Narrated Kharija bin Zaid bin Thabit:
Um Al-`Ala رضی اللہ عنہا an Ansari woman who had given a pledge of allegiance to Allah's Messenger (ﷺ) told me:, "The Muhajirln (emigrants) were distributed amongst us by drawing lots, and we got `Uthman bin Maz'un رضی اللہ عنہ in our share. We made him stay with us in our house. Then he suffered from a disease which proved fatal. When he died and was given a bath and was shrouded in his clothes. Allah's Messenger (ﷺ) came, I said, (addressing the dead body), 'O Aba As-Sa'ib! May Allah be Merciful to you! I testify that Allah has honored you.' Allah's Messenger (ﷺ) said, 'How do you know that Allah has honored him?" I replied, 'Let my father be sacrificed for you, O Allah's Messenger (ﷺ)! On whom else shall Allah bestow. His honor?' Allah's Messenger (ﷺ) said, 'As for him, by Allah, death has come to him. By Allah, I wish him all good (from Allah). By Allah, in spite of the fact that I am Allah's Messenger (ﷺ), I do not know what Allah will do to me.", Um Al-`Ala added, "By Allah, I will never attest the righteousness of anybody after that."
ہم سے سعید بن عفیر نے بیان کیا ‘ کہا مجھ سے لیث بن سعد نے بیان کیا ‘ کہا مجھ سے عقیل نے بیان کیا ‘ ان سے ابن شہاب نے ‘ انہیں خارجہ بن ثابت نے خبر دی ‘
انہیں ام علاء رضی اللہ عنہا نے جو ایک انصاری عورت تھیں جنہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کی تھی خبر دی کہ انہوں نے مہاجرین کے ساتھ سلسلہ اخوت قائم کرنے کے لیے قرعہ اندازی کی تو ہمارا قرعہ عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ کے نام نکلا ۔ پھر ہم نے انہیں اپنے گھر میں ٹھہرا یا ۔ اس کے بعد انہیں ایک بیماری ہو گئی جس میں ان کی وفات ہو گئی ۔ جب ان کی وفات ہو گئی تو انہیں غسل دیا گیا اور ان کے کپڑوں کا کفن دیا گیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے ۔ میں نے کہا ابو السائب ( عثمان رضی اللہ عنہ ) تم پر اللہ کی رحمت ہو ‘ تمہارے متعلق میری گواہی ہے کہ تمہیں اللہ نے عزت بخشی ہے ؟ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر فرمایا تمہیں کیسے معلوم ہوا کہ اللہ نے انہیں عزت بخشی ہے ۔ میں نے عرض کیا ‘ میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں یا رسول اللہ ! پھر اللہ کسے عزت بخشے گا ؟ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جہاں تک ان کا تعلق ہے تو یقینی چیز ( موت ) ان پر آ چکی ہے اور اللہ کی قسم میں بھی ان کے لیے بھلائی کی امید رکھتا ہوں اور اللہ کی قسم میں رسول اللہ ہونے کے باوجود حتمی طور پر نہیں جانتا کہ میرے ساتھ کیا کیا جائے گا ۔ انہوں نے اس کے بعد کہا کہ اللہ کی قسم اس کے بعد میں کبھی کسی کی برات نہیں کروں گی ۔
Narrated Az-Zuhri:
Regarding the above narration, The Prophet (ﷺ) said, "I do not know what Allah will do to him (Uthman bin Maz'un رضی اللہ عنہ )." Um Al-`Ala said, "I felt very sorry for that, and then I slept and saw in a dream a flowing spring for `Uthman bin Maz'un رضی اللہ عنہ , and told Allah's Messenger (ﷺ) of that, and he said, "That flowing spring symbolizes his good deeds."
ہم سے ابو الیمان نے بیان کیا ‘ کہا ہم کو شعیب نے خبر دی اور انہیں زہری نے یہی حدیث بیان کی اور بیان کیا کہ
( آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ) میں نہیں جانتا کہ میرے ساتھ کیا کیا جائے گا ۔ انہوں نے بیان کیا کہ اس کا مجھے رنج ہوا ۔ ( کہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے متعلق کوئی بات یقین کے ساتھ معلوم نہیں ہے ) چنانچہ میں سو گئی اور میں نے خواب میں دیکھا کہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے لیے ایک جاری چشمہ ہے ۔ میں نے اس کی اطلاع آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو دی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ ان کا نیک عمل ہے ۔
Narrated Abu Qatada Al-Ansari رضی اللہ عنہ :
(a companion of the Prophet (ﷺ) and one of his cavalry men) "I heard Allah's Messenger (ﷺ) saying, "A good dream is from Allah, and a bad dream is from Satan; so, if anyone of you had a bad dream which he disliked, then he should spit on his left and seek refuge with Allah from it, for it will not harm him."
ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے لیث نے بیان کیا ‘ ان سے عقیل نے ‘ ان سے ابن شہاب نے ‘ ان سے ابوسلمہ نے اور ان سے حضرت ابوقتادہ انصاری رضی اللہ عنہ نے جو
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی اور آپ کے شہسوار وں میں سے تھے ۔ انہوں نے بیان کیا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ نے فرمایا کہ اچھے خواب اللہ کی طرف سے ہوتے ہیں اور برے شیطان کی طرف سے پس تم میں جو کوئی برا خواب دیکھے جو اسے ناپسند ہو تو اس چاہئے کہ اپنی بائیں طرف تھوکے اور اس سے اللہ کی پناہ مانگے وہ اسے ہرگز نقصان نہیں پہنچا سکے گا ۔
Narrated Ibn `Umar رضی اللہ عنہما :
I heard Allah's Messenger (ﷺ) saying, "While I was sleeping, I was given a bowl full of milk (in a dream), and I drank of it to my fill until I noticed its wetness coming out of my nails, and then I gave the rest of it to `Umar رضی اللہ عنہ." They (the people) asked, "What have you interpreted (about the dream)? O Allah's Apostle?" He said, "(It is Religious) knowledge."
ہم سے عبدان نے بیان کیا ‘ کہا ہم کو یونس نے خبر دی ‘ انہیں زہری نے ‘ انہیں حمزہ ابن عبداللہ نے خبر دی ‘ ان سے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ
میں نے رسول اللہ کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ‘ آپ نے فرمایا کہ میں سویا ہوا تھا کہ میرے پاس دودھ کا ایک پیالہ لایا گیا اور میں نے اس کا دودھ پیا ۔ یہاں تک کہ اس کی سیرابی کا اثر میں نے اپنے ناخنوں میں ظاہر ہوتا دیکھا ۔ اس کے بعد میں نے اس کا بچا ہوا دے دیا ۔ آپ کا اشارہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی طرف تھا ۔ صحابہ نے پوچھا آپ نے اس کی تعبیر کیا کی یا رسول اللہ ؟ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ علم ۔
Narrated `Abdullah bin `Umar رضی اللہ عنہما :
Allah's Messenger (ﷺ) said, "While I was sleeping, I was given a bowl full of milk (in the dream) and I drank from it (to my fill) till I noticed its wetness coming out of my limbs. Then I gave the rest of it to `Umar bin Al-Khattab رضی اللہ عنہ ." The persons sitting around him, asked, "What have you interpreted (about the dream) O Allah's Messenger (ﷺ)?" He said, "(It is religious) knowledge."
ہم سے علی بن عبداللہ نے بیان کیا ‘ ان سے یعقوب بن ابراہیم نے بیان کیا ‘ کہا ان سے میرے والد ابراہیم بن سعد نے بیان کیا ‘ ان سے صالح نے ‘ ان سے ابن شہاب نے ‘ ان سے حمزہ بن عبداللہ بن عمر نے بیان کیا اور انہوں نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے سنا ‘ کہا کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ‘ میں سویا ہوا تھا کہ میرے پاس دودھ کا ایک پیالہ لایا گیا اور میں نے اس میں سے پیا ‘ یہاں تک کہ میں نے سیرابی کا اثر اپنے اطراف میں نما یاں دیکھا ۔ پھر میں نے ا سکا بچا ہوا حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو دیا جو صحابہ وہاں موجود تھے ‘ انہوں نے پوچھا کہ یا رسول اللہ ( صلی اللہ علیہ وسلم ) آپ نے اس کی تعبیر کیا کی ؟ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ علم مراد ہے ۔
Narrated Abu Sa`id Al-Khudri رضی اللہ عنہ :
Allah's Messenger (ﷺ) said, "While I was sleeping, some people were displayed before me (in a dream). They were wearing shirts, some of which were merely covering their breasts, and some a bit longer. Then there passed before me, `Umar bin Al-Khattab رضی اللہ عنہ wearing a shirt he was dragging it (on the ground behind him.)" They (the people) asked, "What have you interpreted (about the dream) O Allah's Apostle?" He said, "The Religion."
ہم سے علی بن عبداللہ نے بیان کیا ‘ ان سے یعقوب بن ابراہیم نے بیان کیا ‘ ان سے ان کے والد نے ‘ ان سے صالح نے ‘ ان سے ابن شہاب نے بیان کیا ‘ان سے ابوامامہ بن سہل نے بیان کیا ‘ انہوں نے ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کو بیان کرتے سنا کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں سویا ہوا تھا کہ میں نے دیکھا کہ لوگ میرے سامنے پیش کئے جا رہے ہیں وہ قمیص پہنے ہوئے ہیں ۔ ان میں بعض کی قمیص تو صرف سینے تک کی ہے اور بعض کی اس سے بڑی ہے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس سے گزرے تو ان کی قمیص زمین سے گھسٹ رہی تھی ۔ صحابہ نے پوچھا یا رسول اللہ ! آپ نے اس کی کیا تعبیر کی ؟ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ دین ۔
Narrated Abu Sa`id Al-Khudri رضی اللہ عنہ :
I heard Allah's Messenger (ﷺ) saying, "While I was sleeping, I saw (in a dream) the people being displayed before me, wearing shirts, some of which (were so short that it) reached as far as their breasts and some reached below that. Then `Umar bin Al-Khattab رضی اللہ عنہ was shown to me and he was wearing a shirt which he was dragging (behind him)." They asked. What have you interpreted (about the dream)? O Allah's Messenger (ﷺ)?" He said, "The religion."
ہم سے سعید بن عفیر نے بیان کیا ‘ کہا مجھ سے لیث بن سعد نے بیان کیا ‘ کہا مجھ سے عقیل نے بیان کیا ‘ کہا ان سے ابن شہاب نے ‘ کہا مجھ کو ابوامامہ بن سہل نے خبر دی اور ان سے حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ‘ آپ نے فرمایا کہ میں سویا ہوا تھا کہ میں نے لوگوں کو اپنے سامنے پیش ہوتے دیکھا ۔ وہ قمیص پہنے ہوئے تھے‘ان میں بعض کی قمیص تو سینے تک کی تھی اور بعض کی اس سے بڑی تھی اور میرے سامنے حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ پیش کئے گئے تو ان کی قمیص ( زمین سے ) گھسٹ رہی تھی ۔ صحابہ نے پوچھا یا رسول اللہ ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی تعبیر کیا کی ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ دین اس کی تعبیر ہے ۔
Narrated Qais bin 'Ubada:
I was sitting in a gathering in which there was Sa`d bin Malik and Ibn `Umar رضی اللہ عنہما . `Abdullah bin Salam رضی اللہ عنہ passed in front of them and they said, "This man is from the people of Paradise." I said to `Abdullah bin Salam, "They said so-and-so." He replied, "Subhan Allah! They ought not to have said things of which they have no knowledge, but I saw (in a dream) that a post was fixed in a green garden. At the top of the post there was a handhold and below it there was a servant. I was asked to climb (the post). So I climbed it till I got hold of the handhold." Then I narrated this dream to Allah's Messenger (ﷺ). Allah's Apostle said, "`Abdullah will die while still holding the firm reliable handhold (i.e., Islam).
ہم سے عبداللہ بن محمد الجعفی نے بیان کیا ‘ انہوں نے کہا ہم سے حرمی بن عمارہ نے بیان کیا ‘انہوں نے کہا ہم سے قرہ بن خالد نے بیان کیا ‘ ان سے محمد بن سیرین نے بیان کیا ‘ ان سے قیس بن عباد نے بیان کیا کہ
میں ایک حلقہ میں بیٹھا تھا جس میں حضرت سعد بن مالک اور حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیٹھے ہوئے تھے ۔ وہاں سے حضرت عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ گزرے تو لوگوں نے کہا کہ یہ اہل جنت میں سے ہیں ۔ میں نے ان سے کہا کہ وہ اس طرح کی بات کہہ رہے ہیں ۔ آپ نے فرمایا سبحان اللہ ان کے لیے مناسب نہیں کہ وہ ایسی بات کہیں جس کا انہیں علم نہیں ہے ۔ میں نے خواب میں دیکھا تھا کہ ایک ستون ایک ہرے بھرے باغ میں نصب کیا ہوا ہے اس ستون کے اوپر کے سرے پر ایک حلقہ ( عروہ ) لگا ہوا تھا اور نیچے منصف تھا ۔ منصف سے مراد خادم ہے پھر کہا گیا کہ اس پر چڑھ جاؤ میں چڑھ گیا اور میں نے حلقہ پکڑ لیا ‘ پھر میں نے اس کا تذکرہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا تو آپ نے فرمایا کہ عبداللہ کا جب انتقال ہو گیا تو وہ العروۃ الوثقیٰ کو پکڑے ہوئے ہوں گے ۔
Narrated `Aisha رضی اللہ عنہا :
Allah's Messenger (ﷺ) said (to me), "You were shown to me twice in (my) dream. Behold, a man was carrying you in a silken piece of cloth and said to me, "She is your wife, so uncover her,' and behold, it was you. I would then say (to myself), 'If this is from Allah, then it must happen.' "
ہم سے عبید بن اسماعیل نے بیان کیا ‘ ان سے ابواسامہ نے بیان کیا ‘ ان سے ہشام نے ‘ ان سے ان کے والد نے اور ان سے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ‘ مجھے تم خواب میں دو مرتبہ دکھائی گئیں ۔ ایک شخص تمہیں ریشم کے ایک ٹکڑے میں اٹھائے لیے جا رہا تھا ‘اس نے مجھ سے کہا کہ یہ آپ کی بیوی ہیں ‘ ان کے ( چہرے سے ) پردہ ہٹاؤ ۔ میں نے پردہ اٹھایا کہ وہ تمہیں تھیں ۔ میں نے سوچا کہ اگر یہ خواب اللہ کی طرف سے ہے تو وہ خود ہی انجام تک پہنچائے گا ۔
Narrated `Aisha رضی اللہ عنہا :
Allah's Messenger (ﷺ) said to me, "You were shown to me twice (in my dream) before I married you. I saw an angel carrying you in a silken piece of cloth, and I said to him, 'Uncover (her),' and behold, it was you. I said (to myself), 'If this is from Allah, then it must happen.' Then you were shown to me, the angel carrying you in a silken piece of cloth, and I said (to him), 'Uncover (her), and behold, it was you. I said (to myself), 'If this is from Allah, then it must happen.' "
ہم سے محمد نے بیان کیا ‘ کہا ہم کو ابومعاویہ نے خبر دی ‘ کہا ہم کو ہشام نے خبر دی ‘ انہیں ان کے والد نے اور ان سے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم سے شادی کرنے سے پہلے مجھے تم دو مرتبہ دیکھائی گئیں ‘ میں نے دیکھا کہ ایک فرشتہ تمہیں ریشم کے ایک ٹکڑے میں اٹھائے ہوئے ہے ۔ میں نے اس سے کہا کہ کھولو اس نے کھولا تو وہ تم تھیں ۔ میں نے کہا کہ اگر یہ اللہ کے پاس سے ہے تو وہ خود ہی اسے انجام تک پہنچائے گا ۔ پھر میں نے تمہیں دیکھا کہ فرشتہ تمہیں ریشم کے ایک ٹکڑے میں اٹھائے ہوئے ہے ۔ میں نے کہا کہ کھولو ! اس نے کھولا تو اس میں تم تھیں ۔ پھر میں نے کہا کہ یہ تو اللہ کی طرف سے ہے جو ضرور پورا ہو گا ۔
Narrated Abu Huraira رضی اللہ عنہ :
I heard Allah's Messenger (ﷺ) saying, "I have been sent with Jawami al-Kalim (i.e., the shortest expression carrying the widest meanings), and I was made victorious with awe (caste into the hearts of the enemy), and while I was sleeping, the keys of the treasures of the earth were brought to me and were put in my hand." Muhammad said, Jawami'-al-Kalim means that Allah expresses in one or two statements or thereabouts the numerous matters that used to be written in the books revealed before (the coming of) the Prophet (ﷺ) .
ہم سے سعید بن عفیر نے بیان کیا ‘ انہوں نے کہا ہم سے لیث نے بیان کیا ‘ ان سے عقیل نے بیان کیا ‘ ان سے ابن شہاب نے بیان کیا ‘ انہیں سعید بن مسیب نے خبر دی اور ان سے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ‘آپ نے فرمایا کہ میں جوامع الکلم کے ساتھ مبعوث کیا گیا ہوں اور میری مدد رعب کے ذریعہ کی گئی ہے اور میں سویا ہوا تھا کہ زمین کے خزانوں کی کنجیاں میرے پاس لائی گئیں اور میرے ہاتھ میں انہیں رکھ دیا گیا اور محمد نے بیان کیا کہ مجھ تک یہ بات پہنچی ہے کہ ” جوامع الکلم “ سے مراد یہ ہے کہ بہت سے امور جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے کتابوں میں لکھے ہوئے تھے ‘ ان کو اللہ تعالیٰ نے ایک یا دو امور یا اسی جیسے میں جمع کر دیا ہے ۔
Narrated `Abdullah bin Salam رضی اللہ عنہ :
(In a dream) I saw myself in a garden, and there was a pillar in the middle of the garden, and there was a handhold at the top of the pillar. I was asked to climb it. I said, "I cannot." Then a servant came and lifted up my clothes and I climbed (the pillar), and then got hold of the handhold, and I woke up while still holding it. I narrated that to the Prophet (ﷺ) who said, "The garden symbolizes the garden of Islam, and the handhold is the firm Islamic handhold which indicates that you will be adhering firmly to Islam until you die."
مجھ سے عبداللہ بن محمد نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے ازہر نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے ابن عون نے ( دوسری سند ) حضرت امام بخاری نے کہا کہ اور مجھ سے خلیفہ نے بیان کیا ‘ ان سے معاذ نے بیان کیا ‘ ان سے ابن عون نے بیان کیا ‘ ان سے محمد نے ‘ ان سے قیس بن عباد نے بیان کیا اور ان سے حضرت عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ
میں نے ( خواب ) دیکھا کہ گویا میں ایک باغ میں ہوں اور باغ کے بیچ میں ایک ستون ہے جس کے اوپر کے سرے پر ایک حلقہ ہے ۔ کہا گیا کہ اس پر چڑھ جاؤ ۔ میں نے کہا کہ میں اس کی طاقت نہیں رکھتا ۔ پھر میرے پاس خادم آیا اور اس نے میرے کپڑے چڑھا دئیے پھر میں اوپر چڑھ گیا اور میں نے حلقہ پکڑ لیا ‘ ابھی میں اسے پکڑے ہی ہوئے تھا کہ آنکھ کھل گئی ۔ پھر میں نے اس کا ذکر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا تو آپ نے فرمایا کہ وہ باغ اسلام کا باغ تھا اور وہ ستون اسلام کا ستون تھا اور وہ حلقہ عروۃ الوثقیٰ تھا ۔ تم ہمیشہ اسلام پر مضبوطی سے جمے رہو گے یہاں تک کہ تمہاری وفات ہو جائے گی ۔
Narrated Ibn `Umar رضی اللہ عنہما :
I saw in a dream a piece of silken cloth in my hand, and in whatever direction in Paradise I waved it, it flew, carrying me there. I narrated this (dream) to (my sister) Hafsa رضی اللہ عنہا and she told it to the Prophet (ﷺ) who said, (to Hafsa رضی اللہ عنہا ), "Indeed, your brother is a righteous man," or, "Indeed, `Abdullah is a righteous man."
ہم سے معلی بن اسد نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے وہیب نے بیان کیا ‘ ان سے ایوب نے ‘ ان سے نافع نے اور ان سے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ
میں نے خواب میں دیکھا کہ گویا میرے ہاتھ میں ریشم کا ایک ٹکڑا ہے اور میں جنت میں جس جگہ جانا چاہتا ہوں وہ مجھے اڑا کر وہاں پہنچا دیتا ہے ۔ میں نے اس کا ذکر حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا سے کیااور اس نے یہ بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہی، آپ نے (حفصہ رضی اللہ عنہا سے) کہا، "بے شک، تمہارا بھائی نیک آدمی ہے" یا، "بیشک عبداللہ صالح آدمی ہے۔"
Narrated Abu Huraira رضی اللہ عنہ :
Allah's Messenger (ﷺ) said, "When the Day of Resurrection approaches, the dreams of a believer will hardly fail to come true, and a dream of a believer is one of forty-six parts of prophetism, and whatever belongs to prothetism can never be false." Muhammad bin Seereen said, "But I say this." He said, "It used to be said, 'There are three types of dreams: The reflection of one's thoughts and experiences one has during wakefulness, what is suggested by Satan to frighten the dreamer, or glad tidings from Allah. So, if someone has a dream which he dislikes, he should not tell it to others, but get up and offer a prayer." He added, "He (Abu Huraira رضی اللہ عنہ ) hated to see a Ghul (i.e., iron collar around his neck in a dream) and people liked to see fetters (on their feet in a dream). The fetters on the feet symbolizes one's constant and firm adherence to religion." And Abu `Abdullah said, "Ghuls (iron collars) are used only for necks."
ہم سے عبداللہ بن صباح نے بیان کیا ‘ انہوں نے کہا ہم سے معتمر نے بیان کیا ‘ انہوں نے کہا میں نے عوف سے سنا ‘ ان سے محمد بن سیرین نے بیان کیا ‘ انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا ‘ انہوں نے بیان کیا کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب قیامت قریب ہو گی تو مومن کا خواب جھوٹا نہیں ہو گا اور مومن کا خواب نبوت کے چھیالیس حصوں میں سے ایک حصہ ہے ۔ محمد بن سیرین رحمہ اللہ ( جو کہ علم تعبیر کے بہت بڑے عالم تھے ) نے کہا کہ نبوت کا حصہ جھوٹ نہیں ہو سکتا ۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے تھے کہ خواب تین طرح کے ہیں ۔ دل کے خیالات ‘ شیطان کا ڈرانا اور اللہ کی طرف سے خوشخبری ۔ پس اگر کوئی شخص خواب میں بری چیز دیکھتا ہے تو اسے چاہئیے کہ اس کا ذکر کسی سے نہ کرے اور کھڑا ہو کر نماز پڑھنے لگے محمد بن سیرین نے کہا کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ خواب میں طوق کو ناپسند کرتے تھے اور قید دیکھنے کو اچھا سمجھتے تھے اور کہا گیا ہے کہ قید سے مراد دین میں ثابت قدمی ہے ۔ اور قتادہ ‘ یونس ‘ ہشام اور ابوہلال نے ابن سیرین سے نقل کیا ہے ‘ انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے ‘ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ۔ اور بعض نے یہ ساری روایت حدیث میں شمار کی ہے لیکن عوف کی روایت زیادہ واضح ہے اور یونس نے کہا کہ قید کے بارے میں روایت کو میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث ہی سمجھتا ہوں ۔ ابوعبداللہ حضرت امام بخاری نے کہا کہ طوق ہمیشہ گردنوں ہی میں ہوتے ہیں ۔
Narrated Kharija bin Zaid bin Thabit:
Um Al-`Ala an Ansari رضی اللہ عنہا woman who had given the Pledge of allegiance to Allah's Messenger (ﷺ) said, "`Uthman bin Maz'un رضی اللہ عنہا came in our share when the Ansars drew lots to distribute the emigrants (to dwell) among themselves, He became sick and we looked after (nursed) him till he died. Then we shrouded him in his clothes. Allah's Messenger (ﷺ) came to us, I (addressing the dead body) said, "May Allah's Mercy be on you, O Aba As-Sa'ib! I testify that Allah has honored you." The Prophet (ﷺ) said, 'How do you know that?' I replied, 'I do not know, by Allah.' He said, 'As for him, death has come to him and I wish him all good from Allah. By Allah, though I am Allah's Messenger (ﷺ), I neither know what will happen to me, nor to you.'" Um Al-`Ala said, "By Allah, I will never attest the righteousness of anybody after that." She added, "Later I saw in a dream, a flowing spring for `Uthman رضی اللہ عنہا `. So I went to Allah's Messenger (ﷺ) and mentioned that to him. He said, 'That is (the symbol of) his good deeds (the reward for) which is going on for him.' "
ہم سے عبد ان نے بیان کیا ‘ کہا ہم کو عبداللہ نے خبر دی ‘ کہا ہم کو معمر نے خبر دی ‘ انہیں زہری نے ‘ انہیں خارجہ بن زید بن ثابت نے اور ان سے
حضرت ام علاء رضی اللہ عنہا نے بیان کیا جو انہیں کی ایک خاتون ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کی تھی ۔ انہوں نے بیان کیا کہ جب انصار نے مہاجرین کے قیام کے لیے قرعہ اندازی کی تو حضرت عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ کا نام ہمارے یہاں ٹھہرنے کے لیے نکلا ۔ پھر وہ بیمار پڑ گئے ‘ ہم نے ان کی تیمارداری کی لیکن ا ن کی وفات ہو گئی ۔ پھر ہم نے انہیں ان کے کپڑوں میں لپیٹ دیا ۔ اس کے بعد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے گھر تشریف لائے تو میں نے کہا ابو السائب ! تم پر اللہ کی رحمتیں ہوں ‘ میری گواہی ہے کہ تمہیں اللہ تعالیٰ نے عزت بخشی ہے ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تمہیں یہ کیسے معلوم ہوا ؟ میں نے عرض کیا اللہ کی قسم مجھے معلوم نہیں ہے ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے بعد فرمایا کہ جہاں تک ان کا تعلق ہے تو یقینی بات ( موت ) ان تک پہنچ چکی ہے اور میں اللہ سے ان کے لیے خیر کی امید رکھتا ہوں لیکن اللہ کی قسم میں رسول اللہ ہوں اور اس کے باوجود مجھے معلوم نہیں کہ میرے ساتھ کیا معاملہ کیا جائے گا ۔ ام العلاء نے کہا کہ واللہ ! اس کے بعد میں کسی انسان کی پاکی نہیں بیان کروں گی ۔ انہوں نے بیان کیا کہ میں نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے لیے خواب میں ایک جاری چشمہ دیکھا تھا ۔ چنانچہ میں نے حاضر ہو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا ذکر کیا تو آپ نے فرمایا کہ یہ ان کا نیک عمل ہے جس کا ثواب ان کے لیے جاری ہے ۔
Narrated Ibn `Umar رضی اللہ عنہما :
Allah's Messenger (ﷺ) said, "(I saw in a dream that) while I was standing at a well and drawing water therefrom, suddenly Abu Bakr and `Umar came to me. Abu Bakr took the bucket and drew one or two buckets (full of water), but there was weakness in his pulling, but Allah forgave him. Then Ibn Al- Khattab took the bucket from Abu Bakr's hand and the bucket turned into a very large one in his hand. I have never seen any strong man among the people doing such a hard job as `Umar did, till (the people drank to their satisfaction) and water their camels to their fill and they sat near the water."
ہم سے یعقوب بن ابراہیم بن کثیر نے بیان کیا ، کہا ہم سے شعیب بن حرب نے بیان کیا ، کہا ہم سے صخربن جویریہ نے بیان کیا ، کہا ہم سے نافع نے بیان کیا اور ان سے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ
رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ( خواب میں ) میں ایک کنویں سے پانی کھینچ رہا تھا کہ حضرت ابوبکر اور عمر بھی آ گئے ۔ اب ابوبکرنے ڈول لے لیا اور ایک یا دو ڈول پانی کھینچا ۔ ان کے کھینچنے میں کمزوری تھی ۔ اللہ تعالیٰ ان کی مغفرت کرے آمین ۔ اس کے بعد عمر بن الخطاب نے اسے ابوبکر کے ہاتھ سے لے لیا اور وہ ڈول ان کے ہاتھ میں بڑا ڈول بن گیا ۔ میں نے عمر جیسا پانی کھینچنے میں کسی کو ماہر نہیں دیکھا ۔ انہوں نے خوب پانی نکالا یہاں تک کہ لوگوں نے اونٹوں کے لیے پانی سے حوض بھرلیے ۔
Narrated Salim's father:
Dream of the prophet which is about Hadrat Abu Bakr and Hadrat Umer رضی اللہ عنہما . The prophet ﷺ said: I saw the people assembled, so Hadrat Abu Bakr رضی اللہ عنہ got up and he drew one bucketful or two and there was a bit weakness in his drawing water for which Allah will pardon him. Ibn-e-Khattab رضی اللہ عنہ then got up and that bucket turned into a huge bucket in his hand. I have never seen any such a stout man amongst the people drawing water out as he did, until the people got their camels satiated and then made them kneel down at the place where they rest.
ہم سے احمد بن یونس نے بیان کیا ، کہا ہم سے زہیر نے بیان کیا ، کہا ہم سے موسیٰ نے بیان کیا ، ان سے سالم نے ، ان سے ان کے والد نے کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابوبکرو عمر رضی اللہ عنہما کے خواب کے سلسلے میں فرمایا کہ میں نے لوگوں کو دیکھا کہ جمع ہو گئے ہیں پھر حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور ایک یا دو ڈول پانی کھینچا اور ان کے کھینچنے میں کمزوری تھی ، اللہ ان کی مغفرت کرے ۔ پھر حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور وہ بڑا ڈول بن گیا ۔ میں نے لوگوں میں سے کسی کو اتنی مہارت کے ساتھ پانی نکالتے نہیں دیکھا یہاں تک کہ لوگوں نے حوض بھرلیے ۔
Narrated Abu Huraira رضی اللہ عنہ :
Allah's Messenger (ﷺ) said, "While I was sleeping, I saw myself standing at a well over which there was a bucket. I pulled out from it as many buckets of water as Allah wished, and then Ibn Abi Quhafa (Abu Bakr) took the bucket from me and pulled out one or two full buckets, and there was weakness in his pull--may Allah forgive him. Then the bucket turned into a very large one and `Umar bin Al-Khattab took it. I have never seen any strong man among the people, drawing water with such strength as `Umar did, till the people (drank to their satisfaction and) watered their camels to their fill; whereupon the camels sat beside the water."
ہم سے سعید بن عفیر نے بیان کیا ، کہا ہم سے لیث بن سعد نے بیان کیا ، کہا کہ مجھ سے عقیل نے بیان کیا ، ان سے ابن شہاب نے ، انہیں سعید نے خبر دی ، انہیں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے خبر دی کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں سویا ہوا تھا کہ میں نے اپنے آپ کو ایک کنویں پر دیکھا ۔ اس پر ایک ڈول تھا ۔ جتنا اللہ نے چاہا میں نے اس میں سے پانی کھینچا ، پھر اس ڈول کو ابن ابی قحافہ نے لے لیا اور انہوں نے بھی ایک یا دو ڈول کھینچنے اور ان کے کھینچنے میں کمزوری تھی ، اللہ ان کی مغفرت کرے پھر وہ بڑا ڈول بن گیا اور اسے عمر بن خطاب نے اٹھا لیا ۔ میں نے کسی ماہر کو عمر بن خطاب کی طرح کھینچتے نہیں دیکھا یہاں تک کہ انہوں نے لوگوں کے لیے اونٹوں کے حوض بھر دئیے ۔ لوگوں نے اپنے اونٹوں کو سیراب کر کے اپنے تھانوں پر لے جا کر بیٹھا دیا ۔
Narrated Abu Huraira رضی اللہ عنہ :
Allah's Messenger (ﷺ) said, "While I was sleeping, I saw myself standing over a tank (well) giving water to the people to drink. Then Abu Bakr came to me and took the bucket from me in order to relieve me and he pulled out one or two full buckets, and there was weakness in his pulling --may Allah forgive him. Then Ibn Al-Khattab took it from him and went on drawing water till the people left (after being satisfied) while the tank was over flowing with water."
ہم سے اسحاق بن ابراہیم نے بیان کیا ، کہا ہمیں عبدالرزاق نے خبر دی ، ان سے معمر نے ، ان سے ہمام نے انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا ، انہوں نے بیان کیا کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں سویا ہوا تھا کہ میں نے خواب دیکھا کہ میں حوض پر ہوں اور لوگوں کو سیراب کر رہا ہوں پھر میرے پاس ابوبکر آئے اور مجھے آرام دینے کے لیے ڈول میرے ہاتھ سے لے لیا پھر انہوں نے دو ڈول کھینچے ان کے کھینچنے میں کمزوری تھی ، اللہ ان کی مغفرت کرے ۔ پھر عمر بن خطاب آئے اور ان سے ڈول لے لیا اور برابر کھینچے رہے یہاں تک کہ لوگ سیراب ہو کر چل دئیے اور حوض سے پانی لبالب ابل رہا تھا ۔
Narrated Abu Huraira رضی اللہ عنہ :
We were sitting with Allah's Messenger (ﷺ), he said, "While I was sleeping, I saw myself in Paradise. Suddenly I saw a woman performing ablution beside a palace. I asked, "For whom is this palace?" They (the angels) replied, "It is for `Umar bin Al-Khattab رضی اللہ عنہ ." Then I remembered `Umar's ghira and went back hurriedly." On hearing that, `Umar رضی اللہ عنہ started weeping and said, " Let my father and mother be sacrificed for you. O Allah's Messenger (ﷺ)! How dare I think of my Ghira being offended by you?
ہم سے سعید بن عفیر نے بیان کیا ، کہا ہم سے لیث بن سعد نے بیان کیا ، کہا مجھ سے عقیل نے بیان کیا ، ان سے ابن شہاب نے بیان کیا کہ مجھے سعید بن مسیب نے خبر دی اور ان سے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ
ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے تھے کہ آپ نے فرمایا میں سویا ہوا تھا کہ میں نے اپنے آپ کو جنت میں دیکھا ۔ میں نے دیکھا کہ جنت کے محل کے ایک کنارے ایک عورت وضو کر رہی ہے ۔ میں نے پوچھا ، یہ محل کس کا ہے ؟ بتایا کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کا ۔ پھر میں نے ان کی غیرت کو یاد کی اور وہاں سے لوٹ گیا ۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ اس پر روپڑے اور عرض کیا یا رسول اللہ ! میرے ماں باپ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر قربان ہوں ، کیا میں آپ پر غیرت کروں گا ؟