Back to Sahih Bukhari

Afflictions and the End of the World

كتاب الفتن

Chapter 94

Hadith 7090
Sahih
وَقَالَ عَبَّاسٌ النَّرْسِيُّ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ، أَنَّ أَنَسًا، حَدَّثَهُمْ أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِهَذَا وَقَالَ كُلُّ رَجُلٍ لاَفًّا رَأْسَهُ فِي ثَوْبِهِ يَبْكِي‏.‏ وَقَالَ عَائِذًا بِاللَّهِ مِنْ سُوءِ الْفِتَنِ‏.‏ أَوْ قَالَ أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ سُوءِ الْفِتَنِ‏.‏
English

Narrated Anas رضی اللہ عنہ :

Through another chain and said (with the wording) "and every man had his head wrapped in his garment and weeping". And he said (with the wording) "seeking refuge with Allah from the evil of afflictions" or he said "I seek refuge with Allah from the evil of afflictions."

Urdu

اور عباس النرسی نے بیان کیا ، ان سے یزید بن زریع نے بیان کیا ، ان سے سعید نے بیان کیا ، ان سے قتادہ نے بیان کیا اور ان سے انس رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہی حدیث بیان کی اور انس رضی اللہ عنہ نے کہا

ہر شخص کپڑے میں اپنا سر لپیٹے ہوئے رورہا تھا اور فتنے سے اللہ کی پناہ مانگ رہا تھا یا یوں کہہ رہا تھا کہ میں اللہ سے فتنہ کی برائی سے پناہ مانگتا ہوں ۔

Hadith 7091
Sahih
وَقَالَ لِي خَلِيفَةُ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، وَمُعْتَمِرٌ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ قَتَادَةَ، أَنَّ أَنَسًا، حَدَّثَهُمْ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِهَذَا وَقَالَ عَائِذًا بِاللَّهِ مِنْ شَرِّ الْفِتَنِ‏.‏
English

Narrated Anas رضی اللہ عنہ :

The prophet narrated the Hadith to the people in the same way, and said: I seek Alllah's refuge against the evil of the strifes.

Urdu

اور مجھ سے خلیفہ بن خیاط نے بیان کیا ، ان سے یزید بن زریع نے بیان کیا ، ان سے سعید و معتمر کے والد نے قتادہ سے اور ان سے انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا ،

پھر یہی حدیث آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل کی ، اس میں بجائے سوء کے شر کا لفظ ہے ۔

Hadith 7092
Sahih
حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ يُوسُفَ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُ قَامَ إِلَى جَنْبِ الْمِنْبَرِ فَقَالَ ‏"‏ الْفِتْنَةُ هَا هُنَا الْفِتْنَةُ هَا هُنَا مِنْ حَيْثُ يَطْلُعُ قَرْنُ الشَّيْطَانِ ‏"‏‏.‏ أَوْ قَالَ ‏"‏ قَرْنُ الشَّمْسِ ‏"‏‏.‏
English

Narrated Salim's father:

The Prophet (ﷺ) stood up beside the pulpit (and pointed with his finger towards the East) and said, "Afflictions are there! Afflictions are there, from where the side of the head of Satan comes out," or said, "..the side of the sun.."

Urdu

ہم سے عبداللہ بن محمد مسندی نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم سے ہشام بن یوسف نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ان سے معمر نے بیان کیا ، ان سے زہری نے بیان کیا ، ان سے سالم نے ، ان سے ان کے والد نے کہ

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم منبر کے ایک طرف کھڑے ہوئے اور فرمایا فتنہ ادھر ہے ، فتنہ ادھر ہے جدھر سے شیطان کا سینگ طلوع ہوتا ہے یا ” سورج کا سینگ “ فرمایا ۔

Hadith 7093
Sahih
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ـ رضى الله عنهما ـ أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَهْوَ مُسْتَقْبِلٌ الْمَشْرِقَ يَقُولُ ‏ "‏ أَلاَ إِنَّ الْفِتْنَةَ هَا هُنَا مِنْ حَيْثُ يَطْلُعُ قَرْنُ الشَّيْطَانِ ‏"‏‏.‏
English

Narrated Ibn `Umar رضی اللہ عنہما :

I heard Allah's Messenger (ﷺ) while he was facing the East, saying, "Verily! Afflictions are there, from where the side of the head of Satan comes out."

Urdu

ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا ، کہا ہم سے لیث نے بیان کیا ، ان سے نافع نے اور ان سے ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ

انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم مشرق کی طرف رخ کئے ہوئے تھے اور فرما رہے تھے آگاہ ہو جاؤ ، فتنہ اس طرف ہے جدھر سے شیطان کا سینگ طلوع ہوتا ہے ۔

Hadith 7094
Sahih
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا أَزْهَرُ بْنُ سَعْدٍ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ ذَكَرَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ اللَّهُمَّ بَارِكْ لَنَا فِي شَأْمِنَا، اللَّهُمَّ بَارِكْ لَنَا فِي يَمَنِنَا ‏"‏‏.‏ قَالُوا وَفِي نَجْدِنَا‏.‏ قَالَ ‏"‏ اللَّهُمَّ بَارِكْ لَنَا فِي شَأْمِنَا، اللَّهُمَّ بَارِكْ لَنَا فِي يَمَنِنَا ‏"‏‏.‏ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ وَفِي نَجْدِنَا فَأَظُنُّهُ قَالَ فِي الثَّالِثَةَ ‏"‏ هُنَاكَ الزَّلاَزِلُ وَالْفِتَنُ، وَبِهَا يَطْلُعُ قَرْنُ الشَّيْطَانِ ‏"‏‏.‏
English

Narrated Ibn `Umar:

The Prophet (ﷺ) said, "O Allah! Bestow Your blessings on our Sham! O Allah! Bestow Your blessings on our Yemen." The People said, "And also on our Najd." He said, "O Allah! Bestow Your blessings on our Sham (north)! O Allah! Bestow Your blessings on our Yemen." The people said, "O Allah's Apostle! And also on our Najd." I think the third time the Prophet (ﷺ) said, "There (in Najd) is the place of earthquakes and afflictions and from there comes out the side of the head of Satan."

Urdu

ہم سے علی بن عبداللہ مدینی نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم سے ازہر بن سعد نے بیان کیا ، ان سے ابن عون نے بیان کیا ، ان سے نافع نے بیان کیا ، ان سے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ

آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے اللہ ! ہمارے ملک شام میں ہمیں برکت دے ، ہمارے یمن میں ہمیں برکت دے ۔ صحابہ نے عرض کیا اور ہمارے نجد میں ؟ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر فرمایا اے اللہ ہمارے شام میں برکت دے ، ہمیں ہمارے یمن میں برکت دے ۔ صحابہ نے عرض کی اور ہمارے نجد میں ؟ میرا گمان ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے تیسری مرتبہ فرمایا وہاں زلزلے اور فتنے ہیں اور وہاں شیطان کا سینگ طلوع ہو گا ۔

Hadith 7095
Sahih
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ الْوَاسِطِيُّ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ، عَنْ بَيَانٍ، عَنْ وَبَرَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، قَالَ خَرَجَ عَلَيْنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ فَرَجَوْنَا أَنْ يُحَدِّثَنَا، حَدِيثًا حَسَنًا ـ قَالَ ـ فَبَادَرَنَا إِلَيْهِ رَجُلٌ فَقَالَ يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ حَدِّثْنَا عَنِ الْقِتَالِ فِي الْفِتْنَةِ وَاللَّهُ يَقُولُ ‏{‏وَقَاتِلُوهُمْ حَتَّى لاَ تَكُونَ فِتْنَةٌ‏}‏ فَقَالَ هَلْ تَدْرِي مَا الْفِتْنَةُ ثَكِلَتْكَ أُمُّكَ، إِنَّمَا كَانَ مُحَمَّدٌ صلى الله عليه وسلم يُقَاتِلُ الْمُشْرِكِينَ، وَكَانَ الدُّخُولُ فِي دِينِهِمْ فِتْنَةً، وَلَيْسَ كَقِتَالِكُمْ عَلَى الْمُلْكِ‏.‏
English

Narrated Sa`id bin Jubair:

`Abdullah bin `Umar رضی اللہ عنہما came to us and we hoped that he would narrate to us a good Hadith. But before we asked him, a man got up and said to him, "O Abu `Abdur-Rahman! Narrate to us about the battles during the time of the afflictions, as Allah says:-- 'And fight them until there is no more afflictions (i.e. no more worshipping of others besides Allah).'" (2.193) Ibn `Umar رضی اللہ عنہما said (to the man), "Do you know what is meant by afflictions? Let your mother bereave you! Muhammad used to fight against the pagans, for a Muslim was put to trial in his religion (The pagans will either kill him or chain him as a captive). His fighting was not like your fighting which is carried on for the sake of ruling."

Urdu

ہم سے اسحاق بن شاہین واسطی نے بیان کیا ، کہا ہم سے خلف بن عبداللہ طحان نے بیان کیا ، ان سے بیان ابن بصیر نے ، ان سے وبرہ بن عبدالرحمٰن نے ، ان سے سعید بن جبیر نے بیان کیا کہ

عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما ہمارے پاس آئے تو ہم نے امید کی کہ وہ ہم سے کوئی اچھی بات کریں گے ۔ اتنے میں ایک صاحب حکیم نامی ہم سے پہلے ان کے پاس پہنچ گئے اور پوچھا اے ابوعبدالرحمن ! ہم سے زمانہ فتنہ میں قتال کے متعلق حدیث بیان کیجئے ۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے تم ان سے جنگ کرو یہاں تک کہ فتنہ باقی نہ رہے ۔ ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا تمہیں معلوم بھی ہے کہ فتنہ کیا ہے ؟ تمہاری ماں تمہیں روئے ۔ محمد صلی اللہ علیہ وسلم فتنہ رفع کرنے کے لیے مشرکین سے جنگ کرتے تھے ، شرک میں پڑنا یہ فتنہ ہے ۔ کیا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی لڑائی تم لوگوں کی طرح بادشاہت حاصل کرنے کے لیے ہوتی تھی ؟

Hadith 7096
Sahih
حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصِ بْنِ غِيَاثٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، حَدَّثَنَا شَقِيقٌ، سَمِعْتُ حُذَيْفَةَ، يَقُولُ بَيْنَا نَحْنُ جُلُوسٌ عِنْدَ عُمَرَ قَالَ أَيُّكُمْ يَحْفَظُ قَوْلَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فِي الْفِتْنَةِ‏.‏ قَالَ ‏ "‏ فِتْنَةُ الرَّجُلِ فِي أَهْلِهِ وَمَالِهِ وَوَلَدِهِ وَجَارِهِ، تُكَفِّرُهَا الصَّلاَةُ وَالصَّدَقَةُ وَالأَمْرُ بِالْمَعْرُوفِ وَالنَّهْىُ عَنِ الْمُنْكَرِ ‏"‏‏.‏ قَالَ لَيْسَ عَنْ هَذَا أَسْأَلُكَ، وَلَكِنِ الَّتِي تَمُوجُ كَمَوْجِ الْبَحْرِ‏.‏ قَالَ لَيْسَ عَلَيْكَ مِنْهَا بَأْسٌ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، إِنَّ بَيْنَكَ وَبَيْنَهَا بَابًا مُغْلَقًا‏.‏ قَالَ عُمَرُ أَيُكْسَرُ الْبَابُ أَمْ يُفْتَحُ قَالَ بَلْ يُكْسَرُ‏.‏ قَالَ عُمَرُ إِذًا لاَ يُغْلَقَ أَبَدًا‏.‏ قُلْتُ أَجَلْ‏.‏ قُلْنَا لِحُذَيْفَةَ أَكَانَ عُمَرُ يَعْلَمُ الْبَابَ قَالَ نَعَمْ كَمَا أَعْلَمُ أَنَّ دُونَ غَدٍ لَيْلَةً، وَذَلِكَ أَنِّي حَدَّثْتُهُ حَدِيثًا لَيْسَ بِالأَغَالِيطِ‏.‏ فَهِبْنَا أَنْ نَسْأَلَهُ مَنِ الْبَابُ فَأَمَرْنَا مَسْرُوقًا فَسَأَلَهُ فَقَالَ مَنِ الْبَابُ قَالَ عُمَرُ‏.‏
English

Narrated Hudhaifa رضی اللہ عنہ :

"While we were sitting with `Umar رضی اللہ عنہ , he said, 'Who among you remembers the statement of the Prophet (ﷺ) about the afflictions?' Hudhaifa رضی اللہ عنہ said, "The affliction of a man in his family, his property, his children and his neighbors are expiated by his prayers, Zakat (and alms) and enjoining good and forbidding evil." `Umar رضی اللہ عنہ said, "I do not ask you about these afflictions, but about those afflictions which will move like the waves of the sea." Hudhaifa رضی اللہ عنہ said, "Don't worry about it, O chief of the believers, for there is a closed door between you and them." `Umar رضی اللہ عنہ said, "Will that door be broken or opened?" I said, "No. it will be broken." `Umar رضی اللہ عنہ said, "Then it will never be closed," I said, "Yes." We asked Hudhaifa, "Did `Umar رضی اللہ عنہ know what that door meant?" He replied, "Yes, as I know that there will be night before tomorrow morning, that is because I narrated to him a true narration free from errors." We dared not ask Hudhaifa رضی اللہ عنہ as to whom the door represented so we ordered Masruq to ask him what does the door stand for? He replied, "`Umar رضی اللہ عنہ ."

Urdu

ہم سے عمر بن حفص بن غیاث نے بیان کیا ، کہا ہم سے ہمارے والد نے بیان کیا ، کہا ہم سے اعمش نے بیان کیا ، ان سے شقیق نے بیان کیا ، انہوں نے حذیفہ رضی اللہ عنہ سے سنا ، انہوں نے بیان کیا کہ

ہم حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی خدمت میں بیٹھے ہوئے تھے کہ انہوں نے پوچھا تم میں سے کسے فتنہ کے بارے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان یاد ہے ؟ حذیفہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ انسان کا فتنہ ( آزمائش ) اس کی بیوی ، اس کے مال ، اس کے بچے اور پڑوسی کے معاملات میں ہوتا ہے جس کا کفارہ نماز ، صدقہ ، امربالمعروف اور نہی عن المنکر کر دیتا ہے ۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں اس کے متعلق نہیں پوچھتا بلکہ اس فتنہ کے بارے میں پوچھتا ہوں جو دریا کی طرح ٹھاٹھیں مارے گا ۔ حذیفہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ امیرالمؤمنین تم پر اس کا کوئی خطرہ نہیں اس کے اور تمہارے درمیان ایک بند دروازہ رکاوٹ ہے ۔ عمر رضی اللہ عنہ نے پوچھا کیا وہ دروازہ توڑ دیا جائے گا یا کھولا جائے گا ؟ بیان کیا توڑ دیا جائے گا ۔ عمر رضی اللہ عنہ نے اس پر کہا کہ پھر تو وہ کبھی بند نہ ہو سکے گا ۔ میں نے کہا جی ہاں ۔ ہم نے حذیفہ رضی اللہ عنہ سے پوچھا کیا عمر رضی اللہ عنہ اس دروازہ کے متعلق جانتے تھے ؟ فرمایا کہ ہاں ، جس طرح میں جانتا ہوں کہ کل سے پہلے رات آئے گی کیونکہ میں نے ایسی بات بیان کی تھی جو بے بنیاد نہیں تھی ۔ ہمیں ان سے یہ پوچھتے ہوئے ڈر لگا کہ وہ دروازہ کون تھے ۔ چنانچہ ہم نے مسروق سے کہا ( کہ وہ پوچھیں ) جب انہوں نے پوچھا کہ وہ دروازہ کون تھے ؟ تو انہوں نے کہا کہ وہ دروازہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ تھے ۔

Hadith 7097
Sahih
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ شَرِيكِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنْ أَبِي مُوسَى الأَشْعَرِيِّ، قَالَ خَرَجَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم إِلَى حَائِطٍ مِنْ حَوَائِطِ الْمَدِينَةِ لِحَاجَتِهِ، وَخَرَجْتُ فِي إِثْرِهِ، فَلَمَّا دَخَلَ الْحَائِطَ جَلَسْتُ عَلَى بَابِهِ وَقُلْتُ لأَكُونَنَّ الْيَوْمَ بَوَّابَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَلَمْ يَأْمُرْنِي فَذَهَبَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم وَقَضَى حَاجَتَهُ، وَجَلَسَ عَلَى قُفِّ الْبِئْرِ، فَكَشَفَ عَنْ سَاقَيْهِ وَدَلاَّهُمَا فِي الْبِئْرِ، فَجَاءَ أَبُو بَكْرٍ يَسْتَأْذِنُ عَلَيْهِ لِيَدْخُلَ فَقُلْتُ كَمَا أَنْتَ حَتَّى أَسْتَأْذِنَ لَكَ، فَوَقَفَ فَجِئْتُ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقُلْتُ يَا نَبِيَّ اللَّهِ أَبُو بَكْرٍ يَسْتَأْذِنُ عَلَيْكَ‏.‏ قَالَ ‏"‏ ائْذَنْ لَهُ، وَبَشِّرْهُ بِالْجَنَّةِ ‏"‏‏.‏ فَدَخَلَ فَجَاءَ عَنْ يَمِينِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَكَشَفَ عَنْ سَاقَيْهِ وَدَلاَّهُمَا فِي الْبِئْرِ، فَجَاءَ عُمَرُ فَقُلْتُ كَمَا أَنْتَ حَتَّى أَسْتَأْذِنَ لَكَ‏.‏ فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ ائْذَنْ لَهُ، وَبَشِّرْهُ بِالْجَنَّةِ ‏"‏‏.‏ فَجَاءَ عَنْ يَسَارِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَكَشَفَ عَنْ سَاقَيْهِ فَدَلاَّهُمَا فِي الْبِئْرِ، فَامْتَلأَ الْقُفُّ فَلَمْ يَكُنْ فِيهِ مَجْلِسٌ، ثُمَّ جَاءَ عُثْمَانُ فَقُلْتُ كَمَا أَنْتَ حَتَّى أَسْتَأْذِنَ لَكَ‏.‏ فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ ائْذَنْ لَهُ، وَبَشِّرْهُ بِالْجَنَّةِ، مَعَهَا بَلاَءٌ يُصِيبُهُ ‏"‏‏.‏ فَدَخَلَ فَلَمْ يَجِدْ مَعَهُمْ مَجْلِسًا، فَتَحَوَّلَ حَتَّى جَاءَ مُقَابِلَهُمْ عَلَى شَفَةِ الْبِئْرِ، فَكَشَفَ عَنْ سَاقَيْهِ ثُمَّ دَلاَّهُمَا فِي الْبِئْرِ‏.‏ فَجَعَلْتُ أَتَمَنَّى أَخًا لِي وَأَدْعُو اللَّهَ أَنْ يَأْتِيَ‏.‏ قَالَ ابْنُ الْمُسَيَّبِ فَتَأَوَّلْتُ ذَلِكَ قُبُورَهُمُ اجْتَمَعَتْ هَا هُنَا وَانْفَرَدَ عُثْمَانُ‏.‏
English

Narrated Abu Musa Al-Ash`ari رضی اللہ عنہ :

The Prophet (ﷺ) went out to one of the gardens of Medina for some business and I went out to follow him. When he entered the garden, I sat at its gate and said to myself, "To day I will be the gatekeeper of the Prophet though he has not ordered me." The Prophet (ﷺ) went and finished his need and went to sit on the constructed edge of the well and uncovered his legs and hung them in the well. In the meantime Abu Bakr رضی اللہ عنہ came and asked permission to enter. I said (to him), "Wait till I get you permission." Abu Bakr رضی اللہ عنہ waited outside and I went to the Prophet (ﷺ) and said, "O Allah's Prophet! Abu Bakr رضی اللہ عنہ asks your permission to enter." He said, "Admit him, and give him the glad tidings of entering Paradise." So Abu Bakr رضی اللہ عنہ entered and sat on the right side of the Prophet (ﷺ) and uncovered his legs and hung them in the well. Then `Umar رضی اللہ عنہ came and I said (to him), "Wait till I get you permission." The Prophet (ﷺ) said, "Admit him and give him the glad tidings of entering Paradise." So `Umar رضی اللہ عنہ entered and sat on the left side of the Prophet and uncovered his legs and hung them in the well so that one side of the well became fully occupied and there remained no place for any-one to sit. Then `Uthman رضی اللہ عنہ came and I said (to him), "Wait till I get permission for you." The Prophet (ﷺ) said, "Admit him and give him the glad tidings of entering Paradise with a calamity which will befall him." When he entered, he could not find any place to sit with them so he went to the other edge of the well opposite them and uncovered his legs and hung them in the well. I wished that a brother of mine would come, so I invoked Allah for his coming. (Ibn Al-Musaiyab said, "I interpreted that (narration) as indicating their graves. The first three are together and the grave of `Uthman رضی اللہ عنہ is separate from theirs.")

Urdu

ہم سے سعید بن ابی مریم نے بیان کیا ، کہا ہم کو محمد بن جعفر نے خبر دی ، انہیں شریک بن عبداللہ نے ، انہیں سعید بن مسیب نے اور ان سے ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ کے باغات میں کسی باغ کی طرف اپنی کسی ضرورت کے لئے گئے ، میں بھی آپ کے پیچھے پیچھے گیا ۔ جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم باغ میں داخل ہوئے تو میں اس کے دروازے پر بیٹھ گیا اور اپنے دل میں کہا کہ آج میں حضرت کا دربان بنوں گا حالانکہ آپ نے مجھے اس کا حکم نہیں دیا تھا ۔ آپ اندر چلے گئے اور اپنی حاجت پوری کی ۔ پھر آپ کنوئیں کی منڈیر پر بیٹھ گئے اور اپنی دونوں پنڈلیوں کو کھول کر انہیں کنوئیں میں لٹکا لیا ۔ پھر ابوبکر رضی اللہ عنہ آئے اور اندر جانے کی اجازت چاہی ۔ میں نے ان سے کہا کہ آپ یہیں رہیں ، میں آپ کے لیے اجازت لے کر آتا ہوں ۔ چنانچہ وہ کھڑے رہے اور میں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا یا نبی اللہ ! ابوبکر رضی اللہ عنہ آپ کے پاس آنے کی اجازت چاہتے ہیں ۔ فرمایا کہ انہیں اجازت دے دو اور انہیں جنت کی بشارت سنا دو ۔ چنانچہ وہ اندر آ گئے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی دائیں جانب آ کر انہوں نے بھی اپنی پنڈلیوں کو کھول کر کنوئیں میں لٹکا لیا ۔ اتنے میں عمر رضی اللہ عنہ آئے ۔ میں نے کہا ٹھہرو میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے اجازت لے لوں ( اور میں نے اندر جا کر آپ سے عرض کیا ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ان کو بھی اجازت دے اور بہشت کی خوشخبری بھی ۔ خیر وہ بھی آئے اور اسی کنوئیں کی منڈیر پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بائیں جانب بیٹھے اور اپنی پنڈلیاں کھول کر کنوئیں میں لٹکا دیں ۔ اور کنوئیں کی منڈیر بھر گئی اور وہاں جگہ نہ رہی ۔ پھر عثمان رضی اللہ عنہ آئے اور میں نے ان سے بھی کہا کہ یہیں رہئے یہاں تک کہ آپ کے لیے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے اجازت مانگ لوں ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ انہیں اجازت دو اور جنت کی بشارت دے دو اور اس کے ساتھ ایک آزمائش ہے جو انہیں پہنچے گی ۔ پھر وہ بھی داخل ہوئے ، ان کے ساتھ بیٹھنے کے لیے کوئی جگہ نہ تھی ۔ چنانچہ وہ گھوم کر ان کے سامنے کنوئیں کے کنارے پر آ گئے پھر انہوں نے اپنی پنڈلیاں کھول کر کنوئیں میں پاؤں لٹکالیے ، پھر میرے دل میں بھائی ( غالباً ابوبردہ یا ابورہم ) کی تمنا پیدا ہوئی اور میں دعا کرنے لگا کہ وہ بھی آ جاتے ، ابن المسیب نے بیان کیا کہ میں نے اس سے ان حضرت کی قبروں کی تعبیرلی کہ سب کی قبریں ایک جگہ ہوں گی لیکن عثمان رضی اللہ عنہ کی الگ بقیع غرقد میں ہے ۔

Hadith 7098
Sahih
حَدَّثَنِي بِشْرُ بْنُ خَالِدٍ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ سُلَيْمَانَ، سَمِعْتُ أَبَا وَائِلٍ، قَالَ قِيلَ لأُسَامَةَ أَلاَ تُكَلِّمُ هَذَا‏.‏ قَالَ قَدْ كَلَّمْتُهُ مَا دُونَ أَنْ أَفْتَحَ بَابًا، أَكُونُ أَوَّلَ مَنْ يَفْتَحُهُ، وَمَا أَنَا بِالَّذِي أَقُولُ لِرَجُلٍ بَعْدَ أَنْ يَكُونَ أَمِيرًا عَلَى رَجُلَيْنِ أَنْتَ خَيْرٌ‏.‏ بَعْدَ مَا سَمِعْتُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ‏ "‏ يُجَاءُ بِرَجُلٍ فَيُطْرَحُ فِي النَّارِ، فَيَطْحَنُ فِيهَا كَطَحْنِ الْحِمَارِ بِرَحَاهُ، فَيُطِيفُ بِهِ أَهْلُ النَّارِ فَيَقُولُونَ أَىْ فُلاَنُ أَلَسْتَ كُنْتَ تَأْمُرُ بِالْمَعْرُوفِ، وَتَنْهَى عَنِ الْمُنْكَرِ فَيَقُولُ إِنِّي كُنْتُ آمُرُ بِالْمَعْرُوفِ وَلاَ أَفْعَلُهُ، وَأَنْهَى عَنِ الْمُنْكَرِ وَأَفْعَلُهُ ‏"‏‏.‏
English

Narrated Abu Wail:

Someone said to Usama رضی اللہ عنہ , "Will you not talk to this (Uthman)?" Usama رضی اللہ عنہ said, "I talked to him (secretly) without being the first man to open an evil door. I will never tell a ruler who rules over two men or more that he is good after I heard Allah's Messenger (ﷺ) saying, 'A man will be brought and put in Hell (Fire) and he will circumambulate (go around and round) in Hell (Fire) like a donkey of a (flour) grinding mill, and all the people of Hell (Fire) will gather around him and will say to him, O so-and-so! Didn't you use to order others for good and forbid them from evil?' That man will say, 'I used to order others to do good but I myself never used to do it, and I used to forbid others from evil while I myself used to do evil.' "

Urdu

ہم سے بشر بن خالد نے بیان کیا ، کہا ہم کو جعفر نے خبر دی ، انہیں شعبہ نے ، انہیں سلیمان نے کہ میں نے ابووائل سے سنا ، انہوں نے کہا کہ

اسامہ رضی اللہ عنہ سے کہا گیا کہ آپ ( عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ ) سے گفتگو کیوں نہیں کرتے ( کہ عام مسلمانوں کی شکایات کا خیال رکھیں ) انہوں نے کہا کہ میں نے ( خلوت میں ) ان سے گفتگو کی ہے لیکن ( فتنہ کے ) دروازہ کو کھولے بغیر کہ اس طرح میں سب سے پہلے اس دروازہ کو کھولنے والا ہوں گا میں ایسا آدمی نہیں ہوں کہ کسی شخص سے جب وہ دو آدمیوں پر امیر بنا دیا جائے یہ کہوں کہ تو سب سے بہتر ہے ۔ جبکہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سن چکا ہوں ۔ آپ نے فرمایا کہ ایک شخص کو ( قیامت کے دن ) لایا جائے گا اور اسے آگ میں ڈال دیا جائے گا ۔ پھر وہ اس میں اس طرح چکی پیسے گا جیسے گدھا پیستا ہے ۔ پھر دوزخ کے لوگ اس کے چاروں طرف جمع ہو جائیں گے اور کہیں گے ، اے فلاں ! کیا تم نیکیوں کا حکم کرتے اور برائیوں سے روکا نہیں کرتے تھے ؟ وہ شخص کہے گا کہ میں اچھی بات کے لیے کہتا تو ضرور تھا لیکن خود نہیں کرتا تھا اور بری بات سے روکتا بھی تھا لیکن خود کرتا تھا ۔

Hadith 7099
Sahih
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ الْهَيْثَمِ، حَدَّثَنَا عَوْفٌ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ أَبِي بَكْرَةَ، قَالَ لَقَدْ نَفَعَنِي اللَّهُ بِكَلِمَةٍ أَيَّامَ الْجَمَلِ لَمَّا بَلَغَ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم أَنَّ فَارِسًا مَلَّكُوا ابْنَةَ كِسْرَى قَالَ ‏ "‏ لَنْ يُفْلِحَ قَوْمٌ وَلَّوْا أَمْرَهُمُ امْرَأَةً ‏"‏‏.‏
English

Narrated Abu Bakra رضی اللہ عنہ :

During the battle of Al-Jamal, Allah benefited me with a Word (I heard from the Prophet). When the Prophet heard the news that the people of the Persia had made the daughter of Khosrau their Queen (ruler), he said, "Never will succeed such a nation as makes a woman their ruler."

Urdu

ہم سے عثمان بن ہیثم نے بیان کیا ، کہا ہم سے عوف نے بیان کیا ، کہا ان سے حسن نے اور ان سے ابوبکرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ

جنگ جمل کے زمانہ میں مجھے ایک کلمہ نے فائدہ پہنچایا جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو معلوم ہوا کہ فارس کی سلطنت والوں نے بوران نامی کسریٰ کی بیٹی کو بادشاہ بنا لیا ہے تو آپ نے فرمایا کہ وہ قوم کبھی فلاح نہیں پائے گی جس کی حکومت ایک عورت کے ہاتھ میں ہو ۔

Hadith 7100
Sahih
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ، حَدَّثَنَا أَبُو حَصِينٍ، حَدَّثَنَا أَبُو مَرْيَمَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ زِيَادٍ الأَسَدِيُّ، قَالَ لَمَّا سَارَ طَلْحَةُ وَالزُّبَيْرُ وَعَائِشَةُ إِلَى الْبَصْرَةِ بَعَثَ عَلِيٌّ عَمَّارَ بْنَ يَاسِرٍ وَحَسَنَ بْنَ عَلِيٍّ، فَقَدِمَا عَلَيْنَا الْكُوفَةَ فَصَعِدَا الْمِنْبَرَ، فَكَانَ الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ فَوْقَ الْمِنْبَرِ فِي أَعْلاَهُ، وَقَامَ عَمَّارٌ أَسْفَلَ مِنَ الْحَسَنِ، فَاجْتَمَعْنَا إِلَيْهِ فَسَمِعْتُ عَمَّارًا يَقُولُ إِنَّ عَائِشَةَ قَدْ سَارَتْ إِلَى الْبَصْرَةِ، وَوَاللَّهِ إِنَّهَا لَزَوْجَةُ نَبِيِّكُمْ صلى الله عليه وسلم فِي الدُّنْيَا وَالآخِرَةِ، وَلَكِنَّ اللَّهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى ابْتَلاَكُمْ، لِيَعْلَمَ إِيَّاهُ تُطِيعُونَ أَمْ هِيَ‏.‏
English

Narrated Abu Maryam `Abdullah bin Ziyad Al-Aasadi:

When Talha, AzZubair and `Aisha رضی اللہ عنہا moved to Basra, `Ali رضی اللہ عنہا sent `Ammar bin Yasir and Hasan bin `Ali رضی اللہ عنہما who came to us at Kufa and ascended the pulpit. Al-Hasan bin `Ali رضی اللہ عنہما was at the top of the pulpit and `Ammar رضی اللہ عنہا was below Al-Hasan. We all gathered before him. I heard `Ammar رضی اللہ عنہا saying, "`Aisha has moved to Al-Busra. By Allah! She is the wife of your Prophet in this world and in the Hereafter. But Allah has put you to test whether you obey Him (Allah) or her (`Aisha رضی اللہ عنہا ).

Urdu

ہم سے عبداللہ بن محمد نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم سے یحییٰ بن آدم نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم سے ابوبکر بن عیاش نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم سے ابوحصین نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم سے ابومریم عبداللہ بن زیاد الاسدی نے بیان کیا کہ

جب طلحہ ، زبیر اور عائشہ رضی اللہ عنہم بصرہ کی طرف روانہ ہوئے تو علی رضی اللہ عنہ نے عمار بن یاسر اور حسن بن علی رضی اللہ عنہما کو بھیجا ۔ یہ دونوں بزرگ ہمارے پاس کوفہ آئے اور منبر پر چڑھے ۔ حسن بن علی رضی اللہ عنہما منبر کے اوپر سب سے اونچی جگہ تھے اور عمار بن یاسر رضی اللہ عنہما ان سے نیچے تھے ۔ پھر ہم ان کے پاس جمع ہو گئے اور میں نے عمار رضی اللہ عنہ کو یہ کہتے سنا کہ عائشہ رضی اللہ عنہا بصرہ گئی ہیں اور خدا کی قسم وہ دنیا و آخرت میں تمہارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی پاک بیوی ہیں لیکن اللہ تبارک و تعالیٰ نے تمہیں آزمایا ہے تاکہ جان لے کہ تم اس اللہ کی اطاعت کرتے ہو یا عائشہ رضی اللہ عنہا کی ۔

Hadith 7101
Sahih
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي غَنِيَّةَ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، قَامَ عَمَّارٌ عَلَى مِنْبَرِ الْكُوفَةِ، فَذَكَرَ عَائِشَةَ وَذَكَرَ مَسِيرَهَا وَقَالَ إِنَّهَا زَوْجَةُ نَبِيِّكُمْ صلى الله عليه وسلم فِي الدُّنْيَا وَالآخِرَةِ، وَلَكِنَّهَا مِمَّا ابْتُلِيتُمْ‏.‏
English

Narrated Abu Wail:

`Ammar رضی اللہ عنہ stood on the pulpit at Kufa and mentioned `Aisha رضی اللہ عنہا and her coming (to Busra) and said, "She is the wife of your Prophet in this world and in the Hereafter, but you people are being put to test in this issue."

Urdu

ہم سے ابونعیم نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم سے ابن ابی غنیہ نے بیان کیا ، ان سے حکم نے بیان کیا اور ان سے ابووائل نے بیان کیا کہ

کوفہ میں عمار رضی اللہ عنہ منبر پر کھڑے ہوئے اور عائشہ رضی اللہ عنہا اور ان کی روانگی کا ذکر کیا اور کہا کہ بلاشبہ وہ دنیا و آخرت میں تمہارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ ہیں لیکن تم ان کے بارے میں آزمائے گئے ہو ۔

Hadith 7102, 7103, 7104
Sahih
حَدَّثَنَا بَدَلُ بْنُ الْمُحَبَّرِ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، أَخْبَرَنِي عَمْرٌو، سَمِعْتُ أَبَا وَائِلٍ، يَقُولُ دَخَلَ أَبُو مُوسَى وَأَبُو مَسْعُودٍ عَلَى عَمَّارٍ حَيْثُ بَعَثَهُ عَلِيٌّ إِلَى أَهْلِ الْكُوفَةِ يَسْتَنْفِرُهُمْ فَقَالاَ مَا رَأَيْنَاكَ أَتَيْتَ أَمْرًا أَكْرَهَ عِنْدَنَا مِنْ إِسْرَاعِكَ فِي هَذَا الأَمْرِ مُنْذُ أَسْلَمْتَ‏.‏ فَقَالَ عَمَّارٌ مَا رَأَيْتُ مِنْكُمَا مُنْذُ أَسْلَمْتُمَا أَمْرًا أَكْرَهَ عِنْدِي مِنْ إِبْطَائِكُمَا عَنْ هَذَا الأَمْرِ‏.‏ وَكَسَاهُمَا حُلَّةً حُلَّةً، ثُمَّ رَاحُوا إِلَى الْمَسْجِدِ‏.
English

Narrated Abu Wail:

Abu Musa and Abii Mas`ud رضی اللہ عنہما went to `Ammar رضی اللہ عنہ when `Ali رضی اللہ عنہ had sent him to Kufa to exhort them to fight (on `Ali's side). They said to him, "Since you have become a Muslim, we have never seen you doing a deed more criticizable to us than your haste in this matter." `Ammar رضی اللہ عنہ said, "Since you (both) became Muslims, I have never seen you doing a deed more criticizable to me than your keeping away from this matter." Then Abu Mas`ud رضی اللہ عنہ provided `Ammar رضی اللہ عنہ and Abu Musa رضی اللہ عنہ with two-piece outfits to wear, and one of them went to the mosque (of Kufa).

Urdu

ہم سے بدل بن محبر نے بیان کیا ، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا ، کہا کہ مجھ کو عمرو نے خبر دی کہ میں نے ابووائل سے سنا ، انہوں نے بیان کیا کہ

ابوموسیٰ اور ابومسعود رضی اللہ عنہما دونوں عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ کے پاس گئے جب انہیں علی رضی اللہ عنہ نے اہل کوفہ کے پاس اس لیے بھیجا تھا کہ لوگوں کو لڑنے کے لیے تیار کریں ۔ ابوموسیٰ اور ابومسعود رضی اللہ عنہما دونوں عمار رضی اللہ عنہ سے کہنے لگے جب سے تم مسلمانوں ہوئے ہو ہم نے کوئی بات اس سے زیادہ بری نہیں دیکھی جو تم اس کام میں جلدی کر رہے ہو ۔ عمار رضی اللہ عنہ نے جواب دیا میں نے بھی جب سے تم دونوں مسلمان ہوئے ہو تمہاری کوئی بات اس سے بری نہیں دیکھی جو تم اس کام میں دیر کر رہے ہو ۔ ابومسعود رضی اللہ عنہ نے عمار رضی اللہ عنہ اور ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ دونوں کو ایک ایک کپڑے کا نیا جوڑا پہنایا پھر تینوں مل کر مسجد میں تشریف لے گئے ۔

Hadith 7105, 7106, 7107
Sahih
حَدَّثَنَا عَبْدَانُ، عَنْ أَبِي حَمْزَةَ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ شَقِيقِ بْنِ سَلَمَةَ، كُنْتُ جَالِسًا مَعَ أَبِي مَسْعُودٍ وَأَبِي مُوسَى وَعَمَّارٍ فَقَالَ أَبُو مَسْعُودٍ مَا مِنْ أَصْحَابِكَ أَحَدٌ إِلاَّ لَوْ شِئْتُ لَقُلْتُ فِيهِ غَيْرَكَ، وَمَا رَأَيْتُ مِنْكَ شَيْئًا مُنْذُ صَحِبْتَ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم أَعْيَبَ عِنْدِي مِنِ اسْتِسْرَاعِكَ فِي هَذَا الأَمْرِ‏.‏ قَالَ عَمَّارٌ يَا أَبَا مَسْعُودٍ وَمَا رَأَيْتُ مِنْكَ وَلاَ مِنْ صَاحِبِكَ هَذَا شَيْئًا مُنْذُ صَحِبْتُمَا النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم أَعْيَبَ عِنْدِي مِنْ إِبْطَائِكُمَا فِي هَذَا الأَمْرِ‏.‏ فَقَالَ أَبُو مَسْعُودٍ وَكَانَ مُوسِرًا يَا غُلاَمُ هَاتِ حُلَّتَيْنِ‏.‏ فَأَعْطَى إِحْدَاهُمَا أَبَا مُوسَى وَالأُخْرَى عَمَّارًا وَقَالَ رُوحَا فِيهِ إِلَى الْجُمُعَةِ‏.
English

Narrated Shaqiq bin Salama:

I was sitting with Abu Mas`ud and Abu Musa and `Ammar. Abu Mas`ud رضی اللہ عنہم said (to `Ammar رضی اللہ عنہ ), "There is none of your companions but, if I wish, I could find fault with him except with you. Since you joined the company of the Prophet (ﷺ) I have never seen anything done by you more criticizable by me than your haste in this issue." `Ammar رضی اللہ عنہ said, "O Abu Mas`ud! I have never seen anything done by you or by this companion of yours (i.e., Abu Musa رضی اللہ عنہ ) more criticizable by me than your keeping away from this issue since the time you both joined the company of the Prophet." Then Abu Mas`ud رضی اللہ عنہ who was a rich man, said (to his servant), "O boy! Bring two suits." Then he gave one to Abu Musa رضی اللہ عنہ and the other to `Ammar رضی اللہ عنہ and said (to them), "Put on these suits before going for the Friday prayer."

Urdu

ہم سے عبدان نے بیان کیا ، ان سے ابوحمزہ نے بیان کیا ، ان سے اعمش نے ، ان سے شقیق بن سلمہ نے کہ

میں ابومسعود ، ابوموسیٰ اور عمار رضی اللہ عنہم کے ساتھ بیٹھا ہوا تھا ۔ ابومسعود رضی اللہ عنہ نے عمار رضی اللہ عنہ سے کہا ہمارے ساتھ والے جتنے لوگ ہیں میں اگر چاہوں تو تمہارے سوا ان میں سے ہر ایک کا کچھ نہ کچھ عیب بیان کر سکتا ہوں ۔ ( لیکن تم ایک بے عیب ہو ) اور جب سے تم نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت اختیار کی ، میں نے کوئی عیب کا کام تمہارا نہیں دیکھا ۔ ایک یہی عیب کا کام دیکھتا ہوں ، تم اس دور میں یعنی لوگوں کو جنگ کے لیے اٹھانے میں جلدی کرہے ہو ۔ عمار رضی اللہ عنہ نے کہا ابومسعود رضی اللہ عنہ تم سے اور تمہارے ساتھی ابوموسیٰ اشعری سے جب سے تم دونوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت اختیار کی ہے میں نے کوئی عیب کا کام اس سے زیادہ نہیں دیکھا جو تم دونوں اس کام میں دیر کر رہے ہو ۔ اس پر ابومسعود رضی اللہ عنہ نے کہا اور وہ مالدار آدمی تھے کہ غلام ! دو حلے لاؤ ۔ چنانچہ انہوں نے ایک حلہ ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ کو دیا اور دوسرا عمار رضی اللہ عنہ کو اور کہا کہ آپ دونوں بھائی کپڑے پہن کر جمعہ پڑھنے چلیں ۔

Hadith 7108
Sahih
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُثْمَانَ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ، أَخْبَرَنَا يُونُسُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، أَخْبَرَنِي حَمْزَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عُمَرَ ـ رضى الله عنهما ـ يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ إِذَا أَنْزَلَ اللَّهُ بِقَوْمٍ عَذَابًا، أَصَابَ الْعَذَابُ مَنْ كَانَ فِيهِمْ، ثُمَّ بُعِثُوا عَلَى أَعْمَالِهِمْ ‏"‏‏.‏
English

Narrated Ibn `Umar رضی اللہ عنہما :

Allah's Messenger (ﷺ) said, "If Allah sends punishment upon a nation then it befalls upon the whole population indiscriminately and then they will be resurrected (and judged) according to their deeds. "

Urdu

ہم سے عبداللہ بن عثمان نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم کو عبداللہ بن مبارک نے خبر دی ، انہیں یونس نے خبر دی ، انہیں زہری نے ، انہیں حمزہ بن عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے خبر دی اور ان سے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے سنا ، انہوں نے بیان کیا کہ

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ، جب اللہ کسی قوم پر عذاب نازل کرتا ہے تو عذاب ان سب لوگوں پر آتا ہے جو اس قوم میں ہوتے ہیں پھر انہیں ان کے اعمال کے مطابق اٹھایا جائے گا ۔

Hadith 7109
Sahih
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ أَبُو مُوسَى، وَلَقِيتُهُ، بِالْكُوفَةِ جَاءَ إِلَى ابْنِ شُبْرُمَةَ فَقَالَ أَدْخِلْنِي عَلَى عِيسَى فَأَعِظَهُ‏.‏ فَكَأَنَّ ابْنَ شُبْرُمَةَ خَافَ عَلَيْهِ فَلَمْ يَفْعَلْ‏.‏ قَالَ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ قَالَ لَمَّا سَارَ الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ ـ رضى الله عنهما ـ إِلَى مُعَاوِيَةَ بِالْكَتَائِبِ‏.‏ قَالَ عَمْرُو بْنُ الْعَاصِ لِمُعَاوِيَةَ أَرَى كَتِيبَةً لاَ تُوَلِّي حَتَّى تُدْبِرَ أُخْرَاهَا‏.‏ قَالَ مُعَاوِيَةُ مَنْ لِذَرَارِيِّ الْمُسْلِمِينَ‏.‏ فَقَالَ أَنَا‏.‏ فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَامِرٍ وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَمُرَةَ نَلْقَاهُ فَنَقُولُ لَهُ الصُّلْحَ‏.‏ قَالَ الْحَسَنُ وَلَقَدْ سَمِعْتُ أَبَا بَكْرَةَ قَالَ بَيْنَا النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يَخْطُبُ جَاءَ الْحَسَنُ فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ ابْنِي هَذَا سَيِّدٌ وَلَعَلَّ اللَّهَ أَنْ يُصْلِحَ بِهِ بَيْنَ فِئَتَيْنِ مِنَ الْمُسْلِمِينَ ‏"‏‏.‏
English

Narrated Al-Hasan Al-Basri:

I met Hadrat Abu Musa Ashari in koufah when he (the latter) went to Ibn-e-Shubrumah and said: Escort me to Isa bin Musa. Ibn-e-Shubrumah dot frightened and he did do so. Hasan Basri says that when Imam Hasan bin Ali raising a huge army advanced towards Hadrat Moaviyah, Hadrat Amr bin Al-Aas said When Al-Hasan bin `Ali moved with army units against Muawiya, `Amr bin AL-As said to Muawiya رضی اللہ عنہم , "I see an army that will not retreat unless and until the opposing army retreats." Muawiya رضی اللہ عنہ said, "(If the Muslims are killed) who will look after their children?" `Amr bin Al-As said: I (will look after them). On that, `Abdullah bin 'Amir and `Abdur-Rahman bin Samura said, "Let us meet Muawaiya رضی اللہ عنہ and suggest peace." Al-Hasan Al-Basri added: No doubt, I heard that Abu Bakra رضی اللہ عنہ said, "Once while the Prophet was addressing (the people), Al-Hasan (bin `Ali رضی اللہ عنہ) came and the Prophet (ﷺ) said, 'This son of mine is a chief, and Allah may make peace between two groups of Muslims through him."

Urdu

ہم سے علی بن عبداللہ نے بیان کیا ، کہا ہم سے سفیان نے بیان کیا ، کہا ہم سے اسرائیل ابوموسیٰ نے بیان کیا

اور میری ان سے ملاقات کوفہ میں ہوئی تھی ۔ وہ ابن شبرمہ کے پاس آئے اور کہا کہ مجھے عیسیٰ ( منصور کے بھائی اور کوفہ کے والی ) کے پاس لے چلو تاکہ میں اسے نصیحت کروں ۔ غالباً ابن شبرمہ نے خوف محسوس کیا اور نہیں لے گئے ۔ انہوں نے اس پر بیان کیا کہ ہم سے حسن بصری نے بیان کیا کہ جب حسن بن علی امیر معاویہ رضی اللہ عنہم کے خلاف لشکر لے کر نکلے تو عمرو بن عاص نے امیر معاویہ رضی اللہ عنہ سے کہا کہ میں ایسا لشکر دیکھتا ہوں جو اس وقت تک واپس نہیں جا سکتا جب تک اپنے مقابل کو بھگا نہ لے ۔ پھر امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ مسلمانوں کے اہل و عیال کا کون کفیل ہو گا ؟ جواب دیا کہ میں ۔ پھر عبداللہ بن عامر اور عبدالرحمٰن بن سمرہ نے کہا کہ ہم امیرمعاویہ رضی اللہ عنہ سے ملتے ہیں ( اور ان سے صلح کے لیے کہتے ہیں ) حسن بصری نے کہا کہ میں نے ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے سنا ، انہوں نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ دے رہے تھے کہ حسن رضی اللہ عنہ آئے تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میرا یہ بیٹا سید ہے اور امید ہے کہ اس کے ذریعہ اللہ مسلمانوں کی دو جماعتوں میں صلح کرا دے گا ۔

Hadith 7110
Sahih
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قَالَ قَالَ عَمْرٌو أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ، أَنَّ حَرْمَلَةَ، مَوْلَى أُسَامَةَ أَخْبَرَهُ قَالَ عَمْرٌو وَقَدْ رَأَيْتُ حَرْمَلَةَ قَالَ أَرْسَلَنِي أُسَامَةُ إِلَى عَلِيٍّ وَقَالَ إِنَّهُ سَيَسْأَلُكَ الآنَ فَيَقُولُ مَا خَلَّفَ صَاحِبَكَ فَقُلْ لَهُ يَقُولُ لَكَ لَوْ كُنْتَ فِي شِدْقِ الأَسَدِ لأَحْبَبْتُ أَنْ أَكُونَ مَعَكَ فِيهِ، وَلَكِنَّ هَذَا أَمْرٌ لَمْ أَرَهُ، فَلَمْ يُعْطِنِي شَيْئًا، فَذَهَبْتُ إِلَى حَسَنٍ وَحُسَيْنٍ وَابْنِ جَعْفَرٍ فَأَوْقَرُوا لِي رَاحِلَتِي‏.‏
English

Narrated Harmala:

(Usama's Maula) Usama (bin Zaid) sent me to `Ali رضی اللہ عنہ (at Kufa) and said, "`Ali رضی اللہ عنہ will ask you, 'What has prevented your companion from joining me?' You then should say to him, 'If you (`Ali) were in the mouth of a lion, I would like to be with you, but in this matter I won't take any part.' " Harmala added: "`Ali didn't give me anything (when I conveyed the message to him) so I went to Hasan, Hussain and Ibn Ja`far رضی اللہ عنہم and they loaded my camels with much (wealth).

Urdu

ہم سے علی بن عبداللہ نے بیان کیا ، کہا ہم سے سفیان نے ، کہا کہ عمرو نے بیان کیا ، انہیں محمد بن علی نے خبر دی ، انہیں اسامہ رضی اللہ عنہ کے غلام حرملہ نے خبر دی ۔ عمرو نے بیان کیا کہ میں نے حرملہ کو دیکھا تھا ۔ حرملہ نے بیان کیا کہ

مجھے اسامہ نے علی رضی اللہ عنہ کے پاس بھیجا اور مجھ سے کہا ، اس وقت تم سے علی رضی اللہ عنہ پوچھیں گے کہ تمہارے ساتھی ( اسامہ رضی اللہ عنہ ) جنگ جمل و صفین سے کیوں پیچھے رہ گئے تھے تو ان سے کہنا کہ انہوں نے آپ سے کہا ہے کہ اگر آپ شیر کے منہ میں ہوں تب بھی میں اس میں بھی آپ کے ساتھ رہوں لیکن یہ معاملہ ہی ایسا ہے یعنی مسلمانوں کی آپس کی جنگ تو ( اس میں شرکت صحیح ) نہیں معلوم ہوئی ( حرملہ کہتے ہیں کہ ) چنانچہ انہوں نے کوئی چیز نہیں دی ۔ پھر میں حسن ، حسین اور عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہم کے پاس گیا تو انہوں نے میری سواری پر اتنا مال لدوا دیا جتنا کہ اونٹ اٹھا نہ سکتا تھا ۔

Hadith 7111
Sahih
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ نَافِعٍ، قَالَ لَمَّا خَلَعَ أَهْلُ الْمَدِينَةِ يَزِيدَ بْنَ مُعَاوِيَةَ جَمَعَ ابْنُ عُمَرَ حَشَمَهُ وَوَلَدَهُ فَقَالَ إِنِّي سَمِعْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ‏ "‏ يُنْصَبُ لِكُلِّ غَادِرٍ لِوَاءٌ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ‏"‏‏.‏ وَإِنَّا قَدْ بَايَعْنَا هَذَا الرَّجُلَ عَلَى بَيْعِ اللَّهِ وَرَسُولِهِ، وَإِنِّي لاَ أَعْلَمُ غَدْرًا أَعْظَمَ مِنْ أَنْ يُبَايَعَ رَجُلٌ عَلَى بَيْعِ اللَّهِ وَرَسُولِهِ، ثُمَّ يُنْصَبُ لَهُ الْقِتَالُ، وَإِنِّي لاَ أَعْلَمُ أَحَدًا مِنْكُمْ خَلَعَهُ، وَلاَ بَايَعَ فِي هَذَا الأَمْرِ، إِلاَّ كَانَتِ الْفَيْصَلَ بَيْنِي وَبَيْنَهُ‏.‏
English

Narrated Nafi`:

When the people of Medina dethroned Yazid bin Muawiya, Ibn `Umar gathered his special friends and children and said, "I heard the Prophet (ﷺ) saying, 'A flag will be fixed for every betrayer on the Day of Resurrection,' and we have given the oath of allegiance to this person (Yazid) in accordance with the conditions enjoined by Allah and His Apostle and I do not know of anything more faithless than fighting a person who has been given the oath of allegiance in accordance with the conditions enjoined by Allah and His Apostle , and if ever I learn that any person among you has agreed to dethrone Yazid, by giving the oath of allegiance (to somebody else) then there will be separation between him and me."

Urdu

ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم سے حماد بن زید نے بیان کیا ، ان سے ایوب نے ، ان سے نافع نے کہ

جب اہل مدینہ نے یزید بن معاویہ کی بیعت سے انکار کیا تو عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے اپنے خادموں اور لڑکوں کو جمع کیا اور کہا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے ۔ آپ نے فرمایا کہ ہر غدر کرنے والے کے لیے قیامت کے دن ایک جھنڈا کھڑا کیا جائے گا اور ہم نے اس شخص ( یزید ) کی بیعت ، اللہ اور اس کے رسول کے نام پر کی ہے اور میرے علم میں کوئی غدر اس سے بڑھ کر نہیں ہے کہ کسی شخص سے اللہ اور اس کے رسول کے نام پر بیعت کی جائے اور پھر اس سے جنگ کی جائے اور دیکھو مدینہ والو ! تم میں سے جو کوئی یزید کی بیعت کو توڑے اور دوسرے کسی سے بیعت کرے تو مجھ میں اور اس میں کوئی تعلق نہیں رہا ، میں اس سے الگ ہوں ۔

Hadith 7112
Sahih
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا أَبُو شِهَابٍ، عَنْ عَوْفٍ، عَنْ أَبِي الْمِنْهَالِ، قَالَ لَمَّا كَانَ ابْنُ زِيَادٍ وَمَرْوَانُ بِالشَّأْمِ، وَوَثَبَ ابْنُ الزُّبَيْرِ بِمَكَّةَ، وَوَثَبَ الْقُرَّاءُ بِالْبَصْرَةِ، فَانْطَلَقْتُ مَعَ أَبِي إِلَى أَبِي بَرْزَةَ الأَسْلَمِيِّ حَتَّى دَخَلْنَا عَلَيْهِ فِي دَارِهِ وَهْوَ جَالِسٌ فِي ظِلِّ عُلِّيَّةٍ لَهُ مِنْ قَصَبٍ، فَجَلَسْنَا إِلَيْهِ فَأَنْشَأَ أَبِي يَسْتَطْعِمُهُ الْحَدِيثَ فَقَالَ يَا أَبَا بَرْزَةَ أَلاَ تَرَى مَا وَقَعَ فِيهِ النَّاسُ فَأَوَّلُ شَىْءٍ سَمِعْتُهُ تَكَلَّمَ بِهِ إِنِّي احْتَسَبْتُ عِنْدَ اللَّهِ أَنِّي أَصْبَحْتُ سَاخِطًا عَلَى أَحْيَاءِ قُرَيْشٍ، إِنَّكُمْ يَا مَعْشَرَ الْعَرَبِ كُنْتُمْ عَلَى الْحَالِ الَّذِي عَلِمْتُمْ مِنَ الذِّلَّةِ وَالْقِلَّةِ وَالضَّلاَلَةِ، وَإِنَّ اللَّهَ أَنْقَذَكُمْ بِالإِسْلاَمِ وَبِمُحَمَّدٍ صلى الله عليه وسلم حَتَّى بَلَغَ بِكُمْ مَا تَرَوْنَ، وَهَذِهِ الدُّنْيَا الَّتِي أَفْسَدَتْ بَيْنَكُمْ، إِنَّ ذَاكَ الَّذِي بِالشَّأْمِ وَاللَّهِ إِنْ يُقَاتِلُ إِلاَّ عَلَى الدُّنْيَا‏.‏
English

Narrated Abu Al-Minhal:

When Ibn Ziyad and Marwan were in Sham and Ibn Az-Zubair رضی اللہ عنہ took over the authority in Mecca and Qurra' (the Kharijites) revolted in Basra, I went out with my father to Abu Barza Al-Aslami رضی اللہ عنہ till we entered upon him in his house while he was sitting in the shade of a room built of cane. So we sat with him and my father started talking to him saying, "O Abu Barza! Don't you see in what dilemma the people has fallen?" The first thing heard him saying "I seek reward from Allah for myself because of being angry and scornful at the Quraish tribe. O you Arabs! You know very well that you were in misery and were few in number and misguided, and that Allah has brought you out of all that with Islam and with Muhammad till He brought you to this state (of prosperity and happiness) which you see now; and it is this worldly wealth and pleasures which has caused mischief to appear among you. The one who is in Sham (i.e., Marwan), by Allah, is not fighting except for the sake of worldly gain: and those who are among you, by Allah, are not fighting except for the sake of worldly gain; and that one who is in Mecca (i.e., Ibn Az-Zubair رضی اللہ عنہما ) by Allah, is not fighting except for the sake of worldly gain."

Urdu

ہم سے احمد بن یونس نے بیان کیا ‘ انہوں نے کہا ہم سے شہاب نے بیان کیا ان سے جوف نے بیان کیا ‘ ان سے ابومنہال نے بیان کیا کہ

جب عبداللہ بن زیاد اور مروان شام میں تھے اور ابن زبیر رضی اللہ عنہ نے مکہ میں اور خوارج نے بصرہ میں قبضہ کر لیا تھا تو میں اپنے والد کے ساتھ حضرت ابوبرزہ اسلمی رضی اللہ عنہ کے پاس گیا ۔ جب ہم ان کے گھر میں ایک کمرہ کے سایہ میں بیٹھے ہوئے تھے جو بانس کا بنا ہوا تھا ‘ ہم ان کے پاس بیٹھ گئے اور میرے والد ان سے بات کرنے لگے اور کہا اے ابوبرزہ ! آپ نہیں دیکھتے لوگ کن باتوں میں آفت اور اختلاف میں الجھ گئے ہیں ۔ میں نے ان کی زبان سے سب سے پہلی بات یہ سنی کہ میں جو ان قریش کے لوگوں سے ناراض ہوں تو محض اللہ کی رضامندی کے لیے ‘ اللہ میرا اجر دینے والا ہے ۔ عرب کے لوگو ! تم جانتے ہو پہلے تمہارا کیا حال تھا تم گمراہی میں گرفتار تھے ‘ اللہ نے اسلام کے ذریعہ اور حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ تم کو اس بری حالت سے نجات دی ۔ یہاں تک کہ تم اس رتبہ کو پہنچے ۔ ( دنیا کے حاکم اور سردار بن گئے ) پھر اسی دنیا نے تم کو خراب کر دیا ۔ دیکھو ! یہ شخص جو شام میں حاکم بن بیٹھا ہے یعنی مروان دنیا کے لئے لڑ رہا ہے ۔ یہ لوگ جو تمہارے سامنے ہیں ۔ ( خوارج ) واللہ ! یہ لوگ صرف دنیا کے لیے لڑرہے ہیں اور وہ جو مکہ میں ہے عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما واللہ ! وہ بھی صرف دنیا کے لیے لڑ رہا ہے ۔

Hadith 7113
Sahih
حَدَّثَنَا آدَمُ بْنُ أَبِي إِيَاسٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ وَاصِلٍ الأَحْدَبِ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ حُذَيْفَةَ بْنِ الْيَمَانِ، قَالَ إِنَّ الْمُنَافِقِينَ الْيَوْمَ شَرٌّ مِنْهُمْ عَلَى عَهْدِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم كَانُوا يَوْمَئِذٍ يُسِرُّونَ وَالْيَوْمَ يَجْهَرُونَ‏.‏
English

Narrated Hudhaifa bin Al-Yaman:

'The hypocrites of today are worse than those of the lifetime of the Prophet, because in those days they used to do evil deeds secretly but today they do such deeds openly.'

Urdu

ہم سے آدم بن ابی ایاس نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا ‘ ان سے واصل احدب نے ‘ ان سے ابووائل نے اور ان سے حذیفہ بن الیمان نے بیان کیا کہ

آج کل کے منافق نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے کے منافقین سے بد تر ہیں ۔ اس وقت چھپاتے تھے اور آج اس کا کھلم کھلا اظہار کر رہے ہیں ۔