Back to Sahih Bukhari

Companions of the Prophet

كتاب فضائل الصحابة

Chapter 63

Hadith 3711, 3712
Sahih
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ حَدَّثَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ فَاطِمَةَ ـ عَلَيْهَا السَّلاَمُ ـ أَرْسَلَتْ إِلَى أَبِي بَكْرٍ تَسْأَلُهُ مِيرَاثَهَا مِنَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فِيمَا أَفَاءَ اللَّهُ عَلَى رَسُولِهِ صلى الله عليه وسلم، تَطْلُبُ صَدَقَةَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم الَّتِي بِالْمَدِينَةِ وَفَدَكٍ وَمَا بَقِيَ مِنْ خُمُسِ خَيْبَرَ‏.فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ لاَ نُورَثُ، مَا تَرَكْنَا فَهْوَ صَدَقَةٌ، إِنَّمَا يَأْكُلُ آلُ مُحَمَّدٍ مِنْ هَذَا الْمَالِ ـ يَعْنِي مَالَ اللَّهِ ـ لَيْسَ لَهُمْ أَنْ يَزِيدُوا عَلَى الْمَأْكَلِ ‏"‏‏.‏ وَإِنِّي وَاللَّهِ لاَ أُغَيِّرُ شَيْئًا مِنْ صَدَقَاتِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم الَّتِي كَانَتْ عَلَيْهَا فِي عَهْدِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم، وَلأَعْمَلَنَّ فِيهَا بِمَا عَمِلَ فِيهَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم‏.‏ فَتَشَهَّدَ عَلِيٌّ، ثُمَّ قَالَ إِنَّا قَدْ عَرَفْنَا يَا أَبَا بَكْرٍ فَضِيلَتَكَ‏.‏ وَذَكَرَ قَرَابَتَهُمْ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَحَقَّهُمْ‏.‏ فَتَكَلَّمَ أَبُو بَكْرٍ فَقَالَ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، لَقَرَابَةُ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَحَبُّ إِلَىَّ أَنْ أَصِلَ مِنْ قَرَابَتِي‏.‏
English

Narrated 'Aisha رضی اللہ عنہا :

Fatima رضی اللہ عنہا sent somebody to Abu Bakr رضی اللہ عنہ asking him to give her her inheritance from the Prophet (ﷺ) from what Allah had given to His Apostle through Fai (i.e. booty gained without fighting). She asked for the Sadaqa (i.e. wealth assigned for charitable purposes) of the Prophet (ﷺ) at Medina, and Fadak, and what remained of the Khumus (i.e., one-fifth) of the Khaibar booty. Abu Bakr رضی اللہ عنہ said, "Allah's Messenger (ﷺ) said, 'We (Prophets), our property is not inherited, and whatever we leave is Sadaqa, but Muhammad's Family can eat from this property, i.e. Allah's property, but they have no right to take more than the food they need.' By Allah! I will not bring any change in dealing with the Sadaqa of the Prophet (and will keep them) as they used to be observed in his (i.e. the Prophet's) life-time, and I will dispose with it as Allah's Messenger (ﷺ) used to do," Then 'Ali رضی اللہ عنہ said, "I testify that None has the right to be worshipped but Allah, and that Muhammad is His Apostle," and added, "O Abu Bakr! We acknowledge your superiority." Then he (i.e. 'Ali) mentioned their own relationship to Allah's Apostle and their right. Abu Bakr رضی اللہ عنہ then spoke saying, "By Allah in Whose Hands my life is. I love to do good to the relatives of Allah's Apostle rather than to my own relatives"

Urdu

ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا ، کہا ہم کو شعیب نے خبر دی ، ان سے زہری نے بیان کیا ، کہا ہم سے عروہ بن زبیر نے بیان کیا ، اور ان سے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہ

حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا نے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے یہاں اپنا آدمی بھیج کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ملنے والی میراث کا مطالبہ کیا جو اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کوفی کی صورت میں دی تھی ۔ یعنی آپ کا مطالبہ مدینہ کی اس جائیداد کے بارے میں تھا جس کی آمدن سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم مصارف خیر میں خرچ کرتے تھے ، اور اسی طرح فدک کی جائیداد اور خیبر کے خمس کا بھی مطالبہ کیا ۔ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم خود فرماگئے ہیں کہ ہماری میراث نہیں ہوتی ۔ ہم ( انبیاء ) جو کچھ چھوڑ جاتے ہیں وہ صدقہ ہوتا ہے اور یہ کہ آل محمد کے اخراجات اسی مال میں سے پورے کئے جائیں مگر انہیں یہ حق نہیں ہو گا کہ کھانے کے علاوہ اور کچھ تصرف کریں اور میں ، خدا کی قسم حضور کے صدقے میں جو آپ کے زمانے میں ہوا کرتے تھے ان میں کوئی رد وبدل نہیں کروں گا بلکہ وہی نظام جاری رکھوں گا جیسے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے قائم فرمایا تھا ، پھر حضرت علی رضی اللہ عنہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور کہنے لگے : اے ابوبکر رضی اللہ عنہ ہم آپ کی فضیلت و مرتبہ کا اقرار کرتے ہیں ، اس کے بعد انہوں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنی قرابت کا اور اپنے حق کا ذکر کیا ، حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی قرابت والوں سے سلوک کرنا مجھ کو اپنی قرابت والوں کے ساتھ سلوک کرنے سے زیادہ پسند ہے ۔

Hadith 3713
Sahih
أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ وَاقِدٍ، قَالَ سَمِعْتُ أَبِي يُحَدِّثُ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنْ أَبِي بَكْرٍ ـ رضى الله عنهم ـ قَالَ ارْقُبُوا مُحَمَّدًا صلى الله عليه وسلم فِي أَهْلِ بَيْتِهِ‏.‏
English

Narrator Abu Bakr رضی اللہ عنہ :

Look at Muhammad through his family (i.e. if you are no good to his family you are not good to him).

Urdu

مجھے عبداللہ بن عبدالوہاب نے خبر دی ، کہا کہ ہم سے خالد نے بیان کیا ، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا ، ان سے واقد نے بیان کیا کہ میں نے اپنے والد سے سنا ، وہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے بیان کرتے تھے ، وہ ابوبکر رضی اللہ عنہ سے کہ

انہوں نے کہا ، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا خیال آپ کے اہل بیت میں رکھو ۔

Hadith 3714
Sahih
حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ، حَدَّثَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنِ الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ فَاطِمَةُ بَضْعَةٌ مِنِّي، فَمَنْ أَغْضَبَهَا أَغْضَبَنِي ‏"‏‏.‏
English

Narrated Al-Miswar bin Makhrama رضی اللہ عنہ :

Allah's Messenger (ﷺ) said, "Fatima is a part of me, and he who makes her angry, makes me angry."

Urdu

ہم سے ابوالولید نے بیان کیا ، کہا ہم سے ابن عیینہ نے بیان کیا ، ان سے عمرو بن دینار نے ان سے ابن ابی ملیکہ نے ان سے مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ نے کہ

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : فاطمہ میرے جسم کا ٹکرا ہے ، اس لیے جس نے اسے ناحق ناراض کیا ، اس نے مجھے ناراض کیا ۔

Hadith 3715, 3716
Sahih
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ قَزَعَةَ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ قَالَتْ دَعَا النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فَاطِمَةَ ابْنَتَهُ فِي شَكْوَاهُ الَّذِي قُبِضَ فِيهَا، فَسَارَّهَا بِشَىْءٍ فَبَكَتْ، ثُمَّ دَعَاهَا فَسَارَّهَا فَضَحِكَتْ، قَالَتْ فَسَأَلْتُهَا عَنْ ذَلِكَ‏. فَقَالَتْ سَارَّنِي النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فَأَخْبَرَنِي أَنَّهُ يُقْبَضُ فِي وَجَعِهِ الَّذِي تُوُفِّيَ فِيهِ فَبَكَيْتُ، ثُمَّ سَارَّنِي فَأَخْبَرَنِي أَنِّي أَوَّلُ أَهْلِ بَيْتِهِ أَتْبَعُهُ فَضَحِكْتُ‏.‏
English

Narrated `Aisha رضی اللہ عنہا :

The Prophet (ﷺ) called his daughter Fatima رضی اللہ عنہا during his illness in which he died, and told her a secret whereupon she wept. Then he called her again and told her a secret whereupon she laughed. When I asked her about that he would die in the course of the illness during which he died, so I wept. He again spoke to me in secret and informed me that I would be the first of his family to follow him (after his death) and on that I laughed."

Urdu

ہم سے یحییٰ بن قزعہ نے بیان کیا ، کہا ہم سے ابراہیم بن سعد نے بیان کیا ، ان سے ان کے والد نے ، ان سے عروہ نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی صاحبزادی فاطمہ رضی اللہ عنہا کو اپنے اس مرض کے موقع پر بلایا جس میں آپ کی وفات ہوئی ، پھر آہستہ سے کوئی بات کہی تو وہ رونے لگیں ، پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں بلایا اور آہستہ سے کوئی بات کہی تو وہ ہنسنے لگیں ، عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ پھر میں نے ان سے اس کے متعلق پوچھا ۔ تو انہوں نے بتایا کہ پہلے مجھ سے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے آہستہ سے یہ فرمایا تھا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم اپنی اسی بیماری میں وفات پا جائیں گے ، میں اس پر رونے لگی ، پھر مجھ سے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے آہستہ سے فرمایا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اہل بیت میں سب سے پہلے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے جا ملوں گی ، اس پر میں ہنسی تھی ۔

Hadith 3717
Sahih
حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ أَخْبَرَنِي مَرْوَانُ بْنُ الْحَكَمِ، قَالَ أَصَابَ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ رُعَافٌ شَدِيدٌ سَنَةَ الرُّعَافِ، حَتَّى حَبَسَهُ عَنِ الْحَجِّ وَأَوْصَى، فَدَخَلَ عَلَيْهِ رَجُلٌ مِنْ قُرَيْشٍ قَالَ اسْتَخْلِفْ‏.‏ قَالَ وَقَالُوهُ قَالَ نَعَمْ‏.‏ قَالَ وَمَنْ فَسَكَتَ، فَدَخَلَ عَلَيْهِ رَجُلٌ آخَرُ ـ أَحْسِبُهُ الْحَارِثَ ـ فَقَالَ اسْتَخْلِفْ‏.‏ فَقَالَ عُثْمَانُ وَقَالُوا فَقَالَ نَعَمْ‏.‏ قَالَ وَمَنْ هُوَ فَسَكَتَ قَالَ فَلَعَلَّهُمْ قَالُوا الزُّبَيْرَ قَالَ نَعَمْ‏.‏ قَالَ أَمَا وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ إِنَّهُ لَخَيْرُهُمْ مَا عَلِمْتُ، وَإِنْ كَانَ لأَحَبَّهُمْ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم‏.‏
English

Narrated Marwan bin Al-Hakam:

`Uthman bin `Affan رضی اللہ عنہ was afflicted with severe nose-bleeding in the year when such illness was prevelant and that prevented him from performing Hajj, and (because of it) he made his will. A man from Quraish came to him and said, "Appoint your successor." `Uthman رضی اللہ عنہ asked, "Did the people name him? (i.e. the successor) the man said, "Yes." `Uthman asked, "Who is that?" The man remained silent. Another man came to `Uthman رضی اللہ عنہ and I think it was Al-Harith. He also said, "Appoint your successor." `Uthman رضی اللہ عنہ asked, "Did the people name him?" The man replied "Yes." `Uthman رضی اللہ عنہ said, "Who is that?" The man remained silent. `Uthman رضی اللہ عنہ said, "Perhaps they have mentioned Az-Zubair?" The man said, "Yes." `Uthman رضی اللہ عنہ said, "By Him in Whose Hands my life is, he is the best of them as I know, and the dearest of them to Allah's Messenger (ﷺ) ."

Urdu

ہم سے خالد بن مخلد نے بیان کیا ، کہا ہم سے علی بن مسہر نے ، ان سے ہشام بن عروہ نے ، ان سے ان کے والد نے بیان کیا کہ مجھے مروان بن حکم نے خبر دی کہ

جس سال نکسیر پھوٹنے کی بیماری پھوٹ پڑی تھی اس سال عثمان رضی اللہ عنہ کو اتنی سخت نکسیر پھوٹی کہ آپ حج کے لیے بھی نہ جا سکے ، اور ( زندگی سے مایوس ہو کر ) وصیت بھی کر دی ، پھر ان کی خدمت میں قریش کے ایک صاحب گئے اور کہا کہ آپ کسی کو اپنا خلیفہ بنادیں ۔ عثمان رضی اللہ عنہ نے دریافت فرمایا : کیا یہ سب کی خواہش ہے ، انہوں نے کہا جی ہاں ۔ آپ نے پوچھا کہ کسے بناؤں ؟ اس پر وہ خاموش ہو گئے ۔ اس کے بعد ایک دوسرے صاحب گئے ۔ میرا خیال ہے کہ وہ حارث تھے ، ۔ انہوں نے بھی یہی کہا کہ آپ کسی کو خلیفہ بنادیں ، آپ نے ان سے بھی پوچھا کیا یہ سب کی خواہش ہے ؟ انہوں نے کہا : جی ہاں ، آپ نے پوچھا : لوگوں کی رائے کس کے لیے ہے ؟ اس پر وہ بھی خاموش ہو گئے ، تو آپ نے خود فرمایا : غالباً زبیر کی طرف لوگوں کا رجحان ہے ؟ انہوں نے کہا جی ہاں ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے میرے علم کے مطابق بھی وہی ان میں سب سے بہتر ہیں اور بلاشبہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نظروں میں بھی ان میں سب سے زیادہ محبوب تھے ۔

Hadith 3718
Sahih
حَدَّثَنِي عُبَيْدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ هِشَامٍ، أَخْبَرَنِي أَبِي، سَمِعْتُ مَرْوَانَ، كُنْتُ عِنْدَ عُثْمَانَ، أَتَاهُ رَجُلٌ فَقَالَ اسْتَخْلِفْ‏.‏ قَالَ وَقِيلَ ذَاكَ قَالَ نَعَمْ، الزُّبَيْرُ‏.‏ قَالَ أَمَا وَاللَّهِ إِنَّكُمْ لَتَعْلَمُونَ أَنَّهُ خَيْرُكُمْ‏.‏ ثَلاَثًا‏.‏
English

Narrated Marwan bin Al-Hakam:

While I was with `Uthman رضی اللہ عنہ , a man came to him and said, "Appoint your successor." `Uthman رضی اللہ عنہ said, "Has such successor been named?" He replied, "Yes, Az-Zubair." `Uthman رضی اللہ عنہ said, thrice, "By Allah! Indeed you know that he is the best of you."

Urdu

مجھ سے عبید بن اسماعیل نے بیان کیا ، کہا ہم سے اسامہ نے بیان کیا ، ان سے ہشام نے ، انہیں ان کے والد نے خبر دی کہ میں نے مروان سے سنا کہ

میں عثمان رضی اللہ عنہ کی خدمت میں موجود تھا کہ اتنے میں ایک صاحب آئے اور کہا کہ کسی کو آپ اپنا خلیفہ بنا دیجئیے ، ۔ آپ نے دریافت فرمایا کیا اس کی خواہش کی جا رہی ہے ؟ انہوں نے بتایا کہ جی ہاں ، حضرت زبیر کی طرف لوگوں کا رجحان ہے ، آپ نے اس پر فرمایا ٹھیک ہے ، تم کو بھی معلوم ہے کہ وہ تم میں بہتر ہیں ، آپ نے تین مرتبہ یہ بات دہرائی ۔

Hadith 3719
Sahih
حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ ـ هُوَ ابْنُ أَبِي سَلَمَةَ ـ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ جَابِرٍ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ إِنَّ لِكُلِّ نَبِيٍّ حَوَارِيًّا، وَإِنَّ حَوَارِيَّ الزُّبَيْرُ بْنُ الْعَوَّامِ ‏"‏‏.‏
English

Narrated Jabir رضی اللہ عنہ :

The Prophet (ﷺ) said, "Every prophet used to have a Hawari (i.e. disciple), and my Hawari is Az-Zubair bin Al-`Awwam رضی اللہ عنہ."

Urdu

ہم سے مالک بن اسماعیل نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم سے عبدالعزیز نے بیان کیا جو ابوسلمہ کے صاحبزادے تھے ، ان سے محمد نے بیان کیا ، ان سے محمد بن منکدر نے بیان کیا ، اور ان سے حضرت جابر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہر نبی کے حواری ہوتے ہیں اور میرے حواری زبیر بن عوام ( رضی اللہ عنہ ) ہیں ۔

Hadith 3720
Sahih
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ، أَخْبَرَنَا ‏{‏عَبْدُ اللَّهِ‏}‏ أَخْبَرَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، قَالَ كُنْتُ يَوْمَ الأَحْزَابِ جُعِلْتُ أَنَا وَعُمَرُ بْنُ أَبِي سَلَمَةَ، فِي النِّسَاءِ، فَنَظَرْتُ فَإِذَا أَنَا بِالزُّبَيْرِ، عَلَى فَرَسِهِ، يَخْتَلِفُ إِلَى بَنِي قُرَيْظَةَ مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلاَثًا، فَلَمَّا رَجَعْتُ قُلْتُ يَا أَبَتِ، رَأَيْتُكَ تَخْتَلِفُ‏.‏ قَالَ أَوَهَلْ رَأَيْتَنِي يَا بُنَىَّ قُلْتُ نَعَمْ‏.‏ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ مَنْ يَأْتِ بَنِي قُرَيْظَةَ فَيَأْتِينِي بِخَبَرِهِمْ ‏"‏‏.‏ فَانْطَلَقْتُ، فَلَمَّا رَجَعْتُ جَمَعَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَبَوَيْهِ فَقَالَ ‏"‏ فِدَاكَ أَبِي وَأُمِّي ‏"‏‏.‏
English

Narrated `Abdullah bin Az-Zubair رضی اللہ عنہما :

During the battle of Al-Ahzab, I and `Umar bin Abi-Salama رضی اللہ عنہما were kept behind with the women. Behold! I saw (my father) Az-Zubair رضی اللہ عنہ riding his horse, going to and coming from Bani Quraiza twice or thrice. So when I came back I said, "O my father! I saw you going to and coming from Bani Quraiza?" He said, "Did you really see me, O my son?" I said, "Yes." He said, "Allah's Messenger (ﷺ) said, 'Who will go to Bani Quraiza and bring me their news?' So I went, and when I came back, Allah's Apostle mentioned for me both his parents saying, "Let my father and mother be sacrificed for you."'

Urdu

ہم سے احمد بن محمد نے بیان کیا ، کہا ہم کو ہشام بن عروہ نے خبر دی ، انہیں ان کے والد نے اور ان سے حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ

جنگ احزاب کے موقع پر مجھے اور عمر بن ابی سلمہ رضی اللہ عنہما کو عورتوں میں چھوڑ دیا گیا تھا ( کیونکہ یہ دونوں حضرات بچے تھے ) میں نے اچانک دیکھا کہ حضرت زبیر رضی اللہ عنہ ( آپ کے والد ) اپنے گھوڑے پر سوار بنی قریظہ ( یہودیوں کے ایک قبیلہ کی ) طرف آ جا رہے ہیں ، دو یا تین مرتبہ ایسا ہوا ، پھر جب میں وہاں سے واپس آیا تو میں نے عرض کیا ، ابا جان ! میں نے آپ کو کئی مرتبہ آتے جاتے دیکھا ۔ انہوں نے کہا : بیٹے ! کیا واقعی تم نے بھی دیکھا ہے ؟ میں نے عرض کیا : جی ہاں ، انہوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ کون ہے جو بنوقریظہ کی طرف جا کر ان کی ( نقل و حرکت کے متعلق ) اطلاع میرے پاس لا سکے ۔ اس پر میں وہاں گیا اور جب میں ( خبر لے کر ) واپس آیا تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ( فرط مسرت میں ) اپنے والدین کا ایک ساتھ ذکر کر کے فرمایا کہ ” میرے ماں باپ تم پر فدا ہوں ۔ “

Hadith 3721
Sahih
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حَفْصٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ، أَخْبَرَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ أَصْحَابَ النَّبِيِّ، صلى الله عليه وسلم قَالُوا لِلزُّبَيْرِ يَوْمَ الْيَرْمُوكِ أَلاَ تَشُدُّ فَنَشُدَّ مَعَكَ فَحَمَلَ عَلَيْهِمْ، فَضَرَبُوهُ ضَرْبَتَيْنِ عَلَى عَاتِقِهِ، بَيْنَهُمَا ضَرْبَةٌ ضُرِبَهَا يَوْمَ بَدْرٍ‏.‏ قَالَ عُرْوَةُ فَكُنْتُ أُدْخِلُ أَصَابِعِي فِي تِلْكَ الضَّرَبَاتِ أَلْعَبُ وَأَنَا صَغِيرٌ‏.‏
English

Narrated `Urwa:

On the day of the battle of Al-Yarmuk, the companions of the Prophet (ﷺ) said to Az-Zubair رضی اللہ عنہ , "Will you attack the enemy vigorously so that we may attack them along with you?" So Az-Zubair attacked them, and they inflicted two wounds over his shoulder, and in between these two wounds there was an old scar he had received on the day of the battle of Badr When I was a child, I used to insert my fingers into those scars in play.

Urdu

ہم سے علی بن حفص نے بیان کیا ، کہا ہم سے عبداللہ بن مبارک نے بیان کیا ، کہا ہم کو ہشام بن عروہ نے خبر دی اور انہیں ان کے والد نے کہ

جنگ یرموک کے موقع پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ نے حضرت زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ سے کہا آپ حملہ کیوں نہیں کرتے تاکہ ہم بھی آپ کے ساتھ حملہ کریں ۔ چنانچہ انہوں نے ان ( رومیوں ) پر حملہ کیا ۔ اس موقع پر انہوں نے ( رومیوں نے ) آپ کے دو کاری زخم شانے پر لگائے ۔ درمیان میں وہ زخم تھا جو بدر کے موقع پر آپ کو لگا تھا ۔ عروہ نے کہا کہ ( یہ زخم اتنے گہرے تھے کہ اچھے ہو جانے کے بعد ) میں بچپن میں ان زخموں کے اندر اپنی انگلیاں ڈال کر کھیلا کرتا تھا ۔

Hadith 3722, 3723
Sahih
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ، حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ، قَالَ لَمْ يَبْقَ مَعَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فِي بَعْضِ تِلْكَ الأَيَّامِ الَّتِي قَاتَلَ فِيهِنَّ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم غَيْرُ طَلْحَةَ وَسَعْدٍ‏.‏ عَنْ حَدِيثِهِمَا‏.‏
English

Narrated Abu `Uthman رضی اللہ عنہ :

During one of the Ghazawat in which Allah's Messenger (ﷺ) was fighting, none remained with the Prophet (ﷺ) but Talha رضی اللہ عنہ and Sa`d رضی اللہ عنہ.

Urdu

مجھ سے محمد بن ابی بکر مقدمی نے بیان کیا ، ان سے معتمر نے ، ان سے ان کے والد نے ، ان سے ابوعثمان رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ

بعض ان جنگوں میں جن میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خود شریک ہوئے تھے ( احد کی جنگ میں ) آپ کے ساتھ طلحہ رضی اللہ عنہ اور سعد رضی اللہ عنہ کے سوا اور کوئی باقی نہیں رہا تھا ۔

Hadith 3724
Sahih
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ،، قَالَ رَأَيْتُ يَدَ طَلْحَةَ الَّتِي وَقَى بِهَا النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَدْ شَلَّتْ‏.‏
English

Narrated Qais bin Abi Hazim:

I saw Talha's paralyzed hand with which he had protected the Prophet (from an arrow) .

Urdu

ہم سے مسدد نے بیان کیا ، کہا ہم سے خالد نے بیان کیا ، ان سے خالد بن ابی خالد نے ، ان سے قیس بن ابی حازم نے کہ

میں نے حضرت طلحہ رضی اللہ عنہ کا وہ ہاتھ دیکھا ہے جس سے انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ( جنگ احد میں ) حفاظت کی تھی وہ بالکل بیکار ہو چکا تھا ۔

Hadith 3725
Sahih
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ، قَالَ سَمِعْتُ يَحْيَى، قَالَ سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيَّبِ، قَالَ سَمِعْتُ سَعْدًا، يَقُولُ جَمَعَ لِي النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم أَبَوَيْهِ يَوْمَ أُحُدٍ‏.‏
English

Narrated Sa`d رضی اللہ عنہ :

On the day of the battle of Uhud the Prophet (ﷺ) mentioned for me both his parents (i.e. saying, "Let my parents be sacrificed for you.").

Urdu

مجھ سے محمد بن مثنیٰ نے بیان کیا ، کہا ہم سے عبدالوہاب نے بیان کیا ، کہا کہ میں نے یحییٰ سے سنا ، کہا کہ میں نے سعید بن مسیب سے سنا ، کہا کہ میں نے حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے سنا وہ بیان کرتے تھے کہ

جنگ احد کے موقع پر میرے لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے والدین کو ایک ساتھ جمع کر کے یوں فرمایا کہ میرے ماں باپ تم پر فدا ہوں ۔

Hadith 3726
Sahih
حَدَّثَنَا مَكِّيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ هَاشِمٍ، عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ لَقَدْ رَأَيْتُنِي وَأَنَا ثُلُثُ الإِسْلاَمِ،‏.‏
English

Narrated Sa`d رضی اللہ عنہ :

No doubt, (for some time) I stood for one-third of the Muslims.

Urdu

ہم سے مکی بن ابراہیم نے بیان کیا ، کہا ہم سے ہاشم بن ہاشم نے بیان کیا ، ان سے عامر بن سعد نے اور ان سے ان کے والد ( سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ ) نے بیان کیا کہ

مجھے خوب یاد ہے ۔ میں نے ایک زمانے میں مسلمانوں کا تیسرا حصہ اپنے آپ کو دیکھا ۔ امام بخاری رحمہ اللہ نے کہا اسلام کے تیسرے حصے سے یہ مراد ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ صرف تین مسلمان تھے جن میں تیسرا مسلمان میں تھا ۔

Hadith 3727
Sahih
حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى، أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي زَائِدَةَ، حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ هَاشِمِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ، قَالَ سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيَّبِ، يَقُولُ سَمِعْتُ سَعْدَ بْنَ أَبِي وَقَّاصٍ، يَقُولُ مَا أَسْلَمَ أَحَدٌ إِلاَّ فِي الْيَوْمِ الَّذِي أَسْلَمْتُ فِيهِ، وَلَقَدْ مَكَثْتُ سَبْعَةَ أَيَّامٍ وَإِنِّي لَثُلُثُ الإِسْلاَمِ‏.‏ تَابَعَهُ أَبُو أُسَامَةَ حَدَّثَنَا هَاشِمٌ‏.‏
English

Narrated Sa`d bin Abi Waqqas:

No man embraced Islam before the day on which I embraced Islam, and no doubt, I remained for seven days as one third of the then extant Muslims. Abu Osamah has reported from Hashim likewise.

Urdu

ہم سے ابراہیم بن موسیٰ نے بیان کیا ، کہا ہم کو ابن ابی زائدہ نے خبر دی ، کہا ہم سے ہاشم بن ہاشم بن عتبہ بن ابی وقاص نے بیان کیا ، کہا کہ میں نے سعید بن مسیب سے سنا ، کہا کہ میں نے حضرت سعد بن ابی وقاص سے سنا ، انہوں نے کہا کہ

جس دن میں اسلام لایا ، اسی دن دوسرے ( سب سے پہلے اسلام میں داخل ہونے والے حضرات صحابہ ) بھی اسلام میں داخل ہوئے ہیں اور میں سات دن تک اسی طور پر رہا کہ میں اسلام کا تیسرا فرد تھا ۔ ابن ابی زائدہ کے ساتھ اس حدیث کو ابواسامہ نے بھی روایت کیا ۔

Hadith 3728
Sahih
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ، عَنْ قَيْسٍ، قَالَ سَمِعْتُ سَعْدًا ـ رضى الله عنه ـ يَقُولُ إِنِّي لأَوَّلُ الْعَرَبِ رَمَى بِسَهْمٍ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، وَكُنَّا نَغْزُو مَعَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَمَا لَنَا طَعَامٌ إِلاَّ وَرَقُ الشَّجَرِ، حَتَّى إِنَّ أَحَدَنَا لَيَضَعُ كَمَا يَضَعُ الْبَعِيرُ أَوِ الشَّاةُ، مَا لَهُ خِلْطٌ، ثُمَّ أَصْبَحَتْ بَنُو أَسَدٍ تُعَزِّرُنِي عَلَى الإِسْلاَمِ، لَقَدْ خِبْتُ إِذًا وَضَلَّ عَمَلِي‏.‏ وَكَانُوا وَشَوْا بِهِ إِلَى عُمَرَ، قَالُوا لاَ يُحْسِنُ يُصَلِّي‏.‏
English

Narrated Sa`d رضی اللہ عنہ :

"I was the first amongst the 'Arabs who shot an arrow for Allah's Cause. We used to fight along with the Prophets, while we had nothing to eat except the leaves of trees so that one's excrete would look like the excrete balls of camel or a sheep, containing nothing to mix them together. Today Banu Asad tribe blame me for not having understood Islam. I would be a loser if my deeds were in vain." Those people complained about Sa`d رضی اللہ عنہ to `Umar رضی اللہ عنہ, claiming that he did not offer his prayers perfectly.

Urdu

ہم سے ہاشم نے بیان کیا ، کہا ہم سے عمرو بن عون نے بیان کیا ، کہا ہم سے خالد بن عبداللہ نے بیان کیا ، ان سے اسماعیل نے ، ان سے قیس نے بیان کیا کہ میں نے سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے سنا ، وہ بیان کرتے تھے کہ

عرب میں سب سے پہلے اللہ کے راستے میں ، میں نے تیراندازی کی تھی ( ابتداء اسلام میں ) ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ، کے ساتھ اس طرح غزوات میں شرکت کرتے تھے کہ ہمارے پاس درخت کے پتوں کے سوا کھانے کے لیے کچھ بھی نہ ہوتا تھا ، اس سے ہمیں اونٹ اور بکریوں کی طرح اجابت ہوتی تھی ۔ یعنی ملی ہوئی نہیں ہوتی تھی ۔ لیکن اب بنی اسد کا یہ حال ہے کہ اسلامی احکام پر عمل میں میرے اندر عیب نکالتے ہیں ( اگر ) ایسا ہو تو میں بالکل محروم اور بے نصیب ہی رہا اور میرے سب کام برباد ہو گئے ۔ ہوایہ تھا کہ بنی اسد نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے سعد رضی اللہ عنہ کی چغلی کھائی تھی ۔ یہ کہا تھا کہ وہ اچھی طرح نماز بھی نہیں پڑھتے ۔

Hadith 3729
Sahih
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ حُسَيْنٍ، أَنَّ الْمِسْوَرَ بْنَ مَخْرَمَةَ، قَالَ إِنَّ عَلِيًّا خَطَبَ بِنْتَ أَبِي جَهْلٍ، فَسَمِعَتْ بِذَلِكَ، فَاطِمَةُ، فَأَتَتْ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَتْ يَزْعُمُ قَوْمُكَ أَنَّكَ لاَ تَغْضَبُ لِبَنَاتِكَ، هَذَا عَلِيٌّ نَاكِحٌ بِنْتَ أَبِي جَهْلٍ، فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَسَمِعْتُهُ حِينَ تَشَهَّدَ يَقُولُ ‏"‏ أَمَّا بَعْدُ أَنْكَحْتُ أَبَا الْعَاصِ بْنَ الرَّبِيعِ، فَحَدَّثَنِي وَصَدَقَنِي، وَإِنَّ فَاطِمَةَ بَضْعَةٌ مِنِّي، وَإِنِّي أَكْرَهُ أَنْ يَسُوءَهَا، وَاللَّهِ لاَ تَجْتَمِعُ بِنْتُ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَبِنْتُ عَدُوِّ اللَّهِ عِنْدَ رَجُلٍ وَاحِدٍ ‏"‏‏.‏ فَتَرَكَ عَلِيٌّ الْخِطْبَةَ‏.‏ وَزَادَ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ حَلْحَلَةَ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ عَلِيٍّ عَنْ مِسْوَرٍ، سَمِعْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم وَذَكَرَ صِهْرًا لَهُ مِنْ بَنِي عَبْدِ شَمْسٍ فَأَثْنَى عَلَيْهِ فِي مُصَاهَرَتِهِ إِيَّاهُ فَأَحْسَنَ قَالَ ‏"‏ حَدَّثَنِي فَصَدَقَنِي، وَوَعَدَنِي فَوَفَى لِي ‏"‏‏.‏
English

Narrated Al-Miswar bin Makhrama رضی اللہ عنہ :

`Ali رضی اللہ عنہ demanded the hand of the daughter of Abu Jahl. Fatima رضی اللہ عنہا heard of this and went to Allah's Messenger (ﷺ) saying, "Your people think that you do not become angry for the sake of your daughters as `Ali رضی اللہ عنہ is now going to marry the daughter of Abu Jahl. "On that Allah's Messenger (ﷺ) got up and after his recitation of Tashah-hud. I heard him saying, "Then after! I married one of my daughters to Abu Al-`As bin Al- Rabi` (the husband of Zainab رضی اللہ عنہا , the daughter of the Prophet (ﷺ) ) before Islam and he proved truthful in whatever he said to me. No doubt, Fatima is a part of me, I hate to see her being troubled. By Allah, the daughter of Allah's Messenger (ﷺ) and the daughter of Allah's Enemy cannot be the wives of one man." So `Ali رضی اللہ عنہ gave up that engagement. 'Al-Miswar رضی اللہ عنہ further said: I heard the Prophet (ﷺ) talking and he mentioned a son-in-law of his belonging to the tribe of Bani `Abd-Shams. He highly praised him concerning that relationship and said (whenever) he spoke to me, he spoke the truth, and whenever he promised me, he fulfilled his promise."

Urdu

ہم سے ابولیمان نے بیان کیا ، کہا ہم کو شعیب نے خبر دی ، ان سے زہری نے بیان کیا ، کہا مجھ سے علی بن حسین نے بیان کیا اور ان سے مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ

علی رضی اللہ عنہ نے ابوجہل کی لڑکی کو ( جو مسلمان تھیں ) پیغام نکاح دیا ، اس کی اطلاع جب حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کو ہوئی تو وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں اور عرض کیا کہ آپ کی قوم کا خیال ہے کہ آپ کو اپنی بیٹیوں کی خاطر ( جب انہیں کوئی تکلیف دے ) کسی پر غصہ نہیں آتا ۔ اب دیکھئیے یہ علی ابوجہل کی بیٹی سے نکاح کرنا چاہتے ہیں ، اس پر آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کو خطاب فرمایا : میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو خطبہ پڑھتے سنا ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : امابعد : میں نے ابوالعاص بن ربیع سے ( زینب رضی اللہ عنہا کی ، آپ کی سب سے بڑی صاحبزادی ) شادی کرائی تو انہوں نے جو بات بھی کہی اس میں وہ سچے اترے اور بلاشبہ فاطمہ بھی میرے ( جسم کا ) ایک ٹکڑا ہے ، اور مجھے یہ پسند نہیں کہ کوئی بھی اسے تکلیف دے ، خدا کی قسم ! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیٹی اور اللہ تعالیٰ کے ایک دشمن کی بیٹی ایک شخص کے پاس جمع نہیں ہوسکتیں ۔ چنانچہ علی رضی اللہ عنہ نے اس شادی کا ارادہ ترک کر دیا ۔ محمد بن عمر وبن حلحلہ نے ابن شہاب سے یہ اضافہ کیا ہے ، انہوں نے علی بن حسین سے اور انہوں نے مسور رضی اللہ عنہ سے بیان کیا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ، آپ نے بنی عبدشمس کے اپنے ایک داماد کا ذکر کیا اور حقوق دامادی کی ادائیگی کی تعریف فرمائی ۔ پھر فرمایا کہ انہوں نے مجھ سے جو بات بھی کہی سچی کہی اور جو وعدہ بھی کیا پورا کر دکھایا ۔

Hadith 3730
Sahih
حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ، قَالَ حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دِينَارٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَ بَعَثَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم بَعْثًا، وَأَمَّرَ عَلَيْهِمْ أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ، فَطَعَنَ بَعْضُ النَّاسِ فِي إِمَارَتِهِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ إِنْ تَطْعُنُوا فِي إِمَارَتِهِ فَقَدْ كُنْتُمْ تَطْعُنُونَ فِي إِمَارَةِ أَبِيهِ مِنْ قَبْلُ، وَايْمُ اللَّهِ، إِنْ كَانَ لَخَلِيقًا لِلإِمَارَةِ، وَإِنْ كَانَ لَمِنْ أَحَبِّ النَّاسِ إِلَىَّ، وَإِنَّ هَذَا لَمِنْ أَحَبِّ النَّاسِ إِلَىَّ بَعْدَهُ ‏"‏‏.‏
English

Narrated `Abdullah bin `Umar رضی اللہ عنہما :

The Prophet (ﷺ) sent an army under the command of Usama bin Zaid. When some people criticized his leadership, the Prophet (ﷺ) said, "If you are criticizing Usama's leadership, you used to criticize his father's leadership before. By Allah! He was worthy of leadership and was one of the dearest persons to me, and (now) this (i.e. Usama رضی اللہ عنہ) is one of the dearest to me after him (i.e. Zaid رضی اللہ عنہ).

Urdu

ہم سے خالد بن مخلد نے بیان کیا ، کہا ہم سے سلیمان نے بیان کیا ، کہا کہ مجھ سے عبداللہ بن دینار نے بیان کیا ، ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک فوج بھیجی اور اس کا امیر اسامہ بن زید کو بنایا ، ان کے امیر بنائے جانے پر بعض لوگوں نے اعتراض کیا تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اگر آج تم اس کے امیر بنائے جانے پر اعتراض کر رہے ہو تو اس سے پہلے اس کے باپ کے امیر بنائے جانے پر بھی تم نے اعتراض کیا تھا اور خدا کی قسم وہ ( زید رضی اللہ عنہ ) امارت کے مستحق تھے اور مجھے سب سے زیادہ عزیز تھے ۔ اور یہ ( اسامہ رضی اللہ عنہ ) اب ان کے بعد مجھے سب سے زیادہ عزیز ہیں ۔

Hadith 3731
Sahih
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ قَزَعَةَ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ قَالَتْ دَخَلَ عَلَىَّ قَائِفٌ وَالنَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم شَاهِدٌ، وَأُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ وَزَيْدُ بْنُ حَارِثَةَ مُضْطَجِعَانِ، فَقَالَ إِنَّ هَذِهِ الأَقْدَامَ بَعْضُهَا مِنْ بَعْضٍ‏.‏ قَالَ فَسُرَّ بِذَلِكَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم وَأَعْجَبَهُ، فَأَخْبَرَ بِهِ عَائِشَةَ‏.‏
English

Narrated Aisha رضی اللہ عنہا :

"A Qaif (i.e. one skilled in recognizing the lineage of a person through Physiognomy and through examining the body parts of an infant) came to me while the Prophet (ﷺ) was present, and Usama bin Zaid and Zaid bin Haritha were Lying asleep. The Qa'if said. These feet (of Usama and his father) are of persons belonging to the same lineage.' " The Prophet (ﷺ) was pleased with that saying which won his admiration, and he told `Aisha رضی اللہ عنہا of it.

Urdu

ہم سے یحییٰ بن قزعہ نے بیان کیا ، کہا ہم سے ابراہیم بن سعد نے بیان کیا ، ان سے زہری نے ، ان سے عروہ نے اور ان سے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ

ایک قیافہ شناس میرے یہاں آیا ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت وہیں تشریف رکھتے تھے اور اسامہ بن زید اور زید بن حارثہ ( ایک چادر میں ) لیٹے ہوئے تھے ۔ ( منہ اور جسم کا سارا حصہ قدموں کے سوا چھپا ہوا تھا ) اس قیافہ شناس نے کہا کہ یہ پاؤں بعض ، بعض سے نکلے ہوئے معلوم ہوتے ہیں ۔ ( یعنی باپ بیٹے کے ہیں ) قیافہ شناس نے پھر بتایا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم اس کے اس اندازہ پر بہت خوش ہوئے اور پھر آپ نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے بھی یہ واقعہ بیان فرمایا ۔

Hadith 3732
Sahih
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، رضى الله عنها أَنَّ قُرَيْشًا، أَهَمَّهُمْ شَأْنُ الْمَخْزُومِيَّةِ، فَقَالُوا مَنْ يَجْتَرِئُ عَلَيْهِ إِلاَّ أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ، حِبُّ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم‏.‏
English

Narrated 'Aisha رضی اللہ عنہا :

The people of the Quraish tribe were worried about the Makhzumiya woman. They said. "Nobody dare speak to him (i.e. the Prophet (ﷺ) ) except Usama bin Zaid رضی اللہ عنہما as he is the most beloved to Allah's Messenger (ﷺ)."

Urdu

ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا ، کہا ہم سے لیث بن سعد نے بیان کیا ، ان سے زہری نے ، ان سے عروہ نے اور ان سے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہ

قریش مخزومیہ عورت کے معاملے کی وجہ سے بہت رنجیدہ تھے ، ۔ انہوں نے یہ فیصلہ آپس میں کیا کہ اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما کے سوا ، جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو انتہائی عزیز ہیں ، ( اس عورت کی سفارش کے لیے ) اور کون جرات کر سکتا ہے !

Hadith 3733
Sahih
حَدَّثَنَا عَلِيٌّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قَالَ ذَهَبْتُ أَسْأَلُ الزُّهْرِيَّ عَنْ حَدِيثِ الْمَخْزُومِيَّةِ، فَصَاحَ بِي، قُلْتُ لِسُفْيَانَ فَلَمْ تَحْتَمِلْهُ عَنْ أَحَدٍ قَالَ وَجَدْتُهُ فِي كِتَابٍ كَانَ كَتَبَهُ أَيُّوبُ بْنُ مُوسَى عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها أَنَّ امْرَأَةً مِنْ بَنِي مَخْزُومٍ سَرَقَتْ، فَقَالُوا مَنْ يُكَلِّمُ فِيهَا النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَلَمْ يَجْتَرِئْ أَحَدٌ أَنْ يُكَلِّمَهُ، فَكَلَّمَهُ أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ، فَقَالَ ‏ "‏ إِنَّ بَنِي إِسْرَائِيلَ كَانَ إِذَا سَرَقَ فِيهِمُ الشَّرِيفُ تَرَكُوهُ، وَإِذَا سَرَقَ الضَّعِيفُ قَطَعُوهُ، لَوْ كَانَتْ فَاطِمَةُ لَقَطَعْتُ يَدَهَا ‏"‏‏.‏
English

Narrated Aisha رضی اللہ عنہا :

"A woman from Bani Makhzumiya committed a theft and the people said, 'Who can intercede with the Prophet (ﷺ) for her?' So nobody dared speak to him (i.e. the Prophet) but Usama bin Zaid رضی اللہ عنہما spoke to him. The Prophet said, 'If a reputable man amongst the children of Bani Israel committed a theft, they used to forgive him, but if a poor man committed a theft, they would cut his hand. But I would cut even the hand of Fatima رضی اللہ عنہا (i.e. the daughter of the Prophet) if she committed a theft."

Urdu

( دوسری سند ) اور ہم سے علی نے بیان کیا ، کہا ہم سے سفیان نے بیان کیا ، انہوں نے کہا کہ میں نے زہری سے مخزومیہ کی حدیث پوچھی تو وہ مجھ پر بہت غصہ ہو گئے ۔ میں نے اس پر سفیان سے پوچھاکہ پھر آپ نے کسی اور ذریعہ سے اس حدیث کی روایت نہیں کی ؟ انہوں نے بیان کیا کہ ایوب بن موسیٰ کی لکھی ہوئی ایک کتاب میں ، میں نے یہ حدیث دیکھی ۔ وہ زہری سے روایت کرتے تھے ، وہ عروہ سے ، وہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہ

بنی مخزوم کی ایک عورت نے چوری کر لی تھی ۔ قریش نے ( اپنی مجلس میں ) سوچاکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں اس عورت کی سفارش کے لیے کون جا سکتا ہے ؟ کوئی اس کی جرات نہیں کر سکا ، آخر حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما نے سفارش کی تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : بنی اسرائیل میں یہ دستور ہو گیا تھا کہ جب کوئی شریف آدمی چوری کرتا تو اسے چھوڑ دیتے اور اگر کوئی کمزور آدمی چوری کرتا تو اس کا ہاتھ کاٹتے ۔ اگرآج فاطمہ ( رضی اللہ عنہا ) نے چوری کی ہوتی تو میں اس کا بھی ہاتھ کاٹتا ۔