Sahl bin Sa'd al-Sa'idi رضی اﷲ عنہ reported:
'Uwaimir al-'Ajlani came to 'Asim bin 'Adi al-Ansari and said to him. Tell me about a person who finds a man with his wife; should he kill him, and be killed In retaliation; or how should he act? 'Asim رضی اﷲ عنہ , ask for me (religious verdict about it) from Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ). So 'Asim رضی اﷲ عنہ asked Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) and he did not like this question and he disapproved of it so much that'Asim felt aggrieved at what he had heard from Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ). When 'Asim came back to his family, 'Uwaimir came to him and said: 'Asim, what did Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) say to you? 'Asim said to 'Uwaimir: You did not bring something good. Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) did not like this religious verdict that I sought from him. 'Uwaimir said: By Allah, I will not rest until I have asked him about it. 'Uwaimir proceeded until he came to Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) as he was sitting amidst people, and said: Messenger of Allah, tell me about a person who found a man with his wife. Should he kill him, and then you would kill him, or how should he act? Thereupon Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) said: (Verses) have been revealed concerning you and your wife; so go and bring her. Sahl said that they both invoked curses (and further said): I was along with people in the company of Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ). And when they had finished, Uwaimir said: Allah's Messenger, I shall have told a lie against her if I keep her (now). So he divorced her with three pronouncements before Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) had commanded him. Ibn Shihab said: Subsequently that was the practice of invokers of curses (al Mutala'inain)
ہم سے یحییٰ بن یحییٰ نے بیان کیا، انہوں نے کہا: میں نے مالک کو ابن شہاب کی روایت سے پڑھا کہ,سہل بن سعد ساعدی رضی اﷲ عنہ سے روایت ہے
عویمر عجلانی ، عاصم بن عدی انصاری کے پاس آیا اور ان سے کہا اے عاصم! بھلا اگر کوئی شخص اپنی جورو کیس اتھ کسی مرد کو دیکھے کیا اس کو مار ڈالے ، پھر تم اس کو مار ڈالو گے یا وہ کیا کرے؟ تو یہ مسئلہ پوچھو میرے واسطے رسول اﷲ ﷺ سے ۔ عاصم رضی اﷲ عنہ نے رسول اﷲ ﷺ سے پوچھا آپ نے اس قسم کے سوالوں کو ناپسند کیا اور ان کی برائی بیان کی ۔ عاصمؓ نے جو رسول اﷲ ﷺ سے سنا وہ ان کو شاق گزرا ۔ جب وہ اپنے لوگوں میں لوٹ کر آئے تو عویمر ان کے پاس آئے اور پوچھا اے عاصمؓ! جناب رسول اﷲ ﷺ نے کیا فرمایا؟ عاصمؓ نے عویمرؓ سے کہا تو میرے اچھی چیز نہیں لایا ۔ رسول اﷲ ﷺ کو تیرا مسئلہ پوچھنا ناگوار ہوا ۔ عویمرؓ نے کہا قسم خدا کی میں تو باز نہ آؤں گا جب تک یہ مسئلہ آپ سے نہ پوچھوں گا ۔ پھر عویمرؓ آیا رسول اﷲ ﷺ کے پاس تمام لوگوں میں اور عرض کیا یارسول اﷲ! آپ کیا فرماتے ہیں اگرکوئی شخص اپنی بی بی کے پاس غیر مرد کو دیکھے اس کو مار ڈالے ، پھر آپ اس کو مار ڈالیں گے ( اس کے قصاص میں ) وہ کیا کرے؟ رسول اﷲ ﷺ نے فرمایا تیرے او رتیری جورو کے باب میں اﷲ کا حکم اُترا ( یعنی آیت لعان کی ) تو جا او راپنی جورو کو لے کر آ ۔ سہلؓ نے کہا پھر دونوں میاں بیبی نے لعان کیا او رمیں لوگوں کے ساتھ رسول اﷲ ﷺ کے پاس موجود تھا جب وہ فارغ ہوئے تو عویمرؓ نے کہا یا رسول اﷲ اگر میں اس عورت کو اب رکھوں تو میں جھوٹا ہوں پھر عویمرؓ نے اس کو تین طلاق دے دیں اس سے پہلے کہ رسول اﷲ ﷺ اس کو حکم کرتے ابن شہاب نے کہا پھر لعان کرنے والوں کا یہی طریقہ ٹھہرگیا ۔
Sahl bin Sa'd reported:
'Uwaimir al-Ansari ( رضی اﷲ عنہ) from Banu'l-'Ajlan came to 'Asim bin 'Adi ( رضی اﷲ عنہ) the remaining part of the hadith is the same and it was also reecorded in it: And subsequebtly the separation became the practice of al-Mutala'inain. And this addition was also made: She was pregnant and her son was ascribed to her, and it became customary that such (a son) would inherit her and she would inherit him in the share prescribed by Allah for her.
مجھ سے حرملہ بن یحییٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے ابن وہب نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے یونس نے بیان کیا، ابن شہاب سے,سہل بن سعد رضی اﷲ عنہ سے روایت ہے
عویمر انصاری رضی اﷲ عنہ جو بنی عجلان میں سے تھا عاصم بن عدی رضی اﷲ عنہ کے پاس آیا پھر بیان کیا حدیث کو اخیر تک اسی طرح جیسے اوپر گزری اور حدیث میں ابن شہاب کا قول بھی شریک کردیاکہ پھر جدائی مرد کو عورت سے سنت ہوگئی لعان کرنے والوں میں اور اتنا زیادہ کیا کہ سہل نے کہا وہ عورت حاملہ تھی اس کے بیٹے کو ماں کی طرف نسبت کرکے پکارتے پھر یہ طریقہ جاری ہوا کہ ایسا لڑکا اپنی ماں کا وارث ہوگا اور وہ اس کی وارث ہوگی اپنے حصہ کے موافق ۔
Ibn Juraij narrated:
Ibn Shihab narrated about the invokers of curses and the practice of (li'an) based on the authority of Sahl bin Sa'd, of the tribe of Sa'ida. That a person from the Ansar came to Allah's Apostle ( صلی اللہ علیہ وسلم ) and said: Allah's Messenger, tell me about the person who found a man with his wife. The remaining part of the hadith is the same (but) with this addition: They invoked curses in the mosque and I was present there. And he narrated in the hadith: He divorced her with three pronouncements before Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) commanded him (to get separation). He separated from her in the presence of Allah's Apostle ( صلی اللہ علیہ وسلم ), whereupon he said: There is a separation between the invokers of curses.
ہم سے محمد بن رافع نے بیان کیا، ہم سے عبدالرزاق نے بیان کیا، ابن جریج سے روایت ہے کہ
مجھ سے ابن شہاب نے بیان کیا متاعنین کا حال او ران کا طریقہ سہل بن سعدؓ کی حدیث سے جو بنی ساعدہ میں سے تھا اس نے کہا انصار میں سے ایک شخص رسول اﷲ ﷺ کے پاس آیا اور عرض کیا یارسول اﷲ آپ کیا سمجھتے ہیں اگر کوئی شخص اپنی جورو کے ساتھ کسی مرد کو دیکھے اور بیان کیا سارا قصہ حدیث کا اور اتنا زیادہ کیا کہ پھر دونوں نے لعان کیا مسجد کے اندر اور میں موجود تھا اور اس روایت میں یہ بھی ہے کہ اس شخص نے طلاق دی تین بار اپنی عورت کو رسول اﷲ ﷺ کے حکم کرنے سے پہلے پھر وہ جدا ہوگیا اس سے آپ کے سامنے آپ نے فرمایا یہی جدائی ہے درمیان لعان کرنے والوں کے ۔
Sa'id bin Jubair رضی اﷲ عنہ reported:
I was asked about the invokers of curses during the reign of Mus'ab (bin Zubair) whether they could separate (themselves by this process). He said: I did not understand what to say. So I went to the house of Ibn 'Umar ( رضی اﷲ عنہ) in Mecca. I said to his servant: Seek permission for Me. He said that he (Ibn 'Umar رضی اﷲ عنہ) had been taking rest. He (Ibn 'Umar رضی اﷲ عنہ) heard my voice. and said: Are you Ibn Jubair? I said: Yes. He 'said: Come in. By Allah, it must be some (great) need which has brought you here at this Hour. So I got in and found him lying on a blanket reclining against a pillow stuffed with fibres of date-palm. I said: O Abu'Abd al-Rahman, should there be separation between the invokers of curses? He said: Hallowed be Allah, yes, The first one who asked about it was so and so. he said: Messenger of Allah, tell me If one of us finds his wife committing adultery: what should he do? If he talks, that is something great, and if he keeps quiet that is also (something great) (which he cannot afford to do). Allah's Prophet ( صلی اللہ علیہ وسلم ) kept quiet (or some time). After some time he (that very person) came to him (Allah's Messenger) and said: I have been involved in that very cage about which I had asked you Allah the Exalted and Majestic then revealed (these) verses of Surah Nur: Those who accuse their wives (verse 6), and he (the Holy Prophet) recited them to him and admonished him, and exhorted him and informed him that the torment of the world is less painful than the torment of the Hereafter. He said: No, by Him Who sent you with Truth, I did not tell a lie against her. He (the Holy Prophet) then called her (the wife of that person who had accused her) and admonished her, and exhorted her, and informed her that the torment of this world is less painful than the torment of the Hereafter. She said: No, by Him Who sent thee with Truth, he is a liar. (it was) the man who started the swearing of oath and he swore in the name of Allah four times that he was among the truthful. and at the fifth turn he said: Let there be curse of Allah upon him if he were among the liars. Then the woman was called and she swore four times in the name of Allah that he (her husband) was among the liars, and at the fifth time (she said): Let there be curse upon her if he were among the truthful. He (the Holy Prophet) then effected separation between the two.
ہم سے محمد بن عبداللہ بن نمیر نے بیان کیا، کہا ہم سے بیان کیا، کہا ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ نے بیان کیا اور اس کا تلفظ عبداللہ نے بیان کیا۔ ہم سے ابن نمیر، عبد الملک ابن ابی سلیمان نے بیان کیا,سعید بن جبیر رضی اﷲ عنہ سے روایت ہے مجھ سے پوچھا گیا
لعان کرنے والوں کا مسئلہ مصعب بن زبیر کی خلافت میں میں حیران ہوا کیا جواب دوں تو میں چلا عبدﷲ بن عمر رضی اﷲ عنہ کے مکان کی طرف مکہ میں او ران کے غلام سے کہا میری عرض کرو اس نے کہا وہ آرام کرتے ہیں انہوں نے میری آواز سنی او رکہا کیا جبیر کا بیٹا ہے؟ میں نے کہا ہاں انہوں نے کہا اندر آ قسم خدا کی تو کسی کام سے آیا ہوگا میں اندر آگیا تو وہ ایک کمبل بچھائے بیٹھے تھے او رایک تکیے پر ٹیک لگائے تھے جو چھال سے کھجور کی بھرا ہوا تھا ۔ میں نے کہا اے ابوعبدالرحمن! لعان کرنے والوں میں جدائی کی جائے گی؟ انہوں نے کہا سبحان اﷲ بے شک جدائی کی جائے گی اور سب سے پہلے اس باب میں فلاں نے پوچھا جو فلاں کا بیٹا تھا رسول اﷲ ﷺ سے ۔ اس نے کہا یا رسول اﷲ آپ کیا سمجھتے ہیں اگر ہم میں سے کوئی اپنی عورت کو برا کام کراتے دیکھے تو کیا کرے ، اگر منہ سے نکالے تو بری بات نکالے گا اگر چپ رہے تو ایسی بری بات سے کیونکر چپ رہے؟ رسول اﷲ ﷺ یہ سن کر چپ ہورہے اور جواب نہیں دیا ۔ پھر وہ شخص آپ کے پاس آیا اور کہنے لگا یا رسول اﷲ ۔ جو بات میں نے آپ سے پوچھی تھی میں خود اس میں پڑگیا ۔ تب اﷲ تعالیٰ نے یہ آیتیں اتاریں سورۂ نور میں والذین یرمون ازواجھم آخر تک ۔ آپ نے یہ آیتیں مرد کو پڑھ کر سنائیں اور اس کو نصیحت کی اور سمجھایا کہ دنیا کا عذاب آخرت کے عذاب سے آسان ہے ۔ ( یعنی اگر تو جھوٹ طوفان باندھتا ہے تو اب بھی بول دے ، حد قذف کے اسی کوڑے پڑجائیں گے ، مگر یہ جہنم میں جلنے سے آسان ہے ) ۔ وہ بولا نہیں قسم اس کی جس نے آپ کو سچائی کے ساتھ بھیجا میں نے عورت پر طوفان نہیں جوڑا ۔ پھر آپ نے عوت کو بلایااوراس کو ڈرایا اور سمجھایا اور فرمایا دنیا کا عذاب سہل ہے آخرت کے عذاب سے ۔ وہ بولی نہیں قسم اس کی جس نے آپ کو سچائی کیس اتھ بھیجا ہے میرا خاوند جھوٹ بولتا ہے ۔ تب آپ نے شروع کیا مرد سے اور اس نے چار گواہیاں دیں اﷲ تعالیٰ کے نام کی مقرر وہ سچا ہے اور پانچویں بار میں یہ کہا کہ خدا کی پھٹکار ہو اس پر اگر وہ جھوٹا ہو ۔ پھر عورت کو بلایا اس نے چار گواہیاں دیں اﷲ تعالیٰ کے نام کی مقرر مرد جھوٹا ہے اور پانچویں بار میں یہ کہا اﷲ کا غضب اترے اس پر اگر مرد سچا ہے ۔ اس کے بعد آپ نے جدائی کرادی ان دونوں میں ۔
Saeed bin Jubair رضی اللہ عنہ said:
"At the time of Musab bin Az-Zubair, I was asked about the two who engaged in Lian, and I did not know what to say, so I went to 'Abdullah bin Umar رضی اللہ عنہ and I said: 'Do you think that two who engaged in Lian should be separated?... '" then he mentioned a Hadith like that of Ibn Umair (no. 3746).
ہم سے علی بن حجر السعدی نے بیان کیا، ہم سے عیسیٰ بن یونس نے بیان کیا، ہم سے عبدالملک بن ابی سلیمان نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ میں نے سعید بن جبیر رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے کہا
مجھ سے مصعب بن الزبیر کے زمانے میں دونوں لعنت کرنے والوں کے بارے میں پوچھا گیا اور مجھے معلوم نہیں تھا کہ میں کیا کہوں، تو میں عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور کہا: کیا آپ نے دونوں لعنت کرنے والوں کو دیکھا ہے؟ ان کے درمیان؟" پھر ابن نمیر کی اسی طرح کی حدیث ذکر کی۔
Ibn Umar (رضی اللہ عنہ) reported:
Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) saying to the invokers of curse: Your account is with Allah. One of you must be a liar. You have now no right over this woman. He said: Messenger of Allah, what about my wealth (dower that I paid her at the time of marriage)? He said: You have no claim to wealth. If you tell the truth, it (dower) is the recompense for your having had the right to intercourse with her, and if you tell a lie against her, it is still more remote from you than she is. Zuhair said in his narration: Sufyan reported to us on the authority of 'Amr that he had heard Sa'id bin Jubair saying: I heard Ibn Umar (رضی اللہ عنہ) saying that Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) had said it.
عبداﷲ بن عمررضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اﷲ ﷺ نے فرمایا لعان کرنے والوں کو تم دونوں کا حساب اﷲ تعالیٰ پر ہے ، تم میں سے ایک جھوٹا ہے ۔ آپ نے خاوند سے فرمایا اب تیرا کوئی بس عورت پر نہں ہے کیونکہ وہ تجھ سے ہمیشہ کے لیے جدا ہوگئی ۔ مرد بولا میرا مال یا رسول اﷲ! جو اس نے لیا ہے ۔ آپ نے فرمایا مال تجھ کو نہیں ملے گا ، کیونکہ اگر تو سچا ہے تو مال کا بدلہ ہے جو اس کی فرج تجھ پر حلال ہوگئی اور اگر تو جھوٹا ہے تو مال اور دور ہوگیا ( بلکہ تیرے اوپر اور وبال ہوا جھوٹ کا ) ۔اور اگر تم نے اس سے جھوٹ بولا تو یہ اس سے زیادہ دور ہے، زہیر نے اپنی روایت میں کہا: سفیان نے ہمیں سعید بن جبیر سے سنا وہ کہتے ہیں, میں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما کو کہتے سنا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
Ibn 'Umar (رضی اللہ عنہ) said:
Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) effected separation between the two members of Banu al-'Ajlan, and said: Allah knows that one of you is a liar. Is there one to repent among you?
مجھ سے ابو الربیع الزہرانی نے بیان کیا، ہم سے حماد نے، ایوب کی سند سے، سعید بن جبیر سے, عبداﷲ بن عمررضی اللہ عنہ سے روایت ہے
رسول اﷲ ﷺ نے جدائی کردی بنی عجلان کی جورو اور مرد میں اور فرمایا اﷲ تعالیٰ جانتا ہے تم میں سے کوئی جھوٹا ہے ۔ پھر کیا تم میں سے کوئی توبہ کرتا ہے؟
Sa'id bin Jubair reported:
I asked Ibn 'Umar (رضی اللہ عنہ) about invoking curse (li'an), and he narrated Similarly from Allah's Apostle ( صلی اللہ علیہ وسلم ).
ہم سے ابن ابی عمر نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان نے بیان کیا، انہوں نے ایوب رضی اللہ عنہ سے سنا, سعید بن جبیر سے روایت ہے کہ
میں نے ابن عمررضی اللہ عنہ سے لعان کو پوچھا تو انہوں نے نقل کیا جناب رسول اﷲ ﷺ سے ایسا ہی جیسے اوپر گزرا ۔
Sa'id bin Jubair reported:
Mus'ab bin Zubair did not effect separation between the Mutala'inain (invokers of curses). Sa'id said: It was mentioned to 'Abdullah bin Umar (رضی اللہ عنہ) and he said: Allah's Apostle ( صلی اللہ علیہ وسلم ) effected separation between the two members of Banu al-'Ajlan.
ہم سے ابو غسان المسمعی، محمد بن المثنی، اور ابن بشار نے بیان کیا - اور یہ قول المسمعی اور ابن المثنیٰ کا ہے - انہوں نے کہا: ہم سے معاذ نے بیان کیا - وہ ابن ہشام ہیں، انہوں نے کہا: میرے والد نے مجھ سے قتادہ کی سند سے، عزیر رضی اللہ عنہ سے کہا, سعید بن جبیر سے روایت ہے
مصعب نے جدائی نہیں کی لعان کرنے والوں میں ۔ میں نے اس کا ذکر کیا عبداﷲ بن عمررضی اللہ عنہ سے ۔ انہوں نے کہا جناب رسول اﷲ ﷺ نے جدائی کردی بنی عجلان کے مرد اور عورت میں ۔
Nafi' reported on the authority of Ibn Umar (رضی اﷲ عنہ):
A person invoked curse on the wife during the lifetime of Allah s Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ), so he effected separation between them and traced the lineage of the son to his mother.
ہم سے سعید بن منصور اور قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے مالک نے بیان کیا، اور ہم سے یحییٰ بن یحییٰ نے بیان کیا - اور اس کا تلفظ - انہوں نے کہا کہ میں نے کہا مالک کی ایک مفید روایت ہے,عبدﷲ بن عمر رضی ﷲ عنہ سے روایت ہے کہ
ایک مرد نے لعان لعان کیا رسول اﷲ ﷺ کے زمانے میں پھر آپ نے جدائی کردی دونوں میں اور بچے کا نسب ماں سے لگادیا ۔
Ibn 'Umar (رضی اﷲ عنہ) reported:
Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) asked a person from the Anger and his wife to invoke curse (upon one another in order to testify to their truthfulness), and then effected separation between them.
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ نے بیان کیا، ہم سے ابو اسامہ نے بیان کیا، ان سے حذیفہ نے بیان کیا، ان سے ابن نمیر نے بیان کیا، ہم سے میرے والد نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے عبید اللہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا عبدﷲ بن عمررضی ﷲ عنہ سے روایت ہے
رسول اﷲ ﷺ نے لعان کروایا درمیان ایک مرد انصاری اور اس کی عورت کے اور جدائی کردی ان دونوں میں ۔
A hadith like this has been narrated on the authority of 'Ubaidulah with the same chain of transmitters.
ہم سے محمد بن المثنیٰ اور عبید اللہ بن سعید نے بیان کیا، کہا: ہم سے یحییٰ نے جو القطان ہیں، ہم سے عبید اللہ کی سند سے اس سند کے ساتھ بیان کیا۔
Abdullah رضی اﷲ عنہ reported:
We were on the night of Friday staying in the mosque when a person from the Ansar came there and said: If a person finds his woman along with a man, and he speaks about it, you would lash him, and if he kills, you will kill him, and if he keeps quiet he shall have to consume anger. By Allah, I will definitely ask about him from Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ). On the following day he came to Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) and asked him thus: If a man were to find with his wife a man and if he were to talk about it, you would lash him; and if he killed, you would kill him, and if he were to keep quiet. he would consume anger, whereupon he (the Holy Prophet ﷺ) said: Allah, solve (this problem), and he began to supplicate (before Him), and then the verses pertaining to li'an were revealed: Those who accuse their wives and have no witnesses except themselves (xxiv. 6). The person was then put to test according to these verses in the presence of the people. There came he and his wife in the presence of Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ), and they invoked curses (in order to testify their claim). The man swore four times in the name of Allah that he was one of the truthful and then invoked curse for the fifth time saying: Let there be curse of Allah upon him if he were among the liars. Then she began to invoke curse. Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) said to her: just wait (and curse after considering over it), but she refused and invoked curse and when she turned away, he (Allah's Apostle ﷺ) said: It seems that this woman shall give birth to a curly-haired black child, And so she did gave birth to a curly-haired black child.
ہم سے زہیر بن حرب، عثمان بن ابی شیبہ اور اسحاق بن ابراہیم نے بیان کیا - اور لفظ زہیر ہے - انہوں نے کہا: ہم سے اسحاق نے بیان کیا اور کہا باقی دو، جریر نے ہمیں الاعمش کی سند سے، ابراہیم کی سند سے، علقمہ کی سند سے,عبداﷲ بن مسعودرضی اﷲ عنہ سے روایت ہے
میں جمعہ کی رات کو مسجد میں تھا اتنے میں ایک مرد انصاری آیا اور بولا اگر کوئی اپنی جورو کے پاس کسی مرد کو پائے او رمنہ سے نکالے تو تم اس کو کوڑے لگاؤ گے ( حد قذف کے ) اگر مار ڈالے تو تم اس کو مار ڈالوگے ( قصاص میں ) اگر چپ رہے تو اپنا غصہ پی کر چپ رہے قسم اﷲ کی میں جناب رسول اﷲ ﷺ سے پوچھوں گا اس مسئلے کو جب دوسرا دن ہوا تو جناب رسول اﷲ ﷺ کے پاس آیا اور آپ سے پوچھا اس نے کہا اگر کوئی شخص اپنی بی بی کے ساتھ کسی کو پائے پھر منہ سے نکالے تو تم کوڑے لگاؤگے اگر مار ڈالے تو تم اس کو بھی مار ڈالوگے اگر چپ رہے تو اپنا غصہ کھا کر چپ رہے ( یہ بھی نہیں ہوسکتا ) جناب رسول اﷲ ﷺ نے فرمایا اﷲ کھول دے ( اس مشکل کو ) اور دعا کرنے لگے تب لعان کی آیت اتری ۔ والذین یرمون ازواجھم ولم یکن لھم شھداء الا انفسھم ۔ اخیر تک پھر اس مرد کا امتحان لیا گیا لوگوں کے سامنے اور وہ اس کی جورو دونوں رسول اﷲ ﷺ کے پاس آئے اور لعان کیا پہلے مرد نے گواہی دی چار بار کہ وہ سچا ہے پھر پانچویں بار لعنت کرکے کہا اگر وہ جھوٹا ہو تو اس پر لعنت ہے خداتعالیٰ کی پھر عورت چلی لعان کرنے کو آپ نے فرمایا ٹھہر ( اوراگر خاوند کی بات سچ ہے تو تو اپنے قصور کا اقرار کر ) لیکن اس نے نہ مانا اور لعان کیا جب پیٹھ موڑ کر چلے تو آپ نے فرمایا اس عورت کا بچہ شاید کالے رنگ کا گھرنگریالے بالوں والا پیدا ہوگا ( اس شخص کی صورت پر جس کا خاوند کو گمان تھا ) ۔ پھر ویسا ہی کالا گھونگریالے بالوں والا پیدا ہوا ۔
A similar report as no. 3755 was narrated from Al-A'mash with this chain.
ہم سے اسحاق بن ابراہیم نے بیان کیا، کہا ہم سے عیسیٰ بن یونس نے بیان کیا، کہا ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ نے بیان کیا، ہم سے عبدہ بن سلیمان نے بیان کیا۔ سب کے بارے میں اعمش سے اس سند کے ساتھ اسی طرح منقول ہے ۔
Muhammad (one of the narrators) reported:
I asked Anas bin Malik (رضی اﷲ عنہ) knowing that he had a knowledge of (the case of li'an). He said: Hilal bin Umayya (رضی اﷲ عنہ ) accused his wife with the charge of fornication with Sharik bin Sahma, the brother of al-Bara'b Malik from the side of his mother. And he was the first person who invoked curse (li'an) in Islam. He in fact invoked curse upon her. Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) said: See to her if she gives birth to a white-complexioned child having dark hair and bright eyes; he must be the son of Hilal bin Umayya; and if she gives birth to a child with dark eyelids, curly hair and lean shanks, he must be the offspring of Sharik bin Sahma. He said: I was informed that she gave birth to a child having dark eyelids, curly hair and lean shanks.
ہم سے محمد بن المثنیٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے عبد العلا نے بیان کیا، کہا ہم سے ہشام نے بیان کیا, محمد سے روایت ہے
میں نے انس بن مالک رضی اﷲ عنہ سے پوچھا یہ سمجھ کر کہ ان کو معلوم ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ہلال بن امیہ نے نسبت کی زنا کی اپنی بیوی کو شریک بن سحماء سے اور ہلالؓ بن امیہ براء بن مالک رضی اﷲ عنہ کا مادری بھائی تھا ۔ اور اس نے سب سے پہلے لعان کیا اسلام میں ۔ راوی نے کہا پھر دونوں میاں بیوی نے لعان کیا تو رسول اﷲ ﷺ نے فرمایا اس عورت کو دیکھتے رہو اگر اس کا بچہ سفید رنگ کا ، سیدھے بال والا ، لال آنکھوں والا پیدا ہو تو وہ ہلال بن امیہؓ کا ہے اور جو سرمئی آنکھوں والا ، گھونگریالے بالوں والا ، پتلی پنڈلیوں والا پیدا ہو تو وہ شریک بن سحماء کا ہے ۔ انسؓ نے کہا مجھ کو خبر پہنچی کہ اس عورت کا لڑکا سرمگیں آنکھ ، گھونگریالے بال اور پتلی پنڈلیوں والا پیدا ہوا ۔
Ibn Abbas (رضی اﷲ عنہ) reported:
Mention was made of li'an in the presence of Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ). And Asim bin 'Adi passed a remark about it and then turned away, and a man of his tribe came to him complaining that he had found a man with his wife, whereupon 'Asim رضی اﷲ عنہ said: I have been taken by my words. He took him to Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) and told him about the man whom he had found with his wife and this man was a lean, yellow-coloured man with lank hair, and the person who was accused of committing adultery with her (his wife) had fleshy shanks, with wheat complexion and heavy bulk. Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) said: O Allah, make (this case) manifest. And as she gave birth to a child, whose face resembled that person about whom her husband had made mention that he had found her with, and Allah's Messenger (ﷺ) had asked them to invoke curses. A person said to Ibn 'Abbas (رضی اﷲ عنہ): Is she (that woman) about whom Allah's Messenger (ﷺ) (said): If I were to stone anybody without evidence, I would have stoned her ? Ibn 'Abbas (رضی اﷲ عنہ) said: No, it is not she. That woman was one who openly spread evil in society.
ہم سے محمد بن رومح بن المہاجر اور عیسیٰ بن حماد المصریان نے بیان کیا اور یہ قول ابن روم کا ہے انہوں نے کہا : ہمیں لیث نے یحییٰ کی سند سے خبر دی ۔ بن سعید، عبدالرحمن بن القاسم کی سند سے، القاسم کی سند سے، بن محمد، ابن عباس رضی اﷲ عنہ سے روایت ہے کہ
رسول اﷲ ﷺ کے پاس لعان کا ذکر ہوا ۔ عاصم بن عدی نے اس میں کچھ کہا پھر وہ چلے گئے ۔ تب ان کے پاس ان کی قوم کا ایک شخص آیا اور شکایت کرنے لگا کہ اس نے اپنی بی بی کے ساتھ ایک مرد کو دیکھا ۔ عاصم نے کہا میں اس بلا میں مبتلا ہوا اپنی بات کی وجہ سے ۔ پھر عاصم رضی اﷲ عنہ اس کو لے کر رسول اﷲ ﷺ کے پاس آئے ۔ اور اس شخص نے سارا حال آپ سے بیان کیا وہ شخص زرد رنگ دبلا سیدھے بالوں والا تھا ۔ او رجس پر دعویٰ کرتا تھا وہ پر گوشت پنڈلیوں والا ، گندم رنگ ، موٹا تھا ۔ جناب رسول اﷲ ﷺ نے فرمایا اﷲ تو کھول دے ۔ پھر وہ عورت بچہ جنی جو مشابہ تھا اس شخص کے جس پر تہمت تھی ۔ تب جناب رسول اﷲ ﷺ نے لعان کروایا دونوں ۔ میں ایک شخص بولا اے ابن عباسؓ! کیا یہ عورت وہی عورت تھی جس کے لیے جناب رسول اﷲ ﷺ نے فرمایا تھا اگر میں کسی کو بغیر گواہوں کے سنگسار کرتا تو اس عورت کو کرتا ۔ ابن عباس رضی اﷲ عنہ نے کا نہیں وہ دوسری عورت تھی جو مسلمانوں میں برائی کے ساتھ مشہور تھی ( یعنی لوگ کہتے تھے کہ یہ فاحشہ ہے نہ گواہ تھے نہ اقرار تھا ) ۔
It was narrated that Ibn 'Abbas (رضی اﷲ عنہ) said: through another chain of transmitters with the addition of these words:
Mention of the two who engage in lian was made in the presence of the Messenger of Allah..." a Hadith like that of Al-Laith (no. 3758), and he added, after saying bulky, with very curly hair."
مجھ سے احمد بن یوسف ایزدی نے بیان کیا، مجھ سے اسماعیل بن ابی اویس نے بیان کیا، ان سے سلیمان یعنی ابن بلال نے بیان کیا، مجھ سے یحییٰ نے بیان کیا، مجھ سے عبد نے بیان کیا۔ الرحمٰن بن القاسم، القاسم بن محمد کی سند سے، ابن عباس کی سند سے،انہوں نے کہا کہ
آپس میں جماع کرنے والے دو افراد کا ذکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں ہوتا ہے جیسا کہ حدیث لیث کی ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس میں اضافہ فرمایا۔ بہت سا گوشت۔'' اس نے کہا ''جعدہ''۔ ایک بلی
Abdullah bin Shaddad reported:
Mention was made about the invokers of curses before Ibn 'Abbas ( رضی اﷲ عنہما) and Ibn Shaddad said: Are these the two about whom Allah's Apostle ( صلی اللہ علیہ وسلم ) said. If I were to stone one without evidence, I would have definitely stoned her ? Ibn Abbas (رضی اﷲ عنہما) said: She is not this woman; but she is the one who (committed adultery) openly.
ہم سے عمرو ناقد اور ابن ابی عمر نے بیان کیا - اور یہ لفظ عمرو کے لیے ہے - انہوں نے کہا: ہم سے سفیان بن عیینہ نے ابی الزناد سے اور القاسم بن محمد کی سند سے بیان کیا، انہوں نے کہا، عبداللہ بن شداد نے کہا
ابن عباس رضی اﷲ عنہما کے سامنے لعان والوں کا ذکر ہوا تو عبداﷲ بن شداد نے کہا ان ہی میں وہ عورت تھی جس کے لیے رسول اﷲ ﷺ نے فرمایا تھا اگر میں کسی کو بغیر گواہوں کے رجم کرتا تو اس عورت کو رجم کرتا ۔ ابن عباس رضی اﷲ عنہما نے کہا نہیں وہ عورت دوسری عورت تھی جو علانیہ بدکار تھی ۔
Abu Huraira (رضی اﷲ عنہ) reported:
Sa'd bin 'Ubada al-Ansari رضی اﷲ عنہ said: Messenger of Allah, tell me if a man finds his wife with another person, should he kill him? Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) said: No. Sa'd said: Why not? I swear by Him Who has honored you with the Truth. There upon Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) said: Listen to what your chief says.
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے عبدالعزیز نے بیان کیا، یعنی الدراوردی نے، سہیل کے واسطہ سے، اپنے والد سے , ابوہریرہ رضی ﷲ عنہ سے روایت ہے
سعد بن عبادہ انصاری رضی اﷲ عنہ ( انصار کے رئیس ) نے کہا یا رسول اﷲ ﷺ! اگر کوئی شخص اپنی بی بی کے ساتھ کسی مرد کو پائے ( زنا کرتے ہوئے ) کیا اس کو مارڈالے؟ رسول اﷲ ﷺ نے فرمایا نہیں ۔ سعد نے کہا نہیں مار ڈالے قسم اس کی جس نے آپ کو سچائی کے ساتھ عزت دی ۔ رسول اﷲ ﷺ نے فرمایا ( اور صحابہ سے ) سنو تمہارے سردار کیا کہتے ہیں ( یعنی تعجب ہے ان سے کہ ایسی بات کہتے ہیں اﷲ تعالیٰ کے حکم کے سامنے طبیعت اور غصہ کو دخل نہ دینا چاہیے ) ۔
Abu Huraira (رضی اﷲ عنہ) reported:
Sa'd bin Ubada (رضی اﷲ عنہ) said: Messenger of Allah, if I were to find with my wife a man, should I wait until I bring four witnesses? He said: Yes.
مجھ سے زہیر بن حرب نے بیان کیا، کہا مجھ سے اسحاق بن عیسیٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے مالک نے سہیل سے اور اپنے والد سے, ابوہریرہ رضی اﷲ عنہ سے روایت ہے
سعد بن عبادہ رضی اﷲ عنہ نے کہا یارسول اﷲ ﷺ! اگر میں اپنی بیوی کے پاس غیر مرد کو دیکھوں تو کیا اس کو مہلت دوں چار گواہ لانے تک؟ آپ نے فرمایا ہاں ۔