Abdullah bin 'Umar رضی اللہ عنہ reported:
'Umar bin Khattab رضی اللہ عنہ asked the Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) as he was at ji'rana (a town near Mecca) on his way back from Ta'if: Messenger of Allah, I had taken a vow during the days of Ignorance that I would observe I'tikaf for one day in the Sacred Mosque. So what is your opinion? He said: Go and observe I'tikaf for a day. And Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) gave him a slave girl out of the one-fifth (of the spoils of war meant for the Holy Prophet). And when Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) set the war prisoners free. 'Umar bin Khattab رضی اللہ عنہ heard their voice as they were saying: Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) has set as free. He (Hadrat 'Umar رضی اللہ عنہ) said: What is this? They said: Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) has set free the prisoners of war (which had fallen to the lot of people). Thereupon he (Hadrat 'Umar رضی اللہ عنہ) said: Abdullah رضی اللہ عنہ, go to that slave-girl and set her free.
مجھ سے ابو الطاہر نے بیان کیا، کہا ہم سے عبداللہ بن وہب نے بیان کیا, جریر بن حازم نے ہمیں حدیث سنائی کہ ایوب نے انہیں حدیث بیان کی ، انہیں نافع نے حدیث سنائی ، انہیں حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے حدیث بیان کی کہ
حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا ، آپ اس وقت طائف سے لوٹنے کے بعد جعرنہ میں ( ٹھہرے ہوئے ) تھے ، انہوں نے عرض کی : اے اللہ کے رسول! میں نے جاہلیت میں نذر مانی تھی کہ میں ایک دن مسجد حرام میں اعتکاف کروں گا ، آپ کی کیا رائے ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" جاؤ اور ایک دن کا اعتکاف کرو ۔ "" کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں خُمس سے ایک لونڈی عطا فرمائی تھی ، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کے قیدیوں کو آزاد کیا ، تو حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے ان کی آوازیں سنیں ، وہ کہہ رہے تھے : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں آزاد کر دیا ہے ۔ تو انہوں نے پوچھا : کیا ماجرا ہے؟ لوگوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کے قیدیوں کو آزاد کر دیا ہے ۔ تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ( اپنے بیٹے سے ) کہا : عبداللہ! اس لونڈی کے پاس جاؤ اور اسے آزاد کر دو ۔ ( یہ حنین کا موقع تھا)
lbn 'Umar رضی اللہ عنہ reported:
When Allah's Apostle ( صلی اللہ علیہ وسلم ) came back from the Battle of Hunain, Umar رضی اللہ عنہ asked Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) about the vow he had taken during the days of Ignorance that he would observe I'tikaf for a day. The rest of the hadith is the same.
ہم سے عبد بن حمید نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالرزاق نے بیان کیا,معمر نے ہمیں ایوب سے خبر دی ، انہوں نے نافع سے اور انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا
جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم حنین سے واپس ہوئے تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک دن کے اعتکاف کی نذر کے متعلق پوچھا جو انہوں نے جاہلیت میں مانی تھی ۔ ۔ پھر جریر بن حازم کی حدیث کے ہم معنی بیان کیا.
Nafi' reported:
A mention of Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) observing 'Umra from ja'rina was made before Ibn 'Umar رضی اللہ عنہ . He said: He did not enter into the state of Ihram from that (place), and Umar رضی اللہ عنہ had taken a vow of observing I'tikaf for a night during the days of Ignorance. The rest of the hadith is the same.
ہم سے احمد بن عبدہ الذہبی نے بیان کیا, حماد بن زید نے ہمیں حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں ایوب نے نافع سے حدیث بیان کی ، انہوں نے کہا
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ کے پاس جعرانہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عمرے کا تذکرہ کیا گیا تو انہوں نے کہا : آپ نے وہاں سے عمرہ نہیں کیا ۔ کہا : حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے جاہلیت میں ایک رات کے اعتکاف کی نذر مانی تھی ۔ ۔ پھر انہوں نے ایوب سے جریر بن حازم اور معمر کی روایت کردہ حدیث کے ہم معنیٰ بیان کیا.
This hadith about vow was narrated from Ibn Umar رضی اللہ عنہ (a Hadith similar to no. 4294). In both their Ahadith it mentions I tikaf for one day.
مجھ سے عبداللہ بن عبدالرحمٰن دارمی نے بیان کیا، کہا ہم سے حجاج بن المنہال نے بیان کیا، کہا ہم سے حماد نے بیان کیا, ایوب اور محمد بن اسحاق دونوں نے نافع سے اور انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے نذر کے بارے میں یہی حدیث بیان کی اور ان دونوں کی حدیث میں ایک دن کے اعتکاف کا ذکر ہے.
Zadhan Abl Umar reported:
I came to Ibn 'Umar رضی اللہ عنہ as he had granted freedom to a stave. He (the narrator further) said: He took hold of a wood or something like it from the earth and said: It (freedom of a slave) has not the reward evert equal to it, but the fact that I heard Allah's Messenger (way peace be upon him) say: He who slaps his slave or beats him, the expiation for it is that he should set him free.
ابو کامل فضیل بن حسین الجہداری نے مجھ سے کہا, ابوعوانہ نے فراس سے ، انہوں نے ابوصالح ذکوان سے اور انہوں نے ابو عمر زاذان سے روایت کی ، انہوں نے کہا
میں حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ کے ہاں آیا جبکہ انہوں نے ایک غلام کو آزاد کیا تھا ۔ کہا : انہوں نے زمین سے لکڑی یا کوئی چیز پکڑی اور کہا : اس میں اتنا بھی اجر نہیں جو اس کے برابر ہو اس کے سوا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا : " جس نے اپنے غلام کو تھپڑ مارا یا اسے زد و کوب کیا تو اس کا کفارہ یہ ہے کہ اسے آزاد کرے " ( اس حکم کو ماننے کا اجر ہو سکتا ہے)
Zadhan reported:
Ibn Umar رضی اللہ عنہ called his slave and he found the marks (of beating) upon his back. He said to him: I have caused you pain. He said: No. But he (Ibn Umar رضی اللہ عنہ ) said: You are free. He then took hold of something from the earth and said: There is no reward for me even to the weight equal to it. I heard Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) as saying: He who beats a slave without cognizable offence of his or slaps him (without any serious fault), then expiation for it is that he should set him free.
ہم سے محمد بن مثنیٰ اور ابن بشار نے بیان کیا، اور یہ قول ابن المثنیٰ کا ہے، انہوں نے کہا: ہم سے محمد بن جعفر نے بیان کیا، شعبہ نے ہمیں فراس سے باقی ماندہ سابقہ سند سے حدیث بیان کی کہ
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ نے اپنے غلام کو بلایا اور اس کی پشت پر ( ضرب کا ) نشان دیکھا تو اس سے کہا : میں نے تمہیں دکھ دیا ہے؟ اس نے کہا : نہیں ۔ انہوں نے کہا : تم آزاد ہو ۔ کہا : پھر انہوں نے زمین سے کوئی چیز پکڑی اور کہا : میرے لیے اس میں اتنا بھی اجر نہیں ہے جو اس کے برابر ہو ۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا تھا ، آپ فرما رہے تھے : "" جس نے اپنے غلام کو حد لگانے کے لیے ( ایسے کام پر ) مارا جو اس نے نہیں کیا یا اسے طمانچہ مارا تو اس کا کفارہ یہ ہے کہ اسے آزاد کر دے.
It was narrated from Firas with the chain of Shubah and Abu Awanah (a Hadith similar to no. 4299). As for the Hadith of Ibn Mahdi, it says: "Without him having done anything to deserve it". In the Hadith of Waki it says:
"Whosever slaps his slave" and does not mention "Without him having done anything to deserve it."
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ نے بیان کیا, وکیع اور عبدالرحمن ( بن مہدی ) دونوں نے سفیان سے حدیث بیان کی ، انہوں نے فراس سے شعبہ اور ابو عوانہ کی سند کے ساتھ روایت کی ، ابن مہدی نے اپنی حدیث میں حد کا ذکر کیا ہے اور وکیع کی حدیث میں ہے
" جس نے اپنے غلام کو طمانچہ مارا ۔ " انہوں نے حد کا ذکر نہیں کیا.
Mu'awiya bin Suwaid reported:
I slapped a slave belonging to us and then fled away. I came back just before noon and offered prayer behind my father. He called him (the slave) and me and said: Do as he has done to you. He granted pardon. He (my father) then said: We belonged to the family of Muqarrin during the lifetime of Allah's Messenger (may peace be upon him. and had only one slave-girl and one of us slapped her. This news reached Allah's Apostle ( صلی اللہ علیہ وسلم ) and he said: Set her free. They (the members of the family) said: There is no other servant except she. Thereupon he said: Then employ her and when you can afford to dispense with her services, then set her free.
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے عبداللہ بن نمیر نے بیان کیا، اور ہم سے ابن نمیر نے بیان کیا، اور تلفظ ان کا ہے، ہم سے میرے والد نے بیان کیا، ہم سے سفیان نے بیان کیا۔ سلمہ بن کُہیل کی روایت سے, معاویہ بن سوید ( بن مُقرن ) سے روایت ہے ، انہوں نے کہا
میں نے اپنے ایک غلام کو طمانچہ مارا اور بھاگ گیا ، پھر میں ظہر سے تھوڑی دیر پہلے آیا اور اپنے والد کے پیچھے نماز پڑھی ، انہوں نے اسے اور مجھے بلایا ، پھر ( غلام سے ) کہا : اس سے پورا بدلہ لے لو تو اس نے معاف کر دیا ۔ پھر انہوں ( میرے والد ) نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں ہم بنی مقرن کے پاس صرف ایک خادمہ تھی ، ہم میں سے کسی نے اسے طمانچہ مار دیا ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات پہنچی تو آپ نے فرمایا : اسے آزاد کر دو ۔ لوگوں نے کہا : ان کے پاس اس کے علاوہ اور خادم نہیں ہے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " وہ ( فی الحال ) اس سے خدمت لیں ، جب اس سے بے نیاز ہو جائیں ( دوسرا انتظام ہو جائے ) تو اس کا راستہ چھوڑ دیں ( اسے آزاد کر دیں).
Hilal bin Yasaf reported:
A person got angry and slapped his slave-girl. Thereupon Suwaid bin Muqarrin رضی اللہ عنہ said to him: You could find no other part (to slap) but the prominent part of her face. See I was one of the seven sons of Muqarrin, and we had but only one slave-girl. The youngest of us slapped her, and Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) commanded us to set her free.
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ اور محمد بن عبداللہ بن نمیر نے بیان کیا، اور یہ قول ابوبکر کا ہے، انہوں نے کہا:ابن ادریس نے ہمیں حصین سے حدیث بیان کی ، انہوں نے ہلال بن یساف سے روایت کی ، انہوں نے کہا
ایک بوڑھے نے جلدی کی اور اپنے خادم کو طمانچہ دے مارا ، تو حضرت سوید بن مقرن رضی اللہ عنہ نے اس سے کہا : تمہیں اس کے شریف چہرے کے سوا اور کوئی جگہ نہ ملی؟ میں نے اپنے آپ کو مقرن کے بیٹوں میں سے ساتواں بیٹا پایا ، ہمارے پاس صرف ایک خادمہ تھی ، ہم میں سے سب سے چھوٹے نے اسے طمانچہ مارا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اس کو آزاد کر دینے کا حکم دیا.
Hilal bin Yasaf رضی اللہ عنہ reported:
We used to sell cloth in the house of Suwaid bin Muqarrin, the brother of Nu'man bin Muqarrin. There came out a slave-girl, and she said something to a person amongst us, and he slapped her. Suwaid was enraged-the rest of the hadith is the same.
ہم سے محمد بن المثنیٰ اور ابن بشار نے بیان کیا، کہا: ہم سے ابن ابی عدی نے شعبہ کی سند سے، حسین رضی اللہ عنہ سے,ہلال بن یساف رضی اللہ عنہ سے روایت ہے
ہم کپڑا بیچتے تھے سوید بن مقرن کے گھر میں جو نعمان بن مقرن کے بھائی تھے ، ایک لونڈی وہا ں نکلی اور اس نے ہم میں سے کسی کو کوئی بات کہی تو اس نے لونڈی كو طمانچہ مارا ۔ سوید ناراض ہوئے پھر بیان کیا اسی طرح جیسے اوپر گذرا ۔
Suwaid bin Muqarrin رضی اللہ عنہ reported:
He had a slave-girl and a person (one of the members of the family) slapped her, whereupon Suwaid رضی اللہ عنہ said to him: Don't you know that it is forbidden (to strike the) face. He said: You see I was the seventh one amongst my brothers during the lifetime of Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ), and we had but only one servant. One of us got enraged and slapped him. Thereupon Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) commanded us to set him free.
عبدالوارث نے ہمیں بتایا,عبدالصمد نے ہمیں حدیث سنائی ، کہا : ہمیں شعبہ نے حدیث سنائی ، کہا : مجھ سے محمد بن منکدر نے کہا : تمہارا نام کیا ہے؟ میں نے کہا : شعبہ ۔ تو محمد نے کہا : مجھے ابو شعبہ عراقی ( مولیٰ سوید بن مقرن ) نے سوید بن مقرن رضی اللہ عنہ سے حدیث بیان کی کہ
ان کی لونڈی کو کسی انسان نے تھپڑ مارا تو سوید رضی اللہ عنہ نے اس سے کہا : کیا تمہیں معلوم نہیں کہ چہرہ حرمت والا ( ہوتا ) ہے اور کہا : میں نے خود کو ، اور میں اپنے بھائیوں میں ساتواں تھا ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی معیت میں دیکھا اور ہمارے پاس سوائے ایک کے کوئی اور خادم نہ تھا ۔ ہم میں سے کسی نے عمدا اسے طمانچہ مار دیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حکم دیا کہ ہم اسے آزاد کر دی.
Wahb bin Jarir reported: Shu'ba informed that Muhammad bin Munkadir said to me:
What is your name? The rest of the hadith is the same.
ہم سے اسحاق بن ابراہیم اور محمد بن المثنیٰ نے بیان کیا,وہب بن جریر نے کہا : ہمیں شعبہ نے خبر دی کہ محمد بن منکدر نے مجھ سے پوچھا
تمہارا نام کیا ہے؟ آگے عبدالصمد کی حدیث کے مانند بیان کیا.
Abu Mas'ud al-Badri رضی اللہ عنہ reported:
I was beating my slave with a whip when I heard a voice behind me: Understand, Abu Masud; but I did not recognise the voice due to intense anger. He (Abu Mas'ud) reported: As he came near me (I found) that he was the Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) and he was saying: Bear in mind, Abu Mas'ud; bear in mind. Abu Mas'ud. He (Aba Maslad) said: threw the whip from my hand. Thereupon he (the Holy Prophet) said: Bear in mind, Abu Mas'ud; verily Allah has more dominance upon you than you have upon your slave. I (then) said: I would never beat my servant in future.
ابو کامل الجہداری نے ہم سے کہا, عبدالواحد بن زیاد نے ہمیں حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں اعمش نے ابراہیم تیمی سے حدیث سنائی ، انہوں نے اپنے والد ( یزید بن شریک تیمی ) سے روایت کی ، انہوں نے کہا : حضرت ابو مسعود بدری رضی اللہ عنہ نے کہا
میں اپنے ایک غلام کو کوڑے سے مار رہا تھا تو میں نے اپنے پیچھے سے آواز سنی : " ابو مسعود! جان لو ۔ " میں غصے کی وجہ سے آواز نہ پہچان سکا ، کہا : جب وہ ( کہنے والے ) میرے قریب پہنچے تو وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تھے ، آپ فرما رہے تھے : " ابو مسعود! جان لو ، ابو مسعود! جان لو ۔ " کہا : میں نے اپنے ہاتھ سے کوڑا پھینک دیا ، تو آپ نے فرمایا : " ابو مسعود! جان لو ۔ اس غلام پر تمہیں جتنا اختیار ہے اس کی نسبت اللہ تم پر زیادہ اختیار رکھتا ہے ۔ " کہا : تو میں نے کہا : اس کے بعد میں کسی غلام کو کبھی نہیں ماروں گا.
A similar Hadith (as no. 4306) was narrated from Al-A'mash with this chain, except that in the Hadith of Jarir it says:
There fell from my hand the whip on account of his (the Prophet's) awe.
ہم سے اسحاق بن ابراہیم نے بیان کیا، کہا ہم سے جریر نے بیان کیا، کہا ہم سے زہیر بن حرب نے بیان کیا، ہم سے محمد بن حمید نے جو المعمری ہیں، نے بیان کیا۔ ہم سے سفیان، ہ، محمد بن رافع نے بیان کیا، کہا ہم سے عبد الرزاق نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان نے، کہا ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے عفان نے بیان کیا, ابوعوانہ سب نے اعمش سے عبدالواحد کی ( سابقہ ) سند کے ساتھ اس کی حدیث کے ہم معنی حدیث بیان کی ، مگر جریر کی حدیث میں ہے
آپ کی ہیبت کی وجہ سے میرے ہاتھ سے کوڑا گر گیا.
Abu Mas'ud al-Ansari رضی اللہ عنہ reported:
When I was beating my servant, I heard a voice behind me (saying): Abu Mas'ud, bear in mind Allah has more dominance over you than you have upon him. I turned and (found him) to be Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ). I said: Allah's Messenger, I set him free for the sake of Allah. Thereupon he said: Had you not done that, (the gates of) Hell would have opened for you, or the fire would have burnt you
ہم سے ابو کریب محمد بن الاعلٰی نے بیان کیا, ابومعاویہ نے ہمیں حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں اعمش نے ابراہیم تیمی سے حدیث بیان کی ، انہوں نے اپنے والد سے اور انہوں نے حضرت ابو مسعود انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا
میں اپنے غلام کو مار رہا تھا تو میں نے اپنے پیچھے سے آواز سنی : " ابومسعود! جان لو ، اس پر تمہارا جتنا اختیار ہے ، اس کی نسبت اللہ تم پر زیادہ اختیار رکھتا ہے ۔ " میں مڑا تو دیکھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تھے ، میں نے عرض کی : اللہ کے رسول! وہ اللہ کی رضا کے لیے آزاد ہے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " دیکھو! اگر تم ایسا نہ کرتے تو تمہیں آگ جھلساتی یا تمہیں آگ چھوتی.
Abu Mas'ud رضی اللہ عنہ reported:
He had been beating his slave and he had been saying: I seek refuge with Allah, but he continued beating him, whereupon he said: I seek refuge with Allah's Messenger, and he spared him. Thereupon Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) said: By Allah, God has more dominance over you than you have over him (the slave). He said that he set him free.
ہم سے محمد بن المثنیٰ اور ابن بشار نے بیان کیا، اور یہ قول ابن المثنیٰ کا ہے، انہوں نے کہا: ابن ابی عدی نے شعبہ سے ، انہوں نے سلیمان سے ، انہوں نے ابراہیم تیمی سے ، انہوں نے اپنے والد سے اور انہوں نے حضرت ابو مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ
وہ اپنے غلام کو مار رہے تھے تو اس نے اعوذباللہ ( میں تمہاری مار سے اللہ کی پناہ میں آتا ہوں ) کہنا شروع کر دیا ۔ کہا : تو ( وہ اس کی بات کی طرف متوجہ نہ ہو پائے اور ) اسے مارتے رہے ۔ پھر اس نے کہا : میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی پناہ میں آتا ہوں تو ( انہیں اندازہ ہوا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے آئے ہیں ) انہوں نے اسے چھوڑ دیا ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " اللہ کی قسم! اللہ تم پر اس سے زیادہ اختیار رکھتا ہے جتنا تم اس پر رکھتے ہو ۔ " کہا : تو انہوں نے اسےآزاد کر دیا ۔
This hadith has been narrated on the authority of Shu'ba with the same chain of transmitters, but made no mention of (these words) of his:
I seek refuge with Allah, I seek refuge with Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ).
مجھ سے بشر بن خالد نے بیان کیا، انہوں نے ہم سے بیان کیا محمد بن جعفر نے ہمیں شعبہ سے ، اسی سند کے ساتھ خبر دی اور انہوں نے یہ الفاظ بیان نہیں کیے
" میں اللہ کی پناہ میں آتا ہوں " ( اور ) " اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی پناہ میں آتا ہوں.
Abu Huraira رضی اللہ عنہ reported:
Abu'l-Qasim (one of the names of Allah's Messenger [ﷺ]) said: He who accused his slave of adultery, punishment would be imposed upon him on the Day of Resurrection, except in case the accusation was as he had said.
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ نے بیان کیا، ہم سے ابن نمیر نے بیان کیا اور ہم سے محمد بن عبداللہ بن نمیر نے کہا : ہمیں فضیل بن غزوان نے حدیث بیان کی ، انہوں نے کہا : میں نے عبدالرحمن بن ابی نعم سے سنا ( کہا : ) مجھے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے حدیث بیان کی ، انہوں نے کہا
ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " جس نے اپنے غلام پر زنا کی تہمت لگائی اسے قیامت کے دن حد لگائی جائے گی ، الا یہ کہ وہ ( غلام ) ویسا ہو جیسا اس نے کہا ہے.
This hadith has been narrated on the authority of Ibn Ghazwan (and the words are): I heard Abu'l-Qasim ( صلی اللہ علیہ وسلم ) as the Prophet of repentance.
ہم سے ابو کریب نے بیان کیا، انہوں نے کہا وکیع اور اسحاق بن یوسف ازرق دونوں نے فضیل بن غزوان سے اسی سند کے ساتھ حدیث بیان کی اور ان دونوں کی حدیث میں ہے : میں نے ابوالقاسم نبی التوبہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا.
Al-Ma'rur bin Suwaid said:
We went to Abu Dharr (Ghifari) in Rabadha and he had a mantle over him, and his slave had one like it. We said: Abu Dharr رضی اللہ عنہ , had you joined them together, it would have been a complete garment. Thereupon he said: There was an altercation between me and one of the persons among my brothers. His mother was a non-Arab. I reproached him for his mother. He complained against me to Allah's Apostle ( صلی اللہ علیہ وسلم ). As I met Allah's Apostle ( صلی اللہ علیہ وسلم ) he said: Abu Dharr ﷺ, you are a person who still has (in him the remnants) of the days (of Ignorance). Thereupon I said: Allah's Messenger, he who abuses (other) persons, they abuse (in return) his father and mother. He (the Holy Prophet ﷺ) said: Abu Dharr رضی اللہ عنہ , you are a person who still has (the remnants) of Ignorance in him They (your servants and slaves) are your brothers. Allah has put them in your care, so feed them with what you eat, clothe them with what you wear. and do not burden them beyond their capacities; but if you burden them (with an unbearable burden), then help them (by sharing their extra burden).
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ نے بیان کیا, وکیع نے کہا : ہمیں اعمش نے معرور بن سوید سے حدیث بیان کی ، انہوں نے کہا
ہم زَبذہ ( کے مقام ) میں حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ کے ہاں سے گزرے ، ان ( کے جسم ) پر ایک چادر تھی اور ان کے غلام ( کے جسم ) پر بھی ویسی ہی چادر تھی ۔ تو ہم نے کہا : ابوذر! اگر آپ ان دونوں ( چادروں ) کو اکٹھا کر لیتے تو یہ ایک حلہ بن جاتا ۔ انہوں نے کہا : میرے اور میرے کسی ( مسلمان ) بھائی کے درمیان تلخ کلامی ہوئی ، اس کی ماں عجمی تھی ، میں نے اسے اس کی ماں کے حوالے سے عار دلائی تو اس نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس میری شکایت کر دی ، میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ملا تو آپ نے فرمایا : " ابوذر! تم ایسے آدمی ہو کہ تم میں جاہلیت ( کی عادت موجود ) ہے ۔ " میں نے کہا : اللہ کے رسول! جو دوسروں کو برا بھلا کہتا ہے وہ اس کے ماں اور باپ کو برا بھلا کہتے ہیں ۔ آپ نے فرمایا : " ابوذر! تم ایسے آدمی ہو جس میں جاہلیت ہے ، وہ ( چاہے کنیز زادے ہوں یا غلام یا غلام زادے ) تمہارے بھائی ہیں ، اللہ نے انہیں تمہارے ماتحت کیا ہے ، تم انہیں وہی کھلاؤ جو خود کھاتے ہو اور وہی پہناؤ جو خود پہنتے ہو اور ان پر ایسے کام کی ذمہ داری نہ ڈالو جو ان کے بس سے باہر ہو ، اگر ان پر ( مشکل کام کی ) ذمہ داری ڈالو تو ان کی اعانت کرو.