Back to Sahih Bukhari

Asking Permission

كتاب الاستئذان

Chapter 80

Hadith 6267
Sahih
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، عَنْ مُعَاذٍ، قَالَ أَنَا رَدِيفُ النَّبِيِّ، صلى الله عليه وسلم فَقَالَ ‏"‏ يَا مُعَاذُ ‏"‏‏.‏ قُلْتُ لَبَّيْكَ وَسَعْدَيْكَ‏.‏ ثُمَّ قَالَ مِثْلَهُ ثَلاَثًا ‏"‏ هَلْ تَدْرِي مَا حَقُّ اللَّهِ عَلَى الْعِبَادِ أَنْ يَعْبُدُوهُ وَلاَ يُشْرِكُوا بِهِ شَيْئًا ‏"‏‏.‏ ثُمَّ سَارَ سَاعَةً فَقَالَ ‏"‏ يَا مُعَاذُ ‏"‏‏.‏ قُلْتُ لَبَّيْكَ وَسَعْدَيْكَ‏.‏ قَالَ ‏"‏ هَلْ تَدْرِي مَا حَقُّ الْعِبَادِ عَلَى اللَّهِ إِذَا فَعَلُوا ذَلِكَ أَنْ لاَ يُعَذِّبَهُمْ ‏"‏‏.‏ حَدَّثَنَا هُدْبَةُ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ، عَنْ أَنَسٍ، عَنْ مُعَاذٍ، بِهَذَا‏.‏
English

Narrated Mu`adh رضی اللہ عنہ :

While I was a companion rider with the Prophet (ﷺ) he said, "O Mu`adh!" I replied, "Labbaik wa Sa`daik." He repeated this call three times and then said, "Do you know what Allah's Right on His slaves is?" I replied, "No." He said, Allah's Right on His slaves is that they should worship Him (Alone) and should not join partners in worship with Him." He said, "O Mu`adh!" I replied, "Labbaik wa Sa`daik." He said, "Do you know what the right of (Allah's) salves on Allah is, if they do that (worship Him Alone and join none in His worship)? It is that He will not punish them." (another chain through Mu'adh)

Urdu

ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا ، کہا ہم سے ہمام نے بیان کیا ، ان سے قتادہ نے ، ان سے انس رضی اللہ عنہ نے اور ان سے معاذ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ

میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سواری پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے سوار تھا آپ نے فرمایا اے معاذ ! میں نے کہا ۔ ” لبیک وسعدیک “ ( حاضر ہوں ) پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے تین مرتبہ مجھے اسی طرح مخاطب کیا اس کے بعد فرمایا تمہیں معلوم ہے کہ بندوں پر اللہ کاکیا حق ہے ؟ ( پھر خود ہی جواب دیا ) کہ یہ کہ اسی کی عبادت کریں اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرائیں پھر آپ تھوڑی دیر چلتے رہے اور فرمایا اے معاذ ! میں نے عرض کی ” لبیک وسعدیک “ فرمایا تمہیں معلوم ہے کہ جب وہ یہ کر لیں تو اللہ پر بندوں کا کیا حق ہے ؟ یہ کہ انہیں عذاب نہ دے ۔

Hadith 6268
Sahih
حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ وَهْبٍ، حَدَّثَنَا وَاللَّهِ أَبُو ذَرٍّ، بِالرَّبَذَةِ كُنْتُ أَمْشِي مَعَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فِي حَرَّةِ الْمَدِينَةِ عِشَاءً اسْتَقْبَلَنَا أُحُدٌ فَقَالَ ‏"‏ يَا أَبَا ذَرٍّ مَا أُحِبُّ أَنَّ أُحُدًا لِي ذَهَبًا يَأْتِي عَلَىَّ لَيْلَةٌ أَوْ ثَلاَثٌ عِنْدِي مِنْهُ دِينَارٌ، إِلاَّ أُرْصِدُهُ لِدَيْنٍ، إِلاَّ أَنْ أَقُولَ بِهِ فِي عِبَادِ اللَّهِ هَكَذَا وَهَكَذَا وَهَكَذَا ‏"‏‏.‏ وَأَرَانَا بِيَدِهِ‏.‏ ثُمَّ قَالَ ‏"‏ يَا أَبَا ذَرٍّ ‏"‏‏.‏ قُلْتُ لَبَّيْكَ وَسَعْدَيْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ‏.‏ قَالَ ‏"‏ الأَكْثَرُونَ هُمُ الأَقَلُّونَ إِلاَّ مَنْ قَالَ هَكَذَا وَهَكَذَا ‏"‏‏.‏ ثُمَّ قَالَ لِي ‏"‏ مَكَانَكَ لاَ تَبْرَحْ يَا أَبَا ذَرٍّ حَتَّى أَرْجِعَ ‏"‏‏.‏ فَانْطَلَقَ حَتَّى غَابَ عَنِّي، فَسَمِعْتُ صَوْتًا فَخَشِيتُ أَنْ يَكُونَ عُرِضَ لِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَأَرَدْتُ أَنْ أَذْهَبَ، ثُمَّ ذَكَرْتُ قَوْلَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ لاَ تَبْرَحْ ‏"‏‏.‏ فَمَكُثْتُ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ سَمِعْتُ صَوْتًا خَشِيتُ أَنْ يَكُونَ عُرِضَ لَكَ، ثُمَّ ذَكَرْتُ قَوْلَكَ فَقُمْتُ‏.‏ فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ ذَاكَ جِبْرِيلُ أَتَانِي، فَأَخْبَرَنِي أَنَّهُ مَنْ مَاتَ مِنْ أُمَّتِي لاَ يُشْرِكُ بِاللَّهِ شَيْئًا دَخَلَ الْجَنَّةَ ‏"‏‏.‏ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَإِنْ زَنَى وَإِنْ سَرَقَ‏.‏ قَالَ ‏"‏ وَإِنْ زَنَى وَإِنْ سَرَقَ ‏"‏‏.‏ قُلْتُ لِزَيْدٍ إِنَّهُ بَلَغَنِي أَنَّهُ أَبُو الدَّرْدَاءِ‏.‏ فَقَالَ أَشْهَدُ لَحَدَّثَنِيهِ أَبُو ذَرٍّ بِالرَّبَذَةِ‏.‏ قَالَ الأَعْمَشُ وَحَدَّثَنِي أَبُو صَالِحٍ عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ نَحْوَهُ‏.‏ وَقَالَ أَبُو شِهَابٍ عَنِ الأَعْمَشِ ‏"‏ يَمْكُثُ عِنْدِي فَوْقَ ثَلاَثٍ ‏"‏‏.‏
English

Narrated Abu Dhar رضی اللہ عنہ :

While I was walking with the Prophet (ﷺ) at the Hurra of Medina in the evening, the mountain of Uhud appeared before us. The Prophet (ﷺ) said, "O Abu Dhar! I would not like to have gold equal to Uhud (mountain) for me, unless nothing of it, not even a single Dinar remains of it with me, for more than one day or three days, except that single Dinar which I will keep for repaying debts. I will spend all of it (the whole amount) among Allah's slaves like this and like this and like this." The Prophet (ﷺ) pointed out with his hand to illustrate it and then said, "O Abu Dhar!" I replied, "Labbaik wa Sa`daik, O Allah's Messenger (ﷺ)!" He said, "Those who have much wealth (in this world) will be the least rewarded (in the Hereafter) except those who do like this and like this (i.e., spend their money in charity)." Then he ordered me, "Remain at your place and do not leave it, O Abu Dhar, till I come back." He went away till he disappeared from me. Then I heard a voice and feared that something might have happened to Allah's Messenger (ﷺ), and I intended to go (to find out) but I remembered the statement of Allah's Messenger (ﷺ) that I should not leave, my place, so I kept on waiting (and after a while the Prophet (ﷺ) came), and I said to him, "O Allah's Messenger (ﷺ), I heard a voice and I was afraid that something might have happened to you, but then I remembered your statement and stayed (there). The Prophet (ﷺ) said, "That was Gabriel who came to me and informed me that whoever among my followers died without joining others in worship with Allah, would enter Paradise." I said, "O Allah's Messenger (ﷺ)! Even if he had committed illegal sexual intercourse and theft?" He said, "Even if he had committed illegal sexual intercourse and theft." I (Amash) said to Zaid: I know that its reporter is Hadrat Abu Derda رضی اللہ عنہ , he whereupon, replied: I testify that Hadrat Abu Dharr Ghifari رضی اللہ عنہ narrated this Hadith to me in Rabadha. Amash, Abu Sualih has reported likewise from Hadrat Abu Dharr Ghifari رضی اللہ عنہ . Abu Shihab's report from Amash says: It stays with me more than three days.

Urdu

ہم سے عمر بن حفص بن غیاث نے بیان کیا ، کہا مجھ سے میرے والد نے بیان کیا کہا ہم سے اعمش نے بیان کیا ، کہا ہم سے زید بن وہب نے بیان کیا ( کہا کہ ) واللہ ہم سے ابوذر رضی اللہ عنہ نے مقام ربذہ میں بیان کیا کہ

میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رات کے وقت مدینہ منورہ کی کالی پتھروں والی زمین پر چل رہا تھا کہ احد پہاڑ دکھائی دیا ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے ابوذر ! مجھے پسند نہیں کہ اگر احد پہاڑکے برابر بھی میرے پاس سونا ہو اور مجھ پر ایک رات بھی اس طرح گذرجائے یا تین رات کہ اس میں سے ایک دینا ر بھی میرے پاس باقی بچے ۔ سوائے اس کے جو میں قرض کی ادائیگی کے لئے محفوظ رکھ لوں میں اس سارے سونے کو اللہ کی مخلوق میں اس اس طرح تقسیم کر دوں گا ۔ ابوذر رضی اللہ عنہ نے اس کی کیفیت ہمیں اپنے ہاتھ سے لپ بھر کردکھائی پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے ابوذر ! میں نے عرض کیا لبیک وسعدیک یا رسول اللہ ! آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا زیادہ جمع کرنے والے ہی ( ثواب کی حیثیت سے ) کم حاصل کرنے والے ہوں گے ۔ سوائے اس کے جو اللہ کے بندوں پر مال اس اس طرح یعنی کثرت کے ساتھ خرچ کرے ۔ پھر فرمایا یہیں ٹھہرے رہو ابوذر ! یہاں سے اس وقت تک نہ ہٹنا جب تک میں واپس نہ آ جاؤں ۔ پھرآنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے گئے اور نظروں سے اوجھل ہو گئے ۔ اس کے بعد میں نے آواز سنی اور مجھے خطرہ ہوا کہ کہیں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو کوئی پریشانی نہ پیش آ گئی ہو ۔ اس لئے میں نے ( آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھنے کے لئے ) جانا چاہا لیکن فوراً ہی آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد یاد آیا کہ یہاں سے نہ ہٹنا ۔ چنانچہ میں وہیں رک گیا ( جب آپ تشریف لائے تو ) میں نے عرض کی ۔ میں نے آواز سنی تھی اور مجھے خطرہ ہو گیا تھا کہ کہیں آپ کو کوئی پریشانی نہ پیش آ جائے پھر مجھے آپ کا ارشاد یاد آیا اس لئے میں یہیں ٹھہر گیا ۔ آنحضر ت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ جبرائیل علیہ السلام تھے ۔ میرے پاس آئے تھے اور مجھے خبر دی ہے کہ میری امت کا جو شخص بھی اس حال میں مرے گا کہ اللہ کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ ٹھہر اتا ہو تو وہ جنت میں جائے گا ۔ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! اگرچہ اس نے زنا اور چوری کی ہو ؟ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہاں اگر اس نے زنا اور چوری بھی کی ہو ۔ ( اعمش نے بیان کیا کہ ) میں نے زید بن وہب سے کہا کہ مجھے معلوم ہوا ہے کہ اس حدیث کے راوی ابودرداء رضی اللہ عنہ ہیں ؟ حضرت زید نے فرمایا میں گواہی دیتا ہوں کہ یہ حدیث مجھ سے ابو ذررضی اللہ عنہ نے مقام ربذہ میں بیان کی تھی ۔ اعمش نے بیان کیا کہ مجھ سے ابوصالح نے حدیث بیان کی اور ان سے ابو الدرداء رضی اللہ عنہ نے اسی طرح بیان کیا اور ابو شہاب نے اعمش سے بیان کیا ۔

Hadith 6269
Sahih
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ـ رضى الله عنهما ـ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ لاَ يُقِيمُ الرَّجُلُ الرَّجُلَ مِنْ مَجْلِسِهِ، ثُمَّ يَجْلِسُ فِيهِ ‏"‏‏.‏
English

Narrated Ibn `Umar رضی اللہ عنہما :

The Prophet (ﷺ) said, "A man should not make another man get up from his (the latter's) seat (in a gathering) in order to sit there.

Urdu

ہم سے اسماعیل بن عبداللہ نے بیان کیا ، انہوں نے کہا کہ مجھ سے امام مالک نے بیان کیا ، ان سے نافع نے بیان کیا اور ان سے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کوئی شخص کسی دوسرے شخص کو اس کے بیٹھنے کی جگہ سے نہ اٹھائے کہ خود وہاں بیٹھ جائے ۔

Hadith 6270
Sahih
حَدَّثَنَا خَلاَّدُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُ نَهَى أَنْ يُقَامَ الرَّجُلُ مِنْ مَجْلِسِهِ وَيَجْلِسَ فِيهِ آخَرُ، وَلَكِنْ تَفَسَّحُوا وَتَوَسَّعُوا‏.‏ وَكَانَ ابْنُ عُمَرَ يَكْرَهُ أَنْ يَقُومَ الرَّجُلُ مِنْ مَجْلِسِهِ، ثُمَّ يُجْلِسَ مَكَانَهُ‏.‏
English

Narrated Ibn `Umar رضی اللہ عنہما :

The Prophet (ﷺ) forbade that a man should be made to get up from his seat so that another might sit on it, but one should make room and spread out. Ibn `Umar رضی اللہ عنہما disliked that a man should get up from his seat and then somebody else sit at his place.

Urdu

ہم سے خلاد بن یحییٰ نے بیان کیا ، کہا ہم سے سفیان ثوری نے بیان کیا ، ان سے عبداللہ عمری نے ، ان سے نافع اور ان سے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع فرمایا تھا کہ کسی شخص کو اس کی جگہ سے اٹھایا جائے تاکہ دوسرا اس کی جگہ بیٹھے ، البتہ ( آنے والے کو مجلس میں ) جگہ دے دیا کرو اور فراخی کر دیا کرو اور حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما ناپسند کرتے تھے کہ کوئی شخص مجلس میں سے کسی کو اٹھا کر خود اس کی جگہ بیٹھ جائے ۔

Hadith 6271
Sahih
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ، سَمِعْتُ أَبِي يَذْكُرُ، عَنْ أَبِي مِجْلَزٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ لَمَّا تَزَوَّجَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم زَيْنَبَ ابْنَةَ جَحْشٍ دَعَا النَّاسَ طَعِمُوا ثُمَّ جَلَسُوا يَتَحَدَّثُونَ ـ قَالَ ـ فَأَخَذَ كَأَنَّهُ يَتَهَيَّأُ لِلْقِيَامِ فَلَمْ يَقُومُوا، فَلَمَّا رَأَى ذَلِكَ قَامَ، فَلَمَّا قَامَ قَامَ مَنْ قَامَ مَعَهُ مِنَ النَّاسِ، وَبَقِيَ ثَلاَثَةٌ، وَإِنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم جَاءَ لِيَدْخُلَ فَإِذَا الْقَوْمُ جُلُوسٌ، ثُمَّ إِنَّهُمْ قَامُوا فَانْطَلَقُوا ـ قَالَ ـ فَجِئْتُ فَأَخْبَرْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُمْ قَدِ انْطَلَقُوا، فَجَاءَ حَتَّى دَخَلَ فَذَهَبْتُ أَدْخُلُ، فَأَرْخَى الْحِجَابَ بَيْنِي وَبَيْنَهُ، وَأَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَى ‏{‏يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لاَ تَدْخُلُوا بُيُوتَ النَّبِيِّ إِلاَّ أَنْ يُؤْذَنَ لَكُمْ‏}‏ إِلَى قَوْلِهِ ‏{‏إِنَّ ذَلِكُمْ كَانَ عِنْدَ اللَّهِ عَظِيمًا‏}‏‏.‏
English

Narrated Anas bin Malik رضی اللہ عنہ :

When Allah's Messenger (ﷺ) married Zainab bint Jahsh, he invited the people who took their meals and then remained sitting and talking. The Prophet (ﷺ) pretended to be ready to get up, but the people did not get up. When he noticed that, he got up, and when he had got up, some of those people got up along with him and there remained three (who kept on sitting). Then the Prophet (ﷺ) came back and found those people still sitting. Later on those people got up and went away. So I went to the Prophet (ﷺ) and informed him that they had left. The Prophet (ﷺ) came, and entered (his house). I wanted to enter(along with him) but he dropped a curtain between me and him. Allah then revealed: 'O you who believe! Do not enter the Prophet's Houses until leave is given... (to His statement)... Verily! That shall be an enormity, in Allah's sight.' (33.53)

Urdu

ہم سے حسن بن عمر نے بیان کیا ، کہا ہم سے معتمر بن سلیمان نے ، کہا میں نے اپنے والد سے سنا ، وہ ابو مجلز ( حق بن حمید ) سے بیان کرتے تھے اور ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ

جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے زینب بنت جحش رضی اللہ عنہ سے نکاح کیا تو لوگوں کو ( دعوت ولیمہ پر ) بلایا ۔ لوگوں نے کھانا کھایا پھر بیٹھ کر باتیں کرتے رہے بیان کیا کہ پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا کیا گویا آپ اٹھنا چاہتے ہیں ۔ لیکن لوگ ( بےحد بیٹھے ہوئے تھے ) پھر بھی کھڑے نہیں ہوئے ۔ جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ دیکھا تو آپ کھڑے ہو گئے جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے تو آپ کے ساتھ اور بھی بہت سے صحابہ کھڑے ہو گئے لیکن تین آدمی اب بھی باقی رہ گئے ۔ اس کے بعد حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اندر جانے کے لئے تشریف لائے لیکن وہ لوگ اب بھی بیٹھے ہوئے تھے ۔ اس کے بعد وہ لوگ بھی چلے گئے ۔ انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ پھر میں آیا اور میں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو اطلاع دی کہ وہ ( تین آدمی ) بھی جا چکے ہیں ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور اندر داخل ہو گئے ۔ میں نے بھی اند ر جانا چاہا لیکن آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے اور اپنے درمیان پردہ ڈال لیا اور اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی ۔ اے ایمان والو ! نبی کے گھر میں اس وقت تک داخل نہ ہو جب تک تمہیں اجازت نہ دی جائے ۔ ارشادہوا ” ان ذالکم عند اللہ اجرا عظیماً “ تک ۔

Hadith 6272
Sahih
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي غَالِبٍ، أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ الْحِزَامِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُلَيْحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِفِنَاءِ الْكَعْبَةِ مُحْتَبِيًا بِيَدِهِ هَكَذَا‏.‏
English

Narrated Ibn `Umar رضی اللہ عنہما :

I saw Allah's Messenger (ﷺ) in the courtyard of the Ka`ba in the Ihtiba.' posture putting his hand round his legs like this.

Urdu

ہم سے محمد بن ابی غالب نے بیان کیا ، کہا ہم کو ابراہیم بن المنذر حزامی نے خبر دی ، کہا ہم سے محمد بن فلیح نے بیان کیا ، ان سے ان کے باپ نے ، ان سے نافع نے اور ان سے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ

میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو صحن کعبہ میں دیکھا کہ آپ سرین پر بیٹھے ہوئے دونوں رانیں شکم مبارک سے ملائے ہوئے ہاتھوں سے پنڈلی پکڑے ہوئے بیٹھے تھے ۔

Hadith 6273
Sahih
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ، حَدَّثَنَا الْجُرَيْرِيُّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ أَلاَ أُخْبِرُكُمْ بِأَكْبَرِ الْكَبَائِرِ ‏"‏‏.‏ قَالُوا بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ‏.‏ قَالَ ‏"‏ الإِشْرَاكُ بِاللَّهِ، وَعُقُوقُ الْوَالِدَيْنِ ‏"‏‏.‏
English

Narrated Abu Bakra:

Allah's Messenger (ﷺ) said, "Shall I inform you of the biggest of the great sins?" They said, "Yes, O Allah's Apostle!" He said, "To join partners in worship with Allah, and to be undutiful to one's parents. "

Urdu

ہم سے علی بن عبداللہ مدینی نے بیان کیا ، کہا ہم سے بشر بن مفضل نے بیان کیا ، کہا ہم سے سعید بن ایاس جریر ی نے بیان کیا ، ان سے عبدالرحمٰن بن ابی بکرہ نے اور ان سے ان کے باپ نے بیان کیا کہ

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا میں تمہیں سب سے بڑے گناہ کی خبر نہ دوں ۔ صحابہ رضی اللہ عنہم نے عرض کیا کیوں نہیں یا رسول اللہ ! آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ کے ساتھ شرک نہ کرنا اور والدین کی نافرمانی نہ کرنا ۔

Hadith 6274
Sahih
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا بِشْرٌ، مِثْلَهُ، وَكَانَ مُتَّكِئًا فَجَلَسَ فَقَالَ ‏ "‏ أَلاَ وَقَوْلُ الزُّورِ ‏"‏‏.‏ فَمَا زَالَ يُكَرِّرُهَا حَتَّى قُلْنَا لَيْتَهُ سَكَتَ‏.‏
English

Narrated Bishr:

The Prophet (ﷺ) was reclining (leaning) and then he sat up saying, "And I warn you against giving a false statement." And he kept on saying that warning so much so that we said, "Would that he had stopped."

Urdu

ہم سے مسدد نے بیان کیا ، کہا ہم سے بشر بن مفضل نے اسی طرح مثال بیان کیا ، ( اور یہ بھی بیان کیا کہ )

آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ٹیک لگائے ہوئے تھے پھر آپ سیدھے بیٹھ گئے اور فرمایا ہاں اور جھوٹی بات بھی ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اسے اتنی مرتبہ باربار دہر ا تے رہے کہ ہم نے کہا ، کاش آپ خاموش ہو جاتے ۔

Hadith 6275
Sahih
حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، عَنْ عُمَرَ بْنِ سَعِيدٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، أَنَّ عُقْبَةَ بْنَ الْحَارِثِ، حَدَّثَهُ قَالَ صَلَّى النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم الْعَصْرَ، فَأَسْرَعَ، ثُمَّ دَخَلَ الْبَيْتَ‏.‏
English

Narrated `Uqba bin Al-Harith رضی اللہ عنہ :

Once the Prophet (ﷺ) offered the `Asr prayer and then he walked quickly and entered his house.

Urdu

ہم سے ابو عاصم نے بیان کیا ، ان سے عمر بن سعید نے بیان کیا ، ان سے ابن ابی ملیکہ نے اور ان سے عقبہ بن حارث رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں عصر کی نماز پڑھائی اور پھر بڑی تیزی کے ساتھ چل کر آپ گھر میں داخل ہو گئے ۔

Hadith 6276
Sahih
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي الضُّحَى، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُصَلِّي وَسْطَ السَّرِيرِ، وَأَنَا مُضْطَجِعَةٌ بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْقِبْلَةِ تَكُونُ لِيَ الْحَاجَةُ، فَأَكْرَهُ أَنْ أَقُومَ فَأَسْتَقْبِلَهُ فَأَنْسَلُّ انْسِلاَلاً‏.‏
English

Narrated `Aisha رضی اللہ عنہا :

Allah's Messenger (ﷺ) used to offer his prayer (while standing) in the midst of the bed, and I used to lie in front of him between him and the Qibla It I had any necessity for getting up and I used to dislike to get up and face him (while he was in prayer), but I would gradually slip away from the bed.

Urdu

ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا ، کہا ہم سے جریر نے بیان کیا ، ان سے اعمش نے ، ان سے ابو الضحیٰ نے ، ان سے مسروق نے اور ان سے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تخت کے وسط میں نماز پڑھتے تھے اور میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور قبلہ کے درمیان لیٹی رہتی تھی مجھے کوئی ضرورت ہوتی لیکن مجھ کو کھڑے ہو کر آپ کے سامنے آنا برا معلوم ہوتا ۔ البتہ آپ کی طرف رخ کر کے میں آہستہ سے کھسک جاتی تھی ۔

Hadith 6277
Sahih
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ،‏.‏ وَحَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ، عَنْ خَالِدٍ، عَنْ أَبِي قِلاَبَةَ، قَالَ أَخْبَرَنِي أَبُو الْمَلِيحِ، قَالَ دَخَلْتُ مَعَ أَبِيكَ زَيْدٍ عَلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو فَحَدَّثَنَا أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم ذُكِرَ لَهُ صَوْمِي، فَدَخَلَ عَلَىَّ، فَأَلْقَيْتُ لَهُ وِسَادَةً مِنْ أَدَمٍ حَشْوُهَا لِيفٌ، فَجَلَسَ عَلَى الأَرْضِ، وَصَارَتِ الْوِسَادَةُ بَيْنِي وَبَيْنَهُ، فَقَالَ لِي ‏"‏ أَمَا يَكْفِيكَ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ ثَلاَثَةُ أَيَّامٍ ‏"‏‏.‏ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ‏.‏ قَالَ ‏"‏ خَمْسًا ‏"‏‏.‏ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ‏.‏ قَالَ ‏"‏ سَبْعًا ‏"‏‏.‏ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ‏.‏ قَالَ ‏"‏ تِسْعًا ‏"‏‏.‏ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ‏.‏ قَالَ ‏"‏ إِحْدَى عَشْرَةَ ‏"‏‏.‏ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ‏.‏ قَالَ ‏"‏ لاَ صَوْمَ فَوْقَ صَوْمِ دَاوُدَ، شَطْرَ الدَّهْرِ، صِيَامُ يَوْمٍ، وَإِفْطَارُ يَوْمٍ ‏"‏‏.‏
English

Narrated `Abdullah bin `Amr رضی اللہ عنہما :

The news of my fasting was mentioned to the Prophet (ﷺ) . So he entered upon me and I put for him a leather cushion stuffed with palm-fibres. The Prophet (ﷺ) sat on the floor and the cushion was between me and him. He said to me, "Isn't it sufficient for you (that you fast) three days a month?" I said, "O Allah's Messenger (ﷺ)! (I can fast more than this)." He said, "You may fast) five days a month." I said, "O Allah's Messenger (ﷺ)! (I can fast more than this)." He said, "(You may fast) seven days." I said, "O Allah's Apostle!" He said, "Nine." I said, "O Allah's Messenger (ﷺ)!" He said, "Eleven." I said, "O Allah's Messenger (ﷺ)!" He said, "No fasting is superior to the fasting of (the Prophet (ﷺ) David) which was one half of a year, and he used, to fast on alternate days. (See Hadith No. 300, Vol 3)

Urdu

ہم سے اسحاق بن شاہین واسطی نے بیان کیا ، کہا ہم سے خالد نے بیان کیا ( دوسری سند ) حضرت امام بخاری رحمہ اللہ نے کہا اور مجھ سے عبداللہ بن محمد مسندی نے بیان کیا ، ان سے عمرو بن عون نے بیان کیا ، ان سے خالد ( بن عبداللہ طحان ) نے بیان کیا ، ان سے خالد ( حذاء ) نے ، ان سے ابوقلابہ نے بیان کیا ، کہا کہ مجھے ابوالملیح عامربن زید نے خبر دی ، انہوں نے ( ابوقلابہ ) کو ( خطاب کر کے ) کہا کہ میں تمہارے والد زید کے ساتھ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کی خدمت میں حاضر ہوا ، انہوں نے ہم سے بیان کیا کہ

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے میرے روزے کا ذکر کیا گیا ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم میرے یہاں تشریف لائے میں نے آپ کے لئے چمڑے کا ایک گدا ، جس میں کھجو ر کی چھا ل بھری ہوئی تھی بچھادیا ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم زمین پر بیٹھے اور گدا میرے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے درمیان ویساہی پڑا رہا ۔ پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا کیا تمہارے لئے ہر مہینے میں تین دن کے ( روزے ) کافی نہیں ؟ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پھر پانچ دن رکھا کر ۔ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! فرمایا سات دن ۔ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! فرمایا نودن ۔ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! فرمایا گیارہ دن ۔ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! فرمایا حضرت داؤ د علیہ السلام کے روزے سے زیادہ کوئی روزہ نہیں ہے ۔ زندگی کے نصف ایام ، ایک دن کا روزہ اور ایک دن بغیر روزہ کے رہنا ۔

Hadith 6278
Sahih
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ مُغِيرَةَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، أَنَّهُ قَدِمَ الشَّأْمَ‏.‏ وَحَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ مُغِيرَةَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ ذَهَبَ عَلْقَمَةُ إِلَى الشَّأْمِ، فَأَتَى الْمَسْجِدَ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ فَقَالَ اللَّهُمَّ ارْزُقْنِي جَلِيسًا‏.‏ فَقَعَدَ إِلَى أَبِي الدَّرْدَاءِ فَقَالَ مِمَّنْ أَنْتَ قَالَ مِنْ أَهْلِ الْكُوفَةِ‏.‏ قَالَ أَلَيْسَ فِيكُمْ صَاحِبُ السِّرِّ الَّذِي كَانَ لاَ يَعْلَمُهُ غَيْرُهُ ـ يَعْنِي حُذَيْفَةَ ـ أَلَيْسَ فِيكُمْ ـ أَوْ كَانَ فِيكُمُ ـ الَّذِي أَجَارَهُ اللَّهُ عَلَى لِسَانِ رَسُولِهِ صلى الله عليه وسلم مِنَ الشَّيْطَانِ ـ يَعْنِي عَمَّارًا ـ أَوَلَيْسَ فِيكُمْ صَاحِبُ السِّوَاكِ وَالْوِسَادِ ـ يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ ـ كَيْفَ كَانَ عَبْدُ اللَّهِ يَقْرَأُ ‏{‏وَاللَّيْلِ إِذَا يَغْشَى‏}‏‏.‏ قَالَ ‏{‏وَالذَّكَرِ وَالأُنْثَى‏}‏‏.‏ فَقَالَ مَا زَالَ هَؤُلاَءِ حَتَّى كَادُوا يُشَكِّكُونِي، وَقَدْ سَمِعْتُهَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم‏.‏
English

Narrated Ibrahim:

Alaqama went to Sham and came to the mosque and offered a two-rak`at prayer, and invoked Allah: "O Allah! Bless me with a (pious) good companion." So he sat beside Abu Ad-Darda' رضی اللہ عنہ who asked, "From where are you?" He said, "From the people of Kufa." Abu Darda' رضی اللہ عنہ said, "Wasn't there among you the person who keeps the secrets (of the Prophet (ﷺ) ) which nobody knew except him (i.e., Hudhaifa رضی اللہ عنہ (bin Al-Yaman)). And isn't there among you the person whom Allah gave refuge from Satan through the request (tongue) of Allah's Messenger (ﷺ)? (i.e., `Ammar رضی اللہ عنہ ). Isn't there among you the one who used to carry the Siwak and the cushion (or pillows (of the Prophets)? (i.e., Ibn Mas`ud رضی اللہ عنہما ). How did Ibn Mas`ud رضی اللہ عنہما use to recite 'By the night as it conceals (the light)?" (Sura 92). 'Alqama رضی اللہ عنہ said, "Wadhdhakari Wal Untha' (And by male and female.") Abu Ad-Darda رضی اللہ عنہ added. 'These people continued to argue with me regarding it till they were about to cause me to have doubts although I heard it from Allah's Messenger (ﷺ)."

Urdu

مجھ سے یحییٰ بن جعفر نے بیان کیا ، کہا ہم سے یزید بن ہارون نے بیان کیا ، ان سے شعبہ نے ، ان سے مغیرہ بن مقسم نے ، ان سے ابراہیم نخعی نے اور ان سے علقمہ بن قیس نے کہ آپ ملک شام میں پہنچے ( دوسری سند ) امام بخاری نے کہا کہ اور مجھ سے ابوالولید نے بیان کیا ، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا ، ان سے مغیرہ نے اور ان سے ابراہیم نے بیان کیا کہ

علقمہ ملک شام گئے اور مسجد میں جا کر دو رکعت نماز پڑھی پھر یہ دعا کی اے اللہ ! مجھے ایک ہم نشین عطا فرما ۔ چنانچہ وہ ابودرداء رضی اللہ عنہ کی مجلس میں جابیٹھے ۔ ابودرداء رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا ۔ تمہارا تعلق کہاں سے ہے ؟ کہا کہ اہل کوفہ سے ۔ پوچھا کیا تمہارے یہاں ( نفاق اور منافقین کے ) بھیدوں کے جاننے والے وہ صحابی نہیں ہیں جن کے سوا کوئی اور ان سے واقف نہیں ہے ۔ ان کااشارہ حذیفہ رضی اللہ عنہ کی طرف تھا ۔ کیا تمہارے یہاں وہ نہیں ہیں ( یا یوں کہا کہ ) تمہارے وہ جنہیں اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی شیطان سے پنا ہ دی تھی ۔ اشارہ عمار رضی اللہ عنہ کی طرف تھا ۔ کیا تمہارے یہاں مسواک اور گدے والے نہیں ہیں ؟ ان کا اشارہ ابن مسعود رضی اللہ عنہما کی طرف تھا ۔ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہما سورۃ ” واللیل اذا یغشیٰ “ کس طرح پڑھتے تھے ۔ علقمہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ وہ ” والذکر والانثیٰ “ پڑھتے تھے ۔ ابودرداء رضی اللہ عنہ نے اس پر کہا کہ یہ لوگ کوفہ والے اپنے مسلسل عمل سے قریب تھا کہ مجھے شبہ میں ڈال دیتے حالانکہ میں نے نبی کریم سے خود اسے سنا تھا ۔

Hadith 6279
Sahih
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ، قَالَ كُنَّا نَقِيلُ وَنَتَغَدَّى بَعْدَ الْجُمُعَةِ‏.‏
English

Narrated Sahl bin Sa`d رضی اللہ عنہ :

We used to have a midday nap and take our meals after the Jumua (prayer).

Urdu

ہم سے محمد بن کثیر نے بیان کیا ، کہا ہم سے سفیان ثوری نے بیان کیا ، ان سے ابوحازم نے اور ان سے حضرت سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ

ہم کھانا اور قیلولہ نماز جمعہ کے بعد کیا کرتے تھے ۔

Hadith 6280
Sahih
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ، قَالَ مَا كَانَ لِعَلِيٍّ اسْمٌ أَحَبَّ إِلَيْهِ مِنْ أَبِي تُرَابٍ، وَإِنْ كَانَ لَيَفْرَحُ بِهِ إِذَا دُعِيَ بِهَا، جَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بَيْتَ فَاطِمَةَ ـ عَلَيْهَا السَّلاَمُ ـ فَلَمْ يَجِدْ عَلِيًّا فِي الْبَيْتِ فَقَالَ ‏"‏ أَيْنَ ابْنُ عَمِّكِ ‏"‏‏.‏ فَقَالَتْ كَانَ بَيْنِي وَبَيْنَهُ شَىْءٌ، فَغَاضَبَنِي فَخَرَجَ فَلَمْ يَقِلْ عِنْدِي‏.‏ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لإِنْسَانٍ ‏"‏ انْظُرْ أَيْنَ هُوَ ‏"‏ فَجَاءَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ هُوَ فِي الْمَسْجِدِ رَاقِدٌ‏.‏ فَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَهْوَ مُضْطَجِعٌ، قَدْ سَقَطَ رِدَاؤُهُ عَنْ شِقِّهِ، فَأَصَابَهُ تُرَابٌ، فَجَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَمْسَحُهُ عَنْهُ ـ وَهْوَ يَقُولُ ‏"‏ قُمْ أَبَا تُرَابٍ، قُمْ أَبَا تُرَابٍ ‏"‏‏.‏
English

Narrated Sahl bin Sa`d رضی اللہ عنہ :

There was no name dearer to `Ali رضی اللہ عنہ than his nickname Abu Turab (the father of dust). He used to feel happy whenever he was called by this name. Once Allah's Messenger (ﷺ) came to the house of Fatima but did not find `Ali رضی اللہ عنہ in the house. So he asked "Where is your cousin?" She replied, "There was something (a quarrel) between me and him whereupon he got angry with me and went out without having a midday nap in my house." Allah's Messenger (ﷺ) asked a person to look for him. That person came, and said, "O Allah's Messenger (ﷺ)! He (Ali رضی اللہ عنہ) is sleeping in the mosque." So Allah's Messenger (ﷺ) went there and found him lying. His upper body cover had fallen off to one side of his body, and so he was covered with dust. Allah's Messenger (ﷺ) started cleaning the dust from him, saying, "Get up, O Abu Turab! Get up, Abu Turab!" (See Hadith No. 432, Vol 1)

Urdu

ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا ، کہا ہم سے عبد العزیز بن حازم نے بیان کیا ، ان سے حضرت سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ نے بیان کیاکہ

حضرت علی رضی اللہ عنہ کو کوئی نام ” ابوتراب “ سے زیادہ محبوب نہیں تھا ۔ جب ان کو اس نام سے بلایا جاتا تو وہ خوش ہوتے تھے ۔ ایک مرتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حضرت فاطمہ علیہا السلام کے گھر تشریف لائے تو حضرت علی رضی اللہ عنہ کو گھر میں نہیں پایا تو فرمایا کہ بیٹی تمہارے چچا کے لڑکے ( اور شوہر ) کہاں گئے ہیں ؟ انہوں نے کہا میرے اور ان کے درمیان کچھ تلخ کلامی ہو گئی تھی وہ مجھ پر غصہ ہو کر باہر چلے گئے اور میرے یہاں ( گھر میں ) قیلولہ نہیں کیا ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص سے کہا کہ دیکھو وہ کہاں ہیں ۔ وہ صحابی واپس آئے اور عرض کیا یا رسول اللہ ! وہ تو مسجد میں سوئے ہوئے ہیں ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں تشریف لائے تو حضرت علی رضی اللہ عنہ لیٹے ہوئے تھے اور چادر آپ کے پہلو سے گر گئی تھی اور گرد آلود ہو گئی تھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اس سے مٹی صاف کرنے لگے اور فرمانے لگے ، ابوتراب ! ( مٹی والے ) اٹھو ، ابوتراب ! اٹھو ۔

Hadith 6281
Sahih
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الأَنْصَارِيُّ، قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ ثُمَامَةَ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ أُمَّ سُلَيْمٍ، كَانَتْ تَبْسُطُ لِلنَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم نِطَعًا فَيَقِيلُ عِنْدَهَا عَلَى ذَلِكَ النِّطَعِ ـ قَالَ ـ فَإِذَا نَامَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم أَخَذَتْ مِنْ عَرَقِهِ وَشَعَرِهِ، فَجَمَعَتْهُ فِي قَارُورَةٍ، ثُمَّ جَمَعَتْهُ فِي سُكٍّ ـ قَالَ ـ فَلَمَّا حَضَرَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ الْوَفَاةُ أَوْصَى أَنْ يُجْعَلَ فِي حَنُوطِهِ مِنْ ذَلِكَ السُّكِّ ـ قَالَ ـ فَجُعِلَ فِي حَنُوطِهِ‏.‏
English

Narrated Anas رضی اللہ عنہ :

"Um Sulaim used to spread a leather sheet for the Prophet (ﷺ) and he used to take a midday nap on that leather sheet at her home." Anas رضی اللہ عنہ added, "When the Prophet (ﷺ) had slept, she would take some of his sweat and hair and collect it (the sweat) in a bottle and then mix it with Suk (a kind of perfume) while he was still sleeping. "When the death of Anas bin Malik رضی اللہ عنہ approached, he advised that some of that Suk be mixed with his Hanut (perfume for embalming the dead body), and it was mixed with his Hanut.

Urdu

ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا ، کہا ہم سے محمد بن عبداللہ انصاری نے ، کہا کہ مجھ سے میرے والد نے ، ان سے ثمامہ نے اور ان سے انس رضی اللہ عنہ نے کہ

( ان کی والدہ ) ام سلیم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے چمڑے کا فرش بچھا دیتی تھیں اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ان کے یہاں اسی پرقیلولہ کر لیتے تھے ۔ بیان کیا پھر جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سو گئے ( اور بیدار ہوئے ) تو ام سلیم رضی اللہ عنہا نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا پسینہ اور ( جھڑے ہوئے ) آپ کے بال لے لئے اور ( پسینہ کو ) ایک شیشی میں جمع کیا اور پھر سک ( ایک خوشبو ) میں اسے ملا لیا ۔ بیان کیا ہے کہ پھر جب انس بن مالک رضی اللہ عنہ کی وفات کا وقت قریب ہوا تو انہوں نے وصیت کی کہ اس سک ( جس میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا پسینہ ملاہوا تھا ) میں سے ان کے حنوط میں ملا دیا جائے ۔ بیان کیا ہے کہ پھر ان کے حنوط میں اسے ملا یا گیا ۔

Hadith 6282, 6283
Sahih
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، قَالَ حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ـ رضى الله عنه ـ أَنَّهُ سَمِعَهُ يَقُولُ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِذَا ذَهَبَ إِلَى قُبَاءٍ يَدْخُلُ عَلَى أُمِّ حَرَامٍ بِنْتِ مِلْحَانَ فَتُطْعِمُهُ، وَكَانَتْ تَحْتَ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ، فَدَخَلَ يَوْمًا فَأَطْعَمَتْهُ، فَنَامَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ثُمَّ اسْتَيْقَظَ يَضْحَكُ‏.‏ قَالَتْ فَقُلْتُ مَا يُضْحِكُكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَقَالَ ‏"‏ نَاسٌ مِنْ أُمَّتِي عُرِضُوا عَلَىَّ غُزَاةً فِي سَبِيلِ اللَّهِ، يَرْكَبُونَ ثَبَجَ هَذَا الْبَحْرِ، مُلُوكًا عَلَى الأَسِرَّةِ ‏"‏‏.‏ ـ أَوْ قَالَ ‏"‏ مِثْلُ الْمُلُوكِ عَلَى الأَسِرَّةِ ‏"‏‏.‏ شَكَّ إِسْحَاقُ ـ قُلْتُ ادْعُ اللَّهَ أَنْ يَجْعَلَنِي مِنْهُمْ‏.‏ فَدَعَا ثُمَّ وَضَعَ رَأْسَهُ فَنَامَ، ثُمَّ اسْتَيْقَظَ يَضْحَكُ فَقُلْتُ مَا يُضْحِكُكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ ‏"‏ نَاسٌ مِنْ أُمَّتِي عُرِضُوا عَلَىَّ، غُزَاةً فِي سَبِيلِ اللَّهِ، يَرْكَبُونَ ثَبَجَ هَذَا الْبَحْرِ، مُلُوكًا عَلَى الأَسِرَّةِ ‏"‏‏.‏ أَوْ ‏"‏ مِثْلَ الْمُلُوكِ عَلَى الأَسِرَّةِ ‏"‏‏.‏ فَقُلْتُ ادْعُ اللَّهَ أَنْ يَجْعَلَنِي مِنْهُمْ‏.‏ قَالَ ‏"‏ أَنْتِ مِنَ الأَوَّلِينَ ‏"‏‏.‏ فَرَكِبَتِ الْبَحْرَ زَمَانَ مُعَاوِيَةَ، فَصُرِعَتْ عَنْ دَابَّتِهَا حِينَ خَرَجَتْ مِنَ الْبَحْرِ، فَهَلَكَتْ‏.‏
English

Narrated Hadrat Abdullah bin Talha رضی اللہ عنہ narrates that he heard Anas bin Malikرضی اللہ عنہ :

Whenever Allah's Messenger (ﷺ) went to Quba, he used to visit Um Haram bint Milhan رضی اللہ عنہا who would offer him meals; and she was the wife of 'Ubada bin As-samit. One day he went to her house and she offered him a meal, and after that he slept, and then woke up smiling. She (Um Haram رضی اللہ عنہا ) said, "I asked him, 'What makes you laugh, O Allah's Messenger (ﷺ)?' He said, 'Some people of my followers were displayed before me as warriors fighting for Allah's Cause and sailing over this sea, kings on thrones,' or said, 'like kings on thrones.' (The narrator, 'Is-haq is in doubt about it.) I (Um Haram رضی اللہ عنہا ) said, 'O Allah's Apostle! Invoke Allah that He may make me one of them.' He invoked (Allah) for her and then lay his head and slept again and then woke up smiling. I asked, 'What makes you laugh, O Allah's Messenger (ﷺ)?' He said, 'Some people of my followers were displayed before me as warriors fighting for Allah's Cause and sailing over this sea, kings on the thrones,' or said, 'like kings on the thrones.' I (Um Haram رضی اللہ عنہا ) said, 'O Allah's Messenger (ﷺ)! Invoke Allah that He may make me one of them.' He said, You will be amongst the first ones." It is said that Um Haram رضی اللہ عنہ sailed over the sea at the time of Muawiya, and on coming out of the sea, she fell down from her riding animal and died.

Urdu

ہم سے اسماعیل بن ابی اویس نے بیان کیا ، کہا کہ مجھ سے امام ما لک نے ، ان سے اسحاق بن عبداللہ بن ابی طلحہ نے اور ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے کہ انہوں نے انہیں یہ کہتے سنا کہ

جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قباء تشریف لے جاتے تھے تو ام حرام بنت ملحان رضی اللہ عنہا کے گھر بھی جاتے تھے اور وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو کھانا کھلاتی تھیں پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سو گئے اور بیدار ہوئے تو آپ ہنس رہے تھے ۔ ام حرام رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ میں نے پوچھا یا رسول اللہ ! آپ کس بات پر ہنس رہے ہیں ؟ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میری امت کے کچھ لوگ اللہ کے راستے میں غزوہ کرتے ہوئے میرے سامنے ( خواب میں ) پیش کئے گئے ، جو اس سمندر کے اوپر ( کشتیوں میں ) سوار ہوں گے ( جنت میں وہ ایسے نظر آئے ) جیسے بادشاہ تخت پر ہوتے ہیں ، یا بیان کیا کہ بادشاہوں کی طرح تخت پر ۔ اسحاق کو ان لفظوں میں ذرا شبہ تھا ( ام حرام رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ ) میں نے عرض کیا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم دعا کریں کہ اللہ مجھے بھی ان میں سے بنائے ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کی پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اپنا سر رکھ کر سو گئے اور جب بیدا ر ہوئے تو ہنس رہے تھے ۔ میں نے کہا یا رسول اللہ ! آپ کس بات پر ہنس رہے ہیں ؟ فرمایا کہ میری امت کے کچھ لوگ اللہ کے راستہ میں غزوہ کرتے ہوئے میرے سامنے پیش کئے گئے جو اس سمند ر کے اوپر سوار ہوں گے جیسے بادشاہ تحت پر ہوتے ہیں یا مثل بادشاہوں کے تخت پر ۔ میں نے عرض کیا کہ اللہ سے میرے لئے دعا کیجئے کہ مجھے بھی ان میں سے کر دے ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تو اس گروہ کے سب سے پہلے لوگوں میں ہو گی چنانچہ ام حرام رضی اللہ عنہا نے ( معاویہ رضی اللہ عنہ کی شام پر گورنری کے زمانہ میں ) سمندری سفر کیا اور خشکی پر اترنے کے بعد اپنی سواری سے گر پڑیں اور وفات پا گئیں ۔

Hadith 6284
Sahih
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ اللَّيْثِيِّ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ نَهَى النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم عَنْ لِبْسَتَيْنِ، وَعَنْ بَيْعَتَيْنِ اشْتِمَالِ الصَّمَّاءِ، وَالاِحْتِبَاءِ فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ، لَيْسَ عَلَى فَرْجِ الإِنْسَانِ مِنْهُ شَىْءٌ، وَالْمُلاَمَسَةِ، وَالْمُنَابَذَةِ‏.‏ تَابَعَهُ مَعْمَرٌ وَمُحَمَّدُ بْنُ أَبِي حَفْصَةَ وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ بُدَيْلٍ عَنِ الزُّهْرِيِّ‏.‏
English

Narrated Abu Sa`id Al-Khudri رضی اللہ عنہ :

The Prophet (ﷺ) forbade two kinds of dresses and two kinds of bargains; Ishtimal As-Samma and Al- Ihtiba in one garment with no part of it covering one's private parts. (The two kinds of bargains were:) Al-Mulamasa and Al-Munabadha. Mamar, Muhammad bin Abu Jafar and Abdullah bin Bodail has reported from Zuhri likewise.

Urdu

ہم سے علی بن عبداللہ مدینی نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم سے سفیان ثوری نے بیان کیا ، ان سے زہری نے بیان کیا ، ان سے عطاء بن یزید لیثی نے اور ان سے حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دو طرح کے پہناوے سے اور دو طرح کی خریدوفروخت سے منع فرمایا تھا ۔ اشتمال صماء اور ایک کپڑے میں اس طرح احتباء کرنے سے کہ انسان کی شرمگاہ پر کوئی چیز نہ ہو اور ملامست اور منابذت سے ۔ اس روایت کی متابعت معمر ، محمد بن ابی حفصہ اور عبداللہ بن بدیل نے زہری سے کی ہے ۔

Hadith 6285, 6286
Sahih
حَدَّثَنَا مُوسَى، عَنْ أَبِي عَوَانَةَ، حَدَّثَنَا فِرَاسٌ، عَنْ عَامِرٍ، عَنْ مَسْرُوقٍ، حَدَّثَتْنِي عَائِشَةُ أُمُّ الْمُؤْمِنِينَ، قَالَتْ إِنَّا كُنَّا أَزْوَاجَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم عِنْدَهُ جَمِيعًا، لَمْ تُغَادَرْ مِنَّا وَاحِدَةٌ، فَأَقْبَلَتْ فَاطِمَةُ ـ عَلَيْهَا السَّلاَمُ ـ تَمْشِي، لاَ وَاللَّهِ مَا تَخْفَى مِشْيَتُهَا مِنْ مِشْيَةِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَلَمَّا رَآهَا رَحَّبَ قَالَ ‏"‏ مَرْحَبًا بِابْنَتِي ‏"‏‏.‏ ثُمَّ أَجْلَسَهَا عَنْ يَمِينِهِ أَوْ عَنْ شِمَالِهِ، ثُمَّ سَارَّهَا فَبَكَتْ بُكَاءً شَدِيدًا، فَلَمَّا رَأَى حُزْنَهَا سَارَّهَا الثَّانِيَةَ إِذَا هِيَ تَضْحَكُ‏.‏ فَقُلْتُ لَهَا أَنَا مِنْ بَيْنِ نِسَائِهِ خَصَّكِ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِالسِّرِّ مِنْ بَيْنِنَا، ثُمَّ أَنْتِ تَبْكِينَ، فَلَمَّا قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم سَأَلْتُهَا عَمَّا سَارَّكِ قَالَتْ مَا كُنْتُ لأُفْشِيَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم سِرَّهُ‏.‏ فَلَمَّا تُوُفِّيَ قُلْتُ لَهَا عَزَمْتُ عَلَيْكِ بِمَا لِي عَلَيْكِ مِنَ الْحَقِّ لَمَّا أَخْبَرْتِنِي‏.‏ قَالَتْ أَمَّا الآنَ فَنَعَمْ‏.‏ فَأَخْبَرَتْنِي قَالَتْ أَمَّا حِينَ سَارَّنِي فِي الأَمْرِ الأَوَّلِ، فَإِنَّهُ أَخْبَرَنِي أَنَّ جِبْرِيلَ كَانَ يُعَارِضُهُ بِالْقُرْآنِ كُلَّ سَنَةٍ مَرَّةً ‏"‏ وَإِنَّهُ قَدْ عَارَضَنِي بِهِ الْعَامَ مَرَّتَيْنِ، وَلاَ أَرَى الأَجَلَ إِلاَّ قَدِ اقْتَرَبَ، فَاتَّقِي اللَّهَ وَاصْبِرِي، فَإِنِّي نِعْمَ السَّلَفُ أَنَا لَكَ ‏"‏‏.‏ قَالَتْ فَبَكَيْتُ بُكَائِي الَّذِي رَأَيْتِ، فَلَمَّا رَأَى جَزَعِي سَارَّنِي الثَّانِيَةَ قَالَ ‏"‏ يَا فَاطِمَةُ أَلاَ تَرْضَيْنَ أَنْ تَكُونِي سَيِّدَةَ نِسَاءِ الْمُؤْمِنِينَ ـ أَوْ ـ سَيِّدَةَ نِسَاءِ هَذِهِ الأُمَّةِ ‏"‏‏.
English

Narrated `Aisha رضی اللہ عنہا :

Mother of the Believers: We, the wives of the Prophet (ﷺ) were all sitting with the Prophet (ﷺ) and none of us had left when Fatima رضی اللہ عنہا came walking, and by Allah, her gait was very similar to that of Allah's Messenger (ﷺ) .' When he saw her, he welcomed her, saying, "Welcome, O my daughter!" Then he made her sit on his right or his left, confided something to her, whereupon she wept bitterly. When he noticed her sorrow, he confided something else to her for the second time, and she started laughing. Only I from among the Prophet's wives said to her, "(O Fatima), Allah's Messenger (ﷺ) selected you from among us for the secret talk and still you weep?" When Allah's Messenger (ﷺ) got up (and went away), I asked her, "What did he confide to you?" She said, "I wouldn't disclose the secrets of Allah's Messenger (ﷺ)" But when he died I asked her, "I beseech you earnestly by what right I have on you, to tell me (that secret talk which the Prophet had with you)" She said, "As you ask me now, yes, (I will tell you)." She informed me, saying, "When he talked to me secretly the first time, he said that Gabriel used to review the Qur'an with him once every year. He added, 'But this year he reviewed it with me twice, and therefore I think that my time of death has approached. So, be afraid of Allah, and be patient, for I am the best predecessor for you (in the Hereafter).' " Fatima رضی اللہ عنہا added, "So I wept as you (`Aisha) witnessed. And when the Prophet (ﷺ) saw me in this sorrowful state, he confided the second secret to me saying, 'O Fatima! Will you not be pleased that you will be chief of all the believing women (or chief of the women of this nation i.e. my followers?")

Urdu

ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا ، کہا ہم سے ابو عوانہ وضاح نے ، کہا ہم سے فراس بن یحییٰ نے بیان کیا ، ان سے عامر شعبی نے ، ان سے مسروق نے کہ مجھ سے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ

یہ تمام ازواج مطہرات ( حضو ر اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے مرض وفات میں ) آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھیں ، کوئی وہاں سے نہیں ہٹا تھا کہ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا چلتی ہوئی آئیں ۔ خدا کی قسم ان کی چال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی چال سے الگ نہیں تھی ( بلکہ بہت ہی مشابہ تھی ) جب حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں دیکھا تو خوش آمدید کہا ۔ فرمایا بیٹی ! مرحبا ! پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی دائیں طرف یا بائیں طرف انہیں بٹھایا ۔ اس کے بعد آہستہ سے ان سے کچھ کہا اور حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا بہت زیادہ رونے لگیں ۔ جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا غم دیکھا تو دوبارہ ان سے سرگوشی کی اس پر وہ ہنسنے لگیں ۔ تمام ازواج میں سے میں نے ان سے کہا کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم میں صرف آپ کو سرگوشی کی خصوصیت بخشی ۔ پھر رونے لگیں ۔ جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اٹھے تو میں نے ان سے پوچھا کہ آپ کے کان میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا فرمایا تھا انہوں نے کہا کہ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا راز نہیں کھول سکتی ۔ پھر جب آپ کی وفات ہو گئی تو میں نے حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا سے کہا کہ میرا جو حق آپ پر ہے اس کا واسطہ دیتی ہوں کہ آپ مجھے وہ بات بتا دیں ۔ انہوں نے کہا کہ اب بتا سکتی ہوں چنانچہ انہوں نے مجھے بتایا کہ جب آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے پہلی سرگوشی کی تھی تو فرمایا تھا کہ ” جبرائیل علیہ السلام ہر سال مجھ سے سال میں ایک مرتبہ دور کیا کرتے تھے لیکن اس سال مجھ سے انہوں نے دو مرتبہ دور کیا اور میرا خیال ہے کہ میری وفات کا وقت قریب ہے ، اللہ سے ڈرتی رہنا اور صبر کرنا کیونکہ میں تمہارے لئے ایک اچھا آگے جانے والا ہوں “ بیان کیا کہ اس وقت میرا رونا جو آپ نے دیکھا تھا اس کی وجہ یہی تھی ۔ جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے میری پریشانی دیکھی تو آپ نے دوبارہ مجھ سے سرگوشی کی ، فرمایا ” فاطمہ بیٹی ! کیا تم اس پر خوش نہیں ہو کہ جنت میں تم مومنوں کی عورتوں کی سردار ہو گی ، یا ( فرمایا کہ ) اس امت کی عورتوں کی سردارہو گی ۔ “

Hadith 6287
Sahih
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، حَدَّثَنَا الزُّهْرِيُّ، قَالَ أَخْبَرَنِي عَبَّادُ بْنُ تَمِيمٍ، عَنْ عَمِّهِ، قَالَ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي الْمَسْجِدِ مُسْتَلْقِيًا، وَاضِعًا إِحْدَى رِجْلَيْهِ عَلَى الأُخْرَى‏.‏
English

Narrated the uncle of `Abbas bin Tamim:

I saw Allah's Messenger (ﷺ) lying on his back in the mosque and putting one of his legs over the other.

Urdu

ہم سے علی بن عبداللہ مدینی نے بیان کیا ، کہا ہم سے سفیان ثوری نے بیان کیا ، کہا ہم سے زہری نے بیان کیا ، کہا کہ مجھے عباد بن تمیم نے خبر دی ، ان سے ان کے چچا نے بیان کیا کہ

میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کومسجد میں چت لیٹے دیکھا آپ ایک پاؤ ں دوسرے پر رکھے ہوئے تھے ۔

Hadith 6288
Sahih
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ،‏.‏ وَحَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، قَالَ حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، رضى الله عنه أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ إِذَا كَانُوا ثَلاَثَةٌ فَلاَ يَتَنَاجَى اثْنَانِ دُونَ الثَّالِثِ ‏"‏‏.‏
English

Narrated `Abdullah رضی اللہ عنہ :

The Prophet (ﷺ) said "When three persons are together, then no two of them should hold secret counsel excluding the third person."

Urdu

ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا ، کہا ہم کو امام ما لک نے خبر دی ( دوسری سند ) حضرت امام بخاری نے کہا کہ ہم سے اسماعیل بن ابی اویس نے بیان کیا ، کہا کہ مجھ سے امام مالک نے بیان کیا ، ان سے نافع نے اور ان سے حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ نے کہ

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تین آدمی ساتھ ہوں تو تیسرے ساتھی کو چھوڑ کر دو آپس میں کانا پھوسی نہ کریں ۔