Narrated `Abdul `Aziz bin Rufai':
Shaddad bin Ma'qil and I entered upon Ibn `Abbas رضی اللہ عنہما . Shaddad bin Ma'qil asked him, "Did the Prophet (ﷺ) leave anything (besides the Qur'an)?" He replied. "He did not leave anything except what is Between the two bindings (of the Qur'an)." Then we visited Muhammad bin Al-Hanafiyya and asked him (the same question). He replied, "The Prophet (ﷺ) did not leave except what is between the bindings (of the Qur'an).
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا ‘ ان سے عبد العزیز بن رفیع نے بیان کیا کہ
میں اور شداد بن معقل ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس گئے ۔ شداد بن معقل نے ان سے پوچھا کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس قرآن کے سوا کوئی اور بھی قرآن چھوڑا تھا ۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ( وحی متلو ) جو کچھ بھی چھوڑی ہے وہ سب کی سب ان دو گتوں کے درمیان صحیفہ میں محفوظ ہے عبد العزیز بن ربیع کہتے ہیں کہ ہم محمد بن حنیفہ کی خدمت میں بھی حاضر ہوئے اور ان سے بھی پوچھا تو انہوں نے کہا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے جو بھی وحی متلو چھوڑی وہ سب دو دفتیوں کے درمیان ( قرآن مجید کی شکل میں ) محفوظ ہے ۔
Narrated Abu Musa Al-Ash`ari رضی اللہ عنہ :
The Prophet (ﷺ) said, "The example of him (a believer) who recites the Qur'an is like that of a citron which tastes good and smells good. And he (a believer) who does not recite the Qur'an is like a date which is good in taste but has no smell. And the example of a dissolute wicked person who recites the Qur'an is like the Raihana (sweet basil) which smells good but tastes bitter. And the example of a dissolute wicked person who does not recite the Qur'an is like the colocynth which tastes bitter and has no smell.
ہم سے ابوخالد ہدبہ بن خالد نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے ہمام بن یحی نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے قتادہ نے بیان کیا ان سے انس بن مالک نے بیان کیا اور ان سے حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس کی ( مومن کی ) مثال جو قرآن کی تلاوت کرتا ہے سنگترے کی سی ہے جس کا مزا بھی لذیذ ہوتا ہے اور جس کی خوشبو بھی بہترین ہوتی ہے اور جو مومن قرآن کی تلاوت نہیں کرتا اس کی مثال کھجور کی سی ہے اس کا مزہ تو عمدہ ہوتا ہے لیکن اس میں خوشبو نہیں ہوتی اور اس بدکار ( منا فق ) کی مثال جو قر آن کی تلاوت کرتا ہے ریحانہ کی سی ہے کہ اس کی خوشبو تو اچھی ہوتی لیکن مزا کڑوا ہوتا ہے اور اس بدکار کی مثال جو قر آن کی تلا وت بھی نہیں کرتا اندرائن کی سی ہے جس کا مزا بھی کڑوا ہوتا ہے اور اس میں کوئی خو شبو بھی نہیں ہوتی ۔
Narrated Ibn `Umar رضی اللہ عنہما :
The Prophet (ﷺ) said, "Your life in comparison to the lifetime of the past nations is like the period between the time of `Asr prayer and sunset. Your example and the example of the Jews and Christians is that of person who employed laborers and said to them, "Who will work for me till the middle of the day for one Qirat (a special weight)?' The Jews did. He then said, "Who will work for me from the middle of the day till the `Asr prayer for one Qirat each?" The Christians worked accordingly. Then you (Muslims) are working from the `Asr prayer till the Maghrib prayer for two Qirats each. They (the Jews and the Christians) said, 'We did more labor but took less wages.' He (Allah) said, 'Have I wronged you in your rights?' They replied, 'No.' Then He said, 'This is My Blessing which I give to whom I wish."
ہم سے مسدد بن مسرہد نے بیان کیا ، ان سے یحییٰ بن سعید انصاری نے بیان کیا ، ان سے سفیان ثوری نے کہا کہ مجھ سے عبداللہ بن دینا ر نے بیان کیا ، کہا کہ میں نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے سنا کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مسلمانو ! گزری امتوں کی عمروں کے مقابلہ میں تمہاری عمر ایسی ہے جیسے عصر سے سورج ڈوبنے تک کا وقت ہوتا ہے اور تمہاری اور یہود و نصاریٰ کی مثا ل ایسی ہے کہ کسی شخص نے کچھ مزدور کام پر لگائے اور ان سے کہا کہ ایک قیراط مزدوری پر میرا کام صبح سے دوپہر تک کون کرے گا ؟ یہ کام یہودیوں نے کیا ۔ پھر اس نے کہا کہ اب میرا کام آدھے دن سے عصر تک ( ایک ہی قیراط مزدوری پر ) کون کرے گا ؟ یہ کام نصاریٰ نے کیا ۔ پھر تم نے عصر سے مغرب تک دو دو قیراط مزدوری پر کام کیا ۔ یہود و نصاریٰ قیامت کے دن کہیں گے ہم نے کام زیادہ کیا لیکن مزدوری کم پائی ؟ اللہ تعالیٰ فرمائے گا کیا تمہارا کچھ حق مارا گیا ، وہ کہیں گے کہ نہیں ۔ پھر اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ پھر یہ میرافضل ہے ، میں جسے چاہوں اور جتنا چاہوں عطا کروں ۔
Narrated Talha:
I asked `Abdullah bin Abi `Aufa رضی اللہ عنہ , "Did the Prophet (ﷺ) make a will (to appoint his successor or bequeath wealth)?" He replied, "No." I said, "How is it prescribed then for the people to make wills, and they are ordered to do so while the Prophet (ﷺ) did not make any will?" He said, "He made a will wherein he recommended Allah's Book."
ہم سے محمد بن یوسف فریابی نے بیان کیا ، کہا ہم سے مالک بن مغول نے ، کہا ہم سے طلحہ بن مصرف نے بیان کیا ، کہ
میں نے عبداللہ بن ابی اوفی ٰ رضی اللہ عنہ سے سوال کیا کیا نبی کریم نے کوئی وصیت فرمائی تھی ؟ انہوں نے کہا کہ نہیں ۔ میں نے عرض کیا پھر لوگوں پر وصیت کیسے فرض کی گئی کہ مسلمانوں کو تو وصیت کا حکم ہے اور خود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے کوئی وصیت نہیں فرمائی ۔ انہوں نے کہا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے کتاب اللہ کو مضبوطی سے تھامے رہنے کی وصیت فرمائی تھی ۔
Narrated Abu Huraira رضی اللہ عنہ :
Allah's Messenger (ﷺ) said, "Allah does not listen to a prophet as He listens to a prophet who recites the Qur'an in a pleasant tone." The companion of the sub-narrator (Abu Salama) said, "It means, reciting it aloud."
ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا ، کہا کہ مجھ سے لیث بن سعد نے ، ان سے عقیل نے ، ان سے شہاب نے بیان کیا ، کہا کہ مجھ کو ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن نے خبر دی اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ
رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ نے کوئی چیز اتنی توجہ سے نہیں سنی جتنی توجہ سے اس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا قرآن بہترین آواز کے ساتھ پڑھتے ہوئے سنا ہے ۔ ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن کا ایک دوست عبدالحمید بن عبدالرحمٰن کہتا تھا کہ اس حدیث میں یتغنیٰ بالقرآن سے یہ مراد ہے کہ اچھی آواز سے اسے پکار کر پڑھے ۔
Narrated Abu Huraira رضی اللہ عنہ :
The Prophet (ﷺ) I said, "Allah does not listen to a prophet as He listens to a prophet who recites the Qur'an in a loud and pleasant tone." Sufyan said, "This saying means: a prophet who regards the Qur'an as something that makes him dispense with many worldly pleasures."
ہم سے علی بن عبداللہ مدینی نے بیان کیا ، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا ، ا ن سے زہری نے ، ان سے ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے کوئی چیز توجہ سے نہیں سنی جتنی توجہ سے اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بہترین آواز کے ساتھ قرآن مجید پڑھتے سنا ہے ۔ سفیان بن عیینہ نے کہا یتغنی ٰ سے مراد ہے کہ قرآن پر قناعت کرے ۔
Narrated `Abdullah bin `Umar رضی اللہ عنہما :
Allah's Messenger (ﷺ) said, "Not to wish to be the like except of two men. A man whom Allah has given the knowledge of the Book and he recites it during the hours of the night, and a man whom Allah has given wealth, and he spends it in charity during the night and the hours of the day."
ہم سے ابو الیمان نے بیان کیا ‘ کہا ہم کو شعیب نے خبر دی ان سے زہری نے بیان کیا ‘ انہوں نے کہا مجھ سے سالم بن عبداللہ نے بیان کیا اور ان سے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ۔ رشک تو بس دو ہی آدمیوں پر ہو سکتا ہے ایک تو اس پر جسے اللہ نے قرآن مجید کا علم دیا اور وہ اس کے ساتھ رات کی گھڑیوں میں کھڑا ہو کر نماز پڑھتا رہا اور دوسرا آدمی وہ جسے اللہ تعالیٰ نے مال دیا اور وہ اسے محتاجوں پر رات دن خیرات کرتا رہا ۔
Narrated Abu Huraira رضی اللہ عنہ :
Allah's Messenger (ﷺ) I said, "Not to wish to be the like of except two men: A man whom Allah has taught the Qur'an and he recites it during the hours of the night and during the hours of the day, and his neighbor listens to him and says, 'I wish I had been given what has been given to so-and-so, so that I might do what he does; and a man whom Allah has given wealth and he spends it on what is just and right, whereupon an other man May say, 'I wish I had been given what so-and-so has been given, for then I would do what he does."
ہم سے علی بن ابراہیم نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم سے روح بن عبادہ نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا ، ان سے سلیمان نے ، انہوں نے کہا میں نے ذکوان سے سنا اور انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے کہ
رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا رشک تو بس دو ہی آدمیوں پر ہونا چاہئے ایک اس پر جسے اللہ تعا لی نے قرآن کا علم دیا اور وہ رات دن اس کی تلاوت کرتا رہتا ہے کہ اس کا پڑوسی سن کر کہہ اٹھے کہ کاش مجھے بھی اس جیسا علم قرآن ہوتا اور میں بھی اس کی طرح عمل کرتا اور وہ دوسرا جسے اللہ نے مال دیا اور وہ اسے حق کے لئے لٹا رہا ہے ( اس کو دیکھ کر ) دوسرا شخص کہہ اٹھتا ہے کہ کاش میرے پاس بھی اس کے جتنا مال ہوتا اور میں بھی اس کی طرح خرچ کرتا ۔
Narrated `Uthman رضی اللہ عنہ :
The Prophet (ﷺ) said, "The best among you (Muslims) are those who learn the Qur'an and teach it." Sa'd bin Obaidah narrates; Hadrat Abu Abdur Rehman Sulami taught the Quran from the reign of Hadrat Uthman to the time Hajjaj held the office of governor. He (Abu Abdur Rehman) said: This is the Hadith which has seated me here (for teaching the Quran).
ہم سے حجاج بن منہال نے بیان کیا ، کہا ہم سے شعبہ بن حجاج نے بیان کیا ، کہا کہ مجھے علقمہ بن مرثد نے خبر دی ، انہوں نے سعد بن عبیدہ سے سنا ، انہوں نے ابوعبدالرحمن سلمی سے اور انہوں نے عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ سے ، انہوں نے بیان کیا کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم میں سب سے بہتر وہ ہے جو قرآن مجید پڑھے اور پڑھائے ۔ سعد بن عبیدہ نے بیان کیا کہ ابوعبدالرحمن سلمی نے لوگوں کو عثمان رضی اللہ عنہ کے زمانہ خلافت سے حجاج بن یوسف کے عراق کے گورنر ہونے تک قرآن مجید کی تعلیم دی ۔ وہ کہا کرتے تھے کہ یہی حدیث ہے جس نے مجھے اس جگہ ( قرآن مجید پڑھا نے کے لئے ) بٹھا رکھا ہے ۔
Narrated `Uthman bin `Affan رضی اللہ عنہ :
The Prophet (ﷺ) said, "The most superior among you (Muslims) are those who learn the Qur'an and teach it."
ہم سے ابونعیم نے بیان کیا ، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا ، ان سے علقمہ بن مرثد نے ، ان سے ابو عبدالرحمن سلمی نے ، ان سے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ
رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم سب میں بہتر وہ ہے جو قرآن مجید پڑھے اور پڑھا ئے ۔
Narrated Sahl bin Sa`d رضی اللہ عنہ :
A lady came to the Prophet (ﷺ) and declared that she had decided to offer herself to Allah and His Apostle. The Prophet (ﷺ) said, "I am not in need of women." A man said (to the Prophet) "Please marry her to me." The Prophet (ﷺ) said (to him), "Give her a garment." The man said, "I cannot afford it." The Prophet said, "Give her anything, even if it were an iron ring." The man apologized again. The Prophet then asked him, "What do you know by heart of the Qur'an?" He replied, "I know such-andsuch portion of the Qur'an (by heart)." The Prophet (ﷺ) said, "Then I marry her to you for that much of the Qur'an which you know by heart."
ہم سے عمرو بن عون نے بیان کیا ، کہا ہم سے حماد بن زید نے بیان کیا ، ان سے ابوحازم نے بیان کیا ، ان سے سہل بن سعد رضی اللہ عنہ نے بیان کیاکہ
ایک خاتون نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور کہا کہ انہوں نے اپنے آپ کو اللہ اور اس کے رسول ( کی رضا ) کے لئے ہبہ کر دیا ہے ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اب مجھے عورتوں سے نکاح کی کوئی حاجت نہیں ہے ۔ ایک صاحب نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ ! ان کا نکاح مجھ سے کر دیں ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر انہیں ( مہر میں ) ایک کپڑا لا کے دے دو ۔ انہوں نے عرض کیا کہ مجھے تو یہ بھی میسر نہیں ہے ۔ آپ نے فرمایا پھر انہیں کچھ تو دو ایک لوہے کی انگوٹھی ہی سہی ۔ وہ اس پر بہت پریشان ہوئے ( کیونکہ ان کے پاس یہ بھی نہ تھی ) آنحضرت نے فرمایا اچھا تم کو قرآن کتنا یاد ہے ؟ انہوں نے عرض کیا کہ فلاں فلاں سورتیں ۔ آنحضرت نے فرمایا کہ پھر میں نے تمہاراان سے قرآن کی ان سورتوں پر نکاح کیا جو تمہیں یاد ہیں ۔
Narrated Sahl bin Sa`d رضی اللہ عنہ :
A lady came to Allah's Messenger (ﷺ) and said, "O Allah's Messenger (ﷺ)! I have come to you to offer myself to you." He raised his eyes and looked at her and then lowered his head. When the lady saw that he did not make any decision, she sat down. On that, a man from his companions got up and said. "O Allah's Apostle! If you are not in need of this woman, then marry her to me." Allah's Messenger (ﷺ) said, "Do you have anything to offer her?" He replied. "No, by Allah, O Allah's Messenger (ﷺ)!" The Prophet (ﷺ) said to him, "Go to your family and see if you can find something.' The man went and returned, saying, "No, by Allah, O Allah's Messenger (ﷺ)! I have not found anything." The Prophet (ﷺ) said, "Try to find something, even if it is an iron ring.'' He went again and returned, saying, "No, by Allah, O Allah's Messenger (ﷺ), not even an iron ring, but I have this waist sheet of mine." The man had no upper garment, so he intended to give her, half his waist sheet. So Allah's Messenger (ﷺ) said, ''What would she do with your waist sheet? If you wear it, she will have nothing of it over her body, and if she wears it, you will have nothing over your body." So that man sat for a long period and then got up, and Allah's Messenger (ﷺ) saw him going away, so he ordered somebody to call him. When he came, the Prophet (ﷺ) asked him, " How much of the Qur'an do you know?" He replied, "I know such Surat and such Surat and such Surat," and went on counting it, The Prophet (ﷺ) asked him, "Can you recite it by heart?" he replied, "Yes." The Prophet (ﷺ) said, "Go, I have married this lady to you for the amount of the Qur'an you know by heart."
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا ، کہا ہم سے یعقوب بن عبداللہ نے بیان کیا ، ان سے ابوحازم نے ، ان سے حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ نے کہ
ایک خاتون رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور عرض کیا کہ یا رسول اللہ ! میں آپ کی خدمت میں اپنے آپ کو ہبہ کرنے کے لئے آئی ہوں ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی طرف نظر اٹھا کر دیکھا اور پھر نظر نیچی کر لی اور سر جھکا لیا ۔ جب اس خاتون نے دیکھا کہ ان کے بارے میں کوئی فیصلہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے نہیں فرمایا تو وہ بیٹھ گئی پھر آنحضرت کے صحابہ میں سے ایک صاحب اٹھے اور عرض کیا یا رسول اللہ ! اگر آپ کو ان کی ضرورت نہیں ہے تو میرے ساتھ ان کا نکاح کر دیں ۔ آنحضرت نے دریافت فرمایا تمہارے پاس کچھ ( مہر کے لئے ) بھی ہے ۔ انہوں نے عرض کیا نہیں یا رسول اللہ ! اللہ کی قسم تو آنحضرت نے فرمایا اپنے گھر جاؤ اور دیکھو شاید کوئی چیز ملے ، وہ صاحب گئے اور واپس آ گئے اور عرض کیا نہیں اللہ کی قسم ! یا رسول اللہ ! مجھے وہاں کوئی چیز نہیں ملی ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پھر دیکھ لو ایک لوہے کی انگوٹھی ہی سہی ۔ وہ صاحب گئے اور پھر واپس آ گئے اور عرض کیا نہیں اللہ کی قسم ! یا رسول اللہ ! لوہے کی ایک انگوٹھی بھی مجھے نہیں ملی ۔ البتہ یہ ایک تہبند میرے پاس ہے ۔ حضرت سہل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ان کے پاس کوئی چادر بھی ( اوڑھنے کے لئے ) نہیں تھی ۔ اس صحابی نے کہا کہ خاتون کو اس میں سے آدھا پھاڑ کر دیدیجئیے ۔ آپ نے فرمایا کہ تمہارے اس تہبند کا وہ کیا کرے گی ۔ اگر تم اسے پہنتے ہو تو اس کے قابل نہیں رہتا اور اگر وہ پہنتی ہے تو تمہارے قابل نہیں ۔ پھر وہ صاحب بیٹھ گئے کافی دیر تک بیٹھے رہنے کے بعد اٹھے ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں جاتے ہوئے دیکھا تو بلوایا ۔ جب وہ حاضر ہوئے تو آپ نے دریافت فرمایا کہ تمہیں قرآن مجید کتنا یاد ہے ؟ انہوں نے بتلایا کہ فلاں فلاں ، فلاں سورتیں مجھے یاد ہیں ۔ انہوں نے ان کے نام گنائے ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کیا تم انہیں زبانی پڑھ لیتے ہو ؟ عرض کیا جی ہاں ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جاؤ تمہیں قرآن مجید کی جو سورتیں یاد ہیں ان کے بدلے میں میں نے اسے تمہارے نکاح میں دے دیا ۔
Narrated Ibn `Umar رضی اللہ عنہما :
Allah's Messenger (ﷺ) said, "The example of the person who knows the Qur'an by heart is like the owner of tied camels. If he keeps them tied, he will control them, but if he releases them, they will run away."
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم کو امام مالک نے خبر دی ، انہیں نافع نے اور انہیں حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہمانے کہ
رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا حافظ قرآن کی مثال رسی سے بندھے ہوئے اونٹ کے مالک جیسی ہے اور وہ اس کی نگرانی رکھے گا تو وہ اسے روک سکے گا ورنہ وہ رسی تڑوا کر بھاگ جائے گا ۔
Narrated `Abdullah رضی اللہ عنہما :
The Prophet (ﷺ) said, "It is a bad thing that some of you say, 'I have forgotten such-and-such verse of the Qur'an,' for indeed, he has been caused (by Allah) to forget it. So you must keep on reciting the Qur'an because it escapes from the hearts of men faster than camel do." Hadrat Uthman from Jareer and he from Mansoor has reported like the Hadith mention above. Moreover, Bishr from Ibn-e-Mubarak and he from Shobah has corroborated him. Moreover, Ibn-e-Juraij, Abdah, Shqeeq heard heard from Hadrat Abdullah bin Masoud and he heard from the prophet ﷺ.
ہم سے محمد بن عرعرہ نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا ، ان سے منصور نے ، ان سے ابووائل نے اور ان سے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بہت برا ہے کسی شخص کا یہ کہنا کہ میں فلاں فلاں آیت بھول گیا بلکہ یوں ( کہنا چاہیے ) کہ مجھے بھلا دیا گیا اور قرآن مجید کا پڑھنا جاری رکھو کیونکہ انسانوں کے دلوں سے دور ہو جانے میں وہ اونٹ کے بھاگنے سے بھی بڑھ کر ہے ۔ ہم سے عثمان بن ابی شیبہ نے بیان کیا ، کہا ہم سے جریر بن عبدالحمید نے ، اور ان سے منصور بن معتمر نے پچھلی حدیث کی طرح ۔ محمد بن عرعرہ کے ساتھ اس کو بشر بن عبداللہ نے بھی عبداللہ بن مبارک سے ، انہوں نے شعبہ سے روایت کیا ہے اور محمد بن عرعرہ کے ساتھ اس کو ابن جریج نے بھی عبد ہ سے ، انہوں نے شقیق بن مسلمہ سے ، انہوں نے عبداللہ بن مسعود سے ایسا ہی روایت کیا ہے ۔
Narrated Abu Musa رضی اللہ عنہ :
The Prophet (ﷺ) said, "Keep on reciting the Qur'an, for, by Him in Whose Hand my life is, Qur'an runs away (is forgotten) faster than camels that are released from their tying ropes."
ہم سے محمد بن علاء نے بیان کیا ، کہا ہم سے ابواسامہ نے بیان کیا ، ان سے برید نے ، ان سے ابوبردہ نے اور ان سے ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قرآن مجید کا پڑھتے رہنا لازم پکڑلو “ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے وہ اونٹ کے اپنی رسی تڑوا کر بھاگ جانے سے زیادہ تیزی سے بھاگتا ہے ۔
Narrated `Abdullah bin Mughaffal رضی اللہ عنہ :
I saw Allah's Messenger (ﷺ) reciting Surat-al-Fath on his she-camel on the day of the Conquest of Mecca.
ہم سے حجاج بن منہال نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا ، کہا کہ مجھے ابوایاس نے خبر دی ، کہا کہ میں نے عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ سے سنا ، انہوں نے بیان کیا کہ
میں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو فتح مکہ کے دن دیکھا کہ آپ سواری پر سورۃ الفتح کی تلاوت فرما رہے تھے ۔
Narrated Sa`id bin Jubair:
Those Suras which you people call the Mufassal, are the Muhkam. And Ibn `Abbas رضی اللہ عنہما said, "Allah's Apostle died when I was a boy of ten years, and I had learnt the Muhkam (of the Qur'an).
مجھ سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا ، کہا ہم سے ابوعوانہ نے بیان کیا ، ان سے ابو بشر نے ، ان سے سعید بن جبیر نے بیان کیا کہ
جن سورتوں کو تم ” مفصل “ کہتے ہو وہ سب ” محکم “ ہیں ۔ انہوں نے بیان کیا کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہمانے کہا جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوئی تو میری عمر دس سال کی تھی اور میں نے محکم سورتیں سب پڑھ لی تھیں ۔
Narrated Ibn `Abbas رضی اللہ عنہما :
"I have learnt all the Muhkam Suras during the life time of Allah's Messenger (ﷺ)." I said to him, 'What is meant by the Muhkam?" He replied, "The Mufassal."
ہم سے یعقوب بن ابراہیم نے بیان کیا ، کہا ہم سے ہشیم نے بیان کیا ، کہا ہم کو ابو بشر نے خبر دی ، انہیں سعید بن جبیر نے اور انہیں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہ
میں نے محکم سورتیں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں سب یاد کر لی تھیں ، میں نے پوچھا کہ محکم سورتیں کون سی ہیں ؟ کہا کہ ” مفصل “ ۔
Narrated 'Aisha رضی اللہ عنہا :
The Prophet (ﷺ) heard a man reciting the Qur'an in the mosque and said, "May Allah bestow His Mercy on him, as he has reminded me of such-and-such Verses of such a Surah." Hadrat Hisham says: From that chapter which was obliterated from the memory. Ali bin Mus'hir, Abdah has corroborated him from Hisham.
ہم سے ربیع بن یحییٰ نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم سے زائدہ بن جذامہ نے بیان کیا ، کہا ہم سے ہشام بن عروہ نے بیان کیا ، ان سے عروہ بن زبیر نے اور ان سے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو مسجد میں قرآن پڑھتے سنا تو آپ نے فرمایا کہ اللہ اس پر رحم کرے ، اس نے مجھے فلاں سورت کی فلاں فلاں آیتیں یاد دلا دیں ۔
Narrated Aisha رضی اللہ عنہا :
Allah's Messenger (ﷺ) heard a man reciting the Qur'an at night, and said, "May Allah bestow His Mercy on him, as he has reminded me of such-and-such Verses of such-and-such Suras, which I was caused to forget."
ہم سے احمد بن ابی رجاء نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم سے ابواسامہ نے بیان کیا ، ان سے ہشام بن عروہ نے ، ان سے ان کے والد ( عروہ بن زبیر ) نے اور ان سے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ
رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک صاحب کو رات کے وقت ایک سورت پڑھتے ہوئے سنا تو فرمایا کہ اللہ تعالیٰ اس شخص پر رحم کرے ، اس نے مجھے فلاں آیتیں یاد دلا دیں جو مجھے فلاں فلاں سورتوں میں سے بھلا دی گئی تھیں ۔