Narrated `Abdur-Rahman bin Jabir:
The Prophet (ﷺ) said, "No Punishment exceeds the flogging of the ten stripes, except if one is guilty of a crime necessitating a legal punishment prescribed by Allah."
ہم سے عمرو بن علی نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم سے فضیل بن سلیمان نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم سے مسلم بن ابی مریم نے بیان کیا ، کہا مجھ سے عبدالرحمٰن بن جابر نے ان صحابی سے بیان کیا جنہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا تھا کہ
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ کی حدود میں سے کسی حد کے سوا مجرم کو دس کوڑے سے زیادہ کی سزا نہ دی جائے ۔
Narrated Abu Burda Al-Ansari رضی اللہ عنہ :
I heard the Prophet (ﷺ) saying, "Do not flog anyone more than ten stripes except if he is involved in a crime necessitating Allah's legal Punishment."
ہم سے یحییٰ بن سلیمان نے بیان کیا ، انہوں نے کہا مجھ سے ابن وہب نے بیان کیا ، انہوں نے کہا مجھ کو عمرو نے خبر دی ، ان سے بکیر نے بیان کیا کہ میں سلیمان بن یسار کے پاس بیٹھا ہوا تھا کہ عبدالرحمٰن بن جابر آئے اور سلیمان بن یسار سے بیان کیا پھر سلیمان بن یسار ہماری طرف متوجہ ہوئے اور انہوں نے کہا کہ مجھ سے عبدالرحمٰن بن جابر نے بیان کیا ہے کہ ان سے ان کے والد نے بیان کیا اور انہوں نے ابوبردہ انصاری رضی اللہ عنہ سے سنا ۔ انہوں نے بیان کیا کہ
میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ حدود اللہ میں سے کسی حد کے سوا کسی سزا میں دس کوڑے سے زیادہ کی سزا نہ دو ۔
Narrated Abu Huraira رضی اللہ عنہ :
Allah's Messenger (ﷺ) forbade Al-Wisal (fasting continuously for more than one day without taking any meals). A man from the Muslims said, "But you do Al-Wisal, O Allah's Messenger (ﷺ)!" Allah's Messenger (ﷺ) I said, "Who among you is similar to me? I sleep and my Lord makes me eat and drink." When the people refused to give up Al-Wisal, the Prophet (ﷺ) fasted along with them for one day, and did not break his fast but continued his fast for another day, and when they saw the crescent, the Prophet (ﷺ) said, "If the crescent had not appeared, I would have made you continue your fast (for a third day)," as if he wanted to punish them for they had refused to give up Al-Wisal. Similarly, Younus has reported from Zuhri. Moreover, Hadrat Abu Hurairah رضی اللہ عنہ has reported it from the prophet ﷺ.
ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا ، کہا ہم سے لیث بن سعد نے بیان کیا ، ان سے عقیل نے ، ان سے ابن شہاب نے ، ان سے ابوسلمہ نے بیان کیا اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وصال ( مسلسل افطار کے بغیر کئی دن کے روزے رکھنے ) سے منع فرمایا تو بعض صحابہ نے عرض کیا یا رسول اللہ ! آپ خود تو وصال کرتے ہیں ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم میں سے کون مجھ جیسا ہے ؟ میرا تو حال یہ ہے کہ مجھے میرا رب کھلاتا ہے اور پلاتا ہے لیکن وصال کرنے سے صحابہ نہیں رکے تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے ساتھ ایک دن کے بعد دوسرے دن کا وصال کیا پھر اس کے بعد لوگوں نے چاند دیکھ لیا ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر ( عید کا ) چاند نہ دکھائی دیتا تو میں اور وصال کرتا ۔ یہ آپ نے تنبیہاً فرمایا تھا کیونکہ وہ وصال کرنے پر مصر تھے ۔ اس روایت کی متابعت شعیب ، یحییٰ بن سعید اور یونس نے زہری سے کی ہے اور عبدالرحمٰن بن خالد فہمی نے بیان کیا ، ان سے ابن شہاب نے ، ان سے سعید بن مسیب نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کیا ۔
Narrated `Abdullah bin `Umar رضی اللہ عنہما :
Those people who used to buy foodstuff at random (without weighing or measuring it) were beaten in the lifetime of Allah's Messenger (ﷺ) if they sold it at the very place where they had bought it, till they carried it to their dwelling places.
مجھ سے عیاش بن الولید نے بیان کیا ، کہا ہم سے عبدالاعلیٰ نے بیان کیا ، کہا ہم سے معمر نے بیان کیا ، ان سے زہری نے ، ان سے حضرت سالم نے ، ان سے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں اس پر مار پڑتی کہ جب غلہ کے ڈھیر یوں ہی خریدیں ، بن ناپے اور تولے اس کو اسی جگہ دوسرے کے ہاتھ بیچ ڈالیں ہاں وہ غلہ اٹھا کر اپنے ٹھکانے لے جائیں پھر بیچیں تو کچھ سزا نہ ہوتی ۔
Narrated `Aisha رضی اللہ عنہا :
Allah's Messenger (ﷺ) never took revenge for his own self in any matter presented to him till Allah's limits were exceeded, in which case he would take revenge for Allah's sake.
ہم سے عبدان نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم کو عبداللہ بن مبارک نے خبر دی ، انہوں نے کہا ہم کو یونس نے خبر دی ، انہیں زہری نے ، انہیں عروہ نے خبر دی اور ان سے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ذاتی معاملہ میں کبھی کسی سے بدلہ نہیں لیا ہاں جب اللہ کی قائم کی ہوئی حد کو توڑا جاتا تو آپ پھر بدلہ لیتے تھے ۔
Narrated Sahl bin Sa`d رضی اللہ عنہ :
I witnessed the case of Lian (the case of a man who charged his wife for committing illegal sexual intercourse when I was fifteen years old. The Prophet (ﷺ) ordered that they be divorced, and the husband said, "If I kept her, I would be a liar." I remember that Az-Zubair also said, "(It was said) that if that woman brought forth the child with such-and-such description, her husband would prove truthful, but if she brought it with such-and-such description looking like a Wahra (a red insect), he would prove untruthful." I heard Az-Zubair also saying, "Finally she gave birth to a child of description which her husband disliked .
ہم سے علی نے بیان کیا ، کہا ہم سے سفیان ثوری نے بیان کیا ، ان سے زہری نے بیان کیا اور ان سے سہل بن سعد رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ
میں نے دو لعان کرنے والے میاں بیوی کو دیکھا تھا ۔ اس وقت میری عمر پندرہ سال تھی ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں کے درمیان جدائی کرا دی تھی ۔ شوہر نے کہا تھا کہ اگر اب بھی میں ( اپنی بیوی کو ) اپنے ساتھ رکھوں تو اس کا مطلب یہ ہے کہ میں جھوٹا ہوں ۔ سفیان نے بیان کیا کہ میں نے زہری سے یہ روایت محفوظ رکھی ہے کہ ” اگر اس عورت کے ایسا بچہ پیدا ہوا تو شوہر سچا ہے اور اگر اس کے ایسا ایسا بچہ پیدا ہوا جیسے چھپکلی ہوتی ہے تو شوہر جھوٹا ہے “ اور میں نے زہری سے سنا ، انہوں نے بیان کیا کہ اس عورت نے اس آدمی کے ہم شکل بچہ جنا جو میری طرح کا تھا ۔
Narrated Al-Qasim bin Muhammad:
Ibn `Abbas رضی اللہ عنہما mentioned the couple who had taken the oath of Lian. `Abdullah bin Shaddad رضی اللہ عنہما said (to him), "Was this woman about whom Allah's Messenger (ﷺ) said, 'If I were ever to stone to death any woman without witnesses. (I would have stoned that woman to death)?' Ibn `Abbas رضی اللہ عنہما replied," No, that lady exposed herself (by her suspicious behavior).
ہم سے علی بن عبداللہ نے بیان کیا ، کہا ہم سے سفیان نے بیان کیا ، کہا ہم سے ابوالزناد نے بیان کیا ، ان سے قاسم بن محمد نے بیان کیا کہ
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے دولعان کرنے والوں کا ذکر کیا تو حضرت عبداللہ بن شداد رضی اللہ عنہما نے کہا کہ یہ وہی تھی جس کے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ اگر میں کسی عورت کو بلاگواہی رجم کر سکتا ( تو اسے ضرور کرتا ) ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا کہ نہیں یہ وہ عورت تھی جو ( فسق و فجور ) ظاہر کیا کرتی تھی ۔
Narrated Ibn `Abbas رضی اللہ عنہما :
Lian was mentioned in the presence of the Prophet, `Asim bin Adi رضی اللہ عنہ said a statement about it, and when he left, a man from his tribe came to him complaining that he had seen a man with his wife. `Asim رضی اللہ عنہ said, "I have been put to trial only because of my statement." So he took the man to the Prophet (ﷺ) and the man told him about the incident. The man (husband) was of yellow complexion, thin, and of lank hair, while the man whom he had accused of having been with his wife, was reddish brown with fat thick legs and fat body. The Prophet (ﷺ) said, "O Allah! Reveal the truth." Later on the lady delivered a child resembling the man whom the husband had accused of having been with her. So the Prophet (ﷺ) made them take the oath of Lian. A man said to Ibn `Abbas رضی اللہ عنہما in the gathering, "Was that the same lady about whom the Prophet (ﷺ) said, "If I were to stone any lady (for committing illegal sexual intercourse) to death without witnesses, I would have stoned that lade to death?" Ibn `Abbas رضی اللہ عنہما said, "No, that was another lady who used to behave in such a suspicious way among the Muslims that one might accuse her of committing illegal sexual intercourse."
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم سے لیث بن سعد نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم سے یحییٰ بن سعید نے بیان کیا ، ان سے عبدالرحمٰن بن قاسم نے بیان کیا ، ان سے قاسم بن محمد نے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس میں لعان کا ذکر آیا تو عاصم بن عدی رضی اللہ عنہ نے اس پر ایک بات کہی پھر وہ واپس آئے ۔ اس کے بعد ان کی قوم کے ایک صاحب یہ شکایت لے کر ان کے پاس آئے کہ انہوں نے اپنی بیوی کے ساتھ غیرمرد کو دیکھا ہے ۔ عاصم رضی اللہ عنہ نے اس پر کہا کہ میں اپنی اس بات کی وجہ سے آزمائش میں ڈالا گیا ہوں ۔ پھر آپ ان صاحب کو لے کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس میں تشریف لائے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کی اطلاع دی جس حالت میں انہوں نے اپنی بیوی کو پایا ۔ وہ صاحب زردرنگ ، کم گوشت ، سیدھے بالوں والے تھے ۔ پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اے اللہ ! اس معاملہ کو ظاہر کر دے ۔ چنانچہ اس عورت کے یہاں اسی شخص کی شکل کا بچہ پیدا ہوا جس کے متعلق شوہر نے کہا تھا کہ اسے انہوں نے اپنی بیوی کے ساتھ دیکھا ہے پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں کے درمیان لعان کرایا ۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مجلس میں ایک صاحب نے کہا کہ یہ وہی تھا جس کے متعلق آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ اگر میں کسی کو بلاگواہی کے رجم کر سکتا تو اسے رجم کرتا ۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا کہ نہیں یہ تو وہ عورت تھی جو اسلام لانے کے بعد برائیاں اعلانیہ کرتی تھی ۔
Narrated Abu Huraira رضی اللہ عنہ :
The Prophet (ﷺ) said, "Avoid the seven great destructive sins." They (the people!) asked, "O Allah's Apostle! What are they?" He said, "To join partners in worship with Allah; to practice sorcery; to kill the life which Allah has forbidden except for a just cause (according to Islamic law); to eat up usury (Riba), to eat up the property of an orphan; to give one's back to the enemy and fleeing from the battle-field at the time of fighting and to accuse chaste women who never even think of anything touching chastity and are good believers."
ہم سے عبدالعزیز بن عبداللہ نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم سے سلیمان بن بلال نے بیان کیا ، ان سے ثور بن زید نے بیان کیا ، ان سے ابوالغیث سالم نے بیان کیا ، اور ان سے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا ، کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سات مہلک گناہوں سے بچو ۔ صحابہ نے عرض کیا یا رسول اللہ ! وہ کیا کیا ہیں ؟ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ کے ساتھ شرک کرنا ، جادو کرنا ، ناحق کسی کی جان لینا جو اللہ نے حرام کیا ہے ، سود کھانا ، یتیم کا مال کھانا ، جنگ کے دن پیٹھ پھیرنا اور پاک دامن غافل مومن عورتوں کو تہمت لگانا ۔
Narrated Abu Huraira رضی اللہ عنہ :
I heard Abu-l-Qasim (the Prophet) saying, "If somebody slanders his slave and the slave is free from what he says, he will be flogged on the Day of Resurrection unless the slave is really as he has described him."
ہم سے مسدد نے بیان کیا ، کہا ہم سے یحییٰ بن سعید قطان نے بیان کیا ، ان سے فضیل بن غزوان نے ، ان سے عبدالرحمٰن بن ابی نعم نے اور ان سے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ
میں نے ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ، آپ نے فرمایا کہ جس نے اپنے غلام پر تہمت لگائی حالانکہ غلام اس تہمت سے بری تھا تو قیامت کے دن اسے کوڑے لگائے جائیں گے ، سوا اس کے کہ اس کی بات صحیح ہو ۔
Narrated Abu Huraira and Zaid bin Khalid Al-Juhani رضی اللہ عنہما :
A man came to the Prophet (ﷺ) and said, "I beseech you to judge us according to Allah's Laws." Then his opponent who was wiser than he, got up and said, "He has spoken the truth. So judge us according to Allah's Laws and please allow me (to speak), O Allah's Messenger (ﷺ)." The Prophet (ﷺ) said, "Speak." He said, "My son was a laborer for the family of this man and he committed illegal sexual intercourse with his wife, and I gave one-hundred sheep and a slave as a ransom (for my son), but I asked the religious learned people (regarding this case), and they informed me that my son should be flogged one hundred stripes, and be exiled for one year, and the wife of this man should be stoned (to death)."The Prophet (ﷺ) said, "By Him in Whose Hand my soul is, I will Judge you (in this case) according to Allah's Laws. The one-hundred (sheep) and the slave shall be returned to you and your son shall be flogged one-hundred stripes and be exiled for one year. And O Unais! Go in the morning to the wife of this man and ask her, and if she confesses, stone her to death." She confessed and he stoned her to death.
ہم سے محمد بن یوسف نے بیان کیا ، ان سے کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا ، ان سے زہری نے بیان کیا ، ان سے عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ نے بیان کیا ، ان سے ابوہریرہ اور زیر بن خالد الجہنی رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ
ایک آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آیا اور کہا کہ میں آپ کو اللہ کی قسم دیتا ہوں آپ ہمارے درمیان کتاب اللہ کے مطابق فیصلہ کر دیں ۔ اس پر فریق مخالف کھڑا ہوا ، یہ زیادہ سمجھدار تھا اور کہا کہ انہوں نے سچ کہا ۔ ہمارا فیصلہ کتاب اللہ کے مطابق کیجئے اور یا رسول اللہ ! مجھے ( گفتگو کی ) اجازت دیجئیے ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہئے ۔ انہوں نے کہا کہ میرا لڑکا ان کے یہاں مزدوری کرتا تھا پھر اس نے ان کی بیوی کے ساتھ زنا کر لیا ۔ میں نے اس کے فدیہ میں ایک سو بکریاں اور ایک خادم دیا پھر میں نے اہل علم سے پوچھا تو انہوں نے مجھے بتایا کہ میرے بیٹے کو سو کوڑے اور ایک سال جلاوطنی کی سزا ملنی چاہئے اور اس کی بیوی کو رجم کیا جائے گا ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ، میں تمہارا فیصلہ کتاب اللہ کے مطابق ہی کروں گا ۔ سو بکریاں اور خادم تمہیں واپس ملیں گے اور تمہارے بیٹے کو سو کوڑے اور ایک سال جلاوطنی کی سزا دی جائے گی اور اے انیس اس عورت کے پاس صبح جانا اور اس سے پوچھنا اگر وہ زنا کا اقرار کر لے تو اسے رجم کرنا ۔ اس عورت نے اقرار کر لیا اور وہ رجم کر دی گئی ۔