Narrated Jabir bin `Abdullah رضی اللہ عنہما :
We were with Allah's Messenger (ﷺ) collecting Al-Kabath at Mar-Az-Zahran. The Prophet (ﷺ) said, "Collect the black ones, for they are better." Somebody said, (O Allah's Messenger (ﷺ)!) Have you ever shepherded sheep?" He said, "There has been no prophet but has shepherded them. "
ہم سے سعید بن عفیر نے بیان کیا ، کہا ہم سے ابن وہب نے بیان کیا ، ان سے یونس نے ، ان سے ابن شہاب نے بیان کیا انہیں ابوسلمہ نے خبر دی ، کہا کہ مجھے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما نے خبر دی ، انہوں نے بیان کیا کہ
ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مقام مرالظہران پر تھے ، ہم پیلو توڑ رہے تھے ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو خوب کالا ہو وہ تو ڑو کیونکہ وہ زیادہ لذیذ ہوتا ہے ۔ حضرت جابر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا آپ نے بکریاں چرائی ہیں ؟ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہاں اور کوئی نبی ایسا نہیں گزرا جس نے بکریاںنہ چرائی ہوں ۔
Narrated Suwaid bin An Nu`man:
We went out with Allah's Messenger (ﷺ) to Khaibar, and when we reached As-Sahba', the Prophet (ﷺ) asked for food, and he was offered nothing but Sawiq. We ate, and then Allah's Messenger (ﷺ) stood up for the prayer. He rinsed his mouth with water, and we too, rinsed our mouths.
ہم سے علی بن عبداللہ مدینی نے بیان کیا ، کہا ہم سے سفیان ثوری نے بیان کیا ، انہوں نے یحییٰ بن سعید سے سنا ، انہوں نے بشیر بن یسار سے ، ان سے سوید بن نعمان نے ، کہا کہ
ہم رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ خیبر روانہ ہوئے ۔ جب ہم مقام صہبا پر پہنچے تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے کھانا طلب فرمایا ۔ کھانے میں ستو کے سوا اور کوئی چیز نہیں لائی گئی ، پھر ہم نے کھانا کھایا اور آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کلی کر کے نماز کے لیے کھڑے ہو گئے ۔ ہم نے بھی کلی کی ۔
Narrated Suwaid رضی اللہ عنہ :
We went out with Allah's Messenger (ﷺ) to Khaibar. and when we reached As-Sahba', which (Yahya says) is one day' journey from Khaibar, the Prophet (ﷺ) asked for food, and he was offered nothing but Sawiq which we chewed and ate. Then the Prophet (ﷺ) asked for water and rinsed his mouth, and we too, rinsed our mouths along with him. He then led us in the Maghrib prayer without performing ablution again. Sufyan, the reporter says: It is as if you were hearing it from Yahya.
یحییٰ نے بیان کیا کہ میں نے بشیر سے سنا ، انہوں نے بیان کیا ہم سے سوید رضی اللہ عنہ نے بیان کیا
ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے ساتھ خیبر کی طرف نکلے جب ہم مقام صہبا پر پہنچے ۔ یحییٰ نے کہا کہ یہ جگہ خیبر سے ایک منزل کی دوری پر ہے تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے کھانا طلب فرمایا لیکن ستو کے سوا اور کوئی چیز نہیں لائی گئی ۔ ہم نے اسے آپ کے ساتھ کھایا پھر آپ نے ہمیں مغرب کی نماز پڑھائی اور نیا وضو نہیں کیا اور سفیان نے کہا گویا کہ تم یہ حدیث یحییٰ ہی سے سن رہے ہو ۔
Narrated Ibn `Abbas رضی اللہ عنہما :
The Prophet (ﷺ) said, 'When you eat, do not wipe your hands till you have licked it, or had it licked by somebody else."
ہم سے علی بن عبداللہ نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم سے سفیان نے بیان کیا ، ان سے عمرو بن دینار نے ، ان سے عطاء نے اور ان سے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب کوئی شخص کھانا کھائے تو ہاتھ چاٹنے یا کسی کو چٹانے سے پہلے ہاتھ نہ پونچھے ۔
Narrated Sa`id bin Al-Harith:
He asked Jabir bin `Abdullah رضی اللہ عنہ about performing ablution after taking a cooked meal. He replied, "It is not essential," and added, "We never used to get such kind of food during the lifetime of the Prophet except rarely; and if at all we got such a dish, we did not have any handkerchiefs to wipe our hands with except the palms of our hands, our forearms and our feet. We would perform the prayer thereafter with-out performing new ablution."
ہم سے ابراہیم بن المنذر نے بیان کیا ، کہا کہ مجھ سے محمد بن فلیح نے بیان کیا ، کہا کہ مجھ سے میرے والد نے ، ان سے سعیدبن الحارث نے اور ان سے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما نے کہ سعید بن الحارث
انہوں نے جابر رضی اللہ عنہ سے ایسی چیز کے ( کھانے کے بعد ) جو آگ پر رکھی ہو وضو کے متعلق پوچھا ( کہ کیا ایسی چیز کھانے سے وضو ٹوٹ جاتا ہے ؟ ) تو انہوں نے کہا کہ نہیں ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں ہمیں اس طرح کا کھانا ( جو پکا ہوا ہوتا ) بہت کم میسر آتا تھا اور اگر میسر آبھی جاتا تھا تو سوا ہماری ہتھیلیوں بازوؤں اور پاؤں کے کوئی رومال نہیں ہوتا تھا ( اور ہم انہیں سے اپنے ہاتھ صاف کر کے ) نماز پڑھ لیتے تھے اور وضو ۔
Narrated Abu Umama رضی اللہ عنہ :
Whenever the dining sheet of the Prophet (ﷺ) was taken away (i.e., whenever he finished his meal), he used to say: "Al-hamdu li l-lah kathiran taiyiban mubarakan fihi ghaira makfiy wala muWada` wala mustaghna'anhu Rabbuna."
ہم سے ابونعیم نے بیان کیا ، کہا ہم سے سفیان نے بیان کیا ، ان سے ثور نے ، ان سے خالد بن معدان نے اور ان سے حضرت ابوامامہ رضی اللہ عنہ نے کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے سے جب کھانا اٹھایا جاتا تو آپ یہ دعا پڑھتے ۔ تمام تعریفیں اللہ کے لیے ، بہت زیادہ پاکیزہ برکت والی ، ہم اس کھانے کا حق پوری طرح ادا نہ کر سکے اور یہ ہمیشہ کے لیے رخصت نہیں کیا گیا ہے ( اور یہ اس لیے کہا تاکہ ) اس سے ہم کو بےپرواہی کا خیال نہ ہو ، اے ہمارے رب ! “
Narrated Abu Umama رضی اللہ عنہ :
Whenever the Prophet (ﷺ) finished his meals (or when his dining sheet was taken away), he used to say. "Praise be to Allah Who has satisfied our needs and quenched our thirst. Your favor cannot by compensated or denied." Once he said, upraise be to You, O our Lord! Your favor cannot be compensated, nor can be left, nor can be dispensed with, O our Lord!"
ہم سے ابو عاصم نے بیان کیا ، ان سے ثور بن یزید نے بیان کیا ، ان سے خالدبن معدان نے اور ان سے حضرت ابوامامہ رضی اللہ عنہ نے کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب کھانے سے فارغ ہوتے اور ایک مرتبہ بیان کیا کہ جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اپنا دسترخوان اٹھاتے یہ دعا پڑھتے ” تمام تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیں جس نے ہماری کفایت کی اور ہمیں سیراب کیا ۔ ہم اس کھانے کا حق پوری طرح ادا نہ کر سکے ورنہ ہم اس نعمت کے منکر نہیں ہیں ۔ اور ایک مرتبہ فرمایا ” تیرے ہی لیے تمام تعریفیں ہیں اے ہمارے رب ! اس کا حق ادا نہیں کر سکے اور نہ یہ ہمیشہ کے لیے رخصت کیا گیا ہے ۔ ( یہ اس لیے کہا تاکہ ) اس سے ہم کو بے نیازی کا خیال نہ ہو ۔ اے ہمارے رب ! “
Narrated .Abu Huraira رضی اللہ عنہ :
The Prophet (ﷺ) said, "When your servant brings your food to you, if you do not ask him to join you, then at least ask him to take one or two handfuls, for he has suffered from its heat (while cooking it) and has taken pains to cook it nicely."
ہم سے حفص بن عمر نے بیان کیا ، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا ، ان سے محمد نے ، وہ زیاد کے صاحبزادے ہیں ، کہا کہ میں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا ، ان سے
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ، جب تم میں کسی شخص کا خادم اس کا کھانا لائے تو اگر وہ اسے اپنے ساتھ نہیں بٹھا سکتا تو کم از کم ایک یا دو لقمہ اس کھانے میں سے اسے کھلا دے ( کیونکہ ) اس نے ( پکاتے وقت ) اس کی گرمی اور تیاری کی مشقت برداشت کی ہے ۔
Narrated Abu Mas`ud Al-Ansari رضی اللہ عنہ :
There was an Ansari man nicknamed, Abu Shu'aib رضی اللہ عنہ , who had a slave who was a butcher. He came to the Prophet (ﷺ) while he was sitting with his companions and noticed the signs of hunger on the face of the Prophet (ﷺ) . So he went to his butcher slave and said, "Prepare for me a meal sufficient for five persons so that I may invite the Prophet (ﷺ) along with four other men." He had the meal prepared for him and invited him. A (sixth) man followed them. The Prophet (ﷺ) said, "O Abu Shu'aib! Another man has followed us. If you wish, you may invite him; and if you wish, you may refuse him." Abu Shu'aib رضی اللہ عنہ said, "No, I will admit him."
ہم سے عبداللہ بن ابی اسود نے بیان کیا ، کہا ہم سے ابواسامہ نے ، ان سے اعمش نے ، ان سے شقیق نے ، اور ان سے ابومسعود انصاری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا ، انہوں نے بیان کیا کہ
جماعت انصار کے ایک صحابی ابو شعیب رضی اللہ عنہ کے نام سے مشہور تھے ۔ ان کے پاس ایک غلام تھا جو گوشت بیچا کرتا تھا ۔ وہ صحابی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس میں حاضر ہوئے تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ کے ساتھ تشریف رکھتے تھے ۔ انہوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرہ مبارک سے فاقہ کا اندازہ لگا لیا ۔ چنانچہ وہ اپنے گوشت فروش غلام کے پاس گئے اور کہا کہ میرے لیے پانچ آدمیوں کا کھانا تیار کر دو ۔ میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو چار دوسرے آدمیوں کے ساتھ دعوت دوں گا ۔ غلام نے کھانا تیار کر دیا ۔ اس کے بعد ابو شعیب رضی اللہ عنہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں گئے اور آپ کو کھانے کی دعوت دی ۔ ان کے ساتھ ایک اور صاحب بھی چلنے لگے تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے ابو شعیب ! یہ صاحب بھی ہمارے ساتھ آ گئے ہیں ، اگر تم چاہو تو انہیں بھی اجازت دے دو اور اگر چا ہو تو چھوڑ دو ۔ انہوں نے عرض کیا نہیں بلکہ میں انہیں بھی اجازت دیتا ہوں ۔
Narrated `Amr bin Umaiyya:
That he saw Allah's Messenger (ﷺ) cutting a piece of mutton from its shoulder part he was carrying in his hand. When he was called for prayer, he put it down and the knife with which he was cutting it. Then he stood up and offered the prayer without performing new ablution.
ہم سے ابو الیمان نے بیان کیا ، کہا ہم کو شعیب نے خبر دی ، انہیں زہری نے اور لیث نے بیان کیا ، کہا انہوں نے کہ مجھ سے یونس نے بیان کیا ، ان سے ابن شہاب نے بیان کیا ، انہیں جعفر بن عمرو بن امیہ رضی اللہ عنہ نے خبر دی ، انہیں ان کے والد عمرو بن امیہ نے خبر دی کہ
انہوں نے دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ہاتھ سے بکری کے شانے کا گوشت کاٹ کاٹ کر کھا رہے تھے ، پھر آپ کو نماز کے لیے بلایا گیا تو آپ گوشت اور چھری جس سے آپ کاٹ رہے تھے ، چھوڑ کر کھڑے ہو گئے اور نماز پڑھائی اور اس نماز کے لیے نیا وضو نہیں کیا ۔
Narrated Anas bin Malik رضی اللہ عنہ :
The Prophet (ﷺ) said, If supper is served and the Iqama for (Isha) prayer is proclaimed, start with you supper first." Hadrat Ibn-e-Umer رضی اللہ عنہما has also reported likewise from the prophet ﷺ.
ہم سے معلی بن اسد نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم سے وہیب نے بیان کیا ، ان سے ایوب نے ، ان سے ابوقلابہ نے اور ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب رات کا کھانا سامنے رکھ دیا گیا ہو اور نماز بھی کھڑی ہو گئی ہو تو پہلے کھانا کھاؤ ۔ اور ایوب سے روایت ہے ، ان سے نافع نے ، ان سے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے اور ان سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی کے مطابق ۔
Narrated Nafi:
Once Ibn Umar رضی اللہ عنہما was taking his supper while he was listening to the recitation of (Quran by) the Imam (in the Isha prayer).
اور ایوب سے روایت ہے ، ان سے نافع نے کہ
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے ایک مرتبہ رات کا کھانا کھایا اور اس وقت آپ امام کی قرآت سن رہے تھے ۔
Narrated Aisha رضی اللہ عنہا :
The Prophet (ﷺ) said, "If the Iqama for (`Isha') prayer is proclaimed and supper is served, take your supper first." Wohaib and Yahya bin Saeed said: In Hisham's report, there is ''Supper is placed'' in place of ''Supper is ready''.
ہم سے محمد بن یوسف نے بیان کیا ، کہا ہم سے سفیان نے بیان کیا ، ان سے ہشام بن عروہ نے ، ان سے ان کے والد نے اور ان سے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب نماز کھڑی ہو چکے اور رات کا کھانا بھی سامنے ہو تو کھانا کھاؤ ۔ وہیب اور یحییٰ بن سعید نے بیان کیا ، ان سے ہشام نے کہ ” جب رات کا کھانا رکھا جا چکے ۔ “
Narrated Anas رضی اللہ عنہ :
I know (about) the Hijab (the order of veiling of women) more than anybody else. Ubai bin Ka`b رضی اللہ عنہ used to ask me about it. Allah's Messenger (ﷺ) became the bridegroom of Zainab bint Jahsh رضی اللہ عنہا whom he married at Medina. After the sun had risen high in the sky, the Prophet (ﷺ) invited the people to a meal. Allah's Apostle remained sitting and some people remained sitting with him after the other guests had left. Then Allah's Messenger (ﷺ) got up and went away, and I too, followed him till he reached the door of `Aisha's room. Then he thought that the people must have left the place by then, so he returned and I also returned with him. Behold, the people were still sitting at their places. So he went back again for the second time, and I went along with him too. When we reached the door of `Aisha's room, he returned and I also returned with him to see that the people had left. Thereupon the Prophet (ﷺ) hung a curtain between me and him and the Verse regarding the order for (veiling of women) Hijab was revealed.
مجھ سے عبداللہ بن محمد نے بیان کیا ، کہا ہم سے یعقوب بن ابراہیم نے بیان کیا ، کہا کہ مجھ سے میرے والد نے بیان کیا ، ان سے صالح نے ، ان سے ابن شہاب نے اور ان سے انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ
میں پردہ کے حکم کے بارے میں زیادہ جانتا ہوں ۔ ابی بن کعب رضی اللہ عنہ بھی مجھ سے اس کے بارے میں پوچھا کرتے تھے ۔ زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی شادی کا موقع تھا ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے نکاح مدینہ منورہ میں کیا تھا ۔ دن چڑھنے کے بعد حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کی کھانے کی دعوت کی تھی ۔ آپ بیٹھے ہوئے تھے اور آپ کے ساتھ بعض اور صحابہ بھی بیٹھے ہوئے تھے ۔ اس وقت تک دوسرے لوگ ( کھانے سے فارغ ہو کر ) جا چکے تھے ۔ آخر آپ بھی کھڑے ہو گئے اور چلتے رہے ۔ میں بھی آپ کے ساتھ چلتا رہا ۔ آپ عائشہ رضی اللہ عنہا کے حجرے پر پہنچے پھر آپ نے خیال کیا کہ وہ لوگ ( بھی جو کھانے کے بعد گھر بیٹھے رہ گئے تھے ) جا چکے ہوں گے ( اس لیے آپ واپس تشریف لائے ) میں بھی آپ کے ساتھ واپس آیا لیکن وہ لوگ اب بھی اسی جگہ بیٹھے ہوئے تھے ۔ آپ پھر واپس آ گئے ۔ میں بھی آپ کے ساتھ دوبارہ واپس آیا ۔ آپ عائشہ رضی اللہ عنہا کے حجرہ پر پہنچے پھر آپ وہاں سے واپس ہوئے ۔ میں بھی آپ کے ساتھ تھا ۔ اب وہ لوگ جا چکے تھے ۔ اس کے بعد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اور میرے درمیان پردہ لٹکایا اور پردہ کی آیت نازل ہوئی ۔