Narrated Abu Sa`id Al-Khudri رضی اللہ عنہ :
I heard Allah's Messenger (ﷺ) saying, "There is no prayer after the morning prayer till the sun rises, and there is no prayer after the `Asr prayer till the sun sets."
ہم سے عبدالعزیز بن عبداللہ نے بیان کیا ، انھوں نے کہا ہم سے ابراہیم بن سعد نے بیان کیا ، انھوں نے صالح سے یہ حدیث بیان کی ، انھوں نے ابن شہاب سے ، انھوں نے کہا مجھ سے عطاء بن یزید جندعی لیثی نے بیان کیا کہ انھوں نے حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے سنا ۔ انھوں نے فرمایا کہ
میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے کہ فجر کی نماز کے بعد کوئی نماز سورج کے بلند ہونے تک نہ پڑھی جائے ۔ اسی طرح عصر کی نماز کے بعد سورج ڈوبنے تک کوئی نماز نہ پڑھی جائے ۔
Narrated Muawiya رضی اللہ عنہما :
You offer a prayer which I did not see being offered by Allah's Messenger (ﷺ) when we were in his company and he certainly had forbidden it (i.e. two rak`at after the `Asr prayer).
ہم سے محمد بن ابان نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے غندر محمد بن جعفر نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے شعبہ نے حدیث بیان کی ابوالتیاح یزید بن حمید سے ، کہا کہ میں نے حمران بن ابان سے سنا ، وہ معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہما سے یہ حدیث بیان کرتے تھے کہ
انھوں نے فرمایا کہ تم لوگ تو ایک ایسی نماز پڑھتے ہو کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت میں رہے لیکن ہم نے کبھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو وہ نماز پڑھتے نہیں دیکھا ۔ بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تو اس سے منع فرمایا تھا ۔ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کی مراد عصر کے بعد دو رکعتوں سے تھی ۔ ( جسے آپ کے زمانہ میں بعض لوگ پڑھتے تھے ) ۔
Narrated Abu Huraira رضی اللہ عنہ :
Allah's Messenger (ﷺ) forbade the offering of two prayers: 1. after the morning prayer till the sunrises. 2. after the `Asr prayer till the sun sets.
ہم سے محمد بن سلام نے بیان کیا ، انھوں نے کہا کہ ہم سے عبدہ نے بیان کیا ، انھوں نے عبیداللہ سے خبر دی ، انھوں نے خبیب سے ، انھوں نے حفص بن عاصم سے ، انھوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دو وقت نماز پڑھنے سے منع فرمایا ۔ نماز فجر کے بعد سورج نکلنے تک اور نماز عصر کے بعد سورج غروب ہونے تک ۔
Narrated Ibn `Umar رضی اللہ عنہما :
I pray as I saw my companions praying. I do not forbid praying at any time during the day or night except at sunset and sunrise.
ہم سے ابوالنعمان محمد بن فضل نے بیان کیا ، کہا ہم سے حماد بن زید نے ایوب سے کہا ، انھوں نے نافع سے ، انھوں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے ، آپ نے فرمایا کہ
جس طرح میں نے اپنے ساتھیوں کو نماز پڑھتے دیکھا ۔ میں بھی اسی طرح نماز پڑھتا ہوں ۔ کسی کو روکتا نہیں ۔ دن اور رات کے جس حصہ میں جی چاہے نماز پڑھ سکتا ہے ۔ البتہ سورج کے طلوع اور غروب کے وقت نماز نہ پڑھا کرو ۔
Narrated `Aisha رضی اللہ عنہا :
By Allah, Who took away the Prophet. The Prophet (ﷺ) never missed them (two rak`at) after the `Asr prayer till he met Allah and he did not meet Allah till it became heavy for him to pray while standing so he used to offer most of the prayers while sitting. (She meant the two rak`at after `Asr) He used to pray them in the house and never prayed them in the mosque lest it might be hard for his followers and he loved what was easy for them .
ہم سے ابونعیم فضل بن دکین نے بیان کیا ، کہ کہا ہم سے عبدالواحد بن ایمن نے بیان کیا ، کہا کہ مجھ سے میرے باپ ایمن نے حدیث بیان کی کہ انھوں نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے سنا ۔ آپ نے فرمایا کہ
خدا کی قسم ! جس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے یہاں بلا لیا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عصر کے بعد کی دو رکعات کو کبھی ترک نہیں فرمایا ، یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ، اللہ پاک سے جا ملے ۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو وفات سے پہلے نماز پڑھنے میں بڑی دشواری پیش آتی تھی ۔ پھر اکثر آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھ کر نماز ادا فرمایا کرتے تھے ۔ اگرچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم انہیں پوری پابندی کے ساتھ پڑھتے تھے لیکن اس خوف سے کہ کہیں ( صحابہ بھی پڑھنے لگیں اور اس طرح ) امت کو گراں باری ہو ، انہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں نہیں پڑھتے تھے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی امت کا ہلکا رکھنا پسند تھا ۔
Narrated`Aisha رضی اللہ عنہا :
"O son of my sister! The Prophet (ﷺ) never missed two prostrations (i.e. rak`at) after the `Asr prayer in my house."
ہم سے مسدد بن مسرہد نے بیان کیا ، کہا ہم سے یحییٰ قطان نے بیان کیا ، کہا ہم سے ہشام بن عروہ نے بیان کیا ، کہا کہ مجھے میرے باپ عروہ نے خبر دی ، کہا کہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا
میرے بھانجے ! نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عصر کے بعد کی دو رکعات میرے یہاں کبھی ترک نہیں کیں ۔
Narrated `Aisha رضی اللہ عنہا :
Allah's Messenger (ﷺ) never missed two rak`at before the Fajr prayer and after the `Asr prayer openly and secretly.
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا ، کہا ہم سے عبدالواحد بن زیاد نے بیان کیا ، کہا ہم سے شیبانی نے بیان کیا ، کہا ہم سے عبدالرحمٰن بن اسود نے بیان کیا ، انھوں نے اپنے باپ سے ، انھوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہ
آپ نے فرمایا کہ دو رکعتوں کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی ترک نہیں فرمایا ۔ پوشیدہ ہو یا عام لوگوں کے سامنے ، صبح کی نماز سے پہلے دو رکعات اور عصر کی نماز کے بعد دو رکعات ۔
Narrated `Aisha:
Whenever the Prophet (ﷺ) come to me after the `Asr prayer, he always prayed two rak`at.
ہم سے محمد بن عرعرہ نے بیان کیا ، کہا ہم سے شعبہ نے ابواسحاق سے بیان کیا ، کہا کہ ہم نے اسود بن یزید اور مسروق بن اجدع کو دیکھا کہ انھوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے
اس کہنے پر گواہی دی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب بھی میرے گھر میں عصر کے بعد تشریف لائے تو دو رکعت ضرور پڑھتے ۔
Narrated Ibn Abu Malih [??]:
I was with Buraida on a cloudy day and he said, "Offer the `Asr prayer earlier as the Prophet (ﷺ) said, 'Whoever leaves the `Asr prayer will have all his (good) deeds annulled." (See Hadith No. 527 and 528)
ہم سے معاذ بن فضالہ نے بیان کیا ، انھوں نے کہا کہ ہم سے ہشام دستوائی نے یحییٰ بن ابی کثیر سے بیان کیا ، وہ قلابہ سے نقل کرتے ہیں کہ ابوالملیح عامر بن اسامہ ہذلی نے ان سے بیان کیا ، انھوں نے کہا کہ
ہم ابر کے دن ایک مرتبہ بریدہ بن حصیب رضی اللہ عنہ صحابی کے ساتھ تھے ، انھوں نے فرمایا کہ نماز سویرے پڑھا کرو ۔ کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس نے عصر کی نماز چھوڑی اس کا عمل اکارت ہو گیا ۔
Narrated `Abdullah bin Abi Qatada:
"One night we were traveling with the Prophet (ﷺ) and some people said, 'We wish that Allah's Messenger (ﷺ) would take a rest along with us during the last hours of the night.' He said, 'I am afraid that you will sleep and miss the (Fajr) prayer.' Bilal said, 'I will make you get up.' So all slept and Bilal rested his back against his Rahila and he too was overwhelmed (by sleep) and slept. The Prophet (ﷺ) got up when the edge of the sun had risen and said, 'O Bilal! What about your statement?' He replied, 'I have never slept such a sleep.' The Prophet (ﷺ) said, 'Allah captured your souls when He wished, and released them when He wished. O Bilal! Get up and pronounce the Adhan for the prayer.' The Prophet (ﷺ) performed ablution and when the sun came up and became bright, he stood up and prayed."
ہم سے عمران بن میسرہ نے روایت کیا ، کہا ہم سے محمد بن فضیل نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے حصین بن عبدالرحمٰن نے عبداللہ بن ابی قتادہ سے ، انھوں نے اپنے باپ سے ، کہا
ہم ( خیبر سے لوٹ کر ) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رات میں سفر کر رہے تھے ۔ کسی نے کہا کہ حضور ! آپ اب پڑاؤ ڈال دیتے تو بہتر ہوتا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مجھے ڈر ہے کہ کہیں نماز کے وقت بھی تم سوتے نہ رہ جاؤ ۔ اس پر حضرت بلال رضی اللہ عنہ بولے کہ میں آپ سب لوگوں کو جگا دوں گا ۔ چنانچہ سب لوگ لیٹ گئے ۔ اور حضرت بلال رضی اللہ عنہ نے بھی اپنی پیٹھ کجاوہ سے لگا لی ۔ اور ان کی بھی آنکھ لگ گئی اور جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بیدار ہوئے تو سورج کے اوپر کا حصہ نکل چکا تھا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بلال ! تو نے کیا کہا تھا ۔ وہ بولے آج جیسی نیند مجھے کبھی نہیں آئی ۔ پھر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ تمہاری ارواح کو جب چاہتا ہے قبض کر لیتا ہے اور جس وقت چاہتا ہے واپس کر دیتا ہے ۔ اے بلال ! اٹھ اور اذان دے ۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا اور جب سورج بلند ہو کر روشن ہو گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور نماز پڑھائی ۔
Narrated Jabir bin `Abdullah رضی اللہ عنہما :
On the day of Al-Khandaq (the battle of trench.) `Umar bin Al-Khattab رضی اللہ عنہ came cursing the disbelievers of Quraish after the sun had set and said, "O Allah's Messenger (ﷺ) I could not offer the `Asr prayer till the sun had set." The Prophet (ﷺ) said, "By Allah! I, too, have not prayed." So we turned towards Buthan, and the Prophet (ﷺ) performed ablution and we too performed ablution and offered the `Asr prayer after the sun had set, and then he offered the Maghrib prayer.
ہم سے معاذ بن فضالہ نے حدیث نقل کی ، انھوں نے کہا ہم سے ہشام دستوائی نے بیان کیا ، انھوں نے یحییٰ بن ابی کثیر سے روایت کیا ، انھوں نے ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن سے ، انھوں نے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے کہ
حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ غزوہ خندق کے موقع پر ( ایک مرتبہ ) سورج غروب ہونے کے بعد آئے اور وہ کفار قریش کو برا بھلا کہہ رہے تھے ۔ اور آپ نے کہا کہ اے اللہ کے رسول ! سورج غروب ہو گیا ، اور نماز عصر پڑھنا میرے لیے ممکن نہ ہو سکا ۔ اس پر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ نماز میں نے بھی نہیں پڑھی ۔ پھر ہم وادی بطحان میں گئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہاں نماز کے لیے وضو کیا ، ہم نے بھی وضو بنایا ۔ اس وقت سورج ڈوب چکا تھا ۔ پہلے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عصر پڑھائی اس کے بعد مغرب کی نماز پڑھی ۔
Narrated Anas رضی اللہ عنہ :
The Prophet (ﷺ) said, "If anyone forgets a prayer he should pray that prayer when he remembers it. There is no expiation except to pray the same." Then he recited: "Establish prayer for My (i.e. Allah's) remembrance." (20.14).
ہم سے ابونعیم فضل بن دکین اور موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا ، ان دونوں نے کہا کہ ہم سے ہمام بن یحییٰ نے قتادہ سے بیان کیا ، انھوں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے ، انھوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہ
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر کوئی نماز پڑھنا بھول جائے تو جب بھی یاد آ جائے اس کو پڑھ لے ۔ اس قضاء کے سوا اور کوئی کفارہ اس کی وجہ سے نہیں ہوتا ۔ اور ( اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ) نماز میرے یاد آنے پر قائم کر ۔ موسیٰ نے کہا کہ ہم سے ہمام نے حدیث بیان کی کہ میں نے قتادہ رضی اللہ عنہ سے سنا وہ یوں پڑھتے تھے نماز پڑھ میری یاد کے لیے ۔ حبان بن ہلال نے کہا ، ہم سے ہمام نے بیان کیا ، کہا ہم سے قتادہ نے ، کہا ہم سے انس رضی اللہ عنہ نے ، انھوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے ، پھر ایسی ہی حدیث بیان کی ۔
Narrated Jabir رضی اللہ عنہ :
`Umar رضی اللہ عنہ came cursing the disbelievers (of Quraish) on the day of Al-Khandaq (the battle of Trench) and said, "I could not offer the `Asr prayer till the sun had set. Then we went to Buthan and he offered the (`Asr) prayer after sunset and then he offered the Maghrib prayer.
ہم سے مسدد نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے یحییٰ بن سعید قطان نے ، کہا کہ ہم سے ہشام دستوائی نے حدیث بیان کی ، کہا کہ ہم سے یحییٰ نے جو ابی کثیر کے بیٹے ہیں حدیث بیان کی ابوسلمہ سے ، انھوں نے جابر رضی اللہ عنہ سے ، انھوں نے فرمایا کہ
عمر رضی اللہ عنہ غزوہ خندق کے موقع پر ( ایک دن ) کفار کو برا بھلا کہنے لگے ۔ فرمایا کہ سورج غروب ہو گیا ، لیکن میں ( لڑائی کی وجہ سے ) نماز عصر نہ پڑھ سکا ۔ جابر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ پھر ہم وادی بطحان کی طرف گئے ۔ اور ( آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عصر کی نماز ) غروب شمس کے بعد پڑھی اس کے بعد مغرب پڑھی ۔
Narrated Abu-l-Minhal:
My father and I went to Abi Barza Al-Aslami رضی اللہ عنہ and my father said to him, "Tell us how Allah's Messenger (ﷺ) used to offer the compulsory congregational prayers." He said, "He used to pray the Zuhr prayer, which you call the first prayer, as the sun declined at noon, the `Asr at a time when one of US could go to his family at the farthest place in Medina while the sun was still hot. (The narrator forgot what Abu Barza had said about the Maghrib prayer), and the Prophet (ﷺ) preferred to pray the `Isha' late and disliked to sleep before it or talk after it. And he used to return after finishing the morning prayer at such a time when it was possible for one to recognize the person sitting by his side and he (the Prophet) used to recite 60 to 100 'Ayat' (verses) of the Qur'an in it."
ہم سے مسدد بن مسرہد نے بیان کیا ، کہا ہم سے یحییٰ بن سعید قطان نے ، کہا ہم سے عوف اعرابی نے ، کہا کہ ہم سے ابوالمنہال سیار بن سلامہ نے ، انھوں نے کہا کہ
میں اپنے باپ سلامہ کے ساتھ ابوبرزہ اسلمی رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا ۔ ان سے میرے والد صاحب نے پوچھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرض نمازیں کس طرح ( یعنی کن کن اوقات میں ) پڑھتے تھے ۔ ہم سے اس کے بارے میں بیان فرمائیے ۔ انھوں نے فرمایا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم «هجير» ( ظہر ) جسے تم صلوٰۃ اولیٰ کہتے ہو سورج ڈھلتے ہی پڑھتے تھے ۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے عصر پڑھنے کے بعد کوئی بھی شخص اپنے گھر واپس ہوتا اور وہ بھی مدینہ کے سب سے آخری کنارہ پر تو سورج ابھی صاف اور روشن ہوتا ۔ مغرب کے بارے میں آپ نے جو کچھ بتایا مجھے یاد نہیں رہا ۔ اور فرمایا کہ عشاء میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم تاخیر پسند فرماتے تھے ۔ اس سے پہلے سونے کو اور اس کے بعد بات کرنے کو پسند نہیں کرتے تھے ۔ صبح کی نماز سے جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم فارغ ہوتے تو ہم اپنے قریب بیٹھے ہوئے دوسرے شخص کو پہچان لیتے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فجر میں ساٹھ سے سو تک آیتیں پڑھتے تھے ۔
Narrated Qurra bin Khalid:
Once he waited for Al-Hasan and he did not show up till it was about the usual time for him to start his speech; then he came and apologized saying, "Our neighbors invited us." Then he added, "Narrated Anas, 'Once we waited for the Prophet (ﷺ) till it was midnight or about midnight. He came and led the prayer, and after finishing it, he addressed us and said, 'All the people prayed and then slept and you had been in prayer as long as you were waiting for it." Al-Hasan said, "The people are regarded as performing good deeds as long as they are waiting for doing good deeds." Al-Hasan's statement is a portion of Anas's [??] Hadith from the Prophet (ﷺ) .
ہم سے عبداللہ بن صباح نے بیان کیا ، کہا ہم سے ابوعلی عبیداللہ حنفی نے ، کہا ہم سے قرہ بن خالد سدوسی نے ، انھوں نے کہا کہ
ایک دن حضرت حسن بصری رحمہ اللہ نے بڑی دیر کی ۔ اور ہم آپ کا انتظار کرتے رہے ۔ جب ان کے اٹھنے کا وقت قریب ہو گیا تو آپ آئے اور ( بطور معذرت ) فرمایا کہ میرے ان پڑوسیوں نے مجھے بلا لیا تھا ( اس لیے دیر ہو گئی ) پھر بتلایا کہ انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے کہا تھا کہ ہم ایک رات نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا انتظار کرتے رہے ۔ تقریباً آدھی رات ہو گئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے ، پھر ہمیں نماز پڑھائی ۔ اس کے بعد خطبہ دیا ۔ پس آپ نے فرمایا کہ دوسروں نے نماز پڑھ لی اور سو گئے ۔ لیکن تم لوگ جب تک نماز کے انتظار میں رہے ہو گویا نماز ہی کی حالت میں رہے ہو ۔ امام حسن بصری رحمہ اللہ نے فرمایا کہ اگر لوگ کسی خیر کے انتظار میں بیٹھے رہیں تو وہ بھی خیر کی حالت ہی میں ہیں ۔ قرہ بن خالد نے کہا کہ حسن کا یہ قول بھی حضرت انس رضی اللہ عنہ کی حدیث کا ہے جو انھوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے ۔
Narrated `Abdullah bin `Umar رضی اللہ عنہما :
The Prophet (ﷺ) prayed one of the `Isha' prayer in his last days and after finishing it with Taslim, he stood up and said, "Do you realize (the importance of) this night? Nobody present on the surface of the earth tonight would be living after the completion of one hundred years from this night." The people made a mistake in grasping the meaning of this statement of Allah's Messenger (ﷺ) and they indulged in those things which are said about these narrators (i.e. some said that the Day of Resurrection will be established after 100 years etc.) But the Prophet (ﷺ) said, "Nobody present on the surface of earth tonight would be living after the completion of 100 years from this night"; he meant "When that century (people of that century) would pass away."
ہم سے ابوالیمان حکم بن نافع نے بیان کیا انھوں نے کہا کہ ہمیں شعیب بن ابی حمزہ نے زہری سے خبر دی ، کہا کہ مجھ سے سالم بن عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما اور ابوبکر بن ابی حثمہ نے حدیث بیان کی کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عشاء کی نماز پڑھی اپنی زندگی کے آخری زمانے میں ۔ سلام پھیرنے کے بعد آپ کھڑے ہوئے اور فرمایا کہ اس رات کے متعلق تمہیں کچھ معلوم ہے ؟ آج اس روئے زمین پر جتنے انسان زندہ ہیں ۔ سو سال بعد ان میں سے کوئی بھی باقی نہیں رہے گا ۔ لوگوں نے آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کا کلام سمجھنے میں غلطی کی اور مختلف باتیں کرنے لگے ۔ ( ابومسعود رضی اللہ عنہ نے یہ سمجھا کہ سو برس بعد قیامت آئے گی ) حالانکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا مقصد صرف یہ تھا کہ جو لوگ آج ( اس گفتگو کے وقت ) زمین پر بستے ہیں ۔ ان میں سے کوئی بھی آج سے ایک صدی بعد باقی نہیں رہے گا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا مطلب یہ تھا کہ سو برس میں یہ قرن گزر جائے گا ۔
Narrated Abu `Abdur Rahman bin Abi Bakr رضی اللہ عنہما :
"The Suffa Companions were poor people and the Prophet (ﷺ) said, 'Whoever has food for two persons should take a third one from them (Suffa companions). And whosoever has food for four persons he should take one or two from them' Abu Bakr took three men and the Prophet (ﷺ) took ten of them." `Abdur Rahman added, my father my mother and I were there (in the house). (The sub-narrator is in doubt whether `Abdur Rahman also said, 'My wife and our servant who was common for both my house and Abu Bakr's house). Abu Bakr took his supper with the Prophet (ﷺ) and remained there till the `Isha' prayer was offered. Abu Bakr went back and stayed with the Prophet (ﷺ) till the Prophet (ﷺ) took his meal and then Abu Bakr returned to his house after a long portion of the night had passed. Abu Bakr's wife said, 'What detained you from your guests (or guest)?' He said, 'Have you not served them yet?' She said, 'They refused to eat until you come. The food was served for them but they refused." `Abdur Rahman added, "I went away and hid myself (being afraid of Abu Bakr) and in the meantime he (Abu Bakr) called me, 'O Ghunthar (a harsh word)!' and also called me bad names and abused me and then said (to his family), 'Eat. No welcome for you.' Then (the supper was served). Abu Bakr took an oath that he would not eat that food. The narrator added: By Allah, whenever any one of us (myself and the guests of Suffa companions) took anything from the food, it increased from underneath. We all ate to our fill and the food was more than it was before its serving. Abu Bakr looked at it (the food) and found it as it was before serving or even more than that. He addressed his wife (saying) 'O the sister of Bani Firas! What is this?' She said, 'O the pleasure of my eyes! The food is now three times more than it was before.' Abu Bakr ate from it, and said, 'That (oath) was from Satan' meaning his oath (not to eat). Then he again took a morsel (mouthful) from it and then took the rest of it to the Prophet. So that meal was with the Prophet. There was a treaty between us and some people, and when the period of that treaty had elapsed the Prophet (ﷺ) divided us into twelve (groups) (the Prophet's companions) each being headed by a man. Allah knows how many men were under the command of each (leader). So all of them (12 groups of men) ate of that meal."
ہم سے ابوالنعمان محمد بن فضل نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے معتمر بن سلیمان نے بیان کیا ، ان سے ان کے باپ سلیمان بن طرخان نے ، کہا کہ ہم سے ابوعثمان نہدی نے عبدالرحمٰن بن ابی بکر رضی اللہ عنہما سے یہ حدیث بیان کی کہ
اصحاب صفہ نادار مسکین لوگ تھے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس کے گھر میں دو آدمیوں کا کھانا ہو تو وہ تیسرے ( اصحاب صفہ میں سے کسی ) کو اپنے ساتھ لیتا جائے ۔ اور جس کے ہاں چار آدمیوں کا کھانا ہے تو وہ پانچویں یا چھٹے آدمی کو سائبان والوں میں سے اپنے ساتھ لے جائے ۔ پس ابوبکر رضی اللہ عنہ تین آدمی اپنے ساتھ لائے ۔ اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم دس آدمیوں کو اپنے ساتھ لے گئے ۔ عبدالرحمٰن بن ابی بکر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ گھر کے افراد میں اس وقت باپ ، ماں اور میں تھا ۔ ابوعثمان راوی کا بیان ہے کہ مجھے یاد نہیں کہ عبدالرحمٰن بن ابی بکر نے یہ کہا یا نہیں کہ میری بیوی اور ایک خادم جو میرے اور ابوبکر رضی اللہ عنہ دونوں کے گھر کے لیے تھا یہ بھی تھے ۔ خیر ابوبکر رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے یہاں ٹھہر گئے ۔ ( اور غالباً کھانا بھی وہیں کھایا ۔ صورت یہ ہوئی کہ ) نماز عشاء تک وہیں رہے ۔ پھر ( مسجد سے ) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حجرہ مبارک میں آئے اور وہیں ٹھہرے رہے تاآنکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی کھانا کھا لیا ۔ اور رات کا ایک حصہ گزر جانے کے بعد جب اللہ تعالیٰ نے چاہا تو آپ گھر تشریف لائے تو ان کی بیوی ( ام رومان ) نے کہا کہ کیا بات پیش آئی کہ مہمانوں کی خبر بھی آپ نے نہ لی ، یا یہ کہ مہمان کی خبر نہ لی ۔ آپ نے پوچھا ، کیا تم نے ابھی انہیں رات کا کھانا نہیں کھلایا ۔ ام رومان نے کہا کہ میں کیا کروں آپ کے آنے تک انھوں نے کھانے سے انکار کیا ۔ کھانے کے لیے ان سے کہا گیا تھا لیکن وہ نہ مانے ۔ عبدالرحمٰن بن ابی بکر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ میں ڈر کر چھپ گیا ۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے پکارا اے غنثر ! ( یعنی او پاجی ) آپ نے برا بھلا کہا اور کوسنے دئیے ۔ فرمایا کہ کھاؤ تمہیں مبارک نہ ہو ! خدا کی قسم ! میں اس کھانے کو کبھی نہیں کھاؤں گا ۔ ( آخر مہمانوں کو کھانا کھلایا گیا ) ( عبدالرحمٰن رضی اللہ عنہ نے کہا ) خدا گواہ ہے کہ ہم ادھر ایک لقمہ لیتے تھے اور نیچے سے پہلے سے بھی زیادہ کھانا ہو جاتا تھا ۔ بیان کیا کہ سب لوگ شکم سیر ہو گئے ۔ اور کھانا پہلے سے بھی زیادہ بچ گیا ۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے دیکھا تو کھانا پہلے ہی اتنا یا اس سے بھی زیادہ تھا ۔ اپنی بیوی سے بولے ۔ بنوفراس کی بہن ! یہ کیا بات ہے ؟ انھوں نے کہا کہ میری آنکھ کی ٹھنڈک کی قسم ! یہ تو پہلے سے تین گنا ہے ۔ پھر ابوبکر رضی اللہ عنہ نے بھی وہ کھانا کھایا اور کہا کہ میرا قسم کھانا ایک شیطانی وسوسہ تھا ۔ پھر ایک لقمہ اس میں سے کھایا ۔ اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بقیہ کھانا لے گئے اور آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے ۔ وہ صبح تک آپ کے پاس رکھا رہا ۔ عبدالرحمٰن نے کہا کہ ہم مسلمانوں کا ایک دوسرے قبیلے کے لوگوں سے معاہدہ تھا ۔ اور معاہدہ کی مدت پوری ہو چکی تھی ۔ ( اس قبیلہ کا وفد معاہدہ سے متعلق بات چیت کرنے مدینہ میں آیا ہوا تھا ) ہم نے ان میں سے بارہ آدمی جدا کئے اور ہر ایک کے ساتھ کتنے آدمی تھے اللہ کو ہی معلوم ہے ان سب نے ان میں سے کھایا ۔ عبدالرحمٰن رضی اللہ عنہ نے کچھ ایسا ہی کہا ۔
The Hell-fire of Hell complained to its Lord saying: O Lord! My parts are eating (destroying) one another. So Allah allowed it to take two breaths, one in the winter and the other in the summer. The breath in the summer is at the time when you feel the severest heat and the breath in the winter is at the time when you feel the severest cold."
دوزخ نے اپنے رب سے شکایت کی کہ اے میرے رب ! ( آگ کی شدت کی وجہ سے ) میرے بعض حصہ نے بعض حصہ کو کھا لیا ہے اس پر اللہ تعالیٰ نے اسے دو سانس لینے کی اجازت دی ، ایک سانس جاڑے میں اور ایک سانس گرمی میں ۔ اب انتہائی سخت گرمی اور سخت سردی جو تم لوگ محسوس کرتے ہو وہ اسی سے پیدا ہوتی ہے ۔
Narrated Ibn `Umar رضی اللہ عنہما :
"Allah's Messenger (ﷺ) said, 'Do not pray at the time of sunrise and at the time of sunset.'
ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ بن سعید قطان نے ہشام بن عروہ سے، انہوں نے کہا کہ مجھے میرے والد عروہ نے خبر دی، انہوں نے کہا کہ مجھے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے خبر دی کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ نماز پڑھنے کے لیے سورج کے طلوع اور غروب ہونے کے انتظار میں نہ بیٹھے رہو۔