Narrated Jabir bin `Abdullah رضی اللہ عنہما :
Allah's Messenger (ﷺ) said: (I saw in a dream that) I entered Paradise, and behold, there was a palace built of gold! I asked, 'For whom is this palace?' They (the angels) replied, 'For a man from the Quraish.' " The Prophet added, "O Ibn Al-Khattab! Nothing stopped me from entering it except your Ghira." `Umar رضی اللہ عنہ said, "How dare I think of my Ghira being offended by you, O Allah's Messenger (ﷺ)?"
ہم سے عمرو بن علی نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم سے معتمر بن سلیمان نے بیان کیا ، ان سے عبیداللہ بن عمر نے بیان کیا ، ان سے محمد بن منکدر نے اور ان سے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں جنت میں داخل ہوا تو وہاں ایک سونے کا محل مجھے نظرآیا ۔ میں نے پوچھا یہ کس کا ہے ؟ کہا کہ قریش کے ایک شخص کا ۔ اے ابن الخطاب ! مجھے اس کے اندر جانے سے تمہاری غیرت نے روک دیا ہے جسے میں خوب جانتا ہوں ۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا یا رسول اللہ ! کیا میں آپ پر غیرت کروں گا ۔
Narrated Abu Huraira رضی اللہ عنہ :
We were sitting with Allah's Messenger (ﷺ) he said, "While I was sleeping, I saw myself in Paradise, and behold, a woman was performing ablution by the side of a palace. I asked, 'For whom is this palace?' They replied, 'For `Umar' Then I remembered the Ghira of `Umar رضی اللہ عنہ and returned immediately." `Umar رضی اللہ عنہ wept (on hearing that) and said, " Let my father and mother be sacrificed for you, O Allah's Messenger (ﷺ)! How dare I think of my Ghira being offended by you.'
مجھ سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا ، کہا ہم سے لیث بن سعد نے بیان کیا ، ان سے عقیل نے ، ان سے ابن شہاب نے ، انہیں سعید بن مسیب نے خبر دی اور ان سے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ
ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں سویا ہوا تھا کہ میں نے اپنے آپ کو جنت میں دیکھا وہاں ایک عورت ایک محل کے کنارے وضو کر رہی تھی ۔ میں نے پوچھا یہ محل کس کا ہے ؟ کہا عمر رضی اللہ عنہ کا ۔ پھر میں نے ان کی غیرت یاد کی اور وہاں سے لوٹ کر چلا آیا ۔ اس پر حضرت عمر رضی اللہ عنہ رو دئیے اور عرض کیا یا رسول اللہ ! میرے ماں باپ آپ پر فدا ہوں ، کیا آپ پر غیرت کروں گا ۔
Narrated `Abdullah bin `Umar رضی اللہ عنہما :
Allah's Messenger (ﷺ) said, "While I was sleeping, I saw myself performing the Tawaf of the Ka`ba. Behold, there I saw a whitish-red lank-haired man (holding himself) between two men with water dropping from his hair. I asked, 'Who is this?' The people replied, 'He is the son of Mary.' Then I turned my face to see another man with red complexion, big body, curly hair, and blind in the right eye which looked like a protruding out grape. I asked, 'Who is he?' They replied, 'He is Ad-Dajjal.' Ibn Qatan resembles him more than anybody else among the people and Ibn Qatan was a man from Bani Al-Mustaliq from Khuza`a."
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم کو شعیب نے خبر دی ، انہیں زہری نے خبر دی ، انہیں سالم بن عبداللہ ابن عمر نے خبر دی ، ان سے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں سویا ہوا تھا کہ میں نے اپنے آپ کو کعبہ کا طواف کرتے دیکھا ۔ اچانک ایک صاحب نظر آئے ، گندم گوں بال لٹکے ہوئے تھے اور دو آدمیوں کے درمیان ( سہارا لیے ہوئے تھے ) ان کے سر سے پانی ٹپک رہا تھا ۔ میں نے پوچھا یہ کون ہیں ؟ کہا کہ عیسیٰ ابن مریم علیہ السلام ، پھر میں مڑا تو ایک دوسرا شخص سرخ ، بھاری جسم والا ، گھنگریالے بال والا اور ایک آنکھ سے کانا جیسے اس کی آنکھ پر خشک انگور ہو نظر آیا ۔ میں نے پوچھا یہ کون ہیں ؟ کہا کہ یہ دجال ہے ۔ اس کی صورت عبدالعزیٰ بن قطن سے بہت ملتی تھی ۔ یہ عبدالعزیٰ بن قطن مطلق میں تھا جو خزاعہ قبیلہ کی ایک شاخ ہے ۔
Narrated `Abdullah bin `Umar رضی اللہ عنہما :
I heard Allah's Messenger (ﷺ) saying, "While I was sleeping, I saw a bowl full of milk was brought to me and I drank of it (to my fill) till I noticed its wetness flowing (in my body). Then I gave the remaining of it to `Umar." They asked, "O Allah's Messenger (ﷺ)! What have you interpreted (about the dream)? He said, "(It is Religious) knowledge." (See Hadith No. 134)
ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا ، کہا ہم سے لیث نے بیان کیا ، ان سے عقیل نے ، ان سے ابن شہاب نے ، انہیں حمزہ بن عبداللہ بن عمر نے خبر دی کہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ
میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ، آپ نے بیان کیا کہ میں سویا ہوا تھا کہ دودھ کا ایک پیالہ میرے پاس لایا گیا اور اس میں سے اتنا پیا کہ سیرابی کو میں نے ہر رگ وپے میں پایا ۔ پھر میں نے اپنا بچا ہوا دودھ عمر کو دے دیا ۔ لوگوں نے پوچھا کہ اے اللہ کے رسول ! آپ نے اس کی تعبیر کیا کی ؟ فرمایا کہ علم اس کی تعبیر ہے ۔
Narrated Ibn `Umar رضی اللہ عنہما :
Men from the companions of Allah's Messenger (ﷺ) used to see dreams during the lifetime of Allah's Messenger (ﷺ) and they used to narrate those dreams to Allah's Messenger (ﷺ). Allah's Messenger (ﷺ) would interpret them as Allah wished. I was a young man and used to stay in the mosque before my wedlock. I said to myself, "If there were any good in myself, I too would see what these people see." So when I went to bed one night, I said, "O Allah! If you see any good in me, show me a good dream." So while I was in that state, there came to me (in a dream) two angels. In the hand of each of them, there was a mace of iron, and both of them were taking me to Hell, and I was between them, invoking Allah, "O Allah! I seek refuge with You from Hell." Then I saw myself being confronted by another angel holding a mace of iron in his hand. He said to me, "Do not be afraid, you will be an excellent man if you only pray more often." So they took me till they stopped me at the edge of Hell, and behold, it was built inside like a well and it had side posts like those of a well, and beside each post there was an angel carrying an iron mace. I saw therein many people hanging upside down with iron chains, and I recognized therein some men from the Quraish. Then (the angels) took me to the right side.I narrated this dream to (my sister) Hafsa رضی اللہ عنہا and she told it to Allah's Messenger (ﷺ). Allah's Messenger (ﷺ) said, "No doubt, `Abdullah is a good man." (Nafi` said, "Since then `Abdullah bin `Umar رضی اللہ عنہما used to pray much.)
مجھ سے عبیداللہ بن سعید نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم سے عفان بن مسلم نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم سے صخر بن جویریہ نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم سے نافع نے بیان کیا اور ان سے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ میں سے کچھ لوگ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں خواب دیکھتے تھے اور اسے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے تھے ، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اس کی تعبیر دیتے جیسا کہ اللہ چاہتا ۔ میں اس وقت نوعمر تھا اور میرا گھر مسجد تھی یہ میری شادی سے پہلے کی بات ہے ۔ میں نے اپنے دل میں سوچا کہ اگر تجھ میں کوئی خیرہوتی تو تو بھی ان لوگوں کی طرح خواب دیکھتا ۔ چنانچہ جب میں ایک رات لیٹا تو میں نے کہا اے اللہ ! اگر تو میرے اندر کوئی خیروبھلائی جانتا ہے تو مجھے کوئی خواب دکھا ۔ میں اسی حال میں ( سوگیا اور میں نے دیکھا کہ ) میرے پاس دو فرشتے آئے ، ان میں سے ہر ایک کے ہاتھ میں لوہے کا ہتھوڑا تھا اور وہ مجھے جہنم کی طرف لے چلے ۔ میں ان دونوں فرشتوں کے درمیان میں تھا اور اللہ سے دعا کرتا جا رہا تھا کہ اے اللہ ! میں جہنم سے تیری پناہ مانگتا ہوں پھر مجھے دکھایا گیا ( خواب ہی میں ) کہ مجھ سے ایک اور فرشتہ ملا جس کے ہاتھ میں لوہے کا ایک ہتھوڑا تھا اور اس نے کہا ڈرونہیں تم کتنے اچھے آدمی ہو اگر تم نماز زیادہ پڑھتے ۔ چنانچہ وہ مجھے لے کر چلے اور جہنم کے کنارے پر لے جا کر مجھے کھڑا کر دیا تو جہنم ایک گول کنویں کی طرح تھی اور کنویں کے مٹکوں کی طرح اس کے بھی مٹکے تھے اور ہر دو مٹکوں کے درمیان ایک فرشتہ تھا ۔ جس کے ہاتھ میں لوہے کا ایک ہتھوڑا تھا اور میں نے اس میں کچھ لوگ دیکھے جنہیں زنجیروں میں لٹکا دیا گیا تھا اور ان کے سر نیچے تھے ۔ ( اور پاؤں اوپر ) ان میں سے بعض قریش کے لوگوں کو میں نے پہچانا بھی ۔ پھر وہ مجھے دائیں طرف لے کر چلے ۔بعد میں میں نے اس کا ذکر اپنی بہن حفصہ رضی اللہ عنہا سے کیا اور انہوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے ، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ ( سن کر ) فرمایا ۔ عبداللہ مرد نیک ہے ۔ ( اگر رات کو تہجد پڑھتا ہوتا ) نافع کہتے ہیں کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے جب سے یہ خواب دیکھا وہ نفل نماز بہت پڑھا کرتے تھے ۔ مٹکے جن پر موٹھ کی لکڑیاں کھڑی کرتے ہیں ۔
Narrated Ibn `Umar رضی اللہ عنہما :
I was a young unmarried man during the lifetime of the Prophet. I used to sleep in the mosque. Anyone who had a dream, would narrate it to the Prophet. I said, "O Allah! If there is any good for me with You, then show me a dream so that Allah's Messenger (ﷺ) may interpret it for me." So I slept and saw (in a dream) two angels came to me and took me along with them, and they met another angel who said to me, "Don't be afraid, you are a good man." They took me towards the Fire, and behold, it was built inside like a well, and therein I saw people some of whom I recognized, and then the angels took me to the right side. In the morning, I mentioned that dream to Hafsa رضی اللہ عنہا . Hafsa رضی اللہ عنہا told me that she had mentioned it to the Prophet (ﷺ) and he said, "`Abdullah is a righteous man if he only prays more at night." (Az-Zuhri said, "After that, `Abdullah used to pray more at night.")
مجھ سے عبداللہ بن محمد نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے ہشام بن یوسف نے بیان کیا ‘ کہا ہم کو معمر نے خبر دی ‘ انہیں زہری نے ‘ انہیں سالم نے ‘ ان سے ابن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ
میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں نو جوان غیر شادی شدہ تھا تو مسجدنبوی میں سو تا تھا اور جو شخص بھی خواب دیکھتا وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا تذکرہ کرتا ۔ میں نے سوچا ‘ اے اللہ ! اگر تیرے نزدیک مجھ میں کوئی خیر ہے تو مجھے بھی کوئی خواب دکھا جس کی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم مجھے تعبیر دیں ۔ پھر میں سویا اور میں نے دو فرشتے دیکھے جو میرے پاس آئے اور مجھے لے چلے ۔ پھر ان دونوں سے تیسرا فرشتہ بھی آملا اور اس نے مجھ سے کہا کہ ڈرو نہیں تم نیک آدمی ہو ۔ پھر وہ دونوں فرشتے مجھے جہنم کی طرف لے گئے تو وہ کنویں کی طرح تہ بتہ تھی اور اس میں کچھ لوگ تھے جن میں سے بعض کو میں نے پہچانا بھی ۔ پھر وہ دونوں فرشتے مجھے دائیں طرف لے چلے ۔ جب صبح ہوئی تو میں نے اس تذکرہ اپنی بہن حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا سے کیا ۔ ام المؤمنین حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا نے جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے اس خواب کا ذکر کیا تو آپ نے فرمایا کہ عبداللہ نیک مرد ہے ۔ کاش وہ رات میں نماز زیادہ پڑھا کرتا ۔ زہری نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمان کے بعد وہ رات میں نفلی نماز زیادہ پڑھا کرتے تھے ۔
Narrated `Abdullah bin `Umar رضی اللہ عنہما :
I heard Allah's Messenger (ﷺ) saying, "While I was sleeping, I saw that a cup full of milk was brought to me and I drank of it and gave the remaining of it to `Umar bin Al-Khattab." They asked. What have you interpreted (about the dream)? O Allah's Messenger (ﷺ)?" The Prophet (ﷺ) said. "(It is Religious) knowledge."
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے لیث بن سعد نے بیان کیا ‘ ان سے عقیل نے ‘ ان سے ابن شہاب نے ‘ ان سے حمزہ بن عبداللہ نے اور ان سے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ نے فرمایا کہ میں سویا ہوا تھا کہ میرے پاس دودھ کا پیالہ لایا گیا ۔ میں نے اس میں سے پیا پھر میں نے اپنا بچا ہوا ۔ عمر بن خطاب کو دے دیا ۔ لوگوں نے پوچھا یا رسول اللہ ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی تعبیر کیا لی ؟ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ علم سے تعبیر لی ۔
Narated Ubaidullah bin Abdullah:
I asked Ibn Abbas رضی اللہ عنہما about the dream of Allah's Messenger which he mentioned. (see following hadith)
مجھ سے سعید بن محمد نے بیان کیا ‘ انہوں نے کہا ہم سے یعقوب بن ابراہیم نے بیان کیا ‘ انہوں نے کہا ہم سے ہمارے والد نے بیان کیا ‘ ان سے صالح نے ‘ ان سے ابوعبیدہ بن نشیط نے بیان کیا ‘ان سے عبیداللہ بن عبداللہ نے بیان کیا کہ
میں نے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس خواب کے متعلق پوچھا جو انہوں نے بیان کیا تھا ۔
Narrated `Abdullah bin `Abbas رضی اللہ عنہما :
Allah's Messenger (ﷺ) said, "While I was sleeping, two golden bangles were put in my two hands, so I got scared (frightened) and disliked it, but I was given permission to blow them off, and they flew away. I interpret it as a symbol of two liars who will appear." 'Ubaidullah said, "One of them was Al-`Ansi who was killed by Fairuz at Yemen and the other was Musailama (at Najd) .
تو حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا کہ مجھ سے کہا گیا ہے کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں نے خواب میں دیکھا کہ دو سونے کے کنگن میرے ہاتھ میں رکھے گئے ہیں تو مجھے اس سے تکلیف پہنچی اور ناگوار ہوئی پھر مجھے اجازت دی گئی اور میں نے ان پر پھونک ماری اور وہ دونوں اڑ گئے ۔ میں نے اس کی تعبیر لی کہ دو جھوٹے پیدا ہوں گے ۔ عبیداللہ نے بیان کیا کہ ان میں سے ایک تو العنسی تھا جسے یمن میں فیروز نے قتل کیا اور دوسرا مسیلمہ ۔
Narrated Abu Musa رضی اللہ عنہ :
The Prophet (ﷺ) said: I, in dream, beheld that I was emigrating from Makkah to a place where there were date-palms. So, I thought it would be Yamamah or Hajar but it was Madinah called Yathrab (then). So, I saw a cow and the goodness of Allah. The cow represents those Muslims who were martyred in the battle of Ohud and the goodness stands for the goodness that Allah conferred upon us, and the reward of the truth which Allah bestowed on us after ther battle of Badr.
مجھ سے محمد بن علاء نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے ابواسامہ نے بیان کیا ‘ ان سے بریدہ نے ‘ ان سے ان کے دادا ابوبردہ نے ‘ ان سے حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے میرا خیال ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہ
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں نے خواب دیکھا کہ میں مکہ سے ایک ایسی زمین کی طرف ہجرت کر رہا ہوں جہاں کھجوریں ہیں ۔ میرا ذہن اس طرف گیا کہ یہ جگہ یمامہ ہے یا ہجر ۔ لیکن بعد میں معلوم ہوا کہ مدینہ یعنی یثرب ہے اور میں نے خواب میں گائے دیکھی ( زبح کی ہوئی ) اور یہ آواز سنی کہ کوئی کہہ رہا ہے کہ اور اللہ کے یہاں ہی خیر ہے تو اس کی تعبیر ان مسلمانوں کی صورت میں آئی جو جنگ احد میں شہید ہوئے اور خیروہ ہے جو اللہ تعالیٰ نے خیر اور سچائی کے ثواب کی صورت میں دیا یعنی وہ جو ہمیں اللہ تعالیٰ نے جنگ بدر کے بعد ( دوسری فتوحات کی صورت میں ) دی ۔
Narrated Abu Huraira رضی اللہ عنہ :
Allah's Messenger (ﷺ) said, "We (Muslims) are the last (to come) but (will be) the foremost (on the Day of Resurrection)."" Allah's Messenger (ﷺ) further said, ''While sleeping, I was given the treasures of the world and two golden bangles were put in my hands, but I felt much annoyed, and those two bangles distressed me very much, but I was inspired that I should blow them off, so I blew them and they flew away. Then I interpreted that those two bangles were the liars between whom I was (i.e., the one of San`a' and the one of Yamama).
مجھ سے اسحاق بن ابراہیم الحنظلی نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے عبدالرزاق نے بیان کیا ‘ کہا ہم کو معمر نے خبر دی ‘ ان سے ہما م بن منبہ نے بیان کیا کہ یہ وہ حدیث ہے جو ہم سے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کی کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہم سب امتوں سے آخری امت ( وقت کے اعتبار سے ) اور سب امتوں سے پہلی امت ( جنت میں داخلہ کے اعتبار سے ) ہیں ۔ اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں سویا ہوا تھا کہ زمین کے خزانے میرے پاس لائے گئے اور میرے ہاتھ میں دو سونے کے کنگن رکھ دئیے گئے جو مجھے بہت شاق گزرے ۔ پھر مجھے وحی کی گئی کہ میں ان پر پھونک ماروں میں نے پھونکا تو وہ اڑ گئے ۔ میں نے ان کی تعبیر دو جھوٹوں سے لی جن کے درمیان میں میں ہوں ایک صنعاء کا اور دوسرا یمامہ کا ۔
Narrated `Abdullah رضی اللہ عنہما :
The Prophet (ﷺ) said, "I saw (in a dream) a black woman with unkempt hair going out of Medina and settling at Mahai'a, i.e., Al-Juhfa. I interpreted that as a symbol of epidemic of Medina being transferred to that place (Al-Juhfa).
ہم سے اسماعیل بن عبداللہ نے بیان کیا ‘ انہوں نے کہا مجھ سے میرے بھائی عبدالحمید نے بیان کیا ‘ ان سے سلیمان بن بلال نے بیان کیا ‘ ان سے موسیٰ بن عقبہ نے بیان کیا ان سے سالم بن عبداللہ نے بیان کیا ‘ انہوں نے اپنے والد حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں نے دیکھا جیسے ایک سیاہ عورت پر اگند ہ بال ‘ مدینہ سے نکلی اور مہیعہ میں جا کر کھڑی ہو گئی ۔ مہیعہ حجفہ کو کہتے ہیں ۔ میں نے اس کی یہ تعبیر لی کہ مدینہ کی وبا حجفہ نامی بستی میں چلی گئی ۔
Narrated `Abdullah bin `Umar رضی اللہ عنہما :
concerning the dream of the Prophet (ﷺ) in Medina: The Prophet (ﷺ) said, "I saw (in a dream) a black woman with unkempt hair going out of Medina and settling at Mahai'a. I interpreted that as (a symbol of) the epidemic of Medina being transferred to Mahai'a, namely, Al-Juhfa."
ہم سے ابوبکر المقدمی نے بیان کیا ‘ انہوں نے کہا ہم سے فضیل بن سلیمان نے بیان کیا ‘ ان سے موسیٰ نے بیان کیا ‘ ان سے سالم بن عبداللہ نے بیان کیا اور ان سے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے مدینہ میں خواب کے سلسلے میں کہ ( آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ) میں نے ایک پراگندہ بال ‘ سیاہ عورت دیکھی کہ وہ مدینہ سے نکل کر مہیعہ چلی گئی ۔ میں نے اس کی تعبیر لی کہ مدینہ کی وبا مهيعۃ منتقل ہو گئی ہے ۔ مهيعۃ یعنی الجحفۃ کو کہتے ہیں ۔
Narrated Salim's father:
The Prophet (ﷺ) said, "I saw (in a dream) a black woman with unkempt hair going out of Medina and settling in Mahai'a. I interpreted that as (a symbol of) epidemic of Medina being transferred to Mahai'a, namely, Al-Juhfa."
مجھ سے ابراہیم بن المنذر نے بیان کیا ‘ انہوں نے کہا مجھ سے ابوبکر بن ابی اویس نے بیان کیا ‘ انہوں نے کہا مجھ سے سلیمان نے بیان کیا ‘ ان سے موسیٰ بن عقبہ نے بیان کیا ‘ ان سے سالم نے بیان کیا ‘ ان سے ان کے والد حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں نے ایک پراگندہ بال کالی عورت دیکھی جو مدینہ سے نکلی اور مہیعہ میں جا کر ٹھہر گئی ۔ میں نے اس کی تعبیر یہ لی کہ مدینہ کی وبا مہیعہ یعنی منتقل ہو گئی ۔
Narrated Abu Musa رضی اللہ عنہ :
The Prophet (ﷺ) said, "I saw in a dream that I waved a sword and it broke in the middle, and behold, that symbolized the casualties the believers suffered on the Day (of the battle) of Uhud. Then I waved the sword again, and it became better than it had ever been before, and behold, that symbolized the Conquest (of Mecca) which Allah brought about and the gathering of the believers. "
ہم سے محمد بن علاء نے بیان کیا ‘ انہوں نے کہا ہم سے ابواسامہ نے بیان کیا ‘ ان سے برید بن عبداللہ ابن ابی بردہ نے بیان کیا ‘ ان سے ان کے دادا ابوبردہ نے اور ان سے حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے ‘مجھ کو یقین ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہ
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے یوں فرمایا کہ میں نے ایک تلوار ہلائی تو وہ بیچ سے ٹوٹ گئی ۔ اس کی تعبیر احد کی جنگ میں مسلمانوں کے شہید ہونے کی صورت میں سامنے آئی پھر دوبارہ میں نے اسے ہلا یا تو وہ پہلے سے بھی اچھی شکل میں ہو گئی ۔ اس کی تعبیر فتح اور مسلمانوں کے اتفاق و اجتماع کی صورت میں سامنے آئی ۔
Narrated Ibn `Abbas رضی اللہ عنہما :
The Prophet (ﷺ) said, "Whoever claims to have seen a dream which he did not see, will be ordered to make a knot between two barley grains which he will not be able to do; and if somebody listens to the talk of some people who do not like him (to listen) or they run away from him, then molten lead will be poured into his ears on the Day of Resurrection; and whoever makes a picture, will be punished on the Day of Resurrection and will be ordered to put a soul in that picture, which he will not be able to do. Ayyoub has reported it with a connected chain. Ikrimah has reported from Hadrat Abu Hurairah رضی اللہ عنہ: Whose makes a picture, whose narrates a false dream and whose eavesdrops on someone's conversation. Hadrat Ikrimah narrates that Hadrat Ibn-e-Abbas رضی اللہ عنہما said: Whose eavesdrops on somebody's conversation and whose narrates a false dream and whose makes a picture. Then as per former Hadith (it has been narrated). Ikrimah has also narrated from Hadrat Ibn-e-Abbas رضی اللہ عنہما the same
ہم سے علی بن عبداللہ نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے سفیان نے ‘ ان سے ایوب نے ‘ ان سے عکرمہ نے ‘ ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس نے ایسا خواب بیان کیا جو اس نے دیکھا نہ ہو تو اسے دو جو کہ دو دانوں کو قیامت کے دن جوڑنے کے لیے کہا جائے گا اور وہ اسے ہرگز نہیں کر سکے گا ( اس لیے مار کھاتا رہے گا ) اور جو شخص دوسرے لوگوں کی بات سننے کے لیے کان لگائے جو اسے پسند نہیں کرتے یا اس سے بھاگتے ہیں تو قیامت کے دن اس کے کانوں میں سیسہ پگھلا کر ڈالا جائے گا اور جو کوئی تصویر بنائے گا اسے عذاب دیا جائے گا اور اس پر زور دیا جائے گا کہ اس میں روح بھی ڈالے جو وہ نہیں کر سکے گا ۔ اور سفیان نے کہا کہ ہم سے ایوب نے یہ حدیث موصولاً بیان کی اور قتیبہ بن سعید نے بیان کیا ‘ ہم سے ابوعوانہ نے ‘ ان سے قتادہ نے ‘ ان سے عکرمہ نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ جو اپنے خواب کے سلسلے میں جھوٹ بولے ۔ اور شعبہ نے کہا ‘ ان سے ابوہاشم الرمانی نے ‘ انہوں نے عکرمہ سے سنا اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے ( کا قول موقوفاً ) جو شخص مورت بنائے ‘ جو شخص جھوٹا خواب بیان کرے ‘ جو شخص کان لگا کر دوسروں کی باتیں سنے ۔ ہم سے اسحاق واسطی نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے خالد طحان نے بیان کیا ‘ ان سے خالد حذاء نے ‘ ان سے عکرمہ نے اور ان سے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ جو کسی کی بات کان لگا کر سننے کے پیچھے لگا اور جس نے غلط خواب بیان کیا اور جس نے تصویر بنائی ( ایسی ہی حدیث نقل کی موقوفاً ابن عباس سے ) خالد حذاء کے ساتھ اس حدیث کو ہشام بن حسان فردوسی نے بھی عکرمہ سے ‘ انہوں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے موقوفاً روایت کیا ۔
Narrated Ibn `Umar رضی اللہ عنہما :
Allah's Messenger (ﷺ) said, "The worst lie is that a person claims to have seen a dream which he has not seen."
ہم سے علی بن مسلم نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے عبدالصمد نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے ابن عمر رضی اللہ عنہما کے غلام عبدالرحمٰن بن عبداللہ بن دینار نے بیان کیا ‘ ان سے ان کے والد نے اور ان سے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ
رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سب سے بدترین جھوٹ یہ ہے کہ انسان خواب میں ایسی چیز کو دیکھنے کا دعویٰ کرے جو اس کی آنکھوں نے نہ دیکھی ہو ۔
Narrated Abu Salama:
I used to see a dream which would make me sick till I heard Abu Qatada رضی اللہ عنہ saying, "I too, used to see a dream which would make me sick till I heard the Prophet (ﷺ) saying, "A good dream is from Allah, so if anyone of you saw a dream which he liked, he should not tell it to anybody except to the one whom he loves, and if he saw a dream which he disliked, then he should seek refuge with Allah from its evil and from the evil of Satan, and spit three times (on his left) and should not tell it to anybody, for it will not harm him. "
ہم سے سعید بن ربیع نے بیان کیا ‘ انہوں نے کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا ‘ ان سے عبدر بہ بن سعید نے بیان کیا ‘ انہوں نے کہا کہ میں نے ابوسلمہ سے سنا ‘ انہوں نے کہا کہ
میں ( برے ) خواب دیکھتا تھا اور اس کی وجہ سے بیمار پڑ جاتا تھا ۔ آخر میں نے حضرت قتادہ رضی اللہ عنہ سے سنا انہوں نے بیان کیا کہ میں بھی خواب دیکھتا اور میں بھی بیمار پڑ جاتا ۔ آخر میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سنا کہ اچھے خواب اللہ کی طرف سے ہوتے ہیں پس جب کوئی اچھے خواب دیکھے تو اس کا ذکر صرف اسی سے کرے جو اسے عزیز ہو اور جب برا خواب دیکھے تو اللہ کی اس کے شر سے پناہ مانگے اور شیطان کے شر سے اور تین مرتبہ تھوتھو کر دے اور اس کا کسی سے ذکر نہ کرے پس وہ اسے ہرگز کوئی نقصان نہ پہنچا سکے گا ۔
Narrated Abu Sa`id Al-Khudri رضی اللہ عنہ :
I heard Allah's Messenger (ﷺ) saying, "If anyone of you saw a dream which he liked, then that was from Allah, and he should thank Allah for it and tell it to others; but if he saw something else, i.e, a dream which he did not like, then that is from Satan and he should seek refuge with Allah from it and should not tell it to anybody for it will not harm him."
ہم سے ابراہیم بن حمزہ نے بیان کیا ‘ انہوں نے کہا مجھ سے ابن ابی حازم اور دراوردی نے بیان کیا ‘ ان سے یزید نے بیان کیا ‘ ان سے عبداللہ بن خباب نے اور ان سے حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے ‘
انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ‘ آپ نے فرمایا کہ جب تم میں سے کوئی شخص خواب دیکھے جسے وہ پسند کرتا ہو تو وہ اللہ کی طرف سے ہوتا ہے اور اس پر اسے اللہ کی تعریف کرنا چاہئیے اور اسے بیان بھی کرنا چاہئیے اور جب کوئی خواب ایسا دیکھے جسے وہ ناپسند کرتا ہو تو وہ شیطان کی طرف سے ہے اور اسے چاہئیے کہ اس کے شر سے اللہ کی پناہ مانگے اور اس کا ذکر کسی سے نہ کرے ‘ کیونکہ وہ اسے ہرگز نقصان نہیں پہنچا سکے گا ۔
Narrated Ibn `Abbas رضی اللہ عنہما :
A man came to Allah's Messenger (ﷺ) and said, "I saw in a dream, a cloud having shade. Butter and honey were dropping from it and I saw the people gathering it in their hands, some gathering much and some a little. And behold, there was a rope extending from the earth to the sky, and I saw that you (the Prophet) held it and went up, and then another man held it and went up and (after that) another (third) held it and went up, and then after another (fourth) man held it, but it broke and then got connected again." Abu Bakr رضی اللہ عنہ said, "O Allah's Messenger (ﷺ)! Let my father be sacrificed for you! Allow me to interpret this dream." The Prophet (ﷺ) said to him, "Interpret it." Abu Bakr said, "The cloud with shade symbolizes Islam, and the butter and honey dropping from it, symbolizes the Qur'an, its sweetness dropping and some people learning much of the Qur'an and some a little. The rope which is extended from the sky to the earth is the Truth which you (the Prophet) are following. You follow it and Allah will raise you high with it, and then another man will follow it and will rise up with it and another person will follow it and then another man will follow it but it will break and then it will be connected for him and he will rise up with it. O Allah's Messenger (ﷺ)! Let my father be sacrificed for you! Am I right or wrong?" The Prophet replied, "You are right in some of it and wrong in some." Abu Bakr رضی اللہ عنہ said, "O Allah's Prophet! By Allah, you must tell me in what I was wrong." The Prophet (ﷺ) said, "Do not swear."
ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے لیث بن سعد نے بیان کیا ‘ ان سے یونس نے ‘ ان سے ابن شہاب نے ‘ ان سے عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ نے ‘ ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے تھے کہ
ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور اس نے کہا کہ رات میں نے خواب میں دیکھا کہ ایک ابر کا ٹکڑا ہے جس سے گھی اور شہد ٹپک رہا ہے میں دیکھتا ہوں کہ لوگ انہیں اپنے ہاتھوں میں لے رہے ہیں ۔ کوئی زیادہ اور کوئی کم اور ایک رسی ہے جو زمین سے آسمان تک لٹکی ہوئی ہے ۔ میں نے دیکھا کہ پہلے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے آ کر اسے پکڑ اور اوپر چڑھ گئے پھر ایک دوسرے صاحب نے بھی اسے پکڑا اور وہ بھی اوپر چڑھ گئے پھر ایک تیسرے صاحب نے پکڑا اور وہ بھی چڑھ گئے پھر چوتھے صاحب نے پکڑا اور وہ بھی اس کے ذریعہ چڑھ گئے ۔ پھر وہ رسی ٹوٹ گئی ‘ پھر جڑ گئی ۔ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا یا رسول اللہ ! میرے ماں باپ آپ پر فدا ہوں ۔ مجھے اجازت دیجئیے میں اس کی تعبیر بیان کر دوں ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بیان کرو ۔ انہوں نے کہا سایہ سے مراد دین اسلام ہے اور شہد اور گھی ٹپک رہا تھا وہ قرآن مجید کی شیرینی ہے اور بعض قرآن کو زیادہ حاصل کرنے والے ہیں ‘ بعض کم اور آسمان سے زمین تک کی رسی سے مراد وہ سچا طریق ہے جس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم قائم ہیں ‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسے پکڑے ہوئے ہیں یہاں تک کہ اس کے ذریعہ اللہ آپ کو اٹھا لے گا پھر آپ کے بعد ایک دوسرے صاحب آپ کے خلیفہ اول اسے پکڑیں گے وہ بھی مرتے دم تک اس پر قائم رہیں گے ۔ پھر تیسرے صاحب پکڑیں گے ان کا بھی یہی حال ہو گا ۔ پھر چوتھے صاحب پکڑیں گے تو ان کا معاملہ خلافت کا کٹ جائے گا وہ بھی اوپر چڑھ جائیں گے ۔ یا رسول اللہ ! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہو ں مجھے بتائیے کیا میں نے جو تعبیر دی ہے وہ غلط ہے یا صحیح ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بعض حصہ کی صحیح تعبیر دی ہے اور بعض کی غلط ۔ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا ۔ پس واللہ ! آپ میری غلطی کو ظاہر فرما دیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ قسم نہ کھاؤ ۔