Narrated Ibn `Abbas رضی اللہ عنہما :
A man said to the Prophet (while he was delivering a sermon on the Day of Nahr), "I have performed the Tawaf round the Ka`ba before the Rami (throwing pebbles) at the Jamra." The Prophet (ﷺ) said, "There is no harm (therein)." Another man said, "I had my head shaved before slaughtering (the sacrifice)." The Prophet (ﷺ) said, "There is no harm." A third said, "I have slaughtered (the sacrifice) before the Rami (throwing pebbles) at the Jamra." The Prophet (ﷺ) said, "There is no harm."
ہم سے احمد یونس نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم سے ابوبکر بن عیاش نے بیان کیا ، ان سے عبدالعزیز بن رفیع نے بیان کیا ، ان سے عطاء بن ابی رباح نے بیان کیا اور ان سے حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ
ایک صحابی نے نبی کریم صلیاللہ علیہ وسلم سے کہا ، میں نے رمی کرنے سے پہلے طواف زیارت کر لیا ہے ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کوئی حرج نہیں ۔ تیسرے نے کہا کہ میں نے رمی کرنے سے پہلے ہی ذبح کر لیا ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کوئی حرج نہیں ۔
Narrated Abu Huraira:
A man entered the mosque and started praying while Allah's Messenger (ﷺ) was sitting somewhere in the mosque. Then (after finishing the prayer) the man came to the Prophet (ﷺ) and greeted him. The Prophet (ﷺ) said to him, "Go back and pray, for you have not prayed. The man went back, and having prayed, he came and greeted the Prophet. The Prophet (ﷺ) after returning his greetings said, "Go back and pray, for you did not pray." On the third time the man said, "(O Allah's Messenger (ﷺ)!) teach me (how to pray)." The Prophet said, "When you get up for the prayer, perform the ablution properly and then face the Qibla and say Takbir (Allahu Akbar), and then recite of what you know of the Qur'an, and then bow, and remain in this state till you feel at rest in bowing, and then raise your head and stand straight; and then prostrate till you feel at rest in prostration, and then sit up till you feel at rest while sitting; and then prostrate again till you feel at rest in prostration; and then get up and stand straight, and do all this in all your prayers."
مجھ سے اسحاق بن منصور نے بیان کیا ، کہا ہم سے ابواسامہ نے بیان کیا ، کہا ہم سے عبیداللہ بن عمر نے بیان کیا ، ان سے سعید بن ابی سعید نے اور ان سے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ
ایک صحابی مسجدنبوی میں نماز پڑھنے کے لئے آئے ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم مسجد کے ایک کنارے تشریف رکھتے تھے ۔ پھر وہ صحابی آئے اور سلام کیا تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جا پھر نماز پڑھ ، اس لئے کہ تو نے نماز نہیں پڑھی ۔ وہ واپس گئے اور پھر نماز پڑھ کر آئے اور سلام کیا ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس مرتبہ بھی ان سے یہی فرمایا کہ واپس جا اور نماز پڑھ کیونکہ تو نے نماز نہیں پڑھی ۔ آخر تیسری مرتبہ میں وہ صحابی بولے کہ پھر مجھے نماز کا طریقہ سکھا دیجئیے ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب تم نماز کے لئے کھڑے ہوا کرو تو پہلے پوری طرح وضو کر لیا کرو ، پھر قبلہ رو ہو کر تکبیر کہو اور جو کچھ قرآن مجید میں تمہیں یاد ہے اور تم آسانی کے ساتھ پڑھ سکتے ہو اسے پڑھا کرو ، پھر رکوع کرو اور سکون کے ساتھ رکوع کرچکو تو اپنا سر اٹھاؤ اور جب سیدھے کھڑے ہو جاؤ تو سجدہ کرو ، جب سجدے کی حالت میں اچھی طرح ہو جاؤ تو سجدہ سے سراٹھاؤ ، یہاں تک کہ سیدھے ہو جاؤ اور اطمینان سے بیٹھ جاؤ ، پھر سجدہ کرو اور جب اطمینان سے سجدہ کر لو تو سر اٹھاؤ یہاں تک کہ سیدھے کھڑے ہو جاؤ ، یہ عمل تم اپنی پوری نماز میں کرو ۔
Narrated `Aisha رضی اللہ عنہا :
When the pagans were defeated during the (first stage) of the battle of Uhud, Satan shouted, "O Allah's slaves! Beware of what is behind you!" So the front files of the Muslims attacked their own back files. Hudhaifa bin Al-Yaman رضی اللہ عنہ looked and on seeing his father he shouted: "My father! My father!" By Allah! The people did not stop till they killed his father. Hudhaifa رضی اللہ عنہ then said, "May Allah forgive you." `Urwa (the sub-narrator) added, "Hudhaifa رضی اللہ عنہ continued asking Allah forgiveness for the killers of his father till he met Allah (till he died).
ہم سے فروہ بن ابی المغراء نے بیان کیا ، کہا ہم سے علی بن مسہر نے ، ان سے ہشام بن عروہ نے ، ان سے ان کے والد نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ
جب احد کی لڑائی میں مشرک شکست کھا گئے اور اپنی شکست ان میں مشہور ہو گئی تو ابلیس نے چیخ کر کہا ( مسلمانوں سے ) کہ اے اللہ کے بندو ! پیچھے دشمن ہے چنانچہ آگے کے لوگ پیچھے کی طرف پل پڑے اور پیچھے والے ( مسلمانوں ہی سے ) لڑ پڑے ۔ اس حالت میں حذیفہ بن الیمان رضی اللہ عنہ نے دیکھا کہ لوگ ان کے مسلمان والد کو بےخبری میں مار رہے ہیں تو انہوں نے مسلمانوں سے کہا کہ یہ تو میرے والد ہیں جو مسلمان ہیں ، میرے والد ! عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ اللہ کی قسم لوگ پھر بھی باز نہیں آئے اور آخر انہیں قتل کر ہی ڈالا ۔ حذیفہ نے کہا ، اللہ تمہاری مغفرت کرے ۔ عروہ نے بیان کیا کہ حذیفہ رضی اللہ عنہ کو اپنے والد کی اس طرح شہادت کا آخر وقت تک رنج اور افسوس ہی رہا یہاں تک کہ وہ اللہ سے جا ملے ۔
Narrated Abu Huraira رضی اللہ عنہ :
The Prophet (ﷺ) said, "If somebody eats something forgetfully while he is fasting, then he should complete his fast, for Allah has made him eat and drink."
مجھ سے یوسف بن موسیٰ نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم سے ابواسامہ نے بیان کیا ، انہوں نے کہا کہ مجھ سے عوف اعرابی نے بیان کیا ، ان سے خلاص بن عمرو اور محمد بن سیرین نے کہا کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس نے روزہ رکھا ہو اور بھول کر کھا لیا ہو تو اسے اپنا روزہ پورا کر لینا چاہئے کیونکہ اسے اللہ نے کھلایا پلایا ہے ۔
Narrated `Abdullah bin Buhaina رضی اللہ عنہ :
Once Allah's Messenger (ﷺ) led us in prayer, and after finishing the first two rak`at, got up (instead of sitting for at-Tahiyyat) and then carried on with the prayer. When he had finished his prayer, the people were waiting for him to say Taslim, but before saying Tasiim, he said Takbir and prostrated; then he raised his head, and saying Takbir, he prostrated (SAHU) and then raised his head and finished his prayer with Taslim.
ہم سے آدم بن ابی ایاس نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم سے محمد بن عبدالرحمٰن بن ابی ذئب نے بیان کیا ، ان سے زہری نے بیان کیا ، ان سے اعرج نے اور ان سے حضرت عبداللہ بن بجینہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں نماز پڑھائی اور پہلی دو رکعات کے بعد بیٹھنے سے پہلے ہی اٹھ گئے اور نماز پوری کر لی ۔ جب نماز پڑھ چکے تو لوگوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے سلام کا انتظار کیا ۔ پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے تکبیر کہی اورسلام پھیرنے سے پہلے سجدہ کیا ، پھر سجدہ سے سر اٹھایا اور دوبارہ تکبیر کہہ کر سجدہ کیا ۔ پھر سجدہ سے سر اٹھایا اورسلام پھیرا ۔
Narrated Ibn Mas`ud رضی اللہ عنہ :
that Allah's Prophet led them in the Zuhr prayer and he offered either more or less rak`at, and it was said to him, "O Allah's Messenger (ﷺ) ! Has the prayer been reduced, or have you forgotten?" He asked, "What is that?" They said, "You have prayed so many rak`at." So he performed with them two more prostrations and said, "These two prostrations are to be performed by the person who does not know whether he has prayed more or less (rak`at) in which case he should seek to follow what is right. And then complete the rest (of the prayer) and perform two extra prostrations."
مجھ سے اسحاق بن ابراہیم نے بیان کیا ، انہوں نے عبدالعزیز بن عبدالصمد سے سنا ، کہا ہم سے منصور بن معتمر نے بیان کیا ، ان سے ابراہیم نخعی نے ، ان سے علقمہ نے اور ان سے ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ظہر کی نماز پڑھائی اور نماز میں کوئی چیز زیادہ یا کم کر دی ۔ منصور نے بیان کیا کہ مجھے معلوم نہیں ابراہیم کو شبہ ہوا تھا یا علقمہ کو ۔ بیان کیا کہ پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا گیا کہ یا رسول اللہ ! نماز میں کچھ کمی کر دی گئی ہے یا آپ بھول گئے ہیں ؟ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا ، کیا بات ہے ؟ لوگوں نے کہا کہ آپ نے اس اس طرح نماز پڑھائی ہے ۔ بیان کیا کہ پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے ساتھ دو سجدے ( سہو کے ) کئے اور فرمایا یہ دو سجدے اس شخص کے لئے ہیں جسے یقین نہ ہو کہ اس نے اپنی نماز میں کمی یا زیادہ کر دی ہے اسے چاہئے کہ صحیح بات تک پہنچنے کے لئے ذہن پر زور ڈالے اور جو باقی رہ گیا ہو اسے پورا کرے پھر دو سجدے ( سہوکے ) کر لے ۔
Narrated Ubai bin Ka'b رضی اللہ عنہ :
He heard Allah's Messenger (ﷺ) saying, "(Moses) said, 'Call me not to account for what I forget and be not hard upon me for my affair (with you)' (18.73) the first excuse of Moses was his forgetfulness."
ہم سے حضرت امام حمیدی نے بیان کیا ، کہا ہم سے حضرت سفیان بن عیینہ نے بیان کیا ، کہا ہم سے عمرو بن دینار نے بیان کیا ، کہا مجھ کو سعید بن جبیر نے خبر دی ، کہا کہ میں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے پوچھا تو انہوں نے بیان کیا کہ ہم سے ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے بیان کیا ،
انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ، آیت ” لا تؤاخذني بما نسيت ولا ترهقني من أمري عسرا “ کے متعلق کہ موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا: جو کچھ میں بھول جاؤں اس کا مجھ سے حساب نہ لینا اور میرے معاملہ میں مجھ پر سختی نہ کرنا پہلی مرتبہ اعتراض موسیٰ علیہ السلام سے بھول کر ہوا تھا ۔
Narrated Al-Bara bin Azib رضی اللہ عنہ :
Once he had a guest, so he told his family (on the Day of Id-ul-Adha) that they should slaughter the animal for sacrifice before he returned from the ('Id) prayer in order that their guest could take his meal. So his family slaughtered (the animal ) before the prayer. Then they mentioned that event to the Prophet who ordered Al-Bara رضی اللہ عنہ to slaughter another sacrifice. Al-Bara' رضی اللہ عنہ said to the Prophet (ﷺ) , "I have a young milch she-goat which is better than two sheep for slaughtering." (The sub-narrator, Ibn 'Aun used to say, "I don't know whether the permission (to slaughter a she-goat as a sacrifice) was especially given to Al-Bara' رضی اللہ عنہ or if it was in general for all the Muslims.") Ayyub, Ibn-e-Sireen, Hadrat Anas رضی اللہ عنہ reported it from the prophet ﷺ.
ابوعبداللہ ( حضرت امام بخاری ) نے کہا کہ محمد بن بشار نے مجھے لکھا کہ ہم سے معاذ بن معاذ نے بیان کیا ، کہا ہم سے ابن عون نے بیان کیا ، ان سے شعبی نے بیان کیا ، کہ حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ نے بیان کیا ،
ان کے یہاں کچھ ان کے مہمان ٹھہرے ہوئے تھے تو انہوں نے اپنے گھر والوں سے کہا کہ ان کے واپس آنے سے پہلے جانور ذبح کر لیں تاکہ ان کے مہمان کھائیں ، چنانچہ انہوں نے نماز عیدالاضحی سے پہلے جانور ذبح کر لیا ۔ پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا ذکر کیا تو آپ نے حکم دیا کہ نماز کے بعد دوبارہ ذبح کریں ۔ براء رضی اللہ عنہ نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ ! میرے پاس ایک سال سے زیادہ دودھ والی بکری ہے جو دو بکریوں کے گوشت سے بڑھ کر ہے ۔ ابن عوف شعبی کی حدیث کے اس مقام پر ٹھہر جاتے تھے اور محمد بن سیرین سے اسی حدیث کی طرح حدیث بیان کرتے تھے اور اس مقام پر رک کر کہتے تھے کہ مجھے معلوم نہیں ، یہ رخصت دوسرے لوگوں کے لئے بھی ہے یا صرف براء رضی اللہ عنہ کے لئے ہی تھی ۔ اس کی روایت ایوب نے ابن سیرین سے کی ہے ، ان سے انس رضی اللہ عنہ نے اور ان سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ۔
Narrated Jundub رضی اللہ عنہ :
I witnessed the Prophet (ﷺ) offering the `Id prayer (and after finishing it) he delivered a sermon and said, "Whoever has slaughtered his sacrifice (before the prayer) should make up for it (i.e. slaughter another animal) and whoever has not slaughtered his sacrifice yet, should slaughter it by mentioning Allah's Name over it."
ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا ، کہا ہم سے شعبہ نے ، ان سے اسود بن قیس نے کہا کہ میں نے جندب رضی اللہ عنہ سے سنا ، انہوں نے بیان کیا کہ
میں اس وقت تک موجود تھا جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عید کی نماز پڑھائی پھر خطبہ دیا اور فرمایا کہ جس نے نماز سے پہلے ذبح کر لیا ہو اسے چاہئے کہ اس کی جگہ دوسرا جانور ذبح کرے اور جس نے ابھی ذبح نہ کیا ہو اسے چاہئے کہ اللہ کا نام لے کر جانور ذبح کرے ۔
Narrated `Abdullah bin `Amr:
The Prophet (ﷺ) said, "The biggest sins are: To join others in worship with Allah; to be undutiful to one's parents; to kill somebody unlawfully; and to take an oath Al-Ghamus.
ہم سے محمد بن مقاتل نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم کو نضر نے خبر دی ، کہا ہم کو شعبہ نے خبر دی ، کہا ہم سے فراس نے بیان کیا ، کہا کہ میں نے شعبی سے سنا ، انہوں نے عبداللہ بن عمرو سے کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کبیرہ گناہ اللہ کے ساتھ شرک کرنا ، والدین کی نافرمانی کرنا ، کسی کی ناحق جان لینا اور یمین غموس ۔ قصداً جھوٹی قسم کھانے کو کہتے ہیں ۔
Narrated `Abdullah رضی اللہ عنہ :
Allah's Messenger (ﷺ) said, "If somebody is ordered (by the ruler or the judge) to take an oath, and he takes a false oath in order to grab the property of a Muslim, then he will incur Allah's Wrath when he will meet Him." And Allah revealed in its confirmation: 'Verily! Those who purchase a small gain at the cost of Allah's covenants and their own oaths.' (3.77) (The sub-narrator added:) Al-Ash'ath bin Qais entered, saying, "What did Abu `Abdur-Rahman narrate to you?" They said, "So-and-so," Al-Ash'ath said, "This verse was revealed in my connection. I had a well on the land of my cousin (and we had a dispute about it). I reported him to Allah 's Apostle who said (to me). "You should give evidence (i.e. witness) otherwise the oath of your opponent will render your claim invalid." I said, "Then he (my opponent) will take the oath, O Allah's Messenger (ﷺ)." Allah's Messenger (ﷺ) said, "Whoever is ordered (by the ruler or the judge) to give an oath, and he takes a false oath in order to grab the property of a Muslim, then he will incur Allah's Wrath when he meets Him on the Day of Resurrection."
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا ، کہا ہم سے ابوعوانہ نے بیان کیا ، ان سے اعمش نے ، ان سے ابووائل نے اور ان سے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس نے جھوٹی قسم اس طور سے کھائی کہ اس کے ذریعہ کسی مسلمان کا مال ناجائز طریقہ سے حاصل کرے تو وہ اللہ تعالیٰ سے اس حال میں ملے گا کہ اللہ اس پر نہایت ہی غصہ ہو گا ۔ پھر اللہ تعالیٰ نے اس کی تصدیق وحی کے ذریعہ نازل کی کہ ” بلاشبہ وہ لوگ جو اللہ کے عہد اور اپنی قسموں کے بدلے معمولی دنیا کی پونجی خریدتے ہیں “ آخر آیت تک ۔ ( ذیلی راوی نے مزید کہا : ) اشعث بن قیس داخل ہوئے اور کہا کہ ابو عبدالرحمٰن نے تم سے کیا بیان کیا ؟ انہوں نے کہا فلاں اشعث نے کہا کہ یہ آیت میرے تعلق سے نازل ہوئی ہے، میرے چچا زاد بھائی کی زمین پر میرا کنواں تھا (اور اس میں ہمارا جھگڑا تھا)اس کے متعلق مقدمہ لے کرمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم گواہی دو ورنہ تمہارے مخالف کی قسم تمہارے دعوے کو باطل کر دے گی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس شخص کو قسم کھانے کا حکم دیا جائے اور وہ کسی مسلمان کا مال ہتھیانے کے لیے جھوٹی قسم کھائے تو وہ جب وہ قیامت کے دن اللہ سے ملے گا تو اللہ کااس پر غضب ہو گا۔"
Narrated Abu Musa رضی اللہ عنہ :
My companions sent me to the Prophet (ﷺ) to ask him for some mounts. He said, "By Allah! I will not mount you on anything!" When I met him, he was in an angry mood, but when I met him (again), he said, "Tell your companions that Allah or Allah's Messenger (ﷺ) will provide you with mounts."
مجھ سے محمد بن علاء نے بیان کیا ، کہا ہم سے ابواسامہ نے بیان کیا ، ان سے برید نے ، ان سے ابوبردہ نے اور ان سے حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ
میرے ساتھیوں نے مجھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں سواری کے جانور مانگنے کے لئے بھیجا تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ کی قسم میں تمہارے لئے کوئی سواری کا جانور نہیں دے سکتا ( کیونکہ موجود نہیں ہیں ) جب میں آپ کے سامنے آیا تو آپ کچھ خفگی میں تھے ۔ پھر جب دوبارہ آیا تو آپ نے فرمایا کہ اپنے ساتھیوں کے پاس جا اور کہہ کہ اللہ تعالیٰ نے یا ( یہ کہا کہ ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تمہارے لئے سواری کا انتظام کر دیا ۔
Narrated Az-Zuhri:
I heard `Urwa bin Az-Zubair, Sa`id bin Al-Musaiyab, 'Alqama bin Waqqas and 'Ubaidullah bin `Abdullah bin `Uqba relating from `Aisha رضی اللہ عنہا , the wife of the Prophet (ﷺ) the narration of the people (i.e. the liars) who spread the slander against her and they said what they said, and how Allah revealed her innocence. Each of them related to me a portion of that narration. (They said that `Aisha رضی اللہ عنہا said), ''Then Allah revealed the ten Verses starting with:--'Verily! Those who spread the slander..' (24.11-21) All these verses were in proof of my innocence. Abu Bakr As-Siddiq رضی اللہ عنہ who used to provide for Mistah some financial aid because of his relation to him, said, "By Allah, I will never give anything (in charity) to Mistah, after what he has said about `Aisha رضی اللہ عنہا " Then Allah revealed:-- 'And let not those among you who are good and are wealthy swear not to give (any sort of help) to their kins men....' (24.22) On that, Abu Bakr رضی اللہ عنہ said, "Yes, by Allah, I like that Allah should forgive me." and then resumed giving Mistah the aid he used to give him and said, "By Allah! I will never withhold it from him."
ہم سے عبدالعزیز نے بیان کیا ، کہا ہم سے ابراہیم نے بیان کیا ، ان سے صالح نے ، ان سے ابن شہاب نے ( دوسری سند ) اور ہم سے حجاج نے بیان کیا ، کہا ہم سے عبداللہ بن عمر نمیری نے بیان کیا ، کہا ہم سے یونس بن یزید ایلی نے بیان کیا ، کہا کہ میں نے زہری سے سنا ، کہا کہ
میں نے عروہ بن زبیر ، سعید بن المسیب ، علقمہ بن وقاص اور عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ رضی اللہ عنہم سے سنا ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ مطہرہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا پر بہتان کی بات کے متعلق ، جب ان پر اتہام لگانے والوں نے اتہام لگایا تھا اور اللہ تعالیٰ نے ان کو اس اتہام سے بری قرار دیا تھا ، ان سب لوگوں نے مجھ سے اس قصہ کا کوئی ایک ٹکڑا بیان کیا ( اس حدیث میں یہ بھی ہے کہ ) پھر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی کہ ” بلاشبہ جن لوگوں نے جھوٹی تہمت لگائی ہے “ دس آیتوں تک ۔ جو سب کی سب میری پاکی بیان کرنے کے لئے نازل ہوئی تھیں ۔ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ مسطح رضی اللہ عنہ کے ساتھ قرابت کی وجہ سے ان کا خرچ اپنے ذمہ لئے ہوئے تھے ، کہا کہ اللہ کی قسم اب کبھی مسطح پر کوئی چیز ایک پیسہ خرچ نہیں کروں گا ۔ اس کے بعد کہ اس نے عائشہ رضی اللہ عنہا پر اس طرح کی جھوٹی تہمت لگائی ہے ۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی ۔ ولا يأتل أولو الفضل منكم والسعۃ أن يؤتوا أولي القربى الخ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اس پر کہا ، کیوں نہیں ، اللہ کی قسم میں تو یہی پسند کرتا ہوں کہ اللہ میری مغفرت کر دے ۔ چنانچہ انہوں نے پھر مسطح کو وہ خرچ دینا شروع کر دیا جو اس سے پہلے انہیں دیا کرتے تھے اور کہا کہ اللہ کی قسم میں اب خرچ دینے کو کبھی نہیں روکوں گا ۔
Narrated Abu Musa Al-Ash`ari رضی اللہ عنہ :
I went along with some men from the Ash-ariyin to Allah's Messenger (ﷺ) and it happened that I met him while he was in an angry mood. We asked him to provide us with mounts, but he swore that he would not give us any. Later on he said, "By Allah, Allah willing, if ever I take an oath (to do something) and later on I find something else better than the first, then I do the better one and give expiation for the dissolution of my oath."
ہم سے ابومعمر نے بیان کیا ، کہا ہم سے عبدالوارث نے ، کہا ہم سے ایوب نے بیان کیا ، ان سے قاسم نے ، ان سے زہدم نے بیان کیا کہ ہم ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ کے پاس تھے تو انہوں نے بیان کیا کہ
میں قبیلہ اشعر کے چند ساتھیوں کے ساتھ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا جب میں آپ کے پاس آیا تو آپ غصہ تھے پھر ہم نے آپ سے سواری کا جانور مانگا تو آپ نے قسم کھا لی کہ آپ ہمارے لئے اس کا انتظام نہیں کر سکتے ۔ اس کے بعد فرمایا واللہ ، اللہ نے چاہا تو میں کبھی بھی اگر کوئی قسم کھا لوں گا اور اس کے سوا دوسری چیز میں بھلائی دیکھوں گا تو وہی کروں گا جس میں بھلائی ہو گی اور قسم توڑ دوں گا ۔
Narrated Al-Musaiyab رضی اللہ عنہ :
When the death of Abu Talib approached, Allah's Messenger (ﷺ) came to him and said, "Say: La ilaha illallah, a word with which I will be able to defend you before Allah."
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم کو شعیب نے خبر دی ، ان سے زہری نے بیان کیا ، انہیں سعید بن مسیب نے خبر دی ، ان کے والد ( حضرت مسیب رضی اللہ عنہ ) نے بیان کیا کہ
جب جناب ابوطالب کی موت کی وقت قریب ہوا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس آئے اور کہا کہ آپ کہہ دیجئیے کہ ” لا الہٰ الا اللہ “ تو میں آپ کے لیے اللہ سے جھگڑ سکوں گا ۔
Narrated Abu Huraira رضی اللہ عنہ :
Allah's Messenger (ﷺ) said, "(The following are) two words (sentences or utterances) that are very easy for the tongue to say, and very heavy in the balance (of reward), and most beloved to the Gracious Almighty (And they are): Subhan Allahi wa bi-hamdihi; Subhan Allahi-l-'Adhim,"
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم سے محمد بن فضیل نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم سے عمارہ بن قعقاع نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم سے ابوزرعہ نے بیان کیا اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا دو کلمے جو زبان پر ہلکے ہیں لیکن ترازو پر ( آخرت میں ) بھاری ہیں اور اللہ رحمن کے یہاں پسندیدہ ہیں وہ یہ ہیں ۔ سبحان اللہ و بحمدہ سبحان اللہ العظیم ۔
Narrated `Abdullah رضی اللہ عنہ :
Allah's Messenger (ﷺ) said a sentence and I said another. He said, "Whoever dies while he is setting up rivals along with Allah (i.e. worshipping others along with Allah) shall be admitted into the (Hell) Fire." And I said the other: "Whoever dies while he is not setting up rivals along with Allah (i.e. worshipping none except Allah) shall be admitted into Paradise."
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا ، کہا ہم سے عبدالواحد نے بیان کیا ، کہا ہم سے اعمش نے بیان کیا ، ان سے شقیق نے اور ان سے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اور میں نے ( اسی پر قیاس کرتے ہوئے ) دوسرا کلمہ کہا ( کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ) جو شخص اس حال میں مر جائے گا کہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہراتا ہو گا تو وہ جہنم میں جائے گا اور میں نے دوسری بات کہی کہ ” جو شخص اس حال میں مر جائے گا کہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراتا ہو گا وہ جنت میں جائے گا ۔
Narrated Anas رضی اللہ عنہ :
Allah's Messenger (ﷺ) took an oath for abstention from his wives (for one month), and during those days he had a sprain in his foot. He stayed in a Mashrubah (an upper room) for twenty-nine nights and then came down. Then the people said, "O Allah's Messenger (ﷺ)! You took an oath for abstention (from your wives) for one month." On that he said, "A (lunar) month can be of twenty-nine days."
ہم سے عبدالعزیز بن عبداللہ نے بیان کیا ، کہا ہم سے سلیمان بن بلال نے بیان کیا ، ان سے حمید نے اور ان سے انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بیویوں کے ساتھ ایلاء کیا ( یعنی قسم کھائی کہ
آپ ان کے یہاں ایک مہینہ تک نہیں جائیں گے ) اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاؤں میں موچ آ گئی تھی ۔ چنانچہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اپنے بالا خانہ میں انتیس دن تک قیام پذیر رہے ۔ پھر وہاں سے اترے ۔ لوگوں نے کہا یا رسول اللہ ! آپ نے ایلاء ایک مہینے کے لئے کیا تھا ؟ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ مہینہ انتیس دن کا ہے ۔
Narrated Sahl bin Sa`d رضی اللہ عنہ :
"Abu Usaid, رضی اللہ عنہ the companion of the Prophet, got married, so he invited the Prophet (ﷺ) to his wedding party, and the bride herself served them. Sahl رضی اللہ عنہ said to the People, 'Do you know what drink she served him with? She infused some dates in a pot at night and the next morning she served him with the infusion."
مجھ سے علی بن عبداللہ مدینی نے بیان کیا ، انہوں نے عبدالعزیز بن ابی حازم سے سنا ، کہا مجھ کو میرے والد نے خبر دی ، انہیں حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ نے کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی ابواسید رضی اللہ عنہ نے نکاح کیا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی شادی کے موقع پر بلایا ۔ دلہن ہی ان کی میزبانی کا کام کر رہی تھیں ۔ پھر حضرت سہل رضی اللہ عنہ نے لوگوں سے پوچھا ، تمہیں معلوم ہے ، میں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو کیا پلایا تھا ۔ کہا کہ رات میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے میں نے کھجور ایک بڑے پیالہ میں بھگو دی تھی اور صبح کے وقت اس کا پانی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو پلایا تھا ۔
Narrated Sauda (the wife of the Prophet) رضی اللہ عنہا :
One of our sheep died and we tanned its skin and kept on infusing dates in it till it was a worn out water skin.
ہم سے محمد بن مقاتل نے بیان کیا ، کہا ہم کو عبداللہ بن مبارک نے خبر دی ، کہا ہم کو اسماعیل بن ابی خالد نے خبر دی ، انہیں شعبی نے ، انہیں عکرمہ نے اور انہیں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیوی صاحبہ حضرت سودہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ
ان کی ایک بکری مرگئی تو اس کے چمڑے کو ہم نے دباغت دے دیا ۔ پھر ہم اس کی مشک میں نبیذ بناتے رہے یہاں تک کہ وہ پرانی ہو گئی ۔