Narrated Masruq:
`Abdullah bin `Amr mentioned `Abdullah bin Masud رضی اللہ عنہما and said, "I shall ever love that man, for I heard the Prophet (ﷺ) saying, 'Take (learn) the Qur'an from four: `Abdullah bin Masud, Salim, Mu`adh and Ubai bin Ka`b.' "
ہم سے حفص بن عمر نے بیان کیا ، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا ، ان سے عمرو بن مرہ نے ، ان سے ابراہیم نخعی نے ، ان سے مسروق نے کہ
عبداللہ بن عمرو بن العاص نے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہما کا ذکر کیا اور کہا کہ اس وقت سے ان کی محبت میرے دل میں گھر کر گئی ہے جب سے میں نے آنحضرت کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ قرآن مجید کو چار اصحاب سے حاصل کرو جو عبداللہ بن مسعود ، سالم ، معاذ اور ابی بن کعب ہیں ۔
Narrated Shaqiq bin Salama:
Once `Abdullah bin Mas`ud رضی اللہ عنہما delivered a sermon before us and said, "By Allah, I learnt over seventy Suras direct from Allah's Messenger (ﷺ) . By Allah, the companions of the Prophet (ﷺ) came to know that I am one of those who know Allah's Book best of all of them, yet I am not the best of them." Shaqiq added: I sat in his religious gathering and I did not hear anybody opposing him (in his speech).
ہم سے عمرو بن حفص نے بیان کیا ، کہا ہم سے ہمارے والد نے بیان کیا ، ان سے اعمش نے بیان کیا ، ان سے شقیق بن سلمہ نے بیان کیا کہ
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہما نے ہمیں خطبہ دیا اور کہا کہ اللہ کی قسم میں نے کچھ اوپر ستر سورتیں خود رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان مبارک سے سن کر حاصل کی ہیں ۔ اللہ کی قسم حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کو یہ بات اچھی طرح معلوم ہے کہ میں ان سب سے زیادہ قرآن مجید کا جاننے والا ہوں حالانکہ میں ان سے بہتر نہیں ہوں ۔ شقیق نے بیان کیا کہ پھر میں مجلس میں بیٹھا تاکہ صحابہ کی رائے سن سکوں کہ وہ کیا کہتے ہیں لیکن میں نے کسی سے اس بات کی تردید نہیں سنی ۔
Narrated 'Alqama:
While we were in the city of Hims (in Syria), Ibn Mas`ud رضی اللہ عنہما recited Surat Yusuf. A man said to him), "It was not revealed in this way." Then Ibn Mas`ud رضی اللہ عنہما said, "I recited it in this way before Allah's Messenger (ﷺ) and he confirmed my recitation by saying, 'Well done!' " Ibn Mas`ud detected the smell of wine from the man's mouth, so he said to him, "Aren't you ashamed of telling a lie about Allah's Book and (along with this) you drink alcoholic liquors too?" Then he lashed him according to the law.
مجھ سے محمد بن کثیر نے بیان کیا ، کہا ہم کو سفیان ثوری نے خبر دی ، انہیں اعمش نے ، انہیں ابراہیم نخعی نے ، ان سے علقمہ نے بیان کیا کہ
ہم حمص میں تھے حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہما نے سورۃ یوسف پڑھی تو ایک شخص بولا کہ اس طرح نہیں نازل ہوئی تھی ۔ حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہما نے کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اس سورت کی تلاوت کی تھی اور آپ نے میری قرآت کی تحسین فرمائی تھی ۔ انہوں نے محسوس کیا کہ اس معترض کے منہ سے شراب کی بدبو آ رہی ہے فرمایا کہ اللہ کی کتاب کے متعلق جھوٹا بیان اور شراب پینا جیسے گناہ ایک ساتھ کرتا ہے ۔ پھر انہوں نے اس پر حد جاری کرا دی ۔
Narrated `Abdullah (bin Mas`ud) رضی اللہ عنہما :
By Allah other than Whom none has the right to be worshipped! There is no Sura revealed in Allah's Book but I know at what place it was revealed; and there is no Verse revealed in Allah's Book but I know about whom it was revealed. And if I know that there is somebody who knows Allah's Book better than I, and he is at a place that camels can reach, I would go to him.
ہم سے عمر بن حفص نے بیان کیا ، کہا مجھ سے میرے والد نے بیان کیا ، کہا ہم سے اعمش نے بیان کیا ، کہا ہم سے مسلم نے بیان کیا ، ان سے مسروق نے بیان کیا کہ حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہما نے کہا ،
اس اللہ کی قسم جس کے سوا اور کوئی معبود نہیں کتاب اللہ کی جو سورت بھی نازل ہوئی ہے اس کے متعلق میں جانتا ہوں کہ کہاں نازل ہوئی اور کتاب اللہ کی جو آیت بھی نازل ہوئی اس کے متعلق میں جانتا ہوں کہ کس کے بارے میں نازل ہوئی ، اور اگر مجھے خبر ہو جائے کہ کوئی شخص مجھ سے زیادہ کتاب اللہ کا جاننے والا ہے اور اونٹ ہی اس کے پاس مجھے پہنچا سکتے ہیں ( یعنی ان کا گھر بہت دور ہے ) تب بھی میں سفر کر کے اس کے پاس جا کر اس سے اس علم کو حاصل کروں گا ۔
Narrated Qatada:
I asked Anas bin Malik رضی اللہ عنہ : "Who collected the Qur'an at the time of the Prophet (ﷺ) ?" He replied, "Four, all of whom were from the Ansar: Ubai bin Ka`b, Mu`adh bin Jabal, Zaid bin Thabit and Abu Zaid." Fadl, Husain bin Waqid, Thumah reported likewise from Hdrat Anas رضی اللہ عنہ .
ہم سے حفص بن عمر بن غیاث نے بیان کیا ، کہا ہم سے ہمام بن یحییٰ نے بیان کیا ، کہا ہم سے قتادہ نے بیان کیا ، کہا کہ
میں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں قرآن کو کن لوگوں نے جمع کیا تھا ، انہوں نے بتلایا کہ چار صحابیوں نے ، یہ چاروں قبیلہ انصار سے ہیں ۔ ابی بن کعب ، معاذبن جبل ، زید بن ثابت اور ابوزید ۔ اس روایت کی متابعت فضل نے حسین بن واقد سے کی ہے ۔ ان سے ثمامہ نے اور ان سے حضرت انس رضی اللہ عنہ نے ۔
Narrated Anas bin Malik:
When the Prophet (ﷺ) died, none had collected the Qur'an but four persons;: Abu Ad-Darda'. Mu`adh bin Jabal, Zaid bin Thabit and Abu Zaid. We were the inheritor (of Abu Zaid رضی اللہ عنہم ) as he had no offspring .
ہم سے معلی بن اسد نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے عبداللہ بن مثنی نے بیان کیا ‘ کہا کہ مجھ سے ثابت بنانی اور ثمامہ نے بیان کیا اور ان سے حضرت انس نے بیان کیا کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات تک قرآن مجید کو چار صحابیوں کے سوا اور کسی نے جمع نہیں کیا تھا ۔ ابودرداء ‘ معاذ بن جبل ‘ زید بن ثابت اور ابوزید رضی اللہ عنہم ۔ حضرت انس نے کہا کہ حضرت ابوزید کے وارث ہم ہوئے ہیں ۔
Narrated Ibn `Abbas رضی اللہ عنہما :
`Umar رضی اللہ عنہ said, Ubai was the best of us in the recitation (of the Qur'an) yet we leave some of what he recites.' Ubai says, 'PI have taken it from the mouth of Allah's Messenger (ﷺ) and will not leave for anything whatever." But Allah said "None of Our Revelations do We abrogate or cause to be forgotten but We substitute something better or similar." 2.106
ہم سے صدقہ بن فضل نے بیان کیا ، کہا ہم کو یحییٰ بن سعید قطان نے خبر دی ، انہیں سفیان ثوری نے ، انہیں حبیب بن ابی ثابت نے ، انہیں سعید بن جبیر نے اور ان سے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ
حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا ، ابی بن کعب ہم میں سب سے اچھے قاری ہیں لیکن ابی جہاں غلطی کرتے ہیں اس کو ہم چھوڑ دیتے ہیں ( وہ بعض منسوخ التلاوۃ آیتوں کو بھی پڑھتے ہیں ) اور کہتے ہیں کہ میں نے تو اس آیت کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے منہ مبارک سے سنا ہے ، میں کسی کے کہنے سے اسے چھوڑنے والا نہیں اور اللہ نے خود فرمایا ہے کہ ماننسخ من آیۃ اوننسھا الآیۃ یعنی ہم جب کسی آیت کو منسوخ کر دیتے ہیں پھر یا تو اسے بھلا دیتے ہیں یا اس سے بہتر لاتے ہیں ۔
Narrated Abu Sa`id Al-Mu'alla رضی اللہ عنہ :
While I was praying, the Prophet (ﷺ) called me but I did not respond to his call. Later I said, "O Allah's Apostle! I was praying." He said, "Didn't Allah say: 'O you who believe! Give your response to Allah (by obeying Him) and to His Apostle when he calls you'?" (8.24) He then said, "Shall I not teach you the most superior Surah in the Qur'an?" He said, '(It is), 'Praise be to Allah, the Lord of the worlds. ' (i.e., Surat Al-Fatiha) which consists of seven repeatedly recited Verses and the Magnificent Qur'an which was given to me."
ہم سے علی بن عبداللہ مدینی نے بیان کیا ، کہا ہم سے یحییٰ بن سعید قطان نے بیان کیا ، کہا ہم سے شعبہ بن حجاج نے بیان کیا ، کہا مجھ سے حبیب بن عبدالرحمٰن نے بیان کیا ، ان سے حفص بن عاصم نے اور ان سے حضرت ابوسعید بن معلی رضی اللہ عنہ نے کہ
میں نماز میں مشغول تھا تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بلایا اس لئے میں کوئی جواب نہیں دے سکا ، پھر میں نے ( آپ کی خدمت میں حاضر ہو کر ) عرض کیا ، یا رسول اللہ ! میں نماز پڑھ رہا تھا ۔ اس پر آنحضر ت نے فرمایا کیا اللہ تعالیٰ نے تمہیں حکم نہیں فرمایا ہے کہ اللہ کے رسول جب تمہیں پکاریں تو ان کی پکار پر فوراً اللہ کے رسول کے لئے لبیک کہا کرو ۔ “ پھر آپ نے فرمایا مسجد سے نکلنے سے پہلے قرآن کی سب سے بڑی سورت میں تمہیں کیوں نہ سکھا دوں ۔ پھر آپ نے میرا ہاتھ پکڑ لیا اور جب ہم مسجد سے باہر نکلنے لگے تو میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! آپ نے ابھی فرمایا تھا کہ مسجد کے باہر نکلنے سے پہلے آپ مجھے قرآن کی سب سے بڑی سورت بتائیں گے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہاں وہ سورت ” الحمدللہ رب العالمین “ ہے یہی وہ سات آیا ت ہیں جو ( ہر نماز میں ) باربار پڑھی جاتی ہیں اور یہی وہ ” قرآن عظیم “ ہے جو مجھے دیا گیا ہے ۔
Narrated Abu Sa`id Al-Khudri رضی اللہ عنہ :
While we were on one of our journeys, we dismounted at a place where a slave girl came and said, "The chief of this tribe has been stung by a scorpion and our men are not present; is there anybody among you who can treat him (by reciting something)?" Then one of our men went along with her though we did not think that he knew any such treatment. But he treated the chief by reciting something, and the sick man recovered whereupon he gave him thirty sheep and gave us milk to drink (as a reward). When he returned, we asked our friend, "Did you know how to treat with the recitation of something?" He said, "No, but I treated him only with the recitation of the Mother of the Book (i.e., Al-Fatiha)." We said, "Do not say anything (about it) till we reach or ask the Prophet (ﷺ) so when we reached Medina, we mentioned that to the Prophet (in order to know whether the sheep which we had taken were lawful to take or not). The Prophet (ﷺ) said, "How did he come to know that it (Al-Fatiha) could be used for treatment? Distribute your reward and assign for me one share thereof as well." Mamar, Abdul Warith, Hisham, Mummad bin Sireen also reported it from Hadrat Abu Saeed Khudri رضی اللہ عنہ .
مجھ سے محمد بن مثنیٰ نے بیان کیا ، کہا ہم سے وہب بن جریر نے بیان کیا ، کہا ہم سے ہشام بن حسان نے بیان کیا ، ان سے محمد بن سیرین نے ، ان سے معبد بن سیرین نے اور ان سے حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ
ہم ایک فوجی سفر میں تھے ( رات میں ) ہم نے ایک قبیلہ کے نزدیک پڑاؤ کیا ۔ پھر ایک لونڈی آئی اور کہا کہ قبیلہ کے سردار کو بچھو نے کاٹ لیا ہے اور ہمارے قبیلے کے مرد موجود نہیں ہیں ، کیا تم میں کوئی بچھو کا جھاڑ پھونک کرنے والا ہے ؟ ایک صحابی ( خود ابوسعید ) اس کے ساتھ کھڑے ہو گئے ، ہم کو معلوم تھا کہ وہ جھاڑ پھونک نہیں جانتے لیکن انہوں نے قبیلہ کے سردار کو جھاڑا تو اسے صحت ہو گئی ۔ اس نے اس کے شکر انے میں تیس بکریاں دینے کا حکم دیا اور ہمیں دودھ پلایا ۔ جب وہ جھاڑ پھونک کر کے واپس آئے تو ہم نے ان سے پوچھا کیا تم واقعی کوئی منتر جانتے ہو ؟ انہوں نے کہا کہ نہیں میں نے تو صرف سورۃ الفاتحہ پڑھ کراس پر دم کر دیا تھا ۔ ہم نے کہا کہ اچھا جب تک ہم رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے متعلق نہ پوچھ لیں ان بکریوں کے بارے میں اپنی طرف سے کچھ نہ کہو ۔ چنانچہ ہم نے مدینہ پہنچ کر آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم سے ذکر کیا تو آپ نے فرمایا کہ انہوں نے کیسے جانا کہ سورۃ الفاتحہ منتر بھی ہے ۔ ( جاؤ یہ مال حلال ہے ) اسے تقسیم کر لو اور اس میں میرا بھی حصہ لگا نا ۔ اور معمر نے بیان کیا ہم سے عبدالوارث بن سعید نے بیان کیا ، کہا ہم سے ہشام بن حسان نے بیان کیا ، کہا ہم سے محمد بن سیرین نے بیان کیا ، کہا ہم سے معبد بن سیرین نے بیان کیا اور ان سے حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے یہی واقعہ بیان کیا ۔
Narrated Abu Mas'ud رضی اللہ عنہ :
The prophet ﷺ said, Whoever recites two verses ... (text as in the following hadith)
ہم سے محمد بن کثیر نے بیان کیا ، کہا ہم کو شعبہ نے خبر دی ، انہیں سلیمان بن مہران نے ، انہیں ابراہیم نخعی نے ، انہیں عبدالرحمٰن بن یزید نے ، انہیں حضرت ابومسعود انصاری رضی اللہ عنہ نے کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ( سورۃ البقرہ میں سے ) جس نے بھی دو آخری آیتیں پڑھیں ۔ ( دوسری سند ) ۔
Narrated Abu Mas'ud رضی اللہ عنہ :
The Prophet (ﷺ) said, "If somebody recited the last two Verses of Surat Al-Baqara at night, that will be sufficient for him."
اور ہم سے ابونعیم نے بیان کیا ، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا ، ان سے منصور بن معتمر نے ، ان سے ابراہیم نخعی نے ، ان سے عبدالرحمٰن بن یزید نے اور ان سے حضرت ابومسعود رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ
رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس نے سورۃ البقرہ کی دو آخری آیتیں رات میں پڑھ لیں وہ اسے ہر آفت سے بچانے کے لئے کافی ہو جائیں گی ۔
Narrated Abu Huraira رضی اللہ عنہ :
Allah's Messenger (ﷺ) ordered me to guard the Zakat revenue of Ramadan. Then somebody came to me and started stealing from the foodstuff. I caught him and said, "I will take you to Allah's Messenger (ﷺ)!" Then Abu Huraira described the whole narration and said: That person said (to me), "(Please don't take me to Allah's Messenger (ﷺ) and I will tell you a few words by which Allah will benefit you.) When you go to your bed, recite Ayat-al-Kursi, (2.255) for then there will be a guard from Allah who will protect you all night long, and Satan will not be able to come near you till dawn." (When the Prophet (ﷺ) heard the story) he said (to me), "He (who came to you at night) told you the truth although he is a liar; and it was Satan."
اور عثمان بن ہیثم نے کہا کہ ہم سے عوف بن ابی جمیلہ نے بیان کیا ، ان سے محمد بن سیرین نے اور ان سے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ
رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے صدقہ فطر کی حفاظت پر مقرر فرمایا ۔ پھر ایک شخص آیا اور دونوں ہاتھوں سے ( کھجوریں ) سمیٹنے لگا ۔ میں نے اسے پکڑ لیا اور کہا کہ میں تجھے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش کروں گا ۔ پھر انہوں نے یہ پورا قصہ بیان کیا ( مفصل حدیث اس سے پہلے کتاب الوکالۃ میں گزر چکی ہے ) ( جو صدقہ فطر چرانے آیا تھا ) اس نے کہا کہ جب تم رات کو اپنے بستر پر سونے کے لئے جاؤ تو آیت الکرسی پڑھ لیا کرو ، پھر صبح تک اللہ تعالیٰ کی طرف سے تمہاری حفاظت کرنے والا ایک فرشتہ مقرر ہو جائے گا اور شیطان تمہارے پاس بھی نہ آ سکے گا ۔ ( حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے یہ بات آپ سے بیان کی تو ) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس نے تمہیں یہ ٹھیک بات بتائی ہے اگرچہ وہ بڑا جھوٹا ہے ، وہ شیطان تھا ۔
Narrated Al-Bara' رضی اللہ عنہ :
A man was reciting Surat Al-Kahf and his horse was tied with two ropes beside him. A cloud came down and spread over that man, and it kept on coming closer and closer to him till his horse started jumping (as if afraid of something). When it was morning, the man came to the Prophet, and told him of that experience. The Prophet (ﷺ) said, "That was As-Sakina (tranquility) which descended because of (the recitation of) the Qur'an."
ہم سے عمرو بن خالد نے بیان کیا ، کہا ہم سے زہیر نے بیان کیا ، کہا ہم سے ابواسحاق نے بیان کیا اور ان سے حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ نے کہ
ایک صحابی ( اسید بن حضیر ) سورۃ الکہف پڑھ رہے تھے ۔ ان کے ایک طرف ایک گھوڑا دو رسوں سے بندھا ہوا تھا ۔ اس وقت ایک ابر اوپر سے آیا اور نزدیک سے نزدیک تر ہونے لگا ۔ ان کا گھوڑا اس کی وجہ سے بدکنے لگا ۔ پھر صبح کے وقت وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ سے اس کا ذکر کیا تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ وہ ( ابر کا ٹکڑا ) سکینہ تھا جو قرآن کی تلاوت کی وجہ سے اترا تھا ۔
Narrated Aslam:
Allah's Messenger (ﷺ) was traveling on one of his journeys, and `Umar bin Al-Khattab رضی اللہ عنہ was traveling along with him at night. `Umar رضی اللہ عنہ asked him about something, but Allah's Messenger (ﷺ) did not answer him. He asked again, but he did not answer. He asked for the third time, but he did not answer. On that, `Umar رضی اللہ عنہ said to himself, "May your mother lose you! You have asked Allah's Messenger (ﷺ) three times, but he did not answer at all!" `Umar رضی اللہ عنہ said, "So I made my camel go fast till I was ahead of the people, and I was afraid that something might be revealed about me. After a little while I heard a call maker calling me, I said, 'I was afraid that some Qur'anic Verse might be revealed about me.' So I went to Allah's Apostle and greeted him. He said, 'Tonight there has been revealed to me a Surah which is dearer to me than that on which the sun shines (i.e. the world).' Then he recited: 'Verily! We have given you (O Muhammad), a manifest victory.' " (Surat al-Fath) No. (48.1).
ہم سے اسماعیل بن ابی اویس نے بیان کیا ، کہا کہ مجھ سے امام مالک نے بیان کیا ، ان سے زید بن اسلم نے اور ان سے ان کے والد اسلم نے کہ
رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم رات کو ایک سفر میں جا رہے تھے ۔ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ بھی آپ کے ساتھ تھے ۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے کچھ پوچھا ۔ لیکن آنحضرت اس کا کوئی جواب نہ دیا ۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے پھر پوچھا آپ نے پھر کوئی جواب نہیں دیا ۔ تیسری مرتبہ پھر پوچھا اور جب اس مرتبہ بھی کوئی جواب نہیں دیا تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ( اپنے آپ کو ) کہا تیری ماں تجھ پر روئے تو نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے تین مرتبہ عاجزی سے سوال کیا اور آنحضرت نے کسی مرتبہ بھی جواب نہیں دیا ۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ پھر میں نے اپنی اونٹنی کو دوڑایا اور لوگوں سے آگے ہو گیا ( آپ کے برابر چلنا چھوڑ دیا ) مجھے خوف تھا کہ کہیں اس حرکت پر میرے بارے میں کوئی آیت نازل نہ ہو جائے ابھی تھوڑا ہی وقت گزرا تھا کہ میں نے ایک پکارنے والے کو سنا جو پکار رہا تھا ۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے سوچا مجھے تو خوف تھا ہی کہ میرے بارے میں کچھ وحی نازل ہو گی ۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا چنانچہ میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آیا اور میں نے آپ کو سلام کیا ( سلام کے جواب کے بعد آنحضرت نے فرمایا کہ اے عمر ! آج رات مجھ پر ایسی سورت نازل ہوئی ہے جو مجھے ان سب چیزوں سے زیادہ پسند ہے جن پرسورج نکلتا ہے ۔ پھر آپ نے سورۃ انا فتحنا لک فتحاً مبیناً کی تلاوت فرمائی ۔
Narrated Abu Said Al-Khudri رضی اللہ عنہ :
A man heard another man reciting (Surat-Al-Ikhlas) 'Say He is Allah, (the) One.' (112. 1) repeatedly. The next morning he came to Allah's Messenger (ﷺ) and informed him about it as if he thought that it was not enough to recite. On that Allah's Messenger (ﷺ) said, "By Him in Whose Hand my life is, this Surah is equal to one-third of the Qur'an!"
ہم سے عبداللہ بن یوسف تنیسی نے بیان کیا ، کہا ہم کوامام مالک نے خبر دی ، انہیں عبدالرحمٰن بن عبداللہ بن عبدالرحمٰن بن ابی صعصعہ نے ، انہیں ان کے والد عبداللہ نے اور انہیں حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے کہ
ایک آدمی نے دوسرے آدمی کو (سورۃ اخلاص) پڑھتے ہوئے سنا کہ وہ رات کو سورۃ قل ھو اللہ باربار پڑھ رہے ہیں ۔ صبح ہوئی تو وہ صحابی ( ابوسعید رضی اللہ عنہ ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آنحضرت سے اس کا ذکر کیا گویا انہوں نے سمجھا کہ اس میں کوئی بڑا ثواب نہ ہو گا ۔ آنحضرت نے فرمایا کہ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ! یہ سورت قرآن مجید کے ایک تہائی حصہ کے برابر ہے ۔
Narrated Abu Said Al-Khudri رضی اللہ عنہ :
My brother, Qatada bin An-Nau'man رضی اللہ عنہ said, "A man performed the night prayer late at night in the lifetime of the Prophet (ﷺ) and he read: 'Say: He is Allah, (the) One,' (112.1) and read nothing besides that. The next morning a man went to the Prophet (ﷺ) ,~ and told him about that . (The Prophet (ﷺ) replied the same as (in Hadith 532) above.)
اور ابو معمر ( عبداللہ بن عمرو منقری ) نے اتنا زیادہ کیا کہ ہم سے اسماعیل بن جعفر نے بیان کیا ، ان سے امام مالک بن انس نے ، ان سے عبدالرحمٰن بن عبداللہ بن عبدالرحمٰن بن ابی صعصعہ نے ، ان سے ان کے والد نے اور ان سے حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے کہ
مجھے میرے بھائی حضرت قتادہ بن نعمان رضی اللہ عنہ نے خبر دی کہ ایک صحابی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں سحری کے وقت سے کھڑے قل ھو اللہ احد پڑھتے رہے ۔ ان کے سوا اور کچھ نہیں پڑھتے تھے ۔ پھر جب صبح ہوئی تو دوسرے صحابی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے ( باقی حصہ ) پچھلی حدیث کی طرح بیان کیا ۔
Narrated Abu Sa`id Al-Khudri رضی اللہ عنہ :
The Prophet (ﷺ) said to his companions, "Is it difficult for any of you to recite one third of the Qur'an in one night?" This suggestion was difficult for them so they said, "Who among us has the power to do so, O Allah's Messenger (ﷺ)?" Allah Apostle replied: " Allah (the) One, the Self-Sufficient Master Whom all creatures need.' (Surat Al-Ikhlas 112.1--to the End) is equal to one third of the Qur'an." Imam Abu Abdullah (Imam Bukhari) has recorded it incompletely transmitted from Ibrahim and transmitted with complete chain from Dahhak Mashriqi.
ہم سے عمر بن حفص بن غیاث نے بیان کیا ، کہا مجھ سے میرے والد نے بیان کیا ، کہا ہم سے اعمش نے بیان کیا ، کہا ہم سے ابراہیم نخعی اور ضحاک مشرقی نے بیان کیا اور ان سے حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ سے فرمایا کیا تم میں سے کسی کے لئے یہ ممکن نہیں کہ قرآن کا ایک تہائی حصہ ایک رات میں پڑھا کرے ۔ صحابہ کو یہ عمل بڑا مشکل معلوم ہوا اور انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! ہم میں سے کون اس کی طاقت رکھتا ہے ۔ آنحضرت نے اس پر فرمایا کہ قل ھو اللہ احد اللہ الصمد قرآن مجید کا ایک تہائی حصہ ہے ۔ محمد بن یوسف فربری نے بیان کیا کہ میں نے حضرت ابوعبداللہ امام بخاری کے کاتب ابو جعفر محمد بن ابی حاتم سے سنا ، وہ کہتے تھے کہ امام بخاری نے کہا ابراہیم نخعی کی روایت حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے منقطع ہے ( ابراہیم نے ابوسعید سے نہیں سنا ) لیکن ضحاک مشرقی کی روایت ابوسعید سے متصل ہے ۔
Narrated `Aisha رضی اللہ عنہا :
Whenever Allah's Messenger (ﷺ) became sick, he would recite Mu'awwidhat (Surat Al-Falaq and Surat An- Nas) and then blow his breath over his body. When he became seriously ill, I used to recite (these two Suras) and rub his hands over his body hoping for its blessings.
ہم سے عبداللہ بن یوسف تنیسی نے بیان کیا ، کہا ہم کو امام ما لک نے خبر دی ، انہیں ابن شہاب نے ، انہیں عروہ بن زبیر نے اور انہیں عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہ
رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب بیمار پڑتے تو معوذات کی سورتیں پڑھ کر اسے اپنے اوپر دم کرتے ( اس طرح کہ ہوا کے ساتھ کچھ تھوک بھی نکلتا ) پھر جب ( مرض الموت میں ) آپ کی تکلیف بڑھ گئی تو میں ان سورتوں کو پڑھ کر آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھوں سے برکت کی امید میں آپ کے جسم مبارک پر پھیر تی تھی ۔
Narrated 'Aisha رضی اللہ عنہا :
Whenever the Prophet (ﷺ) went to bed every night, he used to cup his hands together and blow over it after reciting Surat Al-Ikhlas, Surat Al-Falaq and Surat An-Nas, and then rub his hands over whatever parts of his body he was able to rub, starting with his head, face and front of his body. He used to do that three times.
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم سے مفضل بن فضالہ نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم سے عقیل بن خالد نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم سے ابن شہاب نے بیان کیا ، ان سے عروہ نے بیان کیا ، اور ان سے ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہر رات جب بستر پر آرام فرماتے تو اپنی دونوں ہتھیلیوں کو ملا کر قل ھو اللہ احد ، قل اعوذ برب الفلق اور قل اعوذ برب الناس ( تینوں سورتیں مکمل ) پڑھ کر ان پرپھونکتے اور پھر دونوں ہتھیلیوں کو جہا ں تک ممکن ہوتا اپنے جسم پر پھیرتے تھے ۔ پہلے سر اور چہرہ پر ہاتھ پھیرتے اور سامنے کے بدن پر ۔ یہ عمل آپ تین دفعہ کرتے تھے ۔
Narrated Usaid bin Hudair:
That while he was reciting Surat Al-Baqara (The Cow) at night, and his horse was tied beside him, the horse was suddenly startled and troubled. When he stopped reciting, the horse became quiet, and when he started again, the horse was startled again. Then he stopped reciting and the horse became quiet too. He started reciting again and the horse was startled and troubled once again. Then he stopped reciting and his son, Yahya was beside the horse. He was afraid that the horse might trample on him. When he took the boy away and looked towards the sky, he could not see it. The next morning he informed the Prophet who said, "Recite, O Ibn Hudair! Recite, O Ibn Hudair!" Ibn Hudair replied, "O Allah's Messenger (ﷺ)! My son, Yahya was near the horse and I was afraid that it might trample on him, so I looked towards the sky, and went to him. When I looked at the sky, I saw something like a cloud containing what looked like lamps, so I went out in order not to see it." The Prophet (ﷺ) said, "Do you know what that was?" Ibn Hudair replied, "No." The Prophet (ﷺ) said, "Those were Angels who came near to you for your voice and if you had kept on reciting till dawn, it would have remained there till morning when people would have seen it as it would not have disappeared. Hadrat Ibn-e-Haad said: Abdullah bin Khabbab, from Abu Saeed Khudri, from Osaid bin Hodair narrated me this Hadith.
اورلیث بن سعد نے بیان کیا کہ مجھ سے یزید بن الہاد نے بیان کیا ‘ ان سے محمد بن ابراہیم نے کہ اسید بن حضیر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ
رات کے وقت وہ سورۃ البقرہ کی تلاوت کر رہے تھے اور ان کا گھوڑا ان کے پاس ہی بندھا ہوا تھا ۔ اتنے میں گھوڑا بدکنے لگا تو انہوں نے تلاوت بند کر دی تو گھوڑا بھی رک گیا ۔ پھر انہوں نے تلاوت شروع کی تو گھوڑا پھر بدکنے لگا ۔ اس مرتبہ بھی جب انہوں نے تلاوت بند کی توگھوڑا بھی خاموش ہو گیا ۔ تیسری مرتبہ انہوں نے تلاوت شروع کی تو پھر گھوڑا بدکا ۔ ان کے بیٹے یحیٰی چونکہ گھوڑے کے قریب ہی تھے اس لئے اس ڈر سے کہ کہیں انہیں کوئی تکلیف نہ پہنچ جائے ۔ انہوں نے تلاوت بند کر دی اور بچے کو وہاں سے ہٹا دیا پھر اوپر نظر اٹھائی تو کچھ نہ دکھائی دیا ۔ صبح کے وقت یہ واقعہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کیا ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ابن حضیر ! تم پڑھتے رہتے تلاوت بند نہ کرتے ( تو بہتر تھا ) انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! مجھے ڈر لگا کہ کہیں گھوڑا میرے بچے یحیٰی کو نہ کچل ڈالے ‘ وہ اس سے بہت قریب تھا ۔ میں سر اوپر اٹھایا اور پھر یحیٰی کی طرف گیا ۔ پھر میں نے آسمان کی طرف سر اٹھایا تو ایک چھتری سی نظر آئی جس میں روشن چراغ تھے ۔ پھر جب میں دوبارہ باہر آیا تو میں نے اسے نہیں دیکھا ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تمہیں معلوم بھی ہے وہ کیا چیز تھی ؟ اسید نے عرض کیا کہ نہیں ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ وہ فرشتے تھے تمہاری آواز سننے کے لئے قریب ہو رہے تھے اگر تم رات بھر پڑھتے رہتے تو صبح تک اور لوگ بھی انہیں دیکھتے وہ لوگوں سے چھپتے نہیں ۔ اور ابن الہاد نے بیان کیا ‘ کہا مجھ سے یہ حدیث عبداللہ بن خباب نے بیان کی ، ان سے ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے اور ان سے اسید بن حضیر رضی اللہ عنہ نے ۔