Narrated `Abdullah bin `Umar رضی اللہ عنہما :
Allah's Messenger (ﷺ) said, "Whoever takes up arms against us, is not from us."
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا ‘ انہیں امام مالک نے خبر دی ‘ انہیں نافع نے اور انہیں عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس نے ہم مسلمانوں پر ہتھیار اٹھایا وہ ہم سے نہیں ہے ۔
Narrated Abu Musa رضی اللہ عنہ :
The Prophet (ﷺ) said, "Whoever takes up arms against us, is not from us."
ہم سے محمد بن العلاء نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے ابواسامہ نے بیان کیا ‘ ان سے برید نے ‘ ان سے ابوبردہ نے اور ان سے ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس نے ہم مسلمانوں پر ہتھیار اٹھایا وہ ہم سے نہیں ہے ۔
Narrated Abu Huraira رضی اللہ عنہ :
The Prophet (ﷺ) said, "None of you should point out towards his Muslim brother with a weapon, for he does not know, Satan may tempt him to hit him and thus he would fall into a pit of fire (Hell)"
ہم سے محمد بن یحییٰ ذہلی ( یا محمد بن رافع ) نے بیان کیا ‘ کہا ہم کو عبدالرزاق نے خبر دی ‘ انہیں معمر نے ‘ انہیں ہمام نے ‘ انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ‘ کوئی شخص اپنے کسی دینی بھائی کی طرف ہتھیار سے اشارہ نہ کرے ‘ کیونکہ وہ نہیں جانتا ممکن ہے شیطان اسے اس کے ہاتھ سے چھڑوا دے اور پھر وہ کسی مسلمان کو مار کر اس کی وجہ سے جہنم کے گڑھے میں گر پڑے ۔
Narrated Sufyan:
I said to `Amr, "O Abu Muhammad! Did you hear Jabir bin `Abdullah رضی اللہ عنہ saying, 'A man carrying arrows passed through the mosque and Allah's Messenger (ﷺ) said to him, 'Hold the arrows by their heads! "`Amr replied, "Yes."
ہم سے علی بن عبداللہ مدینی نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا ‘ کہا کہ
میں نے عمرو بن دینار سے کہا ابو محمد ! تم نے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے سنا ہے کہ انہوں نے بیان کیا کہ ایک صاحب تیر لے کر مسجد میں سے گزرے تو ان سے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تیر کی نوک کا خیال رکھو ۔ عمرو نے کہا ہاں میں نے سنا ہے ۔
Narrated Jabir رضی اللہ عنہ :
A man passed through the mosque and he was carrying arrows, the heads of which were exposed (protruding). The man was ordered (by the Prophet) to hold the iron heads so that it might not scratch (injure) any Muslim.
ہم سے ابو النعمان نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے حماد بن زید نے بیان کیا ‘ ان سے عمرو بن دینار نے اور ان سے جابر رضی اللہ عنہ نے کہ
ایک صاحب مسجد میں تیر لے کر گزرے جن کے پھل باہر کو نکلے ہوئے تھے تو انہیں حکم دیا گیا کہ ان کی نوک کا خیال رکھیں کہ وہ کسی مسلمان کو زخمی نہ کر دیں ۔
Narrated Abu Musa رضی اللہ عنہ :
The Prophet (ﷺ) said, "If anyone of you passed through our mosque or through our market while carrying arrows, he should hold the iron heads," or said, "..... he should hold (their heads) firmly with his hand lest he should injure one of the Muslims with it."
ہم سے محمد بن العلاء نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے ابواسامہ نے بیان کیا ‘ ان سے برید نے ‘ ان سے ابوبردہ نے اور ان سے ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کوئی ہماری مسجد میں یا ہمارے بازار میں گزرے اور اس کے پاس تیر ہوں تو اسے چاہئیے کہ اس کی نوک کا خیال رکھے یا آپ نے فرمایا کہ اپنے ہاتھ سے انہیں تھامے رہے ۔ کہیں کسی مسلمان کو اس سے کوئی تکلیف نہ پہنچے ۔
Narrated `Abdullah رضی اللہ عنہ :
The Prophet, said, "Abusing a Muslim is Fusuq (evil doing) and killing him is Kufr (disbelief).
ہم سے عمر بن حفص نے بیان کیا ‘ کہا مجھ سے میرے والد نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے اعمش نے بیان کیا ‘ ان سے شقیق نے بیان کیا ‘ کہا کہ عبداللہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مسلمان کو گالی دینا فسق ہے اور اس کو قتل کرنا کفرہے ۔
Narrated Ibn `Umar رضی اللہ عنہما :
I heard the Prophet (ﷺ) saying, "Do not revert to disbelief after me by striking (cutting) the necks of one another."
ہم سے حجاج بن منہال نے بیان کیا ‘ انہوں نے کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا ‘ کہا مجھ کو واقد نے خبر دی ‘ انہیں ان کے والد نے اور انہیں ابن عمر رضی اللہ عنہما نے ‘
انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ‘آپ نے فرمایا کہ میرے بعد کفر کی طرف نہ لوٹ جانا کہ ایک دوسرے کی گردن مارنے لگو ۔
Narrated Abu Bakra:
Allah's Messenger (ﷺ) addressed the people saying, "Don't you know what is the day today?" They replied, "Allah and His Apostle know better." We thought that he might give that day another name. The Prophet said, "Isn't it the day of An-Nahr?" We replied, "Yes. O Allah's Messenger (ﷺ)." He then said, "What town is this? Isn't it the forbidden (Sacred) Town (Mecca)?" We replied, "Yes, O Allah's Messenger (ﷺ)." He then said, "Your blood, your properties, your honors and your skins (i.e., bodies) are as sacred to one another like the sanctity of this day of yours in this month of yours in this town of yours. (Listen) Haven't I conveyed Allah's message to you?" We replied, "Yes" He said, "O Allah! Be witness (for it). So it is incumbent upon those who are present to convey it (this message of mine) to those who are absent because the informed one might comprehend what I have said better than the present audience who will convey it to him.)" The narrator added: In fact, it was like that. The Prophet (ﷺ) added, "Beware! Do not renegade as disbelievers after me by striking (cutting) the necks of one another." The day when Ibn-e-Hadrami was burnt whereas jariyah bin Qudamah burnt him he said: Cast a glance at Abu Bakrah. The people replied: Here is Abu Bakrah who is watching you. Abdur Rehman (bin Abu Bakrah) narrates that my mother with reference to Hadrat Abu Bakrah told me that if they had entered my house (and attached me: Irfan), I would not have struck them with a stick.
ہم سے مسدد نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے یحییٰ قطان نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے قرہ بن خالد نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے ابن سیرین نے بیان کیا ‘ ان سے عبدالرحمٰن بن ابی بکرہ نے بیان کیا
اور ایک دوسرے شخص ( حمید بن عبدالرحمٰن ) سے بھی سنا جو میری نظر میں عبدالرحمٰن بن ابی بکرہ سے اچھے ہیں اور ان سے ابو بکرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو یوم النحر کو خطبہ دیا اور فرمایا تمہیں معلوم ہے یہ کون سا دن ہے ؟ لوگوں نے کہا کہ اللہ اور اس کے رسول کو زیادہ علم ہے ۔ بیان کیا کہ ( اس کے بعد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خاموشی سے ) ہم یہ سمجھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کا کوئی اور نام رکھیں گے ۔ لیکن آپ نے فرمایا کیا یہ قربانی کا دن ( یوم النحر ) نہیں ہے ؟ ہم نے عرض کیا کیوں نہیں یا رسول اللہ ! آپ نے پھر پوچھا یہ کون سا شہر ہے ؟ کیا یہ البلدہ ( مکہ مکرمہ ) نہیں ہے ؟ ہم نے عرض کیا کیوں نہیں یا رسول اللہ ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پھر تمہارا خون ‘ تمہارے مال ‘ تمہاری عزت اور تمہاری کھال تم پر اسی طرح حرمت والے ہیں جس طرح اس دن کی حرمت اس مہینے اور اس شہر میں ہے ۔ کیا میں نے پہنچا دیا ؟ ہم نے کہا جی ہاں ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے اللہ ! گواہ رہنا ۔ پس میرا یہ پیغام موجود لوگ غیر موجود لوگوں کو پہنچا دیں کیونکہ بہت سے پہنچانے والے اس پیغام کو اس تک پہنچائیں گے جو اس کو زیادہ محفوظ رکھنے والا ہو گا ۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میرے بعد کافر نہ ہو جانا کہ بعض بعض کی گردن مارنے لگو ۔ پھر جب وہ دن آیا جب عبداللہ عمرو بن حضرمی کو جاریہ بن قدامہ نے ایک مکان میں گھیر کر جلا دیا تو جاریہ نے اپنے لشکر والوں سے کہا ذار ابوبکرہ کو تو جھانکو وہ کس خیال میں ہے ۔ انہوں نے کہا یہ ابوبکرہ موجود ہیں تم کو دیکھ رہے ہیں ۔ عبدالرحمٰن بن ابی بکرہ کہتے ہیں مجھ سے میری والدہ ہالہ بنت غلیظ نے کہا کہ ابوبکرہ نے کہا اگر یہ لوگ ( تین جاریہ کے لشکر والے ) میرے گھر میں بھی گھس آئیں اور مجھ کو مارنے لگیں تو میں ان پر ایک بانس کی چھڑی بھی نہیں چلاؤں گا ۔
Narrated Ibn `Abbas رضی اللہ عنہما :
The Prophet (ﷺ) said, "Beware! Do not renegade as (disbelievers) after me by striking (cutting) the necks of one another."
ہم سے احمد بن اشکاب نے بیان کیا ‘ انہوں نے کہا ہم سے محمد بن فضیل نے بیان کیا ‘ ان سے ان کے والد نے بیان کیا ‘ ان سے عکرمہ نے بیان کیا اور ان سے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ‘ میرے بعد کافر نہ ہو جانا کہ تم میں بعض بعض کی گردن مارنے لگے ۔
Narrated Jarir رضی اللہ عنہ :
The Prophet (ﷺ) said to me during Hajjat-al-Wada`, "Let the people keep quiet and listen." Then he said (addressing the people), "Beware! Do not renegade as disbelievers after me by striking (cutting) the necks of one another."
ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا ‘ انہوں نے کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا ‘ انہوں نے کہا ہم سے علی بن مدرک نے بیان کیا ‘ کہا میں نے ابو زرعہ بن عمرو بن جریر سے سنا ‘ ان سے ان کے دادا جریر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے حجۃ الوداع کے موقع پر فرمایا لوگوں کو خاموش کر دو ۔ پھر آپ نے فرمایا میرے بعد کافر نہ ہو جانا کہ تم ایک دوسرے کی گردن مارنے لگ جاؤ ۔
Narrated Abu Huraira رضی اللہ عنہ :
Allah's Messenger (ﷺ) said, "There will be afflictions (in the near future) during which a sitting person will be better than a standing one, and the standing one will be better than the walking one, and the walking one will be better than the running one, and whoever will expose himself to these afflictions, they will destroy him. So whoever can find a place of protection or refuge from them, should take shelter in it."
ہم سے محمد بن عبیداللہ نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے ابراہیم بن سعد نے بیان کیا ‘ ان سے ان کے والد نے ‘ ان سے ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ابراہیم بن سعد نے کہا کہ مجھ سے صالح بن کیسان نے بیان کیا ‘ ان سے ابن شہاب نے ‘ ان سے سعید بن المسیب نے اور ان سے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا عنقریب ایسے فتنے برپا ہوں گے جن میں بیٹھنے والا کھڑے ہونے والے سے بہتر ہو گا اور کھڑا ہونے والا ان میں چلنے والے سے بہتر ہو گا اور چلنے والا ان میں دوڑنے والے سے بہتر ہو گا ‘ جو دور سے ان کی طرف جھانک کر بھی دیکھے گا تو وہ ان کو بھی سمیٹ لیں گے ۔ اس وقت جس کسی کو کوئی پناہ کی جگہ مل جائے یا بچاؤ کامقام مل سکے وہ اس میں چلا جائے ۔
Narrated Abu Huraira رضی اللہ عنہ :
Allah's Messenger (ﷺ) said, "There will be afflictions (in the near future) during which a sitting person will be better than a standing one, and the standing one will be better than a walking one, and the walking one will be better than a running one, and whoever will expose himself to these afflictions, they will destroy him. So whoever can find a place of protection or refuge from them, should take shelter in it."
ہم سے ابو الیمان نے بیان کیا ‘ کہا ہم کو شعیب نے خبر دی ‘ انہیں زہری نے ‘ انہیں ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن نے خبر دی اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایسے فتنے برپا ہوں گے کہ ان میں بیٹھنے والا کھڑے ہونے والے سے بہتر ہو گا اور کھڑا ہونے والا چلنے والے سے بہتر ہو گا اور چلنے والا دوڑنے والے سے بہتر ہو گا ۔ اگر کوئی ان کی طرف دور سے بھی جھانک کر دیکھے گا تو وہ اسے بھی سمیٹ لیں گے ایسے وقت جو کوئی اس سے کوئی پناہ کی جگہ پا لے اسے اس کی پناہ لے لینی چاہئیے ۔
Narrated Al-Hasan:
(Al-Ahnaf said:) I went out carrying my arms during the nights of the affliction (i.e. the war between `Ali and `Aisha) and Abu Bakra رضی اللہ عنہ met me and asked, "Where are you going?" I replied, "I intend to help the cousin of Allah's Messenger (ﷺ) (i.e.,`Ali)." Abu Bakra رضی اللہ عنہ said, "Allah's Messenger (ﷺ) said, 'If two Muslims take out their swords to fight each other, then both of them will be from amongst the people of the Hell- Fire.' It was said to the Prophet ﷺ, 'It is alright for the killer but what about the killed one?' He replied, 'The killed one had the intention to kill his opponent.'' Hammad bin Zaid narrates that he narrated this Hadith to Ayyub and Younus bin Obaid wishing that they might narrate it to me. Both of them reported it from Imam Hasan Basri, Ahnaf bin Qais and Hadrat Abi Bakrah . Hadrat Abi Bakrah has reported it from the prophet ﷺ. Mamar has reported it from Ayyub. Bakkaar bin Abdul Aziz from his father and he has reported it from Hadrat Abi Bakrah رضی اللہ عنہ. Hadrat Abi Bakrah رضی اللہ عنہ has reported it from the prophet ﷺ but Sufyan has not reported it tracing it back to the prophet ﷺ from Mansur.
ہم سے عبداللہ بن عبدالوہاب نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے حماد بن زید نے بیان کیا ‘ ان سے ایک شخص نے جس کا نام نہیں بتایا ‘ ان سے امام حسن بصری نے بیان کیا کہ
میں ایک مرتبہ باہمی فسادات کے دنوں میں اپنے ہتھیار لگا کر نکلا تو ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے راستے میں ملاقات ہو گئی ۔ انہوں نے پوچھا کہاں جانے کا ارادہ ہے ؟ میں نے کہا کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا کے لڑکے کی ( جنگ جمل وصفین میں ) مدد کرنی چاہتا ہوں ۔ انہوں نے کہا لوٹ جاؤ ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ جب دو مسلمان اپنی تلواروں کو لے کر آمنے سامنے مقابلہ پر آ جائیں تو دونوں دوزخی ہیں ۔ پوچھا گیا یہ تو قاتل تھا ‘ مقتول نے کیا کیا ( کہ وہ بھی ناری ہو گیا ) فرمایا کہ وہ بھی اپنے مقابل کو قتل کرنے کا ارادہ کئے ہوئے تھا ۔ حماد بن زید نے کہا کہ پھر میں نے یہ حدیث ایوب اور یونس بن عبید سے ذکر کی ‘ میرا مقصد تھا کہ یہ دونوں بھی مجھ سے یہ حدیث بیان کریں ‘ ان دونوں نے کہا کہ اس حدیث کی روایت حسن بصری نے احنف بن قیس سے اور انہوں نے ابوبکر رضی اللہ عنہ سے کی ۔ ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا کہا ہم سے حماد بن زید نے یہی حدیث بیان کی اور مؤمل بن ہشام نے کہا کہ ہم سے حماد بن زید نے بیان کیا ‘کہا ہم سے ایوب ‘ یونس ‘ ہشام اور معلی بن زیاد نے امام حسن بصری سے بیان کیا ‘ ان سے احنف بن قیس اور ان سے ابوبکرہ رضی اللہ عنہ نے اور ان سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اور اس کی روایت معمر نے بھی ایوب سے کی ہے اور اس کی روایت بکار بن عبد العزیز نے اپنے باپ سے کی اور ان سے ابو بکرہ رضی اللہ عنہ نے اور غندر نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا ‘ ان سے منصور نے ‘ ان سے ربعی بن حراش نے ‘ ان سے ابوبکرہ رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ۔ اور سفیان ثوری نے بھی اس حدیث کو منصور بن معتمر سے روایت کیا ‘ پھر یہ روایت مرفوعہ نہیں ہے ۔
Narrated Hudhaifa bin Al-Yaman رضی اللہ عنہ :
The people used to ask Allah's Messenger (ﷺ) about the good but I used to ask him about the evil lest I should be overtaken by them. So I said, "O Allah's Messenger (ﷺ)! We were living in ignorance and in an (extremely) worst atmosphere, then Allah brought to us this good (i.e., Islam); will there be any evil after this good?" He said, "Yes." I said, 'Will there be any good after that evil?" He replied, "Yes, but it will be tainted (not pure.)'' I asked, "What will be its taint?" He replied, "(There will be) some people who will guide others not according to my tradition? You will approve of some of their deeds and disapprove of some others." I asked, "Will there be any evil after that good?" He replied, "Yes, (there will be) some people calling at the gates of the (Hell) Fire, and whoever will respond to their call, will be thrown by them into the (Hell) Fire." I said, "O Allah s Apostle! Will you describe them to us?" He said, "They will be from our own people and will speak our language." I said, "What do you order me to do if such a state should take place in my life?" He said, "Stick to the group of Muslims and their Imam (ruler)." I said, "If there is neither a group of Muslims nor an Imam (ruler)?" He said, "Then turn away from all those sects even if you were to bite (eat) the roots of a tree till death overtakes you while you are in that state."
ہم سے محمد بن مثنیٰ نے بیان کیا ‘انہوں نے کہا ہم سے ولید بن مسلم نے بیان کیا ‘ انہوں نے کہا ہم سے ابن جابر نے بیان کیا ‘ ان سے بسر بن عبیداللہ الخصرمی نے بیان کیا ‘ انہوں نے ابو ادریس خولانی سے سنا ‘ انہوں نے حذیفہ بن الیمان رضی اللہ عنہ سے سنا ‘انہوں نے بیان کیا کہ
لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے خیر کے بارے میں پوچھا کرتے تھے لیکن میں شر کے بارے میں پوچھتا تھا ۔ اس خوف سے کہ کہیں میری زندگی میں ہی شر نہ پیدا ہو جائے ۔ میں نے پوچھا یا رسول اللہ ! ہم جاہلیت اور شر کے دور میں تھے پھر اللہ تعالیٰ نے ہمیں اس خیر سے نوازا تو کیا اس خیر کے بعد پھر شر کا زمانہ ہو گا ؟ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہاں ۔ میں نے پوچھا کیا اس شر کے بعد پھر خیر کا زمانہ آئے گا ؟ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں لیکن اس خیر میں کمزوری ہو گی ۔ میں نے پوچھا کہ کمزوری کیا ہو گی ؟ فرمایا کہ کچھ لوگ ہوں گے جو میرے طریقے کے خلاف چلیں گے ‘ ان کی بعض باتیں اچھی ہوں گی لیکن بعض میں تم برائی دیکھو گے ۔ میں نے پوچھا کیا پھر دور خیر کے بعد دور شر آئے گا ؟ فرمایا کہ ہاں جہنم کی طرف سے بلانے والے دوزخ کے دروازوں پر کھڑے ہوں گے ‘ جو ان کی بات مان لے گا وہ اس میں انہیں جھٹک دیں گے ۔ میں نے کہا یا رسول اللہ ! ان کی کچھ صفت بیان کیجئے ۔ فرمایا کہ وہ ہمارے ہی جیسے ہوں گے اور ہماری ہی زبان عربی بولیں گے ۔ میں نے پوچھا پھر اگر میں نے وہ زمانہ پایا تو آپ مجھے ان کے بارے میں کیا حکم دیتے ہیں ؟ فرمایا کہ مسلمانوں کی جماعت اور ان کے امام کے ساتھ رہنا ۔ میں نے کہا کہ اگر مسلمانوں کی جماعت نہ ہو اور نہ ان کا کوئی امام ہو ؟ فرمایا کہ پھر ان تمام لوگوں سے الگ ہو کر خواہ تمہیں جنگل میں جا کر درختوں کی جڑیں چبانی پڑیں یہاں تک کہ اسی حالت میں تمہاری موت آ جائے ۔
Narrated Laith states that Abu Al-Aswad:
An army unit was being recruited from the people of Medina and my name was written among them. Then I met `Ikrima, and when I informed him about it, he discouraged me very strongly and said, "Ibn `Abbas رضی اللہ عنہما told me that there were some Muslims who were with the pagans to increase their number against Allah's Messenger (ﷺ) (and the Muslim army) so arrows (from the Muslim army) would hit one of them and kill him or a Muslim would strike him (with his sword) and kill him. So Allah revealed:-- 'Verily! As for those whom the angels take (in death) while they are wronging themselves (by staying among the disbelievers).' (4.97)
ہم سے عبداللہ بن یزید نے بیان کیا ، کہا ہم سے حیوہ بن شریح وغیرہ نے بیان کیا کہ ہم سے ابوالاسود نے بیان کیا ، یا لیث نے ابوالاسود سے بیان کیا کہ
اہل مدینہ کا ایک لشکر تیار کیا گیا ( یعنی عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کے زمانہ میں شام والوں سے مقابلہ کرنے کے لیے ) اور میرا نام اس میں لکھ دیا گیا ۔ پھر میں عکرمہ سے ملا اور میں نے انہیں خبر دی تو انہوں نے مجھے شرکت سے سختی کے ساتھ منع کیا ۔ پھر کہا کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے مجھے خبر دی ہے کہ کچھ مسلمان جو مشرکین کے ساتھ رہتے تھے وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف ( غزوات ) میں مشرکین کی جماعت کی زیادتی کا باعث بنتے ۔ پھر کوئی تیر آتا اور ان میں سے کسی کو لگ جاتا اور قتل کر دیتا یا انہیں کوئی تلوار سے قتل کر دیتا ، پھر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی ” بلا شک وہ لوگ جن کو فرشتے فوت کرتے ہیں اس حال میں کہ وہ اپنی جانوں پر ظلم کرنے والے ہوتے ہیں ۔ “
Narrated Hudhaifa:
Allah's Messenger (ﷺ) related to us, two prophetic narrations one of which I have seen fulfilled and I am waiting for the fulfillment of the other. The Prophet (ﷺ) told us that the virtue of honesty descended in the roots of men's hearts (from Allah) and then they learned it from the Qur'an and then they learned it from the Sunna (the Prophet's traditions). The Prophet (ﷺ) further told us how that honesty will be taken away: He said: "Man will go to sleep during which honesty will be taken away from his heart and only its trace will remain in his heart like the trace of a dark spot; then man will go to sleep, during which honesty will decrease further still, so that its trace will resemble the trace of blister as when an ember is dropped on one's foot which would make it swell, and one would see it swollen but there would be nothing inside. People would be carrying out their trade but hardly will there be a trustworthy person. It will be said, 'in such-and-such tribe there is an honest man,' and later it will be said about some man, 'What a wise, polite and strong man he is!' Though he will not have faith equal even to a mustard seed in his heart." No doubt, there came upon me a time when I did not mind dealing (bargaining) with anyone of you, for if he was a Muslim his Islam would compel him to pay me what is due to me, and if he was a Christian, the Muslim official would compel him to pay me what is due to me, but today I do not deal except with such-and-such person.
ہم سے محمد بن کثیر نے بیان کیا ، کہا ہم کو سفیان نے خبر دی ، کہا ہم سے اعمش نے بیان کیا ، ان سے زید بن وہب نے بیان کیا ، ان سے حذیفہ نے بیان کیا ، کہا
ہم سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو احادیث فرمائی تھیں جن میں سے ایک تو میں نے دیکھ لی دوسری کا انتظار ہے ۔ ہم سے آپ نے فرمایا تھا کہ امانت لوگوں کے دلوں کی جڑوں میں نازل ہوئی تھی پھر لوگوں نے اسے قرآن سے سیکھا ، پھر سنت سے سیکھا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے امانت کے اٹھ جانے کے متعلق فرمایا تھا کہ ایک شخص ایک نیند سوئے گا اور امانت اس کے دل سے نکال دی جائے گی اور اس کا نشان ایک دھبے جتنا باقی رہ جائے گا ، پھر وہ ایک نیند سوئے گا اور پھر امانت نکالی جائے گی تو اس کے دل میں آبلے کی طرح اس کا نشان باقی رہ جائے گا ، جیسے تم نے کوئی چنگاری اپنے پاؤں پر گرالی ہو اور اس کی وجہ سے آبلہ پڑ جائے ، تم اس میں سو جن دیکھوگے لیکن اندر کچھ نہیں ہو گا اور لوگ خریدوفروخت کریں گے لیکن کوئی امانت ادا کرنے والا نہیں ہو گا ۔ پھر کہا جائے گا کہ فلاں قبیلے میں ایک امانت دار آدمی ہے اور کسی کے متعلق کہا جائے گا کہ وہ کس قدر عقلمند ، کتنا خوش طبع ، کتنا دلاور آدمی ہے حالانکہ اس کے دل میں رائی کے دانے کے برابر بھی ایمان نہ ہو گا اور مجھ پر ایک زمانہ گزر گیا اور میں اس کی پروا نہیں کرتا تھا کہ تم میں سے کس کے ساتھ میں لین دین کرتا ہوں اگر وہ مسلمان ہوتا تو اس کا اسلام اسے میرے حق کے ادا کرنے پر مجبور کرتا اور اگر وہ نصرانی ہوتا تو اس کے حاکم لوگ اس کو دباتے ایمانداری پر مجبور کرتے ۔ لیکن آج کل تو میں صرف فلاں فلاں لوگوں سے ہی لین دین کرتا ہوں ۔
Narrated Salama bin Al-Akwa` رضی اللہ عنہ :
That he visited Al-Hajjaj (bin Yusuf). Al-Hajjaj said, "O son of Al-Akwa`! You have turned on your heels (i.e., deserted Islam) by staying (in the desert) with the bedouins." Salama replied, "No, but Allah's Messenger (ﷺ) allowed me to stay with the bedouin in the desert." Narrated Yazid bin Abi Ubaid: When `Uthman bin `Affan رضی اللہ عنہ was killed (martyred), Salama bin Al-Akwa` رضی اللہ عنہ went out to a place called Ar- Rabadha and married there and begot children, and he stayed there till a few nights before his death when he came to Medina.
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم سے حاتم نے بیان کیا ، ان سے یزید بن ابی عبید نے بیان کیا ، ان سے سلمہ بن الاکوع رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ
وہ حجاج کے یہاں گئے تو اس نے کہا کہ اے ابن الاکوع ! تم گاؤں میں رہنے لگے ہو کیا الٹے پاؤں پھر گئے ؟ کہا کہ نہیں بلکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے جنگل میں رہنے کی اجازت دی تھی ۔ اور یزید بن ابی عبید سے روایت ہے ، انہوں نے کہا کہ جب حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ شہید کئے گئے تو سلمہ بن الاکوع رضی اللہ عنہ ربذہ چلے گئے اور وہاں ایک عورت سے شادی کر لی اور وہاں ان کے بچے بھی پیدا ہوئے ۔ وہ برابر وہیں پر رہے ، یہاں تک کہ وفات سے چند دن پہلے مدینہ آ گئے تھے ۔
Narrated Abu Sa`id Al-Khudri رضی اللہ عنہ :
Allah's Messenger (ﷺ) said, "There will come a time when the best property of a Muslim will be sheep which he will take to the tops of mountains and the places of rainfall so as to flee with his religion from the afflictions.
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا ، کہا ہم کو مالک نے خبر دی ، انہیں عبدالرحمٰن بن عبداللہ بن ابی صعصعہ نے ، انہیں ان کے والد نے اور ان سے ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وہ وقت قریب ہے کہ مسلمان کا بہترین مال وہ بکریاں ہوں گی جنہیں وہ لے کر پہاڑی کی چوٹیوں اور بارش برسنے کی جگہوں پر چلا جائے گا ۔ وہ فتنوں سے اپنے دین کی حفاظت کے لیے وہاں بھاگ کر آ جائے گا ۔
Narrated Anas رضی اللہ عنہ :
The people started asking the Prophet (ﷺ) too many questions importunately. So one day he ascended the pulpit and said, "You will not ask me any question but I will explain it to you." I looked right and left, and behold, every man was covering his head with his garment and weeping. Then got up a man who, whenever quarreling with somebody, used to be accused of not being the son of his father. He said, "O Allah's Messenger (ﷺ)! Who is my father?" The Prophet (ﷺ) replied, "Your father is Hudhaifa." Then `Umar رضی اللہ عنہ got up and said, "We accept Allah as our Lord, Islam as our religion and Muhammad as our Apostle and we seek refuge with Allah from the evil of afflictions." The Prophet (ﷺ) said, " I have never seen the good and bad like on this day. No doubt, Paradise and Hell was displayed in front of me till I saw them in front of that wall," Qatada said: This Hadith used to be mentioned as an explanation of this Verse:-- 'O you who believe! Ask not questions about things which, if made plain to you, may cause you trouble.' (5.101)
ہم سے معاذ بن فضالہ نے بیان کیا ، کہا ہم سے ہشام نے بیان کیا ، ان سے قتادہ نے اور ان سے انس رضی اللہ عنہ نے کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں سے سوالات کئے آخر جب لوگ باربار سوال کرنے لگے تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر ایک دن چڑھے اور فرمایا کہ آج تم مجھ سے جو سوال بھی کرو گے میں تمہیں اس کا جواب دوں گا ۔ انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ پھر میں دائیں بائیں دیکھنے لگا تو ہر شخص کا سراس کے کپڑے میں چھپا ہوا تھا اور وہ رورہا تھا ۔ آخر ایک شخص نے خاموشی توڑی ۔ اس کا جب کسی سے جھگڑا ہوتا تو انہیں ان کے باپ کے سوا دوسرے باپ کی طرف پکارا جاتا ۔ انہوں نے کہا یا رسول اللہ ! میرے والد کون ہیں ؟ فرمایا تمہارے والد حذافہ ہیں ۔ پھر عمر رضی اللہ عنہ سامنے آئے اور عرض کیا ہم اللہ سے کہ وہ رب ہے ، اسلام سے کہ وہ دین ہے ، محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے کہ وہ سول ہیں راضی ہیں اور آزمائش کی برائی سے ہم اللہ کی پناہ مانگتے ہیں ۔ پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں نے خیروشر آج جیسا دیکھا کبھی نہیں دیکھا تھا ۔ میرے سامنے جنت و دوزخ کی صورت پیش کی گئی اور میں نے انہیں دیوار کے قریب دیکھا ۔ قتادہ نے بیان کیا کہ یہ بات اس آیت کے ساتھ ذکر کی جاتی ہے کہ ” اے لوگو ! جو ایمان لائے ہو ایسی چیزوں کے بارے میں سوال نہ کرو اگر وہ ظاہر کر دی جائیں تو تمہیں بری معلوم ہوں “ ۔