Military Expeditions led by the Prophet (PBUH) (Al-Maghaazi)
كتاب المغازي
Chapter 65
Narrated `Aisha رضی اللہ عنہا :
The Prophet (ﷺ) died while his armor was mortgaged to a Jew for thirty Sa's of barley.
ہم سے قبیصہ بن عتبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان ثوری نے بیان کیا، ان سے اعمش نے، ان سے ابراہیم نخعی نے، ان سے اسود بن یزید نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ
جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوئی تو آپ کی زرہ ایک یہودی کے یہاں تیس صاع جَو کے بدلے میں گروی رکھی ہوئی تھی۔
Narrated Salim's father:
The Prophet (ﷺ) appointed Usama رضی اللہ عنہما as the commander of the troops (to be sent to Syria). The Muslims spoke about Usama (unfavorably ). The Prophet (ﷺ) said, " I have been informed that you spoke about Usama رضی اللہ عنہ . (Let it be known that ) he is the most beloved of all people to me."
ہم سے ابوعاصم ضحاک بن مخلد نے بیان کیا، کہا ہم سے فضیل بن سلیمان نے بیان کیا، ان سے موسیٰ بن عقبہ نے بیان کیا، ان سے سالم نے اور ان سے ان کے والد (عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما) نے کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما کو ایک لشکر کا امیر بنایا تو بعض صحابہ رضی اللہ عنہم نے ان کی امارت پر اعتراض کیا۔ اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مجھے معلوم ہوا ہے کہ تم اسامہ رضی اللہ عنہ پر اعتراض کر رہے ہو حالانکہ وہ مجھے سب سے زیادہ عزیز ہے۔
Narrated `Abdullah bin `Umar رضی اللہ عنہما :
Allah's Messenger (ﷺ) sent troops appointed Usama bin Zaid رضی اللہ عنہما as their commander. The people criticized his leadership. Allah's Messenger (ﷺ) got up and said, "If you (people) are criticizing his (i.e. Usama's) leadership you used to criticize the leadership of his father before. By Allah, he (i.e. Zaid رضی اللہ عنہ) deserved the leadership indeed, and he used to be one of the most beloved persons to me, and now this (i.e. his son, Usama رضی اللہ عنہ) is one of the most beloved persons to me after him."
ہم سے اسماعیل بن ابی اویس نے بیان کیا، کہا ہم سے امام مالک نے بیان کیا، ان سے عبداللہ بن دینار نے اور ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک لشکر روانہ فرمایا اور اس کا امیر اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما کو بنایا۔ بعض لوگوں نے ان کی امارت پر اعتراض کیا۔ اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ رضی اللہ عنہم کو خطاب کیا اور فرمایا کہ اگر آج تم اس کی امارت پر اعتراض کرتے ہو تو تم اس سے پہلے اس کے والد کی امارت پر اسی طرح اعتراض کر چکے ہو اور اللہ کی قسم! اس کے والد ( زید رضی اللہ عنہ ) امارت کے بہت لائق تھے اور مجھے سب سے زیادہ عزیز تھے اور یہ ( یعنی اسامہ رضی اللہ عنہ ) بھی ان کے بعد مجھے سب سے زیادہ عزیز ہے۔
Narrated Abu Al-Khair inquired of Sunabihi:
I asked (me), 'When did you migrate?' I (i.e. Abu Al-Khair) said, 'We went out from Yemen as emigrants and arrived at Al-Juhfa, and there came a rider whom I asked about the news. The rider said: We buried the Prophet (ﷺ) five days ago." I asked (As-Sanabihi), 'Did you hear anything about the night of Qadr?' He replied, 'Bilal رضی اللہ عنہ , the Mu'adh-dhin of the Prophet (ﷺ) informed me that it is on one of the seven nights of the last ten days (of Ramadan).
ہم سے اصبغ بن فرج نے بیان کیا، کہا کہ مجھے عبداللہ بن وہب نے خبر دی، کہا کہ مجھے عمرو بن حارث نے خبر دی، انہیں عمرو بن ابی حبیب نے، ان سے ابوالخیر نے عبدالرحمٰن بن عسیلہ صنابحی سے، جناب ابوالخیر نے ان سے پوچھا تھا کہ
تم نے کب ہجرت کی تھی؟ انہوں نے بیان کیا کہ ہم ہجرت کے ارادے سے یمن چلے، ابھی ہم مقام جحفہ میں پہنچے تھے کہ ایک سوار سے ہماری ملاقات ہوئی۔ ہم نے ان سے مدینہ کی خبر پوچھی تو انہوں نے بتایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کو پانچ دن ہو چکے ہیں میں نے پوچھا تم نے لیلۃ القدر کے بارے میں کوئی حدیث سنی ہے؟ انہوں نے فرمایا کہ ہاں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے مؤذن بلال رضی اللہ عنہ نے مجھے خبر دی ہے کہ لیلۃ القدر رمضان کے آخری عشرہ کے سات دنوں میں ( ایک طاق رات ) ہوتی ہے۔
Narrated Zaid bin Al-Arqam رضی اللہ عنہ :
"In how many Ghazawat did you take part in the company of Allah's Apostle?" He replied, "Seventeen." I further asked, "How many Ghazawat did the Prophet (ﷺ) fight?" He replied, "Nineteen."
ہم سے عبداللہ بن رجاء نے بیان کیا، انہوں نے بیان کیا ہم سے اسرائیل نے بیان کیا، ان سے ابواسحاق نے بیان کیا کہ میں نے زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تم نے کتنے غزوے کئے تھے؟ انہوں نے بتایا کہ سترہ۔ میں نے پوچھا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کتنے غزوے کئے تھے؟ فرمایا کہ انیس۔
Narrated Al-Bara رضی اللہ عنہ :
I fought fifteen Ghazawat in the company of the Prophet.
ہم سے عبداللہ بن رجاء نے بیان کیا، کہا ہم سے اسرائیل نے بیان کیا، انہوں نے ان سے ابواسحاق نے، کہا ہم سے براء بن عازب رضی اللہ عنہ نے کہ
میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ پندرہ غزوں میں شریک رہا ہوں۔
Narrated Buraida:
He fought sixteen Ghazawat with Allah''s Apostle.
مجھ سے احمد بن حسن نے بیان کیا، کہا ہم سے احمد بن محمد بن حنبل بن ہلال نے بیان کیا، کہا ہم سے معتمر بن سلیمان نے بیان کیا، ان سے کہمس نے، ان سے عبداللہ بن بریدہ نے اور ان سے ان کے والد (بریدہ بن حصیب رضی اللہ عنہ) نے بیان کیا کہ
وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سولہ غزووں میں شریک تھے۔
Jabir added, "When my father was martyred, I started weeping and uncovering his face. The companions of the Prophet (ﷺ) stopped me from doing so but the Prophet (ﷺ) did not stop me. Then the Prophet said, '(O Jabir.) don't weep over him, for the angels kept on covering him with their wings till his body was carried away (for burial).
اور ابوالولید نے بیان کیا، ان سے شعبہ نے، ان سے ابن المنکدر نے، انہوں نے جابر رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ
میرے والد عبداللہ رضی اللہ عنہ شہید کر دیئے گئے تو میں رونے لگا اور باربار ان کے چہرے سے کپڑا ہٹاتا۔ صحابہ مجھے روکتے تھے لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہیں روکا۔ ( فاطمہ بنت عمر رضی اللہ عنہا عبداللہ کی بہن بھی رونے لگیں ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ روؤ مت۔ ( آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے «لا تبكيه» فرمایا، یا «ما تبكيه» ۔ راوی کو شک ہو گیا ) فرشتے برابر ان کی لاش پر اپنے پروں کا سایہ کئے ہوئے تھے۔ یہاں تک کہ ان کو اٹھا لیا گیا۔