Narrated Anas bin Malik رضی اللہ عنہ :
He passed by a group of boys and greeted them and said, "The Prophet (ﷺ) used to do so."
ہم سے علی بن الجعد نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم کوشعبہ نے خبر دی ، انہیں سیار نے انہوں نے ثابت بنانی سے روایت کی ، انہیں انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے کہ
آپ بچوں کے پاس سے گزرے تو انہیں سلام کیا اور فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی ایسا ہی کرتے تھے ۔
Narrated Sahl رضی اللہ عنہ :
"We used to feel happy on Fridays." I asked Sahl, "Why?" He said, "There was an old woman of our acquaintance who used to send somebody to Buda'a (Ibn Maslama said, "Buda'a was a garden of date-palms at Medina). She used to pull out the silq (a kind of vegetable) from its roots and put it in a cooking pot, adding some powdered barley over it (and cook it). After finishing the Jumua (Friday) prayer we used to (pass by her and) greet her, whereupon she would present us with that meal, so we used to feel happy because of that. We used to have neither a midday nap, nor meals, except after the Friday prayer." (See Hadith No. 60, Vol.2)
ہم سے عبداللہ بن مسلمہ قعنبی نے بیان کیا ، کہا ہم سے ابن ابی حازم نے ان سے ان کے والد نے اور ان سے سہل رضی اللہ عنہ نے کہ
ہم جمعہ کے دن خوش ہوا کرتے تھے ۔ میں نے عرض کی کس لئے ؟ فرمایا کہ ہماری ایک بڑھیا تھیں جو مقام بضاعہ جایا کرتی تھیں ۔ ابن سلمہ نے کہا کہ بضاعہ مدینہ منورہ کا کھجور کا ایک باغ تھا ۔ پھر وہ وہاں سے چقندر لایا کرتی تھیں اور اسے ہانڈی میں ڈالتی تھیں اور جو کے کچھ دانے پیس کر ( اس میں ملاتی تھیں ) جب ہم جمعہ کی نماز پڑھ کر واپس ہوتے تو انہیں سلام کرنے آتے اور وہ یہ چقندر کی جڑ میں آٹا ملی ہوئی دعوت ہمارے سامنے رکھتی تھیں ہم اس وجہ سے جمعہ کے دن خوش ہوا کرتے تھے اور قیلولہ یا دوپہر کا کھانا ہم جمعہ کے بعد کرتے تھے ۔
Narrated `Aisha رضی اللہ عنہا :
Allah's Messenger (ﷺ) said, "O `Aisha! This is Gabriel sending his greetings to you." I said, "Peace, and Allah's Mercy be on him (Gabriel). You see what we do not see." (She was addressing Allah's Apostle). Shoaib has reported likewise Younus and Nouman said: Zuhri's report add ''وَبَرَكَاتُهُ''
ہم سے ابن مقاتل نے بیان کیا ، کہا ہم کو عبداللہ نے خبر دی ، کہا ہم کو معمر نے خبر دی انہیں زہری نے انہیں ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن نے اور ان سے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ، اے عائشہ ! یہ جبرائیل ہیں تمہیں سلام کہتے ہیں بیان کیا کہ میں نے عرض کیا وعلیہ السلا م و رحمت اللہ ، آپ دیکھتے ہیں جو ہم نہیں دیکھ سکتے ام المؤمنین کا اشارہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف تھا ۔ معمر کے ساتھ اس حدیث کو شعیب اور یونس اور نعمان نے بھی زہری سے روایت کیا ہے یونس اور نعمان کی روایتوں میں و برکاتہ کا لفظ زیادہ ہے
Narrated Jabir رضی اللہ عنہ :
I came to the Prophet (ﷺ) in order to consult him regarding my father's debt. When I knocked on the door, he asked, "Who is that?" I replied, "I" He said, "I, I?" He repeated it as if he disliked it.
ہم سے ابو الولید ہشام بن عبدالملک نے بیان کیا ، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا ، ان سے محمد بن منکدر نے کہا کہ میں نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے سنا ، وہ بیان کرتے تھے کہ
میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں اس قرض کے بارے میں حاضر ہوا جو میرے والد پر تھا ۔ میں دروازہ کھٹکھٹایا ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا ، کون ہیں ؟ میں نے کہا ” میں “ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” میں “ ” میں “ جیسے آپ نے اس جواب کو ناپسند فرمایا ۔
Narrated Abu Huraira رضی اللہ عنہ :
A man entered the mosque while Allah's Messenger (ﷺ) was sitting in one side of the mosque. The man prayed, came, and greeted the Prophet. Allah's Messenger (ﷺ) said to him, "Wa 'Alaikas Salam (returned his greeting). Go back and pray as you have not prayed (properly)." The man returned, repeated his prayer, came back and greeted the Prophet. The Prophet (ﷺ) said, "Wa alaika-s-Salam (returned his greeting). Go back and pray again as you have not prayed (properly)." The man said at the second or third time, "O Allah's Messenger (ﷺ)! Kindly teach me how to pray". The Prophet (ﷺ) said, "When you stand for prayer, perform ablution properly and then face the Qibla and say Takbir (Allahu-Akbar), and then recite what you know from the Qur'an, and then bow with calmness till you feel at ease then rise from bowing, till you stand straight, and then prostrate calmly (and remain in prostration) till you feel at ease, and then raise (your head) and sit with calmness till you feel at ease and then prostrate with calmness (and remain in prostration) till you feel at ease, and then raise (your head) and sit with calmness till you feel at ease in the sitting position, and do likewise in whole of your prayer." And Abu Usama added, "Till you stand straight." (See Hadith No. 759, Vol.1)
ہم سے اسحٰق بن منصور نے بیان کیا انہوں نے کہا ہم کو عبداللہ بن نمیر نے خبر دی ، ان سے عبیداللہ نے بیان کیا ، ان سے سعید بن ابی سعید مقبری نے بیان کیا اور ان سے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ
ایک شخص مسجد میں داخل ہوا ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد کے کنارے بیٹھے ہوئے تھے ۔ اس نے نماز پڑھی اور پھر حاضر ہو کر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام کیا ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” علیک السلام “ واپس جا اور دوبارہ نماز پڑھ ، کیو نکہ تم نے نماز نہیں پڑھی ۔ وہ واپس گئے اور نماز پڑھی ۔ پھر ( نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ) کے پاس آئے اور سلام کیا آپ نے فرمایا وعلیک السلام ۔ واپس جاؤ پھر نماز پڑھو ۔ کیو نکہ تم نے نماز نہیں پڑھی ۔ وہ واپس گیا اور اس نے پھر نماز پڑھی ۔ پھر واپس آیا اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں سلام عرض کیا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب میں فر مایا وعلیکم السلام ۔ واپس جاؤ اور دو بارہ نمازپڑھو ۔ کیو نکہ تم نے نماز نہیں پڑھی ۔ ان صاحب نے دوسر ی مرتبہ ، یا اس کے بعد ، عرض کیا یا رسول اللہ ! مجھے نماز پڑھنی سکھا دیجئیے ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فر مایا جب نماز کے لیے کھڑے ہواکرو تو پہلے پو ری طرح وضو کیا کرو ، پھر قبلہ رو ہو کر تکبیر ( تحریمہ ) کہو ، اس کے بعد قر آن مجید میں سے جو تمہارے لئے آسان ہو وہ پڑھو ، پھر رکوع کرو اور جب رکوع کی حالت میں برابر ہو جاؤ تو سر اٹھاؤ ۔ جب سیدھے کھڑے ہو جاؤ تو پھر سجدہ میں جاؤ ، جب سجدہ پو ری طرح کر لو تو سر اٹھاؤ اور اچھی طرح سے بیٹھ جاؤ ۔ یہی عمل اپنی ہر رکعت میں کرو ۔ اور ابواسامہ راوی نے دوسرے سجدہ کے بعد یوں کہا پھر سر اٹھا یہاں تک کہ سید ھا کھڑا ہو جا ۔
Narrated Abu Huraira رضی اللہ عنہ :
The Prophet (ﷺ) said, "And then raise your head till you feel at ease while sitting. "
ہم سے ابن بشار نے بیان کیا ، کہا کہ مجھ سے یحییٰ نے بیان کیا ، ان سے عبیداللہ نے ، ان سے سعید نے بیان کیا ، ان سے ان کے والد نے اور ان سے حضر ت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فر مایا ، پھر سر سجدہ سے اٹھا اور اچھی طرح بیٹھ جا ۔
Narrated `Aisha رضی اللہ عنہا :
The Prophet (ﷺ) said to her, "Gabriel sends Salam (greetings) to you." She replied, "Wa 'alaihi-s- Salam Wa Rahmatu-l-lah." (Peace and Allah's Mercy be on him).
ہم سے ابونعیم نے بیان کیا ، کہا ہم سے زکریا نے بیان کیا ، کہا کہ میں نے عامر سے سنا ، انہوں نے بیان کیا کہ مجھ سے ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن نے بیان کیا اور ان سے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا کہ جبرائیل علیہ السلام تمہیں سلام کہتے ہیں ۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا کہ ” وعلیہ السلام ورحمۃ اللہ ۔ ان پر بھی اللہ کی طرف سے سلامتی اور اس کی رحمت نازل ہو ۔
Narrated Usama bin Zaid رضی اللہ عنہ :
"The Prophet (ﷺ) rode over a donkey with a saddle underneath which there was a thick soft Fadakiya velvet sheet. Usama bin Zaid رضی اللہ عنہ was his companion rider, and he was going to pay a visit to Sa`d bin Ubada رضی اللہ عنہ (who was sick) at the dwelling place of Bani Al-Harith bin Al-Khazraj, and this incident happened before the battle of Badr. The Prophet (ﷺ) passed by a gathering in which there were Muslims and pagan idolators and Jews, and among them there was `Abdullah bin Ubai bin Salul, and there was `Abdullah bin Rawaha too. When a cloud of dust raised by the animal covered that gathering, `Abdullah bin Ubai covered his nose with his Rida (sheet) and said (to the Prophet), "Don't cover us with dust." The Prophet (ﷺ) greeted them and then stopped, dismounted and invited them to Allah (i.e., to embrace Islam) and also recited to them the Holy Qur'an. `Abdullah bin Ubai' bin Salul said, "O man! There is nothing better than what you say, if what you say is the truth. So do not trouble us in our gatherings. Go back to your mount (or house,) and if anyone of us comes to you, tell (your tales) to him." On that `Abdullah bin Rawaha said, "(O Allah's Messenger (ﷺ)!) Come to us and bring it(what you want to say) in our gatherings, for we love that." So the Muslims, the pagans and the Jews started quarreling till they were about to fight and clash with one another. The Prophet (ﷺ) kept on quietening them (till they all became quiet). He then rode his animal, and proceeded till he entered upon Sa`d bin 'Ubada رضی اللہ عنہ , he said, "O Sa`d, didn't you hear what Abu Habbab said? (He meant `Abdullah bin Ubai). He said so-and-so." Sa`d bin 'Ubada said, "O Allah's Messenger (ﷺ)! Excuse and forgive him, for by Allah, Allah has given you what He has given you. The people of this town decided to crown him (as their chief) and make him their king. But when Allah prevented that with the Truth which He had given you, it choked him, and that was what made him behave in the way you saw him behaving." So the Prophet excused him.
ہم سے ابراہیم بن موسیٰ نے بیان کیا ، کہا ہم کو ہشام بن عروہ نے خبر دی ، انہیں معمر نے ، انہیں زہری نے ، ان سے عروہ بن زبیر نے بیان کیا کہ مجھے اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ نے خبر دی کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک گدھے پر سوار ہوئے جس پر پالان بندھا ہوا تھا اور نیچے فد ک کی بنی ہوئی ایک مخملی چادر بچھی ہوئی تھی ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے سواری پر اپنے پیچھے اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ کو بٹھایا تھا ۔ آپ بنی حارث بن خزرج میں حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ کی عیادت کے لئے تشریف لے جا رہے تھے ۔ یہ جنگ بدر سے پہلے کا واقعہ ہے ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ایک مجلس پر سے گزرے جس میں مسلمان بت پرست مشرک اور یہودی سب ہی شریک تھے ۔ عبداللہ بن ابی ابن سلول بھی ان میں تھا ۔ مجلس میں عبداللہ بن رواحہ بھی موجود تھے ۔ جب مجلس پر سواری کا گرد پڑا تو عبداللہ نے اپنی چادر سے اپنی ناک چھپا لی اور کہا کہ ہمارے اوپر غبار نہ اڑاؤ ۔ پھر حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام کیا اور وہاں رک گئے اور اتر کر انہیں اللہ کی طرف بلایا اور ان کے لئے قرآن مجید کی تلاو ت کی ۔ عبداللہ بن ابی ابن سلول بولا ، میاں میں ان باتوں کے سمجھنے سے قاصر ہوں اگر وہ چیز حق ہے جو تم کہتے ہو تو ہماری مجلسوں میں آ کر ہمیں تکلیف نہ دیا کرو ۔ اس پر ابن رواحہ نے کہا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہماری مجلسوں میں تشریف لایا کریں کیونکہ ہم اسے پسند کرتے ہیں ۔ پھر مسلمانوں مشرکوں اور یہودیوں میں اس بات پر تو تو میں میں ہونے لگی اور قریب تھا کہ وہ کوئی ارادہ کربیٹھیں اور ایک دوسرے پر حملہ کر دیں ۔ لیکن آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم انہیں برابر خاموش کراتے رہے اور جب وہ خاموش ہو گئے تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اپنی سواری پر بیٹھ کر سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ کے یہاں گئے ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا ، سعد تم نے نہیں سنا کہ ابو حباب نے آج کیا بات کہی ہے ۔ آپ کا اشارہ عبداللہ بن ابی کی طرف تھا کہ اس نے یہ یہ باتیں کہی ہیں ۔ حضرت سعد نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ ! اسے معاف کر دیجئیے اور درگزر فرمائیے ۔ اللہ تعالیٰ نے وہ حق آپ کو عطا فرمایا ہے جو عطا فرمانا تھا ۔ اس بستی ( مدینہ منورہ ) کے لوگ ( آپ کی تشریف آوری سے پہلے ) اس پر متفق ہو گئے تھے کہ اسے تاج پہنا دیں اور شاہی عمامہ اس کے سر پر باندھ دیں لیکن جب اللہ تعالیٰ نے اس منصوبہ کو اس حق کی وجہ سے ختم کر دیا جو اس نے آپ کو عطا فرمایا ہے تو اسے حق سے حسد ہو گیا اور اسی وجہ سے اس نے یہ معاملہ کیا ہے جو آپ نے دیکھا ۔ چنانچہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے معاف کر دیا ۔
Narrated Ka`b bin Malik:
Allah's Messenger (ﷺ) forbade all the Muslims to speak to us. I would come to Allah's Messenger (ﷺ) and greet him, and I would wonder whether the Prophet (ﷺ) did move his lips to return to my greetings or not till fifty nights passed away. The Prophet (ﷺ) then announced (to the people) Allah's forgiveness for us (acceptance of our repentance) at the time when he had offered the Fajr (morning) prayer.
ہم سے ابن بکیر نے بیان کیا ، کہا ہم سے لیث بن سعد نے بیان کیا ، ان سے عقیل نے ، ان سے ابن شہاب نے ، ان سے عبدالرحمٰن بن عبداللہ نے اور ان سے عبداللہ بن کعب نے بیان کیا کہ میں نے کعب بن مالک سے سنا ، وہ بیان کرتے تھے کہ
جب وہ غزوہ تبوک میں شریک نہیں ہو سکے تھے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے بات چیت کرنے کی ممانعت کر دی تھی اور میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر سلام کرتا تھا اور یہ اندازہ لگاتاتھا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب سلام میں ہونٹ مبارک ہلائے یا نہیں ، آخر پچاس دن گزرگئے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ کی بارگاہ میں ہماری توبہ کے قبول کئے جانے کا نماز فجر کے بعد اعلان کیا ۔
Narrated `Aisha رضی اللہ عنہا :
A group of Jews came to Allah's Messenger (ﷺ) and said, "As-samu 'Alaika " (Death be on you), and I understood it and said to them, "Alaikum AsSamu wa-l-la'na (Death and curse be on you)." Allah's Apostle said, "Be calm! O `Aisha, for Allah loves that one should be kind and lenient in all matters." I said. "O Allah's Messenger (ﷺ)! Haven't you heard what they have said?" Allah's Messenger (ﷺ) said, "I have (already) said (to them), 'Alaikum (upon you).' "
ہم سے ابو الیمان نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم کو شعیب نے خبر دی ، انہیں زہری نے ، انہوں نے کہا کہ مجھے عروہ نے خبر دی ، اور ان سے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیاکہ
کچھ یہودی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کہا کہ ” السام علیک “ ( تمہیں موت آئے ) میں ان کی بات سمجھ گئی اور میں نے جواب دیا ” علیکم السام واللعنۃ “ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا عائشہ صبر سے کام لے کیونکہ اللہ تعالیٰ تمام معاملات میں نرمی کو پسند کرتا ہے ، میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! کیا آپ نے نہیں سنا کہ انہوں نے کیا کہا تھا ؟ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں نے ان کو جواب دے دیا تھا کہ ” وعلیکم “ ( اور تمہیں بھی )
Narrated `Abdullah bin `Umar رضی اللہ عنہما:
Allah's Messenger (ﷺ) said, "When the Jews greet you, they usually say, 'As-Samu 'alaikum (Death be on you),' so you should say (in reply to them), 'Wa'alaikum (And on you).
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم کو امام مالک نے خبر دی ، انہیں عبداللہ بن دینار نے اور ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہمانے بیان کیاکہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تمہیں یہودی سلام کریں اور اگر ان میں سے کوئی ” السام علیک “ کہے تو تم اس کے جواب میں صرف ” وعلیک “ ( اور تمہیں بھی ) کہہ دیا کرو ۔
Narrated Anas bin Malik رضی اللہ عنہ :
The Prophet (ﷺ) said, "If the people of the Scripture greet you, then you should say (in reply), 'Wa'alaikum (And on you).' "
ہم سے عثمان بن ابی شیبہ نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم سے ہشم نے بیان کیا ، انہیں عبداللہ بن ابی بکر بن انس نے خبر دی ، ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیاکہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب اہل کتاب تمہیں سلام کریں تو تم اس کے جواب میں صرف ” وعلیکم “ کہو ۔
Narrated `Ali رضی اللہ عنہ :
Allah's Messenger (ﷺ) sent me, Az-Zubair bin Al-Awwam and Abu Marthad Al-Ghanawi, and all of us were horsemen, and he said, "Proceed till you reach Rawdat Khakh, where there is a woman from the pagans carrying a letter sent by Hatib bin Abi Balta'a to the pagans (of Mecca)." So we overtook her while she was proceeding on her camel at the same place as Allah's Messenger (ﷺ) told us. We said (to her) "Where is the letter which is with you?" She said, "I have no letter with me." So we made her camel kneel down and searched her mount (baggage etc) but could not find anything. My two companions said, "We do not see any letter." I said, "I know that Allah's Messenger (ﷺ) did not tell a lie. By Allah, if you (the lady) do not bring out the letter, I will strip you of your clothes' When she noticed that I was serious, she put her hand into the knot of her waist sheet, for she was tying a sheet round herself, and brought out the letter. So we proceeded to Allah's Messenger (ﷺ) with the letter. The Prophet (ﷺ) said (to Habib), "What made you o what you have done, O Hatib?" Hatib replied, "I have done nothing except that I believe in Allah and His Apostle, and I have not changed or altered (my religion). But I wanted to do the favor to the people (pagans of Mecca) through which Allah might protect my family and my property, as there is none among your companions but has someone in Mecca through whom Allah protects his property (against harm). The Prophet (ﷺ) said, "Habib has told you the truth, so do not say to him (anything) but good." `Umar bin Al-Khattab رضی اللہ عنہ said, "Verily he has betrayed Allah, His Apostle, and the believers! Allow me to chop his neck off!" The Prophet (ﷺ) said, "O `Umar! What do you know; perhaps Allah looked upon the Badr warriors and said, 'Do whatever you like, for I have ordained that you will be in Paradise.'" On that `Umar رضی اللہ عنہ wept and said, "Allah and His Apostle know best."
ہم سے یوسف بن بہلول نے بیان کیا ، کہا ہم سے ابن ادریس نے بیان کیا ، کہا کہ مجھ سے حصین بن عبدالرحمٰن نے بیان کیا ، ان سے سعد بن عبیدہ نے ، ان سے ابوعبدالرحمن سلمی نے اور ان سے حضرت علی رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے زبیر بن عوام اور ابو مرثد غنوی کو بھیجا ۔ ہم سب گھوڑ سوار تھے ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جاؤ اور جب ” روضہ خاخ “ ( مکہ اور مدینہ کے درمیان ایک مقام ) پر پہنچو تو وہاں تمہیں مشرکین کی ایک عورت ملے گی اس کے پاس حاطب بن ابی بلتعہ کا ایک خط ہے جو مشرکین کے پاس بھیجا گیا ہے ( اسے لے آؤ ) بیان کیا کہ ہم نے اس عورت کو پا لیا وہ اپنے اونٹ پر جا رہی تھی اور وہیں پر ملی ( جہاں ) آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بتایا تھا ۔ بیان کیا کہ ہم نے اس سے کہا کہ خط جو تم ساتھ لے جا رہی ہو وہ کہاں ہے ؟ اس نے کہا کہ میرے پاس کوئی خط نہیں ہے ۔ ہم نے اس کے اونٹ کو بٹھایا اور اس کے کجاوہ میں تلاشی لی لیکن ہمیں کوئی چیز نہیں ملی ۔ میرے دونوں ساتھیوں نے کہا کہ ہمیں کوئی خط تو نظر آتا نہیں ۔ بیان کیا کہ میں نے کہا ، مجھے یقین ہے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے غلط بات نہیں کہی ہے ۔ قسم ہے اس کی جس کی قسم کھائی جاتی ہے ، تم خط نکالوورنہ میں تمہیں ننگا کر دوں گا ۔ بیان کیا کہ جب اس عورت نے دیکھا کہ میں واقعی اس معاملہ میں سنجیدہ ہوں تو اس نے ازارباندھنے کی جگہ کی طرف ہاتھ بڑھایا ، وہ ایک چادر ازار کے طور پر باندھے ہوئے تھی اور خط نکالا ۔ بیان کیا کہ ہم اسے لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا ، حاطب تم نے ایسا کیوں کیا ؟ انہوں نے کہا کہ میں اب بھی اللہ اور اس کے رسول پرایمان رکھتاہوں ۔ میرے اندر کوئی تغیر وتبدیلی نہیں آئی ہے ، میرا مقصد ( خط بھیجنے سے ) صرف یہ تھا کہ ( قریش پر آپ کی فوج کشی کی اطلاع دوں اور اس طرح ) میرا ان لوگوں پر احسان ہو جائے اور اس کی وجہ سے اللہ میرے اہل اور مال کی طرف سے ( ان سے ) مدافعت کرائے ۔ آپ کے جتنے مہاجر صحابہ ہیں ان کے مکہ مکرمہ میں ایسے افرادہیں جن کے ذریعہ اللہ ان کے مال اور ان کے گھر والوں کی حفاظت کرائے گا ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا انہوں نے سچ کہ دیا ہے اب تم لوگ ان کے بارے میں سوا بھلائی کے اور کچھ نہ کہو بیان کیا کہ اس پر عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ اس شخص نے اللہ اور اس کے رسول اور مومنوں کے ساتھ خیانت کی مجھے اجازت دیجئیے کہ میں اس کی گردن مار دوں بیان کیا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا عمر ! تمہیں کیا معلوم ، اللہ تعالیٰ بدر کی لڑائی میں شریک صحابہ کی زندگی پر مطلع تھا اور اس کے با وجود کہا کہ تم جو چاہو کرو ، تمہارے لئے جنت لکھ دی گئی ہے ؛؛ بیان کیا کہ اس پر عمر رضی اللہ عنہ کی آنکھیں اشک آلود ہو گئیں اور عرض کیا اللہ اور اس کے رسول ہی زیادہ جاننے والے ہیں
Narrated Abu Sufyan bin Harb رضی اللہ عنہ :
Heraclius had sent for him to come along with a group of the Quraish who were trading in Sha'm, and they came to him. Then Abu Sufyan mentioned the whole narration and said, "Heraclius asked for the letter of Allah's Messenger (ﷺ) . When the letter was read, its contents were as follows: 'In the name of Allah, the Beneficent, the Merciful. From Muhammad, Allah's slave and His Apostle to Heraclius, the Chief of Byzantines: Peace be upon him who follows the right path (guidance)! Amma ba'du (to proceed )...' (See Hadith No 6, Vol 1 for details)
ہم سے محمد بن مقاتل ابوالحسن نے بیان کیا انہوں نے کہا ہم کو عبداللہ نے خبر دی انہوں نے کہا ہم کو یونس نے خبر دی اور ان سے زہری نے بیان کیا انہیں عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ نے خبر دی انہیں حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے خبر دی اور انہیں ابوسفیان بن حرب رضی اللہ عنہ نے خبر دی کہ
ہرقل نے قریش کے چند افراد کے ساتھ انہیں بھی بلا بھیجا یہ لوگ شام تجارت کی غرض سے گئے تھے سب لوگ ہرقل کے پاس آئے پھر انہوں نے واقعہ بیان کیا کہ پھر ہرقل نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا خط منگوایا اور وہ پڑھا گیا خط میں یہ لکھا ہوا تھا ۔ بسم اللہ الرحمن الرحیم محمد کی طرف سے جو اللہ کا بندہ اور اس کا رسول ہے ( صلی اللہ علیہ وسلم ) ہرقل عظیم روم کی طرف ، سلام ہو ان پر جنہوں نے ہدایت کی اتباع کی ۔ امابعد !
Narrated Abu Hurairah (رضی اللہ عنہ ):
Allah's Messenger (ﷺ) mentioned a person from Bani Israel who took a piece of wood, made a hole in it, and put therein one thousand Dinar and letter from him to his friend. Abu Salamah has reported from Hadrat Abu Hurairah رضی اللہ عنہ . The Prophet (ﷺ) said, "(That man) cut a piece of wood and put the money inside it and wrote a letter from such and such a person to such and such a person."
لیث نے بیان کیا کہ مجھ سے جعفر بن ربیع نے بیان کیا ان سے عبدالرحمٰن بن ہرمز نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہ
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بنی اسرائیل کے ایک شخص کا ذکر کیا کہ انہوں نے لکڑ ی کا ایک لٹھا لیا اور اس میں سوراخ کر کے ایک ہزار دینار اور خط رکھ دیا وہ ان کی طرف سے ان کے ساتھی ( قرض خواہ کی طرف تھا اور عمر بن ابی سلمہ نے بیان کیا کہ ان سے ان کے والد نے اور انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ انہوں نے لکڑی کے ایک لٹھے میں سوراخ کیا اور مال اس کے اندر رکھ دیااوار ان کے پاس ایک خط لکھا ، فلاں کی طرف سے فلاں کو ملے ۔
Narrated Abu Sa`id:
The people of (the tribe of) Quraiza agreed upon to accept the verdict of Sa`d رضی اللہ عنہ . The Prophet (ﷺ) sent for him (Sa`d رضی اللہ عنہ) and he came. The Prophet (ﷺ) said (to those people), "Get up for your chief or the best among you!" Sa`d رضی اللہ عنہ sat beside the Prophet (ﷺ) and the Prophet (ﷺ) said (to him), "These people have agreed to accept your verdict." Sa`d رضی اللہ عنہ said, "So I give my judgment that their warriors should be killed and their women and children should be taken as captives." The Prophet (ﷺ) said, "You have judged according to the King's (Allah's) judgment." Imam Bukhari says: Some of my Companions, with reference to Abul Waleed, have told '' عَلَى حُكْمِكَ'' in place of '' إِلَى حُكْمِكَ'' in Hadrat Abu Saeed's statement.
ہم سے ابو الولید نے بیان کیا ، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا ان سے سعد بن ابراہیم نے ان سے ابوامامہ بن سہل بن حنیف نے اور ان سے ابو سعید خدری نے کہ
قریظہ کے یہودی حضرت سعد بن معاذرضی اللہ عنہ کو ثالث بنانے پر تیار ہو گئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں بلا بھیجا جب وہ آئے تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اپنے سردار کے لینے کو اٹھو یا یوں فرمایا کہ اپنے میں سب سے بہتر کو لینے کے لئے اٹھو ۔ پھر وہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھ گئے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بنی قریظہ کے لوگ تمہارے فیصلے پر راضی ہو کر ( قلعہ سے ) اتر آئے ہیں ( اب تم کیا فیصلہ کرتے ہو ۔ ) حضرت سعد رضی اللہ عنہ نے کہا کہ پھر میں یہ فیصلہ کرتا ہوں کہ ان میں جو جنگ کے قابل ہیں انہیں قتل کر دیا جائے اور ان کے بچوں اور عورتوں کو قید کر لیا جائے ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ آپ نے وہی فیصلہ فرمایا جس فیصلہ کو فرشتہ لے کر آیا تھا ۔ ابوعبداللہ ! ( مصنف ) نے بیان کیا کہ مجھے میرے بعض اصحاب نے ابو الولید کے واسطہ سے ابوسعید رضی اللہ عنہ کا قول ( علی کے بجائے بصلہ ” الی “ حکمک نقل کیا ہے ۔
Narrated Qatada:
I asked Anas رضی اللہ عنہ , "Was it a custom of the companions of the Prophet (ﷺ) to shake hands with one another?" He said, "Yes."
ہم سے عمرو بن عاصم نے بیان کیا ، کہا ہم سے ہمام نے بیان کیا ان سے قتادہ نے کہ
میں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا ، کیامصافحہ کا دستور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ میں تھا ؟ انہوں نے کہا کہ ہاں ضرور تھا ۔
Narrated `Abdullah bin Hisham رضی اللہ عنہ :
We were in the company of the Prophet (ﷺ) and he was holding the hand of `Umar bin Al-Khattab رضی اللہ عنہ .
ہم سے یحییٰ بن سلیمان نے بیان کیا ، انہوں نے کہا کہ مجھ سے ابن وہب نے بیان کیا ، انہوں نے کہا کہ مجھے حیوہ نے خبر دی ، کہا کہ مجھ سے ابو عقیل زہرہ بن معبد نے بیان کیا ، انہوں نے اپنے دادا عبداللہ بن ہشام رضی اللہ عنہ سے سنا ، انہوں نے بیان کیا کہ
ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم عمر بن خطا ب رضی اللہ عنہ کا ہاتھ پکڑے ہوئے تھے ۔
Narrated Ibn Mas`ud رضی اللہ عنہما :
Allah's Messenger (ﷺ) taught me the Tashah-hud as he taught me a Sura from the Qur'an, while my hand was between his hands. (Tashah-hud was) all the best compliments and the prayers and the good things are for Allah. Peace and Allah's Mercy and Blessings be on you, O Prophet! Peace be on us and on the pious slaves of Allah, I testify that none has the right to be worshipped but Allah, and I also testify that Muhammad is Allah's slave and His Apostle. (We used to recite this in the prayer) during the lifetime of the Prophet (ﷺ) , but when he had died, we used to say, "Peace be on the Prophet."
ہم سے ابونعیم نے بیان کیا ، کہا ہم سے سیف نے بیان کیا ، انہوں نے کہا کہ میں نے مجاہد سے سنا ، انہوں نے کہا کہ مجھ سے عبداللہ بن بخرہ ابو معمر نے بیان کیا کہ میں نے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہما سے سنا ، انہوں نے بیان کیا کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے تشہد سکھایا ، اس وقت میر اہاتھ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ہتھیلیوں کے درمیان میں تھا ( اس طرح سکھایا ) جس طرح آپ قرآن کی سورت سکھا یا کرتے تھے ۔ التحیات للہ والصلوات والطیبات السلام علیک ایھا النبی ورحمۃ اللہ وبرکاتہ السلام علینا وعلی عباداللہ الصالحین اشہد ان لا الٰہ الا اللہ واشہد ان محمدا عبدہ ورسولہ ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت حیات تھے ۔ جب آپ کی وفات ہو گئی تو ہم ( خطاب کا صیغہ کے بجائے ) اس طرح پڑھنے لگے ۔ ” السلام علی النبی “ یعنی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر سلام ہو ۔
Narrated `Abdullah bin `Abbas رضی اللہ عنہما :
`Ali bin Abu Talib رضی اللہ عنہ came out of the house of the Prophet (ﷺ) during his fatal ailment. Abdullah bin Ka'b bin Maalik states that Hadrat Abdullah bin Abbas رضی اللہ عنہما told me that Hadrat Ali bin Abu Taalib رضی اللہ عنہ visited the prophet ﷺ during his terminal illness and than came out. The people asked (`Ali), "O Abu Hasan! How is the health of Allah's Messenger (ﷺ) this morning?" `Ali said, "This morning he is better, with the grace of Allah." Al-`Abbas رضی اللہ عنہما held `Ali رضی اللہ عنہ by the hand and said, "Don't you see him (about to die)? By Allah, within three days you will be the slave of the stick (i.e., under the command of another ruler). By Allah, I think that Allah's Messenger (ﷺ) will die from his present ailment, for I know the signs of death on the faces of the offspring of `Abdul Muttalib. So let us go to Allah's Messenger (ﷺ) to ask him who will take over the Caliphate. If the authority is given to us, we will know it, and if it is given to somebody else we will request him to recommend us to him. " `Ali رضی اللہ عنہ said, "By Allah! If we ask Allah's Messenger (ﷺ) for the rulership and he refuses, then the people will never give it to us. Besides, I will never ask Allah's Messenger (ﷺ) for it." (See Hadith No 728, Vol 5)
ہم سے اسحاق بن راہویہ نے بیان کیا ، کہا ہم کو بشر بن شعیب نے خبر دی ، کہا مجھ سے میرے والد نے بیان کیا ، ان سے زہری نے ، کہا مجھ کو عبداللہ بن کعب نے خبر دی اور ان کو عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے خبر دی کہ
حضرت علی ابن ابی طالب رضی اللہ عنہ ( مرض الموت میں ) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے نکلے ( دوسری سند ) بخاری نے کہا اور ہم سے احمد بن صالح نے بیان کیا ، کہا ہم سے عنبسہ بن خالد نے بیان کیا ، کہا ہم سے یونس بن یزید نے بیان کیا ، ان سے ابن شہاب زہری نے بیان کیا ، کہا مجھ کو عبداللہ بن کعب بن مالک نے خبر دی اور انہیں عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے خبر دی کہ حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے یہاں سے نکلے ، یہ اس مرض کا واقعہ ہے جس میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوئی تھی ۔ لوگوں نے پوچھا اے ابو لحسن ! حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے صبح کیسی گزاری ؟ انہوں نے کہا کہ بحمدللہ آپ کو سکون رہا ہے ۔ پھر حضرت علی رضی اللہ عنہ کا ہاتھ حضرت عباس رضی اللہ عنہ نے پکڑ کر کہا ۔ کیا تم آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھتے نہیں ہو ۔ ( واللہ ) تین دن کے بعد تمہیں لاٹھی کا بندہ بننا پڑے گا ۔ واللہ میں سمجھتا ہوں کہ اس مرض میں آپ وفات پا جائیں گے ۔ میں بنی عبدالمطلب کے چہروں پر موت کے آثار کو خوب پہچانتا ہوں ، اس لئے ہمارے ساتھ تم آپ کے پاس چلو ۔ تاکہ پوچھا جائے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد خلافت کس کے ہاتھ میں رہے گی اگر وہ ہمیں لوگوں کو ملتی ہے تو ہمیں معلوم ہو جائے گا اور اگر دوسروں کے پاس جائے گی تو ہم عرض کریں گے تاکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے بارے میں کچھ وصیت کریں ۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے کہا کہ واللہ ! اگر ہم نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے خلافت کی درخواست کی اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے انکار کر دیا تو پھر لوگ ہمیں کبھی نہیں دیں گے میں تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے کبھی نہیں پوچھوں گا کہ آپ کے بعد کون خلیفہ ہو ۔