Abdullah bin Abbas ( رضی اللہ عنہ) reported:
I intended to ask 'Umar bin al-Khattab ( رضی اللہ عنہ) about a verse, but I waited for one year to ask him out of his fear, until he went out for Pilgrimage and I also accompanied him. As he came back and we were on the way he stepped aside towards an Arak tree to ease himself. I waited for him until he was free. I then walked along with him and said: Commander of the Faithful, who are the two among the wives of Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) who backed up one another (in their demand for extra money)? He said: They were Hafsa and 'A'isha (رضی اللہ عنہا ). I said to him: It is for one year that I intended to ask you about this matter but I could not date so on account of the awe for you. He said: Don't do that. If you think that I have any knowledge, do ask me about that. And if I were to know that, I would inform you. He (the narrator) stated that 'Umar رضی اللہ عنہ had said: By Allah, during the days of ignorance we had no regard for women until Allah the Exalted revealed about them what He has revealed, and appointed (turn) for them what he appointed. He said: It so happened that I was thinking about some matter that my wife said: I wish you had done that and that. I said to her: It does not concern you and you should not feel disturbed in a matter which I intend to do. She said to me: How strange is it that you, O son of Khattab, do not like anyone to retort upon you, whereas your daughter retorts upon Allah's Messenger (ﷺ) until he spends the day in vexation. 'Umar رضی اللہ عنہ said: I took hold of my cloak, then came out of my house until I visited Hafsa and said to her: O daughter, (I heard) that you retort upon Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) until he spends the day in vexation, whereupon Hafsa رضی اللہ عنہا said: By Allah, we do retort upon him. I said: You should bear in mind, my daughter, that I warn you against the punishment of Allah and the wrath of His Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ). You may not be misled by one whose beauty has fascinated her, and the love of Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) for her. I ('Umar رضی اللہ عنہ) then visited Umm Salama رضی اللہ عنہا because of my relationship with her and I talked to her. Umm Salama رضی اللہ عنہا said to me: Umar bin al-Khattab رضی اللہ عنہا , how strange is it that you meddle with every matter so much so that you are anxious to interfere between Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) and his wives, and this perturbed me so much that I refrained from saying what I had to say, so I came out of her apartment, and I had a friend from the Anar. When I had been absent (from the company of the Holy Prophet ﷺ) he used to bring me the news and when he had been absent I used to bring him the news, and at that time we dreaded a king of Ghassan. It was mentioned to us that he intended to attack us, and our minds were haunted by him. My friend, the Ansari, came to me, and he knocked at the door and said: Open it, open it. I said: Has the Ghassani come? He said: (The matter is) more serious than that. The Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) has separated himself from his wives. I said: Let the nose of Hafsa رضی اللہ عنہا and 'A'isha رضی اللہ عنہا be besmeared with dust. I then took hold of my cloth and went out until I came and found Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) in his attic to which he climbed by means of a ladder made of date-palm, and the servant of Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) who was black had been sitting at the end of the ladder. I said: This is Umar. So permission was granted to me. I narrated this news to Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) and as I narrated the news concerning Umm Salama رضی اللہ عنہا , Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) smiled. He was lying on the mat and there was nothing between him and that (mat), and under his head there was a pillow made of leather and it was stuffed with plam fibres and at his feet were lying a heap of sant tree (acacia niloctica, meant for dyeing) and near his head there was hanging a hide. And I saw the marks of the maton the side of Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ), and so I wept. He said: What makes you weep? I said: Messenger of Allah, the Khusrau and the Ceasars (spendd their lives in) the midst of (luxuries), whereas you being Allah's Messenger (are leading your life in this poverty). Thereupon Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) said: Don't you like that they should have riches of their world, and you have the Hereafter.
ہم سے ہارون بن سعید الایلی نے بیان کیا، کہا ہم سے عبداللہ بن وہب نے بیان کیا، انہوں نے مجھ سے بیان کیا سلیمان بن بلال نے کہا : مجھے یحییٰ نے عبید بن حنین سے خبر دی کہ انہوں نے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے سنا وہ حدیث بیان کر رہے تھے ، انہوں نے کہا
میں نے سال بھر کے انتظار کیا ، میں حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے ایک آیت کے بارے میں دریافت کرنا چاہتا تھا مگر ان کی ہیبت کی وجہ سے ان سے سوال کرنے کی ہمت نہ پاتا تھا ، حتی کہ وہ حج کرنے کے لیے روانہ ہوئے ، میں بھی ان کے ساتھ نکلا ، جب لوٹے تو ہم راستے میں کسی جگہ تھے کہ وہ قضائے حاجت کے لیے پیلو کے درخت کی طرف چلے گئے ، میں ان کے انتظار میں ٹھہر گیا ، حتی کہ وہ فارغ ہو گئے ، پھر میں ان کے ساتھ چل پڑا ، میں نے عرض کی : امیر المومنین! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج میں سے وہ کون سی دو خواتین تھیں جنہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف ایکا کر لیا تھا؟ انہوں نے جواب دیا : وہ حفصہ اور عائشہ رضی اللہ عنہا تھیں ۔ میں نے کہا : اللہ کی قسم! میں ایک سال سے اس کے بارے میں آپ سے پوچھنا چاہتا تھا مگر آپ کے رعب کی وجہ سے ہمت نہ پاتا تھا ۔ انہوں نے کہا : ایسا نہیں کرنا ، جو بات بھی تم سمجھو کہ مجھے علم ہے ، اس کے بارے میں مجھ سے پوچھ لیا کرو ، اگر میں جانتا ہوا تو تمہیں بتا دوں گا ۔ کہا : اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا : اللہ کی قسم! جب ہم جاہلیت کے زمانے میں تھے تو عورتوں کو کسی شمار میں نہ رکھتے تھے ، حتی کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے بارے میں جو نازل کیا ، سو نازل کیا ، اور جو ( مرتبہ ) انہیں دینا تھا سو دیا ۔ انہوں نے کہا : ایک مرتبہ میں کسی معاملے میں لگا ہوا تھا ، اس کے متعلق سوچ بچار کر رہا تھا کہ مجھے میری بیوی نے کہا : اگر آپ ایسا ایسا کر لیں ( تو بہتر ہو گا ۔ ) میں نے اسے جواب دیا : تمہیں اس سے کیا سروکار؟ اور یہاں ( اس معاملے میں ) تمہیں کیا دلچسپی ہے؟ اور ایک کام جو میں کرنا چاہتا ہوں اس میں تمہارا تکلف ( زبردستی ٹانگ اڑانا ) کیسا؟اس نے مجھے جواب دیا : ابن خطاب! آپ پر تعجب ہے! آپ یہ نہیں چاہتے کہ آپ کے بارے آگے بات کی جائے ، جبکہ آپ کی بیٹی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایسے پلٹ کر جواب دیتی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم دن بھر اس سے ناراض رہتے ہیں ۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا : میں ( اسی وقت ) اپنی چادر پکڑتا ہوں اور اپنی جگہ سے نکل کھڑا ہوتا ہوں ، یہاں تک کہ حفصہ کے پاس پہنچتا ہوں ۔ جا کر میں نے اس سے کہا : بٹیا! تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایسے جواب دیتی ہو کہ وہ سارا دن ناراض رہتے ہیں ۔ حفصہ رضی اللہ عنہا نے جواب دیا : اللہ کی قسم! ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو جواب دے لیتی ہیں ۔ میں نے کہا : جان لو میں تمہیں اللہ کی سزا اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی ناراضی سے ڈرا رہا ہوں ، میری بیٹی! تمہیں وہ ( عائشہ رضی اللہ عنہا اپنے رویے کی بنا پر ) دھوکے میں نہ ڈال دے جسے اپنے حسن اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اپنے سے محبت پر ناز ہے ۔ پھر میں نکلا حتی کہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے ہاں آیا ، کیونکہ میری ان سے قرابت داری تھی ۔ میں نے ان سے بات کی تو ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے مجھے جواب دیا : ابن خطاب تم پر تعجب ہے! تم ہر کام میں دخل اندازی کرتے ہو حتی کہ تم چاہتے ہو کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کی ازواج کے مابین بھی دخل دو؟ انہوں نے مجھے اس طرح آڑے ہاتھوں لیا کہ جو ( عزم ) میں ( دل میں ) پا رہا تھا ( کہ میں ازواجِ مطہرات کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے جواب دینے سے روک لوں گا ) مجھے توڑ کر اس سے الگ کر دیا ۔ چنانچہ میں ان کے ہاں سے نکل آیا ۔ میرا ایک انصاری ساتھی تھا ، جب میں ( آپ کی مجلس سے ) غیر حاضر ہوتا تو وہ میرے پاس ( وہاں کی ) خبر لاتا اور جب وہ غیر حاضر ہوتا تو میں اس کے پاس خبر لے آتا ۔ ہم اس زمانے میں غسان کے بادشاہوں میں سے ایک بادشاہ سے ڈر رہے تھے ۔ ہمیں بتایا گیا تھا کہ وہ ہم پر چڑھائی کرنا چاہتے ہے ۔ اس ( کی وجہ ) سے ہمارے سینے ( اندیشوں سے ) بھرے ہوئے تھے ۔ ( اچانک ایک دن ) میرا انصاری دوست آ کر دروازہ کھٹکھٹانے لگا اور کہنے لگا : کھولو ، کھولو! میں نے پوچھا : غسانی آ گیا ہے؟ اس نے کہا : اس سے بھی زیادہ سنگین معاملہ ہے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بیویوں سے علیحدگی اختیار کر لی ہے ۔ میں نے کہا : حفصہ اور عائشہ رضی اللہ عنھن کی ناک خاک آلود ہو! پھر میں اپنے کپرے لے کر نکل کھڑا ہوا ، حتی کہ ( رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ) حاضر ہوا ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے بالا خانے میں تھے جس پر سیڑھی کے ذریعے چڑھ کر جانا ہوتا تھا ، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک سیاہ فام غلام سیڑھی کے سرے پر بیٹھا ہوا تھا ۔ میں نے کہا : یہ عمر ہے ( خدمت میں حاضری کی اجازت چاہتا ہے ) ، تو مجھے اجازت عطا ہوئی ۔ عمر رضی اللہ عنہ نے کہا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے یہ ساری بات بیان کی ، جب میں ام سلمہ رضی اللہ عنہا کی بات پر پہنچا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسکرا دیے ۔ آپ ایک چٹائی پر ( لیٹے ہوئے ) تھے ، آپ کے ( جسم مبارک ) اور اس ( چٹائی ) کے درمیان کچھ نہ تھا ۔ آپ کے سر کے نیچے چمڑے کا ایک تکیہ تھا جس میں کھجور کی چھال بھری ہوئی تھی ۔ آپ کے پاؤں کے قریب کیکر کی چھال کا چھوٹا سا گٹھا پڑا تھا اور آپ کے سر کے قریب کچھ کچے چمڑے لٹکے ہوئے تھے ۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پہلو پر چٹائی کے نشان دیکھے تو رو پڑا ۔ آپ نے پوچھا : " تمہیں کیا رلا رہا ہے؟ " عرض کی : اے اللہ کے رسول! کسریٰ اور قیصر دونوں ( کفر کے باوجود ) اُس ناز و نعمت میں ہیں جس میں ہیں اور آپ تو اللہ کے رسول ہیں؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " کیا تمہیں پسند نہیں کہ ان کے لیے ( صرف ) دنیا ہو اور تمہارے لیے آخرت ہو.
Ibn Abbas ( رضی اللہ عنہ) said:
I came along with Umar رضی اللہ عنہ until we reached Marr al-Zahran (the name of a place), and the rest of the hadith is the same as narrated by Sulaiman bin Bilal (except with) the variation (of words) that I said: (What) about these two women? He said: They were Hafsa and Umm Salama رضی اللہ عنھن . And he made this addition: I came to the apartments and in every apartment there was (the noise) of weeping. And this addition was also made: And he (the Holy Prophet ﷺ) had taken an oath of remaining away from them for a month, and when twenty-nine days had passed, he visited them.
ہم سے محمد بن المثنیٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے عفان نے بیان کیا، انہوں نے بیان کیا حماد بن سلمہ نے ہمیں حدیث بیان کی ، ( کہا : ) ہمیں یحییٰ بن سعید نے عبید بن حنین سے خبر دی ، انہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا
میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے ساتھ ( حج سے ) واپس آیا حتی کہ جب ہم مرالظہران میں تھے ۔ ۔ ۔ آگے سلیمان بن بلال کی حدیث کے مانند پوری لمبی حدیث بیان کی ، مگر انہوں ( ابن عباس رضی اللہ عنہ ) نے کہا : میں نے عرض کی : دو عورتوں کا معاملہ کیا تھا؟ انہوں نے جواب دیا : ( وہ ) حفصہ اور ام سلمہ رضی اللہ عنھن ( تھیں ۔ ) اور اس میں یہ اضافہ کیا : میں ( ازواج مطہرات کے ) حجروں کے پاس آیا تو ہر گھر میں رونے کی آواز تھی ، اور یہ بھی اضافہ کیا : آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے ایک ماہ ایلاء کیا تھا ، جب 29 دن ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ( بالا خانے سے ) اتر کر ان کے پاس تشریف لے آئے.
Ibn Abbas رضی اللہ عنہ said:
"I wanted to ask 'Umar رضی اللہ عنہ about the two women who helped one another at the time of the Messenger of Allah, but for one year I could not find any opportunity, until I accompanied him to Makkah. When he was in Marr Az-Zahran, he went to relieve himself, and he said: 'Bring me a jug of water.' So I brought it to him, and when he had relieved himself and came back, I went to pour water for him, then I remembered and said to him: O commander of the Believers, who were the two women?' And I do not finish what I was saying before he said: "Aishah and Hafsah رضی اللہ عنھن ."
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ اور زہیر بن حرب نے بیان کیا، اور یہ قول ابوبکر سے ہے، انہوں نے کہا سفیان بن عیینہ نے ہمیں یحییٰ بن سعید سے حدیث بیان کی ، انہوں نے عبید بن حنین سے سنا ، وہ حضرت عباس رضی اللہ عنہ کے آزاد کردہ غلام تھے ۔ انہوں نے کہا : میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہ سے سنا ، وہ کہہ رہے تھے
میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے ان دو عورتوں کے بارے میں پوچھنا چاہتا تھا جنہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ایکا کیا تھا ، میں سال بھر منتظر رہا ، مجھے کوئی مناسب موقع نہ مل رہا تھا ، حتی کہ میں مکہ کے سفر میں ان کے ساتھ گیا ، جب ہم مر الظہران پہنچے تو وہ قضائے حاجت کے لیے گئے اور کہا : میرے پاس پانی کا ایک لوٹا لے آنا ، میں نے انہیں لا دیا ۔ جب وہ اپنی حاجت سے فارغ ہو کر لوٹے ، میں جا کر ان ( کے ہاتھوں ) پر پانی ڈالنے لگا ، تو مجھے ( سوال ) یاد آ گیا ، میں نے ان سے پوچھا : اے امیر المومنین! وہ کون سی دو عورتیں تھیں؟ میں نے ابھی اپنی بات ختم نہ کی تھی کہ انہوں نے جواب دیا : وہ عائشہ اور حفصہ رضی اللہ عنھن تھیں.
Abdullah bin Abbas ( رضی اللہ عنہ) reported:
I intended to ask 'Umar bin al-Khattab ( رضی اللہ عنہ) about a verse, but I waited for one year to ask him out of his fear, until he went out for Pilgrimage and I also accompanied him. As he came back and we were on the way he stepped aside towards an Arak tree to ease himself. I waited for him until he was free. I then walked along with him and said: Commander of the Faithful, who are the two among the wives of Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) who backed up one another (in their demand for extra money)? He said: They were Hafsa and 'A'isha ( رضی اللہ عنھن). I said to him: It is for one year that I intended to ask you about this matter but I could not date so on account of the awe for you. He said: Don't do that. If you think that I have any knowledge, do ask me about that. And if I were to know that, I would inform you. He (the narrator) stated that 'Umar رضی اللہ عنہ had said: By Allah, during the days of ignorance we had no regard for women until Allah the Exalted revealed about them what He has revealed, and appointed (turn) for them what he appointed. He said: It so happened that I was thinking about some matter that my wife said: I wish you had done that and that. I said to her: It does not concern you and you should not feel disturbed in a matter which I intend to do. She said to me: How strange is it that you, O son of Khattab, do not like anyone to retort upon you, whereas your daughter retorts upon Allah's Messenger (ﷺ) until he spends the day in vexation. 'Umar رضی اللہ عنہ said: I took hold of my cloak, then came out of my house until I visited Hafsa and said to her: O daughter, (I heard) that you retort upon Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) until he spends the day in vexation, whereupon Hafsa said: By Allah, we do retort upon him. I said: You should bear in mind, my daughter, that I warn you against the punishment of Allah and the wrath of His Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ). You may not be misled by one whose beauty has fascinated her, and the love of Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) for her. I ('Umar رضی اللہ عنہ) then visited Umm Salama because of my relationship with her and I talked to her. Umm Salama said to me: Umar bin al-Khattab رضی اللہ عنہ, how strange is it that you meddle with every matter so much so that you are anxious to interfere between Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) and his wives, and this perturbed me so much that I refrained from saying what I had to say, so I came out of her apartment, and I had a friend from the Anar. When I had been absent (from the company of the Holy Prophet) he used to bring me the news and when he had been absent I used to bring him the news, and at that time we dreaded a king of Ghassan. It was mentioned to us that he intended to attack us, and our minds were haunted by him. My friend, the Ansari, came to me, and he knocked at the door and said: Open it, open it. I said: Has the Ghassani come? He said: (The matter is) more serious than that. The Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) has separated himself from his wives. I said: Let the nose of Hafsa and 'A'isha رضی اللہ عنہا be besmeared with dust. I then took hold of my cloth and went out until I came and found Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) in his attic to which he climbed by means of a ladder made of date-palm, and the servant of Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) who was black had been sitting at the end of the ladder. I said: This is Umar. So permission was granted to me. I narrated this news to Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) and as I narrated the news concerning Umm Salama رضی اللہ عنہا , Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) smiled. He was lying on the mat and there was nothing between him and that (mat), and under his head there was a pillow made of leather and it was stuffed with plam fibres and at his feet were lying a heap of sant tree (acacia niloctica, meant for dyeing) and near his head there was hanging a hide. And I saw the marks of the maton the side of Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ), and so I wept. He said: What makes you weep? I said: Messenger of Allah, the Khusrau and the Ceasars (spended their lives in) the midst of (luxuries), whereas you being Allah's Messenger (are leading your life in this poverty). Thereupon Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) said: Don't you like that they should have riches of their world, and you have the Hereafter.
ہم سے اسحاق بن ابراہیم الحنظلی اور محمد بن ابی عمر نے بیان کیا، اور وہ حدیث کے قریب تھے، ابن ابی عمر نے کہا: انہوں نے ہم سے بیان کیا، اور اسحاق نے کہا: ہم سے عبدالرزاق نے بتایا، انہوں نے بتایا معمر نے زہری سے ، انہوں نے عبیداللہ بن عبداللہ بن ابی ثور سے ، انہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا
میں شدت سے خواہش مند رہا تھا کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج میں سے ان دو کے بارے میں سوال کروں جن کے متعلق اللہ تعالیٰ نے فرمایا : "" اگر تم دونوں اللہ سے توبہ کرتی ہو تو یقینا تمہارے دل آگے جھک گئے ہیں "" حتی کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے حج ( کا سفر ) کیا اور میں نے بھی ان کے ساتھ حج کیا ، ( واپسی پر ) ہم راستے کے ایک حصے میں تھے کہ عمر رضی اللہ عنہ ( اپنی ضرورت کے لیے راستے سے ) ایک طرف ہٹ گئے اور میں بھی پانی کا برتن لیے ان کے ساتھ ہٹ گیا ، وہ صحرا میں چلے گئے ، پھر میرے پاس آئے تو میں نے ان کے ہاتھوں پر پانی انڈیلا ، انہوں نے وضو کیا تو میں نے کہا : اے امیر المومنین! نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں میں سے وہ دو کون سی تھیں جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے : "" اگر تم دونوں اللہ سے توبہ کرو تو یقینا تمہارے دل جھک گئے ہیں؟ "" عمر رضی اللہ عنہ نے کہا : ابن عباس! تم پر تعجب ہے! ۔ ۔ ۔ زہری نے کہا : اللہ کی قسم! انہوں ( ابن عباس رضی اللہ عنہ ) نے جو سوال ان سے کیا ، وہ انہیں برا لگا اور انہوں نے ( اس کا جواب ) چھپایا بھی نہیں ۔ ۔ انہوں نے کہا : وہ حفصہ اور عائشہ رضی اللہ عنھن تھیں ۔ پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ بات سنانے لگے اور کہا : ہم قریش کے لوگ ایسی قوم تھے جو اپنی عورتوں پر غالب تھے ، جب ہم مدینہ آئے تو ہم نے ایسے لوگ پائے جن پر ان کی عورتیں غالب تھیں ، چنانچہ ہماری عورتوں نے بھی ان کی عورتوں سے سیکھنا شروع کر دیا ۔ ( مردوں کو پلٹ کر جواب دینے لگیں ۔ ) عمر رضی اللہ عنہ نے کہا : میرا گھر بالائی علاقے بنی امیہ بن زید کے محلے میں تھا ، ایک دن میں اپنی بیوی پر ناراض ہوا ، تو وہ مجھے پلٹ کر جواب دینے لگی ، مجھے اس کا جواب دینا بڑا ناگوار گزرا تو اس نے کہا : تمہیں یہ ناگوار گزرتا ہے کہ میں تمہیں جواب دوں؟ اللہ کی قسم! نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو جواب دے دیتی ہیں ، اور ان میں سے کوئی ایک تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو رات تک پورا دن چھوڑ بھی دیتی ہے ( روٹھی رہتی ہے ۔ ) میں چلا ، حفصہ رضی اللہ عنہا کے ہاں گیا اور کہا : کیا تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو پلٹ کر جواب دے دیتی ہو؟ انہوں نے کہا : جی ہاں ۔ میں نے ( پھر ) پوچھا : کیا تم میں سے کوئی انہیں رات تک دن بھر کے لیے چھوڑ بھی دیتی ہے؟ انہوں نے کہا : جی ہاں! میں نے کہا : تم میں سے جس نے بھی ایسا کیا وہ ناکام ہوئی اور خسارے میں پڑی ۔ کیا تم میں سے کوئی اس بات سے بے خوف ہو جاتی ہے کہ اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی ناراضی کی وجہ سے اللہ ( بھی ) اس پر ناراض ہو جائے گا تو وہ تباہ و برباد ہو جائے گی؟ ( آیندہ ) تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جواب دینا نہ ان سے کسی چیز کا مطالبہ کرنا ، تمہیں جو چاہئے مجھ سے مانگ لینا ۔ تمہیں یہ بات دھوکے میں نہ ڈال دے کہ تمہاری ہمسائی ( سوکن ) تم سے زیادہ خوبصورت اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو زیادہ محبوب ہے ۔ ۔ ان کی مراد حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے تھی ۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا : ۔ ۔ انصار میں سے میرا ایک پڑوسی تھا ۔ ۔ ہم باری باری ( بالائی علاقے سے ) اتر کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوتے تھے ۔ ایک دن وہ اترتا اور ایک دن میں اترتا ، وہ میرے پاس وحی وغیرہ کی خبریں لاتا اور میں بھی ( اپنی باری کے دن ) اس کے پاس اسی طرح کی خبریں لاتا ۔ اور ( ان دنوں ) ہم آپس میں باتیں کر رہے تھے کہ غسانی ہمارے ساتھ لڑائی کرنے کے لیے گھوڑوں کو کھڑیاں لگا رہے تھے ، میرا ساتھی ( رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہونے کے لیے عوالی سے ) اترا ، پھر عشاء کے وقت میرے پاس آیا ، میرا دروازہ کھٹکھٹایا ، پھر مجھے آواز دی ، میں باہر نکلا تو اس نے کہا : ایک بہت بڑا واقعہ رونما ہو گیا ہے ۔ میں نے پوچھا : کیا ہوا؟ کیا غسانی آ گئے؟ اس نے کہا : نہیں ، بلکہ وہ اس سے بھی بڑا اور لمبا چوڑا ( معاملہ ) ہے ۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بیویوں کو طلاق دے دی ہے ۔ میں نے کہا : حفصہ تو ناکام ہوئی اور خسارے میں پڑ گئی ۔ میں تو ( پہلے ہی ) سمجھتا تھا کہ ایسا ہونے والا ہے ۔ ( دوسرے دن ) جب میں صبح کی نماز پڑھ چکا تو اپنے کپڑے پہنے ، مدینہ میں آیا اور حفصہ کے پاس گیا ، وہ رو رہی تھی ۔ میں نے پوچھا : کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تم سب کو طلاق دے دی ہے؟ اس نے کہا : میں نہیں جانتی ، البتہ آپ الگ تھلگ اس بالاخانے میں ہیں ۔ میں آپ کے سیاہ فام غلام کے پاس آیا ، اور اسے کہا ، عمر کے لیے اجازت مانگو ۔ وہ گیا ، پھر میری طرف باہر آیا اور کہا : میں نے آُ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے تمہارا ذکر کیا مگر آپ خاموش رہے ۔ میں چلا آیا حتی کہ منبر کے پاس آ کر بیٹھ گیا ، تو وہاں بہت سے لوگ بیٹھے تھے ، ان میں سے بعض رو رہے تھے ، میں تھوڑی دیر بیٹھا ، پھر جو کیفیت مجھ پر طاری تھی وہ مجھ پر غالب آ گئی ۔ میں پھر غلام کے پاس آیا اور کہا : عمر کے لیے اجازت مانگو ، وہ اندر داخل ہوا ، پھر میری طرف باہر آیا اور کہا : میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے تمہارا ذکر کیا ، مگر آپ خاموش رہے ۔ میں پیٹھ پھیر کر مڑا تو اچانک غلام مجھے بلانے لگا ، اور کہا : اندر چلے جاؤ ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تمہیں اجازت دے دی ہے ۔ میں اندر داخل ہوا ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام عرض کیا تو دیکھا کہ آپ بنتی کی ایک چٹائی پر سہارا لے کر بیٹھے تھے ، جس نے آپ کے پہلو پر نشان ڈال دیے تھے ، میں نے عرض کی : کیا آپ نے اللہ کے رسول! اپنی بیویوں کو طلاق دے دی ہے؟ آپ نے میری طرف ( دیکھتے ہوئے ) اپنا سر مبارک اٹھایا اور فرمایا : "" نہیں ۔ "" میں نے کہا : اللہ اکبر ۔ اللہ کے رسول! اگر آپ ہمیں دیکھتے تو ہم قریش ایسی قوم تھے جو اپنی بیویوں پر غالب رہتے تھے ۔ جب ہم مدینہ آئے تو ہم نے ایسی قوم کو پایا جن کی عورتیں ان پر غالب تھیں ، تو ہماری عورتوں نے بھی ان کی عورتوں ( کی عادت ) سے سیکھنا شروع کر دیا ، چنانچہ ایک دن میں اپنی بیوی پر برہم ہوا تو وہ مجھے پلٹ کر جواب دینے لگی ۔ مجھے اس کا جواب دینا انتہائی ناگوار گزرا ، اس نے کہا : تمہیں یہ ناگوار گزرتا ہے کہ میں تمہیں جواب دیتی ہوں؟ اللہ کی قسم! نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویاں بھی آپ کو جواب دے دیتی ہیں ، اور ان میں سے کوئی تو آپ کو رات تک چھوڑ بھی دیتی ( روٹھ بھی جاتی ) ہے ۔ تو میں نے کہا : ان میں سے جس نے ایسا کیا وہ ناکام ہوئی اور خسارے میں پڑی ۔ کیا ( یہ کام کر کے ) ان میں سے کوئی اس بات سے بے خوف ہو سکتی ہے کہ اپنے رسول کی ناراضی کی وجہ سے اللہ اس پر ناراض ہو جائے ( اگر ایسا ہوا ) تو وہ تباہ ہو گئی ۔ اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسکرا دیے تو میں نے کہا : اللہ کے رسول! میں حفصہ کے پاس گیا اور اس نے کہا : تمہیں یہ بات کسی دھوکے میں نہ ڈال دے کہ تمہاری ہمسائی ( سوکن ) تم سے زیادہ خوبصورت اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو تم سے زیادہ محبوب ہے ۔ اس پر آپ دوبارہ مسکرائے تو میں نے عرض کی : اللہ کے رسول! ( کچھ دیر بیٹھ کر ) بات چیت کروں ، آپ نے فرمایا : "" ہاں ۔ "" چنانچہ میں بیٹھ گیا اور میں نے سر اوپر کر کے گھر میں نگاہ دوڑائی تو اللہ کی قسم! اس میں تین چمڑوں کے سوا کچھ نہ تھا جس پر نظر پڑتی ، میں نے عرض کی : اللہ کے رسول! دعا فرمائیے کہ اللہ آپ کی امت پر فراخی فرمائے ۔ فارسیوں اور رومیوں پر وسعت کی گئی ہے حالانکہ وہ اللہ تعالیٰ کی عبادت نہیں کرتے ۔ اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سیدھے ہو کر بیٹھ گئے ، پھر فرمایا : "" ابن خطاب! کیا تم کسی شک میں مبتلا ہو؟ یہ ایسے لوگ ہیں جنہیں ان ( کے حصے ) کی اچھی چیزیں جلد ہی دنیا میں دے دی گئی ہیں ۔ "" میں نے عرض کی : اللہ کے رسول! میرے لیے بخشش طلب کیجیے ۔ اور آپ نے ان ( ازواج ) پر سخت غصے کی وجہ سے قسم کھا لی تھی کہ ایک مہینہ ان کے پاس نہیں جائیں گے ۔ یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے آپ پر عتاب فرمایا ۔ ( کہ بیویوں کی بات پر آپ کیوں غمزدہ ہوتے اور حلال چیزوں سے دور رہنے کی قسم کھاتے ہیں.
Zuhri said: 'Urwa informed me that 'A'isha (رضی اللہ عنہا) said:
When twenty-nine nights were over, Allah's Messenger (ﷺ) visited me, and he began (his visit) with me. I said: Messenger of Allah, you had taken an oath that you would not visit us for a month, while you have visited after I have counted only twenty-nine (nights). Thereupon he said: The month may also be of twenty-nine (days). He then said: 'A'isha رضی اللہ عنہا , I am going to talk to you about a matter, and you should not be hasty in it (and do not give your final decision) until you have consulted your parents. He then recited this verse to me:" O Prophet, say to your wives" till he reached" mighty reward" (xxxiii. 28). 'A'isha (رضی اللہ عنہا) said: By Allah, he knew that my parents would not allow me to separate from him. I said: Is there any need to consult my parents in this matter? I in fact choose Allah and His Messenger (ﷺ) and the abode in the Hereafter. Ma'mar said: Ayyub reported to me that 'A'isha رضی اللہ عنہا said: Don't inform your wives that I have chosen you, whereupon Allah's Apostle (ﷺ) said: Verily Allah has sent me as a conveyer of message, and He has not sent me as a source of hardship (to others). Qatada said:" Saghat qulubukum" means" Your hearts have inclined."
زہری نے کہا : مجھے عروہ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے خبر دی ، انہوں نے کہا
جب انتیس راتیں گزر گئیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے ہاں تشریف لائے ، آپ نے میرے ( گھر ) سے ابتدا کی ، میں نے عرض کی : اللہ کے رسول! آپ نے قسم کھائی تھی کہ مہینہ بھر ہمارے پاس نہیں آئیں گے ، اور آپ انتیسویں دن تشریف لائے ہیں ، میں انہیں شمار کرتی رہی ہوں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" بلاشبہ مہینہ انتیس دن کا ہے ۔ "" پھر فرمایا : "" عائشہ! میں تم سے ایک بات کرنے لگا ہوں ، تمہارے لیے کوئی حرج نہیں کہ تم اپنے والدین سے بھی مشورہ کرنے تک اس میں جلدی نہ کرو ۔ "" پھر آپ نے میرے سامنے تلاوت فرمائی : "" اے نبی! اپنی بیویوں سے کہہ دیجیے "" سے لے کر "" بہت بڑا اجر ہے "" تک پہنچ گئے ۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا : اللہ کی قسم! آپ کو بخوبی علم تھا کہ میرے والدین مجھے کبھی آپ سے جدائی کا مشورہ نہیں دیں گے ۔ کہا : تو میں نے عرض کی : کیا میں اس کے بارے میں اپنے والدین سے مشورہ کروں گی؟ میں یقینا اللہ ، اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور آخرت کے گھر کی طلب گار ہوں ۔ معمر نے کہا : مجھے ایوب نے خبر دی کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا : آپ اپنی دوسری بیویوں کو نہ بتائیں کہ میں نے آپ کو چن لیا ہے ۔ تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا : "" اللہ تعالیٰ نے مجھے مبلغ ( پہنچانے والا ) بنا کر بھیجا ہے ، کمزوریاں ڈھونڈنے والا بنا کر نہیں بھیجا ۔ "" قتادہ نے کہا : ( صَغَتْ قُلُوبُكُمَا ۖ ) ( التحریم : 4 : 66 ) کا معنی ہے : تم دونوں کے دل مائل ہو چکے ہیں.
Fatima bint Qais رضی اللہ عنہا reported:
Abu 'Amr bin Hafs رضی اللہ عنہ divorced her absolutely when he was away from home, and he sent his agent to her with some barley. She was displeased with him and when he said: I swear by Allah that you have no claim on us. she went to Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) and mentioned that to him. He said: There is no maintenance due to you from him, and he commanded her to spend the 'Idda in the house of Umm Sharik رضی اللہ عنہا , but then said: That is a woman whom my companions visit. So better spend this period in the house of Ibn Umm Maktum رضی اللہ عنہ , for he is a blind man and yon can put off your garments. And when the 'Idda is over, inform me. She said: When my period of 'Idda was over, I mentioned to him that Mu'awiya bin Abu Sufyan and Jahm had sent proposal of marriage to me, whereupon Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) said: As for Abu Jahm رضی اللہ عنہم , he does not put down his staff from his shoulder, and as for Mu'awiya, he is a poor man having no property; marry Usama bin Zaid رضی اللہ عنہ . I objected to him, but he again said: Marry Usama; so I married him. Allah blessed there in and I was envied (by others).
ہم سے یحییٰ بن یحییٰ نے بیان کیا، انہوں نے کہا: میں نے عبداللہ بن یزید کے ایک خادم سے مالک کو پڑھا, اسود بن سفیان کے مولیٰ عبداللہ بن یزید نے ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن سے ، انہوں نے فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ
ابو عمرو بن حفص رضی اللہ عنہ نے انہیں طلاق بتہ ( حتمی ، تیسری طلاق ) دے دی ، اور وہ خود غیر حاضر تھے ، ان کے وکیل نے ان کی طرف سے کچھ جَو ( وغیرہ ) بھیجے ، تو وہ اس پر ناراض ہوئیں ، اس ( وکیل ) نے کہا : اللہ کی قسم! تمہارا ہم پر کوئی حق نہیں ۔ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں ، اور یہ بات آپ کو بتائی ۔ آپ نے فرمایا : " اب تمہارا خرچ اس کے ذمے نہیں ۔ " اور آپ نے انہیں حکم دیا کہ وہ ام شریک رضی اللہ عنہا کے گھر میں عدت گزاریں ، پھر فرمایا : " اس عورت کے پاس میرے صحابہ آتے جاتے ہیں ، تم ابن مکتوم رضی اللہ عنہ کے ہاں عدت گزر لو ، وہ نابینا آدمی ہیں ، تم اپنے ( اوڑھنے کے ) کپڑے بھی اتار سکتی ہو ۔ تم جب ( عدت کی بندش سے ) آزاد ہو جاؤ تو مجھے بتانا ۔ " جب میں ( عدت سے ) فارغ ہوئی ، تو میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بتایا کہ معاویہ بن ابی سفیان اور ابوجہم رضی اللہ عنہم دونوں نے مجھے نکاح کا پیغام بھیجا ہے ۔ اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " ابوجہم تو اپنے کندھے سے لاٹھی نہیں اتارتا ، اور رہا معاویہ تو وہ انتہائی فقیر ہے ، اس کے پاس کوئی مال نہیں ، تم اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ سے نکاح کر لو ۔ " میں نے اسے ناپسند کیا ، آپ نے پھر فرمایا : " اسامہ سے نکاح کر لو ۔ " تو میں نے ان سے نکاح کر لیا ، اللہ نے اس میں خیر ڈال دی اور اس کی وجہ سے مجھ پر رشک کیا جانے لگا.
Fatima bint Qais رضی اللہ عنہا reported:
Her husband divorced her during the life time of Allah's Prophet ( صلی اللہ علیہ وسلم ) and gave her a meagre maintenance allowance. When she saw that, she said: By Allah, I will inform Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ), and if maintenance allowance is due to me then I will accept that which will suffice me, and if it is not due to me, I will not accept anything from him. She said: I made a mention of that to Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) and he said: There is neither maintenance allowance for you nor lodging.
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، ہم سے لیث نے بیان کیا، عمران بن ابی انس سے, ابوسلمہ سے ، انہوں نے فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ
نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں ان کے شوہر نے انہیں طلاق دے دی ، اور اس نے انہیں بہت حقیر سا خرچ دیا ، جب انہوں نے اسے دیکھا تو کہا : اللہ کی قسم! میں ( اس بات سے ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ضرور آگاہ کروں گی ، اگر میرے لیے خرچ ہے تو اتنا لوں گی جو میری گزران درست کر دے ، اگر میرے لیے خرچ نہیں ہے تو میں اس سے کچھ بھی نہیں لوں گی ۔ انہوں نے کہا : میں نے اس بات کا ذکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا تو آپ نے فرمایا : " تمہارے لیے نہ خرچ ہے اور نہ رہائش ۔ "
Fatima bint Qais رضی اللہ عنہا reported:
Her husband al-Makhzulmi divorced her and refused to pay her maintenance allowance. So she came to Allah's Messenger (ﷺ) and informed him, whereupon he said: There is no maintenance allowance for you, and you better go to the house of Ibn Umm Maktum رضی اللہ عنہ and live with him for he is a blind man and you can put off your clothes in his house (i.e. you shall not face much difficulty in observing purdah there).
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، کہا ہم سے لیث نے بیان کیا, عمران بن ابی انس نے ابوسلمہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : میں نے فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا سے دریافت کیا تو انہوں نے مجھے بتایا کہ
ان کے مخزومی شوہرنے انہیں طلاق دے دی اور ان پر خرچ کرنے سے بھی انکار کر دیا ، تو وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور آپ کو اس بات کی خبر دی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " تمہارے لیے خرچ نہیں ہے ۔ ( وہاں سے ) منتقل ہو کر ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ کے ہاں چلی جاؤ اور وہیں رہو ، وہ نابینا آدمی ہیں ، تم وہاں اپنے ( اوڑھنے کے ) کپڑے بھی اتار سکو گی.
Abu Salama reported:
Fatima bint Qais رضی اللہ عنہ , the sister of al-Dahhak bint Qais رضی اللہ عنہا informed him that Abu Hafs bin Mughira al-Makhzumi divorced her three times and then he proceeded on to the Yemen. The members of his family said to her: There is no maintenance allowance due to you from us. Khalid bin Walid رضی اللہ عنہ along with a group of persons visited Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) in the house of Maimuna رضی اللہ عنہا and they said: Abu Hafs has divorced his wife with three pronouncements; is there any maintenance allowance due to her? Thereupon Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) said: No maintenance allowance is due to her, but she is required to spend the 'Idda; and he sent her the message that she should not be hasty in making a decision about herself and commanded her to move to the house of Umm Sharik رضی اللہ عنہا , and then sent her the message that as the first immigrants (frequently) visit the house of Umm Sharik رضی اللہ عنہا , she should better go to the house of Ibn Umm Maktum, the blind, (and further said: In case you put off your head-dress, he (Ibn Umm Makhtum) will not see you. So she went to his house, and when the 'Idda was over, Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) married her to Usama bin Zaid bin Haritha رضی اللہ عنہا .
مجھ سے محمد بن رافع نے بیان کیا، کہا ہم سے حسین بن محمد نے بیان کیا، ہم سے شیبان نے بیان کیا, یحییٰ بن ابی کثیر سے روایت ہے ، ( کہا : ) مجھے ابوسلمہ نے خبر دی کہ
ضحاک بن قیس رضی اللہ عنہ کی ہمشیرہ فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا نے انہیں بتایا کہ ابوحفص بن مغیرہ مخزومی نے اسے تین طلاقیں دے دیں ، پھر یمن کی طرف طلا گیا ، تو اس کے عزیز و اقارب نے اسے کہا : تمہارا خرچ ہمارے ذمے نہیں ہے ۔ خالد بن ولید رضی اللہ عنہ چند ساتھیوں کے ہمراہ آئے ، حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا کے گھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کی : ابوحفص نے اپنی بیوی کو تین طلاقیں دے دی ہیں ، کیا اس ( کی سابقہ بیوی ) کے لیے خرچہ ہے؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " اس کے لیے خرچہ نہیں ہے جبکہ اس کے لیے عدت ( گزارنا ) ضروری ہے ۔ " اور آپ نے اس کی طرف پیغام بھیجا : " اپنے بارے میں مجھ سے ( مشورہ کرنے سے پہلے ) سبقت نہ کرنا ۔ " اور اسے حکم دیا کہ ام شریک رضی اللہ عنہا کے ہاں منتقل ہو جائے ، پھر اسے پیغام بھیجا : " ام شریک کے ہاں اولین مہاجرین آتے ہیں ، تم ابن مکتوم اعمیٰ کے ہاں چلی جاؤ ، جب ( کبھی ) تم اپنی اوڑھنی اتارو گی تو وہ تمہیں نہیں دیکھ سکیں گے ۔ " وہ ان کے ہاں چلی گئیں ، جب ان کی عدت پوری ہو گئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا نکاح اسامہ بن زید بن حارثہ رضی اللہ عنہا سے کر دیا.
Fatima bint Qais رضی اللہ عنہا reported:
I had been married to a person from Banu Makhzum and he divorced me with irrevocable divorce. I sent a message to his family asking for maintenance allowance, and the rest of the hadith has been transmitted with a slight change of words.
یحییٰ بن ایوب ، قتیبہ بن سعید اور ابن حجر نے ہمیں حدیث سنائی ، انہوں نے کہا : ہمیں اسماعیل ، یعنی ابن جعفر نے محمد بن عمرو سے حدیث بیان کی ، انہوں نے ہمیں ابوسلمہ سے ، انہوں نے فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا سے حدیث بیان کی ۔ اسی طرح ہمیں ابوبکر بن ابی شیبہ نے حدیث بیان کی ۔ ( کہا : ) ہم سے محمد بن بشر نے حدیث بیان کی ، ( کہا : ) ہم سے محمد بن عمرو نے باقی ماندہ سابقہ سند کے ساتھ حدیث بیان کی : ( ابوسلمہ نے ) کہا : میں نے فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا کے منہ سے سن کر یہ حدیث لکھی ، انہوں نے کہا
میں بنو مخزوم کے ایک آدمی کے ہاں تھی ۔ اس نے مجھے تین طلاقیں دے دیں تو میں نے اس کے گھر والوں کے ہاں پیغام بھیجا ، میں خرچ کا مطالبہ کر رہی تھی ۔ ۔ ۔ آگے ان سب نے ابوسلمہ سے یحییٰ بن کثیر کی حدیث کے مانند بیان کیا ، البتہ محمد بن عمرو کی حدیث میں ہے : " اپنے ( نکاح کے ) معاملے میں ( ہمارے ساتھ مشورہ کیے بغیر ) ہمیں پیچھے نہ چھوڑ دینا.
Fatima bint Qais ( رضی اللہ عنہا) reported:
She had been married to Abu 'Amr bin Hafs bin al-Mughira رضی اللہ عنہ and he divorced her with three pronouncements. She stated that she went to Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) asking him about abandoning that house. He commanded her to move to the house of Ibn Umm Maktum رضی اللہ عنہ , the blind. Marwan refused to testify the divorced woman abandoning her house (before the 'Idda was over). 'Urwa said that 'A'isha رضی اللہ عنہا objected to (the words of) Fatima bint Qais رضی اللہ عنہا .
ہم سب کو حسن بن علی الحلوانی اور عبد بن حمید نے بیان کیا، یعقوب بن ابراہیم بن سعد کی سند سے، میرے والد نے ہم سے بیان کیا, صالح نے ابن شہاب سے روایت کی ، ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن بن عوف نے انہیں خبر دی کہ فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا نے انہیں بتایا کہ
وہ ابو عمرو بن حفص بن مغیرہ رضی اللہ عنہ کی بیوی تھیں ، انہوں نے اسے تینوں طلاقوں میں سے آخری طلاق بھی دے دی ، ان کا خیال تھا کہ وہ اپنے گھر سے باہر نکلنے کے بارے میں فتویٰ پوچھنے کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں حکم دیا کہ نابینا ( صحابی ) ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ کے گھر منتقل ہو جائیں ۔ مروان نے ( جب وہ مدینے کا عامل تھا ) اس بات سے انکار کر دیا کہ وہ مطلقہ عورت کے اپنے گھر سے نکلنے کے بارے میں ان کی ( بات کی ) تصدیق کرے ۔ اور عروہ نے کہا : حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے بھی فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا کے سامنے اس بات کو قبول کرنے سے انکار کر دیا.
A similar report (as no. 3703) was narrated from Shihab with this chai, as well of the comment of Urwah about 'Aishah's رضی اللہ عنہا objection to Fatimah bint Qais رضی اللہ عنہا .
مجھ سے محمد بن رافع نے بیان کیا، ہم سے حوین نے بیان کیا، ہم سے لیث نے بیان کیا،عقیل نے ابن شہاب سے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند روایت کی ، ساتھ عروہ کا قول بھی ذکر کیا کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فاطمہ رضی اللہ عنہا کے سامنے اس بات کو ناقابل قبول قرار دیا.
Ubaidullah bin 'Abdullah bin 'Utba reported:
'Amr bin Hafs bin al-Mughira رضی اللہ عنہ set out along with 'Ali bin Abi Talib ( رضی اللہ عنہ) to the Yemen and sent to his wife the one pronouncement of divorce which was still left from the (irrevocable) divorce; and he commanded al-Harith bin Hisham and 'Ayyash bin Abu Rabi'a to give her maintenance allowance. They said to her: By Allah, there is no maintenance allowance for you, except in case you are pregnant. She came to Allah's Apostle (may peace he upon him) and mentioned their opinion to him, whereupon he said: There is no maintenance allowance for you. Then she sought permission to move (to another place), and he (the Holy Prophet) permitted her. She said: Allah's Messenger, where (should I go)? He said: To the house of Ibn Umm Maktum and, as he is blind, she could put off her garmeqts in his presence and he would not see her. And when her 'Idda was over. Allah's Apostle ( صلی اللہ علیہ وسلم ) married her to Usama bin Zaid رضی اللہ عنہ . Marwan (the governor of Medina) sent Qabisa bin Dhuwaib in order to ask her about this hadith, and she narrated it to him, whereupon Marwan said: We have not heard this hadith but from a woman. We would adopt a safe (path) where we found the people. Fatima رضی اللہ عنہا said that when these words of, Marwan were conveyed to her. There is between me and you the word of Allah, the Exalted and Majestic: Do not turn them out of their houses. She asserted: This is in regard to the revocable divorce what new (turn can the event take) after three pronouncements (separation between irrevocable). Why do you say there is no maintenance allowance for her if she is not pregnant? Then on what ground do you restrain her?
ہم سے اسحاق بن ابراہیم اور عبد بن حمید نے بیان کیا، اور یہ لفظ عبد کے لیے ہے، انہوں نے کہا: ہمیں عبد الرزاق نے خبر دی، انہوں نے ہمیں خبر دی معمر نے ہمیں زہری سے خبر دی ، انہوں نے عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ سے روایت کی کہ
ابو عمرو بن حفص بن مغیرہ رضی اللہ عنہ حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے ساتھ یمن کی جانب گئے اور اپنی بیوی فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا کو اس کی ( تین ) طلاقوں میں سے جو طلاق باقی تھی بھیج دی ، اور انہوں نے ان کے بارے میں ( اپنے عزیزوں ) حارث بن ہشام اور عیاش بن ابی ربیعہ سے کہا کہ وہ انہیں خرچ دیں ، تو ان دونوں نے ان ( فاطمہ ) سے کہا : اللہ کی قسم! تمہارے لیے کوئی خرچ نہیں الا یہ کہ تم حاملہ ہوتی ۔ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور آپ کو ان دونوں کی بات بتائی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " تمہارے لیے خرچ نہیں ( بنتا ۔ ) " انہوں نے آپ سے نقل مکانی کی اجازت چاہی تو آپ نے انہیں اجازت دے دی ۔ انہوں نے پوچھا : اللہ کے رسول! کہاں؟ فرمایا : " ابن ام مکتوم کے ہاں ۔ " وہ نابینا تھے ، وہ ان کے سامنے اپنے ( اوڑھنے کے ) کپڑے اتارتیں تو وہ انہیں دیکھ نہیں سکتے تھے ۔ جب ان کی عدت پوری ہوئی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا نکاح اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ سے کر دیا ۔ اس کے بعد مروان نے اس حدیث کے بارے میں دریافت کرنے کے لیے قبیصہ بن ذؤیب کو ان کے پاس بھیجا تو انہوں نے اسے یہ حدیث بیان کی ، اس پر مروان نے کہا : ہم نے یہ حدیث صرف ایک عورت سے سنی ہے ، ہم تو اسی مقبول طریقے کو تھامے رکھیں گے جس پر ہم نے تمام لوگوں کو پایا ہے ۔ جب فاطمہ رضی اللہ عنہا کو مروان کی یہ بات پہنچی تو انہوں نے کہا : میرے اور تمہارے درمیان قرآن فیصل ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : " تم انہیں ان کے گھروں سے مت نکالو ۔ " آیت مکمل کی ۔ انہوں نے کہا : یہ آیت تو ( جس طرح اس کے الفاظ ( لَعَلَّ ٱللَّـهَ يُحْدِثُ بَعْدَ ذَٰلِكَ أَمْرًا ) ( الطلاق 1 : 65 ) سے ظاہر ہے ) اس ( شوہر ) کے لیے ہوئی جسے رجوع کا حق حاصل ہے ، اور تیسری طلاق کے بعد از سر نو کون سی بات پیدا ہو سکتی ہے؟ اور تم یہ بات کیسے کہتے ہو کہ اگر وہ حاملہ نہیں ہے تو اس کے لیے خرچ نہیں ہے؟ پھر تم اسے روکتے کس بنا پر ہو.
Sha'bi reported:
I visited Fatima bint Qais رضی اللہ عنہ and asked her about the verdict of Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) about (board and lodging during the 'Idda) and she said that her husband divorced her with an irrevocable divorce. She (further. said): I contended with him before Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) about lodging and maintenance allowance, and she said: He did not provide me with any lodging or maintenance allowance, and he commanded me to spend the 'Idda in the house of Ibn Umm Maktum رضی اللہ عنہ .
زہیر بن حرب نے مجھے حدیث بیان کی ، ( کہا : ) ہمیں ہشیم نے حدیث بیان کی ، ( کہا : ) ہمیں سیار ، حصین ، مغیرہ ، اشعث ، مجالد ، اسماعیل بن ابی خالد اور داود سب نے شعبی سے خبر دی ۔ ۔ البتہ داود نے کہا : ہمیں حدیث بیان کی ۔ ۔ انہوں نے کہا
میں فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا کے پاس گیا اور ان سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فیصلے کے متعلق دریافت کیا جو ان کے بارے میں تھا ۔ انہوں نے کہا : ان کے شوہر نے انہیں تین طلاقیں دے دیں ، کہا : تو میں رہائش اور خرچ کے لیے اس کے ساتھ اپنا جھگڑا لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گئی ۔ کہا : تو آپ نے مجھے رہائش اور خرچ ( کا حق ) نہ دیا ، اور مجھے حکم دیا کہ میں اپنی عدت ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ کے گھر گزاروں.
It was narrated from Ash-Shabi that he said: I entered upon Fatimah bint Qais..." a hadith like that of Zubair from Hushaim.
یحییٰ بن یحییٰ نے ہمیں حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں ہشیم نے حصین ، داود ، مغیرہ ، اسماعیل اور اشعث سے ، انہوں نے شعبی سے خبر دی کہ انہوں نے کہا : میں فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا کے پاس گیا ۔ ۔ ۔ ( آگے ) ہشیم سے زہیر کی روایت کردہ حدیث کے مانند ہے.
Sha'bi reported:
We visited Fatima bint Qais رضی اللہ عنہا and she served us fresh dates and a drink of barley flour, and I asked her: Where should a woman who has been divorced by three pronouncements, spend the period of her 'Idda. She said: My husband divorced me with three pronouncements, and Allah's Apostle ( صلی اللہ علیہ وسلم ) permitted me to spend my 'Idda period with my family (with my parents).
ہم سے یحییٰ بن حبیب نے بیان کیا، کہا ہم سے خالد بن الحارث الحجیمی نے بیان کیا,قرہ نے ہمیں حدیث بیان کی ، ( کہا : ) ہمیں سیار ابوالحکم نے حدیث بیان کی ، ( کہا : ) ہمیں شعبی نے حدیث بیان کی ، انہوں نے کہا
ہم فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا کے پاس گئے ، انہوں نے ابن طاب کی تازہ کھجوروں سے ہماری ضیافت کی ، اور ہمیں عمدہ جَو کے ستو پلائے ، اس کے بعد میں نے ان سے ایسی عورت کے بارے میں پوچھا جسے تین طلاقیں دی گئی ہوں کہ وہ عدت کہاں گزارے گی؟ انہوں نے جواب دیا : مجھے میرے شوہر نے تین طلاقیں دیں تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اجازت دی کہ میں اپنے گھرانے میں عدت گزاروں ۔ ( ابن مکتوم ان کے عزیز تھے).
It was narrated from Ash-Shabi from Fatima bint Qais (رضی اللہ عنہا) reported:
Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) that there is no lodging and maintenance allowance for a woman who has been given irrevocable divorce.
ہم سے محمد بن المثنیٰ اور ابن بشار نے بیان کیا، کہا: ہم سے عبدالرحمٰن بن مہدی نے بیان کیا، ہم سے سفیان نے بیان کیا,سلمہ بن کہیل نے شعبی سے اور انہوں نے فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا سے روایت کی
انہوں نے ایسی عورت کے بارے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی جسے تین طلاقیں دے دی گئی ہوں ، آپ نے فرمایا : " اس کے لیے نہ رہائش ہے اور نہ خرچ.
Fatima bint Qais (رضی اللہ عنہا) reported:
My husband divorced me with three pronouncements. I decided to move (from his house to another place). So I came to Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ), and he said: Move to the house of your cousin 'Amr bin Umm Maktum and spend your period of 'Idda there.
مجھ سے اسحاق بن ابراہیم الحنظلی نے کہا, یحییٰ بن آدم نے ہمیں خبر دی ، ( کہا : ) عمار بن رُزیق نے ہمیں ابواسحاق سے حدیث بیان کی ، انہوں نے شعبی سے اور انہوں نے فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا سے روایت کی ، انہوں نے کہا
میرے شوہر نے مجھے تین طلاقیں دیں تو میں نے ( وہاں سے ) نقل مکانی کا ارادہ کیا ۔ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی ، تو آپ نے فرمایا : " تم اپنے چچا زاد عمرو بن ام مکتوم کے گھر منتقل ہو جاؤ ، اور ان کے ہاں عدت گزارو.
Abu Ishaq reported:
I was with al-Aswad bin Yazid sitting in the great mosque, and there was with us al-Sha'bi, and he narrated the narration of Fatima bint Qais (رضی اللہ عنہا ) that Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) did not make any provision for lodging and maintenance allowance for her. Al-Aswad caught hold of some pebbles in his fist and he threw them towards him saying: Woe be to thee, you narrate like it, whereas Umar رضی اللہ عنہ said: We cannot abandon the Book of Allah and the Sunnah of our Apostle ( صلی اللہ علیہ وسلم ) for the words of a woman. We do not know whether she remembers that or she forgets. For her, there is a provision of lodging and maintenance allowance. Allah, the Exalted and Majestic, said: Turn them not from their houses nor should they themselves go forth unless they commit an open indecency (lxv. 1).
ہم سے محمد بن عمرو بن جبلہ نے بیان کیا، انہوں نے بیان کیا ابواحمد نے ہمیں خبر دی ، ( کہا : ) عمار بن رزیق نے ہمیں ابواسحاق سے حدیث بیان کی ، انہوں نے کہا
میں اسود بن یزید ( نخعی ) کے ساتھ ( کوفہ کی ) بڑی مسجد میں بیٹھا ہوا تھا ، شعبی بھی ہمارے ساتھ تھے ، تو شعبی نے فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا کی حدیث بیان کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں رہائش اور خرچ ( کا حق ) نہیں دیا ۔ پھر اسود نے مٹھی بھر کنکریاں لیں اور انہیں دے ماریں اور کہا : تم پر افسوس! تم اس طرح کی حدیث بیان کر رہے ہو؟ عمر رضی اللہ عنہ نے کہا تھا : ہم ایک عورت کے قول کی وجہ سے اللہ کی کتاب اور اس کے رسول کی سنت کو نہیں چھوڑ سکتے ، ہم نہیں جانتے کہ اس نے ( اس مسئلے کو ) یاد رکھا ہے یا بھول گئی ، اس کے لیے رہائش اور خرچ ہے ۔ ( اور یہ آیت تلاوت کی ) اللہ عزوجل نے فرمایا : " تم انہیں ان کے گھروں سے نہ نکالو ، اور نہ وہ خود نکلیں ، مگر یہ کہ وہ کوئی کھلی بے حیائی کریں.
A hadith like this has been narrated on the authority of Ishaq with the same chain of transmitters.
ہم سے احمد بن عبدہ الذہبی نے بیان کیا، کہا ہم سے ابوداؤد نے بیان کیا، انہوں نے بیان کیاسلیمان بن معاذ نے ابواسحاق سے اسی سند کے ساتھ عمار بن رزیق سے روایت کردہ ابواحمد کی حدیث کے ہم معنی حدیث مکمل قصے سمیت بیان کی.