Narrated `Abdullah رضی اللہ عنہما :
"One night Allah's Messenger (ﷺ) led us in the `Isha' prayer and that is the one called Al-`Atma [??] by the people. After the completion of the prayer, he faced us and said, "Do you know the importance of this night? Nobody present on the surface of the earth tonight will be living after one hundred years from this night." (See Hadith No. 575).
ہم سے عبدان عبداللہ بن عثمان نے بیان کیا ، انھوں نے کہا ہمیں عبداللہ بن مبارک نے خبر دی ، انھوں نے کہا ہمیں یونس بن یزید نے خبر دی زہری سے کہ سالم نے یہ کہا کہ مجھے ( میرے باپ ) عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے خبر دی کہ
ایک رات نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں عشاء کی نماز پڑھائی ۔ یہی جسے لوگ «عتمه» کہتے ہیں ۔ پھر ہمیں خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ تم اس رات کو یاد رکھنا ۔ آج جو لوگ زندہ ہیں ایک سو سال کے گزرنے تک روئے زمین پر ان میں سے کوئی بھی باقی نہیں رہے گا ۔
Narrated Muhammad bin `Amr:
We asked Jabir bin `Abdullah about the prayers of the Prophet (ﷺ) . He said, "He used to pray Zuhr prayer at midday, the `Asr when the sun was still hot, and the Maghrib after sunset (at its stated time). The `Isha was offered early if the people gathered, and used to be delayed if their number was less; and the morning prayer was offered when it was still dark. "
ہم سے مسلم بن ابراہیم نے بیان کیا ، کہا ہم سے شعبہ حجاج نے سعد بن ابراہیم سے بیان کیا ، وہ محمد بن عمرو سے جو حسن بن علی بن ابی طالب کے بیٹے ہیں ، فرمایا کہ
ہم نے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کے بارے میں دریافت کیا ۔ تو آپ نے فرمایا کہ آپ نماز ظہر دوپہر میں پڑھتے تھے ۔ اور جب نماز عصر پڑھتے تو سورج صاف روشن ہوتا ۔ مغرب کی نماز واجب ہوتے ہی ادا فرماتے ، اور ’’ عشاء ‘‘ میں اگر لوگ جلدی جمع ہو جاتے تو جلدی پڑھ لیتے اور اگر آنے والوں کی تعداد کم ہوتی تو دیر کرتے ۔ اور صبح کی نماز منہ اندھیرے میں پڑھا کرتے تھے ۔
Narrated `Aisha رضی اللہ عنہا :
Allah's Messenger (ﷺ) once delayed the `Isha' prayer and that was during the days when Islam still had not spread. The Prophet (ﷺ) did not come out till `Umar رضی اللہ عنہ informed him that the women and children had slept. Then he came out and said to the people of the mosque: "None amongst the dwellers of the earth has been waiting for it (`Isha prayer) except you."
ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا ، انھوں نے کہا ہم سے لیث بن سعد نے عقیل کے واسطے سے بیان کیا ، انھوں نے ابن شہاب سے ، انھوں نے عروہ سے کہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے انہیں خبر دی کہ
ایک رات رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عشاء کی نماز دیر سے پڑھی ۔ یہ اسلام کے پھیلنے سے پہلے کا واقعہ ہے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت تک باہر تشریف نہیں لائے جب تک حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے یہ نہ فرمایا کہ عورتیں اور بچے سو گئے ۔ پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور فرمایا کہ تمہارے علاوہ دنیا میں کوئی بھی انسان اس نماز کا انتظار نہیں کرتا ۔
Narrated Abu Musa رضی اللہ عنہ :
My companions, who came with me in the boat and I landed at a place called Baqi [??] Buthan [??] . The Prophet (ﷺ) was in Medina at that time. One of us used to go to the Prophet (ﷺ) by turns every night at the time of the `Isha prayer. Once I along with my companions went to the Prophet (ﷺ) and he was busy in some of his affairs, so the `Isha' prayer was delayed to the middle of the night He then came out and led the people (in prayer). After finishing from the prayer, he addressed the people present there saying, "Be patient! Don't go away. Have the glad tiding. It is from the blessing of Allah upon you that none amongst mankind has prayed at this time save you." Or said, "None except you has prayed at this time." Abu Musa added, 'So we returned happily after what we heard from Allah's Messenger (ﷺ) ."
ہم سے محمد بن علاء نے بیان کیا کہا ہم سے ابواسامہ نے برید کے واسطہ سے ، انھوں نے ابربردہ سے انھوں نے حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے ، آپ نے فرمایا کہ
میں نے اپنے ان ساتھیوں کے ساتھ جو کشتی میں میرے ساتھ ( حبشہ سے ) آئے تھے ’’ بقیع بطحان ‘‘ میں قیام کیا ۔ اس وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ میں تشریف رکھتے تھے ۔ ہم میں سے کوئی نہ کوئی عشاء کی نماز میں روزانہ باری مقرر کر کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا کرتا تھا ۔ اتفاق سے میں اور میرے ایک ساتھی ایک مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے کسی کام میں مشغول تھے ۔ ( کسی ملی معاملہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ گفتگو فرما رہے تھے ) جس کی وجہ سے نماز میں دیر ہو گئی اور تقریباً آدھی رات گزر گئی ۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور نماز پڑھائی ۔ نماز پوری کر چکے تو حاضرین سے فرمایا کہ اپنی اپنی جگہ پر وقار کے ساتھ بیٹھے رہو اور ایک خوشخبری سنو ۔ تمہارے سوا دنیا میں کوئی بھی ایسا آدمی نہیں جو اس وقت نماز پڑھتا ہو ، یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا کہ تمہارے سوا اس وقت کسی ( امت ) نے بھی نماز نہیں پڑھی تھی ۔ یہ یقین نہیں کہ آپ نے ان دو جملوں میں سے کون سا جملہ کہا تھا ۔ پھر راوی نے کہا کہ ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ۔ پس ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ سن کر بہت ہی خوش ہو کر لوٹے ۔
Narrated Abu Barza رضی اللہ عنہ :
Allah's Messenger (ﷺ) disliked to sleep before the `Isha' prayer and to talk after it.
ہم سے محمد بن سلام نے بیان کیا ، انھوں نے کہا ہم سے عبدالوہاب ثقفی نے بیان کیا ، انھوں نے کہا کہ ہم سے خالد حذاء نے بیان کیا ابوالمنہال سے ، انھوں نے ابوبرزہ اسلمی رضی اللہ عنہ سے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عشاء سے پہلے سونے اور اس کے بعد بات چیت کرنے کو ناپسند فرماتے تھے ۔
Narrated `Aisha رضی اللہ عنہا :
"Once Allah's Messenger (ﷺ) delayed the `Isha' prayer till `Umar رضی اللہ عنہ reminded him by saying, "The prayer!" The women and children have slept. Then the Prophet (ﷺ) came out and said, 'None amongst the dwellers of the earth has been waiting for it (the prayer) except you." `Urwa said, "Nowhere except in Medina the prayer used to be offered (in those days)." He further said, "The Prophet (ﷺ) used to offer the `Isha' prayer in the period between the disappearance of the twilight and the end of the first third of the night."
ہم سے ایوب بن سلیمان نے بیان کیا ، کہا ہم سے ابوبکرنے سلیمان سے ، ان سے صالح بن کیسان نے بیان کیا کہ مجھے ابن شہاب نے عروہ سے خبر دی کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے بتلایا کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دفعہ عشاء کی نماز میں دیر فرمائی ۔ یہاں تک کہ عمر رضی اللہ عنہ نے پکارا ، نماز ! عورتیں اور بچے سب سو گئے ۔ تب آپ صلی اللہ علیہ وسلم گھر سے باہر تشریف لائے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ روئے زمین پر تمہارے علاوہ اور کوئی اس نماز کا انتظار نہیں کرتا ۔ راوی نے کہا ، اس وقت یہ نماز ( باجماعت ) مدینہ کے سوا اور کہیں نہیں پڑھی جاتی تھی ۔ صحابہ اس نماز کو شام کی سرخی کے غائب ہونے کے بعد رات کے پہلے تہائی حصہ تک ( کسی وقت بھی ) پڑھتے تھے ۔
Narrated `Abdullah bin `Uma رضی اللہ عنہما :
"Once Allah's Messenger (ﷺ) was busy (at the time of the `Isha'), so the prayer was delayed so much so that we slept and woke up and slept and woke up again. The Prophet (ﷺ) came out and said, 'None amongst the dwellers of the earth but you have been waiting for the prayer." Ibn `Umar رضی اللہ عنہما did not find any harm in praying it earlier or in delaying it unless he was afraid that sleep might overwhelm him and he might miss the prayer, and sometimes he used to sleep before the `Isha' prayer. Ibn Juraij said, "I said to `Ata' , 'I heard Ibn `Abbas saying: Once Allah's Messenger (ﷺ) delayed the `Isha' prayer to such an extent that the people slept and got up and slept again and got up again. Then `Umar bin Al-Khattab I, stood up and reminded the Prophet (ﷺ) I of the prayer.' `Ata' said, 'Ibn `Abbas said: The Prophet came out as if I was looking at him at this time, and water was trickling from his head and he was putting his hand on his head and then said, 'Hadn't I thought it hard for my followers, I would have ordered them to pray (`Isha' prayer) at this time.' I asked `Ata' for further information, how the Prophet had kept his hand on his head as he was told by Ibn `Abbas رضی اللہ عنہما . `Ata' separated his fingers slightly and put their tips on the side of the head, brought the fingers downwards approximating them till the thumb touched the lobe of the ear at the side of the temple and the beard on the face. He neither slowed nor hurried in this action but he acted like that. The Prophet (ﷺ) said: "Hadn't I thought it hard for my followers I would have ordered them to pray at this time."
ہم سے محمود نے بیان کیا ، انھوں نے کہا ہم سے عبدالرزاق نے بیان کیا ، انھوں نے کہا ہمیں ابن جریج نے خبر دی ، انھوں نے کہا کہ مجھے نافع نے خبر دی ، انھوں نے کہا مجھے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے خبر دی کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک رات کسی کام میں مشغول ہو گئے اور بہت دیر کی ۔ ہم ( نماز کے انتظار میں بیٹھے ہوئے ) مسجد ہی میں سو گئے ، پھر ہم بیدار ہوئے ، پھر ہم سو گئے ، پھر ہم بیدار ہوئے ۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم گھر سے باہر تشریف لائے اور فرمایا کہ دنیا کا کوئی شخص بھی تمہارے سوا اس نماز کا انتظار نہیں کرتا ۔ اگر نیند کا غلبہ نہ ہوتا تو ابن عمر رضی اللہ عنہما عشاء کو پہلے پڑھنے یا بعد میں پڑھنے کو کوئی اہمیت نہیں دیتے تھے ۔ کبھی نماز عشاء سے پہلے آپ سو بھی لیتے تھے ۔ ابن جریج نے کہا میں نے عطاء سے معلوم کیا ۔میں نے حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے سنا تھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک رات عشاء کی نماز میں دیر کی جس کے نتیجہ میں لوگ ( مسجد ہی میں ) سو گئے ۔ پھر بیدار ہوئے پھر سو گئے ‘ پھر بیدار ہوئے ۔ آخر میں عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ اٹھے اور پکارا ’’ نماز ‘‘ عطاء نے کہا کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بتلایا کہ اس کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم گھر سے تشریف لائے ۔ وہ منظر میری نگاہوں کے سامنے ہے جب کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سرمبارک سے پانی کے قطرے ٹپک رہے تھے اور آپ ہاتھ سر پر رکھے ہوئے تھے ۔ آپ نے فرمایا کہ اگر میری امت کے لیے مشکل نہ ہو جاتی ، تو میں انہیں حکم دیتا کہ عشاء کی نماز کو اسی وقت پڑھیں ۔ میں نے عطاء سے مزید تحقیق چاہی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ سر پر رکھنے کی کیفیت کیا تھی ؟ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے انہیں اس سلسلے میں کس طرح خبر دی تھی ۔ اس پر حضرت عطاء نے اپنے ہاتھ کی انگلیاں تھوڑی سی کھول دیں اور انہیں سر کے ایک کنارے پر رکھا پھر انہیں ملا کر یوں سر پر پھیرنے لگے کہ ان کا انگوٹھا کان کے اس کنارے سے جو چہرے سے قریب ہے اور داڑھی سے جا لگا ۔ نہ سستی کی اور نہ جلدی ، بلکہ اس طرح کیا اور کہا کہ پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر میری امت پر مشکل نہ گزرتی تو میں حکم دیتا کہ اس نماز کو اسی وقت پڑھا کریں ۔
Narrated Anas رضی اللہ عنہ :
The Prophet (ﷺ) delayed the `Isha' prayer till midnight and then he offered the prayer and said, "The people prayed and slept but you have been in prayer as long as you have been waiting for it (the prayer)." Anas added: As if I am looking now at the glitter of the ring of the Prophet (ﷺ) on that night.
ہم سے عبدالرحیم محاربی نے بیان کیا ، کہا ہم سے زائدہ نے حمید طویل سے ، انھوں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ( ایک دن ) عشاء کی نماز آدھی رات گئے پڑھی ۔ اور فرمایا کہ دوسرے لوگ نماز پڑھ کر سو گئے ہوں گے ۔ ( یعنی دوسری مساجد میں پڑھنے والے مسلمان ) اور تم لوگ جب تک نماز کا انتظار کرتے رہے ( گویا سارے وقت ) نماز ہی پڑھتے رہے ۔ ابن مریم نے اس میں یہ زیادہ کیا کہ ہمیں یحییٰ بن ایوب نے خبر دی ۔ کہا مجھ سے حمید طویل نے بیان کیا ، انھوں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے یہ سنا ، گویا اس رات آپ کی انگوٹھی کی چمک کا نقشہ اس وقت بھی میری نظروں کے سامنے چمک رہا ہے ۔
Narrated Jarir bin `Abdullah:
We were with the Prophet (ﷺ) on a full moon night. He looked at the moon and said, "You will certainly see your Lord as you see this moon, and there will be no trouble in seeing Him. So if you can avoid missing (through sleep, business, etc.) a prayer before the rising of the sun (Fajr) and before its setting (`Asr) you must do so. He (the Prophet (ﷺ) ) then recited the following verse: ''. . . And celebrate the praises Of Your Lord before The rising of the sun And before (its) setting." (50.39)
ہم سے مسدد نے بیان کیا ، کہا ہم سے یحییٰ نے اسماعیل سے ، کہا ہم سے قیس نے بیان کیا ، کہا مجھ سے جریر بن عبداللہ نے بیان کیا ، کہ
ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر تھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے چاند کی طرف نظر اٹھائی جو چودھویں رات کا تھا ۔ پھر فرمایا کہ تم لوگ بے ٹوک اپنے رب کو اسی طرح دیکھو گے جیسے اس چاند کو دیکھ رہے ہو ( اسے دیکھنے میں تم کو کسی قسم کی بھی مزاحمت نہ ہو گی ) یا یہ فرمایا کہ تمہیں اس کے دیدار میں مطلق شبہ نہ ہو گا اس لیے اگر تم سے سورج کے طلوع اور غروب سے پہلے ( فجر اور عصر ) کی نمازوں کے پڑھنے میں کوتاہی نہ ہو سکے تو ایسا ضرور کرو ۔ ( کیونکہ ان ہی کے طفیل دیدار الٰہی نصیب ہو گا یا ان ہی وقتوں میں یہ رویت ملے گی ) پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت تلاوت فرمائی «فسبح بحمد ربك قبل طلوع الشمس وقبل غروبها» ’’ پس اپنے رب کے حمد کی تسبیح پڑھ سورج کے نکلنے اور اس کے غروب ہونے سے پہلے ۔ ‘‘ امام ابوعبداللہ بخاری رحمہ اللہ علیہ نے کہا کہ ابن شہاب نے اسماعیل کے واسطہ سے جو قیس سے بواسطہ جریر ( راوی ہیں ) یہ زیادتی نقل کی کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’ تم اپنے رب کو صاف دیکھو گے ‘‘ ۔
Narrated Abu Bakr bin Abi Musa:
My father said, "Allah's Messenger (ﷺ) said, 'Whoever prays the two cool prayers (`Asr and Fajr) will go to Paradise.' "
ہم سے ہدبہ بن خالد نے بیان کیا ، کہا ہم سے ہمام نے ، انھوں نے کہا کہ ہم سے ابوجمرہ نے بیان کیا ، ابوبکر بن ابی موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے ، انھوں نے اپنے باپ سے کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس نے ٹھنڈے وقت کی دو نمازیں ( وقت پر ) پڑھیں ( فجر اور عصر ) تو وہ جنت میں داخل ہو گا ۔ ابن رجاء نے کہا کہ ہم سے ہمام نے ابوجمرہ سے بیان کیا کہ ابوبکر بن عبداللہ بن قیس رضی اللہ عنہ نے انہیں اس حدیث کی خبر دی ۔ ہم سے اسحاق نے بیان کیا ، کہا ہم سے حبان نے ، انھوں نے کہا کہ ہم سے ہمام نے بیان کیا ، کہا ہم سے ابوجمرہ نے بیان کیا ابوبکر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے ، انھوں نے اپنے والد سے ، انھوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ، پہلی حدیث کی طرح ۔
Narrated Zaid bin Thabit رضی اللہ عنہ :
"We took the "Suhur" (the meal taken before dawn while fasting is observed) with the Prophet (ﷺ) and then stood up for the (morning) prayer." I asked him how long the interval between the two (Suhur and prayer) was. He replied, 'The interval between the two was just sufficient to recite fifty to Sixth 'Ayat."
ہم سے عمرو بن عاصم نے یہ حدیث بیان کی ، کہا ہم سے ہمام نے یہ حدیث بیان کی قتادہ سے ، انھوں نے انس رضی اللہ عنہ سے کہ یزید بن ثابت رضی اللہ عنہ نے ان سے بیان کیا کہ
ان لوگوں نے ( ایک مرتبہ ) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سحری کھائی ، پھر نماز کے لیے کھڑے ہو گئے ۔ میں نے دریافت کیا کہ ان دونوں کے درمیان کس قدر فاصلہ رہا ہو گا ۔ فرمایا کہ جتنا پچاس یا ساٹھ آیت پڑھنے میں صرف ہوتا ہے اتنا فاصلہ تھا ۔
Narrated Anas bin Malik رضی اللہ عنہ :
"The Prophet (ﷺ) and Zaid bin Thabit took the 'Suhur' together and after finishing the meal, the Prophet (ﷺ) stood up and prayed (Fajr prayer)." I asked Anas رضی اللہ عنہ , "How long was the interval between finishing their 'Suhur' and starting the prayer?" He replied, "The interval between the two was just sufficient to recite fifty 'Ayat." (Verses of the Qur'an).
ہم سے حسن بن صباح نے یہ حدیث بیان کی ، انھوں نے روح بن عبادہ سے سنا ، انھوں نے کہا ہم سے سعید نے بیان کیا ، انھوں نے قتادہ سے روایت کیا ، انھوں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور زید بن ثابت رضی اللہ عنہ نے سحری کھائی ، پھر جب وہ سحری کھا کر فارغ ہوئے تو نماز کے لیے اٹھے اور نماز پڑھی ۔ ہم نے انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ آپ کی سحری سے فراغت اور نماز کی ابتداء میں کتنا فاصلہ تھا ؟ انھوں نے فرمایا کہ اتنا کہ ایک شخص پچاس آیتیں پڑھ سکے ۔
Narrated Sahl bin Sa`d رضی اللہ عنہ :
I used to take the "Suhur" meal with my family and hasten so as to catch the Fajr (morning prayer) with Allah's Messenger (ﷺ).
ہم سے اسماعیل بن ابی اویس نے بیان کیا اپنے بھائی عبدالحمید بن ابی اویس سے ، انھوں نے سلیمان بن بلال سے ، انھوں نے ابی حازم سلمہ بن دینار سے کہ انھوں نے سہل بن سعد رضی اللہ عنہ صحابی سے سنا ۔ آپ نے فرمایا کہ
میں اپنے گھر سحری کھاتا ، پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز فجر پانے کے لیے مجھے جلدی کرنی پڑتی تھی ۔
Narrated `Aisha رضی اللہ عنہا :
The believing women covered with their veiling sheets used to attend the Fajr prayer with Allah's Apostle, and after finishing the prayer they would return to their home and nobody could recognize them because of darkness.
ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا ، انھوں نے کہا ہمیں لیث نے خبر دی ، انھوں نے عقیل بن خالد سے ، انھوں نے ابن شہاب سے ، انھوں نے کہا کہ مجھے عروہ بن زبیر رضی اللہ عنہ نے خبر دی کہ ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے انہیں خبر دی کہ
مسلمان عورتیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز فجر پڑھنے چادروں میں لپٹ کر آتی تھیں ۔ پھر نماز سے فارغ ہو کر جب اپنے گھروں کو واپس ہوتیں تو انہیں اندھیرے کی وجہ سے کوئی شخص پہچان نہیں سکتا تھا ۔
Narrated Abu Huraira رضی اللہ عنہ :
Allah's Messenger (ﷺ) said, "Whoever could get one rak`a (of the Fajr prayer) before sunrise, he has got the (morning) prayer and whoever could get one rak`a of the `Asr prayer before sunset, he has got the (`Asr) prayer."
ہم سے عبداللہ بن مسلمہ قعنبی نے بیان کیا امام مالک سے ، انھوں نے زید بن اسلم سے ، انھوں نے عطاء بن یسار اور بسر بن سعید اور عبدالرحمٰن بن ہرمز اعرج سے ، ان تینوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے واسطے سے بیان کیا کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس نے فجر کی ایک رکعت ( جماعت کے ساتھ ) سورج نکلنے سے پہلے پا لی اس نے فجر کی نماز ( باجماعت کا ثواب ) پا لیا ۔ اور جس نے عصر کی ایک رکعت ( جماعت کے ساتھ ) سورج ڈوبنے سے پہلے پا لی ، اس نے عصر کی نماز ( باجماعت کا ثواب ) پا لیا ۔
Narrated Abu Huraira رضی اللہ عنہ :
Allah's Messenger (ﷺ) said, "Whoever could get one rak`a of a prayer, (in its proper time) he has got the prayer."
ہم سے عبداللہ بن یوسف تنیسی نے بیان کیا ، کہا ہم سے امام مالک نے ابن شہاب سے ، انھوں نے ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ سے انھوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے کہ
رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس نے ایک رکعت نماز ( باجماعت ) پا لی اس نے نماز ( باجماعت کا ثواب ) پا لیا ۔
Narrated `Umar:
"The Prophet (ﷺ) forbade praying after the Fajr prayer till the sun rises and after the `Asr prayer till the sun sets." Narrated Ibn `Abbas: Some people told me the same narration (as above).
ہم سے حفص بن عمر نے بیان کیا ، انھوں نے کہا ہم سے ہشام دستوائی نے بیان کیا ، انھوں نے قتادہ بن دعامہ سے ، انھوں نے ابوالعالیہ رفیع سے ، انھوں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے ، فرمایا کہ
میرے سامنے چند معتبر حضرات نے گواہی دی ، جن میں سب سے زیادہ معتبر میرے نزدیک حضرت عمر رضی اللہ عنہ تھے ، کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فجر کی نماز کے بعد سورج بلند ہونے تک اور عصر کی نماز کے بعد سورج ڈوبنے تک نماز پڑھنے سے منع فرمایا ۔ ہم سے مسدد بن مسرہد نے بیان کیا ، کہا ہم سے یحییٰ بن سعید قطان نے شعبہ سے ، انھوں نے قتادہ سے کہ میں نے ابوالعالیہ سے سنا ، وہ ابن عباس رضی اللہ عنہما سے بیان کرتے تھے کہ انھوں نے فرمایا کہ مجھ سے چند لوگوں نے یہ حدیث بیان کی ۔ ( جو پہلے ذکر ہوئی ) ۔
Ibn `Umar said, "Allah's Messenger (ﷺ) said, 'If the edge of the sun appears (above the horizon) delay the prayer till it becomes high, and if the edge of the sun disappears, delay the prayer till it sets (disappears completely).' "
حضرت عروہ نے کہا مجھ سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب سورج کا اوپر کا کنارہ طلوع ہونے لگے تو نماز نہ پڑھو یہاں تک کہ وہ بلند ہو جائے ۔ اور جب سورج ڈوبنے لگے اس وقت بھی نماز نہ پڑھو ، یہاں تک کہ غروب ہو جائے ۔ اس حدیث کو یحییٰ بن سعید قطان کے ساتھ عبدہ بن سلیمان نے بھی روایت کیا ہے ۔
Narrated Abu Huraira رضی اللہ عنہ :
Allah's Messenger (ﷺ) forbade two kinds of sales, two kinds of dresses, and two prayers. He forbade offering prayers after the Fajr prayer till the rising of the sun and after the `Asr prayer till its setting. He also forbade "Ishtimal-Assama [??] " and "al-Ihtiba" in one garment in such a way that one's private parts are exposed towards the sky. He also forbade the sales called "Munabadha" and "Mulamasa." (See Hadith No. 354 and 355 Vol. 3).
ہم سے عبید بن اسماعیل نے بیان کیا ، انھوں نے ابی اسامہ کے واسطے سے بیان کیا ۔ انھوں نے عبیداللہ بن عمر سے ، انھوں نے خبیب بن عبدالرحمٰن سے ، انھوں نے حفص بن عاصم سے ، انھوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دو طرح کی خریدوفروخت اور دو طرح کے لباس اور دو وقتوں کی نمازوں سے منع فرمایا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز فجر کے بعد سورج نکلنے تک اور نماز عصر کے بعد غروب ہونے تک نماز پڑھنے سے منع فرمایا ( اور کپڑوں میں ) اشتمال صماء یعنی ایک کپڑا اپنے اوپر اس طرح لپیٹ لینا کہ شرمگاہ کھل جائے ۔ اور ( احتباء ) یعنی ایک کپڑے میں گوٹ مار کر بیٹھنے سے منع فرمایا ۔ ( اور خریدوفروخت میں ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے منابذہ اور ملامسہ سے منع فرمایا ۔
Narrated Ibn `Umar رضی اللہ عنہما :
Allah's Messenger (ﷺ) said, "None of you should try to pray at sunrise or sunset."
ہم سے عبداللہ بن یوسف تنیسی نے بیان کیا ، کہ کہا ہمیں امام مالک نے نافع سے خبر دی ، انھوں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کوئی تم میں سے انتظار میں نہ بیٹھا رہے کہ سورج طلوع ہوتے ہی نماز کے لیے کھڑا ہو جائے ۔ اسی طرح سورج کے ڈوبنے کے انتظار میں بھی نہ رہنا چاہیے ۔