Military Expeditions led by the Prophet (PBUH) (Al-Maghaazi)
كتاب المغازي
Chapter 65
Narrated Mujahid bin Jabr:
`Abdullah bin `Umar رضی اللہ عنہما used to say, "There is no migration after the Conquest (of Mecca).
مجھ سے اسحاق بن یزید نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے یحییٰ بن حمزہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ مجھ سے ابوعمرو اوزاعی نے بیان کیا، ان سے عبدہ بن ابی لبابہ نے، ان سے مجاہد بن جبر مکی نے کہ
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہا کرتے تھے کہ فتح مکہ کے بعد ہجرت باقی نہیں رہی۔
Narrated `Ata' bin Abi Rabah:
`Ubaid bin `Umar and I visited `Aisha رضی اللہ عنہا , and he asked her about the migration. She said, "There is no migration today. A believer used to flee with his religion to Allah and His Prophet for fear that he might be put to trial as regards his religion. Today Allah has rendered Islam victorious; therefore a believing one can worship one's Lord wherever one wishes. But there is Jihad (for Allah's Cause) and intentions." (See Hadith 42, in the 4th Vol. for its Explanation)
ہم سے اسحاق بن یزید نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ بن حمزہ نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے امام اوزاعی نے بیان کیا، ان سے عطا بن ابی رباح نے بیان کیا کہ
میں عبید بن عمیر کے ساتھ عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوا۔ عبید نے ان سے ہجرت کا مسئلہ پوچھا تو انہوں نے کہا کہ اب ہجرت باقی نہیں رہی۔ پہلے مسلمان اپنا دین بچانے کے لیے اللہ اور اس کے رسول کی طرف پناہ لینے کے لیے آتے تھے، اس خوف سے کہ کہیں دین کی وجہ سے فتنہ میں نہ پڑ جائیں۔ اس لیے اب جب کہ اللہ تعالیٰ نے اسلام کو غالب کر دیا تو مسلمان جہاں بھی چاہے اپنے رب کی عبادت کر سکتا ہے۔ اب تو صرف جہاد اور جہاد کی نیت کا ثواب باقی ہے۔
Narrated Mujahid:
Allah's Messenger (ﷺ) got up on the day of the Conquest of Mecca and said, "Allah has made Mecca a sanctuary since the day He created the Heavens and the Earth, and it will remain a sanctuary by virtue of the sanctity Allah has bestowed on it till the Day of Resurrection. It (i.e. fighting in it) was not made lawful to anyone before me!, nor will it be made lawful to anyone after me, and it was not made lawful for me except for a short period of time. Its game should not be chased, nor should its trees be cut, nor its vegetation or grass uprooted, not its Luqata (i.e. Most things) picked up except by one who makes a public announcement about it." Al-Abbas bin `Abdul Muttalib said, "Except the Idhkhir, O Allah's Messenger (ﷺ), as it is indispensable for blacksmiths and houses." On that, the Prophet (ﷺ) kept quiet and then said, "Except the Idhkhir as it is lawful to cut." Ibn-e-Juraij, Abdul Karim, Ikrimah has reported in the similar way fro, Hadrat Ibn-e-Abbaas رضی اللہ عنہما , and Hadrat Abu Hurairah has reported the same from the prophet ﷺ.
ہم سے اسحاق بن منصور نے بیان کیا، کہا ہم سے ابوعاصم نبیل نے بیان کیا، ان سے ابن جریج نے بیان کیا، کہا مجھ کو حسن بن مسلم نے خبر دی اور انہیں مجاہد نے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فتح مکہ کے دن خطبہ سنانے کھڑے ہوئے اور فرمایا ”جس دن اللہ تعالیٰ نے آسمان و زمین کو پیدا کیا تھا، اسی دن اس نے مکہ کو حرمت والا شہر قرار دے دیا تھا۔ پس یہ شہر اللہ کے حکم کے مطابق قیامت تک کے لیے حرمت والا رہے گا۔ جو مجھ سے پہلے کبھی کسی کے لیے حلال نہیں ہوا اور نہ میرے بعد کسی کے لیے حلال ہو گا اور میرے لیے بھی صرف ایک گھڑی کے لیے حلال ہوا تھا۔ یہاں حدود حرم میں شکار کے قابل جانور نہ چھیڑے جائیں۔ یہاں کے کانٹے دار درخت نہ کاٹے جائیں نہ یہاں کی گھاس اکھاڑی جائے اور یہاں پر گری پڑی چیز اس شخص کے سوا جو اعلان کرنے کا ارادہ رکھتا ہو اور کسی کے لیے اٹھانی جائز نہیں۔“ اس پر عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ نے کہا: یا رسول اللہ! اذخر ( گھاس ) کی اجازت دے دیجئیے کیونکہ سناروں کے لیے اور مکانات ( کی تعمیر وغیرہ ) کے لیے یہ ضروری ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش ہو گئے پھر فرمایا ”اذخر اس حکم سے الگ ہے اس کا ( کاٹنا ) حلال ہے۔“ دوسری روایت ابن جریج سے ( اسی سند سے ) ایسی ہی ہے انہوں نے عبدالکریم بن مالک سے، انہوں نے ابن عباس سے اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ایسے ہی روایت کی ہے۔
Narrated Isma`il:
I saw (a healed scar of) blow over the hand of Ibn Abi `Aufa رضی اللہ عنہما who said, "I received that blow in the battle of Hunain in the company of the Prophet." I said, "Did you take part in the battle of Hunain?" He replied, "Yes (and in other battles) before it."
ہم سے محمد بن عبداللہ بن نمیر نے بیان کیا، کہا ہم سے یزید بن ہارون نے بیان کیا، کہا ہم کو اسماعیل بن ابی خالد نے خبر دی، انہوں نے بیان کیا کہ
میں نے عبداللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہما کے ہاتھ میں زخم کا نشان دیکھا پھر انہوں نے بتلایا کہ یہ زخم اس وقت آیا تھا جب میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ غزوہ حنین میں شریک تھا۔ میں نے کہا، آپ حنین میں شریک تھے؟ انہوں نے کہا کہ اس سے پہلے بھی میں کئی غزوات میں شریک ہو چکا ہوں۔
Narrated Abu 'Is-haq:
I heard Al-Bara رضی اللہ عنہ' narrating when a man came and said to him, "O Abu '`Umara! Did you flee on the day (of the battle) of Hunain?" Al-Bara' replied, "I testify that the Prophet (ﷺ) did not flee, but the hasty people hurried away and the people of Hawazin threw arrows at them. At that time, Abu Sufyan bin Al-Harith رضی اللہ عنہ was holding the white mule of the Prophet (ﷺ) by the head, and the Prophet (ﷺ) was saying, "I am the Prophet (ﷺ) undoubtedly: I am the son of `Abdul-Muttalib."
ہم سے محمد بن کثیر نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان ثوری نے بیان کیا، ان سے ابواسحاق نے، کہا کہ
میں نے براء رضی اللہ عنہ سے سنا، ان کے یہاں ایک شخص آیا اور کہنے لگا کہ اے ابو عمارہ! کیا تم نے حنین کی لڑائی میں پیٹھ پھیر لی تھی؟ انہوں نے کہا، میں اس کی گواہی دیتا ہوں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی جگہ سے نہیں ہٹے تھے۔ البتہ جو لوگ قوم میں جلد باز تھے، انہوں نے اپنی جلد بازی کا ثبوت دیا تھا، پس قبیلہ ہوازن والوں نے ان پر تیر برسائے۔ ابوسفیان بن حارث رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سفید خچر کی لگام تھامے ہوئے تھے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے «أنا النبي لا كذب، أنا ابن عبد المطلب» ”میں نبی ہوں اس میں بالکل جھوٹ نہیں، میں عبدالمطلب کی اولاد ہوں۔“
Narrated Abu 'Is-haq:
Al-Bara رضی اللہ عنہ' was asked while I was listening, "Did you flee (before the enemy) along with the Prophet (ﷺ) on the day of (the battle of) Hunain?" He replied, "As for the Prophet, he did not (flee). The enemy were good archers and the Prophet (ﷺ) was saying, "I am the Prophet (ﷺ) undoubtedly; I am the son of `Abdul Muttalib."
ہم سے ابوالولید نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے ابواسحاق نے کہ
براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے پوچھا گیا اور میں سن رہا تھا کہ تم لوگوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ غزوہ حنین میں پیٹھ پھیر لی تھی؟ انہوں نے کہا جہاں تک نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا تعلق ہے تو آپ نے پیٹھ نہیں پھیری تھی۔ ہوا یہ تھا کہ ہوازن والے بڑے تیرانداز تھے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس موقع پر فرمایا تھا «أنا النبي لا كذب أنا ابن عبد المطلب» ”میں نبی ہوں اس میں جھوٹ نہیں، میں عبدالمطلب کی اولاد ہوں۔“
Narrated Al-Bara رضی اللہ عنہ :
when a man from Qais (tribe) asked him "Did you flee leaving Allah's Messenger (ﷺ) on the day (of the battle) of Hunain?" Al-Bara' replied, "But Allah's Messenger (ﷺ) did not flee. The people of Hawazin were good archers, and when we attacked them, they fled. But rushing towards the booty, we were confronted by the arrows (of the enemy). I saw the Prophet (ﷺ) riding his white mule while Abu Sufyan was holding its reins, and the Prophet (ﷺ) was saying "I am the Prophet (ﷺ) undoubtedly." (Israil and Zuhair said, "The Prophet (ﷺ) dismounted from his Mule.")
مجھ سے محمد بن بشار نے بیان کیا، کہا ہم سے غندر نے بیان کیا، ان سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے ابواسحاق نے، انہوں نے براء رضی اللہ عنہ سے سنا اور
ان سے قبیلہ قیس کے ایک آدمی نے پوچھا کہ کیا تم لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو غزوہ حنین میں چھوڑ کر بھاگ نکلے تھے؟ انہوں نے کہا: لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی جگہ سے نہیں ہٹے تھے۔ قبیلہ ہوازن کے لوگ تیرانداز تھے، جب ان پر ہم نے حملہ کیا تو وہ پسپا ہو گئے پھر ہم لوگ مال غنیمت میں لگ گئے۔ آخر ہمیں ان کے تیروں کا سامنا کرنا پڑا۔ میں نے خود دیکھا تھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے سفید خچر پر سوار تھے اور ابوسفیان بن حارث رضی اللہ عنہ اس کی لگام تھامے ہوئے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے «أنا النبي لا كذب» ”میں نبی ہوں، اس میں جھوٹ نہیں۔“ اسرائیل اور زہیر نے بیان کیا کہ بعد میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے خچر سے اتر گئے۔
Narrated Marwan and Al-Miswar bin Makhrama رضی اللہ عنہ :
When the delegate of Hawazin came to Allah's Messenger (ﷺ) declaring their conversion to Islam and asked him to return their properties and captives, Allah's Messenger (ﷺ) got up and said to them, "There Is involved in this matter, the people whom you see with me, and the most beloved talk to me, is the true one. So choose one of two alternatives: Either the captives or the properties. I have been waiting for you (i.e. have not distributed the booty)." Allah's Messenger (ﷺ) had delayed the distribution of their booty over ten nights after his return from Ta'if. So when they came to know that Allah's Messenger (ﷺ) was not going to return to them but one of the two, they said, "We prefer to have our captives." So Allah's Messenger (ﷺ) got up amongst the Muslims, and praising Allah as He deserved, said, "To proceed! Your brothers have come to you with repentance and I see (it logical) to return their captives. So, whoever of you likes to do that as a favor then he can do it. And whoever of you likes to stick to his share till we give him from the very first booty which Allah will give us, then he can do so." The people said, "We do that (i.e. return the captives) willingly as a favor, O Allah's Messenger (ﷺ)!" Allah's Messenger (ﷺ) said, "We do not know which of you have agreed to it and which have not; so go back and let your chiefs forward us your decision." They went back and their chief's spoke to them, and they (i.e. the chiefs) returned to Allah's Messenger (ﷺ) and informed him that all of them had agreed (to give up their captives) with pleasure, and had given their permission (i.e. that the captives be returned to their people). (The sub-narrator said, "That is what has reached me about the captives of Hawazin tribe.")
ہم سے سعید بن عفیر نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے لیث بن سعد نے بیان کیا، کہا مجھ سے عقیل نے بیان کیا، ان سے ابن شہاب نے (دوسری سند) اور مجھ سے اسحاق بن منصور نے بیان کیا، کہا ہم سے یعقوب بن ابراہیم نے بیان کیا، ہم سے ابن شہاب کے بھتیجے (محمد بن عبداللہ بن شہاب نے) بیان کیا کہ محمد بن شہاب نے کہا کہ ان سے عروہ بن زبیر نے بیان کیا کہ انہیں مروان بن حکم اور مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ نے خبر دی کہ
جب قبیلہ ہوازن کا وفد مسلمان ہو کر حاضر ہوا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رخصت دینے کھڑے ہوئے، انہوں نے آپ سے یہ درخواست کی کہ ان کا مال اور ان کے ( قبیلے کے قیدی ) انہیں واپس دے دئیے جائیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جیسا کہ تم لوگ دیکھ رہے ہو، میرے ساتھ کتنے اور لوگ بھی ہیں اور دیکھو سچی بات مجھے سب سے زیادہ پسند ہے۔ اس لیے تم لوگ ایک ہی چیز پسند کر لو یا تو اپنے قیدی لے لو یا مال لے لو۔ میں نے تم ہی لوگوں کے خیال سے ( قیدیوں کی تقسیم میں ) تاخیر کی تھی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے طائف سے واپس ہو کر تقریباً دس دن ان کا انتظار کیا تھا۔ آخر جب ان پر واضح ہو گیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم انہیں صرف ایک ہی چیز واپس کریں گے تو انہوں نے کہا کہ پھر ہم اپنے ( قبیلے کے ) قیدیوں کی واپسی چاہتے ہیں۔ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں کو خطاب کیا، اللہ تعالیٰ کی اس کی شان کے مطابق ثنا کرنے کے بعد فرمایا: امابعد! تمہارے بھائی ( قبیلہ ہوازن کے لوگ ) توبہ کر کے ہمارے پاس آئے ہیں، مسلمان ہو کر اور میری رائے یہ ہے کہ ان کے قیدی انہیں واپس کر دئیے جائیں۔ اس لیے جو شخص ( بلا کسی دنیاوی صلہ کے ) انہیں اپنی خوشی سے واپس کرنا چاہے وہ واپس کر دے یہ بہتر ہے اور جو لوگ اپنا حصہ نہ چھوڑنا چاہتے ہوں، ان کا حق قائم رہے گا۔ وہ یوں کر لیں کہ اس کے بعد جو سب سے پہلے غنیمت اللہ تعالیٰ ہمیں عنایت فرمائے گا اس میں سے ہم انہیں اس کے بدلہ دے دیں گے تو وہ ان کے قیدی واپس کر دیں۔ تمام صحابہ رضی اللہ عنہم نے کہا: یا رسول اللہ! ہم خوشی سے ( بلا کسی بدلہ کے ) واپس کرنا چاہتے ہیں لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس طرح ہمیں اس کا علم نہیں ہو گا کہ کس نے اپنی خوشی سے واپس کیا ہے اور کس نے نہیں، اس لیے سب لوگ جائیں اور تمہارے چودھری لوگ تمہارا فیصلہ ہمارے پاس لائیں۔ چنانچہ سب واپس آ گئے اور ان کے چودھریوں نے ان سے گفتگو کی پھر وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ سب نے خوشی اور فراخ دلی کے ساتھ اجازت دے دی ہے۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا یہی ہے وہ حدیث جو مجھے قبیلہ ہوازن کے قیدیوں کے متعلق پہنچی ہے۔
Narrated Ibn `Umar رضی اللہ عنہما :
When we returned from (the battle of) Hunain, `Umar رضی اللہ عنہ asked the Prophet (ﷺ) about a vow which he had made during the Pre-lslamic period of Ignorance that he would perform I`tikaf. The Prophet (ﷺ) ordered him to fulfill his vow. Some people have narrated its chain like this: Hammad from Ayyub, he from Nafii and he from Ibn-e-Umer رضی اللہ عنہما who has reported from the prophet ﷺ. (Imam Bukhari has himself presented this Hadith with two authorities). Thus, other authorities have been mentioned. Thus, there are four chains in total.
ہم سے ابوالنعمان محمد بن فضل نے بیان کیا، کہا ہم سے حماد بن زید نے بیان کیا، ان سے ایوب نے، ان سے نافع نے کہ عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! (دوسری سند) اور مجھ سے محمد بن مقاتل نے بیان کیا، کہا ہم کو عبداللہ بن مبارک نے خبر دی، انہیں معمر نے خبر دی، انہیں ایوب نے، انہیں نافع نے اور ان سے ابن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ
جب ہم غزوہ حنین سے واپس ہو رہے تھے تو عمر رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنی ایک نذر کے متعلق پوچھا جو انہوں نے زمانہ جاہلیت میں اعتکاف کی مانی تھی اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اسے پوری کرنے کا حکم دیا اور بعض ( احمد بن عبدہ ضبی ) نے حماد سے بیان کیا، ان سے ایوب نے، ان سے نافع نے اور ان سے ابن عمر رضی اللہ عنہما نے۔ اور اس روایت کو جریر بن حازم اور حماد بن سلمہ نے ایوب سے بیان کیا، ان سے نافع نے، ان سے ابن عمر رضی اللہ عنہما نے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے۔
Narrated Abu Qatada رضی اللہ عنہ :
We set out along with the Prophet (ﷺ) during the year of (the battle of) Hunain, and when we faced the enemy, the Muslims (with the exception of the Prophet (ﷺ) and some of his companions) retreated (before the enemy). I saw one of the pagans over-powering one of the Muslims, so I struck the pagan from behind his neck causing his armor to be cut off. The pagan headed towards me and pressed me so forcibly that I felt as if I was dying. Then death took him over and he released me. Afterwards I followed `Umar رضی اللہ عنہ and said to him, "What is wrong with the people?" He said, "It is the Order of Allah." Then the Muslims returned (to the battle after the flight) and (after overcoming the enemy) the Prophet sat and said, "Whoever had killed an Infidel and has an evidence to this issue, will have the Salb (i.e. the belonging of the deceased e.g. clothes, arms, horse, etc)." I (stood up) and said, "Who will be my witness?" and then sat down. Then the Prophet (ﷺ) repeated his question. Then the Prophet (ﷺ) said the same (for the third time). I got up and said, "Who will be my witness?" and then sat down. The Prophet (ﷺ) asked his former question again. So I got up. The Prophet (ﷺ) said, What is the matter, O Abu Qatada?" So I narrated the whole story; A man said, "Abu Qatada has spoken the truth, and the Salb of the deceased is with me, so please compensate Abu Qatada on my behalf." Abu Bakr رضی اللہ عنہ said, "No! By Allah, it will never happen that the Prophet (ﷺ) will leave a Lion of Allah who fights for the Sake of Allah and His Apostle and give his spoils to you." The Prophet (ﷺ) said, "Abu Bakr رضی اللہ عنہ has spoken the truth. Give it (the spoils) back to him (O man)!" So he gave it to me and I bought a garden in (the land of) Banu Salama with it (i.e. the spoils) and that was the first property I got after embracing Islam.
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، کہا ہم کو امام مالک رحمہ اللہ نے خبر دی، انہیں یحییٰ بن سعید نے، انہیں عمرو بن کثیر بن افلح نے، انہیں قتادہ کے مولیٰ ابو محمد نے اور ان سے ابوقتادہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ
غزوہ حنین کے لیے ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلے۔ جب جنگ ہوئی تو مسلمان ذرا ڈگمگا گئے ( یعنی آگے پیچھے ہو گئے ) ۔ میں نے دیکھا کہ ایک مشرک ایک مسلمان کے اوپر غالب ہو رہا ہے، میں نے پیچھے سے اس کی گردن پر تلوار ماری اور اس کی زرہ کاٹ ڈالی۔ اب وہ مجھ پر پلٹ پڑا اور مجھے اتنی زور سے بھینچا کہ موت کی تصویر میری آنکھوں میں پھر گئی، آخر وہ مر گیا اور مجھے چھوڑ دیا۔ پھر میری ملاقات عمر رضی اللہ عنہ سے ہوئی۔ میں نے پوچھا لوگوں کو کیا ہو گیا ہے؟ انہوں نے فرمایا، یہی اللہ عزوجل کا حکم ہے۔ پھر مسلمان پلٹے اور ( جنگ ختم ہونے کے بعد ) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف فرما ہوئے اور فرمایا کہ جس نے کسی کو قتل کیا ہو اور اس کے لیے کوئی گواہ بھی رکھتا ہو تو اس کا تمام سامان و ہتھیار اسے ہی ملے گا۔ میں نے اپنے دل میں کہا کہ میرے لیے کون گواہی دے گا؟ پھر میں بیٹھ گیا۔ بیان کیا کہ پھر آپ نے دوبارہ یہی فرمایا۔ اس مرتبہ پھر میں نے دل میں کہا کہ میرے لیے کون گواہی دے گا؟ اور پھر بیٹھ گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر اپنا فرمان دہرایا تو میں اس مرتبہ کھڑا ہو گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس مرتبہ فرمایا کیا بات ہے، اے ابوقتادہ! میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بتایا تو ایک صاحب ( اسود بن خزاعی اسلمی ) نے کہا کہ یہ سچ کہتے ہیں اور ان کے مقتول کا سامان میرے پاس ہے۔ آپ میرے حق میں انہیں راضی کر دیں ( کہ سامان مجھ سے نہ لیں ) اس پر ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: نہیں، اللہ کی قسم! اللہ کے شیروں میں سے ایک شیر، جو اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے لڑتا ہے پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس کا حق تمہیں ہرگز نہیں دے سکتے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ انہوں نے سچ کہا، تم سامان ابوقتادہ کو دے دو۔ انہوں نے سامان مجھے دے دیا۔ میں نے اس سامان سے قبیلہ سلمہ کے محلہ میں ایک باغ خریدا اسلام کے بعد یہ میرا پہلا مال تھا، جسے میں نے حاصل کیا تھا۔
Narrated Abu Qatada رضی اللہ عنہ :
When it was the day of (the battle of) Hunain, I saw a Muslim man fighting with one of the pagans and another pagan was hiding himself behind the Muslim in order to kill him. So I hurried towards the pagan who was hiding behind the Muslim to kill him, and he raised his hand to hit me but I hit his hand and cut it off. That man got hold of me and pressed me so hard that I was afraid (that I would die), then he knelt down and his grip became loose and I pushed him and killed him. The Muslims (excepting the Prophet (ﷺ) and some of his companions) started fleeing and I too, fled with them. Suddenly I met `Umar bin Al-Khattab رضی اللہ عنہ amongst the people and I asked him, "What is wrong with the people?" He said, "It is the order of Allah" Then the people returned to Allah's Messenger (ﷺ) (after defeating the enemy). Allah's Messenger (ﷺ) said, "Whoever produces a proof that he has killed an infidel, will have the spoils of the killed man." So I got up to look for an evidence to prove that I had killed an infidel, but I could not find anyone to bear witness for me, so I sat down. Then it came to my mind (that I should speak of it) and I mentioned the case to Allah's Messenger (ﷺ). A man from the persons who were sitting with him (i.e. the Prophet), said, "The arms of the deceased one whom he ( i.e. Abu Qatada رضی اللہ عنہ) has mentioned, are with me, so please compensate him for it (i.e. the spoils)," Abu Bakr رضی اللہ عنہ said, "No, Allah's Messenger (ﷺ) will not give it (i.e. the spoils) to a weak humble person from Quraish and leave one of Allah's Lions who fights on behalf of Allah and His Apostle." Allah's Messenger (ﷺ) then got up and gave that (spoils) to me, and I bought with it, a garden which was the first property I got after embracing Islam.
اور لیث بن سعد نے بیان کیا، مجھ سے یحییٰ بن سعید انصاری نے بیان کیا تھا کہ ان سے عمر بن کثیر بن افلح نے، ان سے ابوقتادہ رضی اللہ عنہ کے مولیٰ ابو محمد نے کہ ابوقتادہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ
غزوہ حنین کے دن میں نے ایک مسلمان کو دیکھا کہ ایک مشرک سے لڑ رہا تھا اور ایک دوسرا مشرک پیچھے سے مسلمان کو قتل کرنے کی گھات میں تھا، پہلے تو میں اسی کی طرف بڑھا، اس نے اپنا ہاتھ مجھے مارنے کے لیے اٹھایا تو میں نے اس کے ہاتھ پر وار کر کے کاٹ دیا۔ اس کے بعد وہ مجھ سے چمٹ گیا اور اتنی زور سے مجھے بھینچا کہ میں ڈر گیا۔ آخر اس نے مجھے چھوڑ دیا اور ڈھیلا پڑ گیا۔ میں نے اسے دھکا دے کر قتل کر دیا اور مسلمان بھاگ نکلے اور میں بھی ان کے ساتھ بھاگ پڑا۔ لوگوں میں عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نظر آئے تو میں نے ان سے پوچھا، کہ لوگ بھاگ کیوں رہے ہیں؟ انہوں نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کا یہی حکم ہے، پھر لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر جمع ہو گئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو شخص اس پر گواہ قائم کر دے گا کہ کسی مقتول کو اسی نے قتل کیا ہے تو اس کا سارا سامان اسے ملے گا۔ میں اپنے مقتول پر گواہ کے لیے اٹھا لیکن مجھے کوئی گواہ دکھائی نہیں دیا۔ آخر میں بیٹھ گیا پھر میرے سامنے ایک صورت آئی۔ میں نے اپنے معاملے کی اطلاع نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے ایک صاحب ( اسود بن خزاعی اسلمی رضی اللہ عنہ ) نے کہا کہ ان کے مقتول کا ہتھیار میرے پاس ہے، آپ میرے حق میں انہیں راضی کر دیں۔ اس پر ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا ہرگز نہیں، اللہ کے شیروں میں سے ایک شیر کو چھوڑ کر جو اللہ اور اس کے رسول کے لیے جنگ کرتا ہے، اس کا حق قریش کے ایک بزدل کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نہیں دے سکتے۔ ابوقتادہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور مجھے وہ سامان عطا فرمایا۔ میں نے اس سے ایک باغ خریدا اور یہ سب سے پہلا مال تھا جسے میں نے اسلام لانے کے بعد حاصل کیا تھا۔
Narrated Abu Musa رضی اللہ عنہ :
When the Prophet (ﷺ) had finished from the battle of Hunain, he sent Abu Amir at the head of an army to Autas He (i.e. Abu Amir رضی اللہ عنہ ) met Duraid bin As Summa and Duraid was killed and Allah defeated his companions. The Prophet (ﷺ) sent me with Abu 'Amir. Abu Amir رضی اللہ عنہ was shot at his knee with an arrow which a man from Jushm had shot and fixed into his knee. I went to him and said, "O Uncle! Who shot you?" He pointed me out (his killer) saying, "That is my killer who shot me (with an arrow)." So I headed towards him and overtook him, and when he saw me, he fled, and I followed him and started saying to him, "Won't you be ashamed? Won't you stop?" So that person stopped, and we exchanged two hits with the swords and I killed him. Then I said to Abu 'Amir رضی اللہ عنہ . "Allah has killed your killer." He said, "Take out this arrow" So I removed it, and water oozed out of the wound. He then said, "O son of my brother! Convey my compliments to the Prophet (ﷺ) and request him to ask Allah's Forgiveness for me." Abu Amir رضی اللہ عنہ made me his successor in commanding the people (i.e. troops). He survived for a short while and then died. (Later) I returned and entered upon the Prophet (ﷺ) at his house, and found him lying in a bed made of stalks of date-palm leaves knitted with ropes, and on it there was bedding. The strings of the bed had their traces over his back and sides. Then I told the Prophet (ﷺ) about our and Abu Amir's news and how he had said "Tell him to ask for Allah's Forgiveness for me." The Prophet (ﷺ) asked for water, performed ablution and then raised hands, saying, "O Allah's Forgive `Ubaid, Abu Amir رضی اللہ عنہ ." At that time I saw the whiteness of the Prophet's armpits. The Prophet (ﷺ) then said, "O Allah, make him (i.e. Abu Amir رضی اللہ عنہ ) on the Day of Resurrection, superior to many of Your human creatures." I said, "Will you ask Allah's Forgiveness for me?" (On that) the Prophet (ﷺ) said, "O Allah, forgive the sins of `Abdullah bin Qais and admit him to a nice entrance (i.e. paradise) on the Day of Resurrection." Abu Burda said, "One of the prayers was for Abu 'Amir رضی اللہ عنہ and the other was for Abu Musa رضی اللہ عنہ (i.e. `Abdullah bin Qais).
ہم سے محمد بن علاء نے بیان کیا، کہا ہم سے ابواسامہ نے بیان کیا، ان سے برید بن عبداللہ نے، ان سے ابوبردہ نے اور ان سے ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے کہ
جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم غزوہ حنین سے فارغ ہو گئے تو آپ نے ایک دستے کے ساتھ ابوعامر رضی اللہ عنہ کو وادی اوطاس کی طرف بھیجا۔ اس معرکہ میں درید ابن الصمہ سے مقابلہ ہوا۔ درید قتل کر دیا گیا اور اللہ تعالیٰ نے اس کے لشکر کو شکست دے دی۔ ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ابوعامر رضی اللہ عنہ کے ساتھ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بھی بھیجا تھا۔ ابوعامر رضی اللہ عنہ کے گھٹنے میں تیر آ کر لگا۔ بنی جعشم کے ایک شخص نے ان پر تیر مارا تھا اور ان کے گھٹنے میں اتار دیا تھا۔ میں ان کے پاس پہنچا اور کہا:چچا! یہ تیر آپ پر کس نے پھینکا؟ انہوں نے ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ کو اشارے سے بتایا کہ وہ جعشمی میرا قاتل ہے جس نے مجھے نشانہ بنایا ہے۔ میں اس کی طرف لپکا اور اس کے قریب پہنچ گیا لیکن جب اس نے مجھے دیکھا تو وہ بھاگ پڑا میں نے اس کا پیچھا کیا اور میں یہ کہتا جاتا تھا، تجھے شرم نہیں آتی، تجھ سے مقابلہ نہیں کیا جاتا۔ آخر وہ رک گیا اور ہم نے ایک دوسرے پر تلوار سے وار کیا۔ میں نے اسے قتل کر دیا اور ابوعامر رضی اللہ عنہ سے جا کر کہا کہ اللہ نے آپ کے قاتل کو قتل کروا دیا۔ انہوں نے فرمایا کہ میرے ( گھٹنے میں سے ) تیر نکال لے، میں نے نکال دیا تو اس سے پانی جاری ہو گیا پھر انہوں نے فرمایا: بھتیجے! نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو میرا سلام پہنچانا اور عرض کرنا کہ میرے لیے مغفرت کی دعا فرمائیں۔ ابوعامر رضی اللہ عنہ نے لوگوں پر مجھے اپنا نائب بنا دیا۔ اس کے بعد وہ تھوڑی دیر اور زندہ رہے اور شہادت پائی۔ میں واپس ہوا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پہنچا۔ آپ اپنے گھر میں بانوں کی ایک چارپائی پر تشریف فرما تھے۔ اس پر کوئی بستر بچھا ہوا نہیں تھا اور بانوں کے نشانات آپ کی پیٹھ اور پہلو پر پڑ گئے تھے۔ میں نے آپ سے اپنے اور ابوعامر رضی اللہ عنہ کے واقعات بیان کئے اور یہ کہ انہوں نے دعا مغفرت کے لیے درخواست کی ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پانی طلب فرمایا اور وضو کیا پھر ہاتھ اٹھا کر دعا کی، اے اللہ! عبید ابوعامر کی مغفرت فرما۔ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بغل میں سفیدی ( جب آپ دعا کر رہے تھے ) دیکھی۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کی، اے اللہ! قیامت کے دن ابوعامر کو اپنی بہت سی مخلوق سے بلند تر درجہ عطا فرمائیو۔ میں نے عرض کیا اور میرے لیے بھی اللہ سے مغفرت کی دعا فرما دیجئیے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کی اے اللہ! عبداللہ بن قیس ابوموسیٰ کے گناہوں کو بھی معاف فرما اور قیامت کے دن اچھا مقام عطا فرمائیو۔ ابوبردہ نے بیان کیا کہ ایک دعا ابوعامر رضی اللہ عنہ کے لیے تھی اور دوسری ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ کے لیے۔
Narrated Um Salama رضی اللہ عنہا :
The Prophet (ﷺ) came to me while there was an effeminate man sitting with me, and I heard him (i.e. the effeminate man) saying to `Abdullah bin Abi Umaiya, "O `Abdullah! See if Allah should make you conquer Ta'if tomorrow, then take the daughter of Ghailan (in marriage) as (she is so beautiful and fat that) she shows four folds of flesh when facing you, and eight when she turns her back." The Prophet (ﷺ) then said, "These (effeminate men) should never enter upon you (O women!)." Ibn Juraij said, "That effeminate man was called Hit." Narrated Hisham: The above narration and added extra, that at that time, the Prophet, was besieging Taif.
ہم سے عبداللہ بن زبیر حمیدی نے بیان کیا، کہا ہم نے سفیان بن عیینہ سے سنا، ان سے ہشام بن عروہ نے بیان کیا، ان سے ان کے والد نے، ان سے زینب بنت ابی سلمہ نے اور ان سے ان کی والدہ ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میرے یہاں تشریف لائے تو میرے پاس ایک مخنث بیٹھا ہوا تھا پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سنا کہ وہ عبداللہ بن امیہ سے کہہ رہا تھا کہ اے عبداللہ! دیکھو اگر کل اللہ تعالیٰ نے طائف کی فتح تمہیں عطا فرمائی تو غیلان بن سلمہ کی بیٹی ( بادیہ نامی ) کو لے لینا وہ جب سامنے آتی ہے تو پیٹ پر چار بل اور پیٹھ موڑ کر جاتی ہے تو آٹھ بل دکھائی دیتے ہیں ( یعنی بہت موٹی تازہ عورت ہے ) تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ لوگ اب تمہار ے گھر میں نہ آیا کریں۔ ابن عیینہ نے بیان کیا کہ ابن جریج نے کہا، اس مخنث کا نام ہیت تھا۔ ہم سے محمود نے بیان کیا، ان سے ابواسامہ نے بیان کیا، ان سے ہشام نے اسی طرح بیان کیا اور یہ اضافہ کیا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت طائف کا محاصرہ کئے ہوئے تھے
Narrated `Abdullah bin `Amr رضی اللہ عنہما :
When Allah's Messenger (ﷺ) besieged Taif and could not conquer its people, he said, "We will return (to Medina) If Allah wills." That distressed the Companions (of the Prophet (ﷺ) and they said, "Shall we go away without conquering it (i.e. the Fort of Taif)?" Once the Prophet (ﷺ) said, "Let us return." Then the Prophet said (to them), "Fight tomorrow." They fought and (many of them) got wounded, whereupon the Prophet (ﷺ) said, "We will return (to Medina) tomorrow if Allah wills." That delighted them, whereupon the Prophet (ﷺ) smiled. The sub-narrator, Sufyan said once, "(The Prophet) smiled."
ہم سے علی بن عبداللہ نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، ان سے عمرو بن دینار نے، ان سے ابو العباس نابینا شاعر نے اور ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے، انہوں نے بیان کیا کہ
جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے طائف کا محاصرہ کیا تو دشمن کا کچھ بھی نقصان نہیں کیا۔ آخر آپ نے فرمایا کہ اب ان شاءاللہ ہم واپس ہو جائیں گے۔ مسلمانوں کے لیے ناکام لوٹنا بڑا شاق گزرا۔ انہوں نے کہا کہ واہ بغیر فتح کے ہم واپس چلے جائیں ( راوی نے ) ایک مرتبہ «نذهب» کے بجائے «نقفل» کا لفظ استعمال کیا یعنی ہم۔۔۔ لوٹ جائیں اور طائف کو فتح نہ کریں ( یہ کیونکر ہو سکتا ہے ) اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر صبح سویرے میدان میں جنگ کے لیے آ جاؤ۔ پس وہ صحابہ سویرے ہی آ گئے لیکن ان کی بڑی تعداد زخمی ہو گئی۔ اب پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ان شاءاللہ ہم کل واپس چلیں گے۔ صحابہ نے اسے بہت پسند کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس پر ہنس پڑے۔ اور سفیان نے ایک مرتبہ بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مسکرا دئیے۔ حمیدی نے کہا کہ ہم سے سفیان نے یہ پوری خبر بیان کی۔
Narrated Abu `Uthman:
I heard from Sa`d رضی اللہ عنہ , the first man who has thrown an arrow in Allah's Cause, and from Abu Bakra رضی اللہ عنہ who jumped over the wall of the Ta'if Fort along with a few persons and came to the Prophet. They both said, "We heard the Prophet (ﷺ) saying, 'If somebody claims to be the son of somebody other than his father knowingly, he will be denied Paradise (i.e. he will not enter Paradise).' " Narrated Ma`mar from `Asim from Abu Al-`Aliya or Abu `Uthman An-Nahdi رضی اللہ عنہ who said, "I heard Sa`d رضی اللہ عنہ and Abu Bakra رضی اللہ عنہ narrating from the Prophet." `Asim said, "I said (to him), 'Very trustworthy persons have narrated to you.' He said, 'Yes, one of them was the first to throw an arrow in Allah's Cause and the other came to the Prophet (ﷺ) in a group of twenty-three persons from Ta'if'."
ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا، کہا ہم سے غندر (محمد بن جعفر) نے بیان کیا، ان سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے عاصم بن سلیمان نے بیان کیا، انہوں نے ابوعثمان نہدی سے سنا کہا
میں نے سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے سنا، جنہوں نے سب سے پہلے اللہ کے راستے میں تیر چلایا تھا اور ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے جو طائف کے قلعے پر چند مسلمانوں کے ساتھ چڑھے تھے اور اس طرح نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تھے۔ ان دونوں صحابیوں نے بیان کیا کہ ہم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ فرما رہے تھے کہ جو شخص جانتے ہوئے اپنے باپ کے سوا کسی دوسرے کی طرف اپنے آپ کو منسوب کرے تو اس پر جنت حرام ہے۔ اور ہشام نے بیان کیا اور انہیں معمر نے خبر دی، انہیں عاصم نے، انہیں ابوالعالیہ یا ابوعثمان نہدی نے، کہا کہ میں نے سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ اور ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے سنا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، عاصم نے بیان کیا کہ میں نے ( ابوالعالیہ یا ابوعثمان نہدی رضی اللہ عنہ ) سے کہا آپ سے یہ روایت ایسے دو اصحاب ( سعد اور ابوبکرہ رضی اللہ عنہما ) نے بیان کی ہے کہ یقین کے لیے ان کے نام کافی ہیں۔ انہوں نے کہا یقیناً ان میں سے ایک ( سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ ) تو وہ ہیں جنہوں نے اللہ کے راستے میں سب سے پہلے تیر چلایا تھا اور دوسرے ( ابوبکرہ رضی اللہ عنہ ) وہ ہیں جو تئیس آدمی تھے ان لوگوں میں جو طائف کے قلعہ سے اتر کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے تھے۔
Narrated Abu Burda رضی اللہ عنہ :
Abu Musa رضی اللہ عنہ said, "I was with the Prophet (ﷺ) when he was encamping at Al-Jarana (a place) between Mecca and Medina and Bilal رضی اللہ عنہ was with him. A bedouin came to the Prophet (ﷺ) and said, "Won't you fulfill what you have promised me?" The Prophet (ﷺ) said, 'Rejoice (at what I will do for you).' The bedouin said, "(You have said to me) rejoice too often." Then the Prophet (ﷺ) turned to me (i.e. Abu Musa رضی اللہ عنہ ) and Bilal رضی اللہ عنہ in an angry mood and said, 'The bedouin has refused the good tidings, so you both accept them.' Bilal رضی اللہ عنہ and I said, 'We accept them.' Then the Prophet (ﷺ) asked for a drinking bowl containing water and washed his hands and face in it, and then took a mouthful of water and threw it therein saying (to us), "Drink (some of) it and pour (some) over your faces and chests and be happy at the good tidings." So they both took the drinking bowl and did as instructed. Um Salama called from behind a screen, "Keep something (of the water for your mother." So they left some of it for her.
ہم سے محمد بن علاء نے بیان کیا، کہا ہم سے ابواسامہ نے بیان کیا، ان سے برید بن عبداللہ نے، ان سے ابوبردہ نے اور ان سے ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ
ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھا جب آپ مکہ اور مدینہ کے درمیان الجرانہ میں پڑاؤ ڈال رہے تھے اور بلال رضی اللہ عنہ آپ کے ساتھ تھے، ایک بدو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہا: جیت گیا۔ کیا تم نے مجھ سے جو وعدہ کیا ہے اسے پورا نہیں کیا؟‘‘ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: خوش ہو جاؤ (میں تمہارے لیے کیا کروں گا)۔ اعرابی نے کہا: (تم نے مجھ سے کہا ہے کہ) کثرت سے خوش رہو، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے غصے میں میری طرف (یعنی ابو موسیٰ) اور بلال رضی اللہ عنہما کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا: اس اعرابی نے بشارت سے انکار کر دیا ہے۔ تم دونوں ان کو قبول کرو۔' میں نے اور بلال نے کہا، 'ہمیں قبول ہے۔' پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پینے کا ایک پیالہ منگوایا جس میں پانی تھا اور اس میں اپنے ہاتھ اور چہرے کو دھویا، پھر پانی کا ایک نہر لے کر اس میں ڈال دیا اور فرمایا: اس میں سے کچھ پیو اور (کچھ) ڈال دو۔ ) اپنے چہروں اور سینوں پر رکھو اور بشارت پر خوش رہو۔" چنانچہ دونوں نے پینے کا پیالہ لیا اور ہدایت کے مطابق کیا، ام سلمہ نے پردے کے پیچھے سے آواز دی، "اپنی والدہ کے لیے کچھ پانی رکھو۔" چنانچہ وہ چلی گئیں۔ اس میں سے کچھ اس کے لیے۔
Narrated Safwan bin Ya`la bin Umaiya:
Ya`la used to say, "I wish I could see Allah's Messenger (ﷺ) at the time when he is being inspired divinely." Ya`la added "While the Prophet (ﷺ) was at Al-Ja'rana, shaded with a cloth sheet (in the form of a tent) and there were staying with him, some of his companions under it, suddenly there came to him a bedouin wearing a cloak and perfumed extravagantly. He said, "O Allah's Messenger (ﷺ) ! What is your opinion regarding a man who assumes the state of Ihram for `Umra wearing a cloak after applying perfume to his body?" `Umar رضی اللہ عنہ signalled with his hand to Ya`la رضی اللہ عنہ to come (near). Ya`la رضی اللہ عنہ came and put his head (underneath that cloth sheet) and saw the Prophet (ﷺ) red-faced and when that state (of the Prophet (ﷺ) ) was over, he said, "Where is he who as already asked me about the `Umra?" The man was looked for and brought to the Prophet (ﷺ) The Prophet (ﷺ) said (to him), "As for the perfume you have applied to your body, wash it off your body) thrice, and take off your cloak, and then do in your `Umra the rites you do in your Hajj."
ہم سے یعقوب بن ابراہیم نے بیان کیا، کہا ہم سے اسماعیل بن ابراہیم بن علیہ نے بیان کیا، ان سے ابن جریج نے بیان کیا، کہا مجھ کو عطا بن ابی رباح نے خبر دی، انہیں صفوان بن یعلیٰ بن امیہ نے خبر دی کہ
یعلیٰ نے کہا کاش میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس وقت دیکھ سکتا جب آپ پر وحی نازل ہوتی ہے۔ بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جعرانہ میں ٹھہرے ہوئے تھے۔ آپ کے لیے ایک کپڑے سے سایہ کر دیا گیا تھا اور اس میں چند صحابہ رضی اللہ عنہم بھی آپ کے ساتھ موجود تھے۔ اتنے میں ایک اعرابی آئے وہ ایک جبہ پہنے ہوئے تھے، خوشبو میں بسا ہوا۔ انہوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ایک ایسے شخص کے بارے میں آپ کا کیا حکم ہے جو اپنے جبہ میں خوشبو لگانے کے بعد احرام باندھے؟ فوراً ہی عمر رضی اللہ عنہ نے یعلیٰ رضی اللہ عنہ کو آنے کے لیے ہاتھ سے اشارہ کیا۔ یعلیٰ رضی اللہ عنہ حاضر ہو گئے اور اپنا سر ( نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھنے کے لیے ) اندر کیا ( نزول وحی کی کیفیت سے ) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ مبارک سرخ ہو رہا تھا اور زور زور سے سانس چل رہی تھی۔ تھوڑی دیر تک یہی کیفیت رہی پھر ختم ہو گئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کہ ابھی عمرہ کے متعلق جس نے سوال کیا تھا وہ کہاں ہے؟ انہیں تلاش کر کے لایا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو خوشبو تم نے لگا رکھی ہے اسے تین مرتبہ دھو لو اور جبہ اتار دو اور پھر عمرہ میں وہی کام کرو جو حج میں کرتے ہو۔
Narrated `Abdullah bin Zaid bin `Asim رضی اللہ عنہ :
When Allah gave to His Apostle the war booty on the day of Hunain, he distributed that booty amongst those whose hearts have been (recently) reconciled (to Islam), but did not give anything to the Ansar. So they seemed to have felt angry and sad as they did not get the same as other people had got. The Prophet (ﷺ) then delivered a sermon before them, saying, "O, the assembly of Ansar! Didn't I find you astray, and then Allah guided you on the Right Path through me? You were divided into groups, and Allah brought you together through me; you were poor and Allah made you rich through me." Whatever the Prophet (ﷺ) said , they (i.e. the Ansar) said, "Allah and his Apostle have more favours to do." The Prophet (ﷺ) said, "What stops you from answering the Messenger of Allah?" But whatever he said to them, they replied, "Allah and His Apostle have more favours to do." The Prophet (ﷺ) then said, "If you wish you could say: 'You came to us in such-and-such state (at Medina).' Wouldn't you be willing to see the people go away with sheep and camels while you go with the Prophet (ﷺ) to your homes? But for the migration, I would have been one of the Ansar, and if the people took their way through a valley or mountain pass, I would select the valley or mountain pass of the Ansar. The Ansar are Shiar (i.e. those clothes which are in direct contact with the body and worn inside the other garments), and the people are Dithar (i.e. those clothes which are not in direct contact with the body and are worn over other garments). No doubt, you will see other people favoured over you, so you should be patient till you meet me at the Tank (of Kauthar).
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا ہم سے وہیب بن خالد نے بیان کیا، ان سے عمرو بن یحییٰ نے، ان سے عباد بن تمیم نے، ان سے عبداللہ بن زید بن عاصم رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ
غزوہ حنین کے موقع پر اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو جو غنیمت دی تھی آپ نے اس کی تقسیم کمزور ایمان کے لوگوں میں ( جو فتح مکہ کے بعد ایمان لائے تھے ) کر دی اور انصار کو اس میں سے کچھ نہیں دیا۔ اس کا انہیں کچھ ملال ہوا کہ وہ مال جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دوسروں کو دیا انہیں کیوں نہیں دیا۔ آپ نے اس کے بعد انہیں خطاب کیا اور فرمایا: اے انصاریو! کیا میں نے تمہیں گمراہ نہیں پایا تھا پھر تم کو میرے ذریعہ اللہ تعالیٰ نے ہدایت نصیب کی اور تم میں آپس میں دشمنی اور نااتفاقی تھی تو اللہ تعالیٰ نے میرے ذریعہ تم میں باہم الفت پیدا کی اور تم محتاج تھے اللہ تعالیٰ نے میرے ذریعہ غنی کیا۔ آپ کے ایک ایک جملے پر انصار کہتے جاتے تھے کہ اللہ اور اس کے رسول کے ہم سب سے زیادہ احسان مند ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میری باتوں کا جواب دینے سے تمہیں کیا چیز مانع رہی؟ بیان کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہر اشارہ پر انصار عرض کرتے جاتے کہ اللہ اور اس کے رسول کے ہم سب سے زیادہ احسان مند ہیں پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر تم چاہتے تو مجھ سے اس طرح بھی کہہ سکتے تھے ( کہ آپ آئے تو لوگ آپ کو جھٹلا رہے تھے، لیکن ہم نے آپ کی تصدیق کی وغیرہ ) کیا تم اس پر خوش نہیں ہو کہ جب لوگ اونٹ اور بکریاں لے جا رہے ہوں تو تم اپنے گھروں کی طرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ساتھ لے جاؤ؟ اگر ہجرت کی فضیلت نہ ہوتی تو میں بھی انصار کا ایک آدمی ہوتا۔ لوگ خواہ کسی گھاٹی یا وادی میں رہیں گے میں تو انصار کی گھاٹی اور وادی میں رہوں گا۔ انصار استر کی طرح ہیں جو جسم سے ہمیشہ لگا رہتا ہے اور دوسرے لوگ اوپر کے کپڑے یعنی ابرہ کی طرح ہیں۔ تم لوگ ( انصار ) دیکھو گے کہ میرے بعد تم پر دوسروں کو ترجیح دی جائے گی۔ تم ایسے وقت میں صبر کرنا یہاں تک کہ مجھ سے حوض پر آ ملو۔
Narrated Anas Bin Malik رضی اللہ عنہ :
When Allah gave Allah's Messenger (ﷺ) what he gave of the properties of the Hawazin tribe as a war booty, the Prophet (ﷺ) started giving some men 100 camels each. The Ansar (then) said, "May Allah forgive Allah's Messenger (ﷺ)s as he gives to Quraish and leaves us although our swords are still dribbling with the blood of Quraish." Allah Apostle was informed of their statement, so he sent for the Ansar and gathered them in a leather tent, and did not call anybody else along with them. When they al I gathered, the Prophet (ﷺ) got up and said, "What is this talk being informed to me about you?" The learned men amongst the Ansar said, "O Allah's Messenger (ﷺ)! Our chiefs did not say anything, but some people amongst us who are younger in age said. 'May Allah forgive Allah's Messenger (ﷺ) as he gives (of the booty) to Quraish and leaves us though our swords are still dribbling with their blood." The Prophet (ﷺ) said, "I give to these men who have newly deserted heathenism (and embraced Islam) so as to attract their hearts. Won't you be happy that the people take the wealth while you take the Prophet (ﷺ) with you to your homes? By Allah, what you are taking is better than whatever they are taking." They (i.e. the Ansar) said, "O Allah's Messenger (ﷺ)! We are satisfied." The Prophet (ﷺ) then said to them. "You will find others favored over you greatly, so be patient till you meet Allah and His Apostle and I will be at the Tank then." Anas رضی اللہ عنہ added: But they did not remain patient.
مجھ سے عبداللہ بن محمد نے بیان کیا، کہا ہم سے ہشام بن عروہ نے بیان کیا، انہیں معمر نے خبر دی، ان سے زہری نے بیان کیا اور انہیں انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے خبر دی، بیان کیا کہ
جب قبیلہ ہوازن کے مال میں سے اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو جو دینا تھا وہ دیا تو انصار کے کچھ لوگوں کو رنج ہوا کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ لوگوں کو سو سو اونٹ دے دئیے تھے۔ کچھ لوگوں نے کہا کہ اللہ اپنے رسول کی مغفرت کرے، قریش کو تو آپ عنایت فرما رہے ہیں اور ہم کو آپ نے چھوڑ دیا ہے حالانکہ ہماری تلواروں سے ان کا خون ٹپک رہا ہے۔ انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ انصار کی یہ بات نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے کانوں میں آئی تو آپ نے انہیں بلا بھیجا اور چمڑے کے ایک خیمے میں انہیں جمع کیا، ان کے ساتھ ان کے علاوہ کسی کو بھی آپ نے نہیں بلایا تھا۔ جب سب لوگ جمع ہو گئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور آپ نے فرمایا تمہاری جو بات مجھے معلوم ہوئی ہے کیا وہ صحیح ہے؟ انصار کے جو سمجھدار لوگ تھے انہوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! جو لوگ ہمارے معزز اور سردار ہیں، انہوں نے ایسی کوئی بات نہیں کہی۔ البتہ ہمارے کچھ لوگ جو ابھی نوعمر ہیں، انہوں نے کہا ہے کہ اللہ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مغفرت کرے، قریش کو آپ دے رہے ہیں اور ہمیں آپ نے چھوڑ دیا ہے حالانکہ ہماری تلواروں سے ان کا خون ٹپک رہا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر فرمایا کہ میں ایسے لوگوں کو دیتا ہوں جو ابھی نئے نئے اسلام میں داخل ہوئے ہیں، اس طرح میں ان کی دلجوئی کرتا ہوں۔ کیا تم اس پر راضی نہیں ہو کہ دوسرے لوگ تو مال و دولت لے جائیں اور تم نبی کو اپنے ساتھ اپنے گھر لے جاؤ۔ اللہ کی قسم! جو چیز تم اپنے ساتھ لے جاؤ گے وہ اس سے بہتر ہے جو وہ لے جا رہے ہیں۔ انصار نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ہم اس پر راضی ہیں۔ اس کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میرے بعد تم دیکھو گے کہ تم پر دوسروں کو ترجیح دی جائے گی۔ اس وقت صبر کرنا، یہاں تک کہ اللہ اور اس کے رسول سے آ ملو۔ میں حوض کوثر پر ملوں گا۔ انس رضی اللہ عنہ نے کہا لیکن انصار نے صبر نہیں کیا۔
Narrated Anas رضی اللہ عنہ :
When it was the day of the Conquest (of Mecca) Allah's Messenger (ﷺ) distributed the war booty amongst the people of Quraish which caused the Ansar to become angry. So the Prophet (ﷺ) said, "Won't you be pleased that the people take the worldly things and you take Allah's Messenger (ﷺ) with you? "They said, "Yes." The Prophet (ﷺ) said, "If the people took their way through a valley or mountain pass, I would take my way through the Ansar's valley or mountain pass."
ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے ابوالتیاح نے اور ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ
فتح مکہ کے زمانے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قریش میں ( حنین کی ) غنیمت کی تقسیم کر دی۔ انصار رضی اللہ عنہم اس سے رنجیدہ ہوئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا تم اس پر راضی نہیں ہو کہ دوسرے لوگ دنیا اپنے ساتھ لے جائیں اور تم اپنے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو لے جاؤ۔ انصار نے عرض کیا کہ ہم اس پر خوش ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ لوگ دوسرے کسی وادی یا گھاٹی میں رہیں تو میں انصار کی وادی یا گھاٹی میں رہوں گا۔