Abu Huraira رضی اللہ تعالیٰ عنہ reported:
Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) as saying: Observe fast on sighting it (the new moon) and break (fast) on sighting it (the new moon), but if the sky is cloudy for you, then complete the number (of thirty).
ہم سے عبدالرحمٰن بن سلام الجمعی نے بیان کیا، انہوں نے بیان کیا ربیع ، ابن مسلم ، عن محمد ، ابن زیاد ، حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا تو تم چاند دیکھ کر روزہ رکھو اور چاند دیکھ کر افطار کرو اور اگر مطلع ابر آلود ہوتو تم روزوں کی تعداد پوری کرو ۔
Abu Huraira رضی اللہ تعالیٰ عنہ reported:
Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) as saying: Observe fast on sighting it (the new moon) and break it on sighting it. But if (due to clouds) the actual position of the month is concealed from you, you should then count thirty (days).
ہم سے عبید اللہ بن معاذ نے بیان کیا، ہم سے میرے والد نے بیان کیا، انہوں نے ہم سے بیان کیا, شعبہ ، محمد بن زیاد ، حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم چاند دیکھ کر روزہ رکھو اور چاند دیکھ کر افطار ( عید ) کرو تو اگر تم پر مہینہ پوشیدہ رہے تو تم تیس روزوں کی تعداد پوری کرو ۔
Abu Huraira رضی اللہ تعالیٰ عنہ narrated:
The Messenger of Allah (may peace he upon him) made a mention of the new moon and (in this connection) said: Observe fast when you see it (the new moon) and break fast when you see it (the new moon of Shawwal), but when (the actual position of the month is) concealed from you (on account of cloudy sky), then count thirty days.
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ نے بیان کیا، ہم سے محمد بن بشر العبدی نے بیان کیا، ہم سے عبید اللہ بن عمر نے بیان کیا، ان سے ابو الزناد رضی اللہ عنہ نے بیان کیا, اعرج ، ابو ہریر ہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ
رسول اللہ رضوان اللہ عنھم اجمعین نے فرمایا کہ تم چاند دیکھ کر روزہ رکھو اور چاند دیکھ کرروزہ افطار ( عید ) کرو ۔ تو اگر تم پر مہینہ پوشیدہ رہے تو تم تیس روزوں کی تعداد پوری کرو ۔
Abu Huraira رضی اللہ تعالیٰ عنہ reported:
Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) as saying: Do not observe fast for a day, or two days ahead of Ramadan except a person who is in the habit of observing a particular fast; he may fast on that day.
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ اور ابو کریب نے بیان کیا، کہا: ہم سے وکیع نے بیان کیا, علی بن مبارک ، یحییٰ بن ابن کثیر ، ابی سلمہ ، حضرت ابو ہریرۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم رمضان المبارک سے نہ ایک دن اور نہ ہی دو دن پہلے روزہ رکھو سوائے اس آدمی کے جو اس دن روزہ رکھتاتھا تو اسے چاہیے کہ وہ رکھ لے ۔
This hadith has been narrated on the authority of Yahya bin Abi Kathir رضی اللہ تعالیٰ عنہ with the same chain of transmitters.
ہم سے یحییٰ بن بشر الحریری نے بیان کیا، انہوں نے کہا معاویہ ، ابن سلام ، ابن مثنی ، ابو عامر ، ہشام ، ابن مثنی ، ابن ابی عمر ، عبدالوہاب بن عبدالمجید ، ایوب ، ذہیر بن حرب ، حسین بن محمد ، شیبان ، حضرت یحییٰ بن ابی کثیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اس سند کے ساتھ اسی حدیث کی طرح روایت کیا گیا ہے ۔
Zuhri رضی اللہ تعالیٰ عنہ reported:
The Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) took an oath that he would not go to his wives for one Month. Zuhri said that 'Urwa narrated to him from 'A'isha رضی اللہ تعالیٰ عنہا that she said: When twenty-nine nights were over, which I had counted, the Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) came to me (he came to me first of all). I said: Messenger of Allah, you had taken an oath that you would not come to us for a month, whereas you have come after twenty nine days which I have counted. Whereupon he said: The month may also consist of twenty-nine days.
ہم سے عبد بن حمید نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالرزاق نے بیان کیا، انہوں نے بیان کیا معمر ، حضرت زہری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قسم اٹھائی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایک مہینہ تک ا پنی ازواج مطہرات کے پاس نہیں جائیں گے زہری کہتے ہیں کہ مجھے عروہ نے خبر دی کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے انہوں نے فرمایا کہ جب انتیس راتیں گزر گئیں میں ان راتوں کا شمار کرتی رہی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے ہاں تشریف لائے ۔ انھوں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہا : ۔ ( باریوں کا ) آغاز مجھ سے فرمایا میؔت نے عرض کی اے اللہ کے رسول آپ نےقسم کھائی تھی کہ آپ ہمارے پاس ایک ماہ تک نہ آئے گے ۔ اور آپ انتیس دن کے بعد تشریف لے آئے ہیں ، میں گنتی رہی ہوں ۔ آپ نے فرمایا بیشک مہینہ انتیس دن کا بھی ہوتا ہے ۔
Jabir رضی اللہ تعالیٰ عنہ narrated:
The Prophet ( صلی اللہ علیہ وسلم ) separated himself from his wives for a month. (His wives said: ) He came to us on the twenty-ninth day, whereupon we said: It is the twenty-ninth (day) today. Thereupon he said: So far as the month is concerned, (and he, with a view to explaining it) flapped his hands thrice, but held back one finger at the last turn.
ہم سے محمد بن رومح نے بیان کیا، انہوں نے کہا لیث ، ابن زبیر ، حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے انہوں نے فرمایا کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک مہینہ تک اپنی ازواج مطہرات رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے علیحدہ رہے تھے تو آپ انتیسویں دن میں ہماری طرف تشریف لائے تو ہم نے عرض کیا کہ آج انتیسواں دن ہے پھر آپ نے فرمایا کہ مہینہ انتیس دنوں کا بھی ہوتا ہے اور آپ نے دونوں ہاتھوں کو تین مرتبہ ہلایا اور آخری مرتبہ میں ایک انگلی کو بند فرمالیا ۔ ( اتنے یعنی انتیس دن کا ہوتا ہے )
Abu Zubair is reported to have heard Jabir bin 'Abdullah رضی اللہ تعالیٰ عنہ as saying:
The Apostle of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) separated himself from his wives for a month. (His wives said: ) He came to us on the morning of the twenty-ninth. Upon this some, of the people said: It is the morning of twenty- ninth (according to our calculation). Upon this the Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) said: The month. may also consist of twenty-nine days. The Apostle of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) then flapped his bands thrice, twice with all the fingers of both his hand (to indicate twenty-nine) and by the third time with nine (fingers).
مجھ سے ہارون بن عبداللہ اور حجاج بن الشاعر نے بیان کیا، کہا: ہم سے حجاج بن محمد نے بیان کیا، انہوں نے کہا ابن جریج ، ابو زبیر ، حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی ازواج مطہرات سے ایک مہینہ تک علیحدہ رہے انتیس دن گزر جانے کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہماری طرف صبح کے وقت تشریف لائے تو کچھ لوگوں نے آپ سے عرض کیا اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم !آپ انتیس دنوں کے بعد تشریف لے آئے؟ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھوں کو تین مرتبہ ملایا دو مرتبہ اپنے ہاتھوں کی ساری انگلیوں کے ساتھ اور تیسری مرتبہ میں نو انگلیوں کے ساتھ.
Umm Salama رضی اللہ تعالیٰ عنہا reported:
The Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) took an oath that he would not go to some of his wives for the whole of the month. When twenty-nine days bad passed he (the Holy Prophet) went to them in the morning or in the evening. Upon this it was said to him: Apostle of Allah, you took an oath that you would not come to us for a month, whereupon he said: The month may also consist of twenty-nine days.
مجھ سے ہارون بن عبداللہ نے بیان کیا، انہوں نے ہم سے بیان کیا حجاج بن محمد ، ابن جریج ، یحییٰ بن عبداللہ بن محمد بن صیفی ، عکرمہ بن عبدالرحمٰن بن حارث ، حضرت ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا خبر دیتی ہیں کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قسم اٹھائی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی کچھ ازواج مطہرات کے پاس ایک مہینہ تک نہیں جائیں گے ۔ تو جب انتیس دن گزر گئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم صبح یا شام ان کی طرف تشریف لے گئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا گیا کہ اے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم !آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تو قسم اٹھائی تھی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایک مہینہ تک ہماری طرف تشریف نہیں لائیں گے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاکہ مہینہ انتیس دنوں کا بھی ہوتا ہے
A hadith like this has been narrated on the authority of Ibn Juraij with the same chain of transmitters.
ہم سے اسحاق بن ابراہیم نے بیان کیا، کہا ہم سے روح نے بیان کیا اور ہم سے محمد بن المثنیٰ نے بیان کیا، انہوں نے کہا ضحاک ، حضرت ابن جریج سے اس سند کے ساتھ ہی اسی حدیث کی طرح روایت کیا گیا ہے ۔
Sa'd bin Abi Waqqas رضی اللہ تعالیٰ عنہ said:
The Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) struck his hand against the other and (then with the gesture of his two hands) said: The month is thus, thus (two times). He then withdrew (one of) his fingers at the third turn.
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا محمد بن بشر ، اسماعیل بن ابی خالد ، محمد بن سعید ، حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ایک ہاتھ کو دوسرے ہاتھ پر مارا اور فرمایا کہ مہینہ اس طرح اور اس طرح ہوتا ہے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تیسری مرتبہ ایک انگلی کم فرمالی ۔
Muhammad bin Sa'd reported on the authority of his father (Sa'd bin Abi Waqqas):
The Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) had said: The month is thus and thus, and thus, i.e. ten, ten and nine.
مجھ سے القاسم بن زکریا نے بیان کیا، ہم سے حسین بن علی نے بیان کیا, زائدہ ، اسماعیل ، حضرت محمد بن سعد اپنے باپ سے روایت کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ مہینہ اس طرح اور اس طرح اور اس طرح سے ہوتا ہے دس اور دس اور نو مرتبہ ۔
This hadith has been narrated by Ibn Abu Khalid with the same chain of transmitters.
مجھ سے محمد بن عبداللہ بن قحزاز نے بیان کیا، ان سے علی بن الحسن بن شقیق نے اور ان سے سلمہ بن سلیمان نے بیان کیا، کہا: انہوں نے ہمیں خبر دی عبداللہ بن مبارک ، اسماعیل بن ابی خالد اس سند کے ساتھ یہ روایت بھی اس طرح نقل کی گئی ہے ۔
Kuraib reported Umm Fadl رضی اللہ عنہا , daughter of Harith, sent him (Fadl, i.e. her son) to Mu'awiya رضی اللہ عنہ in Syria:
I (Fadl) arrived in Syria, and did the needful for her. It was there in Syria that the month of Ramadan commenced. I saw the new moon (of Ramadan) on Friday. I then came back to Medina at the end of the month. Abdullah bin 'Abbas رضی اللہ عنہما asked me (about the new moon of Ramadan) and said: When did you see it? I said: We saw it on the night of Friday. He said: (Did) you see it yourself? I said: Yes, and the people also saw it and they fasted and Mu'awiya رضی اللہ عنہ also fasted, whereupon he said: But we saw it on Saturday night. So we will continue to fast till we complete thirty (fasts) or we see it (the new moon of Shawwal). I said: Is the sighting of the moon by Mu'awiya رضی اللہ عنہ not valid for you? He said: No; this is how the Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) has commanded us. Yahya bin Yahya was in doubt (whether the word used in the narration by Kuraib) was Naktafi or Taktafi.
ہم سے یحییٰ بن یحییٰ، یحییٰ بن ایوب، قتیبہ اور ابن حجر نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے یحییٰ بن یحییٰ نے بیان کیا، اور دوسروں نے کہا: یہ اسماعیل کی سند سے، جو ابن جعفر ہیں۔ محمد، جو ابن ابی حرملہ ہیں،کریب کو سیدہ ام الفضل بنت حارث رضی اللہ عنہا نے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کی طرف بھیجا شام میں، انہوں نے کہا کہ
میں گیا شام کو اور ان کا کام نکال دیا اور میں نے چاند دیکھا رمضان کا شام میں جمعہ کی شب کو (یعنی پنج شنبہ کی شام کو) پھر مدینہ آیا آخر ماہ میں اور سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے پوچھا مجھ سے اور ذکر کیا چاند کا کہ تم نے کب دیکھا؟ میں نے کہا: جمعہ کی شب کو۔ انہوں نے کہا: تم نے خود دیکھا؟ میں نے کہا: ہاں اور لوگوں نے بھی دیکھا اور روزہ رکھا سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ اور لوگوں نے تو سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: کہ ہم نے تو ہفتہ کی شب کو دیکھا اور ہم پورے تیس روزے رکھیں گے یا چاند دیکھ لیں گے تو میں نے کہا: آپ کافی نہیں جانتے دیکھنا سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کا اور ان کا روزہ رکھنا؟ آپ نے فرمایا نہیں ایسا ہی حکم کیا ہے ہم کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اور یحییٰ بن یحییٰ کو شک ہے کہ «نَكْتَفِى» کہا یا «تَكْتَفِى» ۔
Abu'l-Bakhtari رضی اللہ تعالیٰ عنہ reported:
We went out to perform Umra and when we encamped in the valley of Nakhla, we tried to see the new moon. Some of the people said: It was three nights old, and others (said) that it was two nights old. We then met Ibn 'Abbas رضی اللہ تعالیٰ عنہ and told him we had seen the new moon, but that some of the people said it was three nights old and others that it was two nights old. He asked on which night we had seen it; and when we told him we had seen it on such and such night, he said the Prophet of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) had said: Verily Allah deferred it till the time it is seen, so it is to be reckoned from the night you saw it.
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے محمد بن فضیل نے بیان کیا, حصین ، عمر بن مرہ ، حضرت ابوالبختری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے انہوں نے فرمایا کہ
ہم عمرہ کے لئے نکلے تو جب ہم وادی نخلہ میں اترے تو ہم نے چاند دیکھا بعض لوگوں نے کہا کہ یہ تیسری کا چاندہے ۔ اور کسی نے کہا کہ یہ دو راتوں کا چاند ہے ۔ تو ہماری ملاقات ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ہوئی تو ہم نے ان سے عرض کیا کہ ہم نے چاند دیکھا ہے ۔ کوئی کہتا ہے کہ تیسری تاریخ کا چاندہے ۔ کوئی کہتا ہے کہ د وسری کا چاند ہے ۔ تو حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ تم نے کس ر ات چاند دیکھا تھا؟تو ہم نے عرض کیا کہ فلاں فلاں رات کا تو آپ نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے دیکھنے کے لئے اسے بڑھا دیاہے ۔ در حقیقت کا اسی رات کا چاند ہے جس رات تم نے اسے دیکھا ۔
Abu'l-Bakhtari reported:
We saw the new moon of Ramadan as we were at Dhit-i-'Irq. We sent a man to Ibn Abbas رضی اللہ تعالیٰ عنہ to ask him (whether the sighting of a small moon had something of the nature of defect in it). Upon this Ibn 'Abbas رضی اللہ تعالیٰ عنہ said that the Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) had said: Verily Allah deferred its sight, but if (the new moon) is hidden from you, then, complete its number (thirty).
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ نے بیان کیا، ہم سے غندر نے بیان کیا، شعبہ کی سند سے، ہم سے ابن المثنیٰ اور ابن بشار نے بیان کیا، انہوں نے کہا: ہم سے محمد بن جعفر نے بیان کیا، انہوں نے کہا شعبہ ، عمرو ابن مرہ حضرت ابو البختری فرماتے ہیں کہ
ہم نے ذات عرق میں رمضان کا چاندد یکھا تو ہم نے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی طرف ایک آدمی بھیجا تاکہ وہ چاند کے بارے میں آپ سے پوچھے تو حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اللہ تعالیٰ نے چاند دیکھنے کے لئے بڑھا دیا ہے ۔ تو اگر مطلع ابر آلود ہوتو گنتی پوری کرو ۔
The son of Abu Bakra رضی اللہ تعالیٰ عنہ reported it on the authority of his father:
The Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) had said: The two months of 'Id, Ramadan and Dhu'l-Hijja (are not incomplete).
ہم سے یحییٰ بن یحییٰ نے بیان کیا، انہوں نے کہا یزید بن زریع ، خالد ، حضرت عبدالرحمٰن بن ابی بکرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ اپنے باپ سے روایت کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ عید کے دو ماہ ناقص نہیں ہوتے ایک رمضان المبارک کا دوسرے ذی الحجہ کا ۔
Abdur-Rahman bin Abu Bakra reported on the authority of Abu Bakra رضی اللہ تعالیٰ عنہ :
The Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) had said: The months of 'Id are not incomplete. And in the hadith narrated by Khalid (the words are): The months, of 'Id are Ramadan and Dhu'l-Hijja.
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا: ہم سے انہوں نے بیان کیا معتمر بن سلیمان ، اسحاق بن سوید ، خالد ، حضرت عبدالرحمٰن بن ابی بکرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ اپنے باپ سے روایت کرتےہوئے فرماتے ہیں کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایادو مہینے ناقص نہیں ہوتے خالد کی حدیث میں ہے کہ عید کے دو مہینے رمضان اور ذی الحجہ کے ہیں ۔ خالد کی حدیث میں ہے "" عید کے دونوں مہینے ، رمضان اور ذوالحجہ ۔ ""
Adi bin Hatim رضی اللہ تعالیٰ عنہ reported:
When (this verse) was revealed: Until the white streak of the dawn becomes distinct from the dark streak (ii. 187) Adi bin Hatim رضی اللہ تعالیٰ عنہ said: Messenger of Allah, verily I keep underneath my pillow two strings, one white and the other black, by which I distinguish night from dawn. Upon this the Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) said: Your pillow seems to be very large. For the word khait implies the blackness of the night and the whiteness of the dawn.
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ نے بیان کیا، ہم سے عبداللہ بن ادریس نے بیان کیا، ان سے حسین رضی اللہ عنہ نے، شعبی رضی اللہ عنہ کی سند سے, حضرت عدی بن حاتم رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا کہ
جب آیت حَتَّىٰ يَتَبَيَّنَ لَكُمُ الْخَيْطُ الْأَبْيَضُ مِنَ الْخَيْطِ الْأَسْوَدِ مِنَ الْفَجْرِ نازل ہوئی ۔ تو حضرت عدی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے آپ سے عرض کیا اے اللہ کے رسول! میں نے اپنے تکیے کے نیچے سفید اور سیاہ رنگ کے دو دھاگے رکھ لئے ہیں ۔ جن کی وجہ سے میں رات اور دن میں امتیاز کرلیتا ہوں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تمہارا تکیہ بہت چوڑا ہے کہ جس میں رات اور دن سماگئے ہیں ۔ وہ ( د ھاگا ) تو رات کی سیاہی اور دن کی روشنی ہے ۔ "
Sahl bin Sa'd رضی اللہ تعالیٰ عنہ said:
When this verse was revealed: Eat and drink till the white streak is distinct from the dark streak, a person would take hold of a white thread and a black thread and keep on eating till he could find them distinct (in the light of the dawn). It was then that Allah, the Majestic and Great, reveiled (the words) min al-fajr (from the dawn), and then it became clear (that the word khait refers to the streak of light in the dawn).
ہم سے عبید اللہ بن عمر القواریری نے بیان کیا، انہوں نے بیان کیا فضیل بن سلیمان ، ابو حازم ، حضرت سہل بن سعد رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں
جب یہ آیتوَكُلُوا وَاشْرَبُوا حَتَّىٰ يَتَبَيَّنَ لَكُمُ الْخَيْطُ الْأَبْيَضُ مِنَ الْخَيْطِ الْأَسْوَدِ نازل ہوئی تو بعض آدمی سفید دھاگہ اور سیاہ دھاگہ لے لیتے اور جب تک ان میں واضح امتیاز نظر نہ آتاتو کھاتے رہتے یہاں تک اللہ تعالیٰ نے لفظ " مِنَ الْفَجْرِ " نازل فرمایا اور سفید دھاگے کی وضاحت ہوگئی ۔