Abu Sa'id al-Khudri (رضی اللہ عنہ) reported:
At the Battle of Hanain Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) sent an army to Autas and encountered the enemy and fought with them. Having overcome them and taken them captives, the Companions of Allah's Messenger (ﷺ) seemed to refrain from having intercourse with captive women because of their husbands being polytheists. Then Allah, Most High, sent down regarding that: And women already married, except those whom your right hands possess (iv. 24) (i.e. they were lawful for them when their 'Idda period came to an end).
ہم سے عبید اللہ بن عمر بن میسرہ القواری نے بیان کیا, یزید بن زُرَیع نے ہمیں حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں سعید بن ابوعروبہ نے قتادہ سے حدیث بیان کی ، انہوں نے ابوخلیل صالح سے ، انہوں نے ابوعلقمہ ہاشمی سے اور انہوں نے ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ
حنین کے دن ( جنگ میں فتح حاصل کرنے کے بعد ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اوطاس کی جانب ایک لشکر بھیجا ، ان کا دشمن سے سامنا ہوا ، انہوں نے ان ( دشمنوں ) سے لڑائی کی ، پھر ان پر غالب آ گئے اور ان میں سے کنیزیں حاصل کر لیں ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے بعض لوگوں نے ان کے مشرک خاوندوں ( کی موجودگی ) کی بنا پر ان سے مجامعت کرنے میں حرج محسوس کیا ، اس پر اللہ عزوجل نے اس کے بارے میں ( یہ آیت ) نازل فرمائی : " اور شادی شدہ عورتیں ( بھی حرام ہیں ) سوائے ان ( لونڈیوں ) کے جن کے مالک تمہارے دائیں ہاتھ ہوں ۔ " یعنی جب ان کی عدت پوری ہو جائے تو ( تمہاری لونڈیاں بن جانے کی بنا پر ) وہ تمہارے لیے حلال ہیں.
Abu Sa'id al-Khudri ( رضی اللہ عنہ) reported:
Allah's Apostle ( صلی اللہ علیہ وسلم ) sent a small army. The rest of the hadith is the same except this that he said: Except what your right hands possess out of them are lawful for you; and he did not mention when their 'idda period comes to an end .
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ، محمد بن المثنی اور ابن بشار نے بیان کیا، انہوں نے کہا عبدالاعلی نے ہمیں سعید سے حدیث بیان کی ، انہوں نے قتادہ سے ، انہوں نے ابوخلیل سے روایت کی کہ ابوعلقمہ ہاشمی نے حدیث بیان کی ، انہیں حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نے حدیث بیان کی کہ
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حنین کے دن ایک سریہ بھیجا ۔ ۔ ۔ ( آگے ) یزید بن زریع کی حدیث کے ہم معنی ہے لیکن انہوں نے کہا : سوائے ان ( لونڈیوں ) کے جن کے مالک تمہارے دائیں ہاتھ ہوں ، وہ تمہارے لیے حلال ہیں ۔ اور انہوں نے " جب ان کی عدت پوری ہو جائے " کے الفاظ ذکر نہیں کیے ۔ ( اس سریہ میں جو کنیزیں ہاتھ آئیں یہ واقعہ ان کے بارے میں ہے.
This hadith has been reported on the authority of AbuSa'id (al-Khudri) (Allah be pleased with him) through another chain of transmitters and the words are: They took captives (women) on the day of Autas who had their husbands. They were afraid (to have sexual intercourse with them) when this verse was revealed: And women already married except those whom you right hands posses (iv. 24)
مجھ سے یحییٰ بن حبیب الحارث نے بیان کیا، یعنی ہم سے یہ ابن حارث نے بیان کیا, شعبہ نے قتادہ سے اسی سند کے ساتھ اسی کے ہم معنی حدیث بیان کی.
It was narrated that Abu Saeed رضی اللہ عنہ said:
'They captured some female prisoners on the day of Awtes, who had husband, so they were worried, then this verse was revealed: "also (forbidden are) women are married, except those (slave) whom your right hands posses..."
مجھ سے یحییٰ بن حبیب الحارث نے بیان کیا، ہم سے خالد بن حارث نے بیان کیا،شعبہ نے ہمیں قتادہ سے حدیث بیان کی ، انہوں نے ابوخلیل سے اور انہوں نے حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا
اوطاس کے دن صحابہ کو لونڈیاں ملیں جن کے خاوند بھی تھے ، اس پر وہ ( ان سے تعلقات ، قائم کرتے ہوئے ) ڈرے ( کہ یہ گناہ نہ ہو ) اس پر یہ آیت نازل کی گئی : " اور شادی شدہ عورتیں ( بھی حرام ہیں ) سوائے ان ( لونڈیوں ) کے جن کے تمہارے دائیں ہاتھ مالک ہو جائیں.
Qatada reported a hadith like this with the same chain of transmitters.
مجھ سے یحییٰ بن حبیب نے بیان کیا، کہا ہم سے خالد نے بیان کیا، یعنی ابن حارث نے, سعید نے قتادہ سے اسی سند کے ساتھ اسی طرح حدیث بیان کی.
A'isha (رضی اللہ عنہا) reported:
Sa'd bin Abu Waqqas and Abd bin Zam'a (رضی اللہ عنہما) disputed with each other over a young boy. Sa'd رضی اللہ عنہ said: Messenger of Allah, he is the son of my brother 'Utba bin Abu Waqqas as he made it explicit that he was his son. Look at his resemblance. Abd bin Zam'a said Messenger of Allah, he is my brother as he was born on the bed of my father from his slave-girl. Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) looked at his resemblance and found a clear resemblance with 'Utba. (But) he said: He is yours O 'Abd (bin Zam'a), for the child is to be attributed to one on whose bed it is born, and stoning for a fornicator. Sauda bint Zam'a رضی اللہ عنہا, O you should observe veil from him. So he did not see Sauda at all. Muhammad bin Rumh did not make a mention (of the words): O Abd.
قتیبہ بن سعید اور محمد بن رُمح نے کہا : لیث نے ہمیں ابن شہاب سے خبر دی ، انہوں نے عروہ سے ، انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی ، انہوں نے کہا
سعد بن ابی وقاص اور عبد بن زمعہ رضی اللہ عنہما نے ایک لڑکے کے بارے میں جھگڑا کیا ۔ سعد رضی اللہ عنہ نے کہا : اللہ کے رسول! یہ میرے بھائی عتبہ بن ابی وقاص کا بیٹا ہے ، اس نے مجھے وصیت کی تھی کہ یہ اس کا بیٹا ہے ، آپ اس کی مشابہت دیکھ لیں ۔ عبد بن زمعہ رضی اللہ عنہ نے کہا : یہ میرا بھائی ہے ، اللہ کے رسول! یہ میرے باپ کی لونڈی سے اسی کے بستر پر پیدا ہوا ہے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی مشابہت دیکھی تو آپ نے واضھ طور پر عتبہ کے ساتھ مشابہت ( بھی ) محسوس کی ، اس کے بعد آپ نے فرمایا : "" عبد! یہ تمہارا ( بھائی ) ہے ۔ ( اس کا سبب یہ ہے کہ ) بچہ صاحب فراش کا ہے ، اور زنا کرنے والے کے لیے پتھر ( ناکامی اور محرومی ) ہے ۔ اور سودہ بنت زمعہ! ( تم ) اس سے پردہ کرو ۔ "" اس کے بعد اس نے کبھی حضرت سودہ رضی اللہ عنہا کو نہیں دیکھا ۔ اور محمد بن رمح نے آپ کے الفاظ "" يا عبد "" ذکر نہیں کیے.
A hadith like this is narrated on the authority of Ibn 'Uyaiyna and Ma'mar (and the words are):
The child is attributed to him on whose bed he is born; but they did not mention this: For a fornicator there is stoning.
ہم سے سعید بن منصور، ابوبکر بن ابی شیبہ اور عمرو ناقد نے بیان کیا، انہوں نے کہاسفیان بن عیینہ اور معمر نے زہری سے اسی سند کے ساتھ اسی کے ہم معنی حدیث بیان کی ۔ لیکن معمر اور ابن عیینہ کی حدیث میں ہے
" بچہ صاحب فراش کا ہے " اور ان دونوں نے " زانی کے لیے پتھر ہے " کے الفاظ ذکر نہیں کیے.
Abu Huraira (رضی اللہ عنہ) reported:
Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) as saying: The child is to be attributed to one on whose bed he is born, and for a fornicator there is stoning.
مجھ سے محمد بن رافع اور عبد بن حمید نے بیان کیا، ابن رافع نے کہا: ہم سے عبد الرزاق نے بیان کیا, معمر نے زہری سے خبر دی ، انہوں نے ابن مسیب اور ابوسلمہ سے ، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " بچہ بستر والے کا ہے اور زانی کے لیے پتھر ( ناکامی اور محرومی ) ہے.
A hadith like this is narrated on the authority of Abu Huraira رضی اللہ عنہ .
سعید بن منصور ، زہیر بن حرب ، عبدالاعلیٰ بن حماد اور عمرو ناقد سب نے کہا : ہمیں سفیان نے زہری سے خبر دی ۔ ابن منصور نے کہا : سعید نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ۔ عبدالاعلی نے کہا : ابوسلمہ سے یا سعید سے روایت ہے ، انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ۔ زہیر نے کہا : سعید یا ابوسلمہ نے ان دونوں میں سے ایک نے یا دونوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ۔ اور عمرو نے ایک بار کہا : ہمیں سفیان نے زہری کے حوالے سے سعید اور ابوسلمہ سے ، اور ایک بار کہا : سعید یا ابوسلمہ سے ، اور ایک بار کہا : سعید نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ۔ ۔ ۔ ( آگے ) جس طرح معمر کی حدیث ہے.
A'isha ( رضی اللہ عنہا) reported:
Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) visited me looking pleased as if his face was glistening and said: Did you see that Mujazziz cast a glance at Zaid bin Haritha and Usama bin Zaid رضی اللہ عنہما , and (then) said: Some (of the features) of their feet are found in the others?
ہم سے یحییٰ بن یحییٰ نے بیان کیا، اور ہم سے محمد بن روم نے بیان کیا، انہوں نے کہا: ہم سے انہوں نے بیان کیا لیث نے ہمیں ابن شہاب سے حدیث بیان کی ، انہوں نے عروہ سے اور انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی ، انہوں نے کہا
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خوش خوش میرے پاس تشریف لائے ، آپ کے چہرے ( پیشانی ) کے خطوط چمک رہے تھے ، آپ نے فرمایا : " تم نے دیکھا نہیں کہ ابھی ابھی ( بنو مدلج کے قیافہ شناس ) مُجزز نے زید بن حارثہ اور اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما کو دیکھا ہے ، اور کہا ہے : ان قدموں میں سے ایک ( قدم ) دوسرے میں سے ہے ۔ " ( ایک بیٹے کا ہے ، دوسرا باپ کا)
A'isha ( رضی اللہ عنہا) reported:
One day Allah's Apostle ( صلی اللہ علیہ وسلم ) visited me looking pleased and he said: 'A'isha رضی اللہ عنہا , don't you see Mujazziz al-Mudliji? (He) entered (my house) and saw Usama and Zaid with a rug over them covering their heads, but their feet appeared, and (he) said: These feet are related to one another.
مجھ سے عمرو ناقد، زہیر بن حرب اور ابوبکر بن ابی شیبہ نے بیان کیا، اور تلفظ عمرو کے لیے ہے,سفیان نے ہمیں زہری سے حدیث بیان کی ، انہوں نے عروہ سے ، انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی ، انہوں نے کہا
ایک روز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خوش خوش میرے پاس تشریف لائے ۔ اور فرمایا : " عائشہ! کیا تم نے دیکھا نہیں کہ مجزز مدلجی میرے پاس آیا ، اس نے اسامہ اور زید کو دیکھا ، ان دونوں پر ایک چادر تھی جس نے ان کے سروں کو ڈھانپا ہوا تھا اور ان کے پاؤں ننگے تھے تو اس نے کہا : بلاشبہ یہ قدم ایک دوسرے میں سے ہیں.
A'isha (رضی اللہ عنہا) reported:
A physiognomist visited (our house) and Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) was present, and Usama bin Zaid and Zaid bin Haritha رضی اللہ عنہم were both lying asleep, and he (the physiognomist), said: These feet are related to one another. Allah's Apostle ( صلی اللہ علیہ وسلم ) was pleased to hear this, and he was happy and informed 'A'isha (رضی اللہ عنہا) about it.
ہم سے منصور بن ابی مزاحم نے بیان کیا، انہوں نے بیان کیا ابراہیم بن سعد نے ہمیں زہری سے حدیث بیان کی ، انہوں نے عروہ سے ، انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی ، انہوں نے کہا
ایک قیافہ شناس آیا ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی موجود تھے ، اسامہ بن زید اور زید بن حارثہ رضی اللہ عنہم ( ایک چادر میں ) لیٹے ہوئے تھے تو اس نے کہا : بلاشبہ یہ قدم ایک دوسرے میں سے ہیں ۔ اس سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو خوشی ہوئی اور آپ کو بہت اچھا لگا ، آپ نے یہ بات حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو بھی بتائی.
A hadith like this has been narrated on the authority of Zuhri and Yunus said:
Mujazziz was a physiognomist.
مجھ سے حرملہ بن یحییٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے ابن وہب نے بیان کیا, یونس ، معمر اور ابن جریج سب نے زہری سے اسی سند کے ساتھ ، ان ( لیث ، سفیان اور ابراہیم بھی سعد ) کی حدیث کے ہم معنی روایت بیان کی اور ( ابن وہب نے ) یونس کی حدیث میں یہ اضافہ کیا
اور مجزز ایک قیافہ شاس تھا.
Abdul-Malik bin Abu Bakr bin Abdul-Rahman bin al-Harith bin Hisham reported on the authority of his father from Umm Salama (رضی اللہ عنہا):
When Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) married Umm Salama رضی اللہ عنہا , he stayed with her for three nights, and said: There is no lack of estimation on the part of your husband for you. If you wish I can stay with you for a week, but in case I stay with you for a week, then I shall have to stay for a week with all my wives.
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ، محمد بن حاتم اور یعقوب بن ابراہیم نے بیان کیا، اور یہ قول ابوبکر سے ہے، انہوں نے کہا: ہم سے یحییٰ بن نے بیان کیا۔ سعید، سفیان کی سند سے، محمد بن ابی بکر کی سند سے، عبد الملک بن کی سند سے,محمد بن ابوبکر نے عبدالملک بن ابوبکر بن عبدالرحمٰن بن حارث بن ہشام سے ، انہوں نے اپنے والد سے ، انہوں نے ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے شادی کی تو ان کے ہاں تین دن قیام کیا اور فرمایا : " اپنے اہل ( شوہر ) کے نزدیک تمہاری قدر و منزلت میں کسی طرح کی کمی نہیں ، اگر تم چاہو تو میں تمہارے پاس ( قیام کے لیے ) سات دن رکھ لیتا ہوں اور اگر میں نے تمہارے ہاں سات دن قیام کیا تو اپنی ساری بیویوں کے ہاں سات سات دن قیام کروں گا.
Ibn Abu Bakr bin Abdul-Rahman reported:
When Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) married Umm Salama رضی اللہ عنہا and she stayed with him (during the night), and it was dawn, he (the Holy Prophet ﷺ) said to her: There is no lack of estimation for you on the part of your husband. So if you desire I can spend a week with you, and if you like I may spend three (nights). and then I will visit you in turn. She said: Spend three (nights).
ہم سے یحییٰ بن یحییٰ نے بیان کیا، انہوں نے کہا: میں نے مالک رضی اللہ عنہ سے پڑھا, عبداللہ بن ابوبکر نے عبدالملک بن ابوبکر سے ، انہوں نے ابوبکر بن عبدالرحمٰن سے روایت کی کہ
جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے نکاح کیا اور وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس رہائش پذیر ہو گئیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے کہا : " اپنے شوہر کے سامنے تمہارے مرتبے میں کوئی کمی نہیں ، اگر تم چاہو تو میں تمہارے ہاں سات دن قیام کروں گا ، اور اگر تم چاہو تو تین دن قیام کروں گا پھر ( باری باری ) سب کے ہاں جانا شروع کروں گا ۔ " ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے جواب دیا : آپ تین دن قیام فرمائیں.
Abu Bakr bin 'Abdul-Rahman reported:
When Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) married Umm Salama and he visited her, and when he intended to come out, she caught hold of his cloth. whereupon Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) said: If you so desire, I can extend the time (of my stay) with you, but then I shall have to calculate the time (that I stay with you and shall have to spend the same time with other wives). For the virgin woman, (her husband has to stay with her) for a week, and for the woman previously married it is three days.
ہم سے عبداللہ بن مسلمہ القنبی نے بیان کیا، انہوں نے بیان کیا سلیمان بن بلال نے ہمیں عبدالرحمٰن بن حُمَید سے حدیث بیان کی ، انہوں نے عبدالملک بن ابوبکر سے ، انہوں نے ابوبکر بن عبدالرحمٰن سے روایت کی کہ
جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے نکاح کیا تو آپ ان کے پاس گئے ، اس کے بعد آپ نے نکلنے کا ارادہ کیا تو انہوں نے آپ کے کپڑے کو پکڑ لیا ۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " اگر تم چاہو تو میں مزید تمہارے ہاں قیام کروں گا اور تمہارے ساتھ اس کا حساب رکھوں گا ، کنواری کے لیے سات راتیں ہیں اور ثیبہ ( دوہاجو ) کے لیے تین راتیں ہیں.
A hadith like this has been narrated on the authority of Ibn Humaid.
ہم سے یحییٰ بن یحییٰ نے بیان کیا، انہوں نے بیان کیا ابوضمرہ نے عبدالرحمٰن بن حمید سے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند روایت کی.
Umm Salama (رضی اللہ عنہا) reported:
Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) married her, and he (the narrator) made mention of so many things in this connection (and one of them was this) that he said: If you desire that I spend a week with you, I shall have to spend a week with my (other) wives, and if spend a week with you, I shall have to spend a week with my (other) wives.
مجھ سے ابو کریب محمد بن اعلا نے بیان کیا، ہم سے حفص یعنی ابن غیث نے بیان کیا, عبدالواحد بن ایمن نے ابوبکر بن عبدالرحمٰن سے ، انہوں نے ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی ، انہوں ( عبدالواحد ) نے بیان کیا کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان ( ام سلمہ رضی اللہ عنہا ) سے شادی کی ، اور بہت سی باتوں کا ذکر کیا ، ان میں یہ بات بھی تھی : آپ نے فرمایا : " اگر تم چاہو کہ میں تمہارے ہاں سات سات دن قیام کروں ( تو ہو سکتا ہے ) اور اگر میں نے تمہارے ہاں سات دن قیام کیا تو اپنی ساری بیویوں کے ہاں سات سات دن قیام کروں گا.
Anas bin Malik رضی اللہ عنہ reported:
When anyone who has already a wife marries virgin, he should stay with her for seven nights (and then turn to his other wife), but when anyone having a virgin with him (as his wife) marries a woman who has been previously married he should stay with her for three nights. Khalid (one of the narrators) said. If I were to say that it could be directly traced to the Prophet ( صلی اللہ علیہ وسلم ). I would have told the truth, but he (Hadrat Anas) said: Such is the tradition.
ہم سے یحییٰ بن یحییٰ نے بیان کیا، انہوں نے بیان کیا ہشیم نے ہمیں خالد سے خبر دی ، انہوں نے ابوقلابہ سے ، انہوں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا
جب کوئی دوہاجو جو ( ثیبہ ) کے بعد باکرہ سے شادی کرے تو اس کے ہاں سات دن قیام کرے اور جب باکرہ کے بعد کسی ثیبہ سے شادی کرے تو اس کے ہاں تین دن قیام کرے ۔ خالد نے کہا : اگر میں کہوں کہ انہوں نے اسے مرفوعا بیان کیا ہے ، تو میں سچ کہوں گا لیکن انہوں نے کہا تھا : سنت اسی طرح ہے ۔ ( یہ حدیث کو مرفوع کرنے کے مترادف ہے)
Abu Qilaba reported on the authority of Anas رضی اللہ عنہ :
It is the Sunnah to stay with a virgin (after having married her) for a week. Khalid (one of the narrators) said: If wish I can say that it can be traced up to the Prophet ( صلی اللہ علیہ وسلم ).
مجھ سے محمد بن رافع نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالرزاق نے بیان کیا، انہوں نے بیان کیاسفیان نے ایوب اور خالد حذاء سے خبر دی ، انہوں نے ابوقلابہ سے ، انہوں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا
سنت میں سے ہے کہ ( دلہا ) باکرہ کے ہاں سات راتیں قیام کرے ۔ خالد نے کہا : اگر میں چاہوں تو کہہ سکتا ہوں : انہوں نے اسے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے مرفوعا بیان کیا ہے.