Narrated `Aisha رضی اللہ عنہا :
The family of (the Prophet) Muhammad never ate wheat-bread with meat for three consecutive days to their fill, till he met Allah. His Hadrat Abdur Rehman father Hadrat Aabis رضی اللہ عنہ said to Hadrat Aishah رضی اللہ عنہا the same.
ہم سے محمد بن یوسف نے بیان کیا ، کہا ہم سے سفیان نے بیان کیا ، ان سے عبدالرحمٰن بن عابس نے ، ان سے ان کے والد نے اور ان سے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ
آل محمد صلی اللہ علیہ وسلم کبھی پے درپے تین دن تک سالن کے ساتھ گیہوں کی روٹی نہیں کھا سکے یہاں تک کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے جا ملے اور ابن کثیر نے بیان کیا کہ ہم کو سفیان نے خبر دی کہ ہم سے عبدالرحمٰن نے بیان کیا ، ان سے ان کے والد نے اور ان سے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے یہی حدیث بیان کی ۔
Narrated Anas bin Malik رضی اللہ عنہ :
Abu Talha رضی اللہ عنہ said to Um Sulaim رضی اللہ عنہا , "I heard the voice of Allah's Messenger (ﷺ) rather weak, and I knew that it was because of hunger. Have you anything (to present to the Prophet)?" She said, "Yes." Then she took out a few loaves of barley bread and took a veil of hers and wrapped the bread with a part of it and sent me to Allah's Messenger (ﷺ). I went and found Allah's Messenger (ﷺ) sitting in the mosque with some people. I stood up before him. Allah's Messenger (ﷺ) said to me, "Has Abu Talha رضی اللہ عنہا sent you?" I said, ' Yes. Then Allah's Messenger (ﷺ) said to those who were with him. "Get up and proceed." I went ahead of them (as their forerunner) and came to Abu Talha and informed him about it. Abu Talha رضی اللہ عنہا said, "O Um Sulaim! Allah's Messenger (ﷺ) has come and we have no food to feed them." Um Sulaim رضی اللہ عنہا said, "Allah and His Apostle know best." So Abu Talha went out (to receive them) till he met Allah's Messenger (ﷺ). Allah's Messenger (ﷺ) came in company with Abu Talha and they entered the house. Allah's Messenger (ﷺ) said, "O Um Sulaim! Bring whatever you have." So she brought that (barley) bread and Allah's Messenger (ﷺ) ordered that bread to be broken into small pieces, and then Um Sulaim poured over it some butter from a leather butter container, and then Allah's Messenger (ﷺ) said what Allah wanted him to say, (i.e. blessing the food). Allah's Messenger (ﷺ) then said, "Admit ten men." Abu Talha رضی اللہ عنہا admitted them and they ate to their fill and went out. He again said, "Admit ten men." He admitted them, and in this way all the people ate to their fill, and they were seventy or eighty men."
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا ، ان سے امام مالک نے بیان کیا ، ان سے اسحاق بن عبداللہ بن ابی طلحہ نے بیان کیا ، انہوں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے سنا ، انہوں نے بیان کیا کہ
حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے ( اپنی بیوی ) ام سلیم رضی اللہ عنہا سے کہا کہ میں سن کر آ رہا ہوں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی آواز ( فاقوں کی وجہ سے ) کمزور پڑ گئی ہے اور میں نے آواز سے آپ کے فاقہ کا اندازہ لگایا ہے ، کیا تمہارے پاس کھانے کی کوئی چیز ہے ؟ انہوں نے کہا ہاں ۔ چنانچہ انہوں نے جو کی چند روٹیاں نکالیں اور ایک اوڑھنی لے کر روٹی کو اس کے ایک کونے سے لپیٹ دیا اور اسے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بھجوایا ۔ میں لے کر گیا تو میں نے دیکھا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں تشریف رکھتے ہیں اور آپ کے ساتھ کچھ لوگ ہیں ، میں ان کے پاس جاکے کھڑا ہو گیا تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا ، کیا تمہیں ابوطلحہ نے بھیجا ہے ، میں نے عرض کیا جی ہاں ۔ پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان لوگوں سے کہا جو ساتھ تھے کہ اٹھو اور چلو ، میں ان کے آگے آگے چل رہا تھا ۔ آخر میں حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کے یہاں پہنچا اور ان کو اطلاع دی ۔ ابوطلحہ نے کہا ام سلیم ! جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے ہیں اور ہمارے پاس تو کوئی ایسا کھانا نہیں ہے جو سب کو پیش کیا جا سکے ؟ انہوں نے کہا کہ اللہ اور اس کے رسول کو زیادہ علم ہے ۔ پھر حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ باہر نکلے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے ملے ، اس کے بعد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور ابوطلحہ گھر کی طرف بڑھے اور اندر گئے ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ، ام سلیم ! جو کچھ تمہارے پاس ہے میرے پاس لاؤ ۔ وہ یہی روٹیاں لائیں ۔ راوی نے بیان کیا کہ پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے ان روٹیوں کو چورا کر دیا گیا اور ام سلیم رضی اللہ عنہا نے اپنی ایک ( گھی کی ) کپی کو نچوڑا گیا یہی سالن تھا ۔ اس کے بعد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے جیسا کہ اللہ نے چاہا دعا پڑھی اور فرمایا کہ دس دس آدمیوں کو اندر بلاؤ انہیں بلایا گیا اور اس طرح سب لوگوں نے کھایا اور خوب سیر ہو گئے ۔ حاضرین کی تعداد ستر یا اسی آدمیوں کی تھی ۔
Narrated `Umar bin Al-Khattab رضی اللہ عنہ :
I heard Allah's Messenger (ﷺ) saying, "The (reward of) deeds, depend upon the intentions and every person will get the reward according to what he has intended. So whoever emigrated for the sake of Allah and His Apostle, then his emigration will be considered to be for Allah and His Apostle, and whoever emigrated for the sake of worldly gain or for a woman to marry, then his emigration will be considered to be for what he emigrated for."
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم سے عبدالوہاب نے بیان کیا ، انہوں نے کہا میں نے یحییٰ بن سعید سے سنا ، انہوں نے کہا کہ مجھ سے محمد بن ابراہیم نے بیان کیا ، انہوں نے علقمہ بن وقاص لیثی سے سنا ، انہوں نے بیان کیا کہ میں نے حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے سنا ، انہوں نے بیان کیا کہ
میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا کہ بلاشبہ عمل کا دارومدار نیت پر ہے اور انسان کو وہی ملے گا جس کی وجہ نیت کرے گا پس جس کی ہجرت اللہ اور اس کے رسول کے لئے ہو گی تو واقعی وہ انہیں کے لئے ہو گی اور جس کی ہجرت دنیا حاصل کرنے کے لئے یا کسی عورت سے شادی کرنے کے لیے ہو گی تو اس کی ہجرت اسی کے لیے ہو گی جس کے لیے اس نے ہجرت کی ۔
Narrated Ka`b bin Malik:
Hadrat Kab's sons would lead his father when he turned blind told him that Hadrat Ka'b bin Maalik told him of the story about which Allah has said: ''The three who were left behind'' . At the end of the story, he said: As an act of gratitude at the acceptance of my repentance, I give all my property in Allah's and His Apostle's ﷺ way as alms and thus dissociate myself from it. The prophet , thereupon, said: Keep some of your property with you as it is better for you.
ہم سے احمد بن صالح نے بیان کیا ، کہا ہم سے ابن وہب نے بیان کیا ، کہا مجھ کو یونس نے خبر دی ، انہیں ابن شہاب نے ، کہا مجھے عبدالرحمٰن بن عبداللہ بن کعب بن مالک نے خبر دی ،
جب حضرت کعب رضی اللہ عنہ نابینا ہو گئے تھے تو ان کی اولاد میں ایک یہی کہیں آنے جانے میں ان کے ساتھ رہتے تھے ۔ انہوں نے بیان کیا کہ میں نے حضرت کعب بن مالک رضی اللہ عنہ سے ان کے واقعہ اور آیت ” وعلی الثلاثۃ الذین خلقوا “ کے سلسلہ میں سنا ، انہوں نے اپنی حدیث کے آخر میں کہا کہ ( میں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے یہ پیش کش کی کہ ) اپنی توبہ کی خوشی میں میں اپنا مال اللہ اور اس کے رسول کے دین کی خدمت میں صدقہ کر دوں ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر فرمایا کہ اپنا کچھ مال اپنے پاس ہی رکھو ، یہ تمہارے لیے بہترہے ۔
Narrated `Aisha رضی اللہ عنہا :
The Prophet (ﷺ) used to stay (for a period) in the house of Zainab bint Jahsh رضی اللہ عنہا (one of the wives of the Prophet ) and he used to drink honey in her house. Hafsa رضی اللہ عنہا and I decided that when the Prophet (ﷺ) entered upon either of us, she would say, "I smell in you the bad smell of Maghafir (a bad smelling raisin). Have you eaten Maghafir?" When he entered upon one of us, she said that to him. He replied (to her), "No, but I have drunk honey in the house of Zainab bint Jahsh, and I will never drink it again." Then the following verse was revealed: 'O Prophet ! Why do you ban (for you) that which Allah has made lawful for you?. ..(up to) If you two (wives of the Prophet (ﷺ) turn in repentance to Allah.' (66.1-4) The two were `Aisha and Hafsa رضی اللہ عنہا And also the Statement of Allah: 'And (Remember) when the Prophet (ﷺ) disclosed a matter in confidence to one of his wives!' (66.3) i.e., his saying, "But I have drunk honey." Hisham said: It also meant his saying, "I will not drink anymore, and I have taken an oath, so do not inform anybody of that."
ہم سے حسن بن محمد نے بیان کیا ، کہا ہم سے ابن جریج نے بیان کیا کہ عطاء کہتے تھے کہ انہوں نے عبید بن عمیر سے سنا ، کہا میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے سنا ، وہ کہتی تھیں کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ( ام المؤمنین ) حضرت زینت بنت جحش رضی اللہ عنہا کے یہاں رکتے تھے اور شہد پیتے تھے ۔ پھر میں نے اور ( ام المؤمنین ) حفصہ ( رضی اللہ عنہا ) نے عہد کیا کہ ہم میں سے جس کے پاس بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم آئیں تو وہ کہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے منہ سے مغافیر کی بو آتی ہے ، آپ نے مغافیر تو نہیں کھائی ہے ؟ چنانچہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم جب ایک کے یہاں تشریف لائے تو انہوں نے یہی بات آپ سے پوچھی ۔ آپ نے فرمایا کہ نہیں بلکہ میں نے شہد پیا ہے زینت بنت جحش کے یہاں اور اب کبھی نہیں پیوں گا ۔ ( کیونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو یقین ہو گیا کہ واقعی اس میں مغافیر کی بو آتی ہے ) اس پر یہ آیت نازل ہوئی ۔ ” اے نبی ! آپ ایسی چیز کیوں حرام کرتے ہیں جو اللہ نے آپ کے لیے حلال کی ہے “ ۔ ” ان تتوباالی اللّٰہ “ میں عائشہ اور حفصہ رضی اللہ عنہا کی طرف اشارہ ہے اور ” اذا سرالنبی الی بعض ازواجہ “ سے اشارہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اس ارشاد کی طرف ہے کہ ” نہیں “ میں نے شہد پیا ہے “ اور مجھ سے ابراہیم بن موسیٰ نے ہشام سے بیان کیا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ اب کبھی میں شہد نہیں پیوں گا میں نے قسم کھا لی ہے تم اس کی کسی کو خبر نہ کرنا ( پھر آپ نے اس قسم کو توڑ دیا ) ۔
Narrated Ibn `Umar رضی اللہ عنہما :
"Weren't people forbidden to make vows?" The Prophet (ﷺ) said, 'A vow neither hastens nor delays anything, but by the making of vows, some of the wealth of a miser is taken out."
ہم سے یحییٰ بن صالح نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم سے فلیح بن سلیمان نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم سے سعید بن الحارث نے بیان کیا ، انہوں نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے سنا ،
انہوں نے کہا ، کیا لوگوں کو نذر سے منع نہیں کیا گیا ہے ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ نذر کسی چیز کو نہ آگے کر سکتی ہے نہ پیچھے ، البتہ اس کے ذریعہ بخیل کا مال نکالا جا سکتا ہے ۔
Narrated `Abdullah bin `Umar رضی اللہ عنہما :
The Prophet (ﷺ) forbade the making of vows and said, "It (a vow) does not prevent anything (that has to take place), but the property of a miser is spent (taken out) with it."
ہم سے خلاد بن یحییٰ نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم سے سفیان نے بیان کیا ، ان سے منصور نے ، انہوں نے کہا ہم کو عبداللہ بن مرہ نے خبر دی ، اور انہیں عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نذر سے منع فرمایا تھا اور فرمایا تھا کہ وہ کسی چیز کو واپس نہیں کر سکتی ۔ البتہ اس کے ذریعہ بخیل کا مال نکالا جا سکتا ہے ۔
Narrated Abu Huraira رضی اللہ عنہ :
The Prophet (ﷺ) said, "Allah says, 'The vow, does not bring about for the son of Adam anything I have not decreed for him, but his vow may coincide with what has been decided for him, and by this way I cause a miser to spend of his wealth. So he gives Me (spends in charity) for the fulfillment of what has been decreed for him what he would not give Me before but for his vow."
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم کو شعیب نے خبر دی ، کہا ہم سے ابوالزناد نے بیان کیا ، ان سے اعرج نے بیان کیا اور ان سے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نذر انسان کو کوئی ایسی چیز نہیں دیتی جو اس کے مقدر میں نہ ہو ، البتہ اللہ تعالیٰ اس کے ذریعہ بخیل سے اس کا مال نکلواتا ہے اور اس طرح وہ چیزیں صدقہ کر دیتا ہے جس کی اس سے پہلے اس کی امید نہیں کی جا سکتی تھی ۔
Narrated Zahdam bin Mudarrab:
`Imran bin Hussain said, "The Prophet (ﷺ) said, 'The best of you (people) are my generation, and the second best will be those who will follow them, and then those who will follow the second generation." `Imran added, "I do not remember whether he mentioned two or three (generations) after his generation. He added, 'Then will come some people who will make vows but will not fulfill them; and they will be dishonest and will not be trustworthy, and they will give their witness without being asked to give their witness, and fatness will appear among them.' "
ہم سے مسدد نے بیان کیا ، ان سے یحییٰ نے ، ان سے شعبہ نے بیان کیا ، کہا مجھ سے ابوحمزہ نے بیان کیا ، کہا ہم سے زہدم بن مضرب نے بیان کیا ، کہا کہ
میں نے عمران بن حصین سے سنا ، وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے تھے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم میں سب سے بہتر میرا زمانہ ہے ، اس کے بعد ان کا جو اس کے قریب ہوں گے ۔ اس کے بعد وہ جو اس سے قریب ہوں گے ۔ عمران نے بیان کیا کہ مجھے یاد نہیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے زمانہ کے بعد دو کا ذکر کیا تھا یا تین کا ( فرمایا کہ ) پھر ایک ایسی قوم آئے گی جو نذر مانے گی اور اسے پورا نہیں کرے گی ، خیانت کرے گی اور ان پر اعتماد نہیں رہے گا ۔ وہ گواہی دینے کے لیے تیار رہیں گے جب کہ ان سے گواہی کے لیے کہا بھی نہیں جائے گا اور ان میں مٹاپا عام ہو جائے گا ۔
Narrated `Aisha رضی اللہ عنہا :
The Prophet (ﷺ) said, "Whoever vows that he will be obedient to Allah, should remain obedient to Him; and whoever made a vow that he will disobey Allah, should not disobey Him."
ہم سے ابونعیم نے بیان کیا ، کہا ہم سے امام مالک نے بیان کیا ، ان سے طلحہ بن عبدالملک نے ، ان سے قاسم نے اور ان سے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ، جس نے اس کی نذر مانی ہو کہ اللہ کی اطاعت کرے گا تو اسے اطاعت کرنی چاہئے لیکن جس نے اللہ کی معصیت کی نذر مانی ہو اسے نہ کرنی چاہئے ۔
Narrated Ibn `Umar رضی اللہ عنہما :
`Umar رضی اللہ عنہ said "O Allah's Messenger (ﷺ)! I vowed to perform I`tikaf for one night in Al-Masjid-al-Haram, during the Pre-Islamic Period of ignorance (before embracing Islam). "The Prophet (ﷺ) said, "Fulfill your vow."
ہم سے ابوالحسن محمد بن مقاتل نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم کو عبداللہ نے خبر دی ، انہوں نے کہا ہم کو عبیداللہ بن عمرو نے خبر دی ، انہیں نافع نے ، انہیں حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ
حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا ، یا رسول اللہ ! میں نے جاہلیت میں نذر مانی تھی کہ مسجدالحرام میں ایک رات کا اعتکاف کروں گا ؟ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اپنی نذر پوری کر ۔
Narrated Sa`d bin 'Ubada Al-Ansari رضی اللہ عنہ :
He consulted the Prophet (ﷺ) about a vow that had been made by his mother who died without fulfilling it. The Prophet (ﷺ) gave his verdict that he should fulfill it on her behalf. The verdict became Sunna (i.e. the Prophet's tradition).
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا ، کہا ہم کو شعیب نے خبر دی ، ان سے زہری نے ، انہیں عبیداللہ بن عبداللہ نے خبر دی ، انہیں ابن عباس رضی اللہ عنہما نے خبر دی ، انہیں سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ نے خبر دی کہ
انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک نذر کے بارے میں پوچھا جو ان کی والدہ کے ذمہ باقی تھی اور ان کی موت نذر پوری کرنے سے پہلے ہو گئی تھی ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں فتویٰ اس کا دیا کہ نذر وہ اپنی ماں کی طرف سے پوری کر دیں ۔ چنانچہ بعد میں یہی طریقہ مسنونہ قرار پایا ۔
Narrated Ibn `Abbas رضی اللہ عنہما :
A man came to the Prophet (ﷺ) and said to him, "My sister vowed to perform the Hajj, but she died (before fulfilling it)." The Prophet (ﷺ) said, "Would you not have paid her debts if she had any?" The man said, "Yes." The Prophet (ﷺ) said, "So pay Allah's Rights, as He is more entitled to receive His rights."
ہم سے آدم نے بیان کیا ، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا ، ان سے ابوبشر نے ، کہا کہ میں نے سعید بن جبیر سے سنا ، ان سے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ
ایک صاحب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آئے اور عرض کیا کہ میری بہن نے نذر مانی تھی کہ حج کریں گی لیکن اب ان کا انتقال ہو چکا ہے ؟ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر ان پر کوئی قرض ہوتا تو کیا تم اسے ادا کرتے ؟ انہوں نے عرض کی ضرور ادا کرتے ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پھر اللہ کا قرض بھی ادا کرو کیونکہ وہ اس کا زیادہ مستحق ہے کہ اس کا قرض پورا ادا کیا جائے ۔
Narrated `Aisha رضی اللہ عنہا :
The Prophet (ﷺ) said, "Whoever vowed to be obedient to Allah, must be obedient to Him; and whoever vowed to be disobedient to Allah, should not be disobedient to Him."
ہم سے ابوعاصم نے بیان کیا ، ان سے امام مالک نے ، ان سے طلحہ بن عبدالملک نے ، ان سے قاسم نے اور ان سے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس نے اللہ کی اطاعت کی نذر مانی ہو اسے چاہئے کہ اطاعت کرے اور جس نے گناہ کرنے کی نذر مانی ہو پس وہ گناہ نہ کرے ۔
Narrated Anas رضی اللہ عنہ :
The Prophet (ﷺ) said: Allah has nothing to do with his torturing himself and he saw him walking between his two sons (supported by them).Thabit has reported it from Hadrat Anas رضی اللہ عنہ .
ہم سے مسدد نے بیان کیا ، کہا ہم سے یحییٰ نے بیان کیا ، ان سے حمید نے ، ان سے ثابت نے اور ان سے حضرت انس رضی اللہ عنہ نے کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ اس سے بےپروا ہے کہ یہ شخص اپنی جان کو عذاب میں ڈالے ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے دیکھا کہ وہ اپنے دو بیٹوں کے درمیان چل رہا تھا اور فزاری نے بیان کیا ، ان سے حمید نے ، ان سے ثابت نے بیان کیا اور ان سے حضرت انس رضی اللہ عنہ نے ۔
Narrated Ibn `Abbas رضی اللہ عنہما :
The Prophet (ﷺ) saw a man performing Tawaf around the Ka`ba, tied with a rope or something else (while another person was holding him). The Prophet (ﷺ) cut that rope off.
ہم سے ابوعاصم نے بیان کیا ، ان سے ابن جریج نے ، ان سے سلیمان احول نے ، ان سے طاؤس نے ، ان سے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو دیکھا کہ وہ کعبہ کا طواف لگام یا اس کے سوا کسی اور چیز کے ذریعہ کر رہا تھا تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے کاٹ دیا ۔
Narrated Ibn `Abbas رضی اللہ عنہما :
While performing the Tawaf around the Ka`ba, the Prophet (ﷺ) passed by a person leading another person by a hair-rope nose-ring in his nose. The Prophet (ﷺ) cut the hair-rope nose-ring off with his hand and ordered the man to lead him by the hand.
ہم سے ابراہیم بن موسیٰ نے بیان کیا ، کہا ہم کو ہشام نے خبر دی ، انہیں ابن جریج نے خبر دی ، کہا کہ مجھے سلیمان احول نے خبر دی ، انہیں طاؤس نے خبر دی اور انہیں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم گزرے تو کعبہ کا ایک شخص اس طرح طواف کر رہا تھا کہ دوسرا شخص اس کی ناک میں رسی باندھ کر اس کے آگے سے اس کی رہنمائی کر رہا تھا ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ رسی اپنے ہاتھ سے کاٹ دی ، پھر حکم دیا کہ ہاتھ سے اس کی رہنمائی کرے ۔
Narrated Ibn `Abbas رضی اللہ عنہما :
While the Prophet (ﷺ) was delivering a sermon, he saw a man standing, so he asked about that man. They (the people) said, "It is Abu Israil who has vowed that he will stand and never sit down, and he will never come in the shade, nor speak to anybody, and will fast.'' The Prophet (ﷺ) said, "Order him to speak and let him come in the shade, and make him sit down, but let him complete his fast." Ikrimah has reported from the prophet ﷺ the same.
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا ، کہا ہم سے وہیب نے ، کہا ہم سے ایوب نے ، ان سے عکرمہ نے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ دے رہے تھے کہ ایک شخص کو کھڑے دیکھا ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے متعلق پوچھا تو لوگوں نے بتایا کہ یہ ابواسرائیل نامی ہیں ۔ انہوں نے نذر مانی ہے کہ کھڑے ہی رہیں گے ، بیٹھیں گے نہیں ، نہ کسی چیز کے سایہ میں بیٹھیں گے اور نہ کسی سے بات کریں گے اور روزہ رکھیں گے ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ان سے کہو کہ بات کریں ، سایہ کے نیچے بیٹھیں اٹھیں اور اپنا روزہ پورا کر لیں ۔ عبدالوہاب نے بیان کیا کہ ہم سے ایوب نے بیان کیا ، ان سے عکرمہ نے اور ان سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ۔
Narrated `Abdullah bin `Umar رضی اللہ عنہما :
He was asked about a man who had vowed that he would fast all the days of his life then the day of `Id al Adha or `Id-al-Fitr came. `Abdullah bin `Umar رضی اللہ عنہما said: You have indeed a good example in Allah's Messenger (ﷺ). He did not fast on the day of `Id al Adha or the day of `Id-al-Fitr, and we do not intend fasting on these two days.
ہم سے محمد بن ابوبکر مقدمی نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم سے فضیل بن سلیمان نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم سے موسیٰ بن عقبہ نے بیان کیا ، کہا ہم سے حکیم بن ابی حرہ اسلمی نے بیان کیا ، انہوں نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے سنا ،
ان سے ایسے شحص کے متعلق پوچھا گیا جس نے نذر مانی ہو کہ کچھ مخصوص دنوں میں روزے رکھے گا ۔ پھر اتفاق سے انہیں دنوں میں بقرعید یا عید کے دن پڑ گئے ہوں ؟ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا کہ تمارے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی بہترین نمونہ ہے ۔ آنحضرت بقرعید اور عید کے دن روزے نہیں رکھتے تھے اور نہ ان دنوں میں روزے کو جائز سمجھتے تھے ۔
Narrated Ziyad bin Jubair:
I was with Ibn `Umar when a man asked him, "I have vowed to fast every Tuesday or Wednesday throughout my life and if the day of my fasting coincided with the day of Nahr (the first day of `Id-al- Adha), (What shall I do?)" Ibn `Umar رضی اللہ عنہما said, "Allah has ordered the vows to be fulfilled, and we are forbidden to fast on the day of Nahr." The man repeated his question and Ibn `Umar repeated his former answer, adding nothing more.
ہم سے عبداللہ بن مسلمہ نے بیان کیا ، کہا ہم سے یزید بن ذریع نے بیان کیا ، ان سے یونس نے ، ان سے زیادہ بن جبیر نے بیان کیا کہ
میں حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کے ساتھ تھا ایک شخص نے ان سے پوچھا کہ میں نے نذر مانی ہے کہ ہر منگل یا بدھ کے دن روزہ رکھوں گا ۔ اتفاق سے اسی دن کی بقرعید پڑگئی ہے ؟ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا کہ اللہ تعالیٰ نذر پوری کرنے کا حکم دیا ہے اور ہمیں بقرعید کے دن روزہ رکھنے کی ممانعت کی گئی ہے ۔ اس شخص نے دوبارہ اپنا سوال دہرایا تو آپ نے پھر اس سے صرف اتنی ہی بات کہی اس پر کوئی زیادتی نہیں کی ۔