Narrated Anas bin Malik رضی اللہ عنہ :
While I was with the Prophet (ﷺ) a man came and said, "O Allah's Messenger (ﷺ)! I have committed a legally punishable sin; please inflict the legal punishment on me'.' The Prophet (ﷺ) did not ask him what he had done. Then the time for the prayer became due and the man offered prayer along with the Prophet (ﷺ) , and when the Prophet (ﷺ) had finished his prayer, the man again got up and said, "O Allah's Messenger (ﷺ)! I have committed a legally punishable sin; please inflict the punishment on me according to Allah's Laws." The Prophet (ﷺ) said, "Haven't you prayed with us?' He said, "Yes." The Prophet (ﷺ) said, "Allah has forgiven your sin." or said, "....your legally punishable sin."
مجھ سے عبدالقدوس بن محمد نے بیان کیا ، ان سے عمرو بن عاصم کلابی نے بیان کیا ، ان سے ہمام بن یحییٰ نے بیان کیا ، ان سے اسحاق بن عبداللہ بن ابی طلحہ نے بیان کیا ، ان سے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ
میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھا کہ ایک صاحب کعب بن عمرو آئے اور کہا یا رسول اللہ ! مجھ پر حد واجب ہو گئی ہے ۔ آپ مجھ پر حد جاری کیجئے ۔ انہوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے کچھ نہیں پوچھا ۔ بیان کیا کہ پھر نماز کا وقت ہو گیا اور ان صاحب نے بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھی ۔ جب آنحضور نماز پڑھ چکے تو وہ پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر کھڑے ہو گئے اور کہا یا رسول اللہ ! مجھ پر حد واجب ہو گئی ہے آپ کتاب اللہ کے حکم کے مطابق مجھ پر حد جاری کیجئے ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر فرمایا ۔ کیا تم نے ابھی ہمارے ساتھ نماز نہیں پڑھی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ جی ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر اللہ نے تیرا گناہ معاف کر دیا ۔ یا فرمایا کہ تیری غلطی یا حد ( معاف کر دی ) ۔
Narrated Ibn `Abbas رضی اللہ عنہما :
When Ma'iz bin Malik came to the Prophet (in order to confess), the Prophet (ﷺ) said to him, "Probably you have only kissed (the lady), or winked, or looked at her?" He said, "No, O Allah's Messenger (ﷺ)!" The Prophet said, using no euphemism, "Did you have sexual intercourse with her?" The narrator added: At that, (i.e. after his confession) the Prophet (ﷺ) ordered that he be stoned (to death).
مجھ سے عبداللہ بن محمد الجعفی نے بیان کیا ، کہا ہم سے وہب بن جریر نے بیان کیا ، کہا ہم سے ہمارے والد نے کہا کہ میں نے یعلیٰ بن حکیم سے سنا ، انہوں نے عکرمہ سے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ
جب حضرت ماعز بن مالک نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا غالباً تو نے بوسہ دیا ہو گا یا اشارہ کیا ہو گا یا دیکھا ہو گا ۔ انہوں نے کہا کہ نہیں یا رسول اللہ ! آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر فرمایا کیا پھر تو نے ہمبستری ہی کر لی ہے ؟ اس مرتبہ آپ نے کنایہ سے کام نہیں لیا ۔ بیان کیا کہ اس کے بعد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں رجم کا حکم دیا ۔
Narrated Abu Huraira رضی اللہ عنہ :
A man from among the people, came to Allah's Messenger (ﷺ) while Allah's Messenger (ﷺ) was sitting in the mosque, and addressed him, saying, "O Allah's Messenger (ﷺ)! I have committed an illegal sexual intercourse." The Prophet (ﷺ) turned his face away from him. The man came to that side to which the Prophet had turned his face, and said, "O Allah's Messenger (ﷺ)! I have committed an illegal intercourse." The Prophet (ﷺ) turned his face to the other side, and the man came to that side, and when he confessed four times, the Prophet (ﷺ) called him and said, "Are you mad?" He said, "No, O Allah's Messenger (ﷺ)!" The Prophet said, "Are you married?" He said, "Yes, O Allah's Messenger (ﷺ)." The Prophet (ﷺ) said (to the people), "Take him away and stone him to death." Ibn Shihab added, "I was told by one who heard Jabir, that Jabir رضی اللہ عنہ said, 'I was among those who stoned the man, and we stoned him at the Musalla (`Id praying Place), and when the stones troubled him, he jumped quickly and ran away, but we overtook him at Al-Harra and stoned him to death (there).' "
ہم سے سعید بن عفیر نے بیان کیا ، کہا ہم سے لیث بن سعد نے بیان کیا ، کہا مجھ سے عبدالرحمٰن بن خالد نے ، ان سے ابن شہاب نے ، ان سے ابن المسیب اور ابوسلمہ نے اور ان سے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک صاحب آئے ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت مسجد میں بیٹھے ہوئے تھے ۔ انہوں نے آواز دی یا رسول اللہ ! میں نے زنا کیا ہے ۔ خود اپنے متعلق وہ کہہ رہے تھے ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے اپنا منہ پھیر لیا ۔ لیکن وہ صاحب بھی ہٹ کر اسی طرف کھڑے ہو گئے جدھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا منہ پھیرا تھا اور عرض کیا یا رسول اللہ ! میں نے زنا کیا ہے ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر اپنا منہ پھیر لیا اور وہ بھی دوبارہ اس طرف آ گئے جدھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا منہ پھیرا تھا اور اس طرح جب اس نے چار مرتبہ اپنے گناہ کا اقرار کر لیا تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو بلایا اور پوچھا کیا تم پاگل ہو ؟ انہوں نے کہا کہ نہیں یا رسول اللہ ! آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کیا تم شادی شدہ ہو ؟ انہوں نے کہا جی یا رسول اللہ ! آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ سے فرمایا کہ انہیں لے جاؤ اور رجم کر دو ۔ ابن شہاب نے مزید کہا کہ مجھے ایک شخص نے بتایا جس نے جابر رضی اللہ عنہ کو سنا، جابر رضی اللہ عنہ نے کہا: میں اس شخص کو سنگسار کرنے والوں میں سے تھا، اور ہم نے اسے نماز کی جگہ میں سنگسار کیا، پھر جب پتھر اسے پریشان کر رہے تھے وہ تیزی سے چھلانگ لگا کر بھاگا، لیکن ہم نے اسے الحرہ میں پکڑ لیا اور (وہاں) اسے سنگسار کر دیا۔' "
Narrated Abu Huraira and Zaid bin Khalid رضی اللہ عنہما :
While we were with the Prophet (ﷺ) , a man stood up and said (to the Prophet (ﷺ) ), "I beseech you by Allah, that you should judge us according to Allah's Laws." Then the man's opponent who was wiser than him, got up saying (to Allah's Messenger (ﷺ)) "Judge us according to Allah's Law and kindly allow me (to speak)." The Prophet (ﷺ) said, "'Speak." He said, "My son was a laborer working for this man and he committed an illegal sexual intercourse with his wife, and I gave one-hundred sheep and a slave as a ransom for my son's sin. Then I asked a learned man about this case and he informed me that my son should receive one hundred lashes and be exiled for one year, and the man's wife should be stoned to death." The Prophet (ﷺ) said, "By Him in Whose Hand my soul is, I will judge you according to the Laws of Allah. Your one-hundred sheep and the slave are to be returned to you, and your son has to receive one-hundred lashes and be exiled for one year. O Unais! Go to the wife of this man, and if she confesses, then stone her to death." Unais went to her and she confessed. He then stoned her to death. Sufyan says that he also remembers this statement: Beware! Allah's Apostle ﷺ stoned to death; so after him, we stoned to death.
ہم سے علی بن عبداللہ نے بیان کیا ، کہا ہم سے سفیان نے بیان کیا ، کہا ہم نے اسے زہری سے ( سن کر ) یاد کیا ، انہوں نے بیان کیا کہ مجھے عبیداللہ نے خبر دی ، انہوں نے حضرت ابوہریرہ اور زید بن خالد رضی اللہ عنہما سے سنا ، انہوں نے بیان کیا کہ
ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھے تو ایک صاحب کھڑے ہوئے اور کہا میں آپ کو اللہ کی قسم دیتا ہوں آپ ہمارے درمیان اللہ کی کتاب سے فیصلہ کریں ۔ اس پر اس کا مقابل بھی کھڑا ہو گیا اور وہ پہلے سے زیادہ سمجھدار تھا ، پھر اس نے کہا کہ واقعی آپ ہمارے درمیان کتاب اللہ سے ہی فیصلہ کیجئے اور مجھے بھی گفتگو کی اجازت دیجئیے ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کہو ۔ اس شخص نے کہا کہ میرا بیٹا اس شخص کے یہاںمزدوری پر کام کرتا تھا پھر اس نے اس کی عورت سے زنا کر لیا ، میں نے اس کے فدیہ میں اسے سو بکری اور ایک خادم دیا ، پھر میں نے بعض علم والوں سے پوچھا تو انہوں نے مجھے بتایا کہ میرے لڑکے پر سوکوڑے اور ایک سال شہر بدر ہونے کی حد واجب ہے ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر فرمایا کہ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے میں تمہارے درمیان کتاب اللہ ہی کے مطابق فیصلہ کروں گا ۔ سو بکریاں اور خادم تمہیں واپس ہوں گے اور تمہارے بیٹے کو سو کوڑے لگائے جائیں گے اور ایک سال کے لیے اسے جلاوطن کیا جائے گا اور اے انیس ! صبح کو اس کی عورت کے پاس جانا اگر وہ ( زنا کا ) اقرار کر لے تو اسے رجم کر دو ۔ چنانچہ وہ صبح کو اس کے پاس گئے اور اس نے اقرار کر لیا اور انہوں نے رجم کر دیا ۔ علی بن عبداللہ مدینی کہتے ہیں میں نے سفیان بن عیینہ سے پوچھا جس شخص کا بیٹا تھا اس نے یوں نہیں کہا کہ ان عالموں نے مجھ سے بیان کیا کہ تیرے بیٹے پر رجم ہے ۔ انہوں نے کہا کہ مجھ کو اس میں شک ہے کہ زہری سے میں نے سنا ہے یا نہیں ، اس لیے میں نے اس کو کبھی بیان کیا کبھی نہیں بیان کیا بلکہ سکوت کیا ۔
Narrated Ibn `Abbas رضی اللہ عنہما :
`Umar رضی اللہ عنہ said, "I am afraid that after a long time has passed, people may say, "We do not find the Verses of the Rajam (stoning to death) in the Holy Book," and consequently they may go astray by leaving an obligation that Allah has revealed. Lo! I confirm that the penalty of Rajam be inflicted on him who commits illegal sexual intercourse, if he is already married and the crime is proved by witnesses or pregnancy or confession." Sufyan added, "I have memorized this narration in this way." `Umar added, "Surely Allah's Messenger (ﷺ) carried out the penalty of Rajam, and so did we after him."
ہم سے علی بن عبداللہ نے بیان کیا ، کہا ہم سے سفیان نے بیان کیا ، ان سے زہری نے ، ان سے عبیداللہ نے اور ان سے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ
حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا میں ڈرتا ہوں کہ کہیں زیادہ وقت گزر جائے اور کوئی شخص یہ کہنے لگے کہ کتاب اللہ میں تو رجم کا حکم ہمیں کہیں نہیں ملتا اور اس طرح وہ اللہ کے ایک فریضہ کو چھوڑ کر گمراہ ہوں جسے اللہ تعالیٰ نے نازل کیا ہے ۔ آگاہ ہو جاؤ کہ رجم کا حکم اس شخص کے لیے فرض ہے جس نے شادی شدہ ہونے کے باوجود زنا کیا ہو بشرطیکہ صحیح شرعی گواہیوں سے ثابت ہو جائے یا حمل ہو یا کوئی خود اقرار کرے ۔ سفیان نے بیان کیا کہ میں نے اسی طرح یاد کیا تھا آگاہ ہو جاؤ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رجم کا عذاب کیا تھا اور آپ کے بعد ہم نے بھی کیا تھا ۔
Narrated Ibn `Abbas رضی اللہ عنہما :
I used to teach (the Qur'an to) some people of the Muhajirln (emigrants), among whom there was `Abdur Rahman bin `Auf رضی اللہ عنہ . While I was in his house at Mina, and he was with `Umar bin Al-Khattab رضی اللہ عنہ during `Umar's last Hajj, `Abdur-Rahman came to me and said, "Would that you had seen the man who came today to the Chief of the Believers (`Umar رضی اللہ عنہ ), saying, 'O Chief of the Believers! What do you think about so-and-so who says, 'If `Umar رضی اللہ عنہ should die, I will give the pledge of allegiance to such-andsuch person, as by Allah, the pledge of allegiance to Abu Bakr رضی اللہ عنہ was nothing but a prompt sudden action which got established afterwards.' `Umar رضی اللہ عنہ became angry and then said, 'Allah willing, I will stand before the people tonight and warn them against those people who want to deprive the others of their rights (the question of rulership). `Abdur-Rahman رضی اللہ عنہ said, "I said, 'O Chief of the believers! Do not do that, for the season of Hajj gathers the riff-raff and the rubble, and it will be they who will gather around you when you stand to address the people. And I am afraid that you will get up and say something, and some people will spread your statement and may not say what you have actually said and may not understand its meaning, and may interpret it incorrectly, so you should wait till you reach Medina, as it is the place of emigration and the place of Prophet's Traditions, and there you can come in touch with the learned and noble people, and tell them your ideas with confidence; and the learned people will understand your statement and put it in its proper place.' On that, `Umar رضی اللہ عنہ said, 'By Allah! Allah willing, I will do this in the first speech I will deliver before the people in Medina." Ibn `Abbas رضی اللہ عنہما added: We reached Medina by the end of the month of Dhul-Hijja, and when it was Friday, we went quickly (to the mosque) as soon as the sun had declined, and I saw Sa`id bin Zaid bin `Amr bin Nufail رضی اللہ عنہ sitting at the corner of the pulpit, and I too sat close to him so that my knee was touching his knee, and after a short while `Umar bin Al-Khattab رضی اللہ عنہ came out, and when I saw him coming towards us, I said to Sa`id bin Zaid bin `Amr bin Nufail "Today `Umar رضی اللہ عنہ will say such a thing as he has never said since he was chosen as Caliph." Sa`id denied my statement with astonishment and said, "What thing do you expect `Umar رضی اللہ عنہ to say the like of which he has never said before?" In the meantime, `Umar رضی اللہ عنہ sat on the pulpit and when the callmakers for the prayer had finished their call, `Umar رضی اللہ عنہ stood up, and having glorified and praised Allah as He deserved, he said, "Now then, I am going to tell you something which (Allah) has written for me to say. I do not know; perhaps it portends my death, so whoever understands and remembers it, must narrate it to the others wherever his mount takes him, but if somebody is afraid that he does not understand it, then it is unlawful for him to tell lies about me. Allah sent Muhammad with the Truth and revealed the Holy Book to him, and among what Allah revealed, was the Verse of the Rajam (the stoning of married person (male & female) who commits illegal sexual intercourse, and we did recite this Verse and understood and memorized it. Allah's Messenger (ﷺ) did carry out the punishment of stoning and so did we after him. I am afraid that after a long time has passed, somebody will say, 'By Allah, we do not find the Verse of the Rajam in Allah's Book,' and thus they will go astray by leaving an obligation which Allah has revealed. And the punishment of the Rajam is to be inflicted to any married person (male & female), who commits illegal sexual intercourse, if the required evidence is available or there is conception or confession. And then we used to recite among the Verses in Allah's Book: 'O people! Do not claim to be the offspring of other than your fathers, as it is disbelief (unthankfulness) on your part that you claim to be the offspring of other than your real father.' Then Allah's Messenger (ﷺ) said, 'Do not praise me excessively as Jesus, son of Marry was praised, but call me Allah's Slave and His Apostles.' (O people!) I have been informed that a speaker amongst you says, 'By Allah, if `Umar رضی اللہ عنہ should die, I will give the pledge of allegiance to such-and-such person.' One should not deceive oneself by saying that the pledge of allegiance given to Abu Bakr رضی اللہ عنہ was given suddenly and it was successful. No doubt, it was like that, but Allah saved (the people) from its evil, and there is none among you who has the qualities of Abu Bakr رضی اللہ عنہ . Remember that whoever gives the pledge of allegiance to anybody among you without consulting the other Muslims, neither that person, nor the person to whom the pledge of allegiance was given, are to be supported, lest they both should be killed. And no doubt after the death of the Prophet (ﷺ) we were informed that the Ansar disagreed with us and gathered in the shed of Bani Sa`da. `Ali and Zubair and whoever was with them, opposed us, while the emigrants gathered with Abu Bakr رضی اللہ عنہ . I said to Abu Bakr رضی اللہ عنہ , 'Let's go to these Ansari brothers of ours.' So we set out seeking them, and when we approached them, two pious men of theirs met us and informed us of the final decision of the Ansar, and said, 'O group of Muhajirin (emigrants) ! Where are you going?' We replied, 'We are going to these Ansari brothers of ours.' They said to us, 'You shouldn't go near them. Carry out whatever we have already decided.' I said, 'By Allah, we will go to them.' And so we proceeded until we reached them at the shed of Bani Sa`da. Behold! There was a man sitting amongst them and wrapped in something. I asked, 'Who is that man?' They said, 'He is Sa`d bin 'Ubada.' I asked, 'What is wrong with him?' They said, 'He is sick.' After we sat for a while, the Ansar's speaker said, 'None has the right to be worshipped but Allah,' and praising Allah as He deserved, he added, 'To proceed, we are Allah's Ansar (helpers) and the majority of the Muslim army, while you, the emigrants, are a small group and some people among you came with the intention of preventing us from practicing this matter (of caliphate) and depriving us of it.' When the speaker had finished, I intended to speak as I had prepared a speech which I liked and which I wanted to deliver in the presence of Abu Bakr رضی اللہ عنہ , and I used to avoid provoking him. So, when I wanted to speak, Abu Bakr رضی اللہ عنہ said, 'Wait a while.' I disliked to make him angry. So Abu Bakr رضی اللہ عنہ himself gave a speech, and he was wiser and more patient than I. By Allah, he never missed a sentence that I liked in my own prepared speech, but he said the like of it or better than it spontaneously. After a pause he said, 'O Ansar! You deserve all (the qualities that you have attributed to yourselves, but this question (of Caliphate) is only for the Quraish as they are the best of the Arabs as regards descent and home, and I am pleased to suggest that you choose either of these two men, so take the oath of allegiance to either of them as you wish. And then Abu Bakr held my hand and Abu Ubaida bin al-Jarrah's hand who was sitting amongst us. I hated nothing of what he had said except that proposal, for by Allah, I would rather have my neck chopped off as expiator for a sin than become the ruler of a nation, one of whose members is Abu Bakr رضی اللہ عنہ , unless at the time of my death my own-self suggests something I don't feel at present.' And then one of the Ansar said, 'I am the pillar on which the camel with a skin disease (eczema) rubs itself to satisfy the itching (i.e., I am a noble), and I am as a high class palm tree! O Quraish. There should be one ruler from us and one from you.' Then there was a hue and cry among the gathering and their voices rose so that I was afraid there might be great disagreement, so I said, 'O Abu Bakr! Hold your hand out.' He held his hand out and I pledged allegiance to him, and then all the emigrants gave the Pledge of allegiance and so did the Ansar afterwards. And so we became victorious over Sa`d bin Ubada (whom Al-Ansar wanted to make a ruler). One of the Ansar said, 'You have killed Sa`d bin Ubada.' I replied, 'Allah has killed Sa`d bin Ubada.' `Umar رضی اللہ عنہ added, "By Allah, apart from the great tragedy that had happened to us (i.e. the death of the Prophet), there was no greater problem than the allegiance pledged to Abu Bakr رضی اللہ عنہ because we were afraid that if we left the people, they might give the Pledge of allegiance after us to one of their men, in which case we would have given them our consent for something against our real wish, or would have opposed them and caused great trouble. So if any person gives the Pledge of allegiance to somebody (to become a Caliph) without consulting the other Muslims, then the one he has selected should not be granted allegiance, lest both of them should be killed."
ہم سے عبدالعزیز بن عبداللہ اویسی نے بیان کیا ، کہا ہم سے ابراہیم بن سعد نے بیان کیا ، ان سے صالح بن کیسان نے ، ان سے ابن شہاب نے ، ان سے عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ بن مسعود نے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ
میں کئی مہاجرین کو ( قرآن مجید ) پڑھایا کرتا تھا ۔ حضرت عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ بھی ان میں سے ایک تھے ۔ ابھی میں منیٰ میں ان کے مکان پر تھا اور وہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے آخری حج میں ( سنہ 23 ھ ) ان کے ساتھ تھے کہ وہ میرے پاس لوٹ کر آئے اور کہا کہ کاش تم اس شخص کو دیکھتے جو آج امیرالمؤمنین کے پاس آیا تھا ۔ اس نے کہا کہ اے امیرالمؤمنین ! کیا آپ فلاں صاحب سے یہ پوچھ گچھ کریں گے جو یہ کہتے ہیں کہ اگر عمر کا انتقال ہو گیا تو میں صلاح صاحب طلحہ بن عبیداللہ سے بیعت کروں گا کیونکہ واللہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی بغیر سوچے سمجھے بیعت تو اچانک ہو گئی اور پھر وہ مکمل ہو گئی تھی ۔ اس پر حضرت عمر رضی اللہ عنہ بہت غصہ ہوئے اور کہا میں انشاءاللہ شام کے وقت لوگوں سے خطاب کروں گا اور انہیں ان لوگوں سے ڈراؤں گا جو زبردستی سے دخل درمعقولات کرنا چاہتے ہیں ۔ حضرت عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ نے کہا کہ اس پر میں نے عرض کیا یا امیرالمؤمنین ایسا نہ کیجئے ۔ حج کے موسم میں کم سمجھی اور برے بھلے ہر ہی قسم کے لوگ جمع ہیں اور جب آپ خطاب کے لئے کھڑے ہوں گے تو آپ کے قریب یہی لوگ زیادہ ہوں گے اور مجھے ڈر ہے کہ آپ کھڑے ہو کر کوئی بات کہیں اور وہ چاروں طرف پھیل جائے ، لیکن پھیلانے والے اسے صحیح طور پر یاد نہ رکھ سکیں گے اور اس کے غلط معانی پھیلانے لگیں گے ، اس لیے مدینہ منورہ پہنچنے تک کا انتظار کر لیجئے کیونکہ وہ ہجرت اور سنت کا مقام ہے ۔ وہاں آپ کو خالص دینی سمجھ بوجھ رکھنے والے اور شریف لوگ ملیں گے ، وہاں آپ جو کچھ کہنا چاہتے ہیں اعتماد کے ساتھ ہی فرما سکیں گے اور علم والے آپ کی باتوں کو یاد بھی رکھیں گے اور جو صحیح مطلب ہے وہی بیان کریں گے ۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا ہاں اچھا اللہ کی قسم میں مدینہ منورہ پہنچتے ہی سب سے پہلے لوگوں کو اسی مضمون کا خطبہ دوں گا ۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ پھر ہم ذی الحجہ کے مہینہ کے آخر میں مدینہ منورہ پہنچے ۔ جمعہ کے دن سورج ڈھلتے ہی ہم نے ( مسجدنبوی ) پہنچنے میں جلدی کی اور میں نے دیکھا کہ سعید بن زید بن عمرو بن نفیل ممبر کی جڑ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے ۔ میں بھی ان کے پاس بیٹھ گیا ۔ میرا ٹخنہ ان کے ٹخنے سے لگا ہوا تھا ۔ تھوڑی ہی دیر میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ بھی باہر نکلے ، جب میں نے انہیں آتے دیکھا تو سعید بن زید بن عمرو بن نفیل رضی اللہ عنہ سے میں نے کہا کہ آج حضرت عمر رضی اللہ عنہ ایسی بات کہیں گے جو انہوں نے اس سے پہلے خلیفہ بنائے جانے کے بعد کبھی نہیں کہی تھی ۔ لیکن انہوں نے اس کو نہ مانا اور کہا کہ میں تو نہیں سمجھتا کہ آپ کوئی ایسی بات کہیں گے جو پہلے کبھی نہیں کہی تھی ۔ پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ ممبر پر بیٹھے اور جب مؤذن اذان دے کر خاموش ہوا تو آپ کھڑے ہوئے اور اللہ تعالیٰ کی ثنا اس کی شان کے مطابق بیان کرنے کے بعد فرمایا امابعد ! آج میں تم سے ایک ایسی بات کہوں گا جس کا کہنا میری تقدیر میں لکھا ہوا تھا ، مجھ کو نہیں معلوم کہ شاید میری یہ گفتگو موت کے قریب کی آخری گفتگو ہو ۔ پس جو کوئی اسے سمجھے اور محفوظ رکھے اسے چاہئے کہ اس بات کو اس جگہ تک پہنچادے جہاںتک اس کی سواری اسے لے جا سکتی ہے اور جسے خوف ہو کہ اس نے بات نہیں سمجھی ہے تو اس کے لیے جائز نہیں ہے کہ میری طرف غلط بات منسوب کرے ۔ بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو حق کے ساتھ مبعوث کیا اور آپ پر کتاب نازل کی ، کتاب اللہ کی صورت میں جو کچھ آپ پر نازل ہوا ، ان میں آیت رجم بھی تھی ۔ ہم نے اسے پڑھا تھا سمجھا تھا اور یاد رکھا تھا ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود ( اپنے زمانہ میں ) رجم کرایا ۔ پھر آپ کے بعد ہم نے بھی رجم کیا لیکن مجھے ڈر ہے کہ اگر وقت یوں ہی آگے بڑھتا رہا تو کہیں کوئی یہ نہ دعویٰ کربیٹھے کہ رجم کی آیت ہم کتاب اللہ میں نہیں پاتے اور اس طرح وہ اس فریضہ کو چھوڑ کر گمراہ ہوں جسے اللہ تعالیٰ نے نازل کیا تھا ۔ یقیناً رجم کا حکم کتاب اللہ سے اس شخص کے لیے ثابت ہے جس نے شادی ہونے کے بعد زنا کیا ہو ۔ خواہ مرد ہوں یا عورتیں ، بشرطیکہ گواہی مکمل ہو جائے یاحمل ظاہر ہو یا وہ خود اقرار کر لے پھر کتاب اللہ کی آیتوں میں ہم یہ بھی پڑھتے تھے کہ اپنے حقیقی باپ دادوں کے سوا دوسروں کی طرف اپنے آپ کو منسوب نہ کرو ۔ کیونکہ یہ تمہارا کفر اور انکار ہے کہ تم اپنے اصل باپ دادوں کے سوا دوسروں کی طرف اپنی نسبت کرو ۔ ہاں اور سن لو کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی فرمایا تھا کہ میری تعریف حد سے بڑھاکر نہ کرنا جس طرح عیسیٰ ابن مریم عیلہما السلام کی حد سے بڑھاکر تعریفیں کی گئیں ( ان کو اللہ کو بیٹا بنا دیا گیا ) بلکہ ( میرے لیے صرف یہ کہو کہ ) میں اللہ کا بندہ اور اس کا رسول ہوں اور مجھے یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ تم میں سے کسی نے یوں کہا ہے کہ واللہ اگر عمرکا انتقال ہو گیا تو میں فلاں سے بیعت کروں گا دیکھو تم میں سے کسی کو یہ دھوکا نہ ہو کہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی بیعت ناگاہ ہوئی اور اللہ نے ناگہانی بیعت میں جو برائی ہوئی ہے اس سے تم کو بچائے رکھا اس کی وجہ یہ ہوئی کہ تم کو اللہ تعالیٰ نے اس کے شر سے محفوظ رکھا اور تم میں کوئی شخص ایسا نہیں جو ابوبکر رضی اللہ عنہ جیسا متقی ، خدا ترس ہو ۔ تم میں کون ہے جس سے ملنے کے لیے اونٹ چلائے جاتے ہوں ۔ دیکھو خیال رکھو کوئی شخص کسی سے بغیر مسلمانوں کے صلاح مشورہ اور اتفاق اور غلبہ آراء کے بغیر بیعت نہ کرے جو کوئی ایسا کرے گا اس کا نتیجہ یہی ہو گا کہ بیعت کرنے والا اور بیعت لینے والا دونوں اپنی جان گنوادیں گے اور سن لو بلاشبہ جس وقت حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوی تو ابوبکر رضی اللہ عنہ ہم سب سے بہتر تھے البتہ انصار نے ہماری مخالفت کی تھی اور وہ سب لوگ سقیفہ بن ساعدہ میں جمع ہو گئے تھے ۔ اسی طرح علی اور زبیر رضی اللہ عنہما اور ان کے ساتھیوں نے بھی ہماری مخالفت کی تھی اور باقی مہاجرین ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس جمع ہو گئے تھے ۔ اس وقت میں نے ابوبکر رضی اللہ عنہ سے کہا اے ابوبکر ! ہمیں اپنے ان انصار بھائیوں کے پاس لے چلئے ۔ چنانچہ ہم ان سے ملاقات کے ارادہ سے چل پڑے ۔ جب ہم ان کے قریب پہنچے تو ہماری انہیں کے دو نیک لوگوں سے ملاقات ہوئی اور انہوں نے ہم سے بیان کیا کہ انصاری آدمیوں نے یہ بات ٹھہرائی ہے کہ ( سعد بن عبادہ کو خلیفہ بنائیں ) اور انہوں نے پوچھا ۔ حضرات مہاجرین آپ لوگ کہاں جا رہے ہیں ۔ ہم نے کہا کہ ہم اپنے ان انصار بھائیوں کے پاس جا رہے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ آپ لوگ ہرگز وہاں نہ جائیں بلکہ خود جو کرنا ہے کر ڈالو لیکن میں نے کہا کہ بخدا ہم ضرور جائیں گے ۔ چنانچہ ہم آگے بڑھے اور انصار کے پاس سقیفہ بنی ساعدہ میں پہنچے مجلس میں ایک صاحب ( سردار خزرج ) چادر اپنے سارے جسم پر لپیٹے درمیان میں بیٹھے تھے ۔ میں نے پوچھا کہ یہ کون صاحب ہیں تو لوگوں نے بتایا کہ سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ ہیں ۔ میں نے پوچھا کہ انہیں کیا ہو گیا ہے ؟ لوگوں نے بتایا کہ بخار آ رہا ہے ۔ پھر ہمارے تھوڑی دیر تک بیٹھنے کے بعد ان کے خطیب نے کلمہ شہادت پڑھا اور اللہ تعالیٰ کی اس کی شان کے مطابق تعریف کی ۔ پھر کہا امابعد ! ہم اللہ کے دین کے مددگار ( انصار ) اور اسلام کے لشکر ہیں اور تم اے گروہ مہاجرین ! کم تعداد میں ہو ۔ تمہاری یہ تھوڑی سی تعداد اپنی قوم قریش سے نکل کر ہم لوگوں میں آ رہے ہو ۔ تم لوگ یہ چاہتے ہو کہ ہماری بیخ کنی کرو اور ہم کو خلافت سے محروم کر کے آپ خلیفہ بن بیٹھو یہ کبھی نہیں ہو سکتا ۔ جب وہ خطبہ پورا کر چکے تو میں نے بولنا چاہا ۔ میں نے ایک عمدہ تقریر اپنے ذہن میں ترتیب دے رکھی تھی ۔ میری بڑی خواہش تھی کہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے بات کرنے سے پہلے ہی میں اس کو شروع کر دوں اور انصار کی تقریر سے جو ابوبکر رضی اللہ عنہ کو غصہ پیدا ہوا ہے اس کو دور کر دوں جب میں نے بات کرنی چاہی تو ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا ذرا ٹھہرو میں نے ان کو ناراض کرنا برا جانا ۔ آخر انہوں نے ہی تقریر شروع کی اور خدا کی قسم وہ مجھ سے زیادہ عقلمند اور مجھ سے زیادہ سنجیدہ اور متین تھے ۔ میں نے جو تقریر اپنے دل میں سوچ لی تھی اس میں سے انہوں نے کوئی بات نہیں چھوڑی ۔ فی البدیہہ وہی کہی بلکہ اس سے بھی بہتر پھر وہ خاموش ہو گئے ۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ کی تقریر کا خلاصہ یہ تھا کہ انصاری بھائیو تم نے جو اپنی فضیلت اور بزرگی بیان کی ہے وہ سب درست ہے اور تم بیشک اس کے لیے سزا وار ہو مگر خلافت قریش کے سوا اور کسی خاندان والوں کے لیے نہیں ہو سکتی ۔ کیونکہ قریش ازروئے نسب اور ازروئے خاندان تمام عرب قوموں میں بڑھ چڑھ کر ہیں اب تم لوگ ایسا کرو کہ ان دو آدمیوں میں سے کسی سے بیعت کر لو ۔ ابوبکرنے میرا اور ابوعبیدہ بن جراح کا ہاتھ تھاما وہ ہمارے بیچ میں بیٹھے ہوئے تھے ، ان ساری گفتگو میں صرف یہی ایک بات مجھ سے میرے سوا ہوئی ۔ واللہ میں آگے کر دیا جاتا اور بےگناہ میری گردن ماردی جاتی تو یہ مجھے اس سے زیادہ پسند تھا کہ مجھے ایک ایسی قوم کا امیر بنایا جاتا جس میں ابوبکر رضی اللہ عنہ خود موجود ہوں ۔ میرا اب تک یہی خیال ہے یہ اور بات ہے کہ وقت پر نفس مجھے بہکادے اور میں کوئی دوسرا خیال کروں جو اب نہیں کرنا ۔ پھر انصار میں سے ایک کہنے والا حباب بن منذریوں کہنے لگا سنو سنو میں ایک لکڑی ہوں کہ جس سے اونٹ اپنا بدن رگڑ کر کھجلی کی تکلیف رفع کرتے ہیں اور میں وہ باڑ ہوں جو درختوں کے اردگرد حفاظت کے لیے لگائی جاتی ہے ۔ میں ایک عمدہ تدبیر بتاتا ہوں ایسا کرو دو خلیفہ رہیں ( دونوں مل کر کام کریں ) ایک ہماری قوم کا اور ایک قریش والوں کا ۔ مہاجرین قوم کا اب خوب شورغل ہونے لگا کوئی کچھ کہتا کوئی کچھ کہتا ۔ میں ڈرگیا کہ کہیں مسلمانوں میں پھوٹ نہ پڑ جائے آخر میں کہہ اٹھا ابوبکر ! اپنا ہاتھ بڑھاؤ ، انہوں نے ہاتھ بڑھایا میں نے ان سے بیعت کی اور مہاجرین جتنے وہاں موجود تھے انہوں نے بھی بیعت کر لی پھر انصاریوں نے بھی بیعت کر لی ( چلو جھگڑا تمام ہوا جو منظور الٰہی تھا وہی ظاہر ہوا ) اس کے بعد ہم حضرت سعد بن عبادہ کی طرف بڑھے ( انہوں نے بیعت نہیں کی ) ایک شخص انصار میں سے کہنے لگا بھائیو ! بیچارے سعد بن عبادہ کا تم نے خون کر ڈالا ۔ میں نے کہا اللہ اس کا خون کرے گا ۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اس خطبے میں یہ بھی فرمایا اس وقت ہم کو حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی خلافت سے زیادہ کوئی چیز ضروری معلوم نہیں ہوتی کیونکہ ہم کو ڈر پیدا ہوا کہیں ایسا نہ ہو ہم لوگوں سے جدا رہیں اور ابھی انہوں نے کسی سے بیعت نہ کی ہو وہ کسی اور شخص سے بیعت کربیٹھیں تب دو صورتوں سے خالی نہیں ہوتا یا تو ہم بھی جبراً و قہراً اسی سے بیعت کر لیتے یا لوگوں کی مخالفت کرتے تو آپس میں فساد پیدا ہوتا ( پھوٹ پڑجاتی ) دیکھو پھر یہی کہتا ہوں جو شخص کسی سے بن سوچے سمجھے ، بن صلاح و مشورہ بیعت کر لے تو دوسرے لوگ بیعت کرنے والے کی پیروی نہ کرے ، نہ اس کی جس سے بیعت کی گئی ہے کیونکہ وہ دونوں اپنی جان گنوائیں گے ۔
Narrated Zaid bin Khalid Al-Juhani:
I heard the Prophet (ﷺ) ordering that an unmarried person guilty of illegal sexual intercourse be flogged one-hundred stripes and be exiled for one year.`Umar bin Al-Khattab رضی اللہ عنہ also exiled such a person, and this tradition is still valid.
ہم سے مالک بن اسماعیل نے بیان کیا ، کہا ہم سے عبدالعزیز بن سلمہ نے بیان کیا ، کہا ہم کو ابن شہاب نے خبر دی ، انہیں عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ نے اور ان سے زید بن خالد الجہی نے بیان کیا کہ
میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ان لوگوں کے بارے میں حکم دے رہے تھے جو غیر شادی شدہ ہوں اور زنا کیا ہو کہ سو کوڑے مارے جائیں اور سال بھر کے لیے جلاوطن کر دیا جائے ۔ ابن شہاب نے بیان کیا کہ مجھے عروہ بن زبیر نے خبر دی کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے جلاوطن کیا تھا پھر یہی طریقہ قائم ہو گیا ۔
Narrated Abu Huraira رضی اللہ عنہ :
Allah's Messenger (ﷺ) judged that the unmarried person who was guilty of illegal sexual intercourse be exiled for one year and receive the legal punishment (i.e., be flogged with one-hundred stripes) .
ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا ، کہا ہم سے لیث بن سعد نے بیان کیا ، ان سے عقیل نے ، ان سے ابن شہاب نے ، ان سے سعید بن مسیب نے اور ان سے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسے شخص کے بارے میں جس نے زنا کیا تھا اور وہ غیرشادی شدہ تھا حد قائم کرنے کے ساتھ ایک سال تک شہر باہر کرنے کا فیصلہ کیا تھا ۔
Narrated Ibn `Abbas رضی اللہ عنہما :
The Prophet (ﷺ) cursed the effeminate men and those women who assume the similitude (manners) of men. He also said, "Turn them out of your houses." He turned such-and-such person out, and `Umar رضی اللہ عنہ also turned out such-and-such person.
ہم سے مسلم بن ابراہیم نے بیان کیا ، کہا ہم سے ہشام دستوائی نے بیان کیا ، کہا ہم سے یحییٰ بن ابی کثیر نے بیان کیا ، ان سے عکرمہ نے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان مردوں پر لعنت کی ہے جو مخنث بنتے ہیں اور ان عورتوں پر لعنت کی ہے جو مرد بنیں اور آپ نے فرمایا کہ انہیں اپنے گھروں سے نکال دو اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فلاں کو گھر سے نکالا تھا اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فلاں کو نکالا تھا ۔
Narrated Abu Huraira and Zaid bin Khalid رضی اللہ عنہما :
A bedouin came to the Prophet (ﷺ) while he (the Prophet) was sitting, and said, "O Allah's Messenger (ﷺ)! Give your verdict according to Allah's Laws (in our case)." Then his opponent got up and said, "He has told the truth, O Allah's Messenger (ﷺ)! Decide his case according to Allah's Laws. My son was a laborer working for this person, and he committed illegal sexual intercourse with his wife, and the people told me that my son should be stoned to death, but I offered one-hundred sheep and a slave girl as a ransom for him. Then I asked the religious learned people, and they told me that my son should be flogged with one-hundred stripes and be exiled for one year." The Prophet (ﷺ) said, "By Him in Whose Hand my soul is, I will judge you according to Allah's Laws. The sheep and the slave girl will be returned to you and your son will be flogged one-hundred stripes and be exiled for one year. And you, O Unais! Go to the wife of this man (and if she confesses), stone her to death." So Unais went in the morning and stoned her to death (after she had confessed).
ہم سے عاصم بن علی نے بیان کیا ، کہا ہم سے ابن ابی ذئب نے بیان کیا ، ان سے زہری نے ، ان سے عبیداللہ نے اور ان سے حضرت ابوہریرہ اور زید بن خالد رضی اللہ عنہما نے کہ
ایک دیہاتی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھے ہوئے تھے ۔ انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! ہمارے درمیان کتاب اللہ کے مطابق فیصلہ کر دیں ۔ اس پر دوسرے نے کھڑے ہو کر کہا کہ انہوں نے صحیح کہا یا رسول اللہ ! ان کا کتاب اللہ کے مطابق فیصلہ کریں ، میرا لڑکا ان کے یہاں مزدور تھا اور پھر اس نے ان کی بیوی کے ساتھ زنا کر لیا ۔ لوگوں نے مجھے بتایا کہ میرے لڑکے کو رجم کیا جائے گا ۔ چنانچہ میں نے سو بکریوں اور ایک کنیز کا فدیہ دیا ۔ پھر میں نے اہل علم سے پوچھا تو ان کا خیال ہے کہ میرے لڑکے پر سو کوڑے اور ایک سال کی جلاوطنی لازمی ہے ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے میں تم دونوں کا فیصلہ کتاب اللہ کے مطابق کروں گا ۔ بکریاں اور کنیز تمہیں واپس ملیں گی اور تمہارے لڑکے کو سو کوڑے اور ایک سال کی جلاوطنی کی سزا ملے گی اور انیس ! صبح اس عورت کے پاس جاؤ ( اور اگر وہ اقرار کرے تو ) اسے رجم کر دو ۔ چنانچہ انہوں نے اسے رجم کیا ۔ ( وہ عورت کہیں اور جگہ تھی آپ نے اسے رجم کرنے کے لیے انیس کو بھیجا اسی سے باب کا مطلب نکلا ۔ قسطلانی نے کہا کہ آپ نے جو انیس کو فریق ثانی کی جورو کے پاس بھیجا وہ زنا کی حد مارنے کے لیے نہیں بھیجا کیونکہ زنا کی حد لگانے کے لیے تجسس کرنا یا ڈھونڈنا بھی درست نہیں ہے اگر کوئی خود آ کر بھی زنا کا اقرار کرے اس کے لیے بھی تفتیش کرنا مستحب ہے یعنی یوں کہنا کہ شاید تو نے بوسہ دیا ہو گا یا مساس کیا ہو گا بلکہ آپ نے انیس کو صرف اس لیے بھیجا کہ اس عورت کو خبرکر دیں کہ فلاں شخص نے تجھ پر زنا کی تہمت لگائی ہے ۔ اب وہ حد قذف کا مطالبہ کرتی ہے یا معاف کرتی ہے ۔ جب انیس اس کے پاس پہنچے تو اس عورت نے صاف طور پر زنا کا اقبال کیا ۔ اس اقبال پر انیس رضی اللہ عنہ نے اس کو حد لگائی اور رجم کیا ۔
Narrated Abu Huraira and Zaid bin Khalid رضی اللہ عنہما :
The verdict of Allah's Messenger (ﷺ) was sought about an unmarried slave girl guilty of illegal intercourse. He replied, "If she commits illegal sexual intercourse, then flog her (fifty stripes), and if she commits illegal sexual intercourse (after that for the second time), then flog her (fifty stripes), and if she commits illegal sexual intercourse (for the third time), then flog her (fifty stripes) and sell her for even a hair rope." Ibn Shihab said, "I am not sure whether the Prophet (ﷺ) ordered that she be sold after the third or fourth time of committing illegal intercourse."
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا ، کہا ہم کو امام مالک نے خبر دی ، انہیں ابن شہاب نے ، انہیں عبیداللہ بن عبداللہ نے اور انہیں ابوہریرہ اور زید بن خالد رضی اللہ عنہما نے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کنیز کے متعلق پوچھا گیا جو غیرشادی شدہ ہو اور زنا کرالیا تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر وہ زنا کرائے تو اسے کوڑے مارو ۔ اگر پھر زنا کرائے تو پھر کوڑے مارو ۔ اگر پھر زنا کرائے تو پھر کوڑے مارو اور اسے بیچ ڈالو خواہ ایک رسی ہی قیمت میں ملے ۔ ابن شہاب نے بیان کیا کہ مجھے یقین نہیں کہ تیسری مرتبہ ( کوڑے لگانے کے حکم ) کے بعد یہ فرمایا یا چوتھی مرتبہ کے بعد ۔
Narrated Abu Huraira رضی اللہ عنہ :
The Prophet (ﷺ) said, "If a lady slave commits illegal sexual intercourse and she is proved guilty of illegal sexual intercourse, then she should be flogged (fifty stripes) but she should not be admonished; and if she commits illegal sexual intercourse again, then she should be flogged again but should not be admonished; and if she commits illegal sexual intercourse for the third time, then she should be sold even for a hair rope." Hadrat Abu Hurairah رضی اللہ عنہ has also reported from the propet ﷺ likewise.
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا ، کہا ہم سے لیث بن سعد نے بیان کیا ، ان سے سعید مقبری نے ، ان سے ان کے والد نے اور ان سے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے ، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر کنیز زنا کرائے اور اس کا زنا کھل جائے تو اسے کوڑے مارنے چاہئیں لیکن لعنت ملامت نہ کرنی چاہئے پھر اگر وہ دوبارہ زنا کرے تو پھر چاہئے کہ کوڑے مارے لیکن ملامت نہ کرے پھر اگر تیسری مرتبہ زنا کرائے تو بیچ دے خواہ بالوں کی ایک رسی ہی قیمت پر ہو ۔ اس روایت کی متابعت اسماعیل بن امیہ نے سعید سے کی ، ان سے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے اور ان سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ۔
Narrated Ash-Shaibani:
I asked `Abdullah bin Abi `Aufa رضی اللہ عنہ about the Rajam (stoning somebody to death for committing illegal sexual intercourse). He replied, "The Prophet (ﷺ) carried out the penalty of Rajam," I asked, "Was that before or after the revelation of Surat-an-Nur?" He replied, "I do not know." Similarly, Obaidah bin Humaid has has reported it from Shibani. Some people mentioned chapter Al-Maidah but the first is more authentic.
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا ، کہا ہم سے عبدالواحد بن زیاد نے بیان کیا ، کہا ہم سے شیبانی نے بیان کیا
میں نے حضرت عبداللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہ سے رجم کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے بتلایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے رجم کیا تھا ۔ میں نے پوچھا سورۃ النور سے پہلے یا اس کے بعد ۔ انہوں نے بتلایا کہ مجھے معلوم نہیں ۔ اس روایت کی متابعت علی بن مسہر ، خالد بن عبداللہ المحاربی اور عبیدہ بن حمید نے شیبانی سے کی ہے اور بعض نے ( سورۃ النور کے بجائے ) سورۃ المائدہ کا ذکر کیا ہے لیکن پہلی روایت صحیح ہے ۔
Narrated `Abdullah bin `Umar رضی اللہ عنہما :
The jews came to Allah's Messenger (ﷺ) and mentioned to him that a man and a lady among them had committed illegal sexual intercourse. Allah's Messenger (ﷺ) said to them, "What do you find in the Torah regarding the Rajam?" They replied, "We only disgrace and flog them with stripes." `Abdullah bin Salam رضی اللہ عنہ said to them, 'You have told a lie the penalty of Rajam is in the Torah.' They brought the Torah and opened it. One of them put his hand over the verse of the Rajam and read what was before and after it. `Abdullah bin Salam رضی اللہ عنہ said to him, "Lift up your hand." Where he lifted it there appeared the verse of the Rajam. So they said, "O Muhammad! He has said the truth, the verse of the Rajam is in it (Torah)." Then Allah's Messenger (ﷺ) ordered that the two persons (guilty of illegal sexual intercourse) be stoned to death, and so they were stoned, and I saw the man bending over the woman so as to protect her from the stones.
ہم سے اسماعیل بن عبداللہ نے بیان کیا ، کہا ہم سے امام مالک نے بیان کیا ، ان سے نافع نے اور ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ
یہودی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور کہا کہ ان میں سے ایک مرد اور ایک عورت نے زناکاری کی ہے ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے پوچھا کہ تورات میں رجم کے متعلق کیا حکم ہے ؟ انہوں نے کہا کہ ہم انہیں رسواکرتے ہیں اور کوڑے لگاتے ہیں ۔ حضرت عبداللہ سلام رضی اللہ عنہ نے اس پر کہا کہ تم جھوٹے ہو اس میں رجم کا حکم موجود ہے ۔ چنانچہ وہ تورات لائے اور کھولا ۔ لیکن ان کے ایک شخص نے اپنا ہاتھ آیت رجم پر رکھ دیا اور اس سے پہلے اور بعد کا حصہ پڑھ دیا ۔ حضرت عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ نے اس سے کہا کہ اپنا ہاتھ اٹھاؤ ۔ اس نے اپنا ہاتھ اٹھایا تو اس کے نیچے رجم کی آیت موجود تھی ۔ پھر انہوں نے کہا اے محمد ! آپ نے سچ فرمایا اس میں رجم کی آیت موجود ہے ۔ چنانچہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا اور دونوں رجم کئے گئے ۔ میں نے دیکھا کہ مرد عورت کو پتھروں سے بچانے کی کوشش میں اس پر جھکا رہا تھا ۔
Narrated Abu Huraira and Zaid bin Khalid رضی اللہ عنہما :
Two men had a dispute in the presence of Allah's Messenger (ﷺ). One of them said, "Judge us according to Allah's Laws." The other who was more wise said, "Yes, Allah's Messenger (ﷺ), judge us according to Allah's Laws and allow me to speak (first)." The Prophet (ﷺ) said to him, "Speak." He said, "My son was a laborer for this man, and he committed illegal sexual intercourse with his wife, and the people told me that my son should be stoned to death, but I have given one-hundred sheep and a slave girl as a ransom (expiation) for my son's sin. Then I asked the religious learned people (about It), and they told me that my son should he flogged one-hundred stripes and should be exiled for one year, and only the wife of this man should be stoned to death." Allah's Messenger (ﷺ) said, "By Him in Whose Hand my soul is, I will judge you according to Allah's Laws: O man, as for your sheep and slave girl, they are to be returned to you." Then the Prophet (ﷺ) had the man's son flogged one hundred stripes and exiled for one year, and ordered Unais Al-Aslami رضی اللہ عنہ to go to the wife of the other man, and if she confessed, stone her to death. She confessed and was stoned to death.
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا ، کہا ہم کو امام مالک نے خبر دی ، انہیں ابن شہاب نے ، انہیں عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ بن مسعود نے اور انہیں ابوہریرہ اور زید بن خالد رضی اللہ عنہما نے خبر دی کہ
دو آدمی اپنا مقدمہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لائے اور ان میں سے ایک نے کہا کہ ہمارا فیصلہ کتاب اللہ کے مطابق کر دیجئیے اور دوسرے نے جوزیادہ سمجھدار تھے کہا کہ ہاں یا رسول اللہ ! ہمارا فیصلہ کتاب اللہ کے مطابق کر دیجئیے اور مجھے عرض کرنے کی اجازت دیجئیے ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کہو ۔ انہوں نے کہا کہ میرا بیٹا ان صاحب کے یہاں مزدور تھا ۔ مالک نے بیان کیا کہ عسیف مزدور کو کہتے ہیں اور اس نے ان کی بیوی کے ساتھ زنا کر لیا ۔ لوگوں نے مجھ سے کہا کہ میرے بیٹے کی سزا رجم ہے ۔ چنانچہ میں نے اس کے فدیہ میں سو بکریاں اور ایک لونڈی دے دی پھر جب میں نے علم والوں سے پوچھا تو انہوں نے بتایا کہ میرے لڑکے کی سزا سو کوڑے اور ایک سال کے لیے ملک بدر کرنا ہے ۔ رجم تو صرف اس عورت کو کیا جائے گا اس لیے کہ وہ شادی شدہ ہے ۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ۔ تمہارا فیصلہ کتاب اللہ کے مطابق کروں گا ۔ تمہاری بکریاں اور تمہاری لونڈی تمہیں واپس ہیں پھر ان کے بیٹے کو سو کوڑے لگوائے اور ایک سال کے لیے شہر بدر کیا اور انیس اسلمی رضی اللہ عنہ کو حکم فرمایا اس مذکورہ عورت کے پاس جائیں اگر وہ اقرار کر لے تو اسے رجم کر دیں چنانچہ اس نے اقرار کیا اور وہ رجم کر دی گئی ۔
Narrated `Aisha رضی اللہ عنہا :
Abu Bakr رضی اللہ عنہ came to me while Allah's Messenger (ﷺ) was sleeping with his head on my thigh. Abu Bakr رضی اللہ عنہ said (to me), "You have detained Allah's Messenger (ﷺ) and the people, and there is no water in this place." So he admonished me and struck my flanks with his hand, and nothing could stop me from moving except the reclining of Allah's Messenger (ﷺ) (on my thigh), and then Allah revealed the Divine Verse of Tayammum.
ہم سے اسماعیل نے بیان کیا ، انہوں نے کہا مجھ سے امام مالک نے بیان کیا ، ان سے عبدالرحمٰن بن القاسم نے بیان کیا ، ان سے ان کے والد ( قاسم بن محمد ) نے بیان کیا اور ان سے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ
ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا تمہاری وجہ سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور سب لوگوں کو روکنا پڑا جبکہ یہاں پانی بھی نہیں ہے ۔ چنانچہ وہ مجھ پر سخت ناراض ہوئے اور اپنے ہاتھ سے میری کوکھ میں مکا مارنے لگے مگر میں نے اپنے جسم میں کسی قسم کی حرکت اس لیے نہیں ہونے دی کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم آرام فرما رہے تھے ۔ پھر اللہ تعالیٰ نے تیمم کی آیت نازل کی ۔
Narrated Aisha رضی اللہ عنہا :
Abu Bakr رضی اللہ عنہ came to towards me and struck me violently with his fist and said, "You have detained the people because of your necklace." But I remained motionless as if I was dead lest I should awake Allah's Messenger (ﷺ) although that hit was very painful. Then he narrated the Hadith likewise.
ہم سے یحییٰ بن سلیمان نے بیان کیا ، کہا ہم سے ابن وہب نے بیان کیا ، انہیں عمرو نے خبر دی ، ان سے عبدالرحمٰن بن قاسم نے بیان کیا ، ان سے ان کے والد نے اور ان سے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ
ابوبکر رضی اللہ عنہ آئے اور زور سے میرے ایک سخت گھونسا لگایا اور کہا تو نے ایک ہار کے لیے سب لوگوں کو روک دیا ۔ میں اس سے مرنے کے قریب ہو گئی اس قدر مجھ کو درد ہوا لیکن کیا کر سکتی تھی کیونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا سرمبارک میری ران پر تھا ۔ لکز اور وکز کے ایک ہی معنی ہیں ۔
Narrated Al-Mughira رضی اللہ عنہ :
Sa`d bin Ubada رضی اللہ عنہ said, "If I found a man with my wife, I would kill him with the sharp side of my sword." When the Prophet (ﷺ) heard that he said, "Do you wonder at Sa`d's sense of ghira (self-respect)? Verily, I have more sense of ghira than Sa`d, and Allah has more sense of ghira than I."
ہم سے موسیٰ نے بیان کیا ، ان سے ابوعوانہ نے بیان کیا ، کہا ہم سے عبدالملک نے بیان کیا ، ان سے مغیرہ کے کاتب وراد نے ، ان سے مغیرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ
سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ اگر میں اپنی بیوی کے ساتھ کسی غیرمرد کو دیکھ لوں تو سیدھی تلوار کی دھار سے اسے مارڈالوں ۔ یہ بات نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچی تو آپ نے فرمایا کیا تمہیں سعد کی غیرت پر حیرت ہے ۔ میں ان سے بھی بڑھ کر غیرمند ہوں اور اللہ مجھ سے بھی زیادہ غیرمند ہے ۔
Narrated Abu Huraira رضی اللہ عنہ :
A bedouin came to Allah's Messenger (ﷺ) and said, "My wife has delivered a black child." The Prophet (ﷺ) said to him, "Have you camels?" He replied, "Yes." The Prophet (ﷺ) said, "What color are they?" He replied, "They are red." The Prophet (ﷺ) further asked, "Are any of them gray in color?" He replied, "Yes." The Prophet asked him, "Whence did that grayness come?" He said, "I thing it descended from the camel's ancestors." Then the Prophet (ﷺ) said (to him), "Therefore, this child of yours has most probably inherited the color from his ancestors."
ہم سے اسماعیل نے بیان کیا ، کہا ہم سے امام مالک نے بیان کیا ، ان سے شہاب نے ، ان سے سعید بن مسیب نے اور ان سے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک دیہاتی آیا اور کہا کہ یا رسول اللہ ! میری بیوی نے کالا لڑکا جنا ہے ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا ، تمہارے پاس اونٹ ہیں ؟ انہوں نے کہا کہ ہاں ۔ آپ نے پوچھا ان کے رنگ کیسے ہیں ؟ انہوں نے کہا کہ سرخ ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا ان میں کوئی خاکی رنگ کا بھی ہے ؟ انہوں نے کہا کہ ہاں ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا پھر یہ کہاں سے آ گیا ؟ انہوں نے کہا میرا خیال ہے کہ کسی رگ نے یہ رنگ کھینچ لیا جس کی وجہ سے ایسا اونٹ پیدا ہوا ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پھر ایسا بھی ممکن ہے کہ تیرے بیٹے کا رنگ بھی کسی رگ نے کھینچ لیا ہو ۔
Narrated Abu Burda رضی اللہ عنہ :
The Prophet (ﷺ) used to say, "Nobody should be flogged more than ten stripes except if he is guilty of a crime, the legal punishment of which is assigned by Allah."
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم سے لیث بن سعد نے بیان کیا ، ان سے یزید بن ابی حبیب نے بیان کیا ، ان سے بکیر بن عبداللہ نے بیان کیا ، ان سے سلیمان بن یسار نے بیان کیا ، ان سے عبدالرحمٰن بن جابر بن عبداللہ نے بیان کیا اور ان سے حضرت ابو بردہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا حدود اللہ میں کسی مقررہ حد کے سوا کسی اور سزا میں دس کوڑے سے زیادہ بطور تعزیر و سزا نہ مارے جائیں ۔