Narrated Jabir bin `Abdullah رضی اللہ عنہما :
I became sick so Allah's Messenger (ﷺ) and Abu Bakr رضی اللہ عنہ came on foot to pay me a visit. When they came, I was unconscious. Allah's Messenger (ﷺ) performed ablution and he poured over me the water (of his ablution) and I came to my senses and said, "O Allah's Messenger (ﷺ)! What shall I do regarding my property? How shall I distribute it?" The Prophet (ﷺ) did not reply till the Divine Verses of inheritance were revealed .
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا ، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا ، ان سے محمد بن منکدر نے ، انہوں نے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے سنا ، انہوں نے بیان کیا کہ
میں بیمار پڑا تو حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ میری عیادت کے لئے تشریف لائے ، دونوں حضرات پیدل چل کر آئے تھے ۔ دونوں حضرات جب آئے تو مجھ پر غشی طاری تھی ، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا اور وضو کا پانی میرے اوپر چھڑکا مجھے ہوش ہوا تو میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! اپنے مال کی ( تقسیم ) کس طرح کروں ؟ یا اپنے مال کا کس طرح فیصلہ کروں ؟ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے کوئی جواب نہیں دیا ، یہاں تک کہ میراث کی آیتیں نازل ہوئیں ۔
Narrated Abu Huraira رضی اللہ عنہ :
Allah's Messenger (ﷺ) said, 'Beware of suspicion, for it is the worst of false tales and don't look for the other's faults and don't spy and don't hate each other, and don't desert (cut your relations with) one another O Allah's slaves, be brothers!" (See Hadith No. 90)
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا ، کہا ہم سے وہیب نے بیان کیا ، کہا ہم سے عبداللہ بن طاؤس نے بیان کیا ، ان سے ان کے والد نے اور ان سے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ
رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بدگمانی سے بچتے رہو ، کیونکہ گمان ( بدظنی ) سب سے جھوٹی بات ہے ۔ آپس میں ایک دوسرے کی برائی کی تلاش میں نہ لگے رہو نہ ایک دوسرے سے بغض رکھو اور نہ پیٹھ پیچھے کسی کی برائی کرو ، بلکہ اللہ کے بندے بھائی بھائی بن کر رہو ۔
Narrated `Aisha رضی اللہ عنہا :
Fatima and Al-`Abbas came to Abu Bakr رضی اللہ عنہ , seeking their share from the property of Allah's Messenger (ﷺ) and at that time, they were asking for their land at Fadak and their share from Khaibar. Abu Bakr رضی اللہ عنہ said to them, " I have heard from Allah's Messenger (ﷺ) saying, 'Our property cannot be inherited, and whatever we leave is to be spent in charity, but the family of Muhammad may take their provisions from this property." Abu Bakr رضی اللہ عنہ added, "By Allah, I will not leave the procedure I saw Allah's Messenger (ﷺ) following during his lifetime concerning this property." Therefore Fatima رضی اللہ عنہا left Abu Bakr رضی اللہ عنہ and did not speak to him till she died.
ہم سے عبداللہ بن محمد نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم سے ہشام بن عروہ نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم کو معمر نے خبر دی ، انہیں زہری نے ، انہیں عروہ بن زبیر نے اور ان سے ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ
حضرت فاطمہ اور عباس علیہما السلام حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے اپنی میراث کا مطالبہ کرنے آئے ، یہ فدک کی زمین کا مطالبہ کر رہے تھے اور خیبرمیں بھی اپنے حصہ کا مطالبہ کر رہے تھے ۔حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا کہ میں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے آپ نے فرمایا تھا کہ ہمارا کوئی وارث نہیں ہوتا جو کچھ ہم چھوڑیں وہ سب صدقہ ہے ، بلاشبہ آل محمد اسی مال میں سے اپنا خرچ پورا کرے گی ۔ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا ، واللہ ، میں کوئی ایسی بات نہیں ہونے دوں گا ، بلکہ جسے میں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو کرتے دیکھا ہو گا وہ میں بھی کروں گا ۔ بیان کیا کہ اس پر حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا نے ان سے تعلق کاٹ لیا اور موت تک ان سے کلام نہیں کیا ۔
Narrated `Aisha رضی اللہ عنہا :
The Prophet (ﷺ) said, "Our (Apostles') property should not be inherited, and whatever we leave, is to be spent in charity."
ہم سے اسماعیل بن ابان نے بیان کیا ، کہا ہم کو عبداللہ بن مبارک نے خبر دی ، انہیں یونس نے ، انہیں زہری نے ، انہیں عروہ نے اور ان سے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہماری وراثت نہیں ہوتی ہم جو کچھ بھی چھوڑیں وہ صدقہ ہے ۔
Narrated Malik bin Aus:
I went and entered upon `Umar, his doorman, Yarfa came saying `Uthman, `Abdur-Rahman, Az- Zubair and Sa`d are asking your permission (to see you). May I admit them? `Umar رضی اللہ عنہ said, 'Yes.' So he admitted them Then he came again and said, 'May I admit `Ali رضی اللہ عنہ and `Abbas رضی اللہ عنہ ?' He said, 'Yes.' `Abbas رضی اللہ عنہ said, 'O, chief of the believers! Judge between me and this man (Ali ). `Umar رضی اللہ عنہ said, 'I beseech you by Allah by Whose permission both the heaven and the earth exist, do you know that Allah's Messenger (ﷺ) said, 'Our (the Apostles') property will not be inherited, and whatever we leave (after our death) is to be spent in charity?' And by that Allah's Messenger (ﷺ) meant himself.' The group said, '(No doubt), he said so.' `Umar رضی اللہ عنہ then faced `Ali and `Abbas and said, 'Do you both know that Allah's Messenger (ﷺ) said that رضی اللہ عنہما?' They replied, '(No doubt), he said so.' `Umar رضی اللہ عنہ said, 'So let me talk to you about this matter. Allah favored His Apostle with something of this Fai' (i.e. booty won by the Muslims at war without fighting) which He did not give to anybody else; Allah said:-- 'And what Allah gave to His Apostle ( Fai' Booty) .........to do all things....(59.6) And so that property was only for Allah's Messenger (ﷺ) . Yet, by Allah, he neither gathered that property for himself nor withheld it from you, but he gave its income to you, and distributed it among you till there remained the present property out of which the Prophet (ﷺ) used to spend the yearly maintenance for his family, and whatever used to remain, he used to spend it where Allah's property is spent (i.e. in charity etc.). Allah's Messenger (ﷺ) followed that throughout his life. Now I beseech you by Allah, do you know all that?' They said, 'Yes.' `Umar رضی اللہ عنہ then said to `Ali and `Abbas, 'I beseech you by Allah, do you know that?' Both of them said, 'Yes.' `Umar رضی اللہ عنہ added, 'And when the Prophet (ﷺ) died, Abu Bakr said, ' I am the successor of Allah's Messenger (ﷺ), and took charge of that property and managed it in the same way as Allah's Messenger (ﷺ) did. Then I took charge of this property for two years during which I managed it as Allah's Messenger (ﷺ) and Abu Bakr did. Then you both (`Ali and `Abbas) came to talk to me, bearing the same claim and presenting the same case. (O `Abbas!) You came to me asking for your share from the property of your nephew, and this man (Ali) came to me, asking for the share of h is wife from the property of her father. I said, 'If you both wish, I will give that to you on that condition (i.e. that you would follow the way of the Prophet (ﷺ) and Abu Bakr رضی اللہ عنہ and as I (`Umar رضی اللہ عنہ ) have done in man aging it).' Now both of you seek of me a verdict other than that? Lo! By Allah, by Whose permission both the heaven and the earth exist, I will not give any verdict other than that till the Hour is established. If you are unable to manage it, then return it to me, and I will be sufficient to manage it on your behalf.' "
ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا ، کہا ہم سے لیث بن سعد نے بیان کیا ، ان سے عقیل نے ، ان سے ابن شہاب نے بیان کیا کہ مجھے مالک بن اوس بن حدثان نے خبر دی کہ
محمد بن جبیر بن مطعم نے مجھ سے مالک بن اوس کی اس حدیث کا ایک حصہ ذکر کیا تھا ۔ پھر میں خود مالک بن اوس کے پاس گیا اور ان سے یہ حدیث پوچھی تو انہوں نے بیان کیا کہ میں عمر رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا پھر ان کے حاجب یرفاء نے جا کر ان سے کہا کہ عثمان ، عبدالرحمٰن بن زبیر اور سعد آپ کے پاس آنا چاہتے ہیں ؟ انہوں نے کہا کہ اچھا آنے دو ۔ چنانچہ انہیں اندر آنے کی اجازت دے دی ۔ پھر کہا ، کیا آپ علی و عباس رضی اللہ عنہما کو بھی آنے کی اجازت دیں گے ؟ کہا کہ ہاں آنے دو ۔ چنانچہ عباس رضی اللہ عنہ نے کہا کہ امیرالمؤمنین میرے اور علی رضی اللہ عنہ کے درمیان فیصلہ کردیجے ۔ عمر رضی اللہ عنہ نے کہا میں تمہیں اللہ کی قسم دیتا ہوں جس کے حکم سے آسمان و زمین قائم ہیں کیا تمہیں معلوم ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ ہماری وراثت تقسیم نہیں ہوتی جو کچھ ہم چھوڑیں وہ سب راہ اللہ صدقہ ہے ؟ اس سے مراد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے کی خود اپنی ہی ذات تھی ۔ جملہ حاضرین بولے کہ ہاں ، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ ارشاد فرمایا تھا ۔ پھر حضرت عمر ، حضرت علی اور حضرت عباس رضی اللہ عنہما کی طرف متوجہ ہوئے اور پوچھا ، کیا تمہیں معلوم ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا تھا ؟ انہوں نے بھی تصدیق کی کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ ارشاد فرمایا تھا ۔ عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا پھر میں اب آپ لوگوں سے اس معاملہ میں گفتگو کروں گا ۔ اللہ تعالیٰ نے اس فے کے معاملہ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے کچھ حصے مخصوص کردیئے جو آپ کے سوا کسی اور کو نہیں ملتا تھا ۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا تھا کہ ” ما افاء اﷲ علی رسولہ “ ارشاد قدیر ، تک ۔ یہ تو خاص آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا حصہ تھا ۔ اللہ کی قسم آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے تمہارے لئے ہی مخصوص کیا تھا اور تمہارے سوا کسی کو اس پر ترجیح نہیں دی تھی ، تمہیں کو اس میں سے دیتے تھے اور تقسیم کرتے تھے ۔ آخر اس میں سے یہ مال باقی رہ گیا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اس میں سے اپنے گھر والوں کے لئے سال بھر کا خرچہ لیتے تھے ، اس کے بعد جو کچھ باقی بچتا اسے ان مصارف میں خرچ کرتے جو اللہ کے مقرر کردہ ہیں ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ طرز عمل آپ کی زندگی بھر رہا ۔ میں آپ کو اللہ کی قسم دے کر کہتا ہوں ، کیا آپ لوگوں کو معلوم ہے ؟ لوگوں نے کہا کہ ہاں ۔ پھر آپ نے علی اور عباس رضی اللہ عنہما سے پوچھا ، میں اللہ کی قسم دے کر پوچھتا ہوں کیا آپ لوگوں کو یہ معلوم ہے ؟ انہوں نے بھی کہا کہ ہاں ۔ پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہو گئی اور ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ اب میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا نائب ہوں چنانچہ انہوں نے اس پر قبضہ میں رکھ کر اس طرز عمل کو جاری رکھا جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا اس میں تھا ۔ اللہ تعالیٰ نے ابوبکر رضی اللہ عنہ کو بھی وفات دی تو میں نے کہا کہ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے نائب کا نائب ہوں ۔ میں بھی دو سال سے اس پر قابض ہوں اور اس مال میں وہی کرتا ہوں جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کیا ۔ پھر آپ دونوں میرے پاس آئے ہو ۔ آپ دونوں کی بات ایک ہے اور معاملہ بھی ایک ہی ہے ۔ آپ ( عباس رضی اللہ عنہ ) میرے پاس اپنے بھتیجے کی میراث سے اپنا حصہ لینے آئے ہو اور آپ ( علی رضی اللہ عنہ ) اپنی بیوی کا حصہ لینے آئے ہو جو ان کے والد کی طرف سے انہیں ملتا ۔ میں کہتا ہوں کہ اگر آپ دونوں چاہتے ہیں تو میں اسے آپ کو دے سکتا ہوں لیکن آپ لوگ اس کے سوا کوئی اور فیصلہ چاہتے ہیں تو اس ذات کی قسم جس کے حکم سے آسمان و زمین قائم ہیں ، میں اس مال میں اس کے سوا اور کوئی فیصلہ نہیں کر سکتا ، قیامت تک ، اگر آپ اس کے مطابق عمل نہیں کر سکتے تو وہ جائیداد مجھے واپس کر دیجئیے میں اس کا بھی بندوبست کر لوں گا ۔
Narrated Abu Huraira رضی اللہ عنہ :
Allah's Messenger (ﷺ) said, "Not even a single Dinar of my property should be distributed (after my deaths to my inheritors, but whatever I leave excluding the provision for my wives and my servants, should be spent in charity."
ہم سے اسماعیل بن ابی اویس نے بیان کیا ، کہا کہ مجھ سے امام مالک نے بیان کیا ، ان سے ابوالزناد نے ، ان سے اعرج نے اور ان سے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میرا ورثہ دینار کی شکل میں تقسیم نہیں ہو گا ۔ میں نے اپنی بیویوں کے خرچہ اور اپنے عاملوں کی اجرت کے بعد جو کچھ چھوڑا ہے وہ سب صدقہ ہے ۔
Narrated `Aisha رضی اللہ عنہا :
"When Allah's Messenger (ﷺ) died, his wives intended to send `Uthman رضی اللہ عنہ to Abu Bakr رضی اللہ عنہ asking him for their share of the inheritance." Then `Aisha رضی اللہ عنہاsaid to them, "Didn't Allah's Messenger (ﷺ) say, 'Our (Apostles') property is not to be inherited, and whatever we leave is to be spent in charity?'"
ہم سے عبداللہ بن مسلمہ قعبنی نے بیان کیا ، ان سے امام مالک نے ، ان سے ابن شہاب نے ، عروہ کی سند سے۔ان سے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہ
جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوئی تو آپ کی بیویوں نے چاہا کہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس بھیجیں ، اپنی میراث طلب کرنے کے لئے ۔ پھر حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے یاد دلایا ۔ کیا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے نہیں فرمایا تھا کہ ہماری وراثت تقسیم نہیں ہوتی ، ہم جو کچھ چھوڑ جائیں وہ سب صدقہ ہے ۔
Narrated Abu Huraira رضی اللہ عنہ :
The Prophet (ﷺ) said, "I am more closer to the believers than their own selves, so whoever (of them) dies while being in debt and leaves nothing for its repayment, then we are to pay his debts on his behalf and whoever (among the believers) dies leaving some property, then that property is for his heirs."
ہم سے عبدان نے بیان کیا ، کہا ہم کو عبداللہ بن مبارک نے خبر دی ، کہا ہم کو یونس بن یزید ایلی نے خبر دی ، انہیں ابن شہاب نے ، کہا مجھ سے ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن نے بیان کیا اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں مومنوں کا خود ان سے زیادہ حقدار ہوں ۔ پس ان میں سے جو کوئی قرض دار مرے گا اور ادائےگی کے لئے کچھ نہ چھوڑے گا تو ہم پراس کی ادائےگی کی ذمہ داری ہے اور جس نے کوئی مال چھوڑا ہو گا وہ اس کے وارثوں کا حصہ ہے ۔
Narrated Ibn `Abbas:
The Prophet (ﷺ) said, "Give the Fara'id (the shares of the inheritance that are prescribed in the Qur'an) to those who are entitled to receive it. Then whatever remains, should be given to the closest male relative of the deceased ."
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا کہا ہم سے وہیب نے بیان کیا ، کہا ہم سے عبداللہ ابن طاؤس نے بیان کیا ، ان سے ان کے والد نے اور ان سے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میراث اس کے حق داروں تک پہنچا دو اور جو کچھ باقی بچے وہ سب سے زیادہ قریبی مرد عزیز کا حصہ ہے ۔
Narrated Sa`d bin Abi Waqqas:
I was stricken by an ailment that led me to the verge of death. The Prophet (ﷺ) came to pay me a visit. I said, "O Allah's Messenger (ﷺ)! I have much property and no heir except my single daughter. Shall I give two-thirds of my property in charity?" He said, "No." I said, "Half of it?" He said, "No." I said, "Onethird of it?" He said, "You may do so) though one-third is also to a much, for it is better for you to leave your off-spring wealthy than to leave them poor, asking others for help. And whatever you spend (for Allah's sake) you will be rewarded for it, even for a morsel of food which you may put in the mouth of your wife." I said, "O Allah's Messenger (ﷺ)! Will I remain behind and fail to complete my emigration?" The Prophet (ﷺ) said, "If you are left behind after me, whatever good deeds you will do for Allah's sake, that will upgrade you and raise you high. May be you will have long life so that some people may benefit by you and others (the enemies) be harmed by you." But Allah's Messenger (ﷺ) felt sorry for Sa`d bin Khaula as he died in Mecca. (Sufyan, a sub-narrator said that Sa`d bin Khaula رضی اللہ عنہwas a man from the tribe of Bani 'Amir bin Lu'ai.)
ہم سے امام حمیدی نے بیان کیا ، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا ، کہا ہم سے زہری نے بیان کیا ، کہا مجھے عامر بن سعد بن ابی وقاص نے خبر دی اور ان سے ان کے والد نے بیان کیا کہ
میں مکہ مکرمہ میں ( حجۃ الوداع میں ) بیمار پڑ گیا اور موت کے قریب پہنچ گیا ۔ پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم میری عیادت کے لئے تشریف لائے تو میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! میرے پاس بہت زیادہ مال ہے اور ایک لڑکی کے سوا اس کا کوئی وارث نہیں تو کیا مجھے اپنے مال کے دو تہائی حصہ کا صدقہ کر دینا چاہئے ؟ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ نہیں ۔ بیان کیا کہ میں نے عرض کیا پھر آدھے کا کر دوں ؟ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ نہیں ۔ میں نے عرض کیا ایک تہائی کا ؟ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہاں ۔ گو تہائی بھی بہت ہے ، اگر تم اپنے بچوں کو مالدار چھوڑو تو یہ اس سے بہتر ہے کہ انہیں تنگدست چھوڑو اور وہ لوگوں کے سامنے ہاتھ پھیلا پھریں اور تم جو بھی خرچ کرو گے اس پر تمہیں ثواب ملے گا یہاں تک کہ اس لقمہ پر بھی ثواب ملے گا جو تم اپنی بیوی کے منہ میں رکھو گے ۔ پھر میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! کیا میں اپنی ہجرت میں پیچھے رہ جاؤں گا ؟ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر میرے بعد تم پیچھے رہ بھی گئے تب بھی جو عمل تم کرو گے اور اس سے اللہ کی خوشنودی مقصود ہو گی تو اس کے ذریعہ درجہ و مرتبہ بلند ہو گا اور غالباً تم میرے بعد زندہ رہو گے اور تم سے بہت سے لوگوں کو فائدہ ہو گا اور بہتوں کو نقصان پہنچے گا ۔ قابل افسوس تو سعد ابن خولہ ہیں ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے بارے میں اس لئے افسوس کا اظہار کیا کہ ( ہجرت کے بعد اتفاق سے ) ان کی وفات مکہ مکرمہ میں ہی ہو گئی ۔ سفیان نے بیان کیا کہ سعد ابن خولہ رضی اللہ عنہ بنی عامر بن لوی کے ایک آدمی تھے ۔
Narrated Al-Aswad bin Yazid:
Mu`adh bin Jabal رضی اللہ عنہ came to us in Yemen as a tutor and a ruler, and we (the people of Yemen) asked him about (the distribution of the property of ) a man who had died leaving a daughter and a sister. Mu`adh gave the daughter one-half of the property and gave the sister the other half.
مجھ سے محمود بن غیلان نے بیان کیا ، کہا ہم سے ابوالنضر نے بیان کیا ، کہا ہم سے ابومعاویہ شیبان نے بیان کیا ، ان سے اشعث بن ابی الشعثاء نے ، ان سے اسود بن یزید نے بیان کیا کہ
حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ ہمارے یہاں یمن میں معلم و امیر بن کر تشریف لائے ۔ ہم نے ان سے ایک ایسے شخص کے ترکہ کے بارے میں پوچھا جس کی وفات ہوئی ہو اور اس نے ایک بیٹی اور ایک بہن چھوڑی ہو اور اس نے اپنی بیٹی کو آدھا اور بہن کو بھی آدھا دیا ہو ۔
Narrated Ibn `Abbas:
Allah's Messenger (ﷺ) said, "Give the Fara'id (shares prescribed in the Qur'an) to those who are entitled to receive it; and whatever remains, should be given to the closest male relative of the deceased.'
ہم سے مسلم بن ابراہیم نے بیان کیا ، کہا ہم سے وہیب نے بیان کیا ، کہا ہم سے عبداللہ ابن طاؤس نے بیان کیا ، ان سے ان کے والد نے اور ان سے حضرت ابن عباس نے بیان کیا کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پہلے میراث ان کے وارثوں تک پہنچا دو اور جو باقی رہ جائے وہ اس کو ملے گا جو مرد میت کا بہت نزدیکی رشتہ دار ہو ۔
Narrated Huzail bin Shirahbil:
Abu Musa رضی اللہ عنہ was asked regarding (the inheritance of) a daughter, a son's daughter, and a sister. He said, "The daughter will take one-half and the sister will take one-half. If you go to Ibn Mas`ud رضی اللہ عنہما , he will tell you the same." Ibn Mas`ud رضی اللہ عنہما was asked and was told of Abu Musa's verdict. Ibn Mas`ud then said, "If I give the same verdict, I would stray and would not be of the rightly-guided. The verdict I will give in this case, will be the same as the Prophet (ﷺ) did, i.e. one-half is for daughter, and one-sixth for the son's daughter, i.e. both shares make two-thirds of the total property; and the rest is for the sister." Afterwards we cams to Abu Musa رضی اللہ عنہ and informed him of Ibn Mas`ud's verdict, whereupon he said, "So, do not ask me for verdicts, as long as this learned man is among you."
ہم سے آدم بن ابی ایاس نے بیان کیا ، کہا ہم سے شعبہ نے ، کہا ہم سے ابوقیس عبدالرحمٰن بن ثروان نے ، انہوں نے ہزیل بن شرحبیل سے سنا ، بیان کیا کہ
ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے بیٹی ، پوتی اور بہن کی میراث کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے کہا کہ بیٹی کو آدھا ملے گا اور بہن کو آدھا ملے گا اور تو ابن مسعود رضی اللہ عنہما کے یہاں جا ، شاید وہ بھی یہی بتائیں گے ۔ پھر ابن مسعود رضی اللہ عنہما سے پوچھا گیا اور ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ کی بات بھی پہنچائی گئی تو انہوں نے کہا کہ میں اگر ایسا فتویٰ دوں تو گمراہ ہو چکا اور ٹھیک راستے سے بھٹک گیا ۔ میں تو اس میں وہی فیصلہ کروں گا جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا تھا کہ بیٹی کو آدھا ملے گا ، پوتھی کو چھٹا حصہ ملے گا ، اس طرح دو تہائی پوری ہو جائے گی اور پھر جو باقی بچے گا وہ بہن کو ملے گا ۔ پھر ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور ابن مسعود رضی اللہ عنہما کی بات ان تک پہنچائی تو انہوں نے کہا کہ جب تک یہ عالم تم میں موجود ہیں مجھ سے مسائل نہ پوچھا کرو ۔
Narrated Ibn `Abbas رضی اللہ عنہما :
The Prophet (ﷺ) said, "Give the Fara'id, (the shares prescribed in the Qur'an) to those who are entitled to receive it, and then whatever remains, should be given to the closest male relative of the deceased."
ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا ، کہا ہم سے وہیب نے بیان کیا ، ان سے ابن طاؤس نے ، ان سے ان کے والد نے اور ان سے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میراث اس کے حقدار تک پہنچا دو اور جو باقی رہ جائے وہ سب سے قریب والے مرد کو دے دو ۔
Narrated Ibn `Abbas رضی اللہ عنہما :
The person about whom Allah's Messenger (ﷺ) said, "If I were to take a Khalil from this nation (my followers), then I would have taken him (i.e., Abu Bakr رضی اللہ عنہ), but the Islamic Brotherhood is better (or said: good)," regarded a grandfather as the father himself (in inheritance).
ہم سے ابومعمر نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم سے عبدالوارث نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم سے ایوب نے بیان کیا ، ان سے عکرمہ نے اور ان سے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے جو یہ فرمایا ہے کہ اگر میں اس امت کے کسی آدمی کو ” خلیل “ بناتا تو ان کو ( ابوبکر رضی اللہ عنہ کو ) کو خلیل بناتا ، لیکن اسلام کا تعلق ہی سب سے بہتر ہے تو اس میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے دادا کو باپ کے درجہ میں رکھا ہے ۔
Narrated Ibn `Abbas رضی اللہ عنہما :
(During the early days of Islam), the inheritance used to be given to one's offspring and legacy used to be bequeathed to the parents, then Allah cancelled what He wished from that order and decreed that the male should be given the equivalent of the portion of two females, and for the parents one-sixth for each of them, and for one's wife one-eighth (if the deceased has children) and one-fourth (if he has no children), for one's husband one-half (if the deceased has no children) and one-fourth (if she has children).
ہم سے محمد بن یوسف نے بیان کیا ، ان سے ورقاء نے بیان کیا ، ان سے ابن ابی نجیح نے بیان کیا ، ان سے عطاء نے اور ان سے حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ
پہلے مال کی اولاد مستحق تھی اور والدین کو وصیت کا حق تھا ۔ پھر اللہ تعالیٰ نے اس میں سے جو چاہا منسوخ کر دیا اور لڑکوں کو لڑکیوں کے دگناحق دیا اوروالدین کو اور ان میں سے ہر ایک کو چھٹے حصہ کا مستحق قرار دیا اور بیوی کو آٹھویں اور چوتھے حصہ کا حق دارقرار دیا اور شوہر کو آدھے یا چوتھائی کا حقدار قرار دیا ۔
Narrated Abu Huraira رضی اللہ عنہ :
Allah's Messenger (ﷺ) gave the judgment that a male or female slave should be given in Qisas for an abortion case of a woman from the tribe of Bani Lihyan (as blood money for the fetus) but the lady on whom the penalty had been imposed died, so the Prophets ordered that her property be inherited by her offspring and her husband and that the penalty be paid by her Asaba.
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا ، کہا ہم سے لیث نے ، ان سے ابن شہاب نے ، ان سے ابن المسیب نے اور ان سے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بنی لحیان کی ایک عورت ملیا بنت عویمر کے بچے کے بارے میں جو ایک عورت کی مار سے مردہ پیدا ہوا تھا کہ مارنے والی عورت کو خون بہا کے طور پر ایک غلام یا لونڈی ادا کرنے کا حکم فرمایا تھا ۔ پھر وہ عورت بچہ گرانے والی جس کے متعلق آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فیصلہ دیا تھا مرگئی تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فیصلہ کیا کہ اس کی میراث اس کے لڑکوں اور شوہر کو دے دی جائے اور یہ دیت ادا کرنے کا حکم اس کے کنبہ والوں کو دیا تھا ۔
Narrated Al-Aswad:
Mu`adh bin Jabal رضی اللہ عنہ gave this verdict for us in the lifetime of Allah's Messenger (ﷺ). One-half of the inheritance is to be given to the daughter and the other half to the sister. Sulaiman said: Mu`adh gave a verdict for us, but he did not mention that it was so in the lifetime of Allah's Messenger (ﷺ).
ہم سے بشر بن خالد نے بیان کیا ، کہا ہم سے محمد بن جعفر نے بیان کیا ، ان سے شعبہ بن حجاج نے ، ان سے سلیمان اعمش نے ، ان سے ابراہیم نخعی نے اور ان سے اسود بن یزید نے بیان کیا کہ
حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں ہمارے درمیان یہ فیصلہ کیا تھا کہ آدھا بیٹی کو ملے گا اور آدھا بہن کو ۔ پھر سلیمان نے جو اس حدیث کو روایت کیا تو اتنا ہی کہا کہ معاذ نے ہم کنبہ والوں کو یہ حکم دیا تھا یہ نہیں کہا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں ۔
Narrated `Abdullah رضی اللہ عنہما :
"The judgment I will give in this matter will be like the judgment of the Prophet, i.e. one-half is for the daughter and one-sixth for the son's daughter and the rest of the inheritance for the sister."
ہم سے عمرو بن عباس نے بیان کیا ، کہا ہم سے عبدالرحمٰن بن مہدی نے بیان کیا ، کہا ہم سے سفیان ثوری نے بیان کیا ، ان سے ابوقیس ( عبدالرحمٰن بن عزوان ) نے ، ان سے ہزیل بن شرحبیل نے بیان کیا اور ان سے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ
میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے فیصلہ کے مطابق اس کا فیصلہ کروں گا ۔ لڑکی کو آدھا ، پوتی کو چھٹا اور جو باقی بچے بہن کا حصہ ہے ۔
Narrated Jabir رضی اللہ عنہ :
While I was sick, the Prophet (ﷺ) entered upon me and asked for some water to perform ablution, and after he had finished his ablution, he sprinkled some water of his ablution over me, whereupon I became conscious and said, "O Allah's Messenger (ﷺ)! I have sisters." Then the Divine Verses regarding the laws of inheritance were revealed.
ہم سے عبداللہ بن عثمان نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم کو عبداللہ بن مبارک نے خبر دی ، کہا ہم کو شعبہ بن حجاج نے خبر دی ، ان سے محمد بن منکدر نے بیان کیا ، انہوں نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے سنا ، انہوں نے بیان کیا کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میرے گھر تشریف لائے اور میں بیمار تھا ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے پانی منگوایا اور وضوکیا ۔ پھر اپنے وضوکے پانی سے مجھ پر چھینٹا ڈالا تو مجھے ہوش آ گیا ۔ میں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا یا رسول اللہ ! میری بہنیں ہیں ؟ اس پر میراث کی آیت نازل ہوئی ۔