Back to Sahih Bukhari

Patients

كتاب المرضى

Chapter 76

Hadith 5640
Sahih
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ الْحَكَمُ بْنُ نَافِعٍ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، أَنَّ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ زَوْجَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ مَا مِنْ مُصِيبَةٍ تُصِيبُ الْمُسْلِمَ إِلاَّ كَفَّرَ اللَّهُ بِهَا عَنْهُ، حَتَّى الشَّوْكَةِ يُشَاكُهَا ‏"‏‏.‏
English

Narrated `Aisha (the wife of the Prophet) رضی اللہ عنہا :

Allah's Messenger (ﷺ) said, "No calamity befalls a Muslim but that Allah expiates some of his sins because of it, even though it were the prick he receives from a thorn."

Urdu

ہم سے ابو الیمان حکم بن نافع نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم کو شعیب نے خبر دی ، ان سے زہری نے بیان کیا ، انہوں نے کہا مجھ کو عروہ بن زبیر نے خبر دی اور ان سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ مطہرہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو مصیبت بھی کسی مسلمان کو پہنچتی ہے اللہ تعالیٰ اسے اس کے گناہ کا کفارہ کر دیتا ہے ( کسی مسلمان کے ) ایک کانٹا بھی اگر جسم کے کسی حصہ میں چبھ جائے ۔

Hadith 5641, 5642
Sahih
حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو، حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَلْحَلَةَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ مَا يُصِيبُ الْمُسْلِمَ مِنْ نَصَبٍ وَلاَ وَصَبٍ وَلاَ هَمٍّ وَلاَ حُزْنٍ وَلاَ أَذًى وَلاَ غَمٍّ حَتَّى الشَّوْكَةِ يُشَاكُهَا، إِلاَّ كَفَّرَ اللَّهُ بِهَا مِنْ خَطَايَاهُ ‏"‏‏.
English

Narrated Abu Sa`id Al-Khudri and Abu Huraira رضی اللہ عنہما :

The Prophet (ﷺ) said, "No fatigue, nor disease, nor sorrow, nor sadness, nor hurt, nor distress befalls a Muslim, even if it were the prick he receives from a thorn, but that Allah expiates some of his sins for that."

Urdu

ہم سے عبداللہ بن محمد نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم سے عبدالملک بن عمرو نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم سے زہیر بن محمد نے بیان کیا ، ان سے محمد بن عمرو بن حلحلہ نے ، ان سے عطاء بن یسار نے اور ان سے حضرت ابو سعید خدری اور حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مسلمان جب بھی کسی پریشانی ، بیماری ، رنج وملال ، تکلیف اور غم میں مبتلا ہو جاتا ہے یہاں تک کہ اگر اسے کوئی کانٹا بھی چبھ جائے تو اللہ تعالیٰ اسے اس کے گناہوں کا کفارہ بنا دیتا ہے ۔

Hadith 5643
Sahih
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ سَعْدٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَعْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ مَثَلُ الْمُؤْمِنِ كَالْخَامَةِ مِنَ الزَّرْعِ تُفَيِّئُهَا الرِّيحُ مَرَّةً، وَتَعْدِلُهَا مَرَّةً، وَمَثَلُ الْمُنَافِقِ كَالأَرْزَةِ لاَ تَزَالُ حَتَّى يَكُونَ انْجِعَافُهَا مَرَّةً وَاحِدَةً ‏"‏‏.‏ وَقَالَ زَكَرِيَّاءُ حَدَّثَنِي سَعْدٌ، حَدَّثَنَا ابْنُ كَعْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، كَعْبٍ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم‏.‏
English

Narrated Ka`b:

The Prophet (ﷺ) said, "The example of a believer is that of a fresh tender plant, which the wind bends lt sometimes and some other time it makes it straight. And the example of a hypocrite is that of a pine tree which keeps straight till once it is uprooted suddenly. Zakariyya, Sa'd, Ibn-e-Ka'b, Hadrat Ka'b bin Maalik رضی اللہ عنہ reported likewise from the prophet ﷺ.

Urdu

ہم سے مسدد نے بیان کیا ، کہا ہم سے یحییٰ نے بیان کیا ، ان سے سفیان نے ، ان سے سعد نے ، ان سے عبداللہ بن کعب نے اور ان سے ان کے والد نے کہ

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مومن کی مثال پودے کی سب سے پہلی نکلی ہوئی ہری شاخ جیسی ہے کہ ہوا اسے کبھی جھکا دیتی ہے اور کبھی برابر کر دیتی ہے اور منافق کی مثال صنوبر کے درخت جیسی ہے کہ وہ سیدھا ہی کھڑا رہتا ہے اور آخر ایک جھوکے میں کبھی اکھڑ ہی جاتا ہے ۔ اور زکریا نے بیان کیا کہ ہم سے سعد نے بیان کیا ، ان سے ابن کعب نے بیان کیا ، ان سے ان کے والد ماجد محترم المقام کعب رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہی بیان کیا ۔

Hadith 5644
Sahih
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ، قَالَ حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ فُلَيْحٍ، قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ هِلاَلِ بْنِ عَلِيٍّ، مِنْ بَنِي عَامِرِ بْنِ لُؤَىٍّ عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ مَثَلُ الْمُؤْمِنِ كَمَثَلِ الْخَامَةِ مِنَ الزَّرْعِ مِنْ حَيْثُ أَتَتْهَا الرِّيحُ كَفَأَتْهَا، فَإِذَا اعْتَدَلَتْ تَكَفَّأُ بِالْبَلاَءِ، وَالْفَاجِرُ كَالأَرْزَةِ صَمَّاءَ مُعْتَدِلَةً حَتَّى يَقْصِمَهَا اللَّهُ إِذَا شَاءَ ‏"‏‏.‏
English

Narrated Abu Huraira رضی اللہ عنہ :

Allah's Messenger (ﷺ) said, "The example of a believer is that of a fresh tender plant; from whatever direction the wind comes, it bends it, but when the wind becomes quiet, it becomes straight again. Similarly, a believer is afflicted with calamities (but he remains patient till Allah removes his difficulties.) And an impious wicked person is like a pine tree which keeps hard and straight till Allah cuts (breaks) it down when He wishes." (See Hadith No. 558, Vol. 9.)

Urdu

ہم سے ابراہیم بن المنذر نے بیان کیا ، کہا کہ مجھ سے محمد بن فلیح نے بیان کیا ، کہا کہ مجھ سے میرے والد نے بیان کیا ، ان سے بنی عامر بن لوی کے ایک مرد ہلال بن علی نے ، ان سے عطاء بن یسار نے اور ان سے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مومن کی مثال پودے کی پہلی نکلی ہوئی ہری شاخ جیسی ہے کہ جب بھی ہوا چلتی ہے اسے جھکا دیتی ہے پھر وہ سیدھا ہو کر مصیبت برداشت کرنے میں کامیاب ہو جاتا ہے اور بدکار کی مثال صنوبر کے درخت جیسی ہے کہ سخت ہوتا ہے اور سیدھا کھڑا رہتا ہے یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ جب چاہتا ہے اسے اکھاڑ کر پھینک دیتا ہے ۔

Hadith 5645
Sahih
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي صَعْصَعَةَ، أَنَّهُ قَالَ سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ يَسَارٍ أَبَا الْحُبَابِ، يَقُولُ سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ مَنْ يُرِدِ اللَّهُ بِهِ خَيْرًا يُصِبْ مِنْهُ ‏"‏‏.‏
English

Narrated Abu Huraira رضی اللہ عنہ :

Allah's Messenger (ﷺ) said, "If Allah wants to do good to somebody, He afflicts him with trials."

Urdu

ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا ، کہا ہم کو امام مالک نے خبر دی ، انہیں محمد بن عبداللہ بن عبدالرحمٰن بن ابی صعصعہ نے ، انہوں نے بیان کیا کہ میں نے سعید بن یسار ابو الحباب سے سنا ، انہوں نے بیان کیا کہ میں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا کہ

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ جس کے ساتھ خیر و بھلائی کرنا چاہتا ہے اسے بیماری کی تکالیف اور دیگر مصیبتوں میں مبتلا کر دیتا ہے ۔

Hadith 5646
Sahih
حَدَّثَنَا قَبِيصَةُ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الأَعْمَشِ،‏.‏ حَدَّثَنِي بِشْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ قَالَتْ مَا رَأَيْتُ أَحَدًا أَشَدَّ عَلَيْهِ الْوَجَعُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم‏.‏
English

Narrated Aisha رضی اللہ عنہا :

I never saw anybody suffering so much from sickness as Allah's Messenger (ﷺ).

Urdu

ہم سے قبیصہ نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم سے سفیان سے بیان کیا ، ان سے اعمش نے ( دوسری سند ) اور حضرت امام بخاری نے کہا کہ مجھ سے بشر بن محمد نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم کو عبداللہ نے خبر دی ، کہا ہم کو شعبہ نے خبر دی ، انہیں اعمش نے ، انہیں ابووائل نے ، انہیں مسروق نے اور ان سے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ

میں نے ( مرض وفات کی تکلیف ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ اور کسی میں نہیں دیکھی ۔

Hadith 5647
Sahih
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ، عَنِ الْحَارِثِ بْنِ سُوَيْدٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ـ رضى الله عنه ـ أَتَيْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فِي مَرَضِهِ وَهْوَ يُوعَكُ وَعْكًا شَدِيدًا، وَقُلْتُ إِنَّكَ لَتُوعَكُ وَعْكًا شَدِيدًا‏.‏ قُلْتُ إِنَّ ذَاكَ بِأَنَّ لَكَ أَجْرَيْنِ‏.‏ قَالَ ‏ "‏ أَجَلْ مَا مِنْ مُسْلِمٍ يُصِيبُهُ أَذًى، إِلاَّ حَاتَّ اللَّهُ عَنْهُ خَطَايَاهُ، كَمَا تَحَاتُّ وَرَقُ الشَّجَرِ ‏"‏‏.‏
English

Narrated `Abdullah رضی اللہ عنہما :

I visited the Prophet (ﷺ) during his ailments and he was suffering from a high fever. I said, "You have a high fever. Is it because you will have a double reward for it?" He said, "Yes, for no Muslim is afflicted with any harm but that Allah will remove his sins as the leaves of a tree fall down."

Urdu

ہم سے محمد بن یوسف نے بیان کیا ، کہا ہم سے سفیان ثوری نے بیان کیا ، ان سے اعمش نے ، ان سے ابراہیم تیمی نے ، ان سے حارث بن سوید نے اور ان سے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہما نے کہ

میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آپ کے مرض کے زمانہ میں حاضر ہوا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت بڑے تیز بخار میں تھے ۔ میں نے عرض کیا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو بڑا تیز بخار ہے ۔ میں نے یہ بھی کہا کہ یہ بخار آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو اس لیے اتنا تیز ہے کہ آپ کا ثواب بھی دو گنا ہے آپ نے فرمایا کہ ہاں جو مسلمان کسی بھی تکلیف میں گرفتار ہوتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کی وجہ سے اس کے گناہ اس طرح جھاڑ دیتا ہے جیسے درخت کے پتے جھڑ جاتے ہیں ۔

Hadith 5648
Sahih
حَدَّثَنَا عَبْدَانُ، عَنْ أَبِي حَمْزَةَ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ، عَنِ الْحَارِثِ بْنِ سُوَيْدٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ دَخَلْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَهْوَ يُوعَكُ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّكَ تُوعَكُ وَعْكًا شَدِيدًا‏.‏ قَالَ ‏"‏ أَجَلْ إِنِّي أُوعَكُ كَمَا يُوعَكُ رَجُلاَنِ مِنْكُمْ ‏"‏‏.‏ قُلْتُ ذَلِكَ أَنَّ لَكَ أَجْرَيْنِ قَالَ ‏"‏ أَجَلْ ذَلِكَ كَذَلِكَ، مَا مِنْ مُسْلِمٍ يُصِيبُهُ أَذًى شَوْكَةٌ فَمَا فَوْقَهَا، إِلاَّ كَفَّرَ اللَّهُ بِهَا سَيِّئَاتِهِ، كَمَا تَحُطُّ الشَّجَرَةُ وَرَقَهَا ‏"‏‏.‏
English

Narrated `Abdullah رضی اللہ عنہما :

I visited Allah's Messenger (ﷺ) while he was suffering from a high fever. I said, "O Allah's Messenger (ﷺ)! You have a high fever." He said, "Yes, I have as much fever as two men of you." I said, "Is it because you will have a double reward?" He said, "Yes, it is so. No Muslim is afflicted with any harm, even if it were the prick of a thorn, but that Allah expiates his sins because of that, as a tree sheds its leaves."

Urdu

ہم سے عبدان نے بیان کیا ، ان سے ابوحمزہ نے بیان کیا ، ان سے اعمش نے ، ان سے ابراہیم تیمی نے ، ان سے حارث بن سوید نے اور ان سے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ

میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا آپ کو شدید بخار تھا میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! آپ کو بہت تیز بخار ہے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں مجھے تنہا ایسا بخار ہوتا ہے جتنا تم میں کے دو آدمی کو ہوتا ہے میں نے عرض کیا یہ اس لیے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ثواب بھی دو گنا ہے ؟ فرمایا کہ ہاں یہی بات ہے ، مسلمان کو جو بھی تکلیف پہنچتی ہے کاٹنا ہو یا اس سے زیادہ تکلیف دینے والی کوئی چیز تو جیسے درخت اپنے پتوں کو گرا تا ہے اسی طرح اللہ پاک اس تکلیف کو اس کے گناہوں کا کفارہ بنا دیتا ہے ۔

Hadith 5649
Sahih
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ أَبِي مُوسَى الأَشْعَرِيِّ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ أَطْعِمُوا الْجَائِعَ، وَعُودُوا الْمَرِيضَ، وَفُكُّوا الْعَانِيَ ‏"‏‏.‏
English

Narrated Abu Muisa Al-Ash`ari رضی اللہ عنہ :

The Prophet (ﷺ) said, "Feed the hungry, visit the sick, and set free the captives."

Urdu

ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا ، کہا ہم سے ابو عوانہ نے بیان کیا ، ان سے منصور نے ، ان سے ابووائل نے اور ان سے حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بھوکے کو کھانا کھلاؤ اور مریض کی عیادت یعنی مزاج پرسی کرو اور قیدی کو چھڑاؤ ۔

Hadith 5650
Sahih
حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ أَخْبَرَنِي أَشْعَثُ بْنُ سُلَيْمٍ، قَالَ سَمِعْتُ مُعَاوِيَةَ بْنَ سُوَيْدِ بْنِ مُقَرِّنٍ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَ أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِسَبْعٍ، وَنَهَانَا عَنْ سَبْعٍ، نَهَانَا عَنْ خَاتَمِ الذَّهَبِ، وَلُبْسِ الْحَرِيرِ، وَالدِّيبَاجِ، وَالإِسْتَبْرَقِ، وَعَنِ الْقَسِّيِّ، وَالْمِيثَرَةِ، وَأَمَرَنَا أَنْ نَتْبَعَ الْجَنَائِزَ، وَنَعُودَ الْمَرِيضَ، وَنُفْشِيَ السَّلاَمَ‏.‏
English

Narrated Al-Bara bin Azib رضی اللہ عنہ :

Allah's Messenger (ﷺ) ordered us to do seven things and forbade us to do seven other things. He forbade us to wear gold rings, silk, Dibaj, Istabriq, Qissy, and Maithara; and ordered us to accompany funeral processions, visit the sick and greet everybody. (See Hadith No. 104)

Urdu

ہم سے حفص بن عمر نے بیان کیا ، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا ، کہا کہ مجھے اشعث بن سلیم نے خبر دی ، کہا کہ میں نے معاویہ بن سوید بن مقرن سے سنا ، ان سے حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں سات باتوں کا حکم دیا تھا اور سات باتوں سے منع فرمایا تھا ۔ ہمیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے سونے کی انگوٹھی ، ریشم ، دیبا ، استبرق ( ریشمی کپڑے ) پہننے سے اور قسی اور مثیرہ ( ریشمی ) کپڑوں کی دیگر جملہ قسمیں پہننے سے منع فرمایا تھا اور آپ نے ہمیں یہ حکم دیا تھا کہ ہم جنازہ کے پیچھے چلیں ، مریض کی مزاج پرسی کریں اور سلام کو پھیلائیں ۔

Hadith 5651
Sahih
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ ابْنِ الْمُنْكَدِرِ، سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ـ رضى الله عنهما ـ يَقُولُ مَرِضْتُ مَرَضًا، فَأَتَانِي النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يَعُودُنِي وَأَبُو بَكْرٍ وَهُمَا مَاشِيَانِ، فَوَجَدَانِي أُغْمِيَ عَلَىَّ، فَتَوَضَّأَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ثُمَّ صَبَّ وَضُوءَهُ عَلَىَّ، فَأَفَقْتُ فَإِذَا النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ كَيْفَ أَصْنَعُ فِي مَالِي كَيْفَ أَقْضِي فِي مَالِي فَلَمْ يُجِبْنِي بِشَىْءٍ حَتَّى نَزَلَتْ آيَةُ الْمِيرَاثِ‏.‏
English

Narrated Jabir bin `Abdullah رضی اللہ عنہما :

Once I fell ill. The Prophet (ﷺ) and Abu Bakr رضی اللہ عنہ came walking to pay me a visit and found me unconscious. The Prophet (ﷺ) performed ablution and then poured the remaining water on me, and I came to my senses to see the Prophet. I said, "O Allah's Messenger (ﷺ)! What shall I do with my property? How shall I dispose of (distribute) my property?" He did not reply till the Verse of inheritance was revealed.

Urdu

ہم سے عبداللہ بن محمد نے بیان کیا ، کہا ہم سے سفیان نے بیان کیا ، ان سے ابن المنکدر نے ، انہوں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہماسے سنا ، انہوں نے بیان کیا کہ

میں ایک مرتبہ بیمار پڑا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ پیدل میری عیادت کوتشریف لائے ان بزرگوں نے دیکھا کہ مجھ پر بے ہوشی غالب ہے ۔ چنانچہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا اور اپنے وضو کا پانی مجھ پر چھڑکا ، اس سے مجھے ہوش آ گیا تو میں نے دیکھا کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف رکھتے ہیں ، میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! میں اپنے مال میں کیا کروں کس طرح اس کا فیصلہ کروں ؟ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے کوئی جواب نہیں دیا ۔ یہاں تک کہ میراث کی آیت نازل ہوئی ۔

Hadith 5652
Sahih
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ عِمْرَانَ أَبِي بَكْرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي عَطَاءُ بْنُ أَبِي رَبَاحٍ ، قَالَ : قَالَ لِي ابْنُ عَبَّاسٍ أَلَا أُرِيكَ امْرَأَةً مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ ؟ ، قُلْتُ : بَلَى ، قَالَ : هَذِهِ الْمَرْأَةُ السَّوْدَاءُ أَتَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَتْ : إِنِّي أُصْرَعُ ، وَإِنِّي أَتَكَشَّفُ فَادْعُ اللَّهَ لِي ، قَالَ : إِنْ شِئْتِ صَبَرْتِ وَلَكِ الْجَنَّةُ ، وَإِنْ شِئْتِ دَعَوْتُ اللَّهَ أَنْ يُعَافِيَكِ ، فَقَالَتْ : أَصْبِرُ ، فَقَالَتْ : إِنِّي أَتَكَشَّفُ ، فَادْعُ اللَّهَ لِي أَنْ لَا أَتَكَشَّفَ ، فَدَعَا لَهَا.
English

Narrated 'Ata bin Abi Rabah:

Ibn `Abbas رضی اللہ عنہما said to me, "Shall I show you a woman of the people of Paradise?" I said, "Yes." He said, "This black lady came to the Prophet (ﷺ) and said, 'I get attacks of epilepsy and my body becomes uncovered; please invoke Allah for me.' The Prophet (ﷺ) said (to her), 'If you wish, be patient and you will have (enter) Paradise; and if you wish, I will invoke Allah to cure you.' She said, 'I will remain patient,' and added, 'but I become uncovered, so please invoke Allah for me that I may not become uncovered.' So he invoked Allah for her."

Urdu

ہم سے مسدد نے بیان کیا ، کہا ہم سے یحییٰ بن ابی کثیر نے بیان کیا ، ان سے عمران ابوبکرنے بیان کیا ، ان سے عطاء بن ابی رباح نے بیان کیا ، کہا کہ

مجھ سے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا ، تمہیں میں ایک جنتی عورت کو نہ دکھا دوں ؟ میں نے عرض کیا کہ ضرور دکھائیں ، کہا کہ ایک سیاہ عورت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آئی اور کہا کہ مجھے مرگی آتی ہے اور اس کی وجہ سے میرا ستر کھل جاتا ہے ۔ میرے لیے اللہ تعالیٰ سے دعا کر دیجئیے ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر تو چاہے تو صبر کر تجھے جنت ملے گی اور اگر چاہے تو میں تیرے لیے اللہ سے اس مرض سے نجات کی دعا کر دوں ۔ اس نے عرض کیا کہ میں صبر کروں گی پھر اس نے عرض کیا کہ مرگی کے وقت میرا ستر کھل جاتا ہے ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالیٰ سے اس کی دعا کر دیں کہ ستر نہ کھلا کرے ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے لیے دعا فرمائی۔

Hadith 5653
Sahih
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، قَالَ حَدَّثَنِي ابْنُ الْهَادِ، عَنْ عَمْرٍو، مَوْلَى الْمُطَّلِبِ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ‏ "‏ إِنَّ اللَّهَ قَالَ إِذَا ابْتَلَيْتُ عَبْدِي بِحَبِيبَتَيْهِ فَصَبَرَ عَوَّضْتُهُ مِنْهُمَا الْجَنَّةَ ‏"‏‏.‏ يُرِيدُ عَيْنَيْهِ‏.‏ تَابَعَهُ أَشْعَثُ بْنُ جَابِرٍ وَأَبُو ظِلاَلٍ عَنْ أَنَسٍ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم‏.‏
English

Narrated Anas bin Malik رضی اللہ عنہ :

I heard Allah's Messenger (ﷺ) saying, "Allah said, 'If I deprive my slave of his two beloved things (i.e., his eyes) and he remains patient, I will let him enter Paradise in compensation for them.'"

Urdu

ہم سے عبداللہ بن یوسف تینسی نے بیان کیا ، کہا ہم سے لیث بن سعد نے بیان کیا ، کہا کہ مجھ سے یزید بن عبداللہ بن ہاد نے بیان کیا ، ان سے مطلب بن عبداللہ بن جذب کے غلام عمرو نے اور ان سے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ

میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ، آپ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کاارشاد ہے کہ جب میں اپنے کسی بندہ کو اس کے دو محبوب اعضاء ( آنکھوں ) کے بارے میں آزماتا ہوں ( یعنی نابینا کر دیتا ہوں ) اور وہ اس پر صبر کرتا ہے تو اس کے بدلے میں اسے جنت دیتا ہوں ۔

Hadith 5654
Sahih
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّهَا قَالَتْ لَمَّا قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم الْمَدِينَةَ وُعِكَ أَبُو بَكْرٍ وَبِلاَلٌ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَتْ فَدَخَلْتُ عَلَيْهِمَا قُلْتُ يَا أَبَتِ كَيْفَ تَجِدُكَ وَيَا بِلاَلُ كَيْفَ تَجِدُكَ قَالَتْ وَكَانَ أَبُو بَكْرٍ إِذَا أَخَذَتْهُ الْحُمَّى يَقُولُ كُلُّ امْرِئٍ مُصَبَّحٌ فِي أَهْلِهِ وَالْمَوْتُ أَدْنَى مِنْ شِرَاكِ نَعْلِهِ وَكَانَ بِلاَلٌ إِذَا أَقْلَعَتْ عَنْهُ يَقُولُ أَلاَ لَيْتَ شِعْرِي هَلْ أَبِيتَنَّ لَيْلَةً بَوَادٍ وَحَوْلِي إِذْخِرٌ وَجَلِيلُ وَهَلْ أَرِدَنْ يَوْمًا مِيَاهَ مِجَنَّةٍ وَهَلْ تَبْدُوَنْ لِي شَامَةٌ وَطَفِيلُ قَالَتْ عَائِشَةُ فَجِئْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَأَخْبَرْتُهُ فَقَالَ ‏ "‏ اللَّهُمَّ حَبِّبْ إِلَيْنَا الْمَدِينَةَ كَحُبِّنَا مَكَّةَ أَوْ أَشَدَّ، اللَّهُمَّ وَصَحِّحْهَا، وَبَارِكْ لَنَا فِي مُدِّهَا وَصَاعِهَا، وَانْقُلْ حُمَّاهَا فَاجْعَلْهَا بِالْجُحْفَةِ ‏"‏‏.‏
English

Narrated `Aisha رضی اللہ عنہا :

When Allah's Messenger (ﷺ) emigrated to Medina, Abu Bakr رضی اللہ عنہ and Bilal رضی اللہ عنہ got a fever. I entered upon them and asked, "O my father! How are you? O Bilal! How are you?" Whenever fever attacked Abu Bakr رضی اللہ عنہ , he would recite the following poetic verses: 'Everybody is staying alive among his people, yet death is nearer to him than his shoe laces." And whenever the fever deserted Bilal, he would recite (two poetic lines): 'Would that I could stay overnight in a valley wherein I would be surrounded by Idhkhir and Jalil (two kinds of good smelling grass). Would that one day I would drink of the water of Majinna and would that Shama and Tafil (two mountains at Mecca) would appear to me.' Then I came and informed Allah's Messenger (ﷺ) about that, whereupon he said, "O Allah! Make us love Medina as much or more than we love Mecca. O Allah! Make it healthy and bless its Mudd and Sa for us, and take away its fever and put it in Al Juhfa."

Urdu

ہم سے قتیبہ نے بیان کیا ، ان سے امام مالک نے ، ان سے ہشام بن عروہ نے ، ان سے ان کے والد نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ

جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہجرت کر کے مدینہ تشریف لائے تو ابوبکر رضی اللہ عنہ اور بلال رضی اللہ عنہ کو بخار ہو گیا ۔ بیان کیا کہ پھر میں ان کے پاس ( عیادت کے لیے ) گئی اور پوچھا ، محترم والد بزرگوار آپ کا مزاج کیسا ہے ؟ بلال رضی اللہ عنہ سے بھی پوچھا کہ آپ کا کیا حال ہے ؟ بیان کیا کہ جب حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کو بخار ہوا تو وہ یہ شعر پڑھا کرتے تھے ” ہر شخص اپنے گھر والوں میں صبح کرتا ہے اور موت اس کے تسمے سے بھی زیادہ قریب ہے ۔ “ اور بلال رضی اللہ عنہ کو جب افاقہ ہوتا تو یہ شعر پڑھتے تھے ” کاش مجھے معلوم ہوتا کہ کیا پھر ایک رات وادی میں گزار سکوں گا اور میرے چاروں طرف اذخر اور جلیل ( مکہ مکرمہ کی گھاس ) کے جنگل ہوں گے اور کیا میں کبھی مجنہ ( مکہ سے چند میل کے فاصلہ پر ایک بازار ) کے پانی پر اترو ں گا اور کیا پھر کبھی شامہ اور طفیل ( مکہ کے قریب دو پہاڑوں ) کو میں اپنے سامنے دیکھ سکوں گا ۔ ” حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ پھر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت مےںحاضر ہوئی اور آپ کو اس کی اطلاع دی آپ نے دعا فرمائی کہ اے اللہ ! ہمارے دل میں مدینہ کی محبت بھی اتنی ہی کر دے جتنی مکہ کی محبت ہے بلکہ اس سے بھی زیادہ اور اس کی آب و ہوا کو ہمارے موافق کر دے اور ہمارے لیے اس کے مد اور صاع میں برکت عطا فرما ، اللہ اس کا بخار کہیں اور جگہ منتقل کر دے اسے مقام جحفہ میں بھیج دے ۔

Hadith 5655
Sahih
حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ أَخْبَرَنِي عَاصِمٌ، قَالَ سَمِعْتُ أَبَا عُثْمَانَ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ ـ رضى الله عنهما ـ أَنَّ ابْنَةً لِلنَّبِيِّ، صلى الله عليه وسلم أَرْسَلَتْ إِلَيْهِ وَهْوَ مَعَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَسَعْدٍ وَأُبَىٍّ نَحْسِبُ أَنَّ ابْنَتِي قَدْ حُضِرَتْ فَاشْهَدْنَا فَأَرْسَلَ إِلَيْهَا السَّلاَمَ وَيَقُولُ ‏"‏ إِنَّ لِلَّهِ مَا أَخَذَ وَمَا أَعْطَى وَكُلُّ شَىْءٍ عِنْدَهُ مُسَمًّى فَلْتَحْتَسِبْ وَلْتَصْبِرْ ‏"‏‏.‏ فَأَرْسَلَتْ تُقْسِمُ عَلَيْهِ، فَقَامَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم وَقُمْنَا، فَرُفِعَ الصَّبِيُّ فِي حَجْرِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَنَفْسُهُ تَقَعْقَعُ فَفَاضَتْ عَيْنَا النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ لَهُ سَعْدٌ مَا هَذَا يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ ‏"‏ هَذِهِ رَحْمَةٌ وَضَعَهَا اللَّهُ فِي قُلُوبِ مَنْ شَاءَ مِنْ عِبَادِهِ، وَلاَ يَرْحَمُ اللَّهُ مِنْ عِبَادِهِ إِلاَّ الرُّحَمَاءَ ‏"‏‏.‏
English

Narrated Usama bin Zaid رضی اللہ عنہما :

Sa`d رضی اللہ عنہ and Ubai bin Ka`b رضی اللہ عنہ were with the Prophet (ﷺ) a daughter of the Prophet sent a message to him, saying. 'My daughter is dying; please come to us." The Prophet (ﷺ) sent her his greetings and added "It is for Allah what He takes, and what He gives; and everything before His sight has a limited period. So she should hope for Allah's reward and remain patient." She again sent a message, beseeching him by Allah, to come. So the Prophet (ﷺ) got up. and so did we (and went there). The child was placed on his lap while his breath was irregular. Tears flowed from the eyes of the Prophet. Sa`d said to him, "What is this, O Allah's Messenger (ﷺ)?" He said. "This Is Mercy which Allah has embedded in the hearts of whomever He wished of His slaves. And Allah does not bestow His Mercy, except on the merciful among His slaves. (See Hadith No. 373 Vol. 2)

Urdu

ہم سے حجاج بن منہال نے بیان کیا ، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا ، کہا کہ مجھے عاصم نے خبر دی ، کہا کہ میں نے ابوعثمان سے سنا اور انہوں نے اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما سے کہ

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک صاحبزادی ( حضرت زینب رضی اللہ عنہا ) نے آپ کو کہلوا بھیجا ۔ اس وقت حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حضرت سعد رضی اللہ عنہ اور ہمارا خیال ہے کہ حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ تھے کہ میری بچی بستر مرگ پر پڑی ہے اس لیے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے یہاں تشریف لائیں ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں سلام کہلوایا اور فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کو اختیار ہے جو چاہے دے اور جو چاہے لے لے ہر چیز اس کے یہاں متعین ومعلوم ہے ۔ اس لیے اللہ سے اس مصبیت پر اجر کی امیدوار رہو اور صبر کرو ۔ صاحبزادی نے پھر دوبارہ قسم دے کر ایک آدمی بلانے کو بھیجا ۔ چنانچہ آپ کھڑے ہوئے اور ہم بھی آپ کے ساتھ کھڑے ہو گئے پھر بچی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی گود میں اٹھا کر رکھی گئی اور وہ جانکنی کے عالم میں پریشان تھی ۔ آپ کی آنکھوں میں آنسو آ گئے ۔ اس پر حضرت سعد رضی اللہ عنہ نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ ( صلی اللہ علیہ وسلم ) ! یہ کیا ہے ؟ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ رحمت ہے ۔ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں میں سے جس کے دل میں چاہتا ہے رکھتا ہے اور اللہ تعالیٰ بھی اپنے انہیں بندوں پر رحم کرتا ہے جو خود بھی رحم کرنے والے ہوتے ہیں ۔

Hadith 5656
Sahih
حَدَّثَنَا مُعَلَّى بْنُ أَسَدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُخْتَارٍ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ـ رضى الله عنهما ـ أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم دَخَلَ عَلَى أَعْرَابِيٍّ يَعُودُهُ ـ قَالَ ـ وَكَانَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم إِذَا دَخَلَ عَلَى مَرِيضٍ يَعُودُهُ فَقَالَ لَهُ ‏"‏ لاَ بَأْسَ طَهُورٌ إِنْ شَاءَ اللَّهُ ‏"‏‏.‏ قَالَ قُلْتَ طَهُورٌ، كَلاَّ بَلْ هِيَ حُمَّى تَفُورُ ـ أَوْ تَثُورُ ـ عَلَى شَيْخٍ كَبِيرٍ، تُزِيرُهُ الْقُبُورَ‏.‏ فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ فَنَعَمْ إِذًا ‏"‏‏.‏
English

Narrated Ibn `Abbas رضی اللہ عنہما :

The Prophet (ﷺ) went to visit a sick bedouin. Whenever the Prophet (ﷺ) went to a patient, he used to say to him, "Don't worry, if Allah will, it will be expiation (for your sins):" The bedouin said, "You say expiation? No, it is but a fever that is boiling or harassing an old man and will lead him to his grave without his will." The Prophet (ﷺ) said, "Then, yes, it is so."

Urdu

ہم سے معلی بن اسد نے بیان کیا ، کہا ہم سے عبدالعزیز بن مختار نے بیان کیا ، کہا ہم سے خالد نے بیان کیا ، ان سے عکرمہ نے اور ان سے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہ

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک دیہاتی کے پاس اس کی عیادت کے لیے تشریف لے گئے ۔ راوی نے بیان کیا کہ جب حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کسی کی عیادت کو تشریف لے جاتے تو مریض سے فرماتے کوئی فکر کی بات نہیں ۔ انشاءاللہ یہ مرض گناہوں سے پاک کرنے والا ہے لیکن اس دیہاتی نے آپ کے ان مبارک کلمات کے جواب میں کہا کہ آپ کہتے ہیں کہ یہ پاک کرنے والا ہے ہرگز نہیں بلکہ یہ بخار ایک بوڑھے پر غالب آ گیا ہے اور اسے قبر تک پہنچا کے رہے گا ۔ آپ نے فرمایا کہ پھر ایسا ہی ہو گا ۔

Hadith 5657
Sahih
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ ـ رضى الله عنه ـ أَنَّ غُلاَمًا، لِيَهُودَ كَانَ يَخْدُمُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَمَرِضَ‏.‏ فَأَتَاهُ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يَعُودُهُ فَقَالَ ‏ "‏ أَسْلِمْ ‏"‏‏.‏ فَأَسْلَمَ‏.‏ وَقَالَ سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ عَنْ أَبِيهِ، لَمَّا حُضِرَ أَبُو طَالِبٍ جَاءَهُ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم‏.‏
English

Narrated Anas رضی اللہ عنہ :

A Jewish boy used to serve the Prophet (ﷺ) and became ill. The Prophet (ﷺ) went to pay him a visit and said to him, "Embrace Islam," and he did embrace Islam. Al-Musaiyab said: When Abu Talib was on his deathbed, the Prophet (ﷺ) visited him.

Urdu

ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا ، کہا ہم سے حماد بن زید نے بیان کیا ، ان سے ثابت نے اور ان سے حضرت انس رضی اللہ عنہ نے کہ

ایک یہودی لڑکا ( عبدوس نامی ) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت کیا کرتا تھا وہ بیمار ہوا تو حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس کی مزاج پرسی کے لیے تشریف لائے ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اسلام قبول کر لے چنانچہ اس نے اسلام قبول کر لیا اور سعیدبن مسیب نے بیان کیااپنے والد سے کہ جب ابوطالب کی وفات کا وقت قریب ہوا تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس مزاج پرسی کے لیے تشریف لے گئے ۔

Hadith 5658
Sahih
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا يَحْيَى، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، قَالَ أَخْبَرَنِي أَبِي، عَنْ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم دَخَلَ عَلَيْهِ نَاسٌ يَعُودُونَهُ فِي مَرَضِهِ فَصَلَّى بِهِمْ جَالِسًا فَجَعَلُوا يُصَلُّونَ قِيَامًا، فَأَشَارَ إِلَيْهِمِ اجْلِسُوا، فَلَمَّا فَرَغَ قَالَ ‏ "‏ إِنَّ الإِمَامَ لَيُؤْتَمُّ بِهِ، فَإِذَا رَكَعَ فَارْكَعُوا وَإِذَا رَفَعَ فَارْفَعُوا، وَإِنْ صَلَّى جَالِسًا فَصَلُّوا جُلُوسًا ‏"‏‏.‏ قَالَ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ قَالَ الْحُمَيْدِيُّ هَذَا الْحَدِيثُ مَنْسُوخٌ لأَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم آخِرَ مَا صَلَّى صَلَّى قَاعِدًا وَالنَّاسُ خَلْفَهُ قِيَامٌ‏.‏
English

Narrated `Aisha رضی اللہ عنہا :

During the ailment of the Prophet (ﷺ) some people came to visits him. He led them in prayer while sitting. but they prayed standing, so he waved to them to sit down. When he had finished the prayer, he said, "An Imam is to be followed, so when he bows, you should bow. and when he raises his head, you should raise yours, and if he prays sitting. you should pray sitting." Abu `Abdullah said Al-Humaidi said, (The order of ) "This narration has been abrogated by the last action of the Prophet (ﷺ) as he led the prayer sitting, while the people prayed standing behind him.'

Urdu

ہم سے محمد بن مثنیٰ نے بیان کیا ، کہا ہم سے یحییٰ بن ابی کثیر نے بیان کیا ، کہا ہم سے ہشام بن عروہ نے بیان کیا ، کہا کہ مجھے میرے والد نے خبر دی اور انہیں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہ

کچھ صحابہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی آپ کے ایک مرض کے دوران مزاج پرسی کرنے آئے ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں بیٹھ کر نماز پڑھائی لیکن صحابہ کھڑے ہو کر ہی نماز پڑھ رہے تھے ۔ اس لیے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں بیٹھنے کا اشارہ کیا ۔ نماز سے فارغ ہونے کے بعد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ امام اس لیے ہے کہ اس کی اقتداء کی جائے پس جب وہ رکوع کرے تو تم بھی رکوع کرو ، جب وہ سر اٹھائے تو تم ( مقتدی ) بھی اٹھا ؤ اور اگر وہ بیٹھ کر نماز پڑھے تو تم بھی بیٹھ کر پڑھو ۔ ابوعبداللہ حضرت امام بخاری نے کہا کہ مطابق قول حضرت حمیدی یہ حدیث منسوخ ہے کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے آخر ( مرض الوفات ) میں نماز بیٹھ کر پڑھائی اور لوگ آپ کے پیچھے کھڑے ہو کر اقتداء کر رہے تھے ۔

Hadith 5659
Sahih
حَدَّثَنَا الْمَكِّيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَخْبَرَنَا الْجُعَيْدُ، عَنْ عَائِشَةَ بِنْتِ سَعْدٍ، أَنَّ أَبَاهَا، قَالَ تَشَكَّيْتُ بِمَكَّةَ شَكْوًا شَدِيدًا، فَجَاءَنِي النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يَعُودُنِي، فَقُلْتُ يَا نَبِيَّ اللَّهِ إِنِّي أَتْرُكُ مَالاً وَإِنِّي لَمْ أَتْرُكْ إِلاَّ ابْنَةً وَاحِدَةً، فَأُوصِي بِثُلُثَىْ مَالِي وَأَتْرُكُ الثُّلُثَ فَقَالَ ‏"‏ لاَ ‏"‏‏.‏ قُلْتُ فَأُوصِي بِالنِّصْفِ وَأَتْرُكُ النِّصْفَ قَالَ ‏"‏ لاَ ‏"‏‏.‏ قُلْتُ فَأُوصِي بِالثُّلُثِ وَأَتْرُكُ لَهَا الثُّلُثَيْنِ قَالَ ‏"‏ الثُّلُثُ وَالثُّلُثُ كَثِيرٌ ‏"‏‏.‏ ثُمَّ وَضَعَ يَدَهُ عَلَى جَبْهَتِهِ، ثُمَّ مَسَحَ يَدَهُ عَلَى وَجْهِي وَبَطْنِي ثُمَّ قَالَ ‏"‏ اللَّهُمَّ اشْفِ سَعْدًا وَأَتْمِمْ لَهُ هِجْرَتَهُ ‏"‏‏.‏ فَمَا زِلْتُ أَجِدُ بَرْدَهُ عَلَى كَبِدِي فِيمَا يُخَالُ إِلَىَّ حَتَّى السَّاعَةِ‏.‏
English

Narrated Sa`d رضی اللہ عنہ :

I became seriously ill at Mecca and the Prophet (ﷺ) came to visit me. I said, "O Allah's Messenger (ﷺ)! I shall leave behind me a good fortune, but my heir is my only daughter; shall I bequeath two third of my property to be spent in charity and leave one third (for my heir)?" He said, "No." I said, "Shall I bequeath half and leave half?" He said, "No." I said, "Shall I bequeath one third and leave two thirds?" He said, "One third is alright, though even one third is too much." Then he placed his hand on his forehead and passed it over my face and `Abdomen and said, "O Allah! Cure Sa`d رضی اللہ عنہ and complete his emigration." I feel as if I have been feeling the coldness of his hand on my liver ever since.

Urdu

ہم سے مکی بن ابراہیم نے بیان کیا ، کہا ہم کوجعید بن عبدالرحمٰن نے خبر دی ، انہیں عائشہ بنت سعد نے کہ ان کے والد ( حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ ) نے بیان کیا کہ

میں مکہ میں بہت سخت بیمار پڑ گیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میری مزاج پرسی کے لیے تشریف لائے ۔ میں نے عرض کیا اے اللہ کے نبی ! ( اگر وفات ہو گئی تو ) میں مال چھوڑوں گا اور میرے پاس سوا ایک لڑکی کے اور کوئی وارث نہیں ہے ۔ کیا میں اپنے دو تہائی مال کی وصیت کر دوں اور ایک تہائی چھوڑ دوں ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ نہیں میں نے عرض کیا پھر آدھے کی وصیت کر دوں اورآدھا ( اپنی بچی کے لیے ) چھوڑ دوں فرمایا کہ نہیں پھر میں نے کہا کہ ایک تہائی کی وصیت کر دوں اور باقی دو تہائی لڑکی کے لیے چھوڑ دوں ؟ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ایک تہائی کر دو اور ایک تہائی بھی بہت ہے ۔ پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ہاتھ ان کی پیشانی پر رکھا ( حضرت سعد رضی اللہ عنہ نے بیان کیا ) اور میرے چہرے اور پیٹ پر آپ نے اپنا مبارک ہاتھ پھیرا پھر فرمایا اے اللہ ! سعد کو شفاء عطا فرما اور اس کی ہجرت کو مکمل کر ۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے دست مبارک کی ٹھنڈک اپنے جگر کے حصہ پر میں اب تک پا رہا ہوں ۔

Hadith 5660
Sahih
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ، عَنِ الْحَارِثِ بْنِ سُوَيْدٍ، قَالَ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ دَخَلْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَهْوَ يُوعَكُ فَمَسِسْتُهُ بِيَدِي فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّكَ تُوعَكُ وَعْكًا شَدِيدًا‏.‏ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ أَجَلْ إِنِّي أُوعَكُ كَمَا يُوعَكُ رَجُلاَنِ مِنْكُمْ ‏"‏‏.‏ فَقُلْتُ ذَلِكَ أَنَّ لَكَ أَجْرَيْنِ‏.‏ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ أَجَلْ ‏"‏‏.‏ ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ مَا مِنْ مُسْلِمٍ يُصِيبُهُ أَذًى مَرَضٌ فَمَا سِوَاهُ إِلاَّ حَطَّ اللَّهُ لَهُ سَيِّئَاتِهِ كَمَا تَحُطُّ الشَّجَرَةُ وَرَقَهَا ‏"‏‏.‏
English

Narrated `Abdullah bin Mas`ud رضی اللہ عنہما :

I visited Allah's Messenger (ﷺ) while he was suffering from a high fever. I touched him with my hand and said, "O Allah's Messenger (ﷺ)! You have a high fever." Allah's Messenger (ﷺ) said, "Yes, I have as much fever as two men of you have." I said, "Is it because you will get a double reward?" Allah's Messenger (ﷺ) said, "Yes, no Muslim is afflicted with harm because of sickness or some other inconvenience, but that Allah will remove his sins for him as a tree sheds its leaves."

Urdu

ہم سے قتیبہ نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم سے جریر نے بیان کیا ، ان سے اعمش نے بیان کیا ، ان سے ابراہیم تیمی نے بیان کیا ، ان سے حارث بن سوید نے بیان کیا کہ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہما نے کہا ،

میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ کو بخار آیا ہوا تھا میں نے اپنے ہاتھ سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا جسم چھوا اور عرض کیا یا رسول اللہ ! آپ کو تو بڑا تیز بخار ہے ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں مجھے تم میں کے دو آدمیو ں کے برابر بخار چڑھتا ہے ۔ میں نے عرض کیا یہ اس لیے ہو گا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو دگنا اجر ملتا ہے ۔ آپ نے فرمایا کہ ہاں اس کے بعد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کسی بھی مسلمان کو مرض کی تکلیف یا کوئی اور کوئی تکلیف ہوتی ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے گناہوں کو اس طرح گراتا ہے جیسے درخت اپنے پتوں کو گرادیتا ہے ۔