand. `Umar رضی اللہ عنہ said, "If the property of `Umar's family covers the debt, then pay the debt thereof; otherwise request it from Bani `Adi bin Ka`b, and if that too is not sufficient, ask for it from Quraish tribe, and do not ask for it from any one else, and pay this debt on my behalf." `Umar رضی اللہ عنہ then said (to `Abdullah), "Go to `Aisha (the mother of the believers) and say: "`Umar رضی اللہ عنہ is paying his salutation to you. But don't say: 'The chief of the believers,' because today I am not the chief of the believers. And say: "`Umar رضی اللہ عنہ bin Al-Khattab asks the permission to be buried with his two companions (i.e. the Prophet, and Abu Bakr)." `Abdullah greeted `Aisha رضی اللہ عنہا and asked for the permission for entering, and then entered to her and found her sitting and weeping. He said to her, "`Umar bin Al-Khattab رضی اللہ عنہ is paying his salutations to you, and asks the permission to be buried with his two companions." She said, "I had the idea of having this place for myself, but today I prefer `Umar رضی اللہ عنہ to myself." When he returned it was said (to `Umar رضی اللہ عنہ), "`Abdullah bin `Umar رضی اللہ عنہ has come." `Umar رضی اللہ عنہ said, "Make me sit up." Somebody supported him against his body and `Umar رضی اللہ عنہ asked (`Abdullah), "What news do you have?" He said, "O chief of the believers! It is as you wish. She has given the permission." `Umar رضی اللہ عنہ said, "Praise be to Allah, there was nothing more important to me than this. So when I die, take me, and greet `Aisha and say: "`Umar bin Al-Khattab رضی اللہ عنہ asks the permission (to be buried with the Prophet (ﷺ) ), and if she gives the permission, bury me there, and if she refuses, then take me to the grave-yard of the Muslims." Then Hafsa (the mother of the believers) came with many other women walking with her. When we saw her, we went away. She went in (to `Umar رضی اللہ عنہ) and wept there for sometime. When the men asked for permission to enter, she went into another place, and we heard her weeping inside. The people said (to `Umar رضی اللہ عنہ), "O chief of the believers! Appoint a successor." `Umar رضی اللہ عنہ said, "I do not find anyone more suitable for the job than the following persons or group whom Allah's Messenger (ﷺ) had been pleased with before he died." Then `Umar رضی اللہ عنہ mentioned `Ali, `Uthman, Az Zubair, Talha, Sa`d and `Abdur-Rahman (bin `Auf) and said, "Abdullah bin `Umar رضی اللہ عنہ will be a witness to you, but he will have no share in the rule. His being a witness will compensate him for not sharing the right of ruling. If Sa`d becomes the ruler, it will be alright: otherwise, whoever becomes the ruler should seek his help, as I have not dismissed him because of disability or dishonesty." `Umar رضی اللہ عنہ added, "I recommend that my successor takes care of the early emigrants; to know their rights and protect their honor and sacred things. I also recommend that he be kind to the Ansar who had lived in Medina before the emigrants and Belief had entered their hearts before them. I recommend that the (ruler) should accept the good of the righteous among them and excuse their wrong-doers, and I recommend that he should do good to all the people of the towns (Al-Ansar), as they are the protectors of Islam and the source of wealth and the source of annoyance to the enemy. I also recommend that nothing be taken from them except from their surplus with their consent. I also recommend that he do good to the 'Arab bedouin, as they are the origin of the 'Arabs and the material of Islam. He should take from what is inferior, amongst their properties and distribute that to the poor amongst them. I also recommend him concerning Allah's and His Apostle's protectees (i.e. Dhimmis) to fulfill their contracts and to fight for them and not to overburden them with what is beyond their ability." So when `Umar رضی اللہ عنہ expired, we carried him out and set out walking. `Abdullah bin `Umar رضی اللہ عنہما greeted (`Aisha) and said, "`Umar رضی اللہ عنہ bin Al-Khattab asks for the permission." `Aisha رضی اللہ عنہا said, "Bring him in." He was brought in and buried beside his two companions. When he was buried, the group (recommended by `Umar رضی اللہ عنہ) held a meeting. Then `Abdur-Rahman said, " Reduce the candidates for rulership to three of you." Az-Zubair رضی اللہ عنہ said, "I give up my right to `Ali." Talha said, "I give up my right to `Uthman رضی اللہ عنہ ," Sa`d رضی اللہ عنہ , 'I give up my right to `Abdur-Rahman bin `Auf." `Abdur-Rahman then said (to `Uthman and `Ali), "Now which of you is willing to give up his right of candidacy to that he may choose the better of the (remaining) two, bearing in mind that Allah and Islam will be his witnesses." So both the sheiks (i.e. `Uthman and `Ali رضی اللہ عنہما ) kept silent. `Abdur-Rahman said, "Will you both leave this matter to me, and I take Allah as my Witness that I will not choose but the better of you?" They said, "Yes." So `Abdur-Rahman took the hand of one of them (i.e. `Ali) and said, "You are related to Allah's Messenger (ﷺ) and one of the earliest Muslims as you know well. So I ask you by Allah to promise that if I select you as a ruler you will do justice, and if I select `Uthman as a ruler you will listen to him and obey him." Then he took the other (i.e. `Uthman) aside and said the same to him. When `Abdur-Rahman secured (their agreement to) this covenant, he said, "O `Uthman! Raise your hand." So he (i.e. `Abdur-Rahman) gave him (i.e. `Uthman) the solemn pledge, and then `Ali gave him the pledge of allegiance and then all the (Medina) people gave him the pledge of allegiance.
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا ، کہا ہم سے ابوعوانہ نے بیان کیا ، ان سے حصین نے ، ان سے عمرو بن میمون نے بیان کیا کہ
میں نے حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو زخمی ہونے سے چند دن پہلے مدینہ میں دیکھا کہ وہ حذیفہ بن یمان اور عثمان بن حنیف رضی اللہ عنہما کے ساتھ کھڑے تھے اور ان سے یہ فرما رہے تھے کہ ( عراق کی اراضی کے لیے ، جس کا انتظام خلافت کی جانب سے ان کے سپرد کیا گیا تھا ) تم لوگوں نے کیا کیا ہے ؟ کیا تم لوگوں کو یہ اندیشہ تو نہیں ہے کہ تم نے زمین کا اتنا محصول لگا دیا ہے جس کی گنجائش نہ ہو ۔ ان لوگوں نے جواب دیا کہ ہم نے ان پر خراج کا اتنا ہی بار ڈالا ہے جسے ادا کرنے کی زمین میں طاقت ہے ، اس میں کوئی زیادتی نہیں کی گئی ہے ۔ عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ دیکھو پھر سمجھ لو کہ تم نے ایسی جمع تو نہیں لگائی ہے جو زمین کی طاقت سے باہر ہو ۔ راوی نے بیان کیا کہ ان دونوں نے کہا کہ ایسا نہیں ہونے پائے گا ، اس کے بعد عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ اگر اللہ تعالیٰ نے مجھے زندہ رکھا تو میں عراق کی بیوہ عورتوں کے لیے اتنا کر دوں گا کہ پھر میرے بعد کسی کی محتاج نہیں رہیں گی ۔ راوی عمرو بن میمون نے بیان کیا کہ ابھی اس گفتگو پر چوتھا دن ہی آیا تھا کہ عمر رضی اللہ عنہ زخمی کر دیئے گئے ۔ عمرو بن میمون نے بیان کیا کہ جس صبح کو آپ زخمی کئے گئے ، میں ( فجر کی نماز کے انتظار میں ) صف کے اندر کھڑا تھا اور میرے اور ان کے درمیان عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے سوا اور کوئی نہیں تھا حضرت عمر کی عادت تھی کہ جب صف سے گزرتے تو فرماتے جاتے کہ صفیں سیدھی کر لو اور جب دیکھتے کہ صفوں میں کوئی خلل نہیں رہ گیا ہے تب آگے ( مصلی پر ) بڑھتے اور تکبیر کہتے ۔ آپ ( فجر کی نماز کی ) پہلی رکعت میں عموماً سورۃ یوسف یا سورۃ النحل یا اتنی ہی طویل کوئی سورت پڑھتے یہاں تک کہ لوگ جمع ہو جاتے ۔ اس دن ابھی آپ نے تکبیر ہی کہی تھی کہ میں نے سنا ، آپ فرما رہے ہیں کہ مجھے قتل کر دیا یا کتے نے کاٹ لیا ۔ ابولولو نے آپ کو زخمی کر دیا تھا ۔ اس کے بعد وہ بدبخت اپنا دو دھاری خنجر لیے دوڑنے لگا اور دائیں اور بائیں جدھر بھی پھرتا تو لوگوں کو زخمی کرتا جاتا ۔ اس طرح اس نے تیرہ آدمیوں کو زخمی کر دیا جن میں سات حضرات نے شہادت پائی ۔ مسلمانوں میں سے ایک صاحب ( حطان نامی ) نے یہ صورت حال دیکھی تو انہوں نے اس پر اپنی چادر ڈال دی ۔ اس بدبخت کو جب یقین ہو گیا کہ اب پکڑ لیا جائے گا تو اس نے خود اپنا بھی گلا کاٹ لیا ، پھرعمر رضی اللہ عنہ نے عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ کا ہا تھ پکڑ کر انہیں آگے بڑھا دیا ( عمرو بن میمون نے بیان کیا کہ ) جو لوگ عمر رضی اللہ عنہ کے قریب تھے انہوں نے بھی وہ صورت حال دیکھی جو میں دیکھ رہا تھا لیکن جو لوگ مسجد کے کنارے پر تھے ( پیچھے کی صفوں میں ) تو انہیں کچھ معلوم نہیں ہو سکا ، البتہ چونکہ عمر رضی اللہ عنہ کی قرآت ( نماز میں ) انہوں نے نہیں سنی تو سبحان اللہ ! سبحان اللہ ! کہتے رہے ۔ آخر حضرت عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ نے لوگوں کو بہت ہلکی نماز پڑھائی ۔ پھر جب لوگ نماز سے پلٹے تو عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : ابن عباس ! دیکھو مجھے کس نے زخمی کیا ہے ؟ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے تھوڑی دیر گھوم پھر کر دیکھا اور آ کر فرمایا کہ مغیرہ رضی اللہ عنہ کے غلام ( ابولولو ) نے آپ کو زخمی کیا ہے ، عمر رضی اللہ عنہ نے دریافت فرمایا ، وہی جو کاریگر ہے ؟ جواب دیا کہ جی ہاں ، اس پر عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا خدا اسے برباد کرے میں نے تو اسے اچھی بات کہی تھی ( جس کا اس نے یہ بدلا دیا ) اللہ تعالیٰ کا شکر ہے کہ اس نے میری موت کسی ایسے شخص کے ہاتھوں نہیں مقدر کی جو اسلام کا مدعی ہو ۔ تم اور تمہارے والد ( عباس رضی اللہ عنہ ) اس کے بہت ہی خواہشمند تھے کہ عجمی غلام مدینہ میں زیادہ سے زیادہ لائے جائیں ۔ یوں بھی ان کے پاس غلام بہت تھے ، اس پر ابن عباس رضی اللہ عنہما نے عرض کیا ، اگر آپ فرمائیں تو ہم بھی کرگزریں ، مقصد یہ تھا کہ اگر آپ چاہیں تو ہم ( مدینہ میں مقیم عجمی غلاموں کو ) قتل کر ڈالیں ۔ عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : یہ انتہائی غلط فکر ہے ، خصوصاً جب کہ تمہاری زبان میں وہ گفتگو کرتے ہیں ، تمہارے قبلہ کی طرف رخ کر کے نماز ادا کرتے ہیں اور تمہاری طرح حج کرتے ہیں ۔ پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو ان کے گھر اٹھا کر لایا گیا اور ہم آپ کے ساتھ ساتھ آئے ۔ ایسا معلوم ہوتا تھا جیسے لوگوں پر کبھی اس سے پہلے اتنی بڑی مصیبت آئی ہی نہیں تھی ، بعض تو یہ کہتے تھے کہ کچھ نہیں ہو گا ۔ ( اچھے ہو جائیں گے ) اور بعض کہتے تھے کہ آپ کی زندگی خطرہ میں ہے ۔ اس کے بعد کھجور کا پانی لایا گیا ۔ اسے آپ نے پیا تو وہ آپ کے پیٹ سے باہر نکل آیا ۔ پھر دودھ لایا گیا اسے بھی جوں ہی آپ نے پیا زخم کے راستے وہ بھی باہر نکل آیا ۔ اب لوگوں کو یقین ہو گیا کہ آپ کی شہادت یقینی ہے ۔ پھر ہم اندر آ گئے اور لوگ آپ کی تعریف بیان کرنے لگے ، اتنے میں ایک نوجوان اندر آیا اور کہنے لگا یا امیرالمؤمنین ! آپ کو خوشخبری ہو اللہ تعالیٰ کی طرف سے آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت اٹھائی ۔ ابتداء میں اسلام لانے کا شرف حاصل کیا جو آپ کو معلوم ہے ۔ پھر آپ خلیفہ بنائے گئے اور آپ نے پورے انصاف سے حکومت کی ، پھر شہادت پائی ، عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا میں تو اس پر بھی خوش تھا کہ ان باتوں کی وجہ سے برابر پر میرا معاملہ ختم ہو جاتا ، نہ ثواب ہوتا اور نہ عذاب ، جب وہ نوجوان جانے لگا تو اس کا تہبند ( ازار ) لٹک رہا تھا ، عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا اس لڑکے کو میرے پاس واپس بلا لاؤ ( جب وہ آئے تو ) آپ نے فرمایا : میرے بھتیجے ! یہ اپنا کپڑا اوپر اٹھائے رکھو کہ اس سے تمہارا کپڑا بھی زیادہ دنوں چلے گا اور تمہارے رب سے تقویٰ کا بھی باعث ہے ۔ اے عبداللہ بن عمر ! دیکھو مجھ پر کتنا قرض ہے ؟ جب لوگوں نے آپ پر قرض کا شمار کیا تو تقریباً چھیاسی ( 86 ) ہزار نکلا ۔ عمر رضی اللہ عنہ نے اس پر فرمایا کہ اگر یہ قرض آل عمر کے مال سے ادا ہو سکے تو انہی کے مال سے اس کو ادا کرنا ورنہ پھر بنی عدی بن کعب سے کہنا ، اگر ان کے مال کے بعد بھی ادائیگی نہ ہو سکے تو قریش سے کہنا ، ان کے سوا کسی سے امداد نہ طلب کرنا اور میری طرف سے اس قرض کو ادا کر دینا ۔ اچھا اب ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کے یہاں جاؤ اور ان سے عرض کرو کہ عمر رضی اللہ عنہ نے آپ کی خدمت میں سلام عرض کیا ہے ۔ امیرالمؤمنین ( میرے نام کے ساتھ ) نہ کہنا ، کیونکہ اب میں مسلمانوں کا امیر نہیں رہا ہوں ، تو ان سے عرض کرنا کہ عمر بن خطاب نے آپ سے اپنے دونوں ساتھیوں کے ساتھ دفن ہونے کی اجازت چاہی ہے ۔ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے ( عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہو کر ) سلام کیا اور اجازت لے کر اندر داخل ہوئے ۔ دیکھا کہ آپ بیٹھی رو رہی ہیں ۔ پھر کہا کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے آپ کو سلام کہا ہے اور اپنے دونوں ساتھیوں کے ساتھ دفن ہونے کی اجازت چاہی ہے ، عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا : میں نے اس جگہ کو اپنے لیے منتخب کر رکھا تھا لیکن آج میں انہیں اپنے پر ترجیح دوں گی ، پھر جب ابن عمر رضی اللہ عنہما واپس آئے تو لوگوں نے بتایا کہ عبداللہ آ گئے تو عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ مجھے اٹھاؤ ۔ ایک صاحب نے سہارادے کر آپ کو اٹھایا ۔ آپ نے دریافت کیاکیا خبر لائے ؟ کہا کہ جو آپ کی تمنا تھی اے امیرالمؤمنین ! حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا الحمدللہ ۔ اس سے اہم چیز اب میرے لیے کوئی نہیں رہ گئی تھی ۔ لیکن جب میری وفات ہو چکے اور مجھے اٹھا کر ( دفن کے لیے ) لے چلو تو پھر میرا سلام ان سے کہنا اور عرض کرنا کہ عمر بن خطاب ( رضی اللہ عنہ ) نے آپ سے اجازت چاہی ہے ۔ اگر وہ میرے لیے اجازت دے دیں تب تو وہاں دفن کرنا اور اگر اجازت نہ دیں تو مسلمانوں کے قبرستان میں دفن کرنا ۔ اس کے بعد ام المؤمنین حفصہ رضی اللہ عنہا آئیں ۔ ان کے ساتھ کچھ دوسری خواتین بھی تھیں ، جب ہم نے انہیں دیکھا تو ہم اٹھ گئے ۔ آپ عمر رضی اللہ عنہ کے قریب آئیں اور وہاں تھوڑی دیر تک آنسو بہاتی رہیں ۔ پھر جب مردوں نے اندر آنے کی اجازت چاہی تو وہ مکان کے اندرونی حصہ میں چلی گئیں اور ہم نے ان کے رونے کی آواز سنی پھر لوگوں نے عرض کیا امیرالمؤمنین ! خلافت کے لیے کوئی وصیت کر دیجئیے ، فرمایا کہ خلافت کا میں ان حضرات سے زیادہ اور کسی کو مستحق نہیں پاتاکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی وفات تک جن سے راضی اور خوش تھے پھر آپ نے علی ، عثمان ، زبیر ، طلحہ ، سعد اور عبدالرحمٰن بن عوف کانام لیا اور یہ بھی فرمایا کہ عبداللہ بن عمر کو بھی صرف مشورہ کی حد تک شریک رکھنا لیکن خلافت سے انہیں کوئی سروکار نہیں رہے گا ۔ جیسے آپ نے ابن عمر رضی اللہ عنہما کی تسکین کے لیے یہ فرمایا ہو ۔ پھر اگر خلافت سعد کو مل جائے تو وہ اس کے اہل ہیں اور اگر وہ نہ ہو سکیں تو جو شخص بھی خلیفہ ہو وہ اپنے زمانہ خلافت میں ان کا تعاون حاصل کرتا رہے ۔ کیونکہ میں نے ان کو ( کوفہ کی گورنری سے ) نااہلی یا کسی خیانت کی وجہ سے معزول نہیں کیا ہے اور عمر نے فرمایا : میں اپنے بعد ہونے والے خلیفہ کو مہاجرین اولین کے بارے میں وصیت کرتا ہوں کہ وہ ان کے حقوق پہچانے اور ان کے احترام کو ملحوظ رکھے اور میں اپنے بعد ہونے والے خلیفہ کو وصیت کرتا ہوں کہ وہ انصار کے ساتھ بہتر معاملہ کرے جو دارالہجرت اور دارالایمان ( مدینہ منورہ ) میں ( رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تشریف آوری سے پہلے سے ) مقیم ہیں ۔ ( خلیفہ کو چاہیے ) کہ وہ ان کے نیکوں کو نوازے اور ان کے بروں کو معاف کر دیا کرے اور میں ہونے والے خلیفہ کو وصیت کرتا ہوں کہ شہری آبادی کے ساتھ بھی اچھا معاملہ رکھے کہ یہ لوگ اسلام کی مدد ، مال جمع کرنے کا ذریعہ اور ( اسلام کے ) دشمنوں کے لیے ایک مصیبت ہیں اور یہ کہ ان سے وہی وصول کیا جائے جو ان کے پاس فاضل ہو اور ان کی خوشی سے لیا جائے اور میں ہونے والے خلیفہ کو بدویوں کے ساتھ بھی اچھا معاملہ کرنے کی وصیت کرتا ہوں کہ وہ اصل عرب ہیں اور اسلام کی جڑ ہیں اور یہ کہ ان سے ان کا بچا کھچا مال وصول کیا جائے اور انہیں کے محتاجوں میں تقسیم کر دیا جائے اور میں ہونے والے خلیفہ کو اللہ اور اس کے رسول کے عہد کی نگہداشت کی ( جو اسلامی حکومت کے تحت غیر مسلموں سے کیا ہے ) وصیت کرتا ہوں کہ ان سے کئے گئے عہد کو پورا کیا جائے ، ان کی حفاظت کے لیے جنگ کی جائے اور ان کی حیثیت سے زیادہ ان پر بوجھ نہ ڈالا جائے ، جب عمر رضی اللہ عنہ کی وفات ہو گئی تو ہم وہاں سے ان کو لے کر ( عائشہ رضی اللہ عنہا ) کے حجرہ کی طرف آئے ۔ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے سلام کیا اور عرض کیا کہ عمربن خطاب رضی اللہ عنہ نے اجازت چاہی ہے ۔ ام المؤمنین نے کہا انہیں یہیں دفن کیا جائے ۔ چنانچہ وہ وہیں دفن ہوئے ، پھر جب لوگ دفن سے فارغ ہو چکے تو وہ جماعت ( جن کے نام عمر رضی اللہ عنہ نے وفات سے پہلے بتائے تھے ) جمع ہوئی عبدالرحمٰن بن عوف نے کہا : تمہیں اپنا معاملہ اپنے ہی میں سے تین آدمیوں کے سپرد کر دینا چاہیے اس پر زبیر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں نے اپنا معاملہ علی رضی اللہ عنہ کے سپر دکیا ۔ طلحہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں اپنا معاملہ عثمان رضی اللہ عنہ کے سپرد کرتا ہوں اور سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں نے اپنا معاملہ عبدالرحمٰن بن عوف کے سپرد کیا ، اس کے بعد عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ نے ( عثمان اور علی رضی اللہ عنہما کو مخاطب کر کے ) کہا کہ آپ دونوں حضرات میں سے جو بھی خلافت سے اپنی برات ظاہر کرے ہم اسی کو خلافت دیں گے اور اللہ اس کا نگراں و نگہبان ہو گا اور اسلام کے حقوق کی ذمہ داری اس پر لازم ہو گی ۔ ہر شخص کو غور کرنا چاہیے کہ اس کے خیال میں کون افضل ہے ، اس پر یہ دونوں حضرات خاموش ہو گئے تو عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ نے کہا : کیا آپ حضرات اس انتخاب کی ذمہ داری مجھ پر ڈالتے ہیں ، خدا کی قسم کہ میں آپ حضرات میں سے اسی کو منتخب کروں گا جو سب میں افضل ہو گا ۔ ان دونوں حضرات نے کہا کہ جی ہاں ، پھر آپ نے ان دونوں میں سے ایک کا ہاتھ پکڑا اور فرمایا کہ آپ کی قرابت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ہے اور ابتداء میں اسلام لانے کا شرف بھی ۔ جیسا کہ آپ کو خود ہی معلوم ہے ، پس اللہ آپ کا نگران ہے کہ اگر میں آپ کو خلیفہ بنا دوں تو کیا آپ عدل وانصاف سے کام لیں گے اور اگر عثمان رضی اللہ عنہ کو خلیفہ بنا دوں تو کیا آپ ان کے احکام سنیں گے اور ان کی اطاعت کریں گے ؟ اس کے بعد دوسرے صاحب کو تنہائی میں لے گئے اور ان سے بھی یہی کہا اور جب ان سے وعدہ لے لیا تو فرمایا : اے عثمان ! اپنا ہاتھ بڑھایئے ۔ چنانچہ انہوں نے ان سے بیعت کی اور علی رضی اللہ عنہ نے بھی ان سے بیعت کی ، پھر اہل مدینہ آئے اور سب نے بیعت کی ۔
Narrated Sahl bin Sa`d رضی اللہ عنہ :
Allah's Messenger (ﷺ) said, "Tomorrow I will give the flag to a man with whose leadership Allah will grant (the Muslim) victory." So the people kept on thinking the whole night as to who would be given the flag. The next morning the people went to Allah's Messenger (ﷺ) and every one of them hoped that he would be given the flag. The Prophet (ﷺ) said, "Where is `Ali bin Abi Talib?" The people replied, "He is suffering from eye trouble, O Allah's Messenger (ﷺ)." He said, "Send for him and bring him to me." So when `Ali came, the Prophet (ﷺ) spat in his eyes and invoked good on him, and be became alright as if he had no ailment. The Prophet (ﷺ) then gave him the flag. `Ali said, "O Allah's Messenger (ﷺ)! Shall I fight them (i.e. enemy) till they become like us?" The Prophet (ﷺ) said, "Proceed to them steadily till you approach near to them and then invite them to Islam and inform them of their duties towards Allah which Islam prescribes for them, for by Allah, if one man is guided on the right path (i.e. converted to Islam) through you, it would be better for you than (a great number of) red camels."
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا ، کہا ہم سے عبدالعزیز نے بیان کیا ، ان سے ابوحازم نے اور ان سے سہل بن سعد رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جنگ خیبر کے موقع پر بیان فرمایا کہ کل میں ایک ایسے شخص کو اسلامی علم دوں گا جس کے ہاتھ پر اللہ تعالیٰ فتح عنایت فرمائے گا ، راوی نے بیان کیا کہ رات کو لوگ یہ سوچتے رہے کہ دیکھئیے علم کسے ملتا ہے ، جب صبح ہوئی تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں سب حضرات ( جو سرکردہ تھے ) حاضر ہوئے ، سب کو امید تھی کہ علم انہیں ہی ملے گا ، لیکن حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا ، علی بن ابی طالب کہاں ہیں ؟ لوگوں نے بتایا کہ ان کی آنکھوں میں درد ہے ، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر ان کے یہاں کسی کو بھیج کر بلوا لو ، جب وہ آئے تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی آنکھ میں اپنا تھوک ڈالا اور ان کے لیے دعا فرمائی ، اس سے انہیں ایسی شفاء حاصل ہوئی جیسے کوئی مرض پہلے تھا ہی نہیں ، چنانچہ آپ نے علم انہیں کو عنایت فرمایا ، حضرت علی رضی اللہ عنہ نے عرض کیا یا رسول اللہ ! میں ان سے اتنا لڑوں گا کہ وہ ہمارے جیسے ہو جائیں ( یعنی مسلمان بن جائیں ) آپ نے فرمایا : ابھی یوں ہی چلتے رہو ، جب ان کے میدان میں اترو تو پہلے انہیں اسلام کی دعوت دو اور انہیں بتاو کہ اللہ کے ان پر کیا حقوق واجب ہیں ، خدا کی قسم اگر تمہارے ذریعہ اللہ تعالیٰ ایک شخص کو بھی ہدایت دیدے تو وہ تمہارے لیے سرخ اونٹوں ( کی دولت ) سے بہتر ہے ۔
Narrated Salama رضی اللہ عنہ :
`Ali رضی اللہ عنہ happened to stay behind the Prophet (ﷺ) and (did not join him) during the battle of Khaibar for he was having eye trouble. Then he said, "How could I remain behind Allah's Messenger (ﷺ)?" So `Ali set out following the Prophet (ﷺ) , When it was the eve of the day in the morning of which Allah helped (the Muslims) to conquer it, Allah's Messenger (ﷺ) said, "I will give the flag (to a man), or tomorrow a man whom Allah and His Apostle love will take the flag," or said, "A man who loves Allah and His Apostle; and Allah will grant victory under his leadership." Suddenly came `Ali رضی اللہ عنہ whom we did not expect. The people said, "This is `Ali رضی اللہ عنہ ." Allah's Messenger (ﷺ) gave him the flag and Allah granted victory under his leadership.
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا ، ان سے حاتم نے بیان کیا ، ان سے یزید بن ابی عبید نے بیان کیا ، ان سے سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ
حضرت علی رضی اللہ عنہ غزوہ خیبر کے موقع پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بوجہ آنکھ دکھنے کے نہیں آ سکے تھے ، پھر انہوں نے سوچا میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ غزوہ میں شریک نہ ہو سکوں ! چنانچہ گھر سے نکلے اور آپ کے لشکر سے جا ملے ، جب اس رات کی شام آئی جس کی صبح کو اللہ تعالیٰ نے فتح عنایت فرمائی تھی تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : کل میں ایک ایسے شخص کو علم دوں گا یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یوں فرمایا کہ کل ) ایک ایسا شخص علم کو لے گا جس سے اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو محبت ہے یا آپ نے یہ فرمایا کہ جو اللہ اور اس کے رسول سے محبت رکھتا ہے اور اللہ تعالیٰ اس کے ہاتھ پر فتح عنایت فرمائے گا ، اتفاق سے حضرت علی رضی اللہ عنہ آ گئے ، حالانکہ ان کے آنے کی ہمیں امید نہیں تھی لوگوں نے بتایا کہ یہ ہیں علی رضی اللہ عنہ ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے علم انہیں دے دیا ، اور اللہ تعالیٰ نے ان کے ہاتھ پر خیبر کو فتح کرا دیا ۔
Narrated Abu Hazim:
A man came to Sahl bin Sa`d رضی اللہ عنہ and said, "This is so-and-so," meaning the Governor of Medina, "He is calling `Ali رضی اللہ عنہ bad names near the pulpit." Sahl رضی اللہ عنہ asked, "What is he saying?" He (i.e. the man) replied, "He calls him (i.e. `Ali) Abu Turab." Sahl رضی اللہ عنہ laughed and said, "By Allah, none but the Prophet (ﷺ) called him by this name and no name was dearer to `Ali than this." So I asked Sahl رضی اللہ عنہ to tell me more, saying, "O Abu `Abbas! How (was this name given to `Ali)?" Sahl said, "`Ali went to Fatima رضی اللہ عنہا and then came out and slept in the Mosque. The Prophet (ﷺ) asked Fatima رضی اللہ عنہا , "Where is your cousin?" She said, "In the Mosque." The Prophet (ﷺ) went to him and found that his (i.e. `Ali's) covering sheet had slipped of his back and dust had soiled his back. The Prophet (ﷺ) started wiping the dust off his back and said twice, "Get up! O Abu Turab (i.e. O. man with the dust).
ہم سے عبداللہ بن مسلمہ نے بیان کیا ، کہا ہم سے عبدالعزیز بن ابی حازم نے بیان کیا ، ان سے ان کے والد نے کہ
ایک شخص حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ کے یہاں آیا اور کہا کہ یہ فلاں شخص اس کا اشارہ امیر مدینہ ( مروان بن حکم ) کی طرف تھا ، برسر منبر حضرت علی رضی اللہ عنہ کو برابھلا کہتا ہے ، ابوحازم نے بیان کیا کہ حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ نے پوچھا کیا کہتا ہے ؟ اس نے بتایا کہ انہیں ” ابوتراب “ کہتا ہے ، اس پر حضرت سہل ہنسنے لگے اور فرمایا کہ خدا کی قسم ! یہ نام تو ان کا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رکھا تھا اور خود حضرت علی رضی اللہ عنہ کو اس نام سے زیادہ اپنے لیے اور کوئی نام پسند نہیں تھا ۔ یہ سن کر میں نے اس حدیث کے جاننے کے لیے حضرت سہل رضی اللہ عنہ سے خواہش ظاہر کی اور عرض کیا اے ابوعباس ! یہ واقعہ کس طرح سے ہے ؟ انہوں نے بیان کیا کہ ایک مرتبہ حضرت علی رضی اللہ عنہ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کے یہاں آئے اور پھر باہر آ کر مسجد میں لیٹ رہے ، پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ( فاطمہ رضی اللہ عنہا سے ) دریافت فرمایا ، تمہارے چچا کے بیٹے کہاں ہیں ؟ انہوں نے بتایا کہ مسجد میں ہیں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں تشریف لائے ، دیکھا تو ان کی چادر پیٹھ سے نیچے گر گئی ہے اور ان کی کمر پر اچھی طرح سے خاک لگ چکی ہے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم مٹی ان کی کمر سے صاف فرمانے لگے اور بولے ، اٹھو اے ابوتراب اٹھو ( دو مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ) ۔
Narrated Sa`d bin 'Ubaida:
A man came to Ibn `Umar رضی اللہ عنہما and asked about `Uthman رضی اللہ عنہ and Ibn `Umar رضی اللہ عنہما mentioned his good deeds and said to the questioner. "Perhaps these facts annoy you?" The other said, "Yes." Ibn `Umar رضی اللہ عنہما said, "May Allah stick your nose in the dust (i.e. degrade you)!' Then the man asked him about `Ali رضی اللہ عنہ . Ibn `Umar رضی اللہ عنہما mentioned his good deeds and said, "It is all true, and that is his house in the midst of the houses of the Prophet. Perhaps these facts have hurt you?" The questioner said, "Yes." Ibn `Umar رضی اللہ عنہما said, "May Allah stick your nose in the dust (i.e. degrade you or make you do things which you hate) ! Go away and do whatever you can against me."
ہم سے محمد بن رافع نے بیان کیا ، کہا ہم سے حسین نے ، ان سے زائدۃ نے ، ان سے ابوحصین نے ، ان سے سعد بن عبیدہ نے بیان کیا کہ
ایک شخص عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کی خدمت میں آیا اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے متعلق پوچھا ، ابن عمر رضی اللہ عنہما نے ان کے محاسن کا ذکر کیا ، پھر کہا کہ شاید یہ باتیں تمہیں بری لگی ہوں گی ، اس نے کہا جی ہاں ، حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا اللہ تیری ناک خاک آلودہ کرے پھر اس نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کے متعلق پوچھا ، انہوں نے ان کے بھی محاسن ذکر کئے اور کہا کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کا گھرانہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے خاندان کا نہایت عمدہ گھرانہ ہے ، پھر کہا شاید یہ باتیں بھی تمہیں بری لگی ہوں گی ، اس نے کہا کہ جی ہاں ، حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بولے اللہ تیری ناک خاک آلودہ کرے ، جا ، اور میرا جو بگاڑنا چاہے بگاڑ لینا ، کچھ کمی نہ کرنا ۔
Narrated `Ali رضی اللہ عنہ :
Fatima رضی اللہ عنہا complained of the suffering caused to her by the hand mill. Some Captives were brought to the Prophet, she came to him but did not find him at home `Aisha رضی اللہ عنہا was present there to whom she told (of her desire for a servant). When the Prophet (ﷺ) came, Aisha رضی اللہ عنہا informed him about Fatima's visit. `Ali added "So the Prophet (ﷺ) came to us, while we had gone to our bed I wanted to get up but the Prophet (ﷺ) said, "Remain at your place". Then he sat down between us till I found the coolness of his feet on my chest. Then he said, "Shall I teach you a thing which is better than what you have asked me? When you go to bed, say, 'Allahu-Akbar' thirty-four times, and 'Subhan Allah thirty-three times, and 'Al hamdu-li l-lah thirty-three times for that is better for you both than a servant."
ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا ، کہا ہم سے غندر نے بیان کیا ، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا ، ان سے حکم نے ، انہوں نے ابن ابی لیلیٰ سے سنا ، کہا ہم سے حضرت علی رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ
حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا نے ( نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ) چکی پیسنے کی تکلیف کی شکایت کی ، اس کے بعد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کچھ قیدی آئے تو حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا آپ کے پاس آئیں لیکن آپ موجود نہیں تھے ۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے ان کی ملاقات ہوئی تو ان سے اس کے بارے میں انہوں نے بات کی جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کے آنے کی اطلاع دی ، اس پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم خود ہمارے گھر تشریف لائے ، اس وقت ہم اپنے بستروں پر لیٹ چکے تھے ، میں نے چاہا کہ کھڑا ہو جاؤں لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یوں ہی لیٹے رہو ، اس کے بعد آپ ہم دونوں کے درمیان بیٹھ گئے اور میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قدموں کی ٹھنڈک اپنے سینے میں محسوس کی ، ۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم لوگوں نے مجھ سے جو طلب کیا ہے کیا میں تمہیں اس سے اچھی بات نہ بتاؤں ، جب تم سونے کے لیے بستر پر لیٹو تو چونتیس مرتبہ اللہ اکبر ، تینتیس مرتبہ سبحان اللہ اور تینتیس مرتبہ الحمدللہ پڑھ لیا کرو ، یہ عمل تمہارے لیے کسی خادم سے بہترہے ۔
Narrated Saad:
The Prophet (ﷺ) said to 'Ali رضی اللہ عنہ , "Will you not be pleased from this that you are to me like Aaron was to Moses علیہ السلام?"
مجھ سے محمد بن بشار نے بیان کیا ، کہا ہم سے غندر نے بیان کیا ، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا ، ان سے سعد نے ، انہوں نے ابراہیم بن سعد سے سنا ، ان سے ان کے والد نے بیان کیا کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا کہ کیا تم اس پر خوش نہیں ہو کہ تم میرے لیے ایسے ہو جیسے حضرت موسیٰ علیہ السلام کے لیے حضرت ہارون علیہ السلام تھے ۔
Narrated Ubaida:
Ali رضی اللہ عنہ said (to the people of 'Iraq), "Judge as you used to judge, for I hate differences (and I do my best ) till the people unite as one group, or I die as my companions have died." Imam Ibn-e-Sireen thinks that most of the narrations about Hadrat Ali رضی اللہ عنہ are fabricated.
ہم سے علی بن جعد نے بیان کیا ، کہا ہم کو شعبہ نے خبر دی ، انہیں ایوب نے ، انہیں ابن سیرین نے ، انہیں عبیدہ نے کہ
حضرت علی رضی اللہ عنہ نے عراق والوں سے کہا کہ جس طرح تم پہلے فیصلہ کیا کرتے تھے اب بھی کیا کرو کیونکہ میں اختلاف کو برا جانتا ہوں ۔ اس وقت تک کہ سب لوگ جمع ہو جائیں یا میں بھی اپنے ساتھیوں ( ابوبکر وعمر رضی اللہ عنہما ) کی طرح دنیا سے چلا جاؤں ، ابن سیرین رحمہ اللہ کہا کرتے تھے کہ عام لوگ ( روافض ) جو حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایات ( شیخین کی مخالفت میں ) بیان کرتے ہیں وہ قطعا جھوٹی ہیں ۔
Narrated Abu Huraira رضی اللہ عنہ :
The people used to say, "Abu Huraira رضی اللہ عنہ narrates too many narrations." In fact I used to keep close to Allah's Messenger (ﷺ) and was satisfied with what filled my stomach. I ate no leavened bread and dressed no decorated striped clothes, and never did a man or a woman serve me, and I often used to press my belly against gravel because of hunger, and I used to ask a man to recite a Qur'anic Verse to me although I knew it, so that he would take me to his home and feed me. And the most generous of all the people to the poor was Ja`far bin Abi Talib رضی اللہ عنہ . He used to take us to his home and offer us what was available therein. He would even offer us an empty folded leather container (of butter) which we would split and lick whatever was in it.
ہم سے احمد بن ابی بکر نے بیان کیا ، کہا ہم سے محمد بن ابراہیم بن دینار ابوعبداللہ جہنی نے بیان کیا ، ان سے ابن ابی ذئب نے ، ان سے سعید مقبری نے اور ان سے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ
لوگ کہتے ہیں کہ ابوہریر ہ ( رضی اللہ عنہ ) بہت احادیث بیان کرتا ہے ، حالانکہ پیٹ بھرنے کے بعد میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہروقت رہتا تھا ، میں خمیری روٹی نہ کھاتا اور نہ عمدہ لباس پہنتا تھا ( یعنی میرا وقت علم کے سوا کسی دوسری چیز کے حاصل کرنے میں نہ جاتا ) اور نہ میری خدمت کے لیے کوئی فلاں یا فلانی تھی بلکہ میں بھوک کی شدت کی وجہ سے اپنے پیٹ سے پتھر باندھ لیا کرتا ۔ بعض وقت میں کسی کو کوئی آیت اس لیے پڑھ کر اس کا مطلب پوچھتا تھا کہ وہ اپنے گھر لے جا کر مجھے کھانا کھلا دے ، حالانکہ مجھے اس آیت کا مطلب معلوم ہوتا تھا ، مسکینوں کے ساتھ سب سے بہتر سلوک کرنے والے حضرت جعفر بن ابی طالب رضی اللہ عنہ تھے ، ہمیں اپنے گھر لے جاتے اور جو کچھ بھی گھر میں موجود ہوتا وہ ہم کو کھلاتے ۔ بعض اوقات تو ایسا ہوتا کہ صرف شہد یا گھی کی کپی ہی نکال کر لاتے اور اسے ہم پھاڑ کر اس میں جو کچھ ہوتا اسے ہی چاٹ لیتے ۔
Narrated Ash-Shu`bi:
Whenever Ibn `Umar رضی اللہ عنہما greeted Ibn Jafar رضی اللہ عنہ , he used to say: "As-salamu-'Alaika (i.e. Peace be on you) O son of Dhu-l-Janahain (son of the two-winged person).
ہم سے عمرو بن علی نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم سے یزید بن ہارون نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم سے اسماعیل بن ابی خالد نے بیان کیا ، انہیں شعبی نے خبر دی کہ
جب حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما حضرت جعفر رضی اللہ عنہ کے صاحبزادے کو سلام کرتے تو یوں کہا کرتے ” السلام علیک یا ابن ذی الجناحین “ اے دو پروں والے بزرگ کے صاحبزادے تم پر سلام ہو ، ابوعبداللہ امام بخاری رحمہ اللہ نے کہا حدیث میں جو جناحین کا لفظ ہے اس سے مراد دو گوشے ہیں ( دوکونے ) ۔
Narrated Anas رضی اللہ عنہ :
Whenever there was drought, `Umar bin Al-Khattab رضی اللہ عنہ used to ask Allah for rain through Al-`Abbas bin `Abdul Muttalib رضی اللہ عنہ, saying, "O Allah! We used to request our Prophet to ask You for rain, and You would give us. Now we request the uncle of our Prophet to ask You for rain, so give us rain." And they would be given rain."
ہم سے حسن بن محمد نے بیان کیا ، ان سے محمد بن عبداللہ انصاری نے بیان کیا ، ان سے ابوعبداللہ بن مثنیٰ نے بیان کیا ، ان سے ثمامہ بن عبداللہ بن انس نے اور ان سے حضرت انس رضی اللہ عنہ نے کہ
حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ قحط کے زمانے میں حضرت عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ کو آگے بڑھا کر بارش کی دعا کراتے اور کہتے کہ اے اللہ پہلے ہم اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بارش کی دعا کراتے تھے تو ہمیں سیرابی عطا کرتا تھا اور اب ہم اپنے نبی کے چچا کے ذریعہ بارش کی دعا کرتے ہیں ، ۔ اس لیے ہمیں سیرابی عطا فرما ۔ راوی نے بیان کیا کہ اس کے بعد خوب بارش ہوئی ۔