Back to Sahih Bukhari

Military Expeditions led by the Prophet (PBUH) (Al-Maghaazi)

كتاب المغازي

Chapter 65

Hadith 4420
Sahih
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لأَصْحَابِ الْحِجْرِ ‏ "‏ لاَ تَدْخُلُوا عَلَى هَؤُلاَءِ الْمُعَذَّبِينَ إِلاَّ أَنْ تَكُونُوا بَاكِينَ، أَنْ يُصِيبَكُمْ مِثْلُ مَا أَصَابَهُمْ ‏"‏‏.‏
English

Narrated Ibn `Umar رضی اللہ عنہما :

Allah's Messenger (ﷺ) said to his companions who were at Al-Hijr, "Do not enter upon these people who are being punished, except in a weeping state, lest the same calamity as of theirs should befall you..."

Urdu

ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے امام مالک نے بیان کیا، ان سے عبداللہ بن دینار نے بیان کیا اور ان سے ابن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اصحاب حجر کے متعلق فرمایا کہ اس «معذب» قوم کی بستی سے جب تمہیں گزرنا ہی ہے تو تم روتے ہوئے گزرو، کہیں تم پر بھی وہ عذاب نہ آ جائے جو ان پر آیا تھا۔

Hadith 4421
Sahih
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، عَنِ اللَّيْثِ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الْمُغِيرَةِ، عَنْ أَبِيهِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ، قَالَ ذَهَبَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم لِبَعْضِ حَاجَتِهِ، فَقُمْتُ أَسْكُبُ عَلَيْهِ الْمَاءَ ـ لاَ أَعْلَمُهُ إِلاَّ قَالَ فِي غَزْوَةِ تَبُوكَ ـ فَغَسَلَ وَجْهَهُ، وَذَهَبَ يَغْسِلُ ذِرَاعَيْهِ فَضَاقَ عَلَيْهِ كُمُّ الْجُبَّةِ، فَأَخْرَجَهُمَا مِنْ تَحْتِ جُبَّتِهِ فَغَسَلَهُمَا ثُمَّ مَسَحَ عَلَى خُفَّيْهِ‏.‏
English

Narrated Mughira bin Shobah رضی اللہ عنہ :

"The Prophet (ﷺ) went out to answer the call of nature and (when he had finished) I got up to pour water for him." I think that he said that the event had taken place during the Ghazwa of Tabuk. Al-Mughira added. "The Prophet (ﷺ) washed his face, and when he wanted to wash his forearms, the sleeves of his cloak became tight over them, so he took them out from underneath the cloak and then he washed them (i.e. his forearms) and passed wet hands over his Khuffs (socks made from thick fabric or leather)."

Urdu

ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا، کہا ہم سے لیث بن سعد نے، ان سے عبدالعزیز بن ابی سلمہ نے، ان سے سعد بن ابراہیم نے، ان سے نافع بن جبیر نے، ان سے عروہ بن مغیرہ نے اور ان سے ان کے والد مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ

"رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فطرت کی پکار پر لبیک کہنے کے لیے نکلے اور (جب آپ فارغ ہوئے تو) میں آپ کے لیے پانی ڈالنے کے لیے کھڑا ہوا۔" میرا خیال ہے کہ انہوں نے کہا کہ یہ واقعہ غزوہ تبوک کے دوران ہوا تھا۔ المغیرہ نے مزید کہا۔ "رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا چہرہ دھویا، جب آپ نے اپنے بازوؤں کو دھونا چاہا تو آپ کی چادر کی آستینیں ان پر تنگ ہو گئیں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں چادر کے نیچے سے نکال لیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں دھویا اور گزر گئے۔ اس کے خفس (موٹے کپڑے یا چمڑے سے بنے موزے) پر گیلے ہاتھ۔"

Hadith 4422
Sahih
حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ، قَالَ حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ يَحْيَى، عَنْ عَبَّاسِ بْنِ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ أَبِي حُمَيْدٍ، قَالَ أَقْبَلْنَا مَعَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم مِنْ غَزْوَةِ تَبُوكَ حَتَّى إِذَا أَشْرَفْنَا عَلَى الْمَدِينَةِ قَالَ ‏ "‏ هَذِهِ طَابَةُ، وَهَذَا أُحُدٌ، جَبَلٌ يُحِبُّنَا وَنُحِبُّهُ ‏"‏‏.‏
English

Narrated Abu Humaid رضی اللہ عنہ :

We returned in the company of the Prophet (ﷺ) from the Ghazwa of Tabuk, and when we looked upon Medina, the Prophet (ﷺ) said, "This is Taba (i.e. Medina), and this is Uhud, a mountain that loves us and is loved by us."

Urdu

ہم سے خالد بن مخلد نے بیان کیا، کہا ہم سے سلیمان بن بلال نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے عمرو بن یحییٰ نے بیان کیا، ان سے عباس بن سہل بن سعد نے اور ان سے ابوحمید رضی اللہ عنہ نے کہ

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہم غزوہ تبوک سے واپس آ رہے تھے۔ جب آپ مدینہ کے قریب پہنچے تو ( مدینہ کی طرف اشارہ کر کے ) فرمایا کہ یہ «طابة» ہے اور یہ احد پہاڑ ہے، یہ ہم سے محبت رکھتا ہے اور ہم اس سے محبت رکھتے ہیں۔

Hadith 4423
Sahih
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ، أَخْبَرَنَا حُمَيْدٌ الطَّوِيلُ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ـ رضى الله عنه ـ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم رَجَعَ مِنْ غَزْوَةِ تَبُوكَ فَدَنَا مِنَ الْمَدِينَةِ فَقَالَ ‏"‏ إِنَّ بِالْمَدِينَةِ أَقْوَامًا مَا سِرْتُمْ مَسِيرًا وَلاَ قَطَعْتُمْ وَادِيًا إِلاَّ كَانُوا مَعَكُمْ ‏"‏‏.‏ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ وَهُمْ بِالْمَدِينَةِ قَالَ ‏"‏ وَهُمْ بِالْمَدِينَةِ، حَبَسَهُمُ الْعُذْرُ ‏"‏‏.‏
English

Narrated Anas bin Malik رضی اللہ عنہ :

Allah's Messenger (ﷺ) returned from the Ghazwa of Tabuk, and when he approached Medina, he said, "There are some people in Medina who were with you all the time, you did not travel any portion of the journey nor crossed any valley, but they were with you they (i.e. the people) said, "O Allah's Messenger (ﷺ)! Even though they were at Medina?" He said, "Yes, because they were stopped by a genuine excuse."

Urdu

ہم سے احمد بن محمد نے بیان کیا، کہا ہم کو عبداللہ بن مبارک نے خبر دی، کہا ہم کو حمید طویل نے خبر دی اور انہیں انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے کہ

جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم غزوہ تبوک سے واپس ہوئے۔ اور مدینہ کے قریب پہنچے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مدینہ میں بہت سے ایسے لوگ ہیں کہ جہاں بھی تم چلے اور جس وادی کو بھی تم نے قطع کیا وہ ( اپنے دل سے ) تمہارے ساتھ ساتھ تھے۔ صحابہ رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: یا رسول اللہ! اگرچہ ان کا قیام اس وقت بھی مدینہ میں ہی رہا ہو؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں، وہ مدینہ میں رہتے ہوئے بھی ( اپنے دل سے تمہارے ساتھ تھے ) وہ کسی عذر کی وجہ سے رک گئے تھے۔

Hadith 4424
Sahih
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ صَالِحٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ، أَخْبَرَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بَعَثَ بِكِتَابِهِ إِلَى كِسْرَى مَعَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حُذَافَةَ السَّهْمِيِّ، فَأَمَرَهُ أَنْ يَدْفَعَهُ إِلَى عَظِيمِ الْبَحْرَيْنِ، فَدَفَعَهُ عَظِيمُ الْبَحْرَيْنِ إِلَى كِسْرَى، فَلَمَّا قَرَأَهُ مَزَّقَهُ ـ فَحَسِبْتُ أَنَّ ابْنَ الْمُسَيَّبِ قَالَ ـ فَدَعَا عَلَيْهِمْ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنْ يُمَزَّقُوا كُلَّ مُمَزَّقٍ‏.‏
English

Narrated Ibn `Abbas رضی اللہ عنہما :

Allah's Messenger (ﷺ) sent a letter to Khosrau with `Abdullah bin Hudhafa As-Sahmi رضی اللہ عنہ and told him to hand it over to the governor of Al-Bahrain. The governor of Al-Bahrain handed it over to Khosrau, and when he read the latter, he tore it into pieces. (The sub-narrator added, "I think that Ibn Al-Musaiyab said, 'Allah 's Apostle invoked (Allah) to tear them all totally Khosrau and his companions) into pieces.

Urdu

ہم سے اسحاق بن رباح نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے یعقوب بن ابراہیم نے بیان کیا، ان سے ان کے والد (ابراہیم بن سعد) نے بیان کیا، ان سے صالح بن کیسان نے، ان سے ابن شہاب نے بیان کیا، انہیں عبیداللہ بن عبداللہ نے خبر دی اور انہیں عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے خبر دی کہ

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( شاہ فارس ) کسریٰ کے پاس اپنا خط عبداللہ بن حذافہ سہمی رضی اللہ عنہ کو دے کر بھیجا اور انہیں حکم دیا کہ یہ خط بحرین کے گورنر کو دے دیں ( جو کسریٰ کا عالم تھا ) کسریٰ نے جب آپ کا خط مبارک پڑھا تو اس کے ٹکڑے ٹکڑے کر دئیے۔ میرا خیال ہے کہ ابن مسیب نے بیان کیا کہ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لیے بددعا کی کہ وہ بھی ٹکڑے ٹکڑے ہو جائیں۔

Hadith 4425
Sahih
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ الْهَيْثَمِ، حَدَّثَنَا عَوْفٌ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ أَبِي بَكْرَةَ، قَالَ لَقَدْ نَفَعَنِي اللَّهُ بِكَلِمَةٍ سَمِعْتُهَا مِنْ، رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَيَّامَ الْجَمَلِ، بَعْدَ مَا كِدْتُ أَنْ أَلْحَقَ بِأَصْحَابِ الْجَمَلِ فَأُقَاتِلَ مَعَهُمْ قَالَ لَمَّا بَلَغَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنَّ أَهْلَ فَارِسَ قَدْ مَلَّكُوا عَلَيْهِمْ بِنْتَ كِسْرَى قَالَ ‏ "‏ لَنْ يُفْلِحَ قَوْمٌ وَلَّوْا أَمْرَهُمُ امْرَأَةً ‏"‏‏.‏
English

Narrated Abu Bakra رضی اللہ عنہ :

During the days (of the battle) of Al-Jamal, Allah benefited me with a word I had heard from Allah's Apostle after I had been about to join the Companions of Al-Jamal (i.e. the camel) and fight along with them. When Allah's Messenger (ﷺ) was informed that the Persians had crowned the daughter of Khosrau as their ruler, he said, "Such people as ruled by a lady will never be successful."

Urdu

ہم سے عثمان بن ہیثم نے بیان کیا، کہا ہم سے عوف اعرابی نے بیان کیا، ان سے امام حسن بصری نے، ان سے ابوبکرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ

جنگ جمل کے موقع پر وہ جملہ میرے کام آ گیا جو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا تھا۔ میں ارادہ کر چکا تھا کہ اصحاب جمل، عائشہ رضی اللہ عنہا اور آپ کے لشکر کے ساتھ شریک ہو کر ( علی رضی اللہ عنہ کی ) فوج سے لڑوں۔ انہوں نے بیان کیا کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو معلوم ہوا کہ اہل فارس نے کسریٰ کی لڑکی کو وارث تخت و تاج بنایا ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ وہ قوم کبھی فلاح نہیں پا سکتی جس نے اپنا حکمران کسی عورت کو بنایا ہو۔

Hadith 4426
Sahih
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قَالَ سَمِعْتُ الزُّهْرِيَّ، عَنِ السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ، يَقُولُ أَذْكُرُ أَنِّي خَرَجْتُ مَعَ الْغِلْمَانِ إِلَى ثَنِيَّةِ الْوَدَاعِ نَتَلَقَّى رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم‏.‏ وَقَالَ سُفْيَانُ مَرَّةً مَعَ الصِّبْيَانِ‏.‏
English

Narrated As-Sa'ib bin Yazid رضی اللہ عنہ :

I remember that I went out with the boys to (the place called) Thaniyat-ul-Wada` to receive Allah's Apostle . Sufyan says that once Zuhri used Sibyan instead of Ghilman.

Urdu

ہم سے علی بن عبداللہ مدینی نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، کہا کہ میں نے زہری سے سنا، انہوں نے سائب بن یزید رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ بیان کرتے تھے کہ

مجھے یاد ہے جب میں بچوں کے ساتھ ثنیۃ الوداع کی طرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا استقبال کرنے گیا تھا۔ سفیان نے ایک مرتبہ ( «مع الغلمان» کے بجائے ) «مع الصبيان‏.‏» بیان کیا۔

Hadith 4427
Sahih
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنِ السَّائِبِ، أَذْكُرُ أَنِّي خَرَجْتُ مَعَ الصِّبْيَانِ نَتَلَقَّى النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم إِلَى ثَنِيَّةِ الْوَدَاعِ مَقْدَمَهُ مِنْ غَزْوَةِ تَبُوكَ‏.‏
English

Narrated As-Saib رضی اللہ عنہ :

I remember I went out with the boys to Thaniyat-ul-Wada` to receive the Prophet (ﷺ) when he returned from the Ghazwa of Tabuk.

Urdu

ہم سے عبداللہ بن محمد مسندی نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، ان سے زہری نے اور ان سے سائب بن یزید رضی اللہ عنہ نے کہ

مجھے یاد ہے، جب میں بچوں کے ساتھ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا استقبال کرنے گیا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم غزوہ تبوک سے واپس تشریف لا رہے تھے۔

Hadith 4428
Sahih
وَقَالَ يُونُسُ عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ عُرْوَةُ قَالَتْ عَائِشَةُ ـ رضى الله عنها ـ كَانَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ فِي مَرَضِهِ الَّذِي مَاتَ فِيهِ ‏ "‏ يَا عَائِشَةُ مَا أَزَالُ أَجِدُ أَلَمَ الطَّعَامِ الَّذِي أَكَلْتُ بِخَيْبَرَ، فَهَذَا أَوَانُ وَجَدْتُ انْقِطَاعَ أَبْهَرِي مِنْ ذَلِكَ السَّمِّ ‏"‏‏.‏
English

Narrated `Aisha رضی اللہ عنہا :

The Prophet (ﷺ) in his ailment in which he died, used to say, "O `Aisha! I still feel the pain caused by the food I ate at Khaibar, and at this time, I feel as if my aorta is being cut from that poison."

Urdu

اور یونس نے بیان کیا، ان سے زہری نے، ان سے عروہ نے بیان کیا اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی بیماری میں جس میں آپ کا انتقال ہوا، فرمایا کرتے تھے کہ اے عائشہ! میں خیبر میں جو کھانا کھاتا تھا اس سے مجھے اب بھی درد محسوس ہوتا ہے اور اس وقت مجھے ایسا لگتا ہے جیسے میری شہ رگ کٹ رہی ہو۔ اس زہر سے۔"

Hadith 4429
Sahih
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ ـ رضى الله عنهما ـ عَنْ أُمِّ الْفَضْلِ بِنْتِ الْحَارِثِ، قَالَتْ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم يَقْرَأُ فِي الْمَغْرِبِ بِ ـ ‏{‏الْمُرْسَلاَتِ عُرْفًا‏}‏ ثُمَّ مَا صَلَّى لَنَا بَعْدَهَا حَتَّى قَبَضَهُ اللَّهُ‏.‏
English

Narrated Um Al-Fadl bint Al-Harith رضی اللہ عنہا :

I heard the Prophet (ﷺ) reciting Surat-al-Mursalat `Urfan (77) in the Maghrib prayer, and after that prayer he did not lead us in any prayer till he died.

Urdu

ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا، کہا ہم سے لیث بن سعد نے بیان کیا، ان سے عقیل نے، ان سے ابن شہاب نے، ان سے عبیداللہ بن عبداللہ نے، ان سے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے اور ان سے ام فضل بنت حارث رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ

میں نے سنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مغرب کی نماز میں «والمرسلات عرفا‏» کی قرآت کر رہے تھے، اس کے بعد پھر آپ نے ہمیں کبھی نماز نہیں پڑھائی، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کی روح قبض کر لی۔

Hadith 4430
Sahih
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَرْعَرَةَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ كَانَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ ـ رضى الله عنه ـ يُدْنِي ابْنَ عَبَّاسٍ فَقَالَ لَهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ إِنَّ لَنَا أَبْنَاءً مِثْلَهُ‏.‏ فَقَالَ إِنَّهُ مِنْ حَيْثُ تَعْلَمُ‏.‏ فَسَأَلَ عُمَرُ ابْنَ عَبَّاسٍ عَنْ هَذِهِ الآيَةِ ‏{‏إِذَا جَاءَ نَصْرُ اللَّهِ وَالْفَتْحُ‏}‏ فَقَالَ أَجَلُ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَعْلَمَهُ إِيَّاهُ، فَقَالَ مَا أَعْلَمُ مِنْهَا إِلاَّ مَا تَعْلَمُ‏.‏
English

Narrated Ibn `Abbas رضی اللہ عنہما :

`Umar bin Al-Khattab رضی اللہ عنہ used to let Ibn `Abbas رضی اللہ عنہما sit beside him, so `Abdur Rahman bin `Auf رضی اللہ عنہ said to `Umar رضی اللہ عنہ, "We have sons similar to him." `Umar رضی اللہ عنہ replied, "(I respect him) because of his status that you know." `Umar رضی اللہ عنہ then asked Ibn `Abbas رضی اللہ عنہما about the meaning of this Holy Verse:-- "When comes the help of Allah and the conquest of Mecca . . ." (110.1) Ibn `Abbas رضی اللہ عنہما replied, "That indicated the death of Allah's Messenger (ﷺ) which Allah informed him of." `Umar رضی اللہ عنہ said, "I do not understand of it except what you understand."

Urdu

ہم سے محمد بن عرعرہ نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے ابوبشر نے، ان سے سعید بن جبیر نے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ

عمر رضی اللہ عنہ آپ کو ( مجالس میں ) اپنے قریب بٹھاتے تھے۔ اس پر عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ نے اعتراض کیا کہ اس جیسے تو ہمارے بچے ہیں۔ عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں نے یہ طرز عمل جس وجہ سے اختیار کیا، وہ آپ کو معلوم بھی ہے؟ پھر عمر رضی اللہ عنہ نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے اس آیت ( یعنی ) «إذا جاء نصر الله والفتح‏» کے متعلق پوچھا۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے جواب دیا کہ یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات تھی، آپ کو اللہ تعالیٰ نے ( آیت میں ) اسی کی اطلاع دی ہے۔ عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ جو تم نے بتایا وہی میں بھی اس آیت کے متعلق جانتا ہوں۔

Hadith 4431
Sahih
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ سُلَيْمَانَ الأَحْوَلِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، قَالَ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ يَوْمُ الْخَمِيسِ وَمَا يَوْمُ الْخَمِيسِ اشْتَدَّ بِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَجَعُهُ فَقَالَ ‏"‏ ائْتُونِي أَكْتُبْ لَكُمْ كِتَابًا لَنْ تَضِلُّوا بَعْدَهُ أَبَدًا ‏"‏‏.‏ فَتَنَازَعُوا، وَلاَ يَنْبَغِي عِنْدَ نَبِيٍّ تَنَازُعٌ، فَقَالُوا مَا شَأْنُهُ أَهَجَرَ اسْتَفْهِمُوهُ فَذَهَبُوا يَرُدُّونَ عَلَيْهِ‏.‏ فَقَالَ ‏"‏ دَعُونِي فَالَّذِي أَنَا فِيهِ خَيْرٌ مِمَّا تَدْعُونِي إِلَيْهِ ‏"‏‏.‏ وَأَوْصَاهُمْ بِثَلاَثٍ قَالَ ‏"‏ أَخْرِجُوا الْمُشْرِكِينَ مِنْ جَزِيرَةِ الْعَرَبِ، وَأَجِيزُوا الْوَفْدَ بِنَحْوِ مَا كُنْتُ أُجِيزُهُمْ ‏"‏‏.‏ وَسَكَتَ عَنِ الثَّالِثَةِ، أَوْ قَالَ فَنَسِيتُهَا‏.‏
English

Narrated Ibn `Abbas رضی اللہ عنہما :

Thursday! And how great that Thursday was! The ailment of Allah's Messenger (ﷺ) became worse (on Thursday) and he said, fetch me something so that I may write to you something after which you will never go astray." The people (present there) differed in this matter, and it was not right to differ before a prophet. Some said, "What is wrong with him ? (Do you think ) he is delirious (seriously ill)? Ask him ( to understand his state )." So they went to the Prophet (ﷺ) and asked him again. The Prophet (ﷺ) said, "Leave me, for my present state is better than what you call me for." Then he ordered them to do three things. He said, "Turn the pagans out of the 'Arabian Peninsula; respect and give gifts to the foreign delegations as you have seen me dealing with them." (Sa`id bin Jubair, the sub-narrator said that Ibn `Abbas kept quiet as rewards the third order, or he said, "I forgot it.") (See Hadith No. 116 Vol. 1)

Urdu

ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، ان سے سلیمان احول نے، ان سے سعید بن جبیر نے بیان کیا کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے

جمعرات کے دن کا ذکر کیا اور فرمایا معلوم بھی ہے جمعرات کے دن کیا ہوا تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مرض میں تیزی پیدا ہوئی تھی۔ اس وقت آپ نے فرمایا کہ لاؤ، میں تمہارے لیے وصیت نامہ لکھ دوں کہ تم اس پر چلو گے تو اس کے بعد پھر تم کبھی صحیح راستے کو نہ چھوڑو گے لیکن یہ سن کر وہاں اختلاف پیدا ہو گیا، حالانکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے نزاع نہ ہونا چاہئیے۔ بعض لوگوں نے کہا کہ کیا آپ شدت مرض کی وجہ سے بے معنی کلام فرما رہے ہیں؟ ( جو آپ کی شان اقدس سے بعید ہے ) پھر آپ سے بات سمجھنے کی کوشش کرو۔ پس آپ سے صحابہ پوچھنے لگے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جاؤ ( یہاں شور و غل نہ کرو ) میں جس کام میں مشغول ہوں، وہ اس سے بہتر ہے جس کے لیے تم کہہ رہے ہو۔ اس کے بعد آپ نے صحابہ کو تین چیزوں کی وصیت کی، فرمایا کہ مشرکین کو جزیرہ عرب سے نکال دو۔ ایلچی ( جو قبائل کے تمہارے پاس آئیں ) ان کی اس طرح خاطر کیا کرنا جس طرح میں کرتا آیا ہوں اور تیسری بات ابن عباس نے یا سعید نے بیان نہیں کی یا سعید بن جبیر نے یا سلیمان نے کہا میں تیسری بات بھول گیا۔

Hadith 4432
Sahih
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَ لَمَّا حُضِرَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَفِي الْبَيْتِ رِجَالٌ، فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ هَلُمُّوا أَكْتُبْ لَكُمْ كِتَابًا لاَ تَضِلُّوا بَعْدَهُ ‏"‏‏.‏ فَقَالَ بَعْضُهُمْ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَدْ غَلَبَهُ الْوَجَعُ وَعِنْدَكُمُ الْقُرْآنُ، حَسْبُنَا كِتَابُ اللَّهِ‏.‏ فَاخْتَلَفَ أَهْلُ الْبَيْتِ وَاخْتَصَمُوا، فَمِنْهُمْ مَنْ يَقُولُ قَرِّبُوا يَكْتُبُ لَكُمْ كِتَابًا لاَ تَضِلُّوا بَعْدَهُ‏.‏ وَمِنْهُمْ مَنْ يَقُولُ غَيْرَ ذَلِكَ، فَلَمَّا أَكْثَرُوا اللَّغْوَ وَالاِخْتِلاَفَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ قُومُوا ‏"‏‏.‏ قَالَ عُبَيْدُ اللَّهِ فَكَانَ يَقُولُ ابْنُ عَبَّاسٍ إِنَّ الرَّزِيَّةَ كُلَّ الرَّزِيَّةِ مَا حَالَ بَيْنَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَبَيْنَ أَنْ يَكْتُبَ لَهُمْ ذَلِكَ الْكِتَابَ لاِخْتِلاَفِهِمْ وَلَغَطِهِمْ‏.‏
English

Narrated Ibn `Abbas رضی اللہ عنہما :

"When Allah's Messenger (ﷺ) was on his deathbed and there were some men in the house, he said, 'Come near, I will write for you something after which you will not go astray.' Some of them ( i.e. his companions) said, 'Allah's Messenger (ﷺ) is seriously ill and you have the (Holy) Qur'an. Allah's Book is sufficient for us.' So the people in the house differed and started disputing. Some of them said, 'Give him writing material so that he may write for you something after which you will not go astray.' while the others said the other way round. So when their talk and differences increased, Allah's Apostle said, "Get up." Ibn `Abbas رضی اللہ عنہما used to say, "No doubt, it was very unfortunate (a great disaster) that Allah's Messenger (ﷺ) was prevented from writing for them that writing because of their differences and noise."

Urdu

ہم سے علی بن عبداللہ مدینی نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے عبدالرزاق بن ہمام نے بیان کیا، انہیں معمر نے خبر دی، انہیں زہری نے، انہیں عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ نے اور ان سے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ

جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کا وقت قریب ہوا تو گھر میں بہت سے صحابہ رضی اللہ عنہم موجود تھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ لاؤ، میں تمہارے لیے ایک دستاویز لکھ دوں، اگر تم اس پر چلتے رہے تو پھر تم گمراہ نہ ہو سکو گے۔ اس پر ( عمر رضی اللہ عنہ ) نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر بیماری کی سختی ہو رہی ہے، تمہارے پاس قرآن موجود ہے۔ ہمارے لیے تو اللہ کی کتاب بس کافی ہے۔ پھر گھر والوں میں جھگڑا ہونے لگا، بعض نے تو یہ کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو کوئی چیز لکھنے کی دے دو کہ اس پر آپ ہدایت لکھوا دیں اور تم اس کے بعد گمراہ نہ ہو سکو۔ بعض لوگوں نے اس کے خلاف دوسری رائے پر اصرار کیا۔ جب شور و غل اور نزاع زیادہ ہوا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہاں سے جاؤ۔ عبیداللہ نے بیان کیا کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے تھے کہ مصیبت سب سے بڑی یہ تھی کہ لوگوں نے اختلاف اور شور کر کے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو وہ ہدایت نہیں لکھنے دی۔

Hadith 4433, 4434
Sahih
حَدَّثَنَا يَسَرَةُ بْنُ صَفْوَانَ بْنِ جَمِيلٍ اللَّخْمِيُّ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ قَالَتْ دَعَا النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فَاطِمَةَ ـ عَلَيْهَا السَّلاَمُ ـ فِي شَكْوَاهُ الَّذِي قُبِضَ فِيهِ، فَسَارَّهَا بِشَىْءٍ، فَبَكَتْ، ثُمَّ دَعَاهَا فَسَارَّهَا بِشَىْءٍ فَضَحِكَتْ فَسَأَلْنَا عَنْ ذَلِكَ‏.‏ فَقَالَتْ سَارَّنِي النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُ يُقْبَضُ فِي وَجَعِهِ الَّذِي تُوُفِّيَ فِيهِ فَبَكَيْتُ، ثُمَّ سَارَّنِي فَأَخْبَرَنِي أَنِّي أَوَّلُ أَهْلِهِ يَتْبَعُهُ فَضَحِكْتُ‏.
English

Narrated `Aisha رضی اللہ عنہا :

The Prophet (ﷺ) called Fatima رضی اللہ عنہا during his fatal illness and told her something secretly and she wept. Then he called her again and told her something secretly, and she started laughing. When we asked her about that, she said, "The Prophet (ﷺ) first told me secretly that he would expire in that disease in which he died, so I wept; then he told me secretly that I would be the first of his family to follow him, so I laughed ( at that time)."

Urdu

ہم سے یسرہ بن صفوان بن جمیل لخمی نے بیان کیا، کہا ہم سے ابرہیم بن سعد نے بیان کیا، ان سے ان کے والد نے، ان سے عروہ نے اور ان سے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ

مرض الموت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فاطمہ رضی اللہ عنہا کو بلایا اور آہستہ سے کوئی بات ان سے کہی جس پر وہ رونے لگیں۔ پھر دوبارہ آہستہ سے کوئی بات کہی جس پر وہ ہنسنے لگیں۔ پھر ہم نے ان سے اس کے متعلق پوچھا تو انہوں نے بتلایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا تھا کہ آپ کی وفات اسی مرض میں ہو جائے گی، میں یہ سن کر رونے لگی۔ دوسری مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے جب سرگوشی کی تو یہ فرمایا کہ آپ کے گھر کے آدمیوں میں سب سے پہلے میں آپ سے جا ملوں گی تو میں ہنسی تھی۔

Hadith 4435
Sahih
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ سَعْدٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ كُنْتُ أَسْمَعُ أَنَّهُ لاَ يَمُوتُ نَبِيٌّ حَتَّى يُخَيَّرَ بَيْنَ الدُّنْيَا وَالآخِرَةِ، فَسَمِعْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ فِي مَرَضِهِ الَّذِي مَاتَ فِيهِ وَأَخَذَتْهُ بُحَّةٌ يَقُولُ ‏{‏مَعَ الَّذِينَ أَنْعَمَ اللَّهُ عَلَيْهِمْ‏}‏ الآيَةَ، فَظَنَنْتُ أَنَّهُ خُيِّرَ‏.‏
English

Narrated `Aisha رضی اللہ عنہا :

I Used to hear (from the Prophet) that no Prophet dies till he is given the option to select either the worldly life or the life of the Hereafter. I heard the Prophet (ﷺ) in his fatal disease, with his voice becoming hoarse, saying, "In the company of those on whom is the grace of Allah ..( to the end of the Verse )." (4.69) Thereupon I thought that the Prophet (ﷺ) had been given the option.

Urdu

ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا، کہا ہم سے غندر نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے سعد نے، ان سے عروہ نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ

میں سنتی آئی تھی کہ ہر نبی کو وفات سے پہلے دنیا اور آخرت کے رہنے میں اختیار دیا جاتا ہے، پھر میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی سنا، آپ اپنے مرض الموت میں فرما رہے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی آواز بھاری ہو چکی تھی۔ آپ آیت «مع الذين أنعم الله عليهم‏» کی تلاوت فرما رہے تھے ( یعنی ان لوگوں کے ساتھ جن پر اللہ نے انعام کیا ہے ) مجھے یقین ہو گیا کہ آپ کو بھی اختیار دے دیا گیا ہے۔

Hadith 4436
Sahih
حَدَّثَنَا مُسْلِمٌ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ سَعْدٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ لَمَّا مَرِضَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم الْمَرَضَ الَّذِي مَاتَ فِيهِ جَعَلَ يَقُولُ ‏ "‏ فِي الرَّفِيقِ الأَعْلَى ‏"‏‏.‏
English

Narrated `Aisha رضی اللہ عنہا :

When the Prophet (ﷺ) fell ill in his fatal illness, he started saying, "With the highest companion."

Urdu

ہم سے مسلم بن ابراہیم نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے، ان سے سعد بن ابراہیم نے، ان سے عروہ بن زبیر نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے مرض الموت میں باربار فرماتے تھے۔ ” ( «اللهم» ) «الرفيق الأعلى» اے اللہ! مجھے میرے رفقاء ( انبیاء اور صدیقین ) میں پہنچا دے ( جو اعلیٰ علیین میں رہتے ہیں ) ۔“

Hadith 4437
Sahih
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ إِنَّ عَائِشَةَ قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَهْوَ صَحِيحٌ يَقُولُ ‏"‏ إِنَّهُ لَمْ يُقْبَضْ نَبِيٌّ قَطُّ حَتَّى يَرَى مَقْعَدَهُ مِنَ الْجَنَّةِ ثُمَّ يُحَيَّا أَوْ يُخَيَّرَ ‏"‏‏.‏ فَلَمَّا اشْتَكَى وَحَضَرَهُ الْقَبْضُ وَرَأْسُهُ عَلَى فَخِذِ عَائِشَةَ غُشِيَ عَلَيْهِ، فَلَمَّا أَفَاقَ شَخَصَ بَصَرُهُ نَحْوَ سَقْفِ الْبَيْتِ ثُمَّ قَالَ ‏"‏ اللَّهُمَّ فِي الرَّفِيقِ الأَعْلَى ‏"‏‏.‏ فَقُلْتُ إِذًا لاَ يُجَاوِرُنَا‏.‏ فَعَرَفْتُ أَنَّهُ حَدِيثُهُ الَّذِي كَانَ يُحَدِّثُنَا وَهْوَ صَحِيحٌ‏.‏
English

Narrated Aisha رضی اللہ عنہا :

When Allah 's Apostle was in good health, he used to say, "Never does a prophet die unless he is shown his place in Paradise ( before his death ), and then he is made alive or given option." When the Prophet became ill and his last moments came while his head was on my thigh, he became unconscious, and when he came to his senses, he looked towards the roof of the house and then said, "O Allah! (Please let me be) with the highest companion." Thereupon I said, "Hence he is not going to stay with us? " Then I came to know that his state was the confirmation of the narration he used to mention to us while he was in good health.

Urdu

ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، کہا ہم کو شعیب نے خبر دی، انہیں زہری نے کہ عروہ بن زبیر نے بیان کیا اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا

تندرستی کے زمانے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا کرتے تھے کہ جب بھی کسی نبی کی روح قبض کی گئی تو پہلے جنت میں اس کی قیام گاہ اسے ضرور دکھا دی گئی، پھر اسے اختیار دیا گیا ( راوی کو شک تھا کہ لفظ «يحيا» ہے یا «يخير»،‏‏‏‏ دونوں کا مفہوم ایک ہی ہے ) پھر جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بیمار پڑے اور وقت قریب آ گیا تو سر مبارک عائشہ رضی اللہ عنہا کی ران پر تھا اور آپ پر غشی طاری ہو گئی تھی، جب کچھ ہوش ہوا تو آپ کی آنکھیں گھر کی چھت کی طرف اٹھ گئیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ «اللهم في الرفيق الأعلى» ۔ میں سمجھ گئی کہ اب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں ( یعنی دنیاوی زندگی کو ) پسند نہیں فرمائیں گے۔ مجھے وہ حدیث یاد آ گئی جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تندرستی کے زمانے میں فرمائی تھی۔

Hadith 4438
Sahih
حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ، حَدَّثَنَا عَفَّانُ، عَنْ صَخْرِ بْنِ جُوَيْرِيَةَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، دَخَلَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي بَكْرٍ عَلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَأَنَا مُسْنِدَتُهُ إِلَى صَدْرِي، وَمَعَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ سِوَاكٌ رَطْبٌ يَسْتَنُّ بِهِ، فَأَبَدَّهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بَصَرَهُ، فَأَخَذْتُ السِّوَاكَ فَقَصَمْتُهُ وَنَفَضْتُهُ وَطَيَّبْتُهُ، ثُمَّ دَفَعْتُهُ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَاسْتَنَّ بِهِ، فَمَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم اسْتَنَّ اسْتِنَانًا قَطُّ أَحْسَنَ مِنْهُ، فَمَا عَدَا أَنْ فَرَغَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم رَفَعَ يَدَهُ أَوْ إِصْبَعَهُ ثُمَّ قَالَ ‏ "‏ فِي الرَّفِيقِ الأَعْلَى ‏"‏‏.‏ ثَلاَثًا ثُمَّ قَضَى، وَكَانَتْ تَقُولُ مَاتَ بَيْنَ حَاقِنَتِي وَذَاقِنَتِي‏.‏
English

Narrated Aisha رضی اللہ عنہا :

`Abdur-Rahman bin Abu Bakr رضی اللہ عنہا entered upon the Prophet (ﷺ) while I was supporting the Prophet (ﷺ) on my chest. `Abdur Rahman رضی اللہ عنہا had a fresh Siwak then and he was cleaning his teeth with it. Allah's Messenger (ﷺ) looked at it, so I took the Siwak, cut it (chewed it with my teeth), shook it and made it soft (with water), and then gave it to the Prophet (ﷺ) who cleaned his teeth with it. I had never seen Allah's Messenger (ﷺ) cleaning his teeth in a better way. After finishing the brushing of his teeth, he lifted his hand or his finger and said thrice, "O Allah! Let me be with the highest companions," and then died. `Aisha رضی اللہ عنہا used to say, "He died while his head was resting between my chest and chin."

Urdu

ہم سے محمد بن یحییٰ ذہلی نے بیان کیا۔ کہا ہم سے عفان بن مسلم نے بیان کیا، ان سے صخر بن جویریہ نے، ان سے عبدالرحمٰن بن قاسم نے، ان سے ان کے والد (قاسم بن محمد) نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہ

( ان کے بھائی ) عبدالرحمٰن بن ابی بکر رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میرے سینے سے ٹیک لگائے ہوئے تھے۔ عبدالرحمٰن رضی اللہ عنہ کے ہاتھ میں ایک تازہ مسواک استعمال کے لیے تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس مسواک کی طرف دیکھتے رہے۔ چنانچہ میں نے ان سے مسواک لے لی اور اسے اپنے دانتوں سے چبا کر اچھی طرح جھاڑنے اور صاف کرنے کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دے دی۔ آپ نے وہ مسواک استعمال کی جتنے عمدہ طریقہ سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت مسواک کر رہے تھے، میں نے آپ کو اتنی اچھی طرح مسواک کرتے کبھی نہیں دیکھا۔ مسواک سے فارغ ہونے کے بعد آپ نے اپنا ہاتھ یا اپنی انگلی اٹھائی اور فرمایا۔ «في الرفيق الأعلى» تین مرتبہ، اور آپ کا انتقال ہو گیا۔ عائشہ رضی اللہ عنہا کہا کرتی تھیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوئی تو سر مبارک میری ہنسلی اور ٹھوڑی کے درمیان میں تھا۔

Hadith 4439
Sahih
حَدَّثَنِي حِبَّانُ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ، أَخْبَرَنَا يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ، أَنَّ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ أَخْبَرَتْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَ إِذَا اشْتَكَى نَفَثَ عَلَى نَفْسِهِ بِالْمُعَوِّذَاتِ وَمَسَحَ عَنْهُ بِيَدِهِ فَلَمَّا اشْتَكَى وَجَعَهُ الَّذِي تُوُفِّيَ فِيهِ طَفِقْتُ أَنْفِثُ عَلَى نَفْسِهِ بِالْمُعَوِّذَاتِ، الَّتِي كَانَ يَنْفِثُ، وَأَمْسَحُ بِيَدِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم عَنْهُ‏.‏
English

Narrated Aisha رضی اللہ عنہا :

Whenever Allah's Messenger (ﷺ) became ill, he used to recite the Muawidhatan (i.e. the last two surahs of the Qur'an) and blow his breath over himself (after their recitation ) and rubbed his hands over his body. So when he was afflicted with his fatal illness. I started reciting the Muawidhatan and blowing my breath over him as he used to do and then I rubbed the hand of the Prophet (ﷺ) over his body.

Urdu

مجھ سے حبان بن موسیٰ مروزی نے بیان کیا، کہا ہم کو عبداللہ بن مبارک نے خبر دی، انہیں یونس نے خبر دی، انہیں ابن شہاب نے کہا کہ مجھے عروہ بن زبیر نے خبر دی اور انہیں عائشہ رضی اللہ عنہا نے خبر دی کہ

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب بیمار پڑتے تو اپنے اوپر معوذتین ( سورۃ الفلق اور سورۃ الناس ) پڑھ کر دم کر لیا کرتے تھے اور اپنے جسم پر اپنے ہاتھ پھیر لیا کرتے تھے، پھر جب وہ مرض آپ کو لاحق ہوا جس میں آپ کی وفات ہوئی تو میں معوذتین پڑھ کر آپ پر دم کیا کرتی تھی اور ہاتھ پر دم کر کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے جسم پر پھیرا کرتی تھی۔

Hadith 4440
Sahih
حَدَّثَنَا مُعَلَّى بْنُ أَسَدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُخْتَارٍ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ عَبَّادِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، أَنَّ عَائِشَةَ، أَخْبَرَتْهُ أَنَّهَا، سَمِعَتِ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم وَأَصْغَتْ إِلَيْهِ قَبْلَ أَنْ يَمُوتَ، وَهْوَ مُسْنِدٌ إِلَىَّ ظَهْرَهُ يَقُولُ ‏ "‏ اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي وَارْحَمْنِي، وَأَلْحِقْنِي بِالرَّفِيقِ ‏"‏‏.‏
English

Narrated `Aisha رضی اللہ عنہا :

I heard the Prophet (ﷺ) and listened to him before his death while he was leaning his back on me and saying, "O Allah! Forgive me, and bestow Your Mercy on me, and let me meet the (highest) companions (of the Hereafter)." (See the Qur'an (4:69) and Hadith #4435)

Urdu

ہم سے معلی بن اسد نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالعزیز بن مختار نے بیان کیا، کہا ہم سے ہشام بن عروہ نے بیان کیا، ان سے عباد بن عبداللہ بن زبیر نے اور انہیں عائشہ رضی اللہ عنہا نے خبر دی کہ

آپ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، وفات سے کچھ پہلے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پشت سے ان کا سہارا لیے ہوئے تھے۔ آپ نے کان لگا کر سنا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم دعا کر رہے ہیں «اللهم اغفر لي وارحمني،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ وألحقني بالرفيق» ”اے اللہ! میری مغفرت فرما، مجھ پر رحم کر اور میرے رفیقوں سے مجھے ملا۔“