Narrated `Abdullah رضی اللہ عنہما :
A man said, "O Allah's Messenger (ﷺ)! Which sin is the greatest in Allah's Sight?" The Prophet (ﷺ) said, "To set up a rival unto Allah though He Alone created you . " The man said, "What is next?" The Prophet (ﷺ) said, "To kill your son lest he should share your food with you." The man said, "What is next?" The Prophet said, "To commit illegal sexual intercourse with the wife of your neighbor." So Allah revealed in confirmation of this narration:-- 'And those who invoke not with Allah, any other god. Nor kill, such life as Allah has forbidden except for just cause nor commit illegal sexual intercourse. And whoever does this shall receive the punishment.' (25.68)
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا ، کہا ہم سے جریر بن عبدالحمید نے بیان کیا ، ان سے اعمش نے ، ان سے ابووائل نے ، ان سے عمرو بن شرجیل نے بیان کیا ، ان سے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ
ایک صاحب یعنی خود آپ نے کہا یا رسول اللہ ! صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے نزدیک کون سا گناہ سب سے بڑا ہے ؟ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ کہ تم اللہ کا کسی کو شریک ٹھہراؤ جبکہ اس نے تمہیں پیدا کیا ہے ۔ پوچھا پھر کون ؟ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پھر یہ کہ تم اپنے لڑکے کو اس ڈر سے مارڈالو کہ وہ تمہارے ساتھ کھانا کھائے گا ۔ پوچھا پھر کون ؟ فرمایا پھر یہ کہ تم اپنے پڑوسی کی بیوی سے زنا کرو ۔ پھر اللہ تعالیٰ نے اس کی تصدیق میں یہ آیت نازل کی ” اور وہ لوگ جو اللہ کے ساتھ کسی دوسرے معبود کو نہیں پکارتے اور نہ کسی ایسے انسان کی ناحق جان لیتے ہیں جسے اللہ نے حرام کیا اور نہ زنا کرتے ہیں اور جو کوئی ایسا کرے گا اسے سزا ملے گی۔“ آخر آیت تک ۔
Narrated Ibn `Umar رضی اللہ عنہما :
Allah's Messenger (ﷺ) said, "A faithful believer remains at liberty regarding his religion unless he kills somebody unlawfully."
ہم سے علی بن جعد نے بیان کیا ، کہا ہم سے اسحاق بن سعید بن عمرو بن سعد بن العاص رضی اللہ عنہما نے بیان کیا ، ان سے ان کے والد نے اور ان سے ابن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مومن اس وقت تک اپنے دین کے بارے میں برابر کشادہ رہتا ہے ( اسے ہر وقت مغفرت کی امید رہتی ہے ) جب تک ناحق خون نہ کرے .
Narrated `Abdullah bin `Umar رضی اللہ عنہما :
One of the evil deeds with bad consequence from which there is no escape for the one who is involved in it is to kill someone unlawfully.
مجھ سے احمد بن یعقوب نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم سے اسحاق نے بیان کیا ، انہوں نے کہا میں نے اپنے والد سے سنا ، وہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے بیان کرتے تھے کہ
ہلاکت کا بھنور جس میں گرنے کے بعد پھر نکلنے کی امید نہیں ہے وہ ناحق خون کرنا ہے ۔ جس کو اللہ تعالیٰ نے حرام کیا ہے ۔
Narrated `Abdullah رضی اللہ عنہ :
The Prophet (ﷺ) said, "The first cases to be decided among the people (on the Day of Resurrection) will be those of blood-shed."
ہم سے عبیداللہ بن موسیٰ نے بیان کیا ، ان سے اعمش نے ، ان سے ابووائل نے اور ان سے عبداللہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سب سے پہلے ( قیامت کے دن ) لوگوں کے درمیان خون خرابے کے فیصلہ جات کئے جائیں گے ۔
Narrated Al-Miqdad bin `Amr Al-Kindi رضی اللہ عنہ :
An ally of Bani Zuhra who took part in the battle of Badr with the Prophet, that he said, "O Allah's Apostle! If I meet an unbeliever and we have a fight, and he strikes my hand with the sword and cuts it off, and then takes refuge from me under a tree, and says, 'I have surrendered to Allah (i.e. embraced Islam),' may I kill him after he has said so?" Allah's Messenger (ﷺ) said, "Do not kill him." Al-Miqdad said, "But O Allah's Messenger (ﷺ)! He had chopped off one of my hands and he said that after he had cut it off. May I kill him?" The Prophet (ﷺ) said. "Do not kill him for if you kill him, he would be in the position in which you had been before you kill him, and you would be in the position in which he was before he said the sentence." Hadrat Ibn-e-Abbas رضی اللہ عنہما reported that the Prophet (ﷺ) also said to Al-Miqdad, "If a faithful believer conceals his faith (Islam) from the disbelievers, and then when he declares his Islam, you kill him, (you will be sinful). Remember that you were also concealing your faith (Islam) at Mecca before."
ہم سے عبدان نے بیان کیا ، کہا ہم سے عبداللہ بن مبارک نے بیان کیا ، کہا ہم کو یونس نے خبر دی ، ان سے زہری نے ، کہا مجھ سے عطاء بن یزید نے بیان کیا ، ان سے عبیداللہ بن عدی نے بیان کیا ، ان سے بنی زہرہ کے حلیف مقداد بن عمرو الکندی رضی اللہ عنہ نے بیان کیا
وہ بدر کی لڑائی میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ شریک تھے کہ آپ نے پوچھا یا رسول اللہ ! اگر جنگ کے دوران میری کسی کافر سے مڈبھیڑ ہو جائے اور ہم ایک دوسرے کو قتل کرنے کی کوشش کرنے لگیں پھر وہ میرے ہاتھ پر اپنی تلوار مار کر اسے کاٹ دے اور اس کے بعد کسی درخت کی آڑ لے کر کہے کہ میں اللہ پر ایمان لایا تو کیا میں اسے اس کے اس اقرار کے بعد قتل کر سکتا ہوں ؟ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اسے قتل نہ کرنا ۔ انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! اس نے تو میرا ہاتھ بھی کاٹ ڈالا اور یہ اقرار اس وقت کیا جب اسے یقین ہو گیا کہ اب میں اسے قتل ہی کر دوں گا ؟ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اسے قتل نہ کرنا کیونکہ اگر تم نے اسے اسلام لانے کے بعد قتل کر دیا تو وہ تمہارے مرتبہ میں ہو گا جو تمہارا اسے قتل کرنے سے پہلے تھا یعنی معصوم معلوم الدم اور تم اس کے مرتبہ میں ہو گے جو اس کا اس کلمہ کے اقرار سے پہلے تھا جو اس نے اب کیا ہے ( یعنی ظالم مباح الدم ) ۔اور حبیب بن ابی عمرہ نے بیان کیا ، ان سے سعید بن جبیر نے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت مقداد رضی اللہ عنہ سے فرمایا تھا کہ اگر کوئی مسلمان کافروں کے ساتھ رہتا ہو پھر وہ ڈر کے مارے اپنا ایمان چھپاتا ہو ، اگر وہ اپنا ایمان ظاہر کر دے اور تو اس کو مار ڈالے یہ کیوں کر درست ہو گا خود تو بھی تو مکہ میں پہلے اپنا ایمان چھپاتا تھا ۔
Narrated `Abdullah رضی اللہ عنہما :
The Prophet (ﷺ) said, "No human being is killed unjustly, but a part of responsibility for the crime is laid on the first son of Adam who invented the tradition of killing (murdering) on the earth. (It is said that he was Qabil).
ہم سے قبیصہ نے بیان کیا ، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا ، ان سے اعمش نے ، ان سے عبداللہ ابن مرہ نے ، ان سے مسروق نے اور ان سے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہما نے کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو جان ناحق قتل کی جائے اس کے ( گناہ کا ) ایک حصہ آدم علیہ السلام کے پہلے بیٹے ( قابیل پر ) پڑتا ہے ۔
Narrated `Abdullah bin `Umar رضی اللہ عنہما :
The Prophet (ﷺ) said, "After me (i.e. after my death), do not become disbelievers, by striking (cutting) the necks of one another.
ہم سے ابوالولید نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا ، انہیں واقد بن عبداللہ نے خبر دی ، انہوں نے کہا مجھ کو میرے والد نے اور انہوں نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے بیان کیا کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میرے بعد کافر نہ بن جانا کہ تم میں سے بعض بعض کی گردن مارنے لگ جاؤ ۔
Narrated Jarir bin Abdullah Bajali رضی اللہ عنہ :
The Prophet (ﷺ) said during Hajjat-al-Wada`, "Let the people be quiet and listen to me. After me, do not become disbelievers, by striking (cutting) the necks of one another." Hadrat Abu Bakr and Hadrat Ibn-e-Abbas رضی اللہ عنہما have also reported it from the prophet ﷺ.
ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم سے غندر نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا ، ان سے علی بن مدرک نے بیان کیا ، انہوں نے کہا کہ میں نے ابوزرعہ بن عمرو بن جریر سے سنا ، ان سے جریر بن عبداللہ بجلی رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حجۃ الوداع کے دن فرمایا ، لوگوں کو خاموش کرا دو ۔ ( پھر فرمایا ) تم میرے بعد کافر نہ بن جانا کہ تم میں سے بعض بعض کی گردن مارنے لگے ۔ اس حدیث کی روایت ابوبکر اور ابن عباس رضی اللہ عنہما نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کی ہے ۔
Narrated `Abdullah bin `Amr رضی اللہ عنہما :
The Prophet (ﷺ) said, "Al-Ka`ba'ir (the biggest sins) are: To join others (as partners) in worship with Allah, to be undutiful to one's parents," or said, "to take a false oath." (The sub-narrator, Shu`ba is not sure) Mu`adh said: Shu`ba said, "Al-Ka`ba'ir (the biggest sins) are: (1) Joining others as partners in worship with Allah, (2) to take a false oath (3) and to be undutiful to one's parents," or said, "to murder (someone unlawfully).
مجھ سے محمد بن بشار نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم سے محمد بن جعفر نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا ، ان سے فراس نے ، ان سے شعبی نے اور ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کبیرہ گناہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرانا ، والدین کی نافرمانی کرنا یا فرمایا کہ ناحق دوسرے کا مال لینے کے لیے جھوٹی قسم کھانا ہیں ۔ شک شعبہ کو تھا اور معاذ نے بیان کیا ، ان سے شعبہ نے بیان کیا ، کہا کبیرہ گناہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرانا ، کسی کا مال ناحق لینے کے لیے جھوٹی قسم کھانا اور والدین کی نافرمانی کرنا یا کہا کہ کسی کی جان لینا ۔
Narrated Anas bin Malik رضی اللہ عنہ :
The Prophet (ﷺ) said, "The biggest of Al-Ka`ba'ir (the great sins) are (1) to join others as partners in worship with Allah, (2) to murder a human being, (3) to be undutiful to one's parents (4) and to make a false statement," or said, "to give a false witness."
ہم سے اسحاق بن منصور نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم سے عبدالصمد نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم سے عبیداللہ بن ابی بکر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا ، انہوں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے سنا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا گناہ کبیرہ اور ہم سے عمرو نے بیان کیا ، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا ، ان سے ابوبکرنے اور ان سے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ.
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا گناہ کبیرہ میں سب سے بڑا گناہ یہ ہے کہ ۔ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرانا ، کسی کی ناحق جان لینا ، والدین کی نافرمانی کرنا اور جھوٹ بولنا ہیں یا فرمایا کہ جھوٹی گواہی دینا ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سب سے بڑے گناہ
Narrated Usama bin Zaid bin Haritha رضی اللہ عنہما :
Allah's Messenger (ﷺ) sent us (to fight) against Al-Huraqa (one of the sub-tribes) of Juhaina. We reached those people in the morning and defeated them. A man from the Ansar and I chased one of their men and when we attacked him, he said, "None has the right to be worshipped but Allah." The Ansari refrained from killing him but I stabbed him with my spear till I killed him. When we reached (Medina), this news reached the Prophet. He said to me, "O Usama! You killed him after he had said, 'None has the right to be worshipped but Allah?"' I said, "O Allah's Messenger (ﷺ)! He said so in order to save himself." The Prophet (ﷺ) said, "You killed him after he had said, 'None has the right to be worshipped but Allah." The Prophet (ﷺ) kept on repeating that statement till I wished I had not been a Muslim before that day.
ہم سے عمرو بن زرارہ نے بیان کیا ، کہا ہم سے ہشیم نے بیان کیا ، کہا ہم سے حصین نے بیان کیا ، کہا ہم سے ابوظبیان نے بیان کیا ، کہا کہ میں نے اسامہ بن زید بن حارثہ رضی اللہ عنہما سے سنا ، انہوں نے بیان کرتے ہوئے کہا کہ
ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قبیلہ جہینہ کی ایک شاخ کی طرح ( مہم پر ) بھیجا ۔ بیان کیا کہ پھر ہم نے ان لوگوں کو صبح کے وقت جالیا اور انہیں شکست دے دی ۔ راوی نے بیان کیا کہ میں اور قبیلہ انصار کے ایک صاحب قبیلہ جہینہ کے ایک شخص تک پہنچے اور جب ہم نے اسے گھیرلیا تو اس نے کہا ” لا الہ الا اﷲ “ انصاری صحابی نے تو ( یہ سنتے ہی ) ہاتھ روک لیا لیکن میں نے اپنے نیزے سے اسے قتل کر دیا ۔ راوی نے بیان کیا کہ جب ہم واپس آئے تو اس واقعہ کی خبر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ملی ۔ بیان کیا کہ پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا اسامہ ! کیا تم نے کلمہ لا الہ الا اﷲ کا اقرار کرنے کے بعد اسے قتل کر ڈالا ۔ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! اس نے صرف جان بچانے کے لیے اس کا اقرار کیا تھا ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر فرمایا تم نے اسے لا الہ الا اﷲ کا اقرار کرنے کے بعد قتل کر ڈالا ۔ بیان کیا کہ آنحضرت اس جملہ کو اتنی دفعہ دہراتے رہے کہ میرے دل میں یہ خواہش پیدا ہو گئی کہ کاش میں اس سے پہلے مسلمان نہ ہوا ہوتا ۔
Narrated 'Ubada bin As-Samat رضی اللہ عنہ :
I was among those Naqibs (selected leaders) who gave the Pledge of allegiance to Allah's Messenger (ﷺ). We gave the oath of allegiance, that we would not join partners in worship besides Allah, would not steal, would not commit illegal sexual intercourse, would not kill a life which Allah has forbidden, would not commit robbery, would not disobey (Allah and His Apostle), and if we fulfilled this pledge we would have Paradise, but if we committed any one of these (sins), then our case will be decided by Allah.
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا ، کہا ہم سے لیث بن سعد نے بیان کیا ، کہا ہم سے یزید نے بیان کیا ، ان سے ابوالخیر نے ، ان سے صنابحی نے اور ان سے عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ
میں ان نقیبوں میں سے تھا جنہوں نے ( منیٰ میں لیلۃالعقبہ کے موقع پر ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کی تھی ۔ ہم نے اس کی بیعت ( عہد ) کی تھی کہ ہم اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہرائیں گے ، ہم چوری نہیں کریں گے ، زنا نہیں کریں گے ، کسی کی ناحق جان نہیں لیں گے جو اللہ نے حرام کی ہے ، ہم لوٹ مار نہیں کریں گے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نافرمانی نہیں کریں گے اور یہ کہ اگر ہم نے اس پر عمل کیا تو ہمیں جنت ملے گی اور اگر ہم نے ان میں سے کسی طرح کا گناہ کیا تو اس کا فیصلہ اللہ تبارک و تعالیٰ کے یہاں ہو گا ۔
Narrated `Abdullah رضی اللہ عنہ :
The Prophet (ﷺ) said, "Whoever carries arms against us, is not from us." Hadrat Abu Musa رضی اللہ عنہ has also reported it from the prophet ﷺ.
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم سے جویریہ نے بیان کیا ، ان سے نافع نے بیان کیا اور ان سے عبداللہ رضی اللہ عنہ نے کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس نے ہم پر ہتھیار اٹھایا وہ ہم میں سے نہیں ہے ۔ حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ حدیث روایت کی ہے ۔
Narrated Al-Ahnaf bin Qais:
I went to help that man (i.e., `Ali رضی اللہ عنہ ), and on the way I met Abu Bakra رضی اللہ عنہ who asked me, "Where are you going?" I replied, "I am going to help that man." He said, "Go back, for I heard Allah's Messenger (ﷺ) saying, 'If two Muslims meet each other with their swords then (both) the killer and the killed one are in the (Hell) Fire.' I said, 'O Allah's Messenger (ﷺ)! It is alright for the killer, but what about the killed one?' He said, 'The killed one was eager to kill his opponent."
ہم سے عبدالرحمٰن بن المبارک نے بیان کیا ، کہا ہم سے حماد بن زید نے ، کہا ہم سے ایوب اور یونس نے ، ان سے امام حسن بصری نے ، ان سے احنف بن قیس نے کہ
میں ان صاحب ( علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ ) کی جنگ جمل میں مدد کے لیے تیار تھا کہ ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے میری ملاقات ہوئی ۔ انہوں نے پوچھا ، کہا کا ارادہ ہے ؟ میں نے کہا کہ ان صاحب کی مدد کے لیے جانا چاہتا ہوں ۔ انہوں نے فرمایا کہ واپس چلے جاؤ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے کہ جب دو مسلمان تلوار کھینچ کر ایک دوسرے سے بھڑ جائیں تو قاتل اور مقتول دونوں دوزخ میں جاتے ہیں ۔ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! ایک تو قاتل تھا لیکن مقتول کو سزا کیوں ملے گی ؟ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وہ بھی اپنے قاتل کے قتل پر آمادہ تھا ۔
Narrated Anas bin Malik رضی اللہ عنہ :
A Jew crushed the head of a girl between two stones, and the girl was asked, "Who has done that to you, so-and-so or so and so?" (Some names were mentioned for her) till the name of that Jew was mentioned (whereupon she agreed). The Jew was brought to the Prophet (ﷺ) and the Prophet (ﷺ) kept on questioning him till he confessed, whereupon his head was crushed with stones.
ہم سے حجاج بن منہال نے بیان کیا ، کہا ہم سے ہمام بن یحییٰ نے بیان کیا ، ان سے قتادہ نے اور ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے کہ
ایک یہودی نے ایک لڑکی کا سردوپتھروں کے درمیان رکھ کر کچل دیا پھر اس لڑکی سے پوچھا گیا کہ یہ کس نے کیا ہے ؟ فلاں نے ، فلاں نے ؟ آخر جب اس یہودی کا نام لیاگیا ( تولڑکی نے سر کے اشارہ سے ہاں کہا ) پھر یہودی کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے یہاں لایا گیا اور اس سے پوچھ گچھ کی جاتی رہی یہاں تک کہ اس نے جرم کا اقرار کر لیا چنانچہ کا سر بھی پتھروں سے کچلاگیا ۔
Narrated Anas bin Malik رضی اللہ عنہ :
A girl wearing ornaments, went out at Medina. Somebody struck her with a stone. She was brought to the Prophet (ﷺ) while she was still alive. Allah's Messenger (ﷺ) asked her, "Did such-and-such a person strike you?" She raised her head, denying that. He asked her a second time, saying, "Did so-and-so strike you?" She raised her head, denying that. He said for the third time, "Did so-and-so strike you?" She lowered her head, agreeing. Allah's Messenger (ﷺ) then sent for the killer and killed him between two stones.
ہم سے محمد نے بیان کیا ، کہا ہم کو عبداللہ بن ادریس نے خبر دی ، انہیں شعبہ نے ، انہیں ہشام بن زید بن انس نے ، ان سے ان کے دادا انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ
مدینہ منورہ میں ایک لڑکی چاندی کے زیور پہنے باہرنکلی ۔ راوی نے بیان کیا کہ پھر اسے ایک یہودی نے پتھر سے ماردیا ۔ جب اسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لایا گیا تو ابھی اس میں جان باقی تھی ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا تمہیں فلاں نے مارا ہے ؟ اس پر لڑکی نے اپنا سر ( انکار کے لیے ) اٹھایا پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا تمہیں فلاں نے مارا ہے ؟ لڑکی نے اس پر بھی اٹھایا ۔ تیسری مرتبہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا فلاں نے تمہیں مارا ہے ؟ اس پر لڑکی نے اپنا سر نیچے کی طرف جھکالیا ( اقرار کرتے ہوئے جھکالیا ) چنانچہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص کو بلایا تب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو پتھروں سے کچل کر اسے قتل کرایا ۔
Narrated `Abdullah رضی اللہ عنہ :
Allah's Messenger (ﷺ) said, "The blood of a Muslim who confesses that none has the right to be worshipped but Allah and that I am His Apostle, cannot be shed except in three cases: In Qisas for murder, a married person who commits illegal sexual intercourse and the one who reverts from Islam (apostate) and leaves the Muslims."
ہم سے عمر بن حفص نے بیان کیا ، کہا ہم سے میرے والد نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم سے اعمش نے بیان کیا ، ان سے عبداللہ بن مرہ نے بیان کیا ، ان سے مسروق نے بیان کیا اور ان سے عبداللہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کسی مسلمان کا خون جو کلمہ لا الہٰ الا اللہ محمد رسول اللہ کا ماننے والا ہو حلال نہیں ہے البتہ تین صورتوں میں جائز ہے ۔ جان کے بدلہ جان لینے والا ، شادی شدہ ہو کر زنا کرنے والا اور اسلام سے نکل جانے والا ( مرتد ) جماعت کو چھوڑ دینے والا ۔
Narrated Anas رضی اللہ عنہ :
A Jew killed a girl so that he may steal her ornaments. He struck her with a stone, and she was brought to the Prophet (ﷺ) while she was still alive. The Prophet (ﷺ) asked her, "Did such-and-such person strike you?" She gestured with her head, expressing denial. He asked her for the second time, and she again gestured with her head, expressing denial. When he asked her for the third time, she beckoned, "Yes." So the Prophet (ﷺ) killed him (the Jew) with two stones.
ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا ، کہا ہم سے محمد بن جعفر نے بیان کیا ، ان سے شعبہ نے بیان کیا ، ان سے ہشام بن زید اور ان سے حضرت انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ
ایک یہودی نے ایک لڑکی کو اس کے چاندی کے زیور کے لالچ میں مارڈالا تھا ۔ اس نے لڑکی کو پتھر سے مارا پھر لڑکی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لائی گئی تو اس کے جسم میں جان باقی تھی ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کیا تمہیں فلاں نے مارا ہے ؟ اس نے سر کے اشارہ سے انکار کیا ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے دوبارہ پوچھا ، کیا تمہیں فلاں نے مارا ہے ؟ اس مرتبہ بھی اس نے سر کے اشارے سے انکار کیا ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے جب تیسری مرتبہ پوچھا تو اس نے سر کے اشارہ سے اقرار کیا ۔ چنانچہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے یہودی کو دوپتھروں میں کچل کر قتل کر دیا ۔
Narrated Abu Huraira رضی اللہ عنہ :
Banu Khauzaah slew a man. Abu Salamah has reported from Hadrat Abu Hurairah رضی اللہ عنہ that Banu Khuzaah slew a man belonging to Banu Laith in the year of the Conquest of Mecca, the tribe of Khuza`a killed a man from the tribe of Bam Laith in revenge for a killed person belonging to them in the Pre-lslamic Period of Ignorance. So Allah's Apostle got up saying, "Allah held back the (army having) elephants from Mecca, but He let His Apostle and the believers overpower the infidels (of Mecca). Beware! (Mecca is a sanctuary)! Verily! Fighting in Mecca was not permitted for anybody before me, nor will it be permitted for anybody after me; It was permitted for me only for a while (an hour or so) of that day. No doubt! It is at this moment a sanctuary; its thorny shrubs should not be uprooted; its trees should not be cut down; and its Luqata (fallen things) should not be picked up except by the one who would look for its owner. And if somebody is killed, his closest relative has the right to choose one of two things, i.e., either the Blood money or retaliation by having the killer killed." Then a man from Yemen, called Abu Shah, stood up and said, "Write that) for me, O Allah's Messenger (ﷺ)!" Allah's Messenger (ﷺ) said (to his companions), "Write that for Abu Shah." Then another man from Quraish got up, saying, "O Allah's Messenger (ﷺ)! Except Al- Idhkhir (a special kind of grass) as we use it in our houses and for graves." Allah's Messenger (ﷺ) said, "Except Al-idhkkir."id has reported from Shaiban about '' '' likewise. Some people have reported the word '' from Abu Noaim. Obaidullah has said: Or retaliation will be taken for the inheritots of the slain.
ہم سے ابونعیم نے بیان کیا ، کہا ہم سے شیبان نحوی نے ، ان سے یحییٰ نے ، ان سے ابوسلمہ نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ
قبیلہ خزاعہ کے لوگوں نے ایک آدمی کو قتل کر دیا تھا ۔ اور عبداللہ بن رجاء نے کہا ، ان سے حرب بن شداد نے ، ان سے یحییٰ بن ابی کثیر نے ، ان سے ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن نے بیان کیا اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ فتح مکہ کے موقع پر قبیلہ خزاعہ نے بنی لیث کے ایک شخص ( ابن اثوع ) کو اپنے جاہلیت کے مقتول کے بدلہ میں قتل کر دیا تھا ۔ اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوے اور فرمایا اللہ تعالیٰ نے مکہ مکرمہ سے ہاتھیوں کے ( شاہ یمن ابرہہ کے ) لشکر کو روک دیا تھا لیکن اس نے اپنے رسول اور مومنوں کو اس پر غلبہ دیا ۔ ہاں یہ مجھ سے پہلے کسی کے لیے حلال نہیں ہوا تھا اور نہ میرے بعد کسی کے لیے حلال ہو گا اور میرے لیے بھی دن کو صرف ایک ساعت کے لیے ۔ اب اس وقت سے اس کی حرمت پھر قائم ہو گئی ۔ ( سن لو ) اس کا کانٹانہ اکھاڑا جائے ، اس کا درخت نہ تراشا جائے اور سوا اس کے جو اعلان کرنے کا ارادہ رکھتا ہے کوئی بھی یہاں کی گری ہوئی چیز نہ اٹھائے اور دیکھو جس کا کوئی عزیز قتل کر دیا جائے تو اسے دو باتوں میں اختیار ہے یا اسے اس کا خون بہادیا جائے یا قصاص دیا جائے ۔ یہ وعظ سن کر اس پر ایک یمنی صاحب ابوشاہ نامی کھڑے ہوئے اور کہا یا رسول اللہ ! اس وعظ کو میرے لیے لکھوادیجئیے ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ وعظ ابوشاہ کے لیے لکھ دو ۔ اس کے بعد قریش کے ایک صاحب عباس رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور کہا یا رسول اللہ اذخر گھاس کی اجازت فرما دیجئیے کیونکہ ہم اسے اپنے گھروں میں اور اپنی قبروں میں بچھاتے ہیں ۔ چنانچہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اذخر گھاس اکھاڑنے کی اجازت دے دی ۔ اور اس روایت کی متابعت عبیداللہ نے شیبان کے واسطہ سے ہاتھوں کے واقعہ کے ذکر کے سلسلہ میں کی ۔ بعض نے ابونعیم کے حوالہ سے ” القتل “ کا لفظ روایت کا ہے اور عبیداللہ نے بیان کیا کہ یا مقتول کے گھر والوں کو قصاص دیا جائے ۔
Narrated Ibn `Abbas رضی اللہ عنہما :
For the children of Israel the punishment for crime was Al-Qisas only (i.e., the law of equality in punishment) and the payment of Blood money was not permitted as an alternate. But Allah said to this nation (Muslims): 'O you who believe! Qisas is prescribed for you in case of murder, .....(up to) ...end of the Verse. (2.178) Ibn `Abbas added: Remission (forgiveness) in this Verse, means to accept the Blood-money in an intentional murder. Ibn `Abbas added: The Verse: 'Then the relatives should demand Blood-money in a reasonable manner.' (2.178) means that the demand should be reasonable and it is to be compensated with handsome gratitude.
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا ، ان سے عمرو بن دینار نے بیان کیا ، ان سے مجاہد بن جبیر نے بیان کیا ، اور ان سے حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ
بنی اسرائیل میں صرف قصاص کا رواج تھا ، دیت کی صورت نہیں تھی ۔ پھر اس امت کے لیے یہ حکم نازل ہوا کہ کتب علیکم القصاص فی القتلیٰ الخ ، ( سورۃ البقرہ ) ابن عباس نے کہا فمن عفی لہ سے یہی مراد ہے کہ مقتول کے وارث قتل عمد میں دیت پر راضی ہو جائیں اور اتباع بالمعروف سے یہ مراد ہے کہ مقتول کے وارث دستور کے موافق قاتل سے دیت کا تقاضا کرتے وآداء الیہ باحسان سے یہ مراد ہے کہ قاتل اچھی طرح خوش دلی سے دیت ادا کرے ۔