Narrated `Abdullah رضی اللہ عنہما :
I visited the Prophet (ﷺ) during his illness and touched him while he was having a fever. I said to him, "You have a high fever; is it because you will get a double reward?" He said, "Yes. No Muslim is afflicted with any harm, but that his sins will be annulled as the leave of a tree fall down."
ہم سے قبیصہ نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم سے سفیان ثوری نے بیان کیا ، ان سے اعمش نے بیان کیا ، ان سے ابراہیم تیمی نے ، ان سے حارث بن سوید نے اور ان سے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ
میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں جب آپ بیمار تھے حاضر ہوا ۔ میں نے آپ کا جسم چھوا ، آپ کو تیز بخار تھا ۔ میں نے عرض کیا آپ کو تو بڑا تیز بخار ہے یہ اس لیے ہو گا کہ آپ کو دگنا ثواب ملے گا ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہاں اور کسی مسلمان کو بھی جب کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو اس کے گناہ اس طرح جھڑ جاتے ہیں جیسے درخت کے پتے جھڑ جاتے ہیں ۔
Narrated Ibn `Abbas رضی اللہ عنہما :
Allah's Messenger (ﷺ) entered upon sick man to pay him a visit, and said to him, "Don't worry, Allah willing, (your sickness will be) an expiation for your sins." The man said, "No, it is but a fever that is boiling within an old man and will send him to his grave." On that, the Prophet (ﷺ) said, "Then yes, it is so."
ہم سے اسحاق بن شاہین واسطی نے بیان کیا ، کہا ہم سے خالد بن عبداللہ نے بیان کیا ، ان سے خالد حذاء نے ، ان سے عکرمہ نے اور ان سے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک شخص کی عیادت کے لیے تشریف لے گئے اور ان سے فرمایا کہ کوئی فکر نہیں اگر اللہ نے چاہا ۔ ( یہ مرض ) گناہوں سے پاک کرنے والا ہو گا لیکن اس نے یہ جواب دیا کہ ہرگز نہیں یہ تو ایسا بخار ہے جو ایک بوڑھے پر غالب آ چکا ہے اور اسے قبر تک پہنچا کر ہی رہے گا ، اس پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر ایسا ہی ہو گا ۔
Narrated Usama bin Zaid رضی اللہ عنہما :
The Prophet (ﷺ) rode a donkey having a saddle with a Fadakiyya velvet covering. He mounted me behind him and went to visit Sa`d bin 'Ubada رضی اللہ عنہ , and that had been before the battle of Badr. The Prophet (ﷺ) proceeded till he passed by a gathering in which `Abdullah bin Ubai bin Salul was present, and that had been before `Abdullah embraced Islam. The gathering comprised of Muslims, polytheists, i.e., isolators and Jews. `Abdullah bin Rawaha رضی اللہ عنہ was also present in that gathering. When dust raised by the donkey covered the gathering, `Abdullah bin Ubai رضی اللہ عنہ covered his nose with his upper garment and said, "Do not trouble us with dust." The Prophet (ﷺ) greeted them, stopped and dismounted. Then he invited them to Allah (i.e., to embrace Islam) and recited to them some verses of the Holy Qur'an. On that, `Abdullah bin Ubai رضی اللہ عنہ said, "O man ! There is nothing better than what you say if it is true. Do not trouble us with it in our gathering, but return to your house, and if somebody comes to you, teach him there." On that `Abdullah bin Rawaha رضی اللہ عنہ said, Yes, O Allah's Messenger (ﷺ)! Bring your teachings to our gathering, for we love that." So the Muslims, the pagans and the Jews started abusing each other till they were about to fight. The Prophet (ﷺ) kept on quietening them till they became calm. Thereupon the Prophet mounted his animal and proceeded till he entered upon Sa`d bin Ubada رضی اللہ عنہ . He said to him "O Sa`d! Have you not heard what Abu Hubab (i.e., `Abdullah bin Ubai) said?" Sa`d رضی اللہ عنہ said, 'O Allah's Apostle! Excuse and forgive him, for Allah has given you what He has given you. The people of this town (Medina decided unanimously to crown him and make him their chief by placing a turban on his head, but when that was prevented by the Truth which Allah had given you he (`Abdullah bin Ubai) was grieved out of jealously, and that was the reason which caused him to behave in the way you have seen."
ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا ، کہا ہم سے لیث نے بیان کیا ، ان سے عقیل نے ، ان سے ابن شہاب نے ، ان سے عروہ نے ، انہیں اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما نے خبر دی کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم گدھے کی پالان پر فدک کی چادر ڈال کر اس پر سوار ہوئے اور اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما کو اپنے پیچھے سوار کیا ، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ کی عیادت کو تشریف لے جا رہے تھے ، یہ جنگ بدر سے پہلے کا واقعہ ہے ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم روانہ ہوئے اور ایک مجلس سے گزرے جس میں عبداللہ بن ابی بن سلول بھی تھا ۔ عبداللہ ابھی مسلمان نہیں ہوا تھا اس مجلس میں ہر گروہ کے لوگ تھے مسلمان بھی ، مشرکین بھی یعنی بت پرست اور یہودی بھی ۔ مجلس میں عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ بھی تھے ، سواری کی گرد جب مجلس تک پہنچی تو عبداللہ بن ابی نے اپنی چادر اپنی ناک پر رکھ لی اور کہا کہ ہم پر گرد نہ اڑاؤ ۔ پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں سلام کیا اور سواری روک کر وہاں اترگئے پھر آپ نے انہیں اللہ کے طرف بلایا اور قرآن مجید پڑھ کر سنایا ۔ اس پر عبداللہ بن ابی نے کہا میاں تمہاری باتیں میری سمجھ میں نہیں آتیں اگر حق ہیں تو ہماری مجلس میں انہیں بیان کر کے ہم کو تکلیف نہ پہنچایا کرو ، اپنے گھر جاؤ وہاں جو تمہارے پاس آئے اس سے بیان کرو ۔ اس پر حضرت ابن رواحہ رضی اللہ عنہ نے کہا کیوں نہیں یا رسول اللہ ! آپ ہماری مجلسوں میں ضرور تشریف لائیں کیونکہ ہم ان باتوں کو پسند کرتے ہیں ۔ اس پر مسلمانوں ، مشرکوں اور یہودیوں میں جھگڑ ے بازی ہو گئی اورقریب تھا کہ ایک دوسرے پر حملہ کر بیٹھتے لیکن آپ انہیں خاموش کرتے رہے یہاں تک کہ سب خاموش ہو گئے پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اپنی سواری پر سوار ہو کر سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ کے یہاں تشریف لے گئے اور ان سے فرمایا سعد ! تم نے سنا نہیں ابوحباب نے کیا کہا ، آپ کا اشارہ عبداللہ بن ابی کی طرف تھا ۔ اس پر حضرت سعد رضی اللہ عنہ بولے کہ یا رسول اللہ ! اسے معاف کر دیجئیے اور اس سے درگزر فرمایئے ۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو وہ نعمت عطا فرما دی جو عطا فرمانی تھی ( آپ کے مدینہ تشریف لانے سے پہلے ) اس بستی کے لوگ اس پر متفق ہو گئے تھے کہ اسے تاج پہنادیں اور اپنا سردار بنا لیں لیکن جب اللہ تعالیٰ نے اس منصوبہ کو اس حق کے ذریعہ جو آپ کو اس نے عطا فرمایا ہے ختم کر دیا تو وہ اس پر بگڑ گیا یہ جو کچھ معاملہ اس نے آپ کے ساتھ کیا ہے اسی کا نتیجہ ہے ۔
Narrated Jabir رضی اللہ عنہما :
The Prophet (ﷺ) came to visit me (while I was sick) and he was riding neither a mule, nor a horse.
ہم سے عمرو بن عباس نے بیان کیا ، کہا ہم سے عبدالرحمٰن نے بیان کیا ، کہا ہم سے سفیان نے بیان کیا ، ان سے محمد نے جو منکدر کے بیٹے ہیں اور ان سے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میری عیادت کے لیے تشریف لائے آپ نہ کسی خچر پر سوار تھے نہ کسی گھوڑے پر ۔ ( بلکہ آپ پیدل تشریف لائے تھے ۔ )
Narrated Ka`b bin 'Ujara رضی اللہ عنہ :
The Prophet (ﷺ) passed by me while I was kindling a fire under a (cooking) pot. He said, "Do the lice of your head trouble you?" I said, "Yes." So he called a barber to shave my head and ordered me to make expiation for that."
ہم سے قبیصہ نے بیان کیا ، کہا ہم سے سفیان نے بیان کیا ، ان سے ابن ابی نجیح اور ایوب نے ، ان سے مجاہد نے ، ان سے عبدالرحمٰن بن ابی لیلیٰ نے اور ان سے کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ نے کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میرے قریب سے گزر ے اور میں ہانڈی کے نیچے آگ سلگا رہا تھا ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا تمہارے سر کی جوویں تمہیں تکلیف پہنچاتی ہیں ۔ میں نے عرض کیا جی ہاں پھر آپ نے حجام بلوایا اور اس نے میرا سر مونڈ دیا اس کے بعد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے فدیہ ادا کر دینے کا حکم فرمایا ۔
Narrated Al-Qasim bin Muhammad:
`Aisha رضی اللہ عنہا , (complaining of headache) said, "Oh, my head"! Allah's Messenger (ﷺ) said, "I wish that had happened while I was still living, for then I would ask Allah's Forgiveness for you and invoke Allah for you." Aisha رضی اللہ عنہا said, "Wa thuklayah! By Allah, I think you want me to die; and If this should happen, you would spend the last part of the day sleeping with one of your wives!" The Prophet (ﷺ) said, "Nay, I should say, 'Oh my head!' I felt like sending for Abu Bakr رضی اللہ عنہ and his son, and appoint him as my successor lest some people claimed something or some others wished something, but then I said (to myself), 'Allah would not allow it to be otherwise, and the Muslims would prevent it to be otherwise".
ہم سے یحییٰ بن یحییٰ ابو زکریا نے بیان کیا ، کہا ہم کو سلیمان بن بلال نے خبر دی ، ان سے یحییٰ بن سعید نے ، کہ میں نے قاسم بن محمد سے سنا ، انہوں نے بیان کیا کہ
( سر کے شدید درد کی وجہ سے ) عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہاہائے رے سر ! اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر ایسا میری زندگی میں ہو گیا ( یعنی تمہارا انتقال ہو گیا ) تو میں تمہارے لیے استغفار اور دعا کروں گا ۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا افسوس ، اللہ کی قسم ! میرا خیال ہے کہ آپ میرا مرجانا ہی پسند کرتے ہیں اور اگر ایسا ہو گیا تو آپ تو اسی دن رات اپنی کسی بیوی کے یہاں گزاریں گے ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بلکہ میں خود درد سر میں مبتلاہوں ۔ میرا ارادہ ہوتا تھا کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ اور ان کے بیٹے کو بلا بھیجوں اور انہیں ( خلافت کی ) وصیت کر دوں ۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ میرے بعد کہنے والے کچھ اور کہیں ( کہ خلافت ہمارا حق ہے ) یا آرزو کرنے والے کسی اور بات کی آرزو کریں ( کہ ہم خلیفہ ہو جائیں ) پھر میں نے اپنے جی میں کہا ( اس کی ضرورت ہی کیا ہے ) خود اللہ تعالیٰ ابوبکر رضی اللہ عنہ کے سو اورکسی کو خلیفہ نہ ہونے دے گا نہ مسلمان اور کسی کی خلافت ہی قبول کریں گے ۔
Narrated Ibn Mas`ud رضی اللہ عنہما :
I visited the Prophet (ﷺ) while he was having a high fever. I touched him an said, "You have a very high fever" He said, "Yes, as much fever as two me of you may have." I said. "you will have a double reward?" He said, "Yes No Muslim is afflicted with hurt caused by disease or some other inconvenience, but that Allah will remove his sins as a tree sheds its leaves."
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا ، کہا ہم سے عبدالعزیز بن مسلم نے بیان کیا ، کہا ہم سے سلیمان اعمش نے بیان کیا ، ان سے ابراہیم تیمی نے ، ان سے حارث بن سوید نے اور ان سے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ
میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ کو بخار آیا ہوا تھا میں نے آپ کا جسم چھو کر عرض کیا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو بڑا تیز بخار ہے ۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہاں تم میں کے دو آدمیوں کے برابر ہے ۔ حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہما نے عرض کیا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا اجر بھی دو گنا ہے ۔ کہا ہاں پھر آپ نے فرمایا کہ کسی مسلمان کو بھی جب کسی مرض کی تکلیف یا اور کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو اللہ اس کے گناہ کو اس طرح جھاڑ دیتا ہے جس طرح درخت اپنے پتوں کو جھاڑ تا ہے ۔
Narrated Sa`d:
Allah's Messenger (ﷺ) came to visit me during my ailment which had been aggravated during Hajjat-al- Wada`. I said to him, "You see how sick I am. I have much property but have no heir except my only daughter May I give two thirds of my property in charity?"! He said, "No." I said, "Half of it?" He said, "No." I said "One third?" He said, "One third is too much, for to leave your heirs rich is better than to leave them poor, begging of others. Nothing you spend seeking Allah's pleasure but you shall get a reward for it, even for what you put in the mouth of your wife."
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا ، کہا ہم سے عبدالعزیز بن عبداللہ بن ابی سلمہ نے بیان کیا ، کہا ہم کو زہری نے خبر دی ، انہیں عامر بن سعد نے اور ان سے ان کے والد نے کہ
ہمارے یہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میری عیادت کے لیے تشریف لائے میں حجۃ الوداع کے زمانہ میں ایک سخت بیماری میں مبتلا ہو گیا تھا میں نے عرض کیا کہ میری بیماری جس حد کو پہنچ چکی ہے اسے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم دیکھ رہے ہیں ، میں صاحب دولت ہوں اور میری وارث میری صرف ایک لڑکی کے سوا اور کوئی نہیں تو کیا میں اپنا دو تہائی مال صدقہ کروں ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ نہیں ۔ میں نے عرض کیا پھر آدھا کر دوں ، آپ نے فرمایا کہ نہیں ۔ میں نے عرض کیا ایک تہائی کر دوں ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تہائی بہت کافی ہے اگر تم اپنے وارثوں کو غنی چھوڑ کر جاؤ یہ اس سے بہتر ہے کہ انہیں محتاج چھوڑو اور وہ لوگوں کے سامنے ہاتھ پھیلاتے پھر یں اور تم جو بھی خرچ کرو گے اور اس سے اللہ کی خوشنودی حاصل کرنا مقصود ہو گا اس پر بھی تمہیں ثواب ملے گا ۔ یہاں تک کہ اس لقمہ پر بھی تمہیں ثواب ملے گا جو تم اپنی بیوی کے منہ میں ڈالتے ہو ۔
Narrated Ibn `Abbas رضی اللہ عنہما :
When Allah's Messenger (ﷺ) was on his death-bed and in the house there were some people among whom was `Umar bin Al-Khattab رضی اللہ عنہ , the Prophet (ﷺ) said, "Come, let me write for you a statement after which you will not go astray." `Umar رضی اللہ عنہ said, "The Prophet (ﷺ) is seriously ill and you have the Qur'an; so the Book of Allah is enough for us." The people present in the house differed and quarrelled. Some said "Go near so that the Prophet (ﷺ) may write for you a statement after which you will not go astray," while the others said as `Umar رضی اللہ عنہ said. When they caused a hue and cry before the Prophet, Allah's Messenger (ﷺ) said, "Go away!" Narrated 'Ubaidullah: Ibn `Abbas رضی اللہ عنہما used to say, "It was very unfortunate that Allah's Messenger (ﷺ) was prevented from writing that statement for them because of their disagreement and noise."
ہم سے ابراہیم بن موسیٰ نے بیان کیا ، کہا ہم سے ہشام بن عروہ نے بیان کیا ، ان سے معمر نے ( دوسری سند ) اور مجھ سے عبداللہ بن محمد نے بیان کیا ، کہا ہم سے عبدالرزاق نے بیان کیا ، کہا ہم کو معمر نے خبر دی ، انہیں زہری نے ، انہیں عبیداللہ بن عبداللہ نے اور ان سے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ
جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کا وقت قریب آیا تو گھر میں کئی صحابہ موجود تھے ۔ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ بھی وہیں موجود تھے ۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا لاؤ میں تمہارے لیے ایک تحریر لکھ دوں تاکہ اس کے بعد تم غلط راہ پر نہ چلو ۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اس پر کہا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت سخت تکلیف میں ہیں اور تمہارے پاس قرآن مجید تو موجود ہے ہی ہمارے لیے اللہ کی کتاب کافی ہے ۔ اس مسئلہ پر گھر میں موجود صحابہ کا اختلاف ہو گیا اور بحث کرنے لگے ۔ بعض صحابہ کہتے تھے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو ( لکھنے کی چیزیں ) دے دو تاکہ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم ایسی تحریر لکھ دیں جس کے بعد تم گمراہ نہ ہو سکو اور بعض صحابہ وہ کہتے تھے جو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا تھا ۔ جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اختلاف اور بحث بڑھ گئی تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہاں سے چلے جاؤ ۔ حضرت عبیداللہ نے بیان کیا کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کہا کرتے تھے کہ سب سے زیادہ افسوس یہی ہے کہ ان کے اختلاف اور بحث کی وجہ سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ تحریر نہیں لکھی جو آپ مسلمانوں کے لیے لکھنا چاہتے تھے ۔
Narrated As-Sa'ib رضی اللہ عنہ :
My aunt took me to Allah's Messenger (ﷺ) and said, "O Allah's Messenger (ﷺ)! My nephew is- ill." The Prophet (ﷺ) touched my head with his hand and invoked Allah to bless me. He then performed ablution and I drank of the remaining water of his ablution and then stood behind his back and saw "Khatam An- Nubuwwa" (The Seal of Prophethood) between his shoulders like a button of a tent.
ہم سے ابراہیم بن حمزہ نے بیان کیا ، کہا ہم سے حاتم بن اسماعیل نے بیان کیا ، ان سے جعید بن عبدالرحمٰن نے بیان کیا کہ میں نے حضرت سائب بن یزید رضی اللہ عنہ سے سنا ، انہوں نے بیان کیا کہ
مجھے میری خالہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بچپن میں لے گئیں اور عرض کیا یا رسول اللہ ! میرے بھانجے کو درد ہے ۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے سر پر ہاتھ پھیرا اور میرے لیے برکت کی دعا کی پھر آپ نے وضو کیا اور میں نے آپ کے وضو کا پانی پیا اور میں نے آپ کی پیٹھ کے پیچھے کھڑے ہو کر نبوت کی مہر آپ کے دونوں شانوں کے درمیان دیکھی ۔ یہ مہر نبوت حجلہ عروس کی گھنڈی جیسی تھی ۔
Narrated Anas bin Malik رضی اللہ عنہ :
The Prophet (ﷺ) said, "None of you should wish for death because of a calamity befalling him; but if he has to wish for death, he should say: "O Allah! Keep me alive as long as life is better for me, and let me die if death is better for me.' "
ہم سے آدم بن ابی ایاس نے بیان کیا ، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا ، کہا ہم سے ثابت بنانی نے بیان کیا اور ان سے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کسی تکلیف میں اگر کوئی شخص مبتلا ہو تو اسے موت کی تمنا نہیں کرنی چاہیئے اور اگر کوئی موت کی تمنا کرنے ہی لگے تو یہ کہنا چاہیئے ، اے اللہ ! جب تک زندگی میرے لیے بہتر ہے مجھے زندہ رکھ اور جب موت میرے لیے بہتر ہو تو مجھ کو اٹھالے ۔
Narrated Qais bin Abi Hazim:
We went to pay a visit to Khabbab رضی اللہ عنہ (who was sick) and he had been branded (cauterized) at seven places in his body. He said, "Our companions who died (during the lifetime of the Prophet) left (this world) without having their rewards reduced through enjoying the pleasures of this life, but we have got (so much) wealth that we find no way to spend It except on the construction of buildings Had the Prophet not forbidden us to wish for death, I would have wished for it.' We visited him for the second time while he was building a wall. He said, A Muslim is rewarded (in the Hereafter) for whatever he spends except for something that he spends on building."
ہم سے آدم بن ابی ایاس نے بیان کیا ، کہا ہم سے شعبہ نے ، ان سے اسماعیل بن ابی خالد نے اور ان سے قیس بن ابی حازم نے بیان کیا کہ
ہم خباب بن ارت رضی اللہ عنہ کے یہاں ان کی عیادت کو گئے انہوں نے اپنے پیٹ میں سات داغ لگوائے تھے پھر انہوں نے کہا کہ ہمارے ساتھی جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں وفات پا چکے وہ یہاں سے اس حال میں رخصت ہوئے کہ دنیا ان کا اجر و ثواب کچھ نہ گھٹا سکی اور ان کے عمل میں کوئی کمی نہیں ہوئی اور ہم نے ( مال و دولت ) اتنی پائی کہ جس کے خرچ کرنے کے لیے ہم نے مٹی کے سوا اور کوئی محل نہیں پایا ( لگے عمارتیں بنوانے ) اور اگر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں مو ت کی دعا کرنے سے منع نہ کیا ہوتا تو میں اس کی دعا کرتا پھر ہم ان کی خدمت میں دوبارہ حاضر ہوئے تو وہ اپنی دیوار بنا رہے تھے انہوں نے کہا مسلمان کوہر اس چیز پر ثواب ملتا ہے جسے وہ خرچ کرتا ہے مگر اس ( کم بخت ) عمارت میں خرچ کرنے کا ثواب نہیں ملتا ۔
Narrated Abu Huraira رضی اللہ عنہ :
I heard Allah's Messenger (ﷺ) saying, "The good deeds of any person will not make him enter Paradise." (i.e., None can enter Paradise through his good deeds.) They (the Prophet's companions) said, 'Not even you, O Allah's Messenger (ﷺ)?' He said, "Not even myself, unless Allah bestows His favor and mercy on me." So be moderate in your religious deeds and do the deeds that are within your ability: and none of you should wish for death, for if he is a good doer, he may increase his good deeds, and if he is an evil doer, he may repent to Allah."
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا ، کہا ہم کو شعیب نے خبر دی ، ان سے زہری نے بیان کیا ، کہا ہمیں عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ کے غلام ابوعبیدہ نے خبر دی اور ان سے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ نے فرمایا کسی شخص کا عمل اسے جنت میں داخل نہیں کر سکے گا ۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا یا رسول اللہ ! آپ کا بھی نہیں ؟ آپ نے فرمایا نہیں ، میرا بھی نہیں ، سوا اس کے کہ اللہ اپنے فضل و رحمت سے مجھے نوازے اس لیے ( عمل میں ) میانہ روی اختیار کرو اورقریب قریب چلو اور تم میں کوئی شخص موت کی تمنا نہ کرے کیونکہ یا وہ نیک ہو گا تو امید ہے کہ اس کے اعمال میں اور اضافہ ہو جائے اور اگر وہ برا ہے تو ممکن ہے وہ توبہ ہی کرے ۔
Narrated `Aisha رضی اللہ عنہا :
I heard the Prophet (ﷺ) , who was resting against me, saying, "O Allah! Excuse me and bestow Your Mercy on me and let me join with the highest companions (in Paradise)." See Qur'an (4.69)
ہم سے عبداللہ بن ابی شیبہ نے بیان کیا ، کہا ہم سے ابواسامہ نے بیان کیا ، ان سے ہشام نے ، ان سے عباد بن عبداللہ بن زبیر نے بیان کیا کہ میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے سنا ، انہوں نے بیان کیا کہ
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم میراسہارا لیے ہوئے تھے ( مرض الموت میں ) اور فرما رہے تھے اے اللہ تعالیٰ ! میری مغفرت فرما مجھ پر رحم کر اور مجھ کو اچھے رفیقوں ( فرشتوں اور پیغمبروں ) کے ساتھ ملادے ۔
Narrated `Aisha رضی اللہ عنہا :
Whenever Allah's Messenger (ﷺ) paid a visit to a patient, or a patient was brought to him, he used to invoke Allah, saying, "Take away the disease, O the Lord of the people! Cure him as You are the One Who cures. There is no cure but Yours, a cure that leaves no disease." Amr bin Abi Qais and Ibrahim bin Tahman from Mansur that Ibrahim and Abu Duha said: When any paitient was brought to him ﷺ. Or Abu Duha said: When he ﷺ visited any diseased.
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا ، کہا ہم سے ابو عوانہ نے بیان کیا ، ان سے منصور نے ، ان سے ابراہیم نے ، ان سے مسروق نے اور ان سے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی مریض کے پاس تشریف لے جاتے یاکوئی مریض آپ کے پاس لایا جاتا تو آپ یہ دعا فرماتے ، اے پروردگار لوگوں کے ! بیماری دور کر دے ، اے انسانوں کے پالنے والے ! شفاء عطا فرما ، تو ہی شفاء دینے والا ہے ۔ تیری شفاء کے سوا اور کوئی شفاء نہیں ، ایسی شفاء دے جس میں مرض بالکل باقی نہ رہے ۔ اور عمرو بن ابی قیس اور ابراہیم بن طہمان نے منصور سے بیان کیا ، انہوں نے ابراہیم اور ابو الضحیٰ سے کہ ” جب کوئی مریض آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لایا جاتا “
Narrated Jabir bin `Abdullah رضی اللہ عنہما :
The Prophet (ﷺ) came to me while I was ill. He performed ablution and threw the remaining water on me (or said, "Pour it on him) " When I came to my senses I said, "O Allah's Messenger (ﷺ)! I have no son or father to be my heir, so how will be my inheritance?" Then the Verse of inheritance was revealed.
ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا ، کہا ہم سے غندر ( محمد بن جعفر ) نے بیان کیا ، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا ، ان سے محمد بن منکدر نے ، کہا کہ میں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے سنا ، انہوں نے بیان کیا کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میرے یہاں تشریف لائے میں بیمار تھا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا اور وضو کا پانی مجھ پر ڈالا یا فرمایا کہ اس پر یہ پانی ڈال دواس سے مجھے ہوش آ گیا ۔ میں نے عرض کیا کہ میں تو کلالہ ہوں ( جس کے والد اور اولاد نہ ہو ) میرے ترکہ میں تقسیم کیسے ہو گی اس پر میراث کی آیت نازل ہوئی ۔
Narrated `Aisha رضی اللہ عنہا :
When Allah's Messenger (ﷺ) emigrated to Medina, Abu Bakr رضی اللہ عنہ and Bilal رضی اللہ عنہ had a fever. I entered upon them and said, "O my father! How are you? O Bilal! How are you?" Whenever Abu Bakr رضی اللہ عنہ got the fever he used to say, "Everybody is staying alive with his people, yet death is nearer to him than his shoe laces." And when fever deserted Bilal رضی اللہ عنہ , he would recite (two poetic verses): "Would that I could stay overnight in a valley wherein I would be surrounded by Idhkhir and Jalil (two kinds of good smelling grass). Would that one day I could drink of the water of Majinna, and would that Shama and Tafil (two mountains at Mecca) would appear to me!" I went to Allah's Messenger (ﷺ) and informed him about that. He said, "O Allah! Make us love Medina as much or more than we love Mecca, and make it healthy, and bless its Sa and its Mudd, and take away its fever and put it in Al-Juhfa." (See Hadith No 558) .
ہم سے اسماعیل نے بیان کیا ، کہا مجھ سے امام مالک نے ، ان سے ہشام بن عروہ نے ، ان سے ان کے والد نے اور ان سے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ
جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہجرت کر کے مدینہ تشریف لائے توحضرت ابوبکر اور حضرت بلال رضی اللہ عنہ کو بخار ہو گیا ۔ بیان کیا کہ پھر میں ان کے پاس ( بیمار پرسی کے لیے ) گئی اور پوچھا کہ محترم والد بزرگوار ! آپ کا کیا حال ہے اور اے بلال رضی اللہ عنہ ! آپ کا کیا حال ہے بیان کیا کہ جب حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کو بخار ہوتا تو وہ یہ شعر پڑھا کرتے تھے ۔ ” ہر شخص اپنے گھر والوں میں صبح کرتا ہے اور موت اس کے تسمے سے بھی زیادہ قریب ہے “ اور حضرت بلال رضی اللہ عنہ کا جب بخار اترتا تو بلند آواز سے وہ یہ اشعار پڑھتے ۔ ( ترجمہ ) کاش مجھے معلوم ہوتا کہ میں ایک رات وادی ( مکہ ) میں اس طرح گزار سکوں گا کہ میرے چاروں طرف اذخر اور جلیل ( گھاس ) کے درخت ہوں گے اور کیا کبھی پھر میں مجنہ کے گھاٹ پر اتر سکوں گا اور کیا کبھی شامہ اور طفیل میں اپنے سامنے دیکھ سکوں گا ۔ راوی نے بیان کیا کہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا پھر میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے متعلق کہا تو آپ نے یہ دعا فرمائی اے اللہ ! ہمارے دلوں میں مدینہ کی محبت پیدا کر جیسا کہ ہمیں ( اپنے وطن ) مکہ کی محبت تھی بلکہ اس سے بھی زیادہ مدینہ کی محبت عطا کر اور اس کی آب و ہوا کو صحت بخش بنا دے اور ہمارے لیے اس کے صاع اور مد میں برکت عطا فرما اور اس کے بخار کو کہیں اور جگہ منتقل کر دے اسے جحفہ نامی گاؤں میں بھیج دے ۔