Narrated Nafi`:
Ibn `Umar رضی اللہ عنہما never used to take his meal unless a poor man was called to eat with him. One day I brought a poor man to eat with him, the man ate too much, whereupon Ibn `Umar رضی اللہ عنہما said, "O Nafi`! Don't let this man enter my house, for I heard the Prophet (ﷺ) saying, "A believer eats in one intestine (is satisfied with a little food), and a kafir (unbeliever) eats in seven intestines (eats much food).
ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا ، ہم سے سے عبدالصمد بن عبدالوارث نے بیان کیا ، کہا ہم سے شعبہ بن حجاج نے بیان کیا ، ان سے واقد بن محمد نے ، ان سے نافع نے بیان کیا کہ
ابن عمر رضی اللہ عنہما اس وقت تک کھانا نہیں کھاتے تھے ، جب تک ان کے ساتھ کھانے کے لیے کوئی مسکین نہ لایا جاتا ۔ ایک مرتبہ میں ان کے ساتھ کھانے کے لیے ایک شخص کو لایا کہ اس نے بہت زیادہ کھانا کھایا ۔ بعد میں حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا کہ آئندہ اس شخص کو میرے ساتھ کھانے کے لیے نہ لانا ۔ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ مومن ایک آنت میں کھاتا اور کافر دو آنتیں بھر لیتا ہے ۔
Narrated Ibn `Umar رضی اللہ عنہما :
Allah's Messenger (ﷺ) said, "A believer eats in one intestine (is satisfied with a little food), and a kafir (unbeliever) or a hypocrite eats in seven intestines (eats too much). Ibn Bakir, the reporter, says that he has not remembered which of the words Obaidullah uttered. Uttered Ibn-e-Bokair, Maalik, Nafi'o, Hadrat Ibn-e-Umer رضی اللہ عنہما has reported from the prophet ﷺ the same.
ہم سے محمد بن سلام نے بیان کیا ، کہا ہم کو عبدہ بن سلیمان نے خبر دی ، انہیں عبیداللہ عمری نے خبر دی ، انہیں نافع نے اور ان سے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مومن ایک آنت میں کھاتا ہے اور کافر یا منافق ( عبدہ نے کہا کہ ) مجھے یقین نہیں کہ ان میں سے کس کے متعلق عبیداللہ نے بیان کیا کہ وہ ساتوں آنتیں بھر لیتا ہے اور ابن بکیر نے بیان کیا ، ان سے امام مالک نے بیان کیا ، ان سے نافع نے ، ان سے ابن عمر رضی اللہ عنہما اور ان سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی حدیث کی طرح بیان فرمایا ۔
Narrated `Amr:
Abu Nahik was avaricious eater. Ibn `Umar رضی اللہ عنہما said to him, "Allah's Messenger (ﷺ) said, "A Kafir (unbeliever) eats in seven intestines (eats much)." On that Abu Nahik said, "But I believe in Allah and His Apostle ."
ہم سے علی بن عبداللہ نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا ، ان سے عمرو بن دینار نے کہ
ابو نہیک بڑے کھانے والے تھے ۔ ان سے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ کافر ساتوں آنتوں میں کھاتا ہے ۔ ابو نہیک نے اس پر عرض کیا کہ میں اللہ اور اس کے رسول پر ایمان رکھتا ہوں ۔
Narrated Abu Huraira رضی اللہ عنہ :
Allah's Messenger (ﷺ) said, "A Muslim eats in one intestine (i.e. he is satisfied with a little food) while a Kafir (unbeliever) eats in seven intestines (eats much).
ہم سے اسماعیل بن ابی اویس نے بیان کیا ، انہوں نے کہا کہ مجھ سے امام مالک نے بیان کیا ، ان سے ابوالزناد نے بیان کیا ، ان سے اعرج نے اور ان سے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ، مسلمان ایک آنت میں کھاتا ہے اور کافر ساتوں آنتوں میں کھا تا ہے ۔
Narrated Abu Huraira رضی اللہ عنہ :
A man used to eat much, but when he embraced Islam, he started eating less. That was mentioned to the Prophet (ﷺ) who then said, "A believer eats in one intestine (is satisfied with a little food) and a Kafir eats in seven intestines (eats much). "
ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا ، ان سے عدی بن ثابت نے بیان کیا ، ان سے ابوحازم نے بیان کیا اور ان سے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ
ایک صاحب بہت زیادہ کھانا کھایا کرتے تھے ، پھر وہ اسلام لائے تو کم کھانے لگے ۔ اس کا ذکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا گیا تو آپ نے فرمایا کہ مومن ایک آنت میں کھاتا ہے اور کافر ساتوں آنتوں میں کھاتا ہے ۔
Narrated Abu Juhaifa رضی اللہ عنہ :
Allah's Messenger (ﷺ) said, "I do not take my meals while leaning (against something).
ہم سے ابونعیم نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم سے مسعر نے بیان کیا ، ان سے علی ابن الاقمر نے کہ میں نے ابوجحیفہ رضی اللہ عنہ سے سنا ، انہوں نے بیان کیا کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ، میں ٹیک لگا کر نہیں کھاتا ۔
Narrated Abu Juhaifa رضی اللہ عنہ :
While I was with the Prophet (ﷺ) he said to a man who was with him, "I do not take my meals while leaning."
مجھ سے عثمان بن ابی شیبہ نے بیان کیا ، کہا ہم کو جریر نے خبر دی ، انہیں منصور نے ، انہیں علی ابن الاقمر نے اور ان سے ابو جحیفہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیاکہ
میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر تھا ۔ آپ نے ایک صحابی سے جو آپ کے پاس موجود تھے فرمایا کہ میں ٹیک لگا کر نہیں کھاتا ۔
Narrated Khalid bin Al-Walid رضی اللہ عنہ :
"A roasted mastigure was brought to the Prophet (ﷺ) who stretched his hand towards it to eat it. But it was said to him, "It is a mastigure." So he withdrew his hand. Khalid رضی اللہ عنہ asked, "Is it unlawful to eat?" the Prophet said, "No, but it is not found in the land of my people and that is why I do not like eating it." So Khalid رضی اللہ عنہ started eating (it) while Allah's Messenger (ﷺ) was looking at him. Imam Malik has reported '' بِضَبٍّ مَحْنُوذٍ'' from Ibn-e-Shihab.
ہم سے علی بن عبداللہ نے بیان کیا ، کہا ہم سے ہشام بن یوسف نے بیان کیا ، کہا ہم کو معمر نے خبر دی ، انہیں زہری نے ، انہیں ابوامامہ بن سہل نے اور انہیں ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہ خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے بھنا ہوا ساہنہ پیش کیا گیاتو آپ اسے کھانے کے لیے متوجہ ہوئے ۔ اسی وقت آپ کو بتایا گیا کہ یہ ساہنہ ہے تو آپ نے اپنا ہاتھ روک لیا ۔ حضرت خالد رضی اللہ عنہ نے پوچھا کیا یہ حرام ہے ؟ فرمایا کہ نہیں لیکن چونکہ یہ میرے ملک میں نہیں ہوتا اس لیے طبیعت اسے گوارا نہیں کرتی ۔ پھر خالد رضی اللہ عنہ نے اسے کھایا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم دیکھ رہے تھے ۔ امام مالک نے ابن شہاب سے ” ضب محنوذ “ ( یعنی بھنا ہوا ساہنہ ضب مشوی کی جگہ محنوذ نقل کیا ، دونوں لفظوں کا ایک معنی ہے )
Narrated 'Utban bin Malik رضی اللہ عنہ :
who attended the Badr battle and was from the Ansar, that he came to the Prophet (ﷺ) and said, "O Allah's Apostle! I have lost my eyesight and I lead my people in the prayer (as an Imam). When it rains, the valley which is between me and my people, flows with water, and then I cannot go to their mosque to lead them in the prayer. O Allah's Messenger (ﷺ)! I wish that you could come and pray in my house so that I may take it as a praying place. The Prophet (ﷺ) said, "Allah willing, I will do that." The next morning, soon after the sun had risen, Allah's Messenger (ﷺ) came with Abu Bakr رضی اللہ عنہ . The Prophet (ﷺ) asked for the permission to enter and I admitted him. The Prophet (ﷺ) had not sat till he had entered the house and said to me, "Where do you like me to pray in your house?" I pointed at a place in my house whereupon he stood and said, "Allahu Akbar." We lined behind him and he prayed two rak`at and finished it with Taslim. We then requested him to stay for a special meal of Khazira which we had prepared. A large number of men from the adjoining area gathered in the house. One of them said, "Where is Malik bin Ad-Dukhshun رضی اللہ عنہ ?" Another man said, "He is a hypocrite and does not love Allah and His Apostle." The Prophet said, "Do not say so. Do you not think that he has said: "None has the right to be worshipped but Allah," seeking Allah's pleasure? The man said, "Allah and His Apostle know better, but we have always seen him mixing with hypocrites and giving them advice." The Prophet (ﷺ) said, "Allah has forbidden the (Hell) Fire for those who testify that none has the right to be worshipped but Allah, seeking Allah's pleasure. " Ibn-e-Shihab states: I, then, inquired of Husain bin Muhammad Ansari, a member of Banu Salim and their chief, about this Hadith and he also testified it.
ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا ، ان سے امام لیث بن سعد نے بیان کیا ، ان سے عقیل نے ، ان سے ابن شہاب نے بیان کیا ، انہیں محمود بن ربیع انصاری نے خبر دی کہ عتبان بن مالک رضی اللہ عنہ جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ میں سے تھے اور
قبیلہ انصار کے ان لوگوں میں سے تھے جنہوں نے بدر کی لڑائی میں شرکت کی تھی ۔ آپ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ یا رسول اللہ ! میری آنکھ کی بصارت کمزور ہے اور میں اپنی قوم کو نماز پڑھاتا ہوں ۔ برسات میں وادی جو میرے اور ان کے درمیان حائل ہے ۔ بہنے لگتی ہے اور میرے لیے ان کی مسجد میں جانا اور ان میں نماز پڑھنا ممکن نہیں رہتا ۔ اس لیے یا رسول اللہ ! میری یہ خواہش ہے کہ آپ میرے گھر تشریف لے چلیں اور میرے گھر میں آپ نماز پڑھیں تاکہ میں اسی جگہ کو نماز پڑھنے کی جگہ بنا لوں ۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ انشاءاللہ میں جلدی ہی ایسا کروں گا ۔ حضرت عتبان رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ پھر حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے ساتھ چاشت کے وقت جب سورج کچھ بلند ہو گیا تشریف لائے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اندر آنے کی اجازت چاہی ۔ میں نے آپ کو اجازت دے دی ۔ آپ بیٹھے نہیں بلکہ گھر میں داخل ہو گئے اور دریافت فرمایا کہ اپنے گھر میں کس جگہ تم پسند کرتے ہو کہ میں نماز پڑھوں ؟ میں نے گھر کے ایک کونے کی طرف اشارہ کیا ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم وہاں کھڑے ہو گئے اور ( نماز کے لیے ) تکبیر کہی ۔ ہم نے بھی ( آپ کے پیچھے ) صف بنا لی ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کوخزیرہ ( حریرہ کی ایک قسم ) کے لیے جو آپ کے لیے ہم نے بنایا تھا روک لیا ۔ گھر میں قبیلہ کے بہت سے لوگ آآ کر جمع ہو گئے ۔ ان میں سے ایک صاحب نے کہا مالک بن دخشن رضی اللہ عنہ کہاں ہیں ؟ اس پر کسی نے کہا کہ وہ تو منافق ہے اللہ اور اس کے رسول سے اسے محبت نہیں ہے ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ، یہ نہ کہو ، کیا تم نہیں دیکھتے کہ انہوں نے اقرار کیا ہے کہ لا الہٰ الا اللہ یعنی اللہ کے سوا اور کوئی معبود نہیں اور اس سے ان کا مقصد صرف اللہ کی خوشنودی حاصل کرنا ہے ۔ ان صحابی نے کہا کہ اللہ اور اس کے رسول ہی زیادہ جانتے ہیں ۔ راوی نے بیان کیا کہ ہم نے عرض کیا ( یا رسول اللہ ! ) لیکن ہم ان کی توجہ اور ان کا لگاؤ منافقین کے ساتھ ہی دیکھتے ہیں ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا لیکن اللہ نے دوزخ کی آگ کو اس شخص پر حرام کر دیا ہے جس نے کلمہ لا الہٰ الا اللہ کا اقرار کر لیا ہو اور اس سے اس کا مقصد اللہ کی خوشنودی ہو ۔ ابن شہاب نے بیان کیا کہ پھر میں نے حصین بن محمد انصاری سے جو بنی سالم کے ایک فرد اور ان کے سردار تھے ۔ محمود کی حدیث کے متعلق پوچھا تو انہوں نے اس کی تصدیق کی ۔
Narrated Ibn `Abbas رضی اللہ عنہما :
My aunt presented (roasted) mastigures, Iqt and milk to the Prophet (ﷺ) . The mastigures were put on his dining sheet, and if it was unlawful to eat, it would not have been put there. The Prophet (ﷺ) drank the milk and ate the Iqt only.
ہم سے مسلم بن ابراہیم نے بیان کی ، انہوں نے کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا ، ان سے ابو بشر نے ، ان سے سعید نے اور ان سے حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ
میری خالہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ساہنہ کا گوشت ، پنیر اور دودھ ہدیتاً پیش کیا تو ساہنہ کا گوشت آپ کے دسترخوان پررکھاگیا اوراگرساہنہ حرام ہوتا تو آپ کے دسترخوان پر نہیں رکھا جا سکتا تھا لیکن آپ نے دودھ پیااور پنیر کھایا ۔
Narrated Sahl bin Sa`d رضی اللہ عنہ :
We used to be happy on Fridays, for there was an old lady who used to pull out the roots of Silq and put it in a cooking pot with some barley. When we had finished the prayer, we would visit her and she would present that dish before us. So we used to be happy on Fridays because of that, and we never used to take our meals or have a mid-day nap except after the Friday prayer. By Allah, that meal contained no fat.
ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم سے یعقوب بن عبدالرحمٰن نے بیان کیا ، ان سے ابوحازم نے اور ان سے سہل بن سعد رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ
ہمیں جمعہ کے دن بڑی خوشی رہتی تھی ۔ ہماری ایک بوڑھی خاتون تھیں وہ چقندر کی جڑ یں لے کر اپنی ہانڈی میں پکاتی تھیں ، اوپر سے کچھ دانے جو کے اس میں ڈال دیتی تھی ۔ ہم جمعہ کی نماز پڑھ کر ان کی ملاقات کو جاتے تو وہ ہمارے سامنے یہ کھانا رکھتی تھی ۔ جمعہ کے دن ہمیں بڑی خوشی اسی وجہ سے رہتی تھی ۔ ہم نماز جمعہ کے بعد ہی کھانا کھایا کرتے تھے ۔ اللہ کی قسم نہ اس میں چربی ہوتی تھی نہ گھی اور جب بھی ہم مزے سے اس کو کھاتے ۔
Narrated Ibn 'Abbas رضی اللہ عنہما :
The Prophet (ﷺ) ate of the meat of a shoulder (by cutting the meat with his teeth), and then got up and offered the prayer without performing the ablution anew.
ہم سے عبداللہ بن عبدالوہاب نے بیان کیا ، کہا ہم سے حماد بن زید نے بیان کیا ، کہا ہم سے ایوب سختیانی نے بیان کیا ، ان سے محمد بن سیرین نے اور ان سے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے شانے کی ہڈی کا گوشت کھایا ، پھر کھڑے ہوئے اور نماز پڑھی ۔ آپ نے ( نماز کے لیے نیا ) وضو نہیں کیا اور ( اسی سند سے )
Narrated Ibn 'Abbas رضی اللہ عنہما :
The Prophet (ﷺ) took out a bone with meat on it from a cooking pot and ate of it, and then offered the prayer without performing ablution anew.
ایوب اورعاصم سے روایت ہے ، ان سے عکرمہ نے اور ان سے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پکتی ہوئی ہنڈیا میں سے ادھی کچی بوٹی نکالی اور اسے کھایا پھر نماز پڑھائی اور نیا وضو نہیں کیا ۔
Narrated Abu Qatada:
We went out towards Mecca with the Prophet ﷺ.
مجھ سے محمد بن مثنیٰ نے بیان کیا ، کہا کہ مجھ سے عثمان ابن عمر نے بیان کیا ، ان سے فلیح بن سلیمان نے بیان کیا ، ان سے ابوحازم سلمہ بن دینار مدنی نے ، کہا ہم سے عبداللہ بن ابی قتادہ نے اور ان سے ان کے والد نے بیان کیا کہ
ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مکہ کی طرف نکلے ( صلح حدیبیہ کے موقع پر ) دوسری سند ( حدیث دیکھیں 5407 )
Narrated Abu Qatada Salami رضی اللہ عنہ :
Once, while I was sitting with the companions of the Prophet (ﷺ) at a station on the road to Mecca and Allah's Messenger (ﷺ) was stationing ahead of us and all the people were assuming Ihram while I was not. My companion, saw an onager while I was busy Mending my shoes. They did not Inform me of the onager but they wished that I would see it Suddenly I looked and saw the onager Then I headed towards my horse, saddled it and rode, but I forgot to take the lash and the spear. So I said to them my companions), "Give me the lash and the spear." But they said, "No, by Allah we will not help you in any way to hunt it ' I got angry, dismounted, took it the spear and the lash), rode (the horse chased the onager and wounded it Then I brought it when it had dyed. My companions started eating of its (cooked) meat, but they suspected that it might be unlawful to eat of its meat while they were in a state of Ihram Then I proceeded further and I kept one of its forelegs with me. When we met Allah's Apostle we asked him about that. He said, "Have you some of its meat with you?" I gave him that foreleg and he ate the meat till he stripped the bone of its flesh although he was in a state of Ihram. Ataa bin Yasar has also reported similarly from Hadrat Abu Qatadah رضی اللہ عنہ .
اور مجھ سے عبدالعزیز بن عبداللہ اویسی نے بیان کیا ، کہا ہم سے محمد بن جعفر نے بیان کیا ، ان سے ابوحازم نے بیان کیا ، ان سے عبداللہ بن ابی قتادہ اسلمی نے ، ان سے ان کے والد نے بیان کیا کہ
میں ایک دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے چندصحابہ کے ساتھ مکہ کے راستہ میں ایک منزل پر بیٹھا ہوا تھا ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارے آگے پڑاؤ کیا تھا ۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم احرام کی حالت میں تھے لیکن میں احرام میں نہیں تھا ۔ لوگوں نے ایک گور خر کو دیکھا ۔ میں اس وقت اپنا جوتا ٹانکنے میں مصروف تھا ۔ ان لوگوں نے مجھے اس گور خر کے متعلق بتایا کچھ نہیں لیکن چاہتے تھے کہ میں کسی طرح دیکھ لوں ۔ چنانچہ میں متوجہ ہوا اور میں نے اسے دیکھ لیا ، پھر میں گھوڑے کے پاس گیا اور اسے زین پہنا کر اس پر سوار ہو گیا لیکن کوڑا اور نیزہ بھول گیا تھا ۔ میں نے ان لوگوں سے کہا کہ کوڑا اور نیزہ مجھے دے دو ۔ انہوں نے کہا کہ نہیں خدا کی قسم ہم تمہاری شکار کے معاملہ میں کوئی مدد نہیں کریں گے ۔ ( کیونکہ ہم محرم ہیں ) میں غصہ ہو گیا اور میں نے اترکر خود یہ دونوں چیزیں اٹھائیں پھر سوار ہو کر اس پر حملہ کیا اور ذبح کر لیا ۔ جب وہ ٹھنڈا ہو گیا تو میں اسے ساتھ لایا پھر پکا کر میں نے اور سب نے کھایا لیکن بعد میں انہیں شبہ ہوا کہ احرام کی حالت میں اس ( شکار کا گوشت ) کھانا کیسا ہے ؟ پھر ہم روانہ ہوئے اور میں نے اس کا گوشت چھپا کر رکھا ۔ جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے تو ہم نے آپ سے اس کے متعلق پوچھا ۔ آپ نے دریافت فرمایا ، تمہارے پاس کچھ بچا ہوا بھی ہے ؟ میں نے وہی دست پیش کیا اور آپ نے بھی اسے کھایا ۔ یہاں تک کہ اس کا گوشت آپ نے اپنے دانتوں سے کھینچ کھینچ کر کھایا اور آپ احرام میں تھے ۔ محمد بن جعفر نے بیان کیا کہ مجھ سے زید بن اسلم نے یہ واقعہ بیان کیا ، ان سے عطاء بن یسار نے اور ان سے حضرت ابوقتادہ رضی اللہ عنہ نے اسی طرح سارا واقعہ بیان کیا ۔
Narrated `Amr bin Umaiyya رضی اللہ عنہ :
He saw the Prophet (ﷺ) holding a shoulder piece of mutton in his hand and cutting part of it with a knife. Then he was called for the prayer whereupon he put down the shoulder piece and the knife with which he was cutting it, and then stood for prayer without performing ablution again.
ہم سے ابو الیمان نے بیان کیا ، کہا ہم کو شعیب نے خبر دی ، ان سے زہری نے بیان کیا ، انہیں جعفر بن عمرو بن امیہ ضمری نے خبر دی ، انہیں ان کے والد عمرو بن امیہ رضی اللہ عنہ نے خبر دی کہ
انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا آپ اپنے ہاتھ سے بکری کے شانے کا گوشت کاٹ کر کھا رہے تھے ، پھر آپ کو نماز کے لیے بلایا گیا تو آپ نے گوشت اور وہ چھری جس سے گوشت کی بوٹی کاٹ رہے تھے ، ڈال دی اور نماز کے لیے کھڑے ہو گئے ، پھر آپ نے نماز پڑھی اور آپ نے نیا وضو نہیں کیا ( کیونکہ آپ پہلے ہی وضو کئے ہوئے تھے )
Narrated Abu Huraira رضی اللہ عنہ :
The Prophet (ﷺ) never criticized any food (he was invited to) but he used to eat if he liked the food, and leave it if he disliked it.
ہم سے محمد بن کثیرنے بیان کیا ، کہا ہم کو سفیان نے خبر دی ، انہیں اعمش نے ، انہیں ابوحازم نے اور ان سے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی کسی کھانے میں کوئی عیب نہیں نکالا ۔ اگر پسند ہوا تو کھا لیا اور اگر ناپسند ہوا تو چھوڑ دیا ۔
Narrated Sahl رضی اللہ عنہ :
"Did you use white flour during the lifetime of the Prophet (ﷺ) ?" Sahl replied, "No. Hazim asked, "Did you use to sift barley flour?" He said, "No, but we used to blow off the husk (of the barley).
ہم سے سعید بن ابی مریم نے بیان کیا ، کہا ہم سے ابو غسان ( محمد بن مطرف لیثی ) نے بیان کیا ، کہا کہ مجھ سے ابوحازم سلمہ بن دینار نے بیان کیا ، انہوں نے سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ سے پوچھا
تم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں میدہ دیکھا تھا ؟ انہوں نے کہا کہ نہیں ۔ میں نے پوچھا کیا تم جو کے آٹے کو چھانتے تھے ؟ کہا نہیں ، بلکہ ہم اسے صرف پھونک لیا کرتے تھے ۔
Narrated Abu Huraira رضی اللہ عنہ :
Once the Prophet (ﷺ) distributed dates among his companions and gave each one seven dates. He gave me seven dates too, one of which was dry and hard, but none of the other dates was more liked by me than that one, for it prolonged my chewing it.
ہم سے ابو النعمان نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم سے حماد بن زید نے بیان کیا ، ان سے عباس جریری نے بیان کیا ، ان سے ابوعثمان نہدی نے بیان کیا اور ان سے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ
ایک دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ کو کھجور تقسیم کی اور ہر شخص کو سات کھجوریں دیں ۔ مجھے بھی سات کھجوریں عنایت فرمائیں ۔ ان میں ایک خراب تھی ( اور سخت تھی ) لیکن مجھے وہی سب سے زیادہ اچھی معلوم ہوئی کیونکہ اس کا چبانا مجھ کو مشکل ہو گیا ۔
Narrated Sa`d رضی اللہ عنہ :
I was one of (the first) seven (who had embraced Islam) with Allah's Messenger (ﷺ) and we had nothing to eat then, except the leaves of the Habala or Hubula tree, so that our stool used to be similar to that of sheep. Now the tribe of Bani Asad wants to teach me Islam; I would be a loser and all my efforts would be in vain (if I learn Islam anew from them).
ہم سے عبداللہ بن محمد مسندی نے بیان کیا ، کہا ہم سے وہب بن جریر نے بیان کیا ، ان سے شعبہ نے بیان کیا ، ان سے اسماعیل بن ابی خالد نے ، ان سے قیس بن ابی حازم نے اور ان سے حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ
میں نے اپنے آپ کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ان سات آدمیوں میں سے ساتواں پایا ( جنہوں نے اسلام سب سے پہلے قبول کیا تھا ) اس وقت ہمارے پاس کھانے کے لیے یہی کیکر کے پھل یا پتے کے سوا اور کچھ نہیں ہوتا ۔ یہ کھاتے کھاتے ہم لوگوں کا پا ئخانہ بھی بکری کی مینگنیوں کی طرح ہو گیا تھا یا اب یہ زمانہ ہے کہ نبی اسد قبیلے کے لوگ مجھ کو شریعت کے احکام سکھلاتے ہیں ۔ اگر میں ابھی تک اس حال میں ہوں کہ نبی اسد کے لوگ مجھ کوشریعت کے احکام سکھلائیں تب تو میں تباہ ہی ہو گیا میری محنت برباد ہو جائیں گئی ۔