Back to Sahih Muslim

The Book of Fasting

كتاب الصِّيَامِ

Chapter 14

Hadith 2595
Sahih
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، وَابْنُ نُمَيْرٍ، كُلُّهُمْ عَنِ ابْنِ عُيَيْنَةَ، قَالَ يَحْيَى: أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: هَلَكْتُ، يَا رَسُولَ اللهِ، قَالَ: «وَمَا أَهْلَكَكَ؟» قَالَ: وَقَعْتُ عَلَى امْرَأَتِي فِي رَمَضَانَ، قَالَ: «هَلْ تَجِدُ مَا تُعْتِقُ رَقَبَةً؟» قَالَ: لَا، قَالَ: «فَهَلْ تَسْتَطِيعُ أَنْ تَصُومَ شَهْرَيْنِ مُتَتَابِعَيْنِ؟» قَالَ: لَا، قَالَ: «فَهَلْ تَجِدُ مَا تُطْعِمُ سِتِّينَ مِسْكِينًا؟» قَالَ: لَا، قَالَ: ثُمَّ جَلَسَ، فَأُتِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِعَرَقٍ فِيهِ تَمْرٌ، فَقَالَ: «تَصَدَّقْ بِهَذَا» قَالَ: أَفْقَرَ مِنَّا؟ فَمَا بَيْنَ لَابَتَيْهَا أَهْلُ بَيْتٍ أَحْوَجُ إِلَيْهِ مِنَّا، فَضَحِكَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى بَدَتْ أَنْيَابُهُ، ثُمَّ قَالَ: «اذْهَبْ فَأَطْعِمْهُ أَهْلَكَ».
English

Abu Huraira (رضی اللہ تعالیٰ عنہ) reported:

A person came to the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌) and said: Messenger of Allah, I am undone. He (the Holy Prophet) said: What has brought about your ruin? He said: I have had intercourse with my wife during the month of Ramadan. Upon this he (the Holy prophet) said: Can you find a slave to set him free? He said: NO He (the Prophet again) said: Can you observe fast for two consecutive months? He said: No. He (the Holy Prophet) said: Can you provide food to sixty poor people?, He said: No. He then sat down and (in the meanwhile) there was brought to the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) a basket which contained dates. He (the Holy Prophet) said: Give these (dates) in charity. He (the man) said: Am I to give to one who is poorer than I? There is no family poorer than mine between the two lava plains of Medina. The Apostle of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) laughed so that his molar teeth became visible and said: Go and give it to your family to eat.

Urdu

یحییٰ بن یحییٰ ، ابو بکر بن ابی شیبہ ، زہیر بن حرب ، ابن نمیر ، ابن عینیہ ، سفیان بن عینیہ ، حمید بن عبداالرحمٰن ، حضرت ابوہریرۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ

ایک آدمی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آیا اور اس نے عرض کیا اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم !میں ہلاک ہوگیا آپ نے فرمایا تو کیسے ہلا ک ہوگیا؟اس نے عرض کیا کہ میں نے رمضان میں اپنی بیوی سے ہمبستری کرلی ہے آپ نے فرمایا کیا تو ایک غلام آزاد کرسکتا ہے؟اس نے عرض کیا نہیں ، آپ نے فرمایا کیا تو مسلسل دو مہینے کے روزے رکھ سکتاہے؟اس نے عرض کیا نہیں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیاتو ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلا سکتا ہے؟اس نے عرض کیا کہ نہیں ، راوی کہتے ہیں کہ پھر وہ آدمی بیٹھ گیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک ٹوکرا لایا گیاجس میں کھجوریں تھیں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ان کو محتاجوں میں صدقہ کردو اس نے عرض کیا کیا ہم سے بھی زیادہ محتاج ہے؟مدینہ کے دونوں اطراف کے درمیان والے گھروں میں کوئی ایسا گھر نہیں جو ہم سے زیادہ محتاج ہو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہنس پڑے ۔ یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی داڑھیں مبارک ظاہر ہوگئیں پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آدمی سے فرمایا جا اور اسے اپنے گھر والوں کو کھلا ۔

Hadith 2596
Sahih
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ مُسْلِمٍ الزُّهْرِيِّ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَ رِوَايَةِ ابْنِ عُيَيْنَةَ، وَقَالَ: بِعَرَقٍ فِيهِ تَمْرٌ وَهُوَ الزِّنْبِيلُ وَلَمْ يَذْكُرْ: فَضَحِكَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى بَدَتْ أَنْيَابُهُ.
English

A hadith like this has been narrated on the authority of Muhammad bin Muslim al-Zuhri رضی اللہ تعالیٰ عنہ with the same chain of transmitters, and he said:

There was brought an 'araq containing dates, an 'araq being a huge basket. But in this hadith no mention has been made of (the fact) that the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) laughed till his molar teeth became visible.

Urdu

اسحاق بن ابراہیم ، جریر ، منصور ، حضرت محمد بن مسلم زہری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اس سند کے ساتھ اس طرح روایت نقل کی گئی ہے اور راوی نے کہا کہ

اس میں اس ٹوکرے کا ذکر نہیں ہے ۔ جس میں کھجوریں تھیں ۔ یعنی زنبیل اور وہ یہ بھی ذکر نہیں کرتے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہنسے یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ڈاڑھیں ظاہرہوگئیں ۔

Hadith 2597
Sahih
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، وَمُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ، قَالَا: أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ، ح وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، أَنَّ رَجُلًا وَقَعَ بِامْرَأَتِهِ فِي رَمَضَانَ، فَاسْتَفْتَى رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِكَ، فَقَالَ: «هَلْ تَجِدُ رَقَبَةً؟» قَالَ: لَا، قَالَ: «وَهَلْ تَسْتَطِيعُ صِيَامَ شَهْرَيْنِ؟» قَالَ: لَا، قَالَ: «فَأَطْعِمْ سِتِّينَ مِسْكِينًا».
English

Abu Huraira رضی اللہ تعالیٰ عنہ reported:

A person had intercourse with his wife during Ramadan (while fasting). He asked for the religious verdict (about it) from the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ), whereupon he (the Holy Prophet) said: Can you find a slave (to grant him freedom)? He said: No. He (the Prophet again) said: Can you afford to observe fasts for two (consecutive) months? He said: No. He (the Holy Prophet) said: Then feed sixty poor men.

Urdu

یحییٰ بن یحییٰ ، محمد بن رمح ، لیث ، قتیبہ ، ابن شہاب ، حمید بن عبدالرحمٰن ، بن عوف ، حضرت ابوہریرۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ

ایک آدمی نے رمضان میں اپنی بیوی سے ہم بستری کرلی اور پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس مسئلہ کے بارے میں پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیاتو ایک غلام آزاد کرسکتا ہے؟اس نے عرض کیا نہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا تو دو مہینے کے روزے رکھ سکتا ہے ۔ اس نے عرض کیا نہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تو پھر تو ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلا دے ۔

Hadith 2598
Sahih
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ أَنَّ رَجُلًا أَفْطَرَ فِي رَمَضَانَ، فَأَمَرَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُكَفِّرَ بِعِتْقِ رَقَبَةٍ، ثُمَّ ذَكَرَ بِمِثْلِ حَدِيثِ ابْنِ عُيَيْنَةَ.
English

It was narrated from Az-Zuhri with this chain:

A person broke fast in Ramadan whereupon the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) commanded him to free a slave (as an atonement), and the rest of the hadith is the same as narrated by Ibn Uyaina.

Urdu

محمد بن رافع ، اسحا ق بن عیسیٰ ، مالک ، حضرت زہری سے اس سندکے ساتھ روایت ہے کہ

ایک آدمی نے رمضان میں روزہ افطار کرلیا تو ر سول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے حکم فرمایاکہ ایک غلام آزاد کرکے کفارہ ادا کرے پھر ابن عینیہ کی حدیث کی طرح حدیث ذکر فرمائی ۔

Hadith 2599
Sahih
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، حَدَّثَنِي ابْنُ شِهَابٍ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ حَدَّثَهُ: «أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ رَجُلًا أَفْطَرَ فِي رَمَضَانَ، أَنْ يُعْتِقَ رَقَبَةً، أَوْ يَصُومَ شَهْرَيْنِ، أَوْ يُطْعِمَ سِتِّينَ مِسْكِينًا».
English

Humaid bin 'Abdul-Rahman رضی اللہ تعالیٰ عنہ reported that Abu Huraira رضی اللہ تعالیٰ عنہ had narrated to him:

The Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌) commanded the person (who) broke the fast in Ramadan to free a slave or observe fasts for two (consecutive) months or feed sixty poor persons.

Urdu

محمد بن رافع ، عبدالرزاق ، ابن جریج ، ابن شہاب ، حمید بن عبدالرحمان ، حضرت ابو ہریرۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بیان کیا کہ

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی کو حکم فرمایا جس آدمی نے رمضان میں روزہ توڑ لیا تھا اسے چاہیے کہ وہ ایک غلام آزاد کرے یا دو مہینے کے روزے رکھے یا ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلائے ۔

Hadith 2600
Sahih
حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَ حَدِيثِ ابْنِ عُيَيْنَةَ.
English

A similar hadith to that of Ibn-Uyaynah (no. 2595) was narrated Az-Zuhri with this chain.

Urdu

ہم سے عبد بن حمید نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالرزاق نے بیان کیا، انہوں نے بیان کیا معمرنے زہری سےاسی سندکے ساتھ ابن عینیہ کی حدیث کی طرح روایت کی ۔

Hadith 2601
Sahih
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحِ بْنِ الْمُهَاجِرِ، أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرِ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَبَّادِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا، أَنَّهَا قَالَتْ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: احْتَرَقْتُ، قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لِمَ» قَالَ: وَطِئْتُ امْرَأَتِي فِي رَمَضَانَ نَهَارًا، قَالَ: «تَصَدَّقْ، تَصَدَّقْ» قَالَ: مَا عِنْدِي شَيْءٌ، فَأَمَرَهُ أَنْ يَجْلِسَ، فَجَاءَهُ عَرَقَانِ فِيهِمَا طَعَامٌ، فَأَمَرَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَتَصَدَّقَ بِهِ.
English

A'isha ( رضی اللہ تعالیٰ عنہا ) reported:

A person came to the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌) and said: I am burnt, whereupon the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌) said: How is it? He (the person) said: I had intercourse with my wife during the day in Ramadan. Upon this (the Holy Prophet) said: Give charity, give charity. He (the person) said: There is nothing with me. He commanded him to sit down, (In the meanwhile) there were brought to him (to the Holy Prophet) two baskets containing eatables, whereupon the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌) told him to give them as sadaqa.

Urdu

محمد بن رمح ، ابن مہاجر ، لیث ، یحییٰ بن سعید ، عبدالرحمان بن قاسم ، محمد بن جعفر ، ابن زبیر ، عباد بن عبداللہ بن زبیر ، سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ

ایک آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آیا اور اس نے عرض کیا میں تو جل گیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیوں؟اس نے عرض کی کہ میں نے رمضان کے دنوں میں اپنی بیوی سے ہم بستری کرلی ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا صدقہ کر ، صدقہ کر ، اس آدمی نے عرض کیا کہ میرے پاس تو کچھ بھی نہیں ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے حکم فرمایا کہ وہ بیٹھ جائے تو آپ کی خدمت میں دو ٹوکرے آئے جس میں کھانا تھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آدمی کو حکم فرمایا کہ اس کو صدقہ کرو ۔

Hadith 2602
Sahih
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ، قَالَ: سَمِعْتُ يَحْيَى بْنَ سَعِيدٍ يَقُولُ: أَخْبَرَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْقَاسِمِ، أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ جَعْفَرِ بْنِ الزُّبَيْرِ، أَخْبَرَهُ، أَنَّ عَبَّادَ بْنَ عَبْدِ اللهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، حَدَّثَهُ أَنَّهُ سَمِعَ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا تَقُولُ: أَتَى رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ، وَلَيْسَ فِي أَوَّلِ الْحَدِيثِ «تَصَدَّقْ، تَصَدَّقْ» وَلَا قَوْلُهُ: نَهَارًا.
English

Abbad bin Abdullah bin Zubair narrated that he heard 'A'isha ( رضی اللہ عنہا) saying:

A person came to the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌), and he then narrated the hadith. But (neither these words are found): Give charity, give charity (nor) his words: during the day time .

Urdu

محمد بن مثنیٰ ، عبدالوہاب ثقفی ، یحییٰ بن سعید ، عبدالرحمان بن قاسم ، محمد بن جعفر بن زبیر ، عبداللہ بن زبیر ، سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ

ایک آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آیا اور پھر حدیث ذکر فرمائی اور اس میں صدقہ کا ذکر نہیں ہے اور نہ ہی دن کا ذکر ہے ۔

Hadith 2603
Sahih
حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ الْقَاسِمِ، حَدَّثَهُ أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ جَعْفَرِ بْنِ الزُّبَيْرِ، حَدَّثَهُ أَنَّ عَبَّادَ بْنَ عَبْدِ اللهِ بْنِ الزُّبَيْرِ حَدَّثَهُ، أَنَّهُ سَمِعَ عَائِشَةَ، زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَقُولُ: أَتَى رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْمَسْجِدِ فِي رَمَضَانَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، احْتَرَقْتُ، احْتَرَقْتُ، فَسَأَلَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «مَا شَأْنُهُ؟» فَقَالَ: أَصَبْتُ أَهْلِي، قَالَ: «تَصَدَّقْ» فَقَالَ: وَاللهِ، يَا نَبِيَّ اللهِ، مَالِي شَيْءٌ، وَمَا أَقْدِرُ عَلَيْهِ، قَالَ: «اجْلِسْ» فَجَلَسَ، فَبَيْنَا هُوَ عَلَى ذَلِكَ أَقْبَلَ رَجُلٌ يَسُوقُ حِمَارًا عَلَيْهِ طَعَامٌ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَيْنَ الْمُحْتَرِقُ آنِفًا؟» فَقَامَ الرَّجُلُ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «تَصَدَّقْ بِهَذَا» فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، أَغَيْرَنَا؟ فَوَاللهِ، إِنَّا لَجِيَاعٌ، مَا لَنَا شَيْءٌ، قَالَ: «فَكُلُوهُ».
English

Abbad bin Abdullah bin Zubair reported:

He had heard 'A'isha رضی اللہ تعالیٰ عنہا , the wife of the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌), as saying: A person came to the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌) in the mosque during (the month of) Ramadan and said: Messenger of Allah, I am burnt, I am burnt, whereupon the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌) asked him as to what the matter was. Upon this he said: I had intercourse with my wife (in a state of fasting) Thereupon he (the Holy Prophet) said: Give charity. Upon this he said: Apostle of Allah, I swear by God, there is nothing with me (to give in charity) as I do not possess anything. He (the Holy Prophet) said: Sit down. So he sat down and he was in this very state when there came a person urging a donkey with a load of eatables upon it. The Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) said: Where is that burnt one who was just here? Thereupon the person stood up. The Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) said: Give this (eatables brought by the man) in charity. Upon this the person said: Messenger of Allah, can there be anyone else (more deserving than I)? By Allah. we are hungry, we have nothing with us. Upon this he (the Holy Prophet) said: Then eat (these eatables).

Urdu

ابو طاہر ، ابن وہب ، عمرو بن لیث ، عبدالرحمن بن قاسم ، محمد بن جعفر بن زبیر ، عبادبن عبداللہ بن زبیر

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ مطہرہ فرماتی ہیں ۔ ایک آدمی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں رمضان میں مسجد میں آیا اور اس سے عرض کیا اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم !میں تو جل گیا میں تو جل گیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا کہ کیا ہوا؟تو اس نے عرض کیا کہ میں نے اپنی بیوی سے ہم بستری کرلی ہے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا صدقہ کرتو اس نے عرض کیا اللہ کی قسم!اے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تو کچھ بھی نہیں اور میں اس پر قدرت بھی نہیں ر کھتا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بیٹھ جا تو وہ بیٹھ گیا اسی دوران ایک آدمی اپناگدھا ہانکتے ہوئے لایا جس پر کھانا رکھا ہواتھا ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وہ جلنے والا آدمی کہاں ہے؟وہ آدمی کھڑا ہواتو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایااس کو صدقہ کر تو اس آدمی نے عرض کیا اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا ہمارے علاوہ بھی ( کوئی صدقہ کا مستحق ہے ) اللہ کی قسم ہم بھوکے ہیں ہمارے پاس کچھ بھی نہیں ہے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم ہی اسے کھالو ۔

Hadith 2604
Sahih
حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، وَمُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ، قَالَا: أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ، ح وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُتْبَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، أَنَّهُ أَخْبَرَهُ «أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ عَامَ الْفَتْحِ فِي رَمَضَانَ، فَصَامَ حَتَّى بَلَغَ الْكَدِيدَ، ثُمَّ أَفْطَرَ» قَالَ: وَكَانَ صَحَابَةُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَّبِعُونَ الْأَحْدَثَ فَالْأَحْدَثَ مِنْ أَمْرِهِ.
English

Ibn Abbas (رضی اللہ تعالیٰ عنہ) reported:

The Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌) went out during the month of Ramadan in the year of Victory (when Mecca was conquered) and was fasting till he reached Kadid (a canal situated at a distance of forty-two miles from Mecca) and he then broke the fast. And it was the habit of the Companions of the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) to follow him in every new thing (or act). So they followed him also (in this matter).

Urdu

یحییٰ بن یحییٰ ، محمد بن رمح ، لیث ، قتیبہ ، بن سعید ، ابن شہاب ، عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ ، حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فتح مکہ والے سال رمضان میں نکلے تو آپ نے روزہ رکھا جب آپ کدید کے مقام پر پہنچے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے روزہ افطار کرلیا ۔ راوی نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ رضوان اللہ عنھم اجمعین آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہر نئے سے نئے حکم کی پیروی کیاکرتے تھے ۔

Hadith 2605
Sahih
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَعَمْرٌو النَّاقِدُ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ، قَالَ يَحْيَى: قَالَ سُفْيَانُ: لَا أَدْرِي مِنْ قَوْلِ مَنْ هُوَ؟ يَعْنِي: وَكَانَ يُؤْخَذُ بِالْآخِرِ مِنْ قَوْلِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
English

This hadith is narrated on the authority of Zuhri with the same chain of transmitters. Yahya (one of the narrators) said that Sufyan (the narrator) had stated:

I do not know whose statement it is: It is the last word of the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌) which is accepted as (final as it abrogates the previous ones).

Urdu

یحییٰ بن یحیٰ ۔ ابو بکر بن ابی شیبہ ، عمر ، اسحاق بن ابراہیم ، سفیان ، حضرت زہری ، سے اس سند کے ساتھ اسی طرح حدیث نقل کی گئی ہے سفیان نے کہا کہ

مجھے نہیں معلوم کہ یہ کس کا قول ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے آخری قول کو لیا جاتا تھا؟

Hadith 2606
Sahih
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ، قَالَ الزُّهْرِيُّ: وَكَانَ الْفِطْرُ آخِرَ الْأَمْرَيْنِ، وَإِنَّمَا يُؤْخَذُ مِنْ أَمْرِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْآخِرِ فَالْآخِرِ، قَالَ الزُّهْرِيُّ: فَصَبَّحَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَكَّةَ لِثَلَاثَ عَشْرَةَ لَيْلَةً خَلَتْ، مِنْ رَمَضَانَ.
English

It has been narrated on the authority of Zuhri with the same chain of transmitters that breaking of fast (in a journey) is the final of the two commands (whether one may fast or one may break it), and it is the last command of the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌) which is to be accepted as final. Zuhri said:

The Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌) marched on Mecca on the morning of 14th of Ramadan (lit. when thirteen nights had passed).

Urdu

محمد بن رافع ، عبدالرزاق ، معمر ، حضرت زہری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اس سند کے ساتھ اسی طرح روایت نقل کی گئی ہے اور زہری نے کہا کہ

روزہ افطار کرنا آخری عمل تھا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے آخری عمل کو ہی اپنایاجاتا ہے زہری نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم رمضان کی تیرہ تاریخ کو مکہ مکرمہ پہنچے ۔

Hadith 2607
Sahih
وحَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ، مِثْلَ حَدِيثِ اللَّيْثِ. قَالَ ابْنُ شِهَابٍ: فَكَانُوا يَتَّبِعُونَ الْأَحْدَثَ فَالْأَحْدَثَ مِنْ أَمْرِهِ، وَيَرَوْنَهُ النَّاسِخَ الْمُحْكَمَ.
English

A hadlth like this has been transmitted on the authority of Ibn Shibab said:

They (the Compnions of the Holy Prophet) followed the latest of his commands and looked upon it as one abrogating (the previous ones) and the most firm.

Urdu

حرملہ بن یحییٰ ، ابن وہب ، یونس ، ابن شہاب لیث اس سند کے ساتھ ابن شہاب سےلیث کی حدیث کی طرح روایت نقل کی گئی ہے ابن شہاب نے فرمایا کہ

وہ لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے آخری عمل کی پیروی کرتے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے آخری عمل کو ناسخ قرار دیتے تھے ۔

Hadith 2608
Sahih
وحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، قَالَ: «سَافَرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي رَمَضَانَ، فَصَامَ حَتَّى بَلَغَ عُسْفَانَ، ثُمَّ دَعَا بِإِنَاءٍ فِيهِ شَرَابٌ، فَشَرِبَهُ نَهَارًا لِيَرَاهُ النَّاسُ، ثُمَّ أَفْطَرَ حَتَّى دَخَلَ مَكَّةَ» قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا: فَصَامَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَفْطَرَ، فَمَنْ شَاءَ صَامَ، وَمَنْ شَاءَ أَفْطَرَ.
English

Ibn 'Abbas (رضی اللہ تعالیٰ عنہ) reported:

The Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌) journeyed during the month of Ramadan in a state of fasting till he reached 'Usfan. He then ordered a cup containing drinking water and he drank that openly so that the people might see it, and broke the fast (and did not resume it) till he reached Mecca. Ibn 'Abbas (رضی اللہ تعالیٰ عنہ) said: Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌) fasted and broke the fast, so he who wished fasted and he who wished to break it broke it.

Urdu

اسحاق بن ابراہیم ، جریر ، منصور ، مجاہد ، طاؤس ، حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رمضان میں ایک سفر میں تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے روزہ رکھا جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم عسفان کے مقام پر پہنچے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک برتن منگوایا جس میں کوئی پینے کی چیز تھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے دن کے وقت میں پیا تاکہ لوگ اسے دیکھ لیں پھر آ پ صلی اللہ علیہ وسلم نے روزہ نہیں رکھا یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ میں داخل ہوگئےحضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سفر کے دوران روزہ رکھابھی اور نہیں بھی رکھا تو جوچاہے سفر میں روزہ رکھ لے اور جو چاہے روزہ نہ رکھے ۔

Hadith 2609
Sahih
وحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، قَالَ: «لَا تَعِبْ عَلَى مَنْ صَامَ، وَلَا عَلَى مَنْ أَفْطَرَ، قَدْ صَامَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي السَّفَرِ وَأَفْطَرَ».
English

Ibn Abbas (رضی اللہ تعالیٰ عنہ) reported:

Do not condemn one who observes fast, or one who does not observe (in a journey). for the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌) observed fast in a journey or he did not observe it (too).

Urdu

ابو کریب ، وکیع ، سفیان ، عبدالکریم ، طاؤس ، حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے انہوں نے فرمایا کہ

ہم برا بھلا نہیں کہتے تھے کہ جو روزہ رکھے اور نہ ہی برا بھلا کہتے ہیں جو آدمی سفر میں روزہ نہ رکھے تحقیق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سفر میں روزہ رکھا بھی اور روزہ افطار بھی کیاہے ۔

Hadith 2610
Sahih
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ الْمَجِيدِ، حَدَّثَنَا جَعْفَرٌ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ عَامَ الْفَتْحِ إِلَى مَكَّةَ فِي رَمَضَانَ فَصَامَ حَتَّى بَلَغَ كُرَاعَ الْغَمِيمِ، فَصَامَ النَّاسُ، ثُمَّ دَعَا بِقَدَحٍ مِنْ مَاءٍ فَرَفَعَهُ، حَتَّى نَظَرَ النَّاسُ إِلَيْهِ، ثُمَّ شَرِبَ، فَقِيلَ لَهُ بَعْدَ ذَلِكَ: إِنَّ بَعْضَ النَّاسِ قَدْ صَامَ، فَقَالَ: «أُولَئِكَ الْعُصَاةُ، أُولَئِكَ الْعُصَاةُ».
English

Jabir bin 'Abdullah ( رضی اللہ تعالیٰ عنہ) reported:

Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌) went out to Mecca in Ramadan in the year of Victory, and he and the people fasted till he came to Kura' al-Ghamim and the people also fasted. He then called for a cup of water which he raised till the people saw it, and then he drank. He was told afterwards that some people had continued to fast, and he said: These people are the disobedient ones; these are the disobedient ones.

Urdu

محمد بن مثنی ، عبدالوہاب ، ابن عبدالمجید ، جعفر ، حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فتح مکہ والے سال رمضان میں مکہ کی طرف نکلے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے روزہ رکھاجب آپ کراع الغمیم پہنچے تو لوگوں نے بھی روزہ رکھا پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پانی کا ایک پیالہ منگوایاپھر اسے بلند کیا یہاں تک کہ لوگوں نے اسے دیکھ لیا پھر آپ نے وہ پی لیا اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا گیا کہ کچھ لوگوں نے روزہ رکھا ہوا ہے ۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ لوگ نافرمان ہیں یہ لوگ نافرمان ہیں ۔ فائدہ : ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سفر کے دوران میں روزہ رکھنے یا نہ رکھنے کی اجازت دے رکھی تھی لیکن اس موقع پر روزے لوگوں کے لئے تکلیف اور مشقت کا باعث بن رہے تھے ، اس لئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کی شدید مشقت کی بنا پر اس انداز میں افطار کیا کہ سب دیکھ لیں اورافطار کرلیں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس عمل کے باوجود نہ افطار کرنے والے سخت زجر وتوبیخ کے مستحق تھے ۔

Hadith 2611
Sahih
وحَدَّثَنَاه قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي الدَّرَاوَرْدِيَّ، عَنْ جَعْفَرٍ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ، وَزَادَ فَقِيلَ لَهُ: إِنَّ النَّاسَ قَدْ شَقَّ عَلَيْهِمِ الصِّيَامُ، وَإِنَّمَا يَنْظُرُونَ فِيمَا فَعَلْتَ، فَدَعَا بِقَدَحٍ مِنْ مَاءٍ بَعْدَ الْعَصْرِ.
English

This hadith has been narrated by Ja'far with the same chain of transmitters and he added:

It was said to him (to the Holy Prophet): There are people to whom fasting has become unbearable and they are waiting how you do. He (the Holy Prophet) then called for a cup of water when it was afternoon. The rest of the hadith is the same.

Urdu

قتیبہ بن سعید ، عبدالعزیز ، حضرت جعفر سے اس سند کے ساتھ یہ روایت نقل کی گئی ہے اور اس میں یہ زائد ہے کہ آپ سے عرض کیاگیا کہ

لوگوں پر روزہ دشوار ہورہا ہے اور وہ اس بارے میں انتظار کررہے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کیا کرتے ہیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نےعصر کے بعد پانی کا ایک پیالہ منگوایا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا گیا: ایسے لوگ ہیں جن کے لیے روزہ ناقابل برداشت ہو گیا ہے اور وہ انتظار کر رہے ہیں کہ آپ کیسے کرتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر دوپہر کے وقت پانی کا پیالہ منگوایا۔ باقی حدیث بھی وہی ہے۔

Hadith 2612
Sahih
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَابْنُ بَشَّارٍ، جَمِيعًا عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرٍ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ: حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْحَسَنِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ، فَرَأَى رَجُلًا قَدِ اجْتَمَعَ النَّاسُ عَلَيْهِ، وَقَدْ ظُلِّلَ عَلَيْهِ، فَقَالَ: «مَا لَهُ؟» قَالُوا: رَجُلٌ صَائِمٌ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَيْسَ الْبِرَّ أَنْ تَصُومُوا فِي السَّفَرِ».
English

Jabir bin 'Abdullah (رضی اللہ تعالیٰ عنہ) reported:

In the course of a journey Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌) saw a man, people crowding around him and providing him a shade. Upon this he (the Holy Prophet ﷺ) said: What is the matter with him? They said: He is a person observing fast. Whereupon the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌) said: It is no righteousness that you fast on journey.

Urdu

ابو بکر بن ابی شیبہ ، محمد بن مثنیٰ ، ابن بشار ، محمد بن جعفر ، غندر ، شعبہ ، محمد بن عبدالرحمان ، ابن سعد ، محمد بن عمرو بن حسن ، حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے انہوں نے فرمایاکہ

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک سفر میں تھے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی کو دیکھا کہ لوگ اس کے ارد گرد جمع ہیں اور اس پر سایہ کیا گیا ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس آدمی کو کیا ہواہے؟لوگوں نے عرض کیا یہ ایک آدمی ہے جس نے روزہ رکھا ہوا ہے تب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ نیکی نہیں کہ تم سفر میں روزہ ر کھو ۔

Hadith 2613
Sahih
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُعَاذٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَالَ: سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْحَسَنِ، يُحَدِّثُ أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، يَقُولُ: رَأَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلًا بِمِثْلِهِ.
English

Amr bin al-Hasan is reported to have said that he heard Jabir bin 'Abdullah ( رضی اللہ تعالیٰ عنہ) as saying: The Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌) saw a man. The rest of the hadith is the same as mentioned above.

Urdu

عبیداللہ بن معاذ ، شعبہ ، محمد بن عبدالرحمن ، محمد بن عمرو بن حسن ، حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی کو د یکھا باقی حدیث اسی طرح ہے ۔

Hadith 2614
Sahih
وحَدَّثَنَاه أَحْمَدُ بْنُ عُثْمَانَ النَّوْفَلِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ، نَحْوَهُ، وَزَادَ: قَالَ شُعْبَةُ: وَكَانَ يَبْلُغُنِي عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ أَنَّهُ كَانَ يَزِيدُ فِي هَذَا الْحَدِيثِ، وَفِي هَذَا الْإِسْنَادِ أَنَّهُ قَالَ: «عَلَيْكُمْ بِرُخْصَةِ اللهِ الَّذِي رَخَّصَ لَكُمْ» قَالَ: فَلَمَّا سَأَلْتُهُ، لَمْ يَحْفَظْهُ.
English

It was narrated from Shobah with this chain (a Hadith similar to no. 2613), but Shobah said:

"I was informed about Yahya bin Abi Kathir that he used to add to this Hadith. And with this chain, in it said: 'You should avail yourselves of the concession that Allah has granted to you.'" he said: "So when I asked him, he did not remember it." This hadith has been narrated on the authority of Shu'ba with the same chain of transmitters but with this addition that he (the Holy Prophet) said: Take advantage of the concession of Allah Who Wanted it to you. When he (one of the narrators) asked him (the other one, Yabya bin Abi Kathar) he did not retain it in his mind.

Urdu

احمد بن عثمان نوفلی ، ابو داود ، شعبہ ، اس سلسلہ کے ساتھ، اس سے ملتا جلتا ہے، اور انہوں نے مزید کہا: شعبہ نے کہا

یحییٰ بن ابی کثیر اس حدیث میں مزید اضافہ کیا کرتے تھے اور اس سلسلہ کی سند میں انہوں نے کہا:اللہ تعالیٰ نے تمھیں جو رخصت عطاء فرمائی ہے اس پرعمل کرنا تمہارے لئے ضروری ہے راوی نے کہا کہ جب میں نے ان سے سوال کیا تو ان کو یاد نہیں تھا ۔